تازہ ترین


طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات


طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات تحریرشفقت ضیاء اسلامی جمہوریہ پاکستان بدقسمتی سے 72 سالوں میں نہ اسلامی بن سکا اور نہ ہی جمہوری،ملک میں سب سے زیادہ عرصہ ڈکٹیٹروں کی حکومت رہی جس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر بھی پڑے،کسی بھی بڑی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے موروثیت اور سرمایہ داری کا راج ہے چند خاندانوں اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں میں سیاست آگئی ہے اسلامی نظام اور حقیقی جموریت کے خلاف ان سب کا اتحاد ہے نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے ملک کا باصلاحیت پڑھا لکھا طبقہ اب سیاست سے دور ہوتاجارہا ہے سرمائے کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس کے لیے ناجائز طریقہ سے دولت جمع کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کھبی ڈکٹیٹر کے ساتھ ہوتے ہیں اور کبھی جمہوری حکومتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ان کی قابلیت خاندان،برادری اور سرمایہ ہے جس کے زور میں یہ لوٹے کامیاب ہوجاتے ہیں۔جب نظریاتی،سیاست ختم ہوجاتی ہے اور پارٹیوں کے اندر بھی جموریت نہیں رہتی تو نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔ جمہوریت کی نرسری طلبہ یونین پر ڈکٹیٹر کے دور میں پاپندیاں لگائی گئی ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف تحریک میں طلبہ کا اہم کردار تھا جس نے دوسال کے اندر استعفیٰ دینے مجبور کردیا تھا یہی وجہ تھی کہ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے خوف محسوس کرتے ہوئے طلبہ یونین پر پاپندی لگا دی کہ کوئی منظم تحریک نہ چل سکے اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی قیادت پیراشوٹ کے ذریعے آنا شروع ہوگئی جو لوگ نرسری سے تیار ہوکر آتے تھے ان کی جگہ سرمائے نے لے لی جس کی وجہ سے کرپشن نے راستے بنا دیے طلبہ یونین کی یہ پاپندی ڈکٹیٹرکے دور میں تو سمجھ آتی ہے لیکن ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے دور میں کیوں رہی؟ اعلانات کے باوجود پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں اسے بحال کیوں نہیں کیا؟مسلم لیگ ن تو کبھی اس کی حامی نظر نہیں آئی بلکہ غیر محسوس انداز میں اس کے خلاف رہی ہے جبکہ تحریک انصاف کو ابھی پندرہ ماہ ہوئے ہیں اس کا تو کوئی قصور نہیں ہے تقریباً 35 سال سے اس پر پاپندی کے باوجود جمہوری حکومتوں کے دور میں بھی طلبہ یونین کی پاپندی کے خلاف کوئی بھر پورآواز نہ بلند ہوسکی،جوآواز بلند بھی ہوئی اس کو میڈیا نے کوئی لفٹ نہ کرائی،شاید وہ رنگ پسند نہیں تھایا رنگین نہیں تھی اچانک یہ سرخ سرخ سڑکوں پر کہاں سے آئے اور کون لایا؟طلبہ یکجہتی مارچ جو طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر تھا اس میں اداروں کے خلاف نعرے کیسے جمہوری تھے؟طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر غیر جمہوری اور غیر مناسب زبان استعمال کرنے پر حکومت حرکت میں آئی تو بلاول بھٹو اور احسن اقبال کو کیوں تکلیف ہوئی ہے؟نظریات کا پرچار کرنا ہرا یک کا حق ہے کوئی سرخ انقلاب کی بات کرے یا سبز کی۔یہ الگ بات ہے سرخ انقلاب ماسکو میں د فن ہوچکا ہے لیکن جس انداز میں یہ احتجاج کیا گیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ یونین بحالی کے بجائے پاپندی کو طول دینے کاکوئی اور ہی منصوبہ ہے ورنہ یونین کی بحالی تک ہی محدود رہنا چاہیے تھا،سیاسی جماعتوں کو اس طرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرنی چاہیے،بلخصوص وہ سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں رہی ہیں ان کو تو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ یونین کی بحالی کی بات کریں انھیں پہلے معافی مانگنی چاہیے کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں طلبہ یونین کو بحال نہیں کیا اب نظریاتی اور جمہوری بننے کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے کندھے سے فائر کیا جائے،اس کے باوجود تحریک انصاف حکومت جس کو نوجوانوں کی زیادہ حمایت بھی حاصل ہے اسے یونین بحال کردینی چاہیے لیکن اس کے لیے سخت ضابطہ اخلاق بھی بناناچاہیے ماضی میں طلبہ یونین کی بحالی سے نقصانات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی جماعتیں انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں کالجوں،یونیورسٹیوں میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے جس سے تشدد جنم لیتا ہے اچھے جمہوری اور پرامن ماحول سے ہی مثبت نتائج آسکتے ہیں،ماضی میں طلبہ یونین سے بہترین قیادت تیار ہوئی جو آج بھی پاکستان اور آزادکشمیر میں نمایاں نظر آتی ہے لیکن منفی پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں ہے، طلبہ کو جمہوری حق دینے کے ساتھ منفی سرگرمیوں کی روک تھام بھی ضروری ہے، آزادکشمیر حکومت کی طرف سے یونین بحالی کااعلان احسن اقدام ہے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے یہاں کا سیاسی ماحول بھی بہتر ہے اور رواداری باہم عزت واحترام بھی پایہ جاتا ہے تاہم سیاسی جماعتوں کی مداخلت تعلیمی اداروں میں نہیں ہونی چاہیے۔ہر طرح کی مداخلت کا دروازہ بند رہنا چاہیے اور ایسا ضابطہ اخلاق بننا ضروری ہے جس سے تعلیمی حرج بھی نہ ہے اور تعلیمی اداروں میں تشدد بھی نہ آئے ماضی میں جو خامیاں تھیں ان کو دور کرتے ہوئے یونینز کی بحالی سے اچھی قیادت سامنے آنے کا موقع ملے گا جو اس وقت کی بڑی ضرورت ہے بدقسمتی سے طلبہ یونین پر پاپندی سے سیاسی جماعتوں میں پڑھی لکھی باصلاحیت قیادت سامنے نہیں آرہی ہے اس کے لیے طلبہ تنظیموں کو بھی بہت محنت کرنی پڑے گی ایک طویل عرصے سے پاپندی کی وجہ سے اچھا صحت مند ماحول پیدا کرنا آسان کام نہیں ہے جس طرح سیاسی کلچر بن چکا ہے اسے خٹم کرکے محنت اور صلاحیت کی حوصلہ افزائی اور چوردروازوں کو بند کرنا ہوگا۔ وزیراعظم فاروق حیدر نے الیکشن سے قبل کامیابی کے بعد چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوسکا بارہا اعلانات کے باوجود بلدیاتی انتخابات اورسٹوڈنٹس یونین کی بحالی نہ ہوسکی تو اس کا نقصان مسلم لیگ ن کو بہت ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے بلکہ اچھا وقت ہے کہ آپ بلدیاتی انتخابات کراکرآئندہ کے لیے اپنے لیے سیاسی میدان ہموار کریں بلدیاتی انتخابات اور سٹوڈنٹس یونین ہی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی نرسریاں ہیں اگر یہ مضبوط ہوں گی تو جمہوریت مستحکم ہوگی ڈکٹیٹروں کو اس کا خوف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جمہوری حکومتوں کو اس سے کیا خوف ہے سمجھ سے بالا ہے کیا سیاسی جماعتوں کے اندر ڈکٹیٹر شپ موروثیت اور سب سے بڑھ کر سرمایہ داروں نے قبضہ کرلیا ہے اگر ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تو سٹوڈنٹس یونین بحال اور بلدیاتی انتخابات جلد ہونے چاہیے۔



مسخرہ حکومت سے مایوسی


مسخرہ حکومت سے مایوسی شفقت ضیاء محسن انسانیتﷺ نے فرمایا:منافق کی تین نشانیاں ہیں جب وہ بات کرتا ہے جھوٹ بولتاہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اسے کوئی امانت دی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹے پر لعنت فرمائی ہے جس پر اللہ لعنت فرما دے اس سے خیر کیسے نکل سکتی ہے۔ بد قسمتی سے منافقت تیزی سے پھیل رہی ہے سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے جو تباہی کی علامت ہے۔ اس کی بڑی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے دنیا کے سب سے بڑ ے رہنما حضرت محمد ﷺ کے دشمن بھی یہ مانتے تھے کہ آپ ﷺ سچے ہیں یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ نے ایسے لوگ تیار کیے جو سچے، کھرے اور صاف ستھرے کردار کے مالک تھے دشمن بھی ان کے معترف تھے لیکن جب قیادت منافقین کے ہاتھوں میں آئی تو ذلت خواری مقدر بنی۔ جمہوریت میں عوام کے ووٹوں سے حکومت منتخب ہوتی ہے، سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے اپنا پروگرام رکھتی ہیں جس کو دیکھتے ہوئے عوام اپنا ووٹ استعما ل کر تے ہیں بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں کی قیادت عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے جھوٹے وعدے، اعلانات اور دعوے کرتی ہیں جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ عوام کا سیاسی رہنماؤں پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے جو نیک شگون نہیں ہے اس لیے سیاسی قیادت کو عوام میں معتبر ہونے کے لیے سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ بقول شاعر: جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو فراز آدمی کو صاحب کردارہونا چاہیے گزشتہ دنوں نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر عمران خان سمیت قیادت نے اپنی باتوں سے یو ٹرن لیا ایسے میں پی ٹی آئی حکومت کے غیر مسلم ممبر اسمبلی رمیش کما ر اور وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اپنی با ت پر ڈٹے رہے جس سے ثابت ہوا کہ صاحب کردار بھی موجود ہیں۔ ابھی نواز شریف کی بیماری کا موضوع ختم نہیں ہوا تھا کہ حکومت نے سابق ڈکٹیٹرمشرف کے خلاف اپنے بیانیے سے یوٹرن لے لیا۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو کہتے تھے کہ مشرف نے آئین توڑا ہے یہ ملک کا سب سے بڑا مجرم ہے، حکومت ایسے مجرم کو عبرت کا نشان بنائے تا کہ آئندہ کسی کو قانون توڑنے کی جرأت نہ ہو چند روز پہلے سپریم کورٹ کے معزز ججز کو کہتے تھے کہ طاقتور کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے آج ایک طاقتور کے لیے خود میدان میں آگئے اور خصوصی عدالت نے جو فیصلہ محفوظ کیا ہو ا تھا اسے ہائی کورٹ کے ذریعے رکوا دیا،جس سے ثابت ہو ا کہ آپ جو دو نہیں ایک پاکستان کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ عوام کو بے وقوف بنانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ اقتدار کے لیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتے تھے۔ آپ اقتدار میں ہیں تو وہ سارے لوگ جو کل ڈکٹیٹر مشرف کے ساتھ تھے وہ آپ کی کابینہ میں شامل ہیں جس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، الطاف حسین کو سب سے بڑا لیڈر کہنے ولا وکیل آج آپ کا وزیر قانون ہے، اسی طرح وہ لوگ جنہیں چور ڈاکو کہتے آپ تھکتے نہیں تھے آج وہ سب آپ کے ساتھ ہیں جو چور کل آپ کو قبول نہیں تھے آج اقتدار کے لیے سب قبول ہیں۔کل تک جو سب سے بڑ اڈاکو تھا نا اہل نا لائق تھا آج وہ آپ کی آنکھوں کا تارا ہے۔ اقتدار سب کی طرح آپ کو بھی عزیز ہے اور اس کی خاطر آپ بھی سارے اصولوں دعوؤں سے یوٹرن لینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ کردارنئے آتے جا رہے ہیں ناٹک وہی پرانے چل رہے ہیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع جیسے احساس معاملے میں آپ کی ٹیم نے جس نااہلی اور ناانصافی کا ثبوت دیا اس کے بعد باقی کیا رہتاہے۔ آپ کو 4دفعہ نوٹیفکیشن کرنا پڑا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے یہ تک کہا کہ ان کی ڈگریاں چک کی جائیں جنہوں نے آرمی چیف کو شٹل کاک بنایا ہوا ہے۔ اس سب کے باوجود آپ نے اپنی ٹیم کو تبدیل کرنے اور کارروائی کے بجائے اپوزیشن پر تنقید کی جس کا اس موقع پر مثالی کردار رہا اور ملک دشمن الطاف حسین کو آئیڈیل سمجھنے والے کو دوبارہ وزیر قانون بنا لیا۔ یہ ہے وہ دوہرا معیار جس سے ثابت ہوا کہ کچھ نہیں بدلہ صرف چند چہرے بدلے ہیں۔ آرمی چیف جس نے اتنی نالائق اور نااہل حکومت کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا ورنہ نہ ہی بیرون ملک انہیں کوئی گھاس ڈالتا تھا اور نہ ہی اس صورتحال میں ملک چل سکتا تھا، اس کی مدت ملازمت میں توسیع پرایسا رویہ نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک کی معیشت کا جو حال ہے غریب ہی نہیں متوسط طبقے کی بھی چیخیں نکل گئی ہیں، اوپر سے حکومتی وزراء کے بیانات زخموں پرنمک کا کام کر رہے ہیں۔ ٹماٹر 300روپے ہوتا ہے اور مشیر خزانہ 17روپے بتا تے ہیں اور مشیر محترمہ مٹر 5روپے بتاتی ہیں شہد والے وزیر نے تو یہ تک کہہ دیاقیمتیں بڑھتی ہیں تو ہمارے ہی بھائیوں کو فائدہ ہوتا ہے جبکہ وزیر اطلاعات کے پی کے نے ٹماٹر کی جگہ دہی کے استعمال کا مشورہ دے دیا۔ایک اور با کمال وزیر محترمہ زرتاج گل نے ارشاد فرمایا کہ سموگ دھرنے کی وجہ سے پھیلی ہے ایسی حکومت سے پھر بھی کسی کو یہ امید ہے کہ ملک میں بہتری آئے گی، ایک کروڈ لوگوں کو روزگار ملے گا، مہنگائی کم ہو گی تو یہ حماقت ہی ہو سکتی ہے بقو ل حکومت کے اتحادی شجاعت حسین اگر مزید 6ماہ یہ حکومت رہی تو حکومت لینے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہو گا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان اور ان کی ٹیم دعوے کرتی تھی کہ کرپشن کی وجہ سے لوگ ملک میں سرمایا نہیں بھیج رہے جب ہماری حکومت آئے گی تو ڈالروں کی بارش ہو گی۔کرپشن کے 200 ارب واپس لائیں گے، 100ارب جن کو دینا ہے ان کے منہ پر ماریں گے اور باقی قوم پر خرچ کریں گے۔ وہ روزانہ 10بلین ڈالر کی کرپشن چوروں کے جانے کے بعد ختم ہو گئی تو پھر ملک کی یہ صورتحال کیوں ہے؟ وہ قرضے آئی ایم ایف کے جن کو لینے کے بجائے خود کشی کی باتیں کرتے تھے وہ لینے کے باجود ملک میں تبدیلی کیوں نہیں آئی؟ کل جو غریب 2روٹیاں کھا کر گزار ا کر تا تھا اسے آج ایک روٹی بھی میسر نہیں۔ ا ب تو درمیانے طبقے کو بھی سبزی دال مشکل ہو رہی ہے، کیا اسی تبدیلی کا وعدہ تھا؟ یہی وجہ ہے کہ اب عوام زرداری کے دور سے بھی برے حالات محسوس کر رہے ہیں،اب تو کرکٹ کا بھی برا حال ہو گیا ہے، اس کا تو تجربہ تھا اس میں ہی بہتری آجاتی تو قوم کو چھوٹی سی خوشی مل جاتی۔ حکومت اور کرکٹ کی ٹیم آپ نے مسخرہ بنا دی ہے جس سے عوام کو ہی نہیں لانے والوں کو بھی یقینا مایوسی ہوئی ہو گی۔



ہوا کا رخ بدل رہا ہے


ہوا کا رخ بدل رہا ہے شفقت ضیاء سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بیرون ملک طبی معائنے کیلئے جانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان غصے میں نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ اپوزیشن کے کنٹینر پر دوبارہ آگئے ہیں انہوں نے ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے جبکہ جواب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت آپ نے دی ہائی کورٹ نے تو صرف جزویات طے کیں ہیں اس لیے ذرہ احتیاط سے بات کی جائے۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے سے پہلے حکومت کے میڈیکل بورڈ نے یہ رپورٹ دی تھی کہ ان کی صحت خراب ہے علاج نہ ہو ا تو جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اسی طرح وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے بھی کہا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے ان کو بیرون ملک بھیجناچاہیے خود عمرا ن خان نے کہا کہ میں نے شوکت خانم کے ڈاکٹر کو بھیج کر چک کرایا ہے واقعی ان کی صحت خراب ہے اس لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہیں پھرجب دیکھا کہ اس سے سیاسی نقصان ہو گا تو بونڈ کی شرط لگا دی تا کہ ووٹرز کو مطمئن کر سکیں ہم نے اتنی رقم لے کر انہیں باہر جانے کی اجازت دی ہے جب یہ پتا بھی نہیں چلا اور ہائی کورٹ کے ذریعے انہیں اجازت مل گئی تو پھر آپ نے ان کی صحت پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر حکومتی بورڈ وزیر صحت جو ان ہی کی پارٹی کی ہیں اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سمیت سب نے جھوٹی رپورٹس دی ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔اور اگر اصل بات یہ نہیں ہے کہ بلکہ عوام کے سامنے کیے گے وہ وعدے، دعوے ہیں جن میں سب سے زیادہ زور چوروں کو نہ چھوڑنے کا تھاجب کارکردگی سے عوام مایوس ہیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد مطمئن کرنا اور بھی مشکل سمجھ کر یوٹرن لینا پڑ رہا ہے تو کیا اس سے عوام ایک بار پھر بے وقوف بن سکیں گے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت دے گا تا ہم ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ہاتھ سے جانے کے بعد عمران خان کنفیوذ ہو گے جس کی وجہ سے وہ اس طرح کی تقریریں کر رہے ہیں لیکن ہوا کا رخ بدلہ بدلہ سا لگ رہاہے حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی بدلی سی ہیں۔ نواز شریف کی بیماری پر ان کا موقف کھل کر حکومت کے خلاف آیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا لہجہ بھی بدل گیا ہے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے اب اپوزیشن کے حساب سے نکل کر حکومت کے 15ماہ کے حساب کی طرف جا رہے ہیں جس سے یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ یک طرفہ احتساب ہو رہا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ اب باری عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈرو ں کی آنے والی ہے۔ چیئرمین احتساب اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم حکومت کے لوگوں کا اس لیے احتساب نہیں کررہے کہ اس سے حکومت چند دن بھی نہیں رہ سکے گی اب یہ تبدیلی کیسے آگئی ہے؟ یہ ہوا کا رخ تبدیل کیسے ہو رہا ہے اس کے پیچھے کون ہے؟ یقینا اس کے پیچھے وہی ہوں گے جنہوں نے پہلے ہوا چلائی تھی۔ پانچ سال پہلے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس بھی اب روزانہ کی بنیاد پر چلنا شروع ہو گیا ہے جس میں بانی رکن اصغر بابر نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور دیگر ممالک سے غیر قانونی طور پر بڑی فنڈنگ ہو ئی ہے جس میں کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے۔یہ اہم نوعیت کا کیس ہے جس کو مختلف بہانوں سے حکومت طول دیتی رہی ہے جس سے محسوس ہو تا ہے کہ اس میں کچھ ایسا ہے جس کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ ہے ورنہ دوسروں کو تلاشی دینے پر زور دینے والے بھاگ کیوں رہے ہیں۔ گو کہ یہ کیس اتنا جلدی فیصلے کی پوزیشن میں نہیں آسکے گا تا ہم یہ تلوار بھی موجود ہے یوں عمران خان حکومت چاروں طرف سے گھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری کی وجہ سے عوام میں مقبولیت پہلے ہی کم ہو چکی ہے ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کی اپوزیشن والی تقریرسمجھنا اتنا مشکل نہیں ہے، تبدیلی کے نعرے اور دعوے 90دن سے 06ماہ پھر سال سے 15ماہ تک پورے تو دور کی بات ہے چند قدم بھی نہ بڑھ سکے۔ مہنگائی کا طوفان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ تعمیر و ترقی کہیں نظر نہیں آرہی ہے ایسے میں کرپشن کے کیسز بنا کر اپوزیشن کو جیلوں میں بند کرنے کے بعد اب وہ بھی باہر جا رہے ہیں اور کرپشن کا ایک پیسہ ملک کو حاصل نہ ہو سکا۔ ایسے میں ووٹرز اور سپورٹرز مطمئن کرنے کے لیے عمران خان کے پاس اس کے علاوہ کونسا راستہ ہے لیکن اگر واقعی ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا تو تحریک انصاف میں موجود لوگ جن پر کیس موجود ہیں، ان کی گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں تو حکومت کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں حکومت کو سابقہ حکومتوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ تقریروں، دعوؤں سے بڑھ کر اب اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے پہلے ہی حکومت کی اہم وزارتوں میں دوسری جماعتوں کے لوگ موجود ہیں اب مزید ان کی بلیک میلنگ میں آنے کی بجائے نئے انتخابات ہی بہتر ہوں گئے تاہم ہوا بتارہی ہے سب کچھ سمیٹا جانے کو ہے لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے حکومت دھاندلی سے آئی یا اداروں کی طاقت سے آئی ہے جمہوری طریقے سے ہی جانی چاہیے عوام کی چیخیں پہلے ہی بہت نکل چکی ہیں اور نکلیں گی لیکن بہت ساروں کو آرام آچکا ہے جن کو ابھی بھی کچھ امید ہے انہیں آنے والے عرصے میں آجائے گا۔ حکومت کی تلاشی سے سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔



نواز شریف کو ریلیف اور حکومت کو سُبکی


نواز شریف کو ریلیف اور حکومت کو سُبکی شفقت ضیاء اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی جان،مال،عزت کی حفاظت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام جنگ کے دوران بھی عورتوں،بچوں اور بیماروں کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ خلفائے راشدین کا یہ حال تھا کہ وہ جب دشمنوں سے مقابلے کے لیے فوجیں روانہ کرتے تو وہ فوج کو یہ ہدایت کرتے تھے کہ دشمن پر حملے کی صورت میں بچوں،عورتوں زخمیوں پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ جس دین نے حالت جنگ میں غیر مسلموں سے ایسے سلوک کا حکم دیا ہو وہ مسلمانوں کوباہم اختلافات کی صورت میں کیسے اس بات کی اجازت دے سکتا ہے؟ کہ اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔سیاسی اختلافات کو سیاست تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ بالخصو ص ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے لیے بنا تھا اور جس کی موجودہ حکومت مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کرتی ہے اس میں مخالفین سے بد ترین سلوک سوالیہ نشان ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہ ہو سکاجبکہ جمہوریت کومستحکم ہونے کے لیے وقت کم ملا 72سالوں میں 40سال مارشلوں کی نذر ہوئے باقی 32سالوں میں بھی سیاستدانوں نے سبق نہیں سیکھا پاکستا ن کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیشہ سیاست دانوں نے اقتدارکے لیے غیر جمہوری راستوں کا سہرا لیا جب اقتدار کے ساتھ اختیار کی سمجھ آئی تو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے غیر جمہوری طریقے اختیار کیے گئے۔ عوام میں مقبول سیاسی قیادت کو غلط طریقے سے راستے سے ہٹایا گیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بینظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی آج بھی زندہ ہے اگر اسے سیاسی شکست دی جاتی تو آج اس کا وجود ہی نہ ہو تا۔ اب نواز شریف کو کبھی جیل میں ڈال کر اور کبھی اس کی بیماری کا فائدہ اٹھا کر اس سے غیر قانونی اور غیر آئینی باتیں منوانے کی کوشش کی جا تی ہے۔احتساب میں انتقام محسوس ہوتا ہے جس سے اس کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے پاکستان کے عوام دو جماعتوں سے نکل کر تیسری جماعت سے توقعات وابستہ کر رہے تھے تبدیلی کی ایک خواہش تھی جو نوجوانوں میں بلخصوص پائی جاتی تھی لیکن بد قسمتی حکومت کی کارکردگی سے مایوسی پیدا ہوئی کارکردگی کو بہتر کرنے کے بجائے حکومت نے مخالفین کو نہ چھوڑنے NRO نہ دینے کے دعوؤں، سابق حکومتوں کو ملکی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانے پر زور دیا حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن والی تقرریں آج تک کی جا رہی ہیں۔لیکن یہ سب کچھ د م توڑ چکا ہے۔ اب یہ باتیں نہیں بک رہی اب عوام پوچھتے ہیں ان چوروں ڈاکوؤں کے دور میں ڈالر کی قیمت کیا تھی۔ پیٹرول،بجلی گیس اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں کیا تھیں اور آج کیا ہیں۔مہنگائی میں اتنا اضافہ کیوں ہوا؟ بے روزگاری اتنی کیوں بڑھی؟ وہ وقت بھی تھا جب ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 16گھنٹے ہوتی تھی ملک میں دہشت گردی تھی نواز شریف حکومت جب ختم ہوئی تو یہ مسائل نہیں تھے پھر کارکردگی تو بہتر ہونی چاہیے تھی حکومت کے پاس ان سوالوں کا جواب نہ بنا تو نواز شریف کی بیماری پر سیاست شروع کر دی گئی۔ جب حالات خطر ناک حد تک پہنچ گئے حکومتی ڈاکٹروں اور خود عمران خان کے بھیجے گے ڈاکٹروں نے رپورٹ دی کہ نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے پھر اسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام سہولتیں دینے کی بات کی انہی ڈاکٹروں کی رپور ٹ کے مطابق بیرون ملک بھی بھیجنے کی بات اور اپنے وزراء کو جو آئے روز بیماری کو مذاق بنا رہے تھے بیانات سے منع کیا لیکن جب چند مشیروں نے مشورہ دیا کہ اس طرح سے بیرون ملک بھیج دیا تو ہمیں نا قابل تلافی سیاسی نقصان ہو گا۔ان میں وہ لوٹے شامل تھے جو کل نوازشریف کے پاؤں پکڑتے تھے لیکن انہیں شامل نہیں کیا گیا وہ آج سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کل ان کے ساتھ بھی نہیں رہیں گے۔جس پر ہمیشہ کی طرح یو ٹرن لیتے ہوئے ایک ایسی شرط لگائی جسے تمام ماہرین قانون نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حتی کہ پی ٹی آئی کے ماہرین قانون نے بھی اس کی مخالفت کی اور ایسے غیر ضروری کہاہے حکومت کے اتحادی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی، چوہدری شجاعت اور ایم کیو ایم نے بھی اس کی مخالفت کی اور حکومت سے کہا کہ آپ اس موقع پر شرائط نہ رکھیں۔انسانی ہمدردی کے طور پر انہیں جانے دیا جائے اس سے آپ کو اخلاقی فتح حاصل ہو گی نیک نامی ہو گی لیکن شاید اس حکومت کے نصیب میں ہی نیک نامی نہیں ہے یوں معاملہ عدالت میں گیا وہاں بھی بھرپور مخالفت کی گئی لیکن کامیابی نہ ہو سکی اور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی یوں بیمار نوا زشریف کے ہاتھو ں حکومت کو شکست سے دو چار ہو ناپڑا۔ اگر عمرا ن خان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دیتے تو عوا م کی ہمدردیاں حاصل کرتے اور سبکی سے بھی بچ جاتے، مدینے کی ریاست بنانے کی باتیں کرنے والے کو سیاسی مخالفین کے ساتھ دشمن والا رویہ نہیں رکھنا چاہیے، بغض،نفرت زندگیوں سے کھیلنے پر اترآنا کوئی بھی شخص پسند نہیں کرتا۔ جمہوریت میں ایسا کلچر جس سے سیاسی مخالفین کے ساتھ دشمنوں سے بھی بد تر سلوک رکھا جائے کسی کے لیے بھی درست نہیں بلکہ ملک اور قوم کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس موقع پر یہ سوال بھی بنتا ہے کہ 72سال گزرجانے کے باوجود پاکستان میں اتنے اچھے ہسپتال نہیں بن سکے جس میں علاج کی تمام سہولتیں میسر ہوں۔ بلا شبہ اس میں وہ تمام حکومتیں ذمہ دار ہیں جو اس عرصے میں اقتدار میں رہی ہیں موجودہ حکومت بھی بری الذمہ نہیں ہے چونکہ KPIمیں 7سال سے وہ بھی اقتدار میں ہے لیکن جو جتنا زیادہ اقتدار میں رہے وہ اتنے ہی زیادہ ذمہ دار ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان تو ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہے برطانیہ جیسے ملک سے بہتر سہولتیں امریکہ میں ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برطانیہ میں اچھے ہسپتال نہیں ہیں ایسے ہی پاکستان میں گزشتہ ادوار میں کام ہوا ہے البتہ اچھے ہسپتال، یونیورسٹیاں بنانے کی ضرورت ابھی بھی ہے۔عمران خان سے یہی توقعات تھیں جس کی وجہ سے عوام نے ان کا ساتھ دیا اور آج بھی عوام چاہتے ہیں اس جانب توجہ دی جائے۔ امیر غریب کا امتیاز ختم کر کے عدل والے نظام کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے،حکومت نے سیاسی مخالفین کو شکست دینی ہے تو کارکردگی بہتر کرنی ہو گی اس کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا جائے گا اس سے کامیابی تو دور کی بات ہے مقبولیت میں کمی آئے گی جو ان پندرہ ماہ میں صاف دیکھا ئی دے رہی ہے۔وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی اور ہسپتال بنانے کا آغاز تو ہو جانا چاہیے تھا اپنے ہی غیر مسلم ممبر اسمبلی کی شراب کو حرام قرار دینے والی قرار داد منظور ہو نی چاہیے تھی، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر کروڑوں خرچ ہو سکتے ہیں تو بابری مسجد پر کوئی جاندار موقف تو آنا چاہیے تھا۔ کشمیر کا سودا نہیں کیا ہے تو مظلوم و بے بس کشمیری مسلمانوں کے حق میں تقریر سے آگے بڑھنا تو بنتا ہے۔ تکبر، غرور اور انا سے باہر نکل کر عوام کے مسائل پر توجہ دینی ہو گی،عوام کی چیخیں آسمانوں تک پہنچ گئی ہیں آپ کی مہلت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ٭٭٭٭٭



کی محمد ؐسے وفا تو نے ہم تیرے ہیں


کی محمد ؐسے وفا تو نے ہم تیرے ہیں شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کی اور انسان کو تمام مخلوق میں اشرف المخلوقات بنایا۔انسانوں کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ہر دور میں انبیاء کرام تشریف لائے جو اپنے فرائض نبوت ادا کر تے رہے۔عرب میں تاریکی ہی تاریکی تھی شراب نوشی، قمار باز ی، حرام کاری، ظلم و جبر کا دور دورہ تھا۔ امیر امیرسے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہو تا جا رہا تھا۔ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ غلام اور آقا کا ایسا نظام تھا جس میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا اس زمانے میں قیصر و کسریٰ، ایرن، روم، یونان جو اعلیٰ تہدیب یا فتہ قومیں سمجھی جاتی تھیں وہ بھی ان برائیوں میں پیچھے نہ تھیں بلکہ ایک دوسرے سے سبقت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔ ایسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک عظیم ہستی حضر ت محمد مصطفی ﷺ کی تشریف لائی جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں دے دیا۔ آپ ؐ کا بچپن ہو یا جوانی نبوت سے پہلے کے چالیس سال اس معاشرے میں سب سے منفرد اور صاف ستھرے تھے یہی وجہ تھی کہ جب آپ ؐ نے دعوت کا آغاز کیا لوگوں کو جمع کر کے اپنے بارے میں پوچھاتو سب یک زبان ہو کر بولے آپ ؐ صاد ق وامین ہیں آپ جیسا اچھا انسان کوئی نہیں ہے لیکن ہم آپ کی دعوت کو قبول نہیں کر سکتے اس لیے کہ اس صورت میں ہمیں اپنے خاندان اپنی برادری اپنے رسم و رواج اور اپنے نظام کو چھوڑ نا پڑے گا۔ آپ اس نظام کی تبدیلی کی بات نہ کریں تو آپ کو حکومت دے سکتے ہیں اچھے خاندان سے شادی کر ا سکتے ہیں مال و دولت کی ضرورت ہے وہ آپ کے قدموں میں ڈھیر کر سکتے ہیں آپ اپنی عبادات بھی کر سکتے ہیں،لیکن آپ ہمارے اس نظام کو برا بھلا نہ کہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے نبی مہربان ؐ نے فرمایا تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دو میں اس دعوت سے بازنہیں آسکتا۔ دنیا سے اندھیروں کو مٹا کر دم لوں گا۔ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا ہے ظلم و جبر کے نظام کو ختم کرنا ہے اللہ کے بتائے ہوئے نظام کو لانا ہے خواہ اس کے لیے کتنی ہی قربانی دینی پڑے پھر دنیا نے دیکھا کونسی قربانی تھی جو اس عظیم مقصدکے لیے آپ ؐ نے نہیں دی یہاں تک کہ لہولہان ہوئے گھر وطن، سب کچھ قربان کیا اور 23سال کے مختصر عرصے میں عرب کا نقشہ بدل دیا۔ چنانچہ وہ خطہ جہاں جنگ و جدل تھا امن کا گہوارہ بن گیا۔ ظلم و نا انصافی کی جگہ عد ل و انصاف کا ایسا دور دورہ آیا کہ حقدار کو حق ملنے لگا کسی میں جرات نہ تھی کہ وہ کسی حقدارکے حق پر ڈاکہ ڈال سکے۔ وہ عورت جسے زندہ درگور کیا جاتا تھا اسے عزت و تکریم ملی، ماں بہن بیٹی کا درجہ دے کر وراثت کا حقدار ٹھہرایا اور اس کی پرورش پر جنت کی خوشخبری سنائی گئی یوں ذلت و رسوائی جس کا مقدر بنتی رہی اس کی قسمت بدل گئی آج پھر آپ ؐ کی کی تعلیمات سے دور ہونے کے سبب اشتہارات کی زینت بنا کر اسے عزت و احترام سے دور کیاجارہا ہے۔ محسن انسانیت ؐ نے انسانوں کو غلامی سے آزادی دی آقا وغلام کی تقسیم کو مٹایا۔ وہ جنہیں غریب کمزور سمجھ کر دبا دیا جاتا تھا ان غلاموں کوامام بنایا دنیا نے دیکھاعدل و انصاف کا ایسا معاشرہ قائم ہوا جو اپنی مثال آپ ہے۔ اسلامی حکومت کے ثمرات نے عرب سے نکل کر دنیا بھر میں اسلام کی شمع روشن کیں، دنیا میں ایک عرصے تک اسلامی نظام نافذ رہا لیکن بد قسمتی سے اپنوں کی نالائقیوں اور دشمنوں کی سازشوں سے آج دنیا میں مکمل اسلامی نظام نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے آپ ؐ کی ناموس پر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں ایک عرب سے زیادہ مسلمان ہیں لیکن مسلمان ملکوں کے حکمران امریکہ اور برطانیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں مسلمانوں کو لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو بنیا ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے،بابری مسجد کو شہید کیا جا رہا ہے،جبکہ دوسری طرف ہندوستان سے تعلقات بڑھانے کے لیے کرتار پور راہداری کو کھولا گیا ہے،عوام نہتے مظلو م مسلمانوں کے لیے جہاد کے لیے تیار ہیں جو نبی ﷺ کی ایک سنت ہے لیکن حکمران مصلحتوں کا شکار ہیں۔اسلام امن کا دین ہے دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے لیکن ظلم کے مقابلے میں جہاد کا درس دیتا ہے آج انسانیت اسی طرح کے مسائل کا شکار ہے عدل و انصاف کا نظام کہیں موجود نہیں ہے۔مسلمان ممالک وسائل رکھنے کے باوجود باہم اختلافات کا شکار ہیں۔ اپنے وسائل ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں ایسے میں محمد ﷺ سے محبت کرنے والوں کو اتحاد و اتفاق کے راستے کو اختیار کر تے ہوئے اس نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدو جہد کو تیز کرنا ہو گا جس کے لیے نبی مہربان ﷺ نے بے انتہا تکالیف اور مسائل کا سامنا کیا آج اس دین کو جو مکمل ضابطہ حیات ہے اسے عبادات تک محدود کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں دین اور سیاست کو الگ کیاجارہا ہے قوموں، برادریوں، علاقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے ایسے میں مسلمانوں نے اپنے حصے کا چراغ روشن نہ کیا تو کل آقا ﷺ کو کیا منہ دیکھائیں گے؟ ولادت مصطفیؐ کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نظام مصطفی ﷺہی میں انسانیت کی بھلائی ہے۔محمد ﷺ دنیا کے سب سے بڑے لیڈ ہیں ان کا لایا ہو ا نظام قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے بس ان کی اطاعت کی ضرورت ہے اسی صورت میں دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ سلام اس پر جس نے بے کسوں کی دستگیری کی سلام اس پر جس نے بادشاہی میں فقیری کی سلام اس پر جس کے گھر نہ چاندی تھی نہ سونا تھا سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا سلام اس پر اسرار محبت جس نے سمجھائے سلام اس پرجس نے زخم کھا کر پھول برسائے سلام اس پر جس نے زندگی کا راز سمجھایا سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا سلام اس پر فضا جس نے زمانے کی بدل ڈالی سلام اس پر کہ جس نے کفر کی قوت کچل ڈالی سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت تاج دارائی سلام اس ذات پر جس کے پریشان حال دیوانے سنا سکتے ہیں اب بھی خالد ؓ و حیدرؓ کے افسانے درود اس پر کہ جس کا نام تسکین دل و جان ہے درود اس پر کہ جس کے حلق کی تفسیر قرآن ہے



مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں فرق رہنا چاہیے


مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں فرق رہنا چاہیے شفقت ضیاء مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہو ا اور ساڑھے چودہ سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد پہنچا۔راستے میں کوئی گملا نہیں توڑا۔ لاہور میں میٹرو بھی چلتی رہی اور ایمبولنس کو بھی راستہ ملتا رہا۔ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارچ ہے جس میں کسی سرکاری یا پرائیویٹ پرا پرٹی پر حملہ ہوا اور نہ ہی کوئی سڑک بلاک ہو ئی۔ موسم کی تبدیلی ہو یا دیگر مسائل پر امن مارچ 13دن تک جاری رہا۔ تاہم حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں کنٹینر لگانے اور میٹرو بند کرنے سے عوام کو ضرور تکلیف ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 2014میں عمران خان کا بھی دھرنا تھا جس میں پی ٹی آئی نے لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کی تھی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا پولیس کو لہو لہان کیا گیااورپارلیمنٹ پر لعنت بھیجی جاتی رہی۔ سپریم کورٹ کی عمارت پر گندے کپڑے لہرائے گئے۔ بجلی کے بل جلائے اور سول نافرمانی کی تقریریں کو ن بھول سکتا ہے۔ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے اور اس وقت کا آزاد میڈیا پل پل کی خبریں دے رہا تھا جبکہ آج کا میڈیا اس طرح خبریں نہیں دے سکا۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں ناموس رسالت ؐ،ختم نبوتؐ کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ آپ آج کوئی نئی بات نہیں کر رہے مذہبی جماعت کے سربراہ میں اور اسلامی نظام آپ کے منشور میں شامل ہے۔ جبکہ عمران خان جو نئے پاکستان کی بات کرتے تھے ایک کروڑ نوکریوں 50لاکھ گھر بنانے کی بات کرتے تھے۔چوروں ڈاکوؤں سے لوٹی ہوئی رقم واپسی کی بات کرتے تھے اور کہتے تھے جب حکمران چور ہوتا ہے تو ٹیکس لگاتا ہے۔ پٹرول گیس مہنگی ہوتی ہے آج مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا ہے۔ گیس پٹرول بجلی ہر چیز آئے روز مہنگی ہو رہی ہے تو عوام پوچھتے ہیں کل چور حکمران تھے تو یہ چیزیں سستی تھیں آج یہ ہماری پہنچ سے دور کیوں ہو گئی ہیں ہمیں اس نئے پاکستان سے پرانا ہی لوٹا دیا جائے جب کارکردگی کچھ نہ بن پائی تو عمران خان نے بھی مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے مدینے کی ریاست بنانے کی بات شروع کر دی خداراہ! ایسی باتوں سے پہلے ایسا کردار تو لاؤ۔ چند قدم تو اس طرف اٹھا ؤ پھر بات کرو تو آپ کی بات میں وزن بھی ہو گا سیاست اور حکومت بچانے کے لیے ایسا کارڈ کیوں استعمال کرتے ہو جو دوسروں پر اعتراض کرتے ہو۔ اس طرح کے دعوے تو ضیاء الحق نے بھی کیے تھے اسلام کے مقدس نام پر لوگوں کو گیارہ سال تک بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ پاکستان میں کل نا انصافی، اقربا پروری، خاندان میں عہدے بانٹے جاتے اور کرپشن تھی تو آج بھی کچھ نہیں بدلا صرف طریقہ کار بدلہ ہے عمران خان جن کو چو ر، ڈاکوکہتے تھے وہ ان جماعتوں سے پی ٹی آئی میں آچکے ہیں۔ وہی کابینہ کے وزراء ہیں جن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کے رخصت ہوتے ہی ان کی کرپشن کھل کر سامنے آئے گی جس کا اظہار چیئرمین نیب بھی کر چکے ہیں کہ اگر حکومت کے لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے تو حکومت دو دن بھی نہیں چل سکے گی۔ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا اسے مدینہ کی ریاست ہی بننا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں یہ کبھی نظر نہیں آیا البتہ جب ہر طرف سے ناکامی ہو جاتی ہے تو عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا جاتا ہے یہ کھیل اب بند ہو نا چاہیے۔محلات میں رہنے والے عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کرنے والے کبھی ایسا نظام نہیں لا سکتے۔ کشمیر کے مسلمانوں پر ہندوستا ن ظلم کر رہا ہے جبکہ حکمران ایک اچھی تقریر پر اتفاق کر کے بیٹھ گیا ہے۔ کشمیریوں کی مدد کے لیے جانے والوں کو ظالم جبکہ کرتار پور راہداری کھول کر تعلقات کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں جو کھلا تضاد اور ترجیحات کا اظہار ہے۔ کل حکمران مودی کے یار تھے تو آج کیا ہو رہا ہے؟ کشمیرکاز کو مولانا فضل الرحمن نہیں موجود حکمرا ن نقصان پہنچا رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کو اینٹ کا جواب پتھروں سے دینے کے دعوے دارجواب میں اینٹ بھی نہیں مارسکے۔ آخروہ وقت کب آئے گا جب حکمران جہادکا اعلان کرینگے جس کی طرف ساری قوم دیکھ رہی ہے۔ شوق شہادت سے سرشار عوام حکمرانوں کے اعلان کے منتظر ہیں جب دنیا کی بہترین اور قابل فخر پاک فوج کے ساتھ مل کر ہندوستان کے مظالم سے نہتے بے سہارامسلمانوں کو نجات دلائی جائے گی۔ اس کے راستے میں کو ن رکاوٹ ہے؟ حکمران ہی اگر اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں تو ان کے خلاف عوا م کو نکلناہو گا۔ عمران خان عوام کو بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دھرنے اور احتجاج اس لیے ہو رہے ہیں کہ یہ مجھ سے NROچاہتے ہیں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔حالانکہ کیس عدالت میں ہونے کے باعث ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے اور اب یہ بات تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہہ دی ہے کہ اس کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے پہلے ہی یہ اختیار ختم کیا ہوا ہے کاش یہ بات وہ وزیر اعظم کو بھی بتا دیتے کہ جو آپ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہو اس کا آپ کے پاس اختیار ہی نہیں اس لیے ہمیں کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ پلان اے اسلام آباد دھرنا ختم ہو گیا جو پر امن تھا جس سے وہ وزیراعظم کا استعفیٰ تو نہ لے سکے تاہم وہ ایک بڑے لیڈ رکے طور پر سامنے آئے ہیں اور یہ تاثربھی ختم کرانے میں کامیاب ہو ئے ہیں کہ یہ انتہا ء پسند اور غیر منظم لوگ ہیں بلکہ یہ ثابت کیا ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے والے مغربی تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ سنجیدہ با سلیقہ منظم اور پر امن لوگ ہیں انہیں آئندہ نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا تا ہم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی آزادی مارچ میں شرکت سوالیہ نشان رہی ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن کا پلان بی شروع ہو گیا ہے جو زیادہ خطرناک ہے اگرچہ انہوں نے اسے پر امن رکھنے کا ہی اعلان کیا ہے تا ہم ایسا ممکن نہیں لگتا چونکہ جب سڑکوں کو بلاک کیا جائے گا تو حکومت حرکت میں آئے گی جس سے تحریک پر تشدد بن سکتی ہے جس کو قیادت بھی اس طرح کنٹرول نہیں کر پائے گی۔ اس لیے مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ احتجاج ضرور کریں لیکن آپ عمران خان کے راستے پر نہ چلیں آپ عالم دین ہیں اور عمران خان مغرب کا تعلیم یافتہ ہے۔ دونوں میں فرق رہنا چاہیے جو اسلام آباد دھرنے میں دیکھنے میں آیا ہے۔



مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں


مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں شفقت ضیاء پاکستان میں ہر شخص مذہب اور سیاست پر فتویٰ دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ جو شخص یا جماعت سیاست، حکومت اور ریاستی معاملات میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کی بات کرے تو اس پرمذہب کارڈکا لیبل لگایا جاتا ہے گو یا عبادات کریں تو کسی کو اعتراض نہیں لیکن اسلام کے سیاسی نظام کی بات کرنا جرم سمجھا جاتاہے حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے پاکستا ن کی تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اسی طرح جمہوریت بھی ان 72سالوں میں رکاوٹوں کا شکار رہی ہے، اس نظام کے خلاف تنقید کرنے والے اقتدار میں آ کر اسے بھول جاتے ہیں تنقید جمہوریت کا حسن ہے لیکن تنقید انا یا تعصب کی بھینٹ چڑھ جائے تو نفرت میں بدل جاتی ہے جو نہ شخصیت کے لیے اچھی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے لیے مفید ہوتی ہے اس کی بڑی وجہ دین سے دوری اورعدم برداشت ہے، انفرادی زندگی ہویا اجتماعی زندگی دین کی رہنمائی موجود ہے بس عمل کی نیت سے اس کو سمجھنے اور اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔ ایک انسان جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی دوسرے کیلئے پسند کرنی چاہیے اور جیسے اپنا حق سمجھتا ہے اس کا دوسرے کو بھی حق دینا چاہیے۔ پاکستان میں جو بھی حکمران آئے انتخابات میں دھاندلی کا رونا روتے رہے۔اور حکومت میں آتے ہی سابق حکومت کی طرف سے خزانہ خالی چھوڑ کر جانے کا ڈرامہ بھی جاری رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں ہمیشہ دھاندلی ہوتی رہی اور اس کی بار تو تمام ریکارڈتوڑ دیئے گئے لیکن سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی جو منتخب ہو جاتی ہیں ان کے لیے سب اچھا اور جو ہار جاتی ہیں یا ہارائی جاتی ہیں ان کا رونا جاری رہتا ہے۔ بد قسمتی سے اس نظام کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کو ششیں نہیں کی جاتی جس سے دھاندلی کا راستہ روکا جا سکے۔ انتخابات کے صاف شفاف ہونے کے نقطے پر جب تک تمام سیاسی جماعتیں متفق ہو کر قانون سازی اور پہرہ نہیں دیتی سلسلہ ختم نہیں ہو سکے گا۔ اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک میں کرپشن کل بھی تھی اور آج بھی ہے اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے احتساب سلیکٹڈ اور انتقامی ہوتا ہے جب تک احتساب سب کے لیے بلا تفریق نہیں ہوتا اس کے نظام کو بھی تبدیل نہیں کر دیا جاتا یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا ہر آنے والا دوسرے پر نتقید کرتے ہوئے خودلوٹ مار کا حصہ بنتا جائے گا چونکہ کرپٹ ٹولے کی کوئی جماعت نہیں ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی میں اکثریت انہی لوگوں کی نطر آتی ہے جو ایک عرصے سے اقتدار والی پارٹیوں کے ساتھ چلے آرہے ہیں بلکہ زیادہ کرپٹ وہی لوگ ہوتے ہیں جو لوٹے ہوتے ہیں ان کی پارٹی کرپشن ہوتی ہے اس لیے احتساب کے نظام کو ایسا بنانے کی ضرورت ہے جو حکومتوں کے بدلنے سے نہ بدلے بلکہ ہمیشہ انصاف کے اصولوں پر چلتا رہے۔ جب انتخاب اور احتساب کا نظام بہتر ہو جائے گا تو آزادی مارچ اور دھرنوں کی بھی ضرورت نہیں رہے گا۔ احتجاج کرنا جمہوریت میں ہر ایک کا حق ہے لیکن یہ پر امن اور دوسروں کی تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہیے تاکہ اپنے حق کے لیے دوسرے کا حق نہ مارا جائے۔ ماضی میں جماعت اسلامی، طاہر القادری کا دھرنا ہو یا عمران خان کا طویل ترین دھرنا ہو اس سے حکومتیں تو نہیں گئی ہیں لیکن ملک کو ضرور نقصان پہنچا ہے۔ طاہر القادری نے سیاست سے اور جماعت اسلامی نے دھرنا سیاست سے تو بہ کر دی ہے البتہ پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا جس کی 30سیٹیں تھیں آج حکومت ہے تاہم تاریخ آپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے مولانا فضل الرحمن دھرنا دینے اسلام آباد آرہے ہیں۔ لیکن وہ جو کل دھرنے کے حق میں تھے اور سول نا فرمانی کی باتیں کر تے تھے آج اس کے خلاف برسر پیکار نظرآتے ہیں اپنے دھرنے کو حلال اور فضل الرحمن کے دھرنے کو حرام قرا ردے رہے ہیں آج جو ڈنڈے نظر آتے ہیں وہ اپنے ہاتھو ں میں اٹھائے ہوئے کیوں بھول گئے ہیں بلکہ طاہر القادری کے ساتھ آنے والی خواتین کے ہاتھوں میں بھی ڈنڈے تھے۔ یہ اتنی پرانی بات تو نہیں ہے جسے بھولا جاے،جیسا کرو گے ویسا بھگتنا پڑتا ہے۔ اب تو غلطی مان لینی چاہیے کہ ماضی میں ہم سے غلطی ہوئی ہے اس سے ملک اور قوم کا نقصان ہوتا ہے طویل دھرنوں سے دوسروں کا حق متاثر ہوتا ہے یہ کل بھی درست نہیں تھا اور آج بھی درست نہیں ہے بجائے غلطی کے اعتراف کے تاویلیں کرنا کسی بھی طو ر پر عقل مندی نہیں ہے اس لیے ماضی میں انتخابات میں دھاندلی پر آپ چند نشستوں کی بات کرتے تھے تو آج ساری سیاسی جماعتیں دھاندلی پر متفق ہیں۔آج دھاندلی سے بڑھ کر کشمیر، مہنگائی بے روزگاری جیسے اہم ایشو بھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی حکومتوں اور کشمیر کمیٹی نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت کی طرف سے بھی ایک تقریر کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ماضی میں مقبوضہ کشمیر پر مودی نے قبضے کا اقدام بھی نہیں اٹھایا تھا اس لیے اس وقت کشمیرپر زیادہ جاندار پالیسی اور عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک عالم دین کو گالیاں دینا شروع کر دیں یا کردار کشی کی جائے اور جو کام ماضی میں خود کیا ہو آج اسی کام پرحب الوطنی پر شک اور غداری تک کے فتوے جاری کیے جائیں۔ تمام علماء اور سیاسی لیڈر شپ کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کی حب الوطنی پر فتوے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن ایک عالم دین،پاکستان کے منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ مفاہمتی سیاست اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کے نبض شناس ہیں۔ اسی لیے درست وقت پر کشمیر،غربت،بے روزگاری سمیت دیگر ایشو لے کر نکل رہے ہیں۔ حکومت کو گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے بجائے انہیں پر امن احتجاج کا حق دینا چاہیے عمران خان کے کہنے کے مطابق کنٹینر اور دیگر سہولتیں بھی دینی چاہیے۔ بلکہ وعدے کے مطابق اگر وہ اتنے لوگ اگھٹے کر لیتے ہیں تو اقتدار چھوڑ بھی دنیا چاہیے۔ مولانا کو اگر اجازت دے دی گئی تو عوام کا سمندر امڈ آسکتا ہے۔چونکہ عوام حکومت کی کاکردگی سے تنگ ہیں دھرنے کے کچھ فواہد مولانا کو ابھی ہی حاصل ہو چکے ہیں اور کچھ احتجاج سے ہو جائیں گے اگر زبردستی روکا گیا تو اس سے بھی زیادہ فوائد ہوں گے۔ رہا اقتدار تو اس کے حصول کے لیے عمران خان کی طرح دھرنے کے علاوہ اداروں کی حمایت بھی ضروری ہو گی اگر ملک کی تیسری قوت اقتدار میں آسکتی ہے تو چوتھی قوت فضل الرحمن بھی آسکتے ہیں لیکن اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے حکومتوں کو پورا وقت اور عوام کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے یہی جمہوریت کا تقاضا ہے تا ہم آزاد ی مارچ سے بچنے کے لیے عمران خان حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ کشمیر کے لیے جہاد کا اعلان کردیں۔ قوم اپنے نہتے کشمیری بھائیوں کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہے اور دنیا کی بہترین پاک فوج کے شانہ بشانہ آزادی کی جنگ لڑے گی اس سے عمران خان حکومت بھی بچ جائے اور تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ آپ کا نام بھی لکھا جائے گا اس لیے اس موقع کو غنیمت سمجھو ورنہ مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔



محکمہ تعلیم میں اصلاحات فاروق حیدر حکومت کا اہم کارنامہ


محکمہ تعلیم میں اصلاحات فاروق حیدر حکومت کا اہم کارنامہ شفقت ضیاء تعلیم کسی ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کودی جاتی ہے سستی اور معیاری تعلیم حکومتوں کی اولین ترجیح میں شامل ہے ایک طویل عرصہ تک مسلمان تعلیم کی وجہ سے دنیا بھر میں امامت کرتے رہے آج بھی یورپ جیسے ممالک اس سے روشنی لینے پر مجبور ہیں اسلامی تعلیمات میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے قرآن پاک کی پہلی وحی اقراء سے شروع ہوئی اور نبی مہربانؐ نے عرب کے اندھیروں کوعلم سے روشن کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جاہل قوم دنیا کی امام بن گئی بدقسمتی سے آج تعلیم طبقات میں تقسیم ہے کئی طرح کے نصاب تعلیم ہیں ہمارے ملک میں سرکاری تعلیمی ادارے،پرائیویٹ تعلیمی ادارے اوردینی تعلیم جیسے تین حصوں میں بٹی ہوئی قوم ہے۔ 72 سالوں میں یکساں نصاب تعلیم نہ بن سکا جس کی وجہ سے ہم قوم بننے کی بجائے ہجوم بننے جا رہے ہیں۔ امیروں کے بچے پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرکے اہم ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں جبکہ غریبوں کے بچوں کیلئے دروازے بند ہیں۔ کہیں کسی غریب کا بچہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے زور پر نکل بھی جائے تو سفارش اور رشوت اس کے راستے میں حائل ہو جاتی ہے۔ تعلیم کے میدان میں اصلاحات کی جب بھی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ یہی محدود سا طبقہ ہمیشہ رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ آزادکشمیر ایک چھوٹا سا خطہ ہے جس میں تعلیم کا ریشو اگرچہ بہت اچھا ہے لیکن بدقسمتی سے اس میں سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سفارش، رشوت، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں گزشتہ حکومتوں نے ایسی تباہی مچائی کہ ادارے ویران ہو گئے۔ اب ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ بعض اداروں میں اساتذہ زیادہ ہیں اور بچے کم ہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ تعلیم پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ ہونے کے باوجود کارکردگی صفر ہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود عوام اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کی خاطر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ حکومتیں اپنے ووٹ بینک کی خاطر ایسی پالیسیاں بناتی ہیں جس سے ملازم طبقہ ناراض نہ ہو، رہے غریب عوام تو انکا کیا ہے؟ یہ ملازم طبقہ سیاست کرتے ہوئے ان سے ووٹ ڈلوانے کیلئے جو موجود ہے۔ ایسے میں آزادکشمیر میں موجودہ فاروق حیدر حکومت کے اہم اقدامات سامنے آئے جن کی تحسین کی بجائے وہی محدود طبقہ اپنے مفادات کیلئے سرگرم نظر آتا ہے۔ گزشتہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں آزادکشمیر کو میگا پراجیکٹس دیئے گئے لیکن میرٹ کو بری طرح پامال کیا گیا۔ سفارش،رشوت کے بغیر نوکری خواب بن گیا تھا، موجودہ حکومت نے این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ کی بحالی کی طرف اچھا قدم اٹھایا جس سے غریب پڑھے لکھے، باصلاحیت نوجوانوں کو ایک بار پھر امید ملی۔ وہ جو مایوس ہو چکے تھے وہ اپنا حق ملنے پر خوش ہوئے۔ اس سسٹم میں انٹرویو کے نام پر 10 نمبرات جو رکھے گئے ہیں وہ اگرچہ میرٹ کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ہیں جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ سحرش سلطان جیسی بچیاں احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں لیکن اتنے بڑے اقدام پر حکومت کی تحسین کرنے کے بجاے صرف 10 نمبر پر ہی تنقید کرنا انصاف نہیں ہے تاہم حکومت سے توقع ہے کہ وہ 10 نمبرات والی گنجائش کو بھی ختم کروائے گی تاکہ میرٹ پر مکمل عملدرآمد کے راستے میں حائل یہ رکاوٹ بھی ختم ہو جائے۔موجودہ حکومت نے پی ایس سی کو بحال کیا۔ سب سے بڑھ کر سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پابند کیا ہے کہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کروائیں،قابل تحسین ہے۔ سرکاری ملازمین جن کی تنخواہیں لاکھوں روپے ہیں اپنے بچوں کو پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں یہ کسی بھی طرح انصاف نہیں، یقینا جب وہ اپنے بچوں کو انہی تعلیمی اداروں میں پڑھائیں گے تو احساس بھی ہو گا اور تعلیمی معیار بھی بہتر ہو گا۔ اگر حکومت اس نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کروا لیتی ہے تو کوئی بھی میگا پراجیکٹ نہ دینے کے باوجود اس کا یہ اقدام جہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت کو یکساں بدل دے گا، وہاں عوام میں زبردست پذیرائی کا سبب بھی بنے گا۔ گو کہ ایک محدود طبقہ ان اقدامات سے پریشان ہے، اسکی تنقید کا سامنا ضرور رہے گا لیکن یہ قومی خدمت بھی ہے اور سب سے بڑا ذریعہ سرکاری تعلیمی اداروں کو دوبارہ اٹھانے کا ہے، جس پر عملدرآمد کے ساتھ ہی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ حکومت کو ایسے تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی جن کی تعداد کم ہے کیونکہ اس اقدام سے داخلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین کے بچوں کے آنے کے ساتھ عام عوام اپنے بچوں کو واپس سرکاری تعلیمی اداروں میں لائیں گے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانا عوام کیلئے مشکل ہو چکا ہے، انھیں امید دلانے کی ضرورت ہے کہ سرکاری ادارے بہتری کی طرف جا رہے ہیں جو اس اقدام سے دلائی جا سکتی ہے۔ اس لیے قوی امیدہے کہ اس اقدام سے تعلیمی اداروں میں تعداد کا مسئلہ نہیں رہے گا تاہم اگر اس کے باوجود کچھ تعلیمی ادارے اتنی کم تعداد پر آ جاتے ہیں تو انھیں ختم کرنا ہی قومی مفاد میں ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت کا کم تعداد کے حامل تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کا یہ اقدام بھی قابل تحسین ہے۔ حکومت کو بیورو کریسی میں موجود علم دوستوں کی طرف سے دی گئی تجاویز پر پورے اعتماد کیساتھ عملی اقدامات اٹھانے چاہیے۔گزشتہ عرصہ میں تعلیم کے شعبہ کی بہتری کیلئے جو اقدامات سامنے آئے ہیں یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیکرٹری تعلیم اور دیگر عملہ تعلیم سے دلچسپی لے رہا ہے اور عوام دوست پالیسیاں بھی بنا رہا ہے۔اسی طرح حکومت کی طرف سے بائیومیٹرک سسٹم احسن قدم ہے تاہم سسٹم کی خرابی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، ناقص خرید پر احتساب بھی ہونا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق بھاری قیمتوں میں خریدی گئی ناقص بائیو میٹرک مشینیں اکثر خراب ہو گئی ہیں جس سے حکومتی ساکھ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور ایسے لوگوں کا سخت احتساب ہونا چاہیے جو اس عمل میں شریک ہیں۔ حکومت آزادکشمیر کو اپنے تعلیم دوست اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہیے اس کے برعکس محدود طبقے کے احتجاج کو قطعاََ اہمیت نہیں دینی چاہیے بلکہ اس نظام کو مزید بہتر بنانے کیلئے مزید دلیرانہ اقدامات جن میں مڈل اور پرائمری سکولوں میں بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب کرنی چاہیے تاکہ بچوں کی ابتدائی تعلیم بھی بہتر ہو سکے میٹرک پاس اساتذہ کو فارغ کرکے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو موقع دیا جاے، اس طرح کے مزید اقدامات سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کے ساتھ حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا تاہم محکمہ تعلیم میں موجودہ اصلاحات فاروق حیدر حکومت کا اہم کارنامہ ہے جس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔



مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ مکافا ت عمل


مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ مکافا ت عمل شفقت ضیاء 1947میں طویل جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا جس کا مقصد اسلامی ریاست بنانا بتایا گیالیکن 72سال گزرنے کے باوجود وہ کلمے والا پاکستان نہ بن سکا جس کے دعوے ماضی کے حکمران بھی کرتے تھے، آج بھی مدینہ کی ریاست بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن عملاً کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ اب ملک کے اندر تبدیلی کچھ اس طرح کی آگئی ہے کہ مذہب کا نام استعمال کرنا درست نہیں ہے اور سیاست اور مذہب الگ الگ چیزیں ہیں۔اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی جو ملک بنا ہی اسلام کے نام پر ہے اور مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام مکمل نظام حیات ہے نبی کریم ﷺ آخری رسول ہیں اور شریعت مکمل ہو چکی ہے لیکن اب دنیا کی بڑی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے سیکولر بننے کی کوشش ہو رہی ہے، اسلامی شعار کا مذاق بنایا جا رہا ہے،معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے بلکہ منافقت کی جارہی ہے۔تقریریں کچھ ہو رہی ہیں اور عمل کچھ اور ہے۔اسلام کے ساتھ ہی نہیں جمہوریت کے ساتھ بھی پاکستان میں مذاق کیا جارہا ہے۔ 72سالوں میں 40سال آمریت رہی جبکہ 32سالوں میں بھی حکومتیں بنانے کا اختیار مکمل طور پر عوام کو نہ مل سکا انتخابات سے ایسے نتائج لینے کی کوشش کی جاتی ہے جو مقتدر حلقو ں کو پسند ہوں۔سیاستدانوں کا رویہ بھی جمہوری نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ اکثریت کے باوجودمجیب الرحمن کو حکومت بنانے نہیں دی گئی اور نتیجتاًملک دو لخت ہو گیا پھر عوام کے مقبول ترین لیڈ ر جس کی سیاست اور نظریے سے تو اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی عوامی مقبولیت سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا، جس سے اس کی پارٹی کو ختم نہ کیا جا سکا لیکن اس کی قابلیت صلاحیت نہ ہونے کا نقصان ضرور ہوا پھر اس کی بیٹی کی مقبولیت بڑھی اور وہ ایک سنجیدہ سیاست دن کے طور پر سامنے آئی تو اسے راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کر دیا گیا۔اگر وہ زندہ ہوتی تو شاید اس وقت حکومت نہ بنا سکتی لیکن منصوبہ بندی کے تحت اسے راستے سے ہٹا کر عوامی ہمدردی میں اضافہ کر کے زرداری جیسے شخص کو اقتدار تک پہنچا دیا گیا۔ بینظیر بھٹو کے قتل سے پاکستان اور جمہوریت کو بڑا نقصان ہو ا۔ پاکستان میں پیسے کی سیاست بڑھی اور سیاست میں سنجیدگی کی کمی ہو ئی، ایسے میں پاکستان میں واحد سنجیدہ تجربہ کار سیاست دان نواز شریف اقتدار میں آئے پھر انہیں احتساب کے نام پر راستے سے ہٹایا گیا۔ جج کی جو وڈیو سامنے آئی ہے اگر وہ سچ ثابت ہو جاتی ہے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ پاکستان میں کسی بھی ایسے لیڈر کو جو عوام میں مقبول ہے اسے غیر جمہوری طریقے سے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام سیاستدان جو عوام میں مقبول ہوئے ہیں وہ آمریت کی پیداوار رہے اور جب وہ عوام میں مقبول ہونے کے ساتھ جمہوریت میں سنجیدہ ہوئے اقتدار کے ساتھ اختیار کے خواہش مند ہوئے،ووٹ کو عزت دو کی بات کرنے لگے تو انہیں راستے سے ہٹا دیا گیاجسکا نتیجہ یہ نکلا کہ جمہوریت آج تک مستحکم نہ ہو سکی۔ نواز شریف کی حکومت کے خلاف عمران خان کی طرف سے چند حلقوں میں دھاندلی کی وجہ سے احتجاج شروع ہو اجو بعد میں اسلام آباد میں طویل ترین دھرنے کی شکل اختیا ر کیا گیا جس میں ان کے سیاسی کزن طاہر القادری بھی اپنے مدرسوں کے بچوں سمیت آئے اور دھرنے کو طولت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔اس دھرنے میں عمران خان کی تقریریں آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکس نہ دو،بجلی فون کے بل جمع نہ کراؤ،جلا دو، بیرون ملک سے رقم ہنڈی کے ذریعے بھیجو،ملک اور حکومت کے خلاف یہ درس عمران خان 125دن سے زیادہ تک دیتے رہے۔ اس دھرنے میں طاہر القادری کے مدرسوں کے بچوں کے علاوہ سکولوں،کالجوں کے طلبہ کے ساتھ طالبات بھی تھیں، ناچ گانا بھی تھا، ڈانس بھی تھا، وہ سب کچھ تھا جو اسلامی ملک میں نہیں ہو نا چاہیے تھا۔اس دھرنے میں عمران خان رو ز کہتے رہے کہ امپائر کی انگلی کھڑی ہونے والی ہے بس حکومت گئی اس کے نتیجے میں حکومت تو نہ جا سکی ملکی معیشت کو بڑا نقصان ہوا، چائنہ کا صدر پاکستان نہ آسکا اور سب سے بڑھ کر ایک غلط جمہور ی روایت پڑگئی۔ پاکستان میں 2018کے انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت فاتح ہوئی جس کے بارے میں پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ دھاندلی ہوئی اور وزیراعظم سلیکٹڈ (Selected) ہے۔ 14ماہ کی حکومت سے ملک میں غربت بے روزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے،ملک معاشی طور پر تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے اور ایسے میں اس حکومت کے رہنے کا جواز ختم ہو چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جا سکتا، یہ نا جائز حکومت ہے عوام کی چیخیں نکل چکی ہیں، مہنگائی بے روزگاری نے زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں جبکہ ماضی کے دھرنے والی حکومت کہتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدرسے کے بچوں کو لانا چاہتے ہیں، مذہب کا استعمال کر رہے ہیں،انہیں نہیں آنے دینگے۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ماضی میں سکولوں کالجوں کے بچے اور بچیاں جب آئے تو کیسے درست تھا اور آج مولانا فضل الرحمن مدرسے کے بچوں کو لائیں گے تو کیسے غلط ہو گا؟ کیا یہ اس لیے غلط ہے کہ دینی علم حاصل کرنے والوں کو یہ حق نہیں؟ دین کو نظام زندگی کے طو ر سمجھنا جرم ہے؟ دین کی تعلیم تو روشنی ہے ان سے خوف کیوں ہے؟کیا احتجاج کے لیے سیکولر ہونا ضروری ہے؟ کیا مولانا کو بھی رنگین دھرنا دیناچاہیے؟ اگر اسیا نہیں ہے، دھرنا سیاست سے ملک اور جمہوریت کا نقصان ہوتا ہے تو پھر ماضی کے دھرنے کی غلطی تسلیم کرنی ہو گی اور اگر ماضی کا دھرنا جمہوری حق تھا تو اسے بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ اگر عوام حکومت سے مطمئن ہوئے تو وہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ نہیں آئیں گے اور اگر واقعی غربت،بے روزگاری سے تنگ ہیں اور دھاندلی سے حکومت بنی ہے تو عوام کا سیلاب آئے گا۔ حکومت کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ عوام کا فیصلہ دیکھ لے لیکن حکومت کے بیانات اور رویے سے لگتا ہے کہ حکومت خوف زدہ ہے اس نے روکنے اور گھرو ں میں بند کرنے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ کیا حکومت بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے؟ اگر مطمئن ہے تو بوکھلاہٹ کیوں؟ پی ٹی آئی حکومت کو مان جانا چاہیے کہ ماضی میں ان سے غلطی ہوئی ہے اور یہ اسی کا مقافات عمل ہے۔



عمران خان کی تقریر اور آخری کشمیری


عمران خان کی تقریر اور آخری کشمیری شفقت ضیاء وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب کیا ہے جس میں انہوں نے عالم اسلام کی بہترین نمائندگی کی ہے اور کشمیرایشو کو بھر پور انداز میں پیش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں ہی نے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے خوب سراہا ہے۔جس پر عمران خان خراج تحسین کے حقدار ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سے پہلے بھی پاکستان کے حکمران کشمیر ایشو پر بات کرتے آئے ہیں لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان کا خطاب تاریخی سمجھا جا رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کشمیر کے جو حالات ہیں ایسے پہلے نہیں تھے۔مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے تین ماہ سے کر فیو لگا رکھا ہے۔موبائل فون،انٹرنیٹ سروس بند ہے۔کھانے پینے کی اشیاء ادویات تک دستیاب نہیں ہیں۔حریت قیادت گرفتار اور نظر بند ہے۔کنٹرول لائن پر نہتے کشمیری شہید ہورہے ہیں۔یوں کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔آزادکشمیر کے عوام ایسے حالات میں سیز فائر لائن عبور کرنا چاہتے ہیں جس کا اظہار وزیر اعظم پاکستان نے اداکاروں کے جھرمٹ میں مظفرآباد کے اپنے خطاب میں بھی کیا اور مطالبہ کیا تھا کہ جب تک میں اقوام متحدہ میں خطاب کر کے نہیں آجاتا آپ نے سیز فائر لائن کی طرف مارچ نہیں کرنا۔اب چونکہ وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں خطاب کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں شایدآنکھوں میں پٹی باندھی ہوئی کانوں سے بہری دنیا کو کوئی اثر نہیں ہو گا چونکہ دنیا مفاد پرست بھی ہے اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم سے اسے کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ مسلمان حکمران بھی ان ہی کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں۔ترکی،ملائشیا،ایران کے علاوہ باقی لیڈر شپ غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان لیڈر شپ تقریروں سے آگے کچھ نہیں کر سکی اسلام کی حقیقی تصویرتقریروں میں تو موجود ہے لیکن عملاً کسی ملک میں دیکھا نہیں جا سکتا وزیر اعظم پاکستان آپ نے اچھی تقریر کی ہے اب ایسے پاکستان میں عملاً نفاذ بھی کر دیں اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے آپ کی تقریریں بھی محض سیاسی بیانات نہیں ہیں تو پھر مدینہ کی جس ریاست کی آپ تعریفیں کرتے ہیں جسے آپ آئیڈیل سمجھتے ہیں اس کے لیے اس سے بہتر موقع آپ کو کب ملے گا؟ آپ نے حکومت سے پہلے اپنی انتخابی مہم اور اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران بھی بہت اچھی تقریریں کی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام بلخصوص نوجوانوں نے آپ کو سپورٹ کیا لیکن ایک سال کی کارکردگی سے عوام بالخصوص نوجوان مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔اگر یہ مایوسی بڑھ گئی تو آئندہ کسی پر اعتماد نہیں رہے گا۔آپ کی پارٹی کے غیر مسلم ممبر اسمبلی شراب کے خلاف بل لاتے ہیں تو آپ ہی کے ممبران مسترد کر دیتے ہیں۔آپ کے صوبے کے پی کے میں پردے کا نوٹیفکیشن کو شام سے پہلے واپس کر دیا جاتا ہے۔سودی نظام اسی طرح ہے،مدینہ کی ریاست کی طرف کوئی ایک قدم تو 13ماہ میں نظر آنا چاہیے تھا تب دنیا بالخصوص پاکستان کے عوام مانتے کہ آپ جس اسلام کی بات کرتے ہیں پاکستان اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں بے روزگاری، غربت بڑھ رہی ہے حکمران طبقہ کل بھی شایان زندگی بسر کر رہا تھا آج بھی بسر کر رہا ہے۔کل بھی غریب رل رہا تھا آج بھی غریب رل رہا ہے۔ایسے میں آپ کی تقریروں کی کوئی وقعت نہیں رہے گی جب تک عملاً قدم نہیں اٹھا یا جاتا اب بھی وقت ہے کہ اگر آپ عوام کے جذبات سے نہیں کھیل رہے تو کچھ کر کے دیکھا لیں ورنہ عوام یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ آپ سے بہتر حالات تو ان کے دور میں تھے جن کو چور، ڈاکو جیسے بڑے بڑے القابات دیتے آپ نہیں تھکے۔ مقبوضہ کشمیر پر آپ کی تقریر اچھی تھی مگر آپ مانیں کہ آپ کی خارجہ پالیسی ناکام ہے آپ چند ممالک کی حمایت بھی حاصل نہیں کر سکے۔آپ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں 58ممالک کی حمایت حاصل ہو چکی ہے جبکہ یونائیٹڈنیشن ہیومن رائٹس میں صرف 16ووٹ ضرورت تھے لیکن آپ وہ بھی حاصل نہ کر سکے۔آپ پھر بھی کہیں کہ ہم نے کامیابی حاصل کی ہے تو اسے حماقت ہی کہا جا سکتا ہے۔ کشمیریوں کا قاتل مودی دنیا بھر میں جا رہا ہے اور اپنی حمایت حاصل کر رہا ہے اسلامی ممالک سے ایوارڈ لے رہا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ ایک تقریر سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا یہ ناممکن ہے گزشتہ 72سالوں سے کشمیری پر امن جدوجہد کے سارے راستے اختیار کر کے دیکھ چکے ہیں،دو ماہ سے کرفیو اور ہندوستانی جنگ کے باوجود وہ ڈٹے ہوئے ہیں لیکن آپ کی یہ منطق سمجھ نہیں آرہی کہ آزادکشمیر پر حملہ ہوا تو آپ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔کیا مقبوضہ کشمیر میں کیا گیا حملہ آپ کو نظر نہیں آتا یا ان بے بس مظلوموں کی مدد کرنا آپ پر ابھی فرض نہیں ہوا؟کیا آپ محض ان تقریروں کے ذریعے کل محشر کے دن للہ تعالیٰ کو مطمین کرلیں گے؟جب اللہ پوچھے گا کہ کشمیر کے مظلوم مسلمان پکار رہے تھے کہ مدد کرو ہمیں کمزور سمجھ کر دبایا جا رہا ہے ہماری عزتیں جان مال کچھ بھی محفوظ نہیں ہے ایسے میں آپ ایٹمی ملک پاکستان کے حکمران ہونے کے باوجود ان کی مدد نہ کر کے اسے کیا منہ دیکھاؤ گے؟ کیا آپ آخری کشمیری کی شہادت کا انتظار کرہے ہیں؟ آپ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ٹرمپ سے امیدیں لگا بیٹھے ہیں اور اللہ سے نا امیدی؟ اب یا کبھی نہیں کا وقت آن پہنچا ہے تاخیر بہت ہو چکی ہے عملی اقدام کی ضرورت ہے۔پاکستان کے عوام اور فوج بہادر ہے ان کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔شیروں کی قیادت کر رہے ہو تو شیر بنو ورنہ گیدڑ کی زندگی بھی کوئی زندگی ہے اور کچھ بھی نہیں کر سکتے تو مجاہدین کے جو راستے بند کیے ہوئے ہیں وہ کھولو۔آزادکشمیر اور پاکستان کے عوام اس جہاد میں شریک ہونا چاہتے ہیں وہ اس ذلت کی زندگی سے شہادت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔آزادکشمیر کے عوام نے یہ خطہ بھی جہا دسے حاصل کیا تھا وہ بھی اللہ کی تائید اور جہاد کے جذبہ سے آزادکریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان آپ امر ہونا چاہتے ہو تو اب عملاً قدم بڑھاؤ قوم آپ کے ساتھ ہے۔ورنہ آپ کی داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔کشمیریوں سے جس نے بھی غداری کی اس کا انجام عبرت ناک ہی ہو اہے۔



ظلم کے خلاف جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی


ظلم کے خلاف جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی شفقت ضیاء کشمیرکی تاریخ جتنی پرانی ہے اتنی ہی تحریک آزادی کشمیر بھی پرانی ہے کشمیریوں نے اس طویل جدوجہد میں قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے شاید ہی کوئی قربانی ہو جو نہ دی ہو،زندہ کھالیں بھی کھینچوائیں اور اپنے معصوم بچوں کوبھی قربان کیا۔عفت مآب خواتین کی عزتیں بھی تار تار ہوئیں ہندوستان کی طرف سے ظلم و جبر بربریت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے لیکن کشمیری اپنی جدوجہد سے باز نہ آئے۔کشمیر میں شایدہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں شہادت نہ ہوئی ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے باوجود دنیا میں انسانیت کے علمبردار اور دعوے دار خاموش بھی ہیں اور آنکھوں کے آگے پٹی بھی باندھ رکھی ہے۔اس لیے کہ کشمیری مسلمان ہیں ان کا یہ جرم انتا بڑا ہے جس کی ہر قیمت انہیں ہی چکانی پڑ رہی ہے حالانکہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں دردہوتا ہے تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر تک تقسیم برصغیر کے وقت کشمیریوں کواپنے فیصلے کا حق نہیں دیا گیا اور آج تک انہیں حق خود ارادیت نہیں دیا جا رہا۔1947میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں بے سروسامانی کے عالم (کیفیت) میں جذبہ شوق شہادت سے جوجددجہد کی گئی اس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا موجودہ خطہ آزاد ہوا،انقلابی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور اسے بیس کیمپ کی حیثیت دی گئی جو بعد میں اقتدار کے ریس کیمپ میں تبدیل ہوگئی اور 72سال گزرنے کے باوجود نہ یہ حقیقی بیس کیمپ بن سکا اور نہ چند قدم آگے بڑھ سکے۔ا س وقت دارالحکومت مظفرآباد اس لیے منتقل کیا گیا تھا کہ سرینگر قریب ہے اور اس کی طرف بڑھنا ہے لیکن اقتدار کے نشے نے منزل قریب ہونے کے باوجود دور کر دی جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کا جو وکیل تھا جو ایک نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا وہ دو قومی نظریہ، کلمے والا پاکستان بھی حقیقی پاکستان نہ بن سکا۔پہلے وزیر خارجہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا یاد رہے وہ وزیر خارجہ بھی قادیانی تھا اورا س سارے سفر میں اسلام کے نام اور اعلانات کے سوا کچھ نہ ہو سکا۔آج 72سال بعد بھی مدینہ کی ریاست بنانے کے اعلانات اور دعویٰ کے سوا چند قدم بھی اٹھتے نظر نہیں آتے ایسے میں توقع کی جاتی ہے کہ امت مسلمہ کشمیریوں کی حمایت کرے وہ پاکستان جس کا نام مقبوضہ کشمیر میں گولیوں کے بوچھاڑ میں کشمیری لیتے ہیں بلکہ شہادت کے بعد اسی پرچم میں دفن کیے جاتے ہیں اس پاکستان کے حکمرانوں نے ہمیشہ اس انداز میں وکالت کا حق ادا نہیں کیا جس انداز میں کردار ادا کیا جانا تھا اور آج پاکستان تقریروں،اعلانات،دعووں کے سوا کچھ نہیں کررہا بلکہ سودے بازی کی خبریں آ رہی ہیں ہاں ایسے میں پاکستان کے عوام کل بھی کشمیریوں کے ساتھ تھے آج بھی ساتھ ہیں۔کل بھی ان کا خون اس تحریک میں شامل تھا اب بھی وہ خون دینے کے لیے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے قیادت گیدڑوں کے پاس ہے۔قوم شیروں کی ہے 5اگست کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے قانون کو مودی کی طرف سے تبدیل کرنے کے بعد تحریک آزادی کشمیر ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔کشمیریوں نے ہندوستان کے قانون کو کل مانا تھا نہ آج مانتے ہیں اور نہ اس سازش کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا ہندوستانی خواب پورا ہونے دیں گے۔تا ہم ایسے میں حکومت پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے محض سیاسی،اخلاقی حمایت سے کام نہیں چلے گا۔کشمیریوں نے آزادی کے لیے پر امن جدوجہد کے تمام راستے اختیار کر کے دیکھ لیا ہے دنیا اپنے مفادات کی وجہ سے ہندوستان کے خلاف بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور پاکستان سے بات چیت کے لیے ہندوستان تیار نہیں اور نہ ہی بات چیت اب مسئلے کا حل ہے اقوام متحدہ بھی اپنی قراردادوں پر عملدر آمد کرانے سے قاصر ہے چونکہ وہ مسلمانوں کے لئے نہیں یہودیوں کیلئے ہے طاقت ور وں کے لیے ہے مظلوموں کیلئے نہیں،دنیا وسائل پر نظر رکھتی ہے۔ان کی سرمایہ کاری ہندوستان میں ہے جبکہ پاکستان معاشی طور پر کمزور تر ہو چکا ہے اسلامی ممالک کی بھی بڑی سرمایہ کاری ہندوستان کے ساتھ ہے ان کے حکمران بھی نام نہاد مسلمان ہیں،ایران ترکی جہاں قدرے بہتر حکومتیں قائم ہیں وہ حمایت کررہی ہیں جبکہ UAEبحرین جیسے عیاش حکمران مودی کو ایوارڈ سے نواز رہے ہیں حتیٰ کہ سعودی عرب بھی کھل کر حمایت نہیں کر رہا چونکہ ان ملکوں کے حکمران مفاد پرست اور غیروں کی سازشوں کا شکار ہو چکے ہیں یہ امریکہ کے ٹاؤٹ ہیں یہ امت مسلمہ کی اصل تصویر پیش نہیں کررہے اور نہ عوام کی ترجمانی کر رہے ہیں دوسری طرف ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور غلط سمت کا نتیجہ ہے کہ تنہائی کا شکار ہیں۔ حکمران امریکہ کے ٹرمپ سے توقعات رکھ بیٹھے ہیں جومسلمانوں اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے وہ کبھی بھی ہمارا حمایتی نہیں ہو سکتا۔یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے“لیکن اسی ٹرمپ کی ثالثی پر عمران خان ورلڈ کپ جیتنے جیسی خوشی کا اعلان کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ حکمرن سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ثالثی کرے گا اور کشمیر ہمیں لے کر دے گا یہ سوچ بڑی حماقت سے زیادہ کچھ نہیں۔ہندوستان تو ابھی انکار ی ہے اوریہ اس کی سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے کل اگر وہ مان جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر کسی صورت نہیں ملے گا خواہ وہ ہندوستان کو دیا گیا یا امریکہ نے اپنا اڈہ بنایا لیکن ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا کیاحکمران کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔؟؟ اگر ایسا نہیں تو ٹرمپ کی ثالثی نہیں ہمیں اپنی جدوجہد کو تیز کرنا ہو گا سفارتی محاذ ہو یا اندرونی محاذ قوم کو اعتماد میں لے کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا پاکستان کے عوام کشمیر ایشو پر ایک ہیں آخری حد تک جانے کو تیار ہیں لیکن حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے پر لگی ہوئی ہے جس سے کشمیر کاز کو نقصان ہو رہا ہے پاکستان کو حقیقی پاکستان بنانا ہو گا مدینہ کی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے اور اللہ کے بھروسہ پر جہاد کرنا ہو گا اس کے سوا اب راستہ نہیں ہے مقبوضہ کشمیر میں جنگ جاری ہے کشمیری کٹ رہے ہیں مر رہے ہیں اور ہمارے مجاہدین کی قیادت کو پابند کیا جا رہا ہے اس سے امریکہ تو شاید خوش ہو جائے لیکن ہماری جدو جہد کامیاب نہیں ہو سکے گی جنگ اچھی چیز نہیں لیکن ظلم کے خلاف اگر جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی کے مصداق آگے بڑھنا ہو گا۔اور اگر اندرون خانہ کوئی بندر بانٹ کر دی گئی ہے یا سوچا جا رہا ہے تو یہ لاکھوں شہداء کے خو ن سے غداری ہو گی اور اس کا انجام عبرت ناک ہو گا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ماضی کے حکمران خواہش کے باوجود وہ اس کی ہمت نہیں کر سکے وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ پاکستانی عوام ایسی قیادت کو ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بنا دیں گے چونکہ اس پر عوام متفق ہیں ماضی کے حکمرانوں نے اپنی سیاست کے بعد اپنی اولادوں کا بھی سیاست میں زندہ رکھنا تھا شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔عمران خان کو شاید ایسی ضرورت نہیں لیکن ان کی پارٹی کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی ایسے اقدام سے دور رہنا ہو گا ورنہ داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔کشمیری اتنی بڑی قربانیاں دینے کے بعد اپنے حصے بخرے نہیں کرنے دیں گیاشہدا کا مقدس خون رنگ لاے گا کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے البتہ منصوبہ سازوں کو اپنے انجام سے ڈرنا چاہیے حالات،واقعات اس طرف کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں مزید حالات خراب کر کے لاکھوں لوگوں کو بلخصوص وہاں کی قیادت کو راستے سے ہٹا کر ایسے حالا ت پیدا کیے جائیں کہ امریکہ بہادر کو کودنے کا موقع ملے اور ٹرمپ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوے کشمیر کے حصے بخرے کر دے اگر ایسا کیا گیا تو شہداء کے خون سے غداری کرنے والے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔اس انجام سے بچنے کے لیے حکومت پاکستان کو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جرات مندانہ فیصلے کرنا چاہیے شملہ معاہدے کو ہندوستان کے منہ پر مارنے کی ضرورت ہے سفارتی تعلقات ختم کیے جائے فضائی حدود بند کی جائیں جس سے گزشتہ عرصے میں چند دن بند رہنے سے اُسے اربوں کا نقصان ہوا تھا کشمیر پر سیاست اب بند ہونی چاہیے ایک آواز ہو کر ہر محاذ پر جدوجہد کو تیز کرنی چاہیے آزادی کشمیر کی منزل دور نہیں لیکن اس کے لیے اب جہاد کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے پر امن جدوجہد کو72سال کا طویل عرصہ بہت ہے۔اب آج نہیں تو کبھی نہیں کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے عمران خان کہتے ہیں ہنددستان نے حملہ کیا تو اینٹ کا جوا ب پتھر سے دیں گے۔ہندستان کو آزادکشمیر پر حملے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مقبوصہ کشمیر پراپنا قبضہ جمانے کی کوششیں کر رہا ہے ایک ماہ سے کرفیو لگا ہے اس سے بڑا جرم کیا ہے لائن آف کنٹرول پر بھی بسنے والے حالت جنگ میں ہیں آے روز شہادتیں ہو رہی ہیں پھرکون سی جنگ کا انتظار ہے؟مقبوضٰہ کشمیر میں ہندوستانی جنگ کا جواب دینا ہو گا ورنہ شہ رگ کاراگ الاپنے کا کوئی فائدہ نہیں قوم شوق شہادت سے سرشار ہے اور دنیا کی کو مضبوط ترین پاک فوج موجودہے بس قیادت کی جرات اور لیڈر شپ کی ضرورت ہے اللہ کرے ہم اپنی زندگیوں میں کشمیرکو آزاد ہوتے دیکھ لیں یاشہادت پا جائیں۔



آزاد کشمیر حکومت کے 3سال (شفقت ضیاء)


آزاد کشمیر حکومت کے 3سال شفقت ضیاء آزادکشمیر میں راجہ فاروق حیدر کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے تین سال کا عرصہ مکمل ہو گیا جس میں انہوں نے جہاں کچھ نمایاں کامیابیاں حاصل کیں وہاں کچھ اعلانات محض اعلانات ہی رہے۔مسلم لیگ کی حکومت سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی جس میں چند نمایاں میگا پراجیکٹس کا آغاز ہوا جن میں 3میڈیکل کالج،جامعات نمایاں ہیں۔بالخصوص پونچھ میں میگا پراجیکٹس کا کریڈٹ پیپلزپارٹی کو جاتا ہے جس کی بڑی وجہ اس وقت کے صدر ریاست حاجی یعقوب خان کی محنت اور کوششوں کا عمل دخل ہے۔گو کہ اس وقت کہا جاتا تھا کہ انہوں نے یہ عہدہ زرداری کو پیسے دے کر حاصل کیا ہے یہ اس منصب کے اہل نہیں ہیں۔صدر جامعات کا چانسلر بھی ہوتا ہے اس لیے بڑا پڑھا لکھا آدمی ہونا چاہیے۔ماضی کی بھی مثالیں دی جاتی رہیں کہ اس منصب پر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان جیسے لوگ رہے یہ سب درست مان لینے کے با وجود حاجی یعقوب کی تعمیر و ترقی سے دلچسپی اور عملی کام اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔پونچھ کے حصے میں اس بار بھی صدارت آئی مگر پی پی دورسے یک دم متضاد،موجود صدر ریاست بہت ہی پڑھے لکھے قابل آدمی ہیں جن کا تعارف پاکستان میں ہی نہیں بیرون ملک بھی ہے آپ کو جب اس منصب پر فائر کیا جارہا تھا اس وقت بہت سارے لوگوں کاخیال تھا کہ یہ اس منصب سے بڑے آدمی ہیں ان کے عہدہ صدارت کے بعد بالخصوص تحریک آزاد ی کشمیر اور بالعموم آزادکشمیر کے دیگر معاملات میں نمایاں تبدیلی آئے گی آزادکشمیر کی جامعات کامعیار بڑھے گا اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے باعث میگا پراجیکٹس آئیں گے۔ایسے میں صدر ریاست سردار مسعود خان کے قریبی اور آزادکشمیر کے با اصول اور با کردار سیاستدان سردار خالد ابراہیم خان مرحوم واحد آدمی تھے جنہوں نے ان کے اس عہدے پر لیے جانے کی مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر سیاسی آدمی ہیں اس کا فائدہ نہیں ہو گا ان کی بات کو وقت نے درست ثابت کیا نہ ہی تحریک آزادکشمیر کو کوئی فائدہ ہو ااور نہ ہی آزادکشمیر بالخصوص پونچھ کے عوام کو کوئی فائدہ ہوسکا۔تا ہم فاروق حیدر حکومت نے آزادکشمیر میں چند اہم کام کیے جس میں این ٹی ایس کے ذریعے محکمہ تعلیم میں تعیناتیاں ایسا اقدام ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو امید کی کرن ملی ہے ورنہ پی پی حکومت کے دور میں میرٹ کا جنازہ نکال دیاگیا تھا۔نوجوان مایوسی کا شکار ہو گئے سفارش،رشوت کے بغیر نوکری ایک خواب بن گیاتھا۔موجود ہ حکومت کے دور میں غریب پڑھے لکھے با صلاحیت نوجوانوں کو بھی موقع ملا ہے اس میں شک نہیں کہ اس نظام میں مزید بہتری کی گنجائش ہے بالخصوص جو 10نمبر رکھے گئے اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ موجود ہ حکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین پر بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر پابندی کا اقدام بھی قابل تعریف ہے عمل در آمدگی کی ضرورت ہے۔اسی طرح آزادکشمیر کی موجود حکومت نے بارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک دینی فریضہ ادا کیا جو قابل تعریف اقدام ہے اسی طرح تیرہویں ترمیم کے ذریعے کشمیر کونسل سے مالیاتی وانتظامی اختیارات کو منتخب اسمبلی اور حکومت کو واپسی،این ایف سی سے ریاستی حصہ 40فیصد سے بڑھا۔ترقیاتی بجٹ کو 11ارب سے بڑھا کر 25ارب روپے تک لے جانے پبلک سروس کمیشن میں بہتری جیسے اقدامات نمایاں ہیں۔وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام کے ذریعے بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات پر بھی کام ہو ا تاہم اس کے صاف و شفاف نہ ہونے پر ماضی کی حکومت کی طرح سوالات ضرور موجود ہیں جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ آزادکشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے سڑکوں کی تعمیر اور دیگر اقدامات کے لیے جو کام ہو ا وہ نا کافی ہے ابھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے زریعے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادار کیا ہے تاہم ہسپتالوں میں اضافہ ڈاکٹر ز اور دیگر سٹاف کی کمی جیسے مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے موجودہ حکومت کے ان تین سالوں میں فاروق حید ر کی دلیری بے باکی کی وجہ سے جہاں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہا ں بلدیاتی انتخاباب کا وعدہ پورا نہ ہو سکنا بڑی ناکامی ہے۔ 6ماہ میں انتخابات کا وعدہ تین سالوں میں بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا جس کی وجہ سے احتیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہو سکے۔عوام کے بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں جس کے لیے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں موجودہ حکومت اگر اس میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس کا بڑا اقدام ہو گا۔جس سے جہا ں عوام کو فائدہ ہو گا وہاں موجودہ حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا۔آزاد کشمیر میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں حصہ ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے بجٹ میں دگنا اضافہ کے بعد تعمیر وترقی میں بھی نمایاں اضافہ نظر آناچاہئے۔موجودہ حکومت کے دور میں پونچھ میں تعمیر و ترقی کا پہیہ جام ہے ایسامحسوس ہوتا ہے وزیراعظم ناراض ہیں جس کی وجہ سے عوام میں غم وغصہ پایا جاتا ہے جبکہ صدر صاحب بھی لاتعلق ہیں شاید وہ تعمیر وترقی سے بڑھ کر بین الاقوامی شخصیت ہیں موجودہ حکومت کو اپنی کاکردگی کو بہتر بنانا ہو گا ورنہ مستقبل میں عوام کے پاس جاتے ہوے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ٭٭٭٭٭



سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت (شفقت ضیاء)


سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کشمیر جنت نظیر کو جہاں قدرتی حسن سے نوازا ہے وہاں اس مٹی میں ایسی خصوصیت رکھی ہے کہ اس کی غلام فضاؤں میں ایسی قد آور شخصیات نے جنم لیا جن کی خداداد صلاحیتوں، بصیرت،معاملہ فہمی کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت سردار محمد ابراہیم خان کی ہے جنہوں نے ظالم و جابر حکمرانوں اور غاصب قوتوں کے خلااف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے زمانہ کو جینے کا نیا انداز سکھایا اور تاریخ کے اوراق پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔سردار محمد ابراہیم خان اپریل ۵۱۹۱ء پونچھ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ہورنہ میرہ راولاکوٹ سے حاصل کی۔میٹرک کا امتحان سٹیٹ جوبلی ہائی سکول پونچھ سے پاس کیا۔آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد قانون میں اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔اور صرف ۲۲ سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر ریاست جموں و کشمیر کا پہلا نو عمر ترین بیرسٹر کا اعزاز حاصل کیا اور ۸۲ سال کی عمر میں ریاست جموں و کشمیر کے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کو اس نوجوان سے کوئی اور ہی کام لینا تھا۔آپ نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور 1946ء میں عملی سیاست میں کود پڑے اور مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون اسمبلی منتخب ہوئے۔۷۴۹۱ء میں آپ ہی کی دلولہ انگیز قیادت میں کشمیری عوام نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف مسلح جدو جہد کا آغاز کیا یہ وہ وقت تھا جب کشمیر میں ظلم و جبر ناانصافی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی ایسے حالات میں غازی ملت نے تحریک کو منظم کرنے کے لیئے سری نگر میں اپنی حاملہ بیوی اور ڈیڑھ سالہ بچے کو چھوڑ کر پاکستان کو کوچ کیا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔اس وقت کا تصور کیا جائے جب یہ مرد مجاہد اپنی رفیقہ حیات اور بیٹے کو چھوڑ کر ایک عظیم مہم کا آغاز کر رہا تھا بہادر اور بڑا انسان عظیم مقصد کی خاطر اتنی بڑی قربانی دے رہا تھا۔اتنی ہی بڑی اور عظیم وہ خاتون تھی جو راضی خوشی اس مقصد کے لیے رخصت کر رہی تھی۔ایسی ہی وہ قربانیاں تھیں جس کی وجہ سے نہتے مجاہد ین نے مہاراجہ کی فوجوں کو مار بھگایا۔مجاہدین سرینگر پہنچنے ہی والے تھے کہ مہاراجہ نے بھاگ کر بھارت سے فوج منگوائی اور بھارت اقوام متحدہ پہنچ کر جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی شخصیت ہی تھی جنھوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی کشمیری قوم کے لیے مستقبل کی راہ متعین کرتے ہوئے سرینگر میں اپنے گھر پر الحاق پاکستا ن کی قرارداد منظور کرائی جو قابل فخر کارنامہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔غاز ی ملت کے بے شمار کارناموں میں معاہدہ کراچی آپ کی دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے ۹۴۹۱ء میں حکومت پاکستان سے معاہدہ کر کے گلگت بلتستان کو انتظامی بنیادوں پر پاکستان کے سپر دکیا،جب ت پوری ریاست کا فیصلہ بشمول گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہیں ہو جاتا تب تک یہ معاہدہ کار آمد ہے۔۴۲ اکتوبر ۷۴۹۱ء کو مشکل ترین حالات میں آپ انقلابی حکومت کے بانی صدر بنے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۳ سال تھی یوں آپ کو اقوام عالم کا پہلا نو عمر صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔اور ایک ایسے وقت میں جب اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کی مالا تھی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کو۸۴۹۱ء میں کشمیر کا مسئلہ سیکورٹی کونسل میں اٹھانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آپ نے بھرپور انداز میں کشمیریوں کی نمائندگی کی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کا آزادی کشمیر میں وہی مقام و حیثیت ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں حاصل ہے۔آپ بانی آزاد کشمیر ہیں آپ کی خدمات کا اعتراف آپ کے سیاسی مخالفین نے بھی کیا ہے۔سیاسی اختلافات کے باوجود سردار محمد عبدلقیوم جو خودایک بڑے آدمی تھے اور تحریک آزادی کشمیر میں ان کا بھی اہم کردار ہے آپ نے غازی ملت کے جنازہ کے موقع پر ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان بڑے انسان تھے۔میں ان کا پہرے دار رہا ہوں۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ غازی ملت ہی اس تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔سردار محمد ابرہیم خان نے ساری عمر جرات اور بہادری سے سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا۔لیکن اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیا۔آپ کا شمار آزاد کشمیر کے ان عمائدین میں ہوتا ہے کہ جن کی اولاد کے دلوں میں بھی اپنے آباؤ اجداد کی خاطر قوم کا درد،بصیرت،جرات،بے باکی بد درجہ اتم موجود ہے۔آپ کے بیٹوں نے اپنے والد کے دور حکومت میں کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی اقتدار کی آڑ میں اپنے کاروبا یا اثر و رسوخ کو کسی ناپسندیدہ عمل کے لیے استعمال کیا۔ورنہ عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اقتدار والوں کے خاندان نسل در نسل کی کمائی کر لیتے۔قومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لوٹتے ہیں۔لیکن آپ نے اولاد کی جو تربیت کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔سردار محمد ابرہیم خان کے بیٹے خالد ابراہیم خان درویش صفت آدمی تھے۔ان کی سیاست اور نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن با اصول اور با کردار ہونے سے دشمن بھی اختلاف نہیں کر سکتا۔بانی صدر کا بیٹا ہونے پر اور بارہا ممبر اسمبلی منتخب ہونے کے با وجود ان پر کوئی داغ نہیں لگا۔دلیر،نڈر اور صاف و شفاف کردار کا مالک شخص ا ٓخری سانس تک کشمیریوں کے قومی تشخص اور حقوق کی بحالی کی جد و جہد میں مصروفِ عمل رہا۔غازی ملت ابرہیم خان اس دنیا فانی سے ۱۳ جولائی ۳۰۰۲ ء کو پورے کشمیر کو آزاد دیکھنے کا خواب اپنی آْنکھوں میں سمیٹے اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لیے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے باوجود اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا۔قربانیوں کی طویل جدو جہد کے بعد بھی وہ اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔آزاد کشمیر اور پاکستان کی عوام کو ان کی بھرپور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔عالمی دنیا جس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ان کو بیدار کرانے سیاسی اخلاقی سے بڑھ کر ان کے کندھوں سے کندھا ملا کر آگے بڑھنا ہو گا۔جب تک کشمیر مکمل آزاد نہیں ہو جاتا غازی ملت محمد ابرہیم خان کا مشن نا مکمل رہے گا۔اللہ تعالیٰ غازی ملت کے درجات بلند کرے جیسا ان کو توکل اور بھروسہ اپنے رب پر تھا اس کے مطابق انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کرے۔آمین ؁؁؁؁؁ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ٭٭٭٭٭٭



تباہ حال ادارے اور گڈ گورننس کے دعوے(شفقت ضیاء)


آزاد کشمیر چھوٹا سا خطہ ہے جس کو چلانے کے لیے ایک ڈپٹی کمشنر کافی ہے۔لیکن بے شمار ادارو ں کے با وجود عوامی مسائل کے انبار ہیں حکومتوں نے ادارے بری طرح تباہ کر دیے میرٹ پا مال ہوا حکومتی ذمہ داران نے ما ل بنانے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کیے جس سے لوٹ مار ہوسکے جس کی وجہ سے چند خاندان تو خوشحال ہوئے لیکن خطہ کی تعمیر و ترقی ہو سکی اور نہ ہی عوام کی خوشحالی؟؟آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا دعویٰ ہے کہ گڈ گورننس ہے حالانکہ تباہ حال اداروں میں کوئی تبدیلی نہ آسکی کرپشن اور لوٹ ما ر کے عادی آفیسران نے اپنی روش تبدیل نہیں کی جب تک ادارے اپنا کام درست طور پر نہ کر رہے ہوں اور عوام کو انصاف نہ مل رہا ہوتو پھر اچھی حکومت کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے این ٹی ایس کو لازمی قراردے کر اچھا اقدام کیا ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوان جو مایو س ہو رہے تھے ان میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اسی طرح سابق حکومت نے وزیروں مشیروں کی جو فوج ظفر موج رکھی تھی اس کے بجائے محدود کابینہ سے کام چلانا موجود ہ حکومت کا کارنامہ ہے جس پر اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے لیکن موجودہ حکومت اداروں میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی جس کی وجہ سے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں اور انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبو ر ہیں سابق وزیر اعظم سردار عتیق خان کے دور میں شہروں کی تعمیر وترقی اور خوبصورتی کے لیے ڈسٹرکٹ کی بنیاد پر ادارے بنائے گئے جو ایک اچھا اقدام تھا گو کہ ان کی حکومت بھی کرپشن کی وجہ سے مشہور رہی لیکن بد قسمتی سے پہلے دن سے ہی ان اداروں میں سیاسی اور پسند نا پسند کی بنیاد پر تعیناتیاں کی گئیں عوامی مفاد کے بجائے حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ان اداروں کو استعمال کیا ہر حکومت نے اپنے کارکنا ن کو نوازا جس سے اس ادار ے کا عوام کو فائدہ کم اور نقصا ن زیادہ ہوا ’’وادی پرل‘‘ میں بھی پی ڈی اے کے نام سے ادارہ بنایا گیا جس نے اس شہر کو بنانے کے بجائے لوٹ مار کا کام کیا جس کی وجہ سے آج تک کوئی بھی منصوبہ ڈھنگ سے مکمل نہ ہو سکا شہر کی تعمیر و ترقی میں نا کام ادارے نے ٹیکسوں کے ذریعے مال اگٹھا کرنے کے لیے اس کادائرہ کار ہجیر ہ تک پہنچا دیا حالانکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد صرف شہر کی تعمیر و ترقی تھا وہ مقصد تو پورا نہ ہو سکا البتہ لوٹ مار کے لیے ہجیرہ تک اس کی حدود پہنچ گئی ادارے کا قیام اپریل 1994 ء ؁ میں عمل میں لایا گیا جس کے بعد جزوی تکمیل شدہ پبلک ہاؤسنگ ا سکیم راولاکوٹ اور چھوٹا گلہ ا سکیم کو محکمہ تعمیرات عامہ سے منتقل ہوئی جس کے مطابق کنال کے 108 پلاٹ اور دس مرلے کے 249 پلاٹ جبکہ شاپنگ سنٹر کے لیے 8 کنال کمیونٹی سنٹر کے لیے 4 کنال چلڈرن پارک 13 کنال اور پوسٹ آفس 6 کنال رکھے گئے ادارہ نے جملہ پلاننگ موقع پر تبدیل کر دی اور پلاٹ بڑھا کر الائٹیوں سے رقم لے کر خرچ کی پلاٹ ہاء کی الاٹمنٹ پسند نا پسند کی بنیاد پر کی اور بعد میں ہاؤسنگ سکیم کے بڑے حصوں کو کمرشل بنادیا جس سب کا مقصد مال بٹورنا تھا اسی طرح چھوٹا گلہ ہاؤسنگ سکیم پر ادارے نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا اور کچھ حصے پر سابق مالکان قابض ہو گئے ادارے نے 1994 ء ؁ میں گلشن شہداء کے نام پرگردوارہ کے پاس اسکیم شروع کی اور الاٹمنٹ کے سلسلہ میں درخواستیں طلب کیں جس پر ایک کنا ل کے 190اور دس مرلے کے 230 پلاٹ الاٹمنٹ کیے جس پر ایک کنال کی قیمت 148500 جبکہ دس مرلہ کی 92000 تعین کی جس کی رقم وصول کر کے ادارہ نے گاڑیاں اور دیگر عیاشیوں پر خرچ کیے جبکہ زمین کے معاملات ابھی تک تہہ نہیں پا سکے اب اس سکیم کو کبھی کسی فرم کو دیا جاتا ہے کبھی کسی کو نتائج صفر ہی ہیں ۔جبکہ ادار ہ یہ سوچ رکھتا ہے کہ الائٹیوں سے مزید رقم بڑھا کر وصول کی جائے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ الائٹیوں کو پلاٹ کے ساتھ جرمانہ بھی دیا جائے الٹا ان کو جرمانہ دینے کا سوچنا نا انصافی کی انتہا ہے تا ہم اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے بھی ادارے کی نا اہل انتظامیہ کے بس کا رول نہیں ہے اس ادارے نے اس عرصہ میں رہائشی کمپلکس اور دکانیں تو ضرور بنائیں وہ بھی ایک طویل عرصے کے بعد مزید رقم لے کر انتہائی ناقص تعمیر کی گئی پلاٹ فلیٹ مافیہ کا گرواس سارے عرصے میں سرگرم رہا اور جعلی الاٹمنٹ بھی ہوتی رہی جس سے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا گیا اس گرو نے ہر آنے والے چیئر مین سیاسی اور بیورو کریٹس کے ساتھ مل کر لوٹ مار کا بازار گرم رکھا ادارے کی کرپشن اور تباہی کے ذمہ داران کا تا حال کوئی احتساب نہ ہو سکا ادارے کو تباہ کرنے والے اور عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے والوں کا سخت احتساب کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے اوراداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اسی صورت میں گڈ گورننس کے دعوے کو درست تصور کیا جا سکتا ہے ۔



آزاد حکومت کی مایوس کن کارکر دگی


آزاد حکومت کی مایوس کن کارکر دگی شفقت ضیاء آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت سال مکمل کر چکی ہے ۔فاروق حیدر نے قوم سے جو وعدے کیے ہنوذ تشنہ طلب ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے مقابلے میں کابینہ کا حجم کم رکھنا قابل ستائش عمل ہے گو کہ پارٹی کارکنان ایڈ جسٹمنٹ نہ ہونے پر ناراض ہیں فاروق حیدر پر دباؤ رہا لیکن آپ نے اس پر سمجھوتا نہیں کیا جس کا کریڈیٹ ان کوضرور جاتا ہے اس کے ساتھ موجودہ حکومت نے پبلک سروس کمیشن کو فعال بنایا محکمہ تعلیم میں میرٹ کی بحالی کیلئے این ٹی اس کا نفاذ ایک ایساقدام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے تھے گزشتہ پی پی دور حکومت میں جس طرح میرٹ کو پامال کیا گیا چوکیدار سے لے کر لیکچرار تک میرٹ مال اور جیال ہوتا رہا یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج شایدبنائے ہی اپنے لوگوں کو نوکریاں دینے کیلئے ہیں اسی طرح موجودہ حکومت نے ہسپتالوں میں ایمر جنسی کی سہولت کے لیے بھی اقدام اٹھایا تا ہم ہسپتالوں کی صورت حا ل عام آدمی کیلئے آج بھی عذاب بن رہی ہے عام آدمی کیلئے تعلیم اور صحت کی سہولتیں آج بھی قابل رحم حالت میں ہیں میرٹ کے ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کیلئے ضروری ہے کہ میٹرک بلکہ انٹر میڈیٹ تک کی تعلیمی قابلیت رکھنے والے اساتذہ کو فارغ کر کے نئے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تعینات کیا جائے تا کہ سرکاری سکولوں کی حالت بدل سکے اور عام آدمی آپنے بچوں کو معیاری تعلیم دے سکے قوم کے وسائل کا بڑا حصہ خرچ ہونے کے باوجود معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے عوام پرائیویٹ ادارواں میں تعلیم دینے پر مجبور ہیں NTS اچھا اقدام اس کے ساتھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہسپتالوں میں ایمرجنسی سہولت کے ساتھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے ڈاکٹر ز کی کمی غریب آدمی کو دوائی کی سہولت نہ ہو نا پریشانی کا باعث ہے تعلیم اور صحت انسان کی بنیادی ضرورت ہیں اس پر حکومت کو مزید سٹپ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کی مشکلات کم ہو سکیں فاروق حیدر نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ آج بھی تشنہ طلب ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات چھ ماہ کے اندر کرانے کا وعدہ بھی تھا بلدیاتی انتخابات سال گزرجانے کے باوجود دور دور تک دیکھا ئی نہیں دیئے جا رہے اس پر سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے تا کہ جمہوریت کی نرسریاں بحال ہو سکیں آزاد خطہ کا حق حکمرانی واپس لانے ریاستی وسائل کی ملکیت ،ایکٹ 74 میں ترامیم بے روز گاری کا خاتمہ لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ کا کیا بنا۔۔؟ آزاد کشمیر چھوٹا سے خطہ بجلی کی ضرورت صرف400 میکاواٹ جبکہ ہزاروں میکاواٹ پیدا کی جا رہی ہے نئے پراجیکٹ بن رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر میں مفت اور لوڈ شیڈنگ سے مکمل اسٰتثنی حاصل کیا جائے اس کیلئے جرات مندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جو آزاد خطہ کے عوام کا بنیادی حق فاروق حیدر ماضی میں اور انتخابی مہم کے دوران کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ان کی جماعت کی حکومت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے آزاد کشمیر جنت نظیر ہے سیاحت کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے گزشتہ دنوں راولاکوٹ میں اس کیلئے سیاحتی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیاجس میں فحاشی عریانی پر ڈیڑھ کروڑ روپے اُڑادیئے گئے اور سیاحت کے فروغ کیلئے اس میں کچھ نہیں کیا گیا اس طرح عوامی وسائل کو برباد کرنے کی نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملے۔ وزیر اعظم انفر اسٹکچر پروگرام جس کے تحت حلقے میں چار کروڑ روپے اپنے کارکنان کے ذریعے خرچ کرنے کا پروگرام رکھا گیا وہ ماضی کی حکومت کی طرح ہوائی اور غیر معیاری سکیموں کی نظر ہوا ہے ۔ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے ماضی میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوئی موجودہ حکومت کی بھی طرف سے اسی راستے کا انتخاب نیک شگون نہیں ۔۔۔ فاروق حیدر کے بارے میں پونچھ کے لوگوں کا خیال تھا کہ ان میں تعصب نہیں پایا جاتا موجودہ دور حکومت کے بارے میں عوام کا خیال ہے کہ فاروق حیدر مظفر آباد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں سال میں ایک بار بھی پونچھ با الخصوص راولاکوٹ نہ آنا اس کی مثال ہے فاروق حیدر حکومت کو یہ تاثر بھی ختم کرنا ہو گا آزاد خطہ چھوٹا سا ہے اس کی ترقی کیلئے یکساں اقدامات کی ضرورت ہے ریاست کو حقیقی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں مجموعی طور پر ایک سالہ کار کردگی مایوس کن ہے ۔