تازہ ترین


گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر


گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر شفقت ضیاء ریاست جموں و کشمیر 84,471مربع میل کے وسیع علاقے کی حامل ہے۔گلگت بلتستان اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا علاقہ بھی اس کا حصہ ہے۔ طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو آزادی ملی منزل ابھی حاصل نہیں ہوئی تھی جدوجہد آزادی جاری تھی 1948ء کو بھارت نے اقوامِ متحدہ کے دروازے پر دستک دی پاکستان اور بھارت دونوں نے اقوامِ متحدہ کے سامنے اپنا اپنا موقف رکھا جس پر اقواِم عالم نے طویل بحث و تمحیص کے بعد جو قراردادیں پاس کیں وہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کے لیے ریاستی عوام کو رائے شماری کی بنیاد فراہم کرتی ہیں اور گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کرتی ہیں جس کو بھارت اور پاکستان دونوں نے بین الاقوامی طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی عمل میں آئی تو مارچ 1949 کو آزاد کشمیر کی حکومت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان، صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس اورمرکزی وزیربے محکمہ مشتاق احمد گورمانی کے درمیان سہ فریقی معاہدہ عمل میں آیا جس کے مطابق گلگت بلتستان کا تمام تر انتظام عبوری طور پر حکومتِ پاکستان کے پاس رکھا گیا جبکہ آزاد کشمیر کا دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی اور ڈاک و تار کا نظام حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام رکھا گیا ہے۔ اسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں۔مواصلاتی اور انتظامی دشواریاں اور گلگت بلتستان کے علاقے کی حساس نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اُس وقت کی دور اندیش لیڈر شپ کے اس فیصلے کو داد دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔یہ ایسی دستاویز ہے جو گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ثابت کرتی ہے۔ پاکستان کے دساتیر 1956ء،1962ء،اور 1973ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرحدوں اور علاقے کے ذکر میں شمالی علاقے شامل نہیں ہیں اسی طرح1977ء میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا قانونی حصہ نہیں ہے اور اس کی حیثیت آزاد کشمیر سے مختلف نہیں ہے پاکستان نے آئینی اور قانونی اعتبار سے اور بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم اور خود دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدا ت میں ہمیشہ ان علاقوں کو جو ایک معاہدہ کے تحت براہِ راست پاکستان کے زیرِ انتظام ہیں جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی میں پاکستان کی بعض حکومتوں کی خواہش کے باوجود اسے پاکستان کا صوبہ نہیں بنایا جا سکا لیکن بدقسمتی سے ان علاقوں کو ہر سطح پر ریاست جموں کشمیر کا حصہ تسلیم کرنے کے باوجود آج تک آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ان کو حقوق دینے کے لیے صوبہ بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو بھی آزاد کشمیر کے طرز پر اختیارات ملنے چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام 72سال سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کے انتظار میں آج بھی گومگو کی کیفیت میں ہیں ان کے صبر کو داد دینا پڑتی ہے اور ارباب اقتدار کے لیے باعث افسوس ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور لیڈر شپ کا کردار بھی مایوس کن اور افسوس ناک ہے جنہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی شدید مشکلات اور مسائل کا احساس نہیں کیا اور بیس کیمپ کو اقتدار کا ریس کیمپ بنائے رکھا وہاں کی قیادت سے رابطے اور ان کے دکھ و تکلیف کو محسوس نہ کیا یہی وجہ ہے کہ آج وہاں کے عوام کی خواہش مزید انتظار کے بجائے پاکستان کا صوبہ بنانے کے حق میں ہے جبکہ پاکستان کی قیادت بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکی اور تھکی تھکی محسوس ہوتی ہے لیکن اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گااور خود پاکستان کی طرف سے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گی۔ ہندو ستان پہلے ہی بہت سی خلاف ورزیاں کر چکا ہے اس کو معقول جواز بھی مل جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو سی پیک اور چائینہ کے تحفظات اور دیگر مشکلات بھی ہو سکتی ہیں لیکن گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ تحریک آزادی کشمیر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا۔ اس کے بعد تحریک آزادی کشمیر ہر محاذ پر کمزور ہو گی۔ تحریک آزادی کشمیر کا اس وقت مرکز وادی ہے جس کے چپے چپے پر خون کی سرخی ہے ہر گھر میں شہادت ہے اسلام اورپاکسان کی محبت ہے ہندوستان ہر حربہ استعمال کر چکاہے لیکن ان کے عزم کو کمزور نہیں کرسکا ان کے حوصلے بلند ہیں ان میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے جموں میں ہندو اکثریت ہے جس کی رائے ہندوستان کے حق میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ہندستان اس کا فائدہ اٹھاتے ہوے اسے صوبہ بھی بنا سکتا ہے جس سے کشمیر عملاتقسیم ہو جاے گاگلگت بلتستان کی سو فیصد آبادی مسلمان بھی ہے اور پاکستان کے حق میں بھی ہے رائے شماری کی صورت میں پاکستان کے حق میں بڑی قوت ثابت ہو گی اس لیے کشمیر کی تقسیم کا کوئی بھی فیصلہ نہ پاکستان کے حق میں اچھا ہو گا اور نہ ہی کشمیریوں کے حق میں اس لیے اس سے اجتناب کیا جاے اور یاد رکھا جائے یہ قائد اعظم کی پالیسی سے انحراف ہو گا ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔ عسکری قیادت نے جس طرح کہا ہے کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے جو سیاسی قیادت نے کرنا ہے تو پھر سیاسی قیادت کا بڑا امتحان ہے۔قوم کی توقعات اور امیدوں کا پاس رکھا جاے اور تاریخ سے سبق لیا جائے کہ جب ملک پاکستان بنگلہ دیش جیسے بڑے سقوط سے دوچار ہوا تھا اقتدار کے لالچ اور بزدلی نے ہی ملک کو دو ٹکڑے کیا تھا۔ تقسیم کشمیر اس سے بھی بڑا سقوط ہو گا جس کی قیمت بھی بڑی ہو گی۔پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح جیسی قیادت تو دور کی بات ہے ان کے ویژن والی بھی نہیں ہے قائد اعظم کی زندگی میں موقع آیا تھا جب وہ چاہتے تو گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیتے لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی اور اس کا پاکستان سے الحاق ہی ہمارے مفاد میں ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان اور اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی خاموشی سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چائیے کہ پاکستانی قوم قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے خلاف ہے ایسے ہر اقدام کو مسترد کرے گی جس سے پاکستان کے مفاد اور برسوں پر مشتمل پاکستان کے قومی موقف کو نقصان پہنچے اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیاتو سمجھا جائے گا کہ کشمیر کے فیصلے کی خاطر ہی ایسی حکومت کو لایا گیا عمران خان کشمیریوں کے سفیر ہونے کا دعوی کرتے ہیں محض اچھی تقریوں سے نہیں ان کے اقدمات سے بھی یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کی مرضی، منشا اورقومی مفاد کا خیال رکھنے والے ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا۔ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کی خاموشی بھی تشویش ناک ہے فاروق حیدر جو ڈٹ جانے اور کھل کر بات کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں اس خبر کی بھی ترجمان کے ذریعے تردید کراتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا شہدا سے غداری ہو گی تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے اُن کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے ورنہ اس میں تردید کی کیا بات تھی۔اقتدار کا نشہ اور شوق ایسا ہے کہ سیاستدان سب کچھ بھول بھی جاتے ہیں اور قومی موقف سے پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں اور بعض اوقات مصلحت کا شکار ہو کر خاموش بھی ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ہمارے لائق، قابل، باصلاحیت،تاریخ پر گہری نظر رکھنے اور قابلِ رشک خاندانی پس منظر، مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے والے صدرِ ریاست سردار مسعود خان بھی اس حوالے سے خاموش ہیں۔انکی خاموشی کو کیا سمجھا جائے۔کیا یہ بھی راضی ہو چکے ہیں؟ غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی قربانی اور ویژن کو بھول چکے ہیں یا مصلحت کا شکار ہو گئے ہیں؟ بیرسٹر سلطان محمود جو کشمیر پر بیانات اور دنیا بھر میں اجتماعات کے حوالے سے مشہور ہیں وہ بھی کوئی موقف نہیں دے رہے آخر کیوں البتہ سردار عتیق، لطیف اکبر، ڈاکٹر خالد محمود،مولانا سعید یوسف اور حسن ابرہیم کھل کر اپنا موقف دے چکے ہیں اور یقینا یہی قومی موقف ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا کوئی بھی فیصلہ ریاستی وحدت، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی عمل ہو گا۔بہترین حل یہی ہے کہ اس خطے کے عوام کو آزاد کشمیر کے طرزکاحکومتی نظام دیا جائے تاکہ وہاں کے عوام کا احساسِ مرحومی دور ہو سکے اور ریاستی وحدت پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں شہدا کا خون اور سید علی گیلانی اور دیگر حریت قیادت جس نے اپنا سب کچھ لٹا دیا ہے ان سے غداری کرنے کا جو بھی سوچے گا ناکام بھی ہو گا، ذلیل بھی ہو گا یہی تاریخ کا سبق ہے اس لیے گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر کشمیر کی مکمل آزادی کے بعد اس لیے سازشیں کرنے والے باز آجائیں ورنہ عوامی سیلاب میں بہہ جائیں گے اور مصلحت کے شکاربھی نہیں بچ پائیں گئے.



”ڈیجیٹل“ تحریک آزادی


”ڈیجیٹل“ تحریک آزادی تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان راولاکوٹ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیر، چاہے ایک آزاد ریاست کی صورت میں، چاہے ایک مقبوضہ باج گزار کے طور سہی، دنیا کے نقشہ پر صدیوں قرنوں سے موجود چلا آ رہا ہے۔ اس دوران اس کی ہیت و حیثیت بدلتی رہی۔ کبھی یہاں آزادی کا سورج چمکا، امن کی چاندنی چٹکی تو کبھی یہاں غلامی کی سیاہ بھیانک رات چھائی رہی۔ کشمیر کے مسلمہ وجود کی طرح، اس کی تحریک آزادی بھی مدت مدیر سے جاری رہی ہے۔ ماضی بعید سے رف نظر کرتے ہوئے اگر ہم نسبتاً نئے دور میں اس کی تحریک آزادی کا جائزہ لیں تو کبھی اس کا روپ ہمیں یوسف چک و یعقوب چک کی صورت میں نظر آتا ہے تو کبھی سبزعلی خان و ملی خان ایسوں کی شکل میں، پھر یہی عمل ہمیں کہیں گوہر امان کے نام سے دھمکتا ملتا ہے تو کہیں بہادر علی خان کے کارناموں و جہد کے چمتکار میں، کہیں ریشم خانہ کے مزدور اسے آگے بڑھاتے ہیں تو کہیں ریڈنگ روم پارٹی اورینگ میز ایسوسی ایشن…… کہیں اسے سردار ابراہیم و کیپٹن حسین خان شہید نے آگے بڑھایا و کسی جگہ شیخ عبداللہ اے آر ساغر، چوہدری غلام عباس وغیرہم نے، کسی مقام پر اسے ”وارکونسل“ نے ترتیب کی لڑی میں پروہا تو کہیں کرنل حسن مرزا و میجر بابر کی صورت میں صورتگر ملے، کبھی اسے کرنل منشاء نے آپریشن جبرالٹر کا انداز میں آگے بڑھایا تو کبھی کرنل خان محمد خان کے ”پلندری سازش کیس“ کو اس کی بڑھوتی سمجھا گیا۔ کہیں یہ کے ایل ایم کہلائی تو کہیں گنگا ہائی جیک کرکے اسے چمکایا مہکایا گیا۔ وقت نے کبھی اسے مقبول بٹ ایسا مقبول کردار دیا تو کہیں کے ایچ خورشید نے اس کے گیسو سنوارے۔ کبھی اسے تاشقند و شملہ میں زیربحث لایا گیا تو کہیں اسے سردار عبدالقیوم کے ہاتھ حوالے کیا گیا۔ وقت گزرا تو یہ امان اللہ خان کی وساطت سے اشفاق مجیدوانی، یاسین ملک، حمید شیخ، جاوید میر اور عبدالاحد گرو، شبیر صدیقی و بشارت رضا، ماسٹر محمد افضل تک پہنچی تو پھر سید علی گیلانی و صلاح الدین نے اس زمام سنبھالی۔ یہاں ہی شبیرشاہ اور آسیہ اندرابی بھی تھے اور اعظم انقلابی سجاد شاہد اور دوسرے بھی۔ یہاں ہی کہیں الیاس کشمیری بھی نمودار ہوئے اور دوسرے ہزارہا کردار بھی۔ کشمیر کی متذکرہ بالا تحریک آزادی کے مقاصد، قیادت اور طریق کار سے اختلاف تو ممکن ہے اور ایسا یقینا ہے بھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کشمیر کی تحریک آزادی ایک زمینی حقیقت تھی…… لیکن پھر وقت بدلا، دنیا کا ماحول بدلا۔ عالمی سیاسی صورتحال بدلی اور کشمیر کی تحریک آزادی اس تبدیلی کا ایسے شکار ہوئی کہ موجود سے مفقود کی طرف تیزی سے بڑھنے لگی اور بڑھتے بڑھتے وجود سے عدم کی کیفیت کے مزے لینے لگی۔ گزشتہ چند سال میں کشمیر یعنی ریاست جموں کشمیر کے وجود و تحریک آزادی کو جوعارضے لگے وہ وقت کے ”کورونا“ یعنی ”Covid-19“ سے زیادہ مہلک تھے۔ کرکٹ ڈپلومیسی و نووارپیکٹ جیسی باتوں کو جانے دیں کہ ان کے اثرات نسبتاً محدود تر تھے، البتہ اس صورت حال میں ”سی پیک“ کی ”بیک و پیک“ ایک ایسا وائرس تھا جس نے ریاست کی وحدت کی سوچ کو ایک خاص بالادست طبقے کے لئے غیرضروری بنا دیا۔ وقت مزید گزرا، بات 5 اگست 2019ء تک پہنچی تو بھارت نے ریاست کے وجود کے خلاف آج تک کا سب سے بھیانک و مہک قدم اٹھایا۔ محب وطن حلقے یقینا اس کی تلخی و سنجیدگی کا احساس رکھتے تھے۔ اسی لئے بساط بھر چیخے تڑپے مگر خوش فہم اذہان ”تبدیلی“ کے اس عمل کو نہ سمجھ سکے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر اور بعد میں بتائے جانے کی اکسیر کو لئے بیٹھے رہے کہ انہیں گھبرانا نہیں تھا۔ اس دوران کچھ واقعات ایسے بھی ہوئے جو بہت کچھ سمجھانے کے لئے کافی تھے کہ مظفرآباد میں اہل کشمیر سے یکجہتی کے لئے سراج الحق، پرویز الٰہی، اختر مینگل اور فاروق ستار کے بجائے مائرہ خان، جاوید شیخ، ساحرعلی بگا اور شاید آفریدی کا ”ورود“ سب بتا رہا تھا لیکن…… خیر جانے دیں۔ مجھے کہنا بس اتنا ہے کہ گئے زمانوں میں ہزار ہا کوتاہیوں و غلطیوں کے باوجود کشمیر کی تحریک آزادی ”زمینی“ تھی…… سو اس کا وجود تھا۔ لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اسے پہاڑوں، وادیوں، گھاٹیوں، میدانوں، جلسہ گاہوں، شاہراہوں، گلیوں اور پنڈالوں کے بجائے ”ڈیجیٹل“ کر دیا گیا اور محض نازک لرزیدہ ہاتھوں میں تھے۔ سیل و سمارت فون میں ڈال دیا گیا، سوشل میڈیا یقینا آج کا ایک موثر ہتھیار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی ”ہتھیار“ ایک نشہ بھی ہے جو بے سبب بھی چڑھا رہتا ہے۔ اب ایکٹ 74 میں مجوزہ ترمیم، جس کے لئے نہ صرف ریاست کے وجود بلکہ محض نام تک کو ”حرف غلط“ کی طرح مٹایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ریاستی وسائل یعنی”بہتے سیال“ کا یوں ”ہستیایا ہڑپایا“ جانا بہت کچھ کہنے کے لئے کافی ہے، لیکن ڈیجیٹل عہد کی ڈیجیٹل سیاست، قیادت و ذہانت کے لئے زمینی تحریک کا انہدام اور اس ڈیجیٹل روپ کو سمجھنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ ویسے سچ یہ ہے کہ ریاست کی تحریک آزادی اور وجود ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلے میں فی الوقت جس خطرے و قضیے سے دوچار ہے، وہ توشتہ دیوار ہے لیکن…… ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کی وحدت پر یقین رکھنے والے تمام محب وطن لوگ، قیادتیں و جماعتیں، کشمیر کے لئے ایک زمینی تحریک کے وجود کو ممکن بنائیں اور اس ”ڈیجیٹل پنے“ کے سحر و زیر سے باہر نکلیں اور تیری سے بڑھتے خطرات اور قابضین کی تعداد اور روّیوں کی ”تبدیلیوں“ کو محسوس کریں اور ہو سکے تو اپنے مٹتے وجود کے لئے سوچیں، گھبرائیں، روئیں، کرلائیں اور پھر حوصلے مجتمع کرکے اٹھ کھڑیں ہوں کہ وہ سب فرزندان زمین ہیں اور وطن ”ماں“ کی مانند ہے اور حب الوطنی ایمان کا جزو ہے۔



حضور کے پسندیدہ، قسطنطنیہ کی آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا ۔


حضور کے پسندیدہ، قسطنطنیہ کی آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا ۔ بشیر سدوزئی ۔ قسطنطنیہ کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ میں 24 جولائی 2020ء کو 86 سال بعد ایک مرتبہ پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس منظر کو اس طرح شوق سے دیکھا جیسے حج کا خطبہ سنا جا رہا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے خطبہ اور نماز کی ادائیگی کا منظر الیکٹرانک میڈیا، فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ ترکی کے صدر طعیب اردگان نے اپنی کابینہ کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کی جب کہ وزیر مذہبی امور نے امامت کے فرائض سرانجام دے ۔ اس سے قبل کئی گھنٹے تک تلاوت قرآن مجید سے مسجد کے مینار بکاء نور بنے رہے۔ صدر طعیب اردگان نے بھی اپنے مخصوص انداز میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت حاصل کی۔ بعض لوگ تو ترکی میں طیب اردگان کی اصلاحات کو خلافت کی نشاط ثانیہ قرار دیتے ہیں ۔ امریکا ، یورپ ،روس سمیت کئی ممالک کی مخالفت کے باوجود آیا صوفیہ میں ایک مرتبہ پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا اسی طرف پیش قدمی سوچا جا سکتا ہے۔ ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں جشن کا سماء تھا جیسے قسطنطنیہ آج فتح ہو رہا ہو ۔ بلا شبہ قسطنطنیہ تو نہیں مگر استنبول کی فتوحات کا مرحلہ جاری ہے ۔ اس مرتبہ مسلمانوں کے تاریخی شہر استنبول میں ہتھیاروں کی نہیں نظریات کی جنگ ہو رہی ہے یہ جنگ اس دن سے جاری ہے جب یورپ کے ایجنڈے کی تکمیل پر کمال اتا ترک نے مسلمانوں کی وحدت کی نشانی آخری خلیفہ عبدالمجید کو یہ حکم دیا تھا کہ کل صبح سورج کی پہلی کرن سے پہلے خلیفہ ملک چھوڑ دے ۔ ایک گروپ شعوری یا لا شعوری طور پر جدید ترکی کے نام پر یہود اور نصارہ کے ایجنڈے پر کاربند ہے تو دوسرا گروب سلطان محمد دوئم کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے جو دراصل دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچار نفاذ اور عمل پہرا کا ایجنڈا ہے۔ آج کے سلطان محمد دوئم طعیب اردگان کی قیادت میں فرزندان توحید نظریاتی سرحدوں کی توسیع اور فتوحات میں کامیابی پر کامیابی حاصل کر رہے ہیں ۔آنا صوفیہ میں 86 سال بعد اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا بے شک محرکہ فتح قسطنطنیہ ثانی کہا جا سکتا ہے ۔ قسطنطنیہ کی شکست یورپ آج تک نہیں بھولا۔بدلہ لینے کے لیے یہود اور نصارہ مسلمانوں کے مقابلے میں جمع ہیں اور امت محمدی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہیں۔ اسلام دشمن سمجھتے ہیں کہ سلطان محمد دوئم جیسی قیادت اور قوت مسلمانوں کو پھر حاصل ہو گئی تو یورپ پر دوبارہ قبضہ ہو سکتا ہے ۔آیا صوفیہ میں پہلی مرتبہ اللہ اکبر کی صدا 29 مئی 1453 کو بلند ہوئی تھی اس روز جمعرات تھی اور دوسری دن 21 سالہ سلطان محمد ثانی کی قیادت میں فرزندان توحید نے اس عمارت میں نماز جمعہ ادا کی تھی ۔ یونان والے آج بھی جمعرات کو منحوس دن سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل کے لیے اس شہر کو فتح کرنے کے لیے سات سو سال تک کوشش جاری رکھی ۔ حضور کا فرمان ہے کہ " تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی"۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ابتداء سے ہی فتح قسطنطنیہ کے خواب دیکھتے رہے اور ہر دور میں کوشش ہوتی رہی کہ با کمال کا اعزاز ہمیں ملے ۔ مگر اللہ تعالی نے با کمال لوگوں کے اعزاز کے لئے اناطولیا کے ایک چھوٹے سے جاگیر دار ارطغرل کی نسل سے 21 سالہ نوجوان محمد ثانی کو منتخب کر رکھا تھا۔ 674ء میں مسلمانوں کے بحری بیڑے نے قسطنطنیہ کاچار سال تک محاصرہ کئیے رکھا، اور متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں جاری رہی۔ لیکن عربوں کے پاس آتش یونانی کا کوئی توڑ نہ تھا جو ان پر برسائی گئی۔ 678 میں بازنطینیوں نے عربوں پر جوابی حملہ کیا۔ اس وقت ان کے پاس ایسا ہتھیار تھا، جسے ’آتشِ یونانی‘ یا گریک فائر کہا جاتا۔ اس کو تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا، کشتیوں اور جہازوں سے چپکنے کے علاوہ پانی کی سطح پر بھی اس کی آگ جلتی۔ بازنطینیوں نے جب ان ہتھیاروں سے حملہ کیا تو عربوں کا بحری بیڑہ آتش زار بن گیا، سپائیوں نے پانی میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی مگر پانی بھی آگ پکڑ چکا تھا ۔ عرب سیکڑوں کشتیوں میں سے چند ہی بچا سکے۔ مشہور صحابی ابو ایوب انصاری اسی جنگ میں شہید ہوئے تھے ۔717 میں بنو امیہ کے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پھر حملہ کیا لیکن دو ہزار جنگی کشتیوں میں سے پانچ واپس پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے بعد عثمانیہ دور تک مسلمانوں نے قسطنطنیہ کی طرف پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ۔ سلطان محمد فاتح نے 39 مئی 1453 جمعرات کو شہر پر اپنا جھنڈا لہرا کر سارے پرانے بدلے چکا دیے۔اور اگلے دن جمعتہ المبارک کو ہاجیہ صوفیہ کی انتظامیہ سے ذاتی رقم ادا کر کے عظیم الشان کلیسا کو خرید کر آنا صوفیہ مسجد میں تبدیل کرنے کا سرکاری علان جاری کیا۔عثمانیوں نے 10 سال پہلے 1443ء میں بھی قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا جب سلطان محمد فاتح کے والد مراد دوئم سلطان تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں بننے والی فلم ’اوٹومن‘ کے اہم مناظر میں سلطان محمد یاد کرتے ہیں کہ 1443 میں سلطان مراد دوئم اس تاریخی شہر اور اس کی مضبوط دیواروں کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں کہہ رہا تھا کہ قسطنطنیہ کائنات کا دل ہے، وہ سرزمین جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا دنیا اور آخرت اُسی کی ہو گی۔ یہ دیواریں رکاوٹ ہیں ہر اس کے لئے جو اس کو فتح کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔سلطان محمد دوئم نے اپنے والد سے پوچھا کہ (قسطنطنیہ کی دیواروں کو) گِرا کیوں نہیں دیتے؟ والد نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا تھا، ابھی اتنا طاقتور ہتھیار نہیں بنا۔ اس وقت 11 سالہ شہزداے محمد دوئم نے پورے اعتماد کہ ساتھ والد سے کہا تھا کہ میں اِن دیواروں کو گراؤں گا۔ اس وقت سلطان مراد دوئم کے ساتھ فوج اور گھڑ سوار تھے جو قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو تلواروں اور تیروں سے گرا نہیں سکتے تھے اور مسلمان فوج ابھی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوئی تھی ۔ 1453 میں جب سلطان محمد دوئم قسطنطنیہ فتح کرنے آئے تو ان کے پاس جدید ہتھیار تھے۔ ایک مؤرخ بتاتے ہیں کہ ’دنیا نے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں توپیں ایک جگہ نہیں دیکھی ہوں گی ۔جن کے ساتھ سلطان محمد دوئم نے قسطنطنیہ کو گھیر رکھا تھا۔ ان توپوں کے گولوں کی ایسی گھن گرج کہ شاید دنیا میں کسی دشمن نے پہلے نہیں سنی ہو گی۔مؤرخ گیبور اگوستون لکھتا ہے کہ 1450 تک توپیں محاصروں پر مبنی جنگوں کے لیے فیصلہ کُن ہتھیار بن چکی تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے پاس جدید ہتھیار خریدنے اور بنانے کے لیے وسائل اور سہولیات بھی موجود تھیں،اسی زمانے میں اوربان نامی ایک کاریگر نے سلطان محمد دوئم کو ایک توپ کا ڈیزائن پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے گولے قسطنطنیہ کی تاریخی دیواروں کو گرا دیں گے۔ توپ آٹھ میٹر لمبی قیمت 10 ہزار دکت ہو گی۔ سلطان محمد دوئم نے کہا کہ اگر اس توپ نے قسطنطنیہ کی دیواریں گرا دیں تو چار گنا زیادہ قیمت ادا کی جائے گی۔ ہنگری کا اوربان انتہائی ماہر مستری تھا۔ وہ پہلے بازنطینی بادشاہ کو اس توپ کی پیشکش کر چکا تھا لیکن وہ اس کی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ سلطان محمد دوم نے اروبان کی پیشکش قبول کر لی۔ کیوں کہ عثمانی سلطنت کے پاس کافی وسائل تھے۔ 70 نئی اور جدید توپیں خریدی گئیں۔ یہ دیو ہیکل توپیں قسطنطنیہ کی دیوار تک پہنچانے کے لیے 30 ویگنیں جوڑی گئیں ان کو کھینچنے کے لیے 60 طاقتور بیلوں کا بندوبست کیا گیا اور ویگنوں کے اطراف 200 اہلکار تعینات کیے گئے جو راستہ ہموار کر رہے تھے۔ سلطان محمد دوم نے جدید ہتھیاروں سے لیس بہادر فوج کے ساتھ ہزار سال پرانی بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ اور دیوار توڑنے کے لیے بھاری توپوں کے ذریعے گولہ باری شروع کر دی ۔عثمانی توپوں کو گولے برساتے 47 دن گزر چکے۔ تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان اور شگاف پڑ چکے تو عثمانی دستوں نے فصیل کے کمزور حصوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک طرف خشکی سے اور دوسری طرف سمندر میں بحری جہازوں پر نصب توپوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔ بازنطینی سپاہی اس حملے کے لیے فصیلوں پر تیار کھڑے تھے۔ شہری بھی مدد کے لیے فصیلوں پر آ پہنچے اور پتھرحملہ آوروں پر برسانا شروع کر دیے۔ تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے عیسائی صدیوں پرانے اختلاف بھلا کر ایک ہو گئے اور بڑی تعداد سب سے بڑے کلیسا ہاجیہ صوفیہ میں اکٹھی ہو گئی۔ اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو اس دن شہر میں موجود تھا، لکھتا ہے کہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے حملہ آور بےجگر شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے نہ ہو۔روشنی پھیلنے تک ترک سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر دفاعی فوجی مارے جا چکے تھے۔ سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی زخمی حالت میں میدانِ جنگ سے باہر ہو چکا تھا۔ 29 مئی 1453ء بروز جمعرات سورج کی پہلی کرن نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی دروازے پر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اسلامی جھنڈا لگا رہا ہے۔سلطان محمد دوئم سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائدین کے ہمراہ ہاجیہ صوفیہ پہنچے۔ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری تھے۔آج مسلمان سات سو سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہ کے اقتدار کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ بلکہ مسلمانوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل ہو رہی تھی ۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب بند اور دوسرا کھل رہا تھا۔۔ قبلِ مسیح میں قائم ہونے والی سلطنت روم 1480 برس تک قائم رہنے کے بعد انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب عثمانی سلطنت اوج کمال کو چھو رہی تھی اور عباسیہ کے بعد خلافت کے چوتھے دور خلافت عثمانیہ کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ جواگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔ سلطان نے دارالحکومت ادرنہ سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا اور یہ مسلمانوں کا مدینہ، دمشق، بغداد، کے بعد چوتھا درالخلافہ قرار پایا۔ یورپ پر سقوطِ قسطنطنیہ کا بڑا گہرا اثر ہوا اور یہ واقعہ ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا۔اسی وجہ سے یورپ کبھی اسے بھول نہیں سکا۔ نیٹو کا اہم حصہ ہونے کے باوجود یورپی یونین ترکی کو یونین میں شامل نہیں کرتی وجوہات یہی ہیں کہ ترکوں نے وہ کام کیا جو اس سے پہلے کے مسلمان نہ کر سکے بازنطینی بادشاہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قسطنطنیہ سے وہ باہر نکالے جا سکتے ہیں ۔ قسطنطنیہ تو فتح ہوا مگر یہود اور نصارہ ہوشیار ہو گئے اور مسلمانوں کی مرکزیت اور قوت توڑنے کے لئے تمام تر اقدامات شروع کر دئیے۔ صلیبی جنگیں ہوں ۔ آتا ترک ہو یا لارنس آف عریبیہ سارے حربے، ایجنٹ اور کریکٹر وہی تھے کہ مسلمانوں کی مرکزیت کو ختم کر دیا جائے ۔ ایک برٹش فوجی آفیسر نے خلافت کے خاتمے کی وجہ یہ بتائی کہ یورپ کو خوف ہے کہ خلیفہ نے اگر دوبارہ جان پکڑ لی تو امریکہ اور یورپ خطرے میں رہیں گے ۔ ایک کمزور خلافت استنبول میں بیٹھ کر جہاد کا علان کرتی ہے تو جکارتہ اور برصغیر میں نوجوان رضاکار بھرتی ہونا شروع ہو جائے ہیں ۔ جب تک خلافت رہے گی یورپ خطرے میں رہے گا۔ چنانچہ یورپ نے عربوں اور ترکوں کو علیحدہ علیحدہ ہم نوا بنایا ۔اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تقریباً 642 سال 1282ء تا 1924ء 37 خلیفہ رہنے کے بعد آتا ترک نے 3، 4 مارچ 1924ء کی رات کوآخری خلیفہ عبدالمجید دوم کو پیغام بیجھا کہ صبح سورج طلوع ہونے سے قبل ترکی کی سر زمین پر کوئی خلیفہ نہیں ہو گا۔ اسی رات خلیفہ پہلے سوئٹزرلینڈ پھر فرانس جلاوطنی کے لیے روانہ ہونے کے ساتھ ہی اسلام کی آخری خلافتِ عثمانیہ ختم ہو گئی۔ آتا ترک نے ترکی کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے مساجد پر تالے اور عربی زبان پر پابندی لگا دی ۔ ترکیت، کفریٹ، لادینیت، اور وطنیت جیسے نعروں کا سرکاری اعلان ہوا ۔ جس کو جدید ترکی کا نام دے کر آتا ترک بانی قرار پائے۔ 1931میں مسجد آنا صوفیہ کو بند اور 1935 میں آتا ترک کی صدارت میں کابینہ نے میوزم بنانے کی منظوری دی ۔ 86 سال بعد 24 جولائی 2020ء کو ترقی کے صدر طعیب اردگان نے اپنی کابینہ کے ہمراہ مسجد آیا صوفیہ میں ہزاروں مسلمانوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر کے ایک مرتبہ پھر فتح قسطنطنیہ کی یاد تازہ کر دی جب سلطان محمد دوئم نے بھی اسی طرح اپنی کابینہ کے ہمراہ پہلی نماز جمعہ ادا کی تھی۔ طعیب اردگان نے بعد ازاں فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد دوئم کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی ۔ نماز جمعہ کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ کورونا کے باعث درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے 17 چیک پوائنٹس بنائ گئ تھیں۔ نمازیوں کے لیے ماسک کو ضروری اور میونسپلٹی کی جانب سے نمازیوں کو مسجد لے جانے کے لیے فری شٹل سروس بھی مہیا کی گئی۔ جب کہ پانی کی بوتلوں، ماسک، سینیٹائزر اور قالین کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ یورپ، امریکہ اور روس کی مخالفت کے باوجود 60 فیصد ترک شہریوں نے آیا صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کے فیصلے کی حمایت کی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترک عوام کی اکثریت زمانہ خلافت کے اقتدار کی بحالی کی حمایت اور آتا ترک کے نظریات کو مسترد کرتے ہیں ۔ طعیب اردگان خلافت عثمانیہ کا عکس ہے ۔



یہ ظلم کی انتہا ہے


یہ ظلم کی انتہا ہے کرن عزیزکشمیری مقبوضہ وادی میں بھارتی درندگی کا سلسلہ جاری ہے ایک سلگتا ہوا خطہ جہاں طویل محاصرہ ظلم و بربریت کی المناک داستان پیش کررہا ہے مودی سرکار کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے طویل عرصے کی اسیری جوش آزادی اور جذبہ حریت کو نہ دبا سکی بھارتی فوجیں کشمیریوں کا بے دریغ قتل عام کر رہی ہیں چشم فلک نے بھی ایسا منظر 72 سالوں میں نہیں دیکھا ہوگا طویل قید کی وجہ سے اس وقت محصور کشمیریوں کو جو صورتحال ہے لاکھوں افراد کا حق خود ارادیت سے محرومی اکسو ویں صدی کا المیہ ہے انسانیت سوز مظالم سے دنیا بھارتی جارحیت سے آگاہ ہوچکی ہے تاہم خاموشی افسوسناک ہے عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے بجائے تماشائی بن چکی ہے اعتدال پسند دنیا میں موجود تنظیموں نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو پہچان لیا ہے اپنی فوجی طاقت پر بھروسہ رکھنے والا بھارت چین سے فوجی محاذ پر مار کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اوندھے بل گرنے کے بعد چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اس ضمن میں اہم امر یہ ہے کہ چین کے خلاف امریکہ اور بھارت کی مشترکہ بحری مشقیں بھی جاری ہیں بھارت کشمیریوں سے عملی طور پر شکست کھا کر مکمل بدحواس ہو چکا ہے ہو سکتا ہے بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو شروع میں مذاق سمجھا ہو تاہم ظلم و بربریت کے باوجود آزادی کا جذبہ ان کے لیے ممیز کا کام کر رہا ہے اہم امر یہ ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن رپورٹ میں انسانیت کے خلاف جنگی مجرم ثابت ہوا اس ضمن میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا امریکہ سمیت عالمی مقتدر طاقتوں کو اس سنگین مسئلے پر اپنا جائز کردار ادا کرنا چاہئیے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں سے خطے کے امن و استحکام کو شریک خطرات لاحق ہیں پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آزاد ملکوں پر کیسے قبضہ کروائے گئے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف بولنے والے بھی جہاد کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خاموش رہنے سے اس کو تقویت ملتی ہے کہ آپ بھی ان کے جرائم میں شامل ہیں اور جارحیتوں کے ذمہ دار بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کی المناک صورتحال کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتی ہیں مسئلے کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں آواز بلند کریں دباؤ بڑھا ئیں سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ پابندیوں کے باعث کشمیری عوام مشکلات کا شکار ہیں ستم ظریفی یہ کہ لاک ڈاؤن پر لاک ڈاؤن کا شکار ہیں بھارتی حکومت نے کرونا کی آڑ میں پابندیوں کو مزید سخت کردیا تھا اس وقت پوری وادی وحشت و بربریت کی تصویر پیش کر رہی ہے ہسپتال و کاروبار بند کرو نا کی آڑ میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئی نیز سکول کالج نقل و حرکت پر پابندی درندگی کی انتہا ہیں کشمیری قائدین کو پابند سلاسل رکھنے سے محصور کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے جذبہ حریت کو مزید تقویت ملی بھارت اندرونی خلفشار کا شکار ہے کشمیر میں مظالم پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی خاموشی بھارت کے لیے طمانیت کا امر ہوگا البتہ انسانیت کی بقا ء کے لیے ندامت کا باعث ہے بھارت نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائی ہے کشمیری عوام بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں بھارتی فوج جس طرح مقبوضہ وادی کے نوجوانوں کو شہید کرتی جارہی ہے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتی ہے یہ ظلم کی انتہا ہے اہم امر یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کے عوام کو ظلم و جبر آزماکر آزادی کے جذبے کو کچلنے کے گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں فون اور انٹرنیٹ پر پابندی کے ذریعے مقبوضہ وادی کے عوام کی آواز کو ظالمانہ طریقے سے دبانے کی جارحانہ کوششیں کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکتی بھارت کے پاس اب آزمانے کے لیے کچھ نہیں بچا بھارتی ہتھیار کشمیریوں کے جسموں کو چھلنی کرتے رہے اور حوصلوں کو بلند کرتے رہے بھارت سرکار کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہوچکا ہے اہم امر یہ ہے کہ کشمیری حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے شہداء کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی شمع کو فیروزہ کرتا رہا بھارت مقبوضہ وادی میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے گزشتہ دنوں سوپور میں معصوم بچے کے سامنے اس کے نانا کا قتل انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لیے کھلا چیلنج ہے بھارتی قابض فوج نے غیر انسانی اقدامات کی انتہا کر دی ہے۔



"بیڈ نمبر18 "


"بیڈ نمبر18 " سردار کامران " جاگتی آنکھیں " زندگی جب رواں دواں رہتی ہے تو زندگی کے اندر میسر آنے والی نعمتوں کا بھی اندازہ لگانا مشکل رہتاہے۔ جسم صحت مند ہو تو زندگی کی چاشنی ہوتے ہوئے بھی انسان شکوے شکایات لبوں پر لاتا رہتاہے۔ ایک سانس جو انسان اندر کی طرف لے آتاہے، اُس کی زندگی کو چلانے کیلئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے مگر اردگرد کی خوشیوں میں گم اِس ایک سانس کا شکر بھی بجا لانا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ کسی انسان کو درپیش بہت سارے چیلنجز ایک طرف رکھ دیے جائیں، انسان ان سب سے نبرد آزما ہو سکتاہے مگر صحت کی خرابی وہ مسئلہ ہے جس کو انسانی کاوشیں اپنے بس کے مطابق حل کرنے کی کوشش تو کر سکتاہے مگر شفاء اُسے میسر آتی ہے یا نہیں،یہ اُس کی قسمت اور رب تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کے جسم کے اندر دوڑنے والا خون،کون کون سے مراحل طے کر کے،زندگی بن کر اُس کی رگوں میں دوڑتاہے، اس کا احساس بھی ہمیں شاید نہیں ہوتا، اپنی مستی میں مگن باقی چیلنجز کو نبٹانے میں لگے رہتے ہیں۔ خوشحال دنوں میں زندگی اپنے تکیے پر سر رکھ کر خوب لمبی تان کر سوتے ہیں اور جس تکیے پر سر رکھ کر سوتے ہیں، نیند کے وہ عالم، سکون کی وہ راحتیں جو ہمیں میسر رہتی ہیں، اُن کی طرف بھی شکرانے کی ایک نظررب تعالیٰ کی طرف شاید ہی اُٹھتی ہو؟ زندگی کی تمام راحتیں، نعمتیں اور رحمتیں اللہ پاک نے انسان کو میسر کی ہیں، شکرانے کے بھی مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ ناانصافی کے خلا ف زبان کا استعمال، جابر حکمران کے خلاف قلم کا استعمال، احتجاج کی صورت میں حقوق کی بات، کسی غریب کو کھانا کھلانا، راستے سیدھے کرنا، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا، مریض کی تیمارداری کرنا، یہاں تک کہ کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا، یہ سبھی تو شکرانے کی صورتیں ہیں۔ یہ تمام شکرانے بھی انسان کو تب ہی میسر آسکتے ہیں جب انسان کے اندر احساس پایا جاتاہو۔ شاعروں اور ادیبوں نے دیوانوں کے دیوان لکھ ڈالے، یہ احساس ہی تو تھاجو اُنھیں مجبور کرتا تھا کہ جو بس میں نہیں اس پر لکھا ہی جائے، با اثر طریقے سے لکھا جائے جس سے احساس کی تحریک پیدا ہو اور لوگ ایک دوسرے کا احساس کرتے ہوئے شکرانہِ نعمت کر سکیں۔ بقول میرے دوست شاعر "طارق بٹ صاحب " میرے کمرے میں اک عجیب سی حساسیت ہے میں سانس لیتا ہوں تو آئینے ٹوٹ جاتے ہیں اب جو ہمارے جسم میں خون دوڑتاہے اس کا شکرانہ کیسے کیا جائے؟اس کا احساس مجھے اُس وقت ہوا جب راولاکوٹ سی ایم ایچ میں ایک کینسر کے مریض سے ملاقات ہوئی، 50سال کی عمر کا یہ شخص کینسر میں مبتلا تھا، دل کا بائی پاس بھی ہو چکا تھا اور اُس کی رگوں میں خون صرف 2.8بچ گیا تھا۔ کھانے پینے کی کوئی صورت نہ تھی، انشور دودھ اُس کو زندہ رکھے ہوئے تھا، ڈاکٹرز کے مطابق خون اگر کچھ زیادہ ہو تو کھانے پینے کی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی تھی۔ خون کہاں سے آئے، COVID-19کی وجہ سے کالجز اور مدرسے بند پڑے ہیں، ایک عجیب بے چینی اُس مریض کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔ بے قراری میں کبھی وہ اِدھر لوٹتا تھا کبھی اُدھر، اتنی بے چینی بے قرار ی تو تھی مگر حسین کوٹ کے اس شخص کے اندر اتنا صبر تھا کہ "اللہ کا شکر ہے "کے الفاظ منہ سے جاری تھے۔آخر کار اُس کے بھائیوں نے ایک بوتل خون کی کہیں سے مہیا کی، جب خون کی بوتل لگانے میں ڈاکٹرز دیر کرنے لگے، کیونکہ بوتل ابھی ٹھنڈی تھی، بے چینی میں اُس کی اضافہ ہوتا گیا، چار پانچ دفعہ اُس نے یہی کہا کہ خون جلدی جلدی لگائیں۔ جب خون کی بوتل لگا دی گئی، اُس کی آنکھیں خون کی بوندوں کو بوتل سے اترتے ہوئے دیکھ کر چمکنے لگیں جس سے میرے دل پر بھی جیسے کسی نے ایک زور دار وار کیا، تھوڑی دیر کے بعد اُس کی آنکھوں سے جیسے موتی گرنے لگے۔ وہ چمکتے ہوئے آنسو میری آنکھوں کو بھی نم کر گئے۔ کہنے لگا، یہ خون کتنا ضروری ہے، مجھے بدقسمتی سے یہ میسر نہیں رہتا، میرا جسم اسے بنانے سے انکار کر چکاہے۔ خون لگتے ہی اُس نے ایک چباتی کھائی اور وہ جس طرح خوش تھا جیسے دنیا کے تمام خزانے اُس کے قدموں میں رکھ دیے گئے ہیں۔ یقین مانیے دنیا کے تمام خزانے ایک طرف، آپ کے جسم کے نارمل فنکشن ایک طرف، خون، انسان کے اندر اللہ کا دیا ہوا باقی نعمتوں کی طرح ایسا خزانہ ہے جو کہ انسان کی زندگی کو بحال رکھے ہوئے اور تمام خوشیاں اسی کی وجہ سے ہیں۔ ہمارے ہاں کتنے ہی ایسے مریض موجود ہیں جن کو خون کی ہمیشہ سے ضرورت رہتی ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریض ہوں یا کینسر کے، خون ان کی زندگی بچانے کیلئے ہمیشہ ضرورت پڑتاہے۔ یہ ضرورت اُن کی ایسے پوری ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے اندر بہنے والے خون کو ان تمام مریضوں کو عطیہ کرتے رہیں۔ خون کے شکرانے کا میرے نزدیک یہ واحد طریقہ ہے۔ جتنے صحت مند لوگ ہیں اگر وہ سال میں ایک دفعہ اپنا خون عطیہ کرتے ہیں تو اللہ کی اس نعمت کا صحیح معنوں میں شکر ادا ہو سکتاہے۔ آج ہم سارے اپنے بیڈز پر تکیہ رکھے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، بیڈ نمبر18پر اُس مریض کی طرح کتنے ہی پیارے دوست اور رشتہ دار جا سکتے ہیں۔ لہذا اگر ہمیں نعمتیں میسر ہیں توہمیں چاہیے کہ اپنے خون کو ایسے مریضوں کیلئے عطیہ کرتے رہیں تاکہ جب بھی انہیں ضرورت پڑے تو خون اتنی وافر مقدار میں موجود ہو کہ خون کیلئے انہیں دائیں بائیں دوڑنا نہ پڑے۔ احساس اگر زندہ رہے تو 22کروڑ کے اس ملک میں اگر ایک کروڑ صحت مند لوگ خون عطیہ کرنا شروع کر دیں تو ہمارے ملک کے خون کے ضرورت مند لو گ ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔



قارئین کرام آؤ لداخ چلیں


قارئین کرام آؤ لداخ چلیں صدا بصحرہ سردار ممتاز حسین خان چینی اور بھارتی افواج کے درمیان ہاتھا پائی کی جنگ جو وادی مگوان میں ہوئی۔ اپنی نوعیت کی منفرد جنگ اس طور ہے کہ دونوں ایٹمی قوتوں کے مابین اس جنگ میں کوئی آہنی اسلحہ استعمال کئے بغیرچینی فوجیوں نے بھارتی فوجیوں کے ایک کرنل سمیت بیس فوجیوں کی گردنیں مروڑ کر زندگی کا خاتمہ کیا اور درجنوں زخمی کئے۔ بھارتی وزیراعظم نیندر مودی چین سے اس قدر خوف زدہ ہوا کہ کوئی جاندار بیان دینے سے بھی قاصر رہا۔ پاکستان کے خلاف اس کی گیڈر بھبکیاں ”اندر گھس کر ماریں گے“ آئے روز میڈیا کی زینت بنتی ہیں لیکن چین کے آگے بلی بن گیا ہے۔ خیر اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ میں اس وقت لداخ کی سیر پر ہوں جو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ لداخ جموں و کشمیر کا دورافتادہ پس ماندہ خطہ ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ ایک صدی قبل تک خاصا متمول تھا۔ لداخ متحدہ ہندوستان، تبت، چین، ترکستان، وسط ایشیاء کی ایک اہم گزرگاہ ہوا کرتا تھا۔ خوب صورت ارضیاتی خدوخال حد نگاہ تک بلند و بالا پہاڑ، کھلے میدان۔ اگست 2019ء میں بھارت نے اس خطے کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے مرکز کے زیرانتظام ایک علاقہ قرار دے ڈالا۔ دو ضلعوں پر مشتمل لہیہ اور کرگل کا رقبہ 87ہزار مربع کلومیٹر ہے، لیکن اکسائی چن علاقہ تقریباً 55ہزار کلومیٹر چین کے زیرانتظام ہے۔ اس وقت لداخ کا اصل رقبہ 32ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ 2011ء میں بھارتی حکومت کی مردم شماری کے مطابق خطہ لداخ میں مجموعی طور پر مسلمان 46فیصد اور بدھ 39فی صد، 15فی صد دیگر مذاہب۔ ایک لداخی مورخ لکھتا ہے کہ ”کشمیر کی طرح لداخ بھی 20ویں صدی میں وقوع پذیر سیاسی واقعات کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس خطے کی بقاء، ترقی، اور عظمت رفتہ کی بحالی کا دارو مدار قراقرم کے بند دروں کو دوبارہ تجارت و راہدی کے لئے کھولنے میں ہی مضمر ہے“۔ قدیم شاہراہ ریشم کی ایک شاخ اس خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔ چین کے ہاتھوں 1949ء سنکیانگ اور میر1950میں تبت پر قبضے کے بعد آہنی دیوار کھڑی کرنے سے یہ راہداریاں بند ہو گئیں مگر سب سے زیادہ نقصان 1947ء میں تقسیم ہند اور تنازعہ کشمیر کی وجہ سے اس خطے میں پیدا ہوتی کشیدگی کی وجہ سے ہوا۔ 1962ء کی بھارت چین جنگ سمیت، یہ خطہ پانچ جنگوں کے زخم کھا چکا ہے۔ بھارت کی پاکسان اور چین کے ساتھ چپقلش نے اس پورے خطے کے تاریخی رابطے منقطع کر دئیے۔ لداخی بودھ ڈوگرہ ہندوؤں سے خلش رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 1841ء میں ڈوگرہ جنرل زور آور سنگھ نے لداخ پر فوج کشی کی ان کی عبادت گاہوں کو اصطبل بنا کر ان کی بے حرمتی کی گئی۔ لداخ میں مسلم اور بدھ آبادی میں خاصا باہمی میل جول تھا۔ مذہبی منافرت نہیں تھی لیکن 1990ء کے اوائل میں یہاں کی بدھ آبادی نے اس خطے کو کشمیر سے الگ کر کے نئی دہلی کا زیرانتظام علاقہ بنانے کے لئے احتجاج شروع کیا۔ لیکن مسلمانوں نے اس احتجاج کی مخالفت کی۔ اس طور بدھ تنظیموں نے سوشل بائیکاٹ کیا مسلمانوں کے خلاف بعد میں بودھ فرقہ کے 22افراد مشرف بہ اسلام ہوئے بدھ مسلمانوں کے خلاف مزید بھڑک اٹھے۔ اس طور اب بودھ اور مسلمانوں میں کوئی مذہبی رواداری باقی نہیں۔ لداخ اس وقت گریٹ گیم کا شکار ہے۔ لداخ کے حوالہ سے پاکستان کے بھی اکثر صحافی اور دانش ور بدھ مت کے ماننے والوں کا خطہ قرار دیتے ہیں جبکہ اس خطہ میں مسلم اکثریت میں ہیں۔ جموں و کشمیر و لداخ وہ بدقسمت خطہ ہے جو 72سالوں سے اضطراری کیفیت میں زندگی گزار رہا ہے۔ لداخ جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ بھارت نے اکتوبر 2019ء میں جموں و کشمیر کی ریاست کو عملی طور پر تحلیل کر دیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاستی اسمبلی سے قانون سازی کا اختیار ختم ہو اور اسے نئی دہلی حکومت کے تحت براہِ راست جموں اور کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا جائے۔ جو عملی طور پر ہو چکا۔ اتنی بڑی تبدیلی پر جموں و کشمیر اور لداخ کے فریق پاکستان کی حکومت نے ایک روائتی سا بیان دینے سے آگے کوئی عملی اقدام اٹھانے سے گریز کیا۔ اس فیصلے کے نفاذ سے قبل جموں و کشمیر، بھارت سے وابستہ واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ اب جموں و کشمیر بھارت کا حصہ بن چکا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی پر سلامتی کونسل، اقوام عالم اور انصاف کے گیت گانے والے دنیا کے ٹھیکیداروں کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ حکومت پاکستان اپوزیشن سے جنگ میں مصروف ہے اور مافیاز کی پشت پناہی کر کے اپنی کرسی کی سلامتی کی طرف توجہ کے علاوہ اس سے کچھ نہیں ہو رہا۔ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے ہر روز نئے نئے سکینڈلز عوام کے سامنے لا کھڑے کر دئیے جاتے ہیں اور پھر الیکٹرانک میڈیا پر تماشا لگا کر جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے۔ 5اگست 2019ء کو بھارتی دستور کی دفعہ 370جس نے ریاست کو خصوصی حیثیت دی تھی، اسے مختلف آئینی شقوں کے اطلاق سے خارج کر کے منسوخ کر دیا گیا۔ جبکہ دفعہ 35-Aجس نے مقامی آبادی کے لئے رہائش کے کچھ مخصوص حقوق محفوظ کر رکھے تھے اس تحفظ اور بقاء کے سارے انتظامات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ ان دونوں دفعات نے یہ ضمانت دی تھی کہ زمین خریدنے اور اس کے مالکانہ حقوق لینے یا سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست دینے کاحق صرف ان لوگوں کا ہے جو مستقل طور پر نسل در نسل یہاں پر مستقل رہائش پذیر چلے آرہے تھے۔ ان قوانین کا مطلب یہ بھی تھاکہ جموں و کشمیر سے باہر لوگوں پر کاروباری سرمایہ کاری پر پابندی لگائی جائے یا جموں و کشمیر کی اراضی اور معیشت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے بڑی اجارہ دار کمپنیوں کی کوششوں پر پابندی لگائی جائے۔ یہ سب کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں مخصوص سطح کی سیاسی اور معاشی خودمختاری کا حق دار بنانے کے لئے کیا گیا تھا۔ لیکن ریاست کو عملی طور پر بھارت میں تحلیل کر دینے کے بعد کشمیری اپنے ہی وطن میں اجنبی ہو گئے ہیں اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے یہ سارے ڈرامے رچائے گئے ہیں۔ 31مارچ 2020ء رات گئے بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ کے لئے باضابطہ طور پر ایک نئے ڈومیسائل کا اعلان کیا اس ڈومیسائل اعلان کے مطابق کوئی بھی فرد جو 15سال تک جموں و کشمیر اور لداخ میں کسی بھی حوالے سے مقیم رہا ہے یا اس علاقہ میں سات سال تک تعلیم حاصل کر چکا ہے یا دسویں یا بارہویں کے امتحان میں حاضر ہوا ہے اسے یہاں زمین خریدنے کا حق حاصل ہو گا اور وہ مختلف سرکاری ملازمتوں کا اہل ہو گا۔ یوں جموں و کشمیر اور لداخ کے مقامی لوگوں پر ملازمتوں کے دروازے بھی بند ہو جائیں گے۔ اس نوٹیفکیشن کے وقت بھارت نے کورونا (Covid-19)پر قابو پانے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے صرف ایک ہفتے کے اندر کیا، جس سے بھارت کے شیطانی مذموم مقاصد کا پتہ چلتا ہے۔ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے اندر ایک اور لاک ڈاؤن بھیانک انداز میں کر کے کشمیریوں سے زندگی کی سانسیں چھیننے کی کوشش کی۔ نئے انتظام کے تحت لداخ کو قانون ساز اسمبلی کے نام پر لوٹ لیا جائے گا اور جموں و کشمیر کو محدود اختیارات ملیں گے جس سے ان علاقوں کو ریموٹ کنٹرول میونسپلیٹوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ جس سے ایک مرکزی اتھارٹی کے زیرانتظام جموں و کشمیر اور لداخ کو مزید غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے گا اب 19جولائی الحاق پاکستان کی افادیت بھی ختم ہو چکی۔ کشمیری اب پاکستان سے محبت کا اظہار پاکستانی پرچم میں لپٹ کر قبر میں اترنے کی صورت میں کریں گے۔ کشمیر کی اس کرنٹ صورت حال پر پاکستان کی مجرمانہ غفلت اور خاموشی کو تقسیم کشمیر کا ہی پیغام سمجھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ، مودی، عمران ٹرائیکا ضرور اس کھیل میں مصروف ہیں۔ کشمیری ایک سال سے لاک ڈاؤن بلکہ کرفیو کی زد میں ہیں لیکن دنیا کے منصفوں کی توجہ اس طرف نہیں ہے۔ اللہ نے لاک ڈاؤن کو پوری دنیا میں پھیلا کر لاک ڈاؤن کی اذیت کا احساس دلایا ہے۔ لداخیوں نے بھی اس نئے غلامی کے طوق کو مسترد کر دیا ہے۔



لاہور، کراچی اور مِنی لاڑکانہ


لاہور، کراچی اور مِنی لاڑکانہ کبیرخان حضرت پطرس شاہ بخاری ؒ نے لاہور کا جغرافیہ تحریر فرماتے ہوئے اس کا محلِ وقوع کچھ یوں بیان کیا تھا: ’’ ایک دو غلط فہمیاں البتّہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں ۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاوں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں ۔ اور جو نصف دریا ہے ، وہ تواب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راویِ ضعیف کہتے ہیں ۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پُل بنے ہیں ۔ان کے نیچے ریت پر دریا لیٹا رہتا ہے ۔ بہنے کا شغل عرصہ سے بند ہے۔ اس لئے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں ۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں ۔ ایک پشاور سے آتا ہے دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آورپشاور کے راستے اور یو. پی والے دہلی کے راستے وارد ہوتے ہیں ۔ اوّل الذکر اہلِ سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی اور غوری تخلّص کرتے ہیں ۔ موخرّ الذکر اہلِ زبان کہلاتے ہیں ۔ یہ بھی تخلّص کرتے ہیں ، اور اس میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں‘‘َ اس کے بعد حضرت پطرس شاہ ؒنے محض ثواب دارین کے لئےلاہور کا حدود اربعہ بھی صاف صاف بیان فرما دیا: ’’ حدود اربعہ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبا کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہو رہاہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے بعد لاہور ایک صوبے کانام ہو گا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ لاہور ایک جسم ہے جس کے ہر حصّہ پر ورم نمودار ہو رہا ہے۔ لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے ، جو اس کے جسم کو لاحق ہے‘‘َ۔ صاحبو! پطرس بخاری نے تو محض راوی کے ضعف کو اور لاہور کی بڑھتی ہوئی تنومندی کے پیشِ نظراز رہ التفات لاہورکو پنجاب کے منصب پر اور پنجاب کولاہورکی گدی پرجما دیا ہے۔ اور اللہ اللہ خیرسلّا۔ لیکن یاروں نے تو کراچی کو مِنی (بلکہ اصلی تے وڈّا)پاکستان قرار دے ڈالا۔ پھر اس شہر کی فصیلیں اسلام آباد تک کھینچا کئے۔اس کھینچا تانی کی وجہ سےپاکستان اور اصلی پاکستان کو از سرِ نو وہ بھگتنا پڑا جو 1947میں بھگتنا پڑا تھا۔ روشنیوں کا شہر، امن کا گہوارہ،اورغربا کاپالن ہارایک عقوبت خانہ بن گیا۔ جس میں دن رات وحشت اور دہشت رقصاں تھی۔ ربّ جانے کتنے ہی کمزور،نہتّے اور بے بس چیختی چنگھاڑتی دہشت کے شکار ہوئے۔ سرمایہ دار بھتّے دے دے کر تنگ آئے تو کاروبار اور سرمایہ لپیٹ کر بنگلہ دیش ،ملائشیا اور نجانے کہاں کہاں جا پہنچے۔ مِنی اور اصلی پاکستان کوامن کی طرف لوٹنے کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔اتنی کہ اب مِنی پاکستان کے نام سے عام آدمی بدکنے لگا ہے۔ یادش بخیر! ایوب خانی لیگ کے بعد اورقائد عوام کے دور میں جب آزاد کشمیرمیں یکلخت پی۔ پی۔ پی کا طوطی بولنے لگا تو قائد عوام کو شہید وں اور غازیوں کی سرزمین راولاکوٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ جواُنہوں نے قبول کرلی۔ راولاکوٹ میں ایک (شاید) تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی جلسہ منعقد کیا گیا۔ قائد عوام سے پہلے مقرّر نے اسکرپٹ کے عین مطابق قائد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ’’میرے مائی باپ آپ پر قربان، فخرِ ایشیا عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس امر کا ثبوت ہے کہ شہیدوں ،غازیوں اور مجاہدوں کی یہ سر زمین ، یہ راولاکوٹ مِنی لاڑکانہ ہے۔‘‘ اور پھر عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے راولاکوٹ کے لئے منی لاڑکانہ کا اعزازنہایت پُر جوش انداز میں قبول کر لیا۔ پھر منِی لاڑکانہ کا حال بھی وہی ہوا جو آج کل سُپر لاڑکانہ کا ہے۔ یہی نہیں ، چند سال بعد اسی منی لاڑکانہ یعنی راولاکوٹ کو منی سرینگر کا اعزاز بخشا گیا۔ تب بھی جمِّ غفیر نے اس اعزاز کو نہایت ولولہ انگیز طریقہ سے قبول کیا ۔ آج کل پھر منی سرینگر کو منی لاڑکانہ بنا کر چھوڑنے کے عزائم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسی دھرتی کا ایک ادنیٰ باشندہ ہونے کے ناتے عرض ہے کہ عوام نے بڑی بھاری قربانیاں دے کرراولاکوٹ کو راولاکوٹ بنایا ہے،خدا را اسے راولاکوٹ ہی رہنے دیں ،ہمیں مِنیاں اور مِنمِنیاں ہونا راس نہیں آتا۔ کم از کم منی لاڑکانہ اور منی پاکستان (یعنی کراچی)ہونے کے اعزازات ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ عنایات کسی اورمستحق کو بخشی جائیں۔



”عظیم ہمالیہ کے حضور“ایک شاندار سفر نامہ


”عظیم ہمالیہ کے حضور“ایک شاندار سفر نامہ پروفیسر خالد اکبرٍ عظیم ہمالیہ کے حضور! جاویدخان کی اولین تصنیف ہے۔جاویدپیشہ کے لحاظ سے استاد ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ ہمارے اُن چنیدہ شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔جنھیں قدرت نے پڑھنے لکھنے کاذوق اور ابلاغ کافن ودیعت کیاہے۔یوں عرصہ دراز سے علم وادب کے نادرموضوعات پر اُن کے حکیمانہ کالم مختلف اَخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔جو فہمیدہ اور سنجیدہ قارئین کے لیے فروغ علم کاباعث رہے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور!سفر نامہ، پاکستان کے بڑے اشاعتی ادارے فکشن ہاؤس نے چھاپا ہے۔جس کی اشاعت کردہ کُتب ملک کے طول و عرض میں موقر و معتبر خیال کی جاتی ہیں۔یہ کتاب 224صفحات پر مشتمل ہے۔اس کاٹائیٹل پیج بہت ہی دیدہ زیب ہے۔ کتاب کاپیش لفظ معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف محترم ظفر حیات پال نے لکھا ہے۔انھوں اس سفرنامہ کومنفرد اوربہترین کاوش قرار دیاہے۔اُردو کے منجھے ہوئے استاد،کالم نگار اور وسیع المطالعہ نابغہ پروفیسر ذوالفقار احمد ساحرصاحب نے اس کی پروف ریڈنگ اور نوک پلک سنواری ہے۔یوں کتاب کسی بڑی غلطی سے پاک ہے اور قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوغات،قدرتی حسن سے مالامال گلگت بلتستان (دیوسائی) کاسفرنامہ ہے۔جو مصنف نے اپنے دوستوں کے ہم راہ باجماعت کیا۔یوں تو ہرسال پورے ملک سے بلکہ بیرونی دنیا سے سیاح اور کوہ پیما ان فلک بوس پہاڑوں اور مرغزارو ں کی طرف سفر کرتے ہی رہتے ہیں۔ان میں سے کئی لوگوں نے مختصر بعض نے تفصیلی اور جامع یاداشتیں قلم بند کی ہیں۔مگر جاوید نے اپنے مضبوط قوت مشاہدہ،تخیل آفرینی،خوب صورت منظر نگاری،زباں وبیاں کے سادہ اور صاف استعمال سے اس سفرنامہ کو شاہکار تصنیف میں ڈھال دیا ہے۔اپنے عمدہ اسلوب نگارش کے علاوہ یہ فن پارہ شمالی علاقہ جات کے بارے میں بیش بہاعلمی اور تاریخی معلومات فراہم کرتا ہے۔مصنف کے ہم سفر دوست عمران رزاق،وقاص جمیل اور شفقت عہد رفتہ میں ہمارے سکول کے طالب علم رہے ہیں۔یہ نوجوان اس وقت نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں صف اول کے طور پر پیش پیش رہتے تھے۔اس سفر میں اِن سب کااکٹھا ہونا،اَحوال و تاثرات،تنوع اَور منا ظر پر ردعمل وغیر ہ مل کر مصنف کے لیے ممیزکاکام کرتے ہیں۔اور ان کے زبان و بیان کے تاثر کو گہرا کرتے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی ادبی تخلیق کی تنقید لکھنا،تبصرہ کر نا اور جائزہ لینا ایک سنجیدہ اور مشکل کام ہے۔جو ارباب نقد و نظر کو ہی زیبا ہے۔یوں جس کاکام اسی کو ساجھے۔! راقم الحروف نے اس سفرنامہ کامطالعہ کیا اور جو تاثرات ذہن کی سکرین پر ہویدا ہوئے ان کو اس کالم میں قلم بند کیا ہے۔ اس سفرنامہ میں سب سے زیادہ personification کااستعمال ملتا ہے۔سفرنامہ نگارنے اس صفت کے استعمال سے فلک بوس پہاڑوں،بے آب و گیاہ میدانوں،جھیلوں،کھیت کھلیانوں اور نخلستانوں کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔یوں اس باب میں ان کا قلم بو قلم کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔مثلا”بالاکوٹ سے آگے اور کیوائی سے پیچھے دونوں اطراف فلک بوس پہاڑوں نے دریا کو سکڑ کر چلنے پر مجبور کر دیا ہے“ ”اسی مصنوعی آکسیجن پر لیٹی شہ رگ (سڑک) کے نیچے لکڑی کاپل اپنا ٹوٹا ہو ا انگ اگلے کنارے سے جوڑنے کی جدوجہد میں تھا۔مگر شاید اب مزید جان نہیں رہی تھی۔“اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”شیو سر(جھیل) ہمارے سامنے اپنا آبی حسن لیے کھڑی تھی“۔اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے معتدد مقامات پر مجرد تصورات کو اس شاندار انداز میں امیجری کے زور پر مجسم کیا ہے کہ جس سے ایک قاری حظ بھی لیتا ہے اور عش عش کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔ اس سفر نامہ کی ایک اہم خاصیت اس کا Didectic اندا ز ہے۔مصنف پیشہ معلمی سے وابسطہ ہیں اور زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔لِہٰذا یہ واعظانہ اور خطیبانہ انداز قرطاس پر گاہے گاہے پھلجڑیاں بکھیرتا نظر آتاہے۔ ایک جگہ رقم طراز ہیں: ”غرور انسانوں کاہو یا چٹانوں کاکہیں بھی اچھا نہیں ہوتا،غرور کو آخر کار تڑخنا ہی ہوتا ہے۔“ایسے ہی رستے میں ایک مقا م پر دیار کے کمزور درختوں کاجھنڈ دیکھ کر رقم طراز ہیں۔”ایک جگہ دیودار کے درخت جمگھٹے کی صورت میں کھڑے تھے۔کمزور اور لاغر،جیسے کوئی غریب الوطن اپنے دیس کے لیے ترستا ہو۔ایسی ہی غریب الوطنی ان کے وجود سے عیاں تھی۔یہ جگہ ان درختوں کی افزائش کے لیے نہ تھی۔کوئی بھی درخت ہو یاتہذیب صرف اپنی مٹی پر ہی کھڑی اچھی لگتی ہے۔ان درختوں کو یہاں جبراً اگایا گیا تھا۔جو جنگل اور تہذیبیں اجنبی زمینوں پر زبردستی اگائی جاتی ہیں،ان کے وجود سے ایساہی پردیسیانہ اور لاغر پن جھلکتا ہے۔“ غلام قوم کاباشندہ ہونے کے نا طے، ایک منقسم حصہ کی سیر کے دوران مصنف کا جذبہ آزادی انگڑائی لیتا نظر آتاہے۔جس کوو ہ لطیف انداز میں تشبیہات اور استعاروں کی لطیف زبان دیتے نظر آتے ہیں۔ایک جگہ دریاِ کنہار کی تنگ دامنی یوں بیان ہوئی ہے: ”کنہار یہاں چٹانوں کے درمیان تیز اور شوریدہ سر ہے۔شاید ہر پہاڑی دریا کی یہی نفسیات ہوتی کہ جب اسے اپنادامن کشادہ کرنے کے لیے جگہ نہیں دی جاتی،تو وہ غصیلہ اور سرکش ہو جاتا ہے۔دریا ہو یا فرد یا کوئی قوم،جب اس کی کشادگی اور آزادی صلب کرکے اسے سکڑ کر چلنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے،تو اس میں غصہ اور اینگزائٹی بھر جاتی ہے۔پھر وہ سرکشی کے راستے پر چل نکلتی ہے۔جس کا قرض صدیاں مل کر چکاتی ہیں۔“ مصنف اپنے ماضی کو رستے کے مناظر سے ہم آہنگ کرتے ہوئے خوب صورت پیراے میں بیان کرتے ہیں۔ماضی کی دیہی زندگی کو خوب صورت نثری نظم میں بیان کیا ہے۔ سفرنامہ نگار نے گا ہے گاہے صفت pun کاخوب صورت استعمال بھی کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:”لولو سر ایک منظر ہے اور اس منظر میں سارے لوگ خود منظری (سیلفی) میں مصروف تھے۔“مصنف مذہبی شعور اور فرقہ پرستی پر چوٹ کرتے ہیں۔ایک نخلستانی وادی میں اک ویران مسجد پر تبصرہ دیکھیے:”عبادت گاہیں پہلے صرف اللہ کی ہوتی تھیں۔اب بندوں اور مسلکوں کی ہیں۔ہر عبادت گاہ کااشاروں کنایوں میں اپنی مسلکی شناخت کااظہار ایک فیشن بن گیا ہے۔جب تک کوئی عبادت گاہ مسلک کاچولا نہیں پہنے گی،وہ سند یافتہ عبادت گاہ نہیں بن سکے گی۔اس عارضی بساؤ میں بھی یہ مسجد مسلکی ٹکڑے چپکائے بغیر نہ رہ سکی۔“ مصنف کی فلسفیانہ افتاد طبع بھی کبھی کبھی اپنی جولانی پر نظر آتی ہے۔”انسان اگر اپنی جبلت کو نہ مار پائے تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔کشت و خون لڑائیاں زندگی کا جزو لازم بن جاتا ہے۔انسان آدمی نما ریوڑ ہوتے ہیں۔“ گاہے گاہے قرطا سں پر بکھر ے استعارات صنفی رحجانات کے بھر پورعکاس نظر آتے ہیں۔جو کنوار ے سفرنامہ نگار کے پوشیدہ جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں:”ساری برفیلی چوٹیوں کے لب ورخسار پر لالی پھیل گئی تھی۔جیسے ہزاروں دلہنیں سرخ دوپٹوں میں بناؤ سنگھار کیے بیٹھی،شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہوں۔سرخ کرنوں میں لپٹا دُودھیا حسن ان مسکراہٹوں میں نکھرا ہوا تھا۔“یہ ہمالیہ کی چوٹیوں کی منظر کشی ہے۔اشعار کا برمحل اور موضوع استعمال مصنف کے وسیع مطالعہ کاغماز ہے۔خٖوب صورت pithy فقرات کااستعمال بہت شاندار ہے:”راگوں اور سروں کا یہ حسن ابھی انسانی صناعی میں نہیں آیا۔“،”دوست پرتکلف ناشتے پر کسی تکلف سے آزاد تھے۔“یہ کتاب معلومات اور ادب کابیش بہا خزانہ ہے۔اس سفرنامہ کے مطالعہ کے دوران میرے علم میں بہت سا اضافہ ہوا۔مصنف کاریاضیاتی علم بھی حیران کر دینے والا ہے۔منظرنگاری اور حوالوں کے طور پر جب وہ ریاضی اور جیومیٹری کااستعمال کرتے ہیں۔تو مجھ جیسا ریاضی سے نابلد آدمی بھی ریاضی شناس ہو جاتا ہے: مثلاً:”نیم سفید گول پتھر سے نکلا ۰۲ سنٹی میٹر قطر کی گولائی کاسرخ پھول جس کی سیکڑوں کلیاں سرخ رنگ لیے ہوئے تھیں۔“،”ایک لمبی قائمہ الزاویہ کی مثلث کی شکل بناتا پہاڑ،دریا کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا،سورج اس کے وتر پر شعاعیں ڈالنے لگاتھا۔“،”مساوی الزاویہ مثلث کی شکل کی ایک چوٹی دیوہیکل دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔اس پر کچھ برف باقی تھی۔“مصنف لطیف پیراے میں گلوبل وارمنگ اور جنگلی حیات کو لاحق خطرات کانوحہ سناتے نظر آتے ہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کی ماحولیات کے حوالے سے حساسیت کس قدر گہری ہے۔ مصنف کاعالمی کلاسیکل ادب سے بے شمار تلمیحات اور حوالہ جات کااستعمال بہت ہی شاندار ہے۔یہ استعاروں اور تشبیہات کی شکل میں واقع ہوتی ہیں۔جو مصنف کے عالمی کلاسیکل ادب سے گہرے شغف کاعکاس ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں: ”تراجم کی صحت ہمیشہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔جیسے ہومر کی اوڈیسی اور ایلیڈ میں بے شمار غلطیاں ہیں آسکروائیلڈ کے شہرہ آفاق افسانے ”سرخ گلاب“ کاحوالہ اور محل بہت ہی شاندار ہے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور!اُردو زبان میں لکھے جانے والے سفرناموں میں اہمیت کاحامل ہے۔میری کوتاہ نگاہ میں اردو کے صف اول کے سفرناموں میں شمار ہو گا۔اپنے اسلوب نگارش میں یہ انتہائی اچھوتا اورمیعاری سفرنامہ ہے۔اس میں شاعرانہ تخیل،منظر نگاری،زبان کی سادگی اور صفائی،استعارات اور تشبیہات کااستعمال لاجواب ہے۔اس میں مرصع نگاری بھی ہے اور مرقع نگاری بھی۔خطہ کشمیر میں کئی سفرنامہ نگاروں نے سفرنامہ نگاری کے باب میں عمدہ سفرنامے تخلیق کیے ہیں۔تاہم خطہ کشمیر کے عظیم مزاح نگار سردار کبیر کے سفر نامے ”اک ذرا افغانستان تک“کے بعد اپنے متن اور اسلوب نگارش کے لحاظ سے یہ بہت ہی اعلی ٰہے۔جاوید خان کی یہ پہلی کاوش ہے۔جاوید ابھی جوان ہیں۔سیکھنے اور لکھنے کے لیے ان کے پاس ایک عمر پڑی ہے۔اگر انھوں نے ایسے ہی محنت شاقہ سے اپنا کام جاری رکھا تو بعید نہیں کہ ان کی آمدہ تخلیقات ادب عالیہ میں اپنا مقام نہ بناسکیں۔کیوں کہ ایک ادیب کے جملہ جواہر ان کی شخصیت میں موجود ہیں۔



(۱)دوہری شہریت دوہرا معیار۔(۲) نیب پر سوالیہ نشان(۳) نوٹس کا الٹا اثر


(۱)دوہری شہریت دوہرا معیار۔(۲) نیب پر سوالیہ نشان(۳) نوٹس کا الٹا اثر محمد حیات خان ایڈووکیٹ اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت سے پاکستان کے عوام کو جو توقعات تھیں وہ پوری ہونا تو در کنار حالات پہلے سے بھی بد تر اور اس میں دور دور تک بہتری کے کوئی آثار نہیں۔عمران خان جو دعوے،وعدے اور امیدیں دلا کر اقتدار میں آئے۔یہی سوچا جارہا تھا کہ شاہد ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ اپنے پروگرامز کو عملی جامہ پہنانے میں وقتی ناکام ہیں۔اور جلد ہی رموز حکومت سمجھ جائیں گے اورحسب وعدہ ڈیلیور کر لیں گے۔مگر دوسال گذرنے کے بعد دیکھا گیا کہ ان کا ہر قدم پہلے سے خراب،نکما اورحوصلہ افزاء چھوڑ کر امید افزاء بھی نہیں۔سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہ ہے۔ کہ روز اول سے انہوں نے ہر اس بات پر یو ٹرن لیا جس کا قوم اور عوام سے وعدہ کر کے اقتدار میں آئے تھے۔ اور دوسری بات کہ وہ ملک میں اپوزیشن کو شجرے ممنوعہ سمجھتے ہیں۔یہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ حکمرانی کے لیے جو ماحول،سپورٹ(ہر طرف سے) ان کو ملی۔دوسری جماعتیں اس کی صرف حسرت ہی کر سکتی تھیں۔پہلی بات کہ انہوں نے اپنا وعدہ توڑ کر دوسری جماعتوں سے ان ابن الاوقتوں کو ساتھ ملایا جو ہمیشہ ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔اور وہ صرف مال و دولت بنانے کے لیے ”اپنے ضمیر کی آواز“ پر جماعتیں بدلتے اور بعض اوقات ووٹ کی خرید و فروخت بھی کر دیتے ہیں جیسے سینٹ کے الیکشن میں ہو ئی تھی۔خیر آپ نے اقتدار میں آنا تھا۔تو یہ سب کر کے آ گئے۔مگر اقتدار سمھبالنے کے بعد تو اپنے کہے یا قول و اقرار کا پاس رکھتے۔جو ہر گز اور ذرا برابر نا رکھا گیا۔آپ نے عوام کو بتایا کہ باہیس سالہ جد وجہد کے بعد حکومتی امور چلانے کے لیے میرے پاس ایک تجربہ کار ٹیم موجود ہے۔جو چند ہی مہینوں میں دیئے گئے منشور پر عمل کر کے ملک کی کایا پلٹ دے گی۔مگر ہوا اس کے بالکل الٹ۔آپ کے پاس پی پی پی سے لائے گئے چند ایک لوگ تو تھے ہی مگر آپ نے آئی ایم ایف کی ٹیم اور دوہری شہریت کے چند نوجوان جو اچھی خاصی دولت کے مالک ہیں۔کو اپنے ساتھ ملا کر حکومتی امور چلانے کی کوشش کی۔جو اونچی آواز میں بات تو کر سکتے ہیں مگر تجربے سے عاری اورمعاملات بنانے کی بجائے بگاڑنے میں ماہر ہیں۔اصل بات سمجھنے کی ہے کہ کسی ملک کا اقامہ ہونا اور شہریت ہونا اور رکھنا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔وہ یہ کہ جس کسی شخص کے پاس کسی دوسرے ملک کا اقامہ ہو گا وہ وہا ں ایک خاص مدت تک نوکری کر سکتا ہے(یہ الگ بحث ہے کہ کون نوکری کر سکتا ہے اور کون نہیں)۔مگر جو شخص کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے تو اللہ پاک اور کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں اس ملک کا وفادار رہوں گا اور اگر اس ملک جس کی میں شہریت لے رہا ہوں کے خلاف کو ئی دوسرا ملک(یعنی ایک پاکستانی جب امریکہ۔کینیڈا۔برطانیہ۔یا کسی دوسرے ملک میں شہریت لیتا ہے تو حلفاً وعدہ کرتا ہے کہ اگر میرے سابقہ ملک کے خلاف یہ ملک جنگ کرے گا تو میں اس ملک کے ساتھ سابقہ ملک کے خلاف جنگ کروں گا۔گویا نئے ملک کے حق میں کلبھوشن کی طر ح کام کروں گا)لیکن ایک آدمی کو صرف اقامہ رکھنے کے جرم میں تا حیات سیاست سے آؤٹ اور نااہل کر دیا جاتا ہے اور ایک دوہری شہریت والے کو تما م امور حکومت(جن میں بہت ہی حساس نوعیت کے معاملات بھی ہوتے ہیں) میں شامل کیا جاتا ہے۔تو یہ حکومت پانچ دوہری شہریت والے مشیروں کے ساتھ سب راز و نیاز شیئر کرتی ہے۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ممبر اسمبلی فیصل واوڈا جو دوہری شہریت کا حامل ہے۔اس کا کیس ہی نہیں سنا جاتا۔کیا یہ دوہرا معیار نہیں۔؟ملک میں دو قانون ہو ں گے تو وقتی چل چلاؤ تو ہو گا مگر یہ دیر پا نہیں۔جو ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔وزیراعظم پاکستان سے کچھ کہنا بیکا رکی مشق ہو گی۔اس لیے کہ انہوں نے قسم کھا لی ہے کہ جو قوم سے وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کرنا۔ورنہ وہ تو کہا کرتے تھے۔کہ جن لوگوں کے اثاثے باہر پڑے ہوں یا باہر کی شہریت ہو انہیں کوئی حق نہیں کہ ملک میں حکمرانی کریں کیوں کہ ان کا مفاد دوسرے ملک سے وابستہ ہوتاہے۔ اب جبکہ ان معاونین اور مشیروں کے بیرون ملک بھاری اثاثے میڈیا میں بھی آ چکے ہیں۔تو وزیراعظم پاکستان عمران خان کا وہ سب کہنا،قوم کو یقین دلانا اور اب بالکل عمل نا کرنا کیا ایک ذمہ دار شخص کے لیے مناسب ہے۔؟مگر نہیں وہ تو سب کچھ بھول گئے ہیں۔ بے شک دوستوں سے دوستیاں نبھاہیں۔مگر ملک و قوم کی قیمت پر نہیں۔یہ جو مشیر رکھے گئے ہیں یہ سب شوکت عزیز ثابت ہوں گے۔کیا پی ٹی آئی کے پونے دو کروڑ ووٹروں میں پانچ دس آدمی بھی نہیں کہ جنہیں یہ امانت دی جا سکے۔؟ اور اگر اس تیسری بڑی (اور بوجوہ اس وقت بڑی)جماعت کے پاس اتنے اہل لوگ بھی نہیں تو خود سوچئے کہ کیا یہ ملک و قوم پر حکمرانی کے اہل ہیں۔؟ نہیں بالکل نہیں۔اور اس کا نوٹس لیا جانا چاہیئے۔اور اپوزیشن بھی اس پر احتجاج کرے۔مگر اپوزیشن اس انتظار میں ہے کہ عوام تنگ ہو کر سڑکوں پر آہیں۔جو کہ لوگوں کے سڑکوں پر آنے میں کوئی کسر بھی ان حکمرانوں نے نہیں چھوڑی۔تو یہ اپنی باری لیں۔اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے تو اس چینی۔آٹے۔دواہیوں۔پیٹرول کے بھاری اور بہت بڑے سکینڈلز پر احتجاج کیوں نہیں کرتے۔؟ اور پی ٹی آئی کے صاہب الرائے لوگ بھی اس کو ان مساہل اور معاملات کو سنجیدہ لیں۔یا د رکھیں۔یہ ملک سب کا ہے۔۔۔۔ (۲)نیب۔۔۔آج خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے کیس کا فیصلہ آیا اور معزز سپریم کورٹ نے اس میں چند اہم آبزرویشنز دی۔ جبکہ اعلیٰ عدلیہ کئی مرتبہ نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا چکی ہے۔لیکن ایک بات نا سمجھ آنیوالی ہے کہ اگر کوئی ٹیکنوکریٹ یا کوئی اور شخصیت نیب کی چیئر مین ہوتی تو یہ سوچا جا سکتا تھا کہ کیس بنتے ہیں اور سقم رہ جاتا ہے۔مگر تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسی شخصیت جو جج۔جسٹس۔پھر چیف جسٹس رہے ہوں اور اچھی شہرت بھی رہی ہو۔ان کے ہوتے ہوئے۔جتنے کیسسز بنائے اور ریفرینسسز بنا کر بیجھے جاتے ہیں وہ سب ملزمان عدالت سے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔یا تو وہ کیس ہی بوگس ہوتے ہیں یا پھر چیئر مین نیب وہ کیس خود کبھی دیکھتے ہی نہیں۔ایک نہیں اپوزیشن کے خلاف جتنے بھی کیس بنتے ہیں ان کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج خواجہ برادران کے کیس میں نکلا ہے۔تو کیا اپوزیشن جماعتوں کا شور اور واویلا درست نہیں کہ ہمارے خلاف تما م کیسسز جعلی اور من گھڑت ہوتے ہیں۔؟اور تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر جب سالوں سال کسی کو جیل میں رکھ کر ریفرینس ہی دائر نا کیا جائے۔جیسے حمزہ شہباز کے کیس میں ہے۔کہ سال سے اوپر ہو گیا اور نیب سوچ رہا ہے کہ کیا کریں۔اور جب کیس عدالت میں جائے گا تو نتیجہ۔۔۔باعزت بری۔۔تو کیا کہا اور سوچا جائے۔؟یہ انصاف نہیں۔۔۔اور پھریہ کتنی عجیب بات ہے کہ حکمران جماعت کے کسی بھی آدمی کے خلاف کو ئی کیس نہیں بنتا نا سنا جاتا ہے۔جس میں وزیراعظم،ان کے ساتھی ہیں مگر فہرست میں نام شاہد پانچ سالوں کے بعد آئے۔یہ تو کسی بنانا ریپبلک میں بھی نہیں ہوتا۔ مگر پاکستان میں ہوتا ہے۔۔۔نیب ایک آہینی ادارہ ہے۔اس کے قوانین میں کئی نہیں لکھا کہ نیب صرف اپوزیشن کی غلط کاریوں اور کرپشن پر نظر رکھے گا۔ گرفت میں لائے گا۔بلکہ ملک میں کوئی بھی کرپشن کرے۔ یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ بددیانتی اور کرپشن کو پکڑے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن کے تیس سالہ پرانے چھوٹے موٹے کیس کو انتہائی پھرتی سے دیکھا،اورمبینہ ملزم کو پکڑکر جیل میں ڈال دیاجاتا ہے۔اور مہینوں اور سالوں اس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔جبکہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ملک میں چوریوں اور سکنڈلز کا ایک سیلاب آیا اور اب بھی موجود ہے مگر نیب نے کوئی نوٹس نہیں لیا جیسے یہ چھٹی پر ہوں اور سالوں کے بعد جب واپس آہیں گے تو شاہد سوچیں۔مثلاً یہ دواہیوں کا سکینڈل ہوا۔پھر چینی۔آٹا۔پیٹرول بحران اور خوب دولت کمائی گئی۔کل پھر دواہیوں کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔تو نیب کہاں سویا ہے۔؟یہ کسی دوسرے ملک میں نہیں یہ پاکستان کی بات ہے۔اور ان سے اس لیے پوچھ گچھ نہیں ہوتی کہ یہ حکومت میں بیٹھے وزیراعظم کے ساتھی کر رہے ہیں۔اور ان کو کھلی چھوٹ ہے۔ورنہ ان سب چیزوں پر نوٹس اور ایکشن نا لینا۔کیا جائزواحسن ہے اورکیا یہ اپنے فرائض سے غفلت اور کوتائی نہیں۔؟ (۳) نوٹسسز کا الٹا اثر۔۔۔۔۔ایک بات اب واضح ہو چکی ہے۔کہ جیسے آسمان ابر آلودہو، بادل چھائیں تو بارش ہوتی ہے۔ایسے ہی جس دن اور جس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان (ایسے ہی زبانی عوام کو خوش کرنے اور امید دلانے کے لیے)کسی چیز کا نوٹس لیتے ہیں تو وہ شےء دوسرے دن دوگنی مہنگی،اور وہ سکینڈل دوسرے دن اس سے بڑا سکینڈل بن کر سامنے آتا رہا ہے۔اس لیے عوام اب وزیراعظم سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی مہنگی کی گئی چیز یا چینی۔آٹے۔دواؤں۔اشیاء خورد و نوش پر بالکل نوٹس نا لیں۔جس پر عوام ان کے شکر گذار ہوں گے۔وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔اگر ہاتھ میں ہوتا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ماہ کے آخری دن اوگرہ کی مشاورت سے بڑھائی جاتی ہیں مگر اس دفعہ اپنوں کو فاہدہ پہنچانے کے لیے چھبیس تاریخ کو ہی اوگرہ کو بتائے بغیر قیمتیں بڑھائی گئی۔ پھر بیرون ملک سے منگوائے گے مشیر دن اور رات ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ ملک میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی لیڈر نے اپنے وقت میں یہ چینی۔آٹے۔دواؤں۔پیٹرول۔اور پی آئی اے کے پاہلٹس کے سکینڈلز سامنے لائے۔۔۔یہ تو ایسے ہی ہے کہ ایک تھانے کا ایس ایچ او کسی چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھے۔چور سامان لے کر سامنے خراماں خراماں جا رہا ہو اور ایس ایچ او کہے کہ دیکھا میرا کمال کہ میں نے کیسے چور کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔تو جناب چینی چوری میں چور مال پانی بھی بنا گئے۔چینی ساٹھ روپے سے پچاسی روپے بھی ہو گئی اور متواتر یہی قیمت وصول کی جارہی ہے۔آٹا تازہ گندم مارکیٹ میں آنے کے باوجود مہنگا بک رہا ہے۔اور کچھ تو ذخیرہ ہو رہا ہے۔تین سو فیصد دواؤں کی قیمتیں بڑھی۔اس آدمی کو جماعتی بڑا عہدہ دیا۔آپ نے نوٹس لیا تو اب دس فیصد اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔پی ٹی وی کی فیس پنتیس روپے تھی چالیس یا پچاس کر لیتے ایک دم سو روپے کر دی۔کیا یہ عوام کے ساتھ ظلم نہیں۔اور ان چوریوں میں ملوث سب لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم صاحب آپ تو کہا کرتے تھے کہ جب ایسے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو یہ حکمرانوں کی جیب میں جاتی ہیں،مگر یاد رکھیں کہ جو قیمتیں آپ نے دوسالوں میں بڑھائی ہیں وہ سابقہ ”چوروں“ نے پندرہ سالوں میں نہیں بڑھائی تھیں۔ملک کا غریب پس کے رہ گیا ہے۔آپ کو تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔آپ کو ہر طرف سے سپورٹ ہے۔مگر یاد رکھیں کہ ظلم کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ملک کے طول و عرض میں عوام چیخ رہے ہیں رو رہے ہیں پیٹ رہے ہیں۔اور وہ دن دور نہیں کہ جب اللہ پاک ان بے کس اور بے بس لوگوں کی فریاد سنے گا۔پھر آپ کو بھی گذرا ہوا وقت یاد آئے گا۔اللہ پاک ہی ملک وقوم پر رحم فرمائے۔آمین۔ثم آمین



یکساں قومی نصاب تعلیم


یکساں قومی نصاب تعلیم صدا بصحرہ سردار ممتاز حسین خان وطن عزیز میں یکساں قومی نصاب تعلیم ایک ایسا ادھورا خواب ہے جس کی تعبیر 73سال گزر جانے کے باوجود بھی نظر نہیں آتی۔ نظریہ اسلام پر قائم ریاست میں قوم کی تشکیل، یکج جہتی کے لئے ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں یکساں اور متفقہ نصاب تعلیم کا نفاذ اشد ضروری ہے۔ ایسے مطلوبہ قومی نصاب تعلیم کو ہر صورت میں قومی نظریاتی امنگوں کا آئینہ دار اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے پورے ملک میں یکساں قومی نصاب کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ جسے حکومت سنگل نیشنل کریکولم کے نام سے موسوم کر رہی ہے۔ اس مناسبت سے جو نصابی رپورٹیں شائع کی گئی ہیں ان کے سر ورق پر یہ دل کش نعرہ لکھا ہے۔ ایک نصاب، ایک قوم۔ لیکن افسوس صد افسوس اس قومی نوعیت کے کام کو کن لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے۔ حکومت یکساں قومی نصاب تعلیم کے نام پر بیرونی قوتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کا ایجنڈا اس ملک کی آئندہ نسلوں پر نافذ کرنا چاہتی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم کی ترتیب و تدوین ان بنیادوں پر ہے جو بظاہر جاذب نظر ہیں لیکن یہ سارے دعوے ہوائی قلعے ہیں۔ ۱۔دستوری رہنمائی، ۲۔قومی معیارات کی قومی پالیسیاں،۳۔ ظہور پذیر عالمی رحجانات،۴۔ نتیجہ خیز تعلیمی بنیاد،۵۔اقدار اور مہارتوں کی فراہمی پر مبنی تعلیم پر توجہ، ۶۔بچوں کی فکری، جذباتی، روحانی جمالیاتی، سماجی اور جسمانی نشوونما،۷۔رٹا لگانے کے بجائے عملی بنیادوں پر حصول تعلیم کا رواج، ۸۔علم کا عملی زندگی پر انطباق، ۹۔انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا استعمال،۰۱۔تدریسی طریقوں کی شمولیت،۱۱۔ریاضی اور سائنس کے عالمی رحجانات سے مطابقت۔ یہ پیش کردہ سنگل نیشنل کریکولم بنیادی طور پر 2006کا کریکولم ہے، جو جنرل پرویز مشرف کے دور استبداد میں جرمنی کی ایجنسی جی آئی زیڈ کے مالی، فکری اور عملی تعاون سے تیار کیا گیا تھا جس کی سربراہ ایک پاکستانی خاتون تھیں۔ اب بھی وہی محترمہ اس این جی او کے پلیٹ فارم سے سنگل نیشنل کریکولم کی تشکیلی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ 2006ء کے نصاب تعلیم پر سخت نقد و جرح کی تھی۔ اب نئی انقلابی حکومت اور مشرف کی باقیات نے 2006کے کریکولم کو ویلیوز ایجوکیشن (اقداری تعلیم) کے نام سے ایک سیکولر، لبرل نظریاتی اساس فراہم کر دی ہے۔ اگرچہ نصاب تو پہلے ہی سے سیکولر لبرل تھا، لیکن بین الاقوامی سطح پر سیکولر لبرل قوتیں جن اقدار کو پھیلا رہی ہیں، خصوصاً مسلم دنیا میں جن نظریات کو راسخ کر رہی ہیں، انہی کو سرائیت کردہ موضوعات کی شکل میں آگے بڑھایا گیا ہے، سنگل نیشنل کریکولم بنانے والی ٹیم نے نظر ثانی مسودے میں ’ہیومنزم‘ کی اصطلاح اڑا دی ہے جبکہ اس کی تمام ذیلی اقدار میں ہیو منزم کی روح جوں کی توں موجود ہے۔ بیان کردہ گیارہ دعوؤں میں سب سے پہلا دعویٰ ’دستوری رہنما خطوط‘ کے متعلق ہے سب سے زیادہ انحراف اس نصاب میں اسی چیز کا گیا ہے۔ دیگر شقوں کے علاوہ دستور 1973ء میں شامل قرار داد مقاصد اور دفعہ 31تعلیم اور نصاب تعلیم کے لئے رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق 5سال سے 16سال کی عمر کے طلبہ (جو کہ لازمی تعلیم کا دورانیہ ہے) کے لئے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کی وہ تمام تعلیمات مہیا کی جانی چاہئیں کہ وہ طالب علم جب عملی زندگی میں قدم رکھے تو اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارے۔اس کے برعکس مجوزہ نصاب میں اسلامیات کے نصاب میں پہلی سے بارہویں جماعت تک بیان کردہ مقاصد کسی طرح بھی مذکورہ بالا ضرورت کو پورا کرتے نظر نہیں آتے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ قرآن و حدیث اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات کے تحت ان تمام امور کی فہرست بنائی جاتی جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے فرض عین ہے اور پھر ان امور کو پہلی سے دسویں جماعت تک کے نصاب میں عمر اور بلوغت کے تقاضوں کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ نصاب سازی ایک سائنس ہے اور اس کا ایک طریق کار ہے جب تک وہ طریق کار اختیار نہ کیا جائے تب تک عملی بنیادوں پر مطلوبہ نصاب ترتیب نہیں دیاجا سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دستوری رہنما خطوط پورے نصاب کے لئے ہوتے ہیں۔ اسلامیات کا نصاب جیسا، تیسا ہے اس میں بہتری کی گنجائش ہے لیکن اسلامیات کے نصاب کے ساتھ جنرل نالج اور معاشرتی علوم کا جو نصاب دیا گیا ہے وہ مکمل طور پر سیکولر ہے ان دونوں مضامین کے نصاب میں لفظ اسلام کے استعمال سے مکمل پرہیز کیا گیا ہے۔ وژن، مشن اور مقاصد نصاب پوری طرح سکولر، لبرل اور بیو منسٹ نظریہ حیات کے آئینہ دار ہیں۔ معاشرتی علوم تو کسی معاشرے کے نظریات، اور اس کی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہوتے ہیں مگر یہاں پر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اس نصاب کو منسوب کرنے کی زحمت نہ کی گئی۔ سنگل نیشنل کریکولم میں انگلش، ریاضی اور سائنس کے نصاب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور ملک یا ملکوں کا نصاب ہے۔ زیر غور نصاب تعلیم کی نظریاتی اور پاکستانی جہت درست خطوط پر استوار ہونا ضروری ہے۔ مگر نصاب کی کوئی مقامی تحقیق نہ ہونے کے باعث یہ این جی اوز زدہ ہے۔ 73سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اس بدقسمت ریاست میں ایسے ماہرین تعلیم پیدا یا تیار نہ کئے جا سکے جو نصاب تعلیم کو وطن عزیز کی نظریاتی اساس پر تدوین کر سکتے۔ قومی اہمیت کا یہ کام بدقسمتی سے انتہائی خفیہ طریقے سے اور چھپ چھپا کر کیا گیا۔ اس نصاب کا جو پہلا مسودہ سامنے آیا وہ بھی پبلک نہیں کیا گیا۔ محدود سطح پر بعض پسندیدہ افراد سے رائے لی گئی۔ بعد ازاں فروری 2020ء میں تین روزہ ورکشاپ کی گئی، جس میں صوبوں کے نصاب و درسی کتب کے اداروں کے بعض پسندیدہ اہلکار بلائے گئے۔ اس تعلیمی میلے میں بھی کسی کو پورا نصاب نہیں دکھایا گیا۔ مذکورہ تین روزہ ورکشاپ کے بعد عجلت میں وزیراعظم عمران خان سے منظوری بھی لے لی گئی اور پھر قومی نصاب کے طور پر اپریل 2021ء سے اسے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ وزیراعظم سے منظوری مارچ 2020ء میں لی گئی اور اب جولائی ہے لیکن حتمی مسودہ قوم کے علم میں نہیں لایا گیا۔ نصاب تعلیم پر نظر رکھنے والے کچھ ماہرین تعلیم نے اصل مسودہ اپنے ذرائع سے حاصل کیا جس کی بنیاد پر مجوزہ نیشنل کریکولم پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن واضح ہوتی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم فی الحقیقت یہ جنرل پرویز مشرف کی این جی اوز زدہ آمرانہ حکومت میں تیار کیا گیا 2006ء کا متنازعہ نصاب ہے۔ اس نصاب کی نظرثانی، تدوین اور اسے حتمی شکل دینے کا کام آغا خان یونیورسٹی، برطانیہ کی واٹر ریڈ، امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مقامی ایجنٹوں، بیکن ہاؤس، اور کیمبرج کے ماہرین اور بعض دیگر سیکولر این جی اوز کی شمولیت سے سر انجام دیا گیا۔ حدیہ ہے کہ قومی اداروں یعنی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، بلوچستان یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، اور کراچی یونیورسٹی کے ادارہ ہائے تعلیم و تحقیق و شعبہ ہائے ایجوکیشن کے اعلیٰ درجے کے ماہرین میں سے کسی کو شامل نہیں کیا گیا۔ صوبوں کے نصابات اور درسی کتب کے اداروں کے تجربہ کار ماہرین کو نظر انداز کیا گیا۔ محض سیکولر لبرل قسم کی آرگنائزیشن کو ہی اس کام کے لئے منتخب کرنے کا مطلب واضح ہے کہ وطن عزیز کے تعلیمی عمل سے نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کو کھرچ کر باہر کرنا ہے۔ عمران خان حکومت کے دیگر کارناموں کی طرح یہ بھی ایک کارنامہ ان کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہو گا۔ اگر قومی نصاب تعلیم پر پوری قوم کا اتفاق رائے حاصل نہ کیا گیا تو محض چند لوگوں کی سیکولر اور لبرل انا پرستی اور ان کے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی آرزو سے قومی تعلیم کے حوالے سے موجودہ حکومت کے کھاتے میں ایک اور ناکامی سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔



اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت


اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت عمیر پرویز خان قرنطینہ کے سبب حسب معمول تاخیر سے جاگا اور عادتاََ پہلا کام موبائل سکرین پر نظر دوڑائی۔ حیرت کی انتہاء نہ رہی جب مختلف دوستوں کی جانب سے انباکس میں مبارکباد کے پیغامات پڑھے کہ آزاد کشمیر کی عدلیہ میں تقریباََ دو سال قبل کی گئی تقرریاں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی و غم کے جذبات بھی سراعیت کر گے کیونکہ جس شخصیت نے ریاست آزاد کشمیر کی عوام کے لئے اصولی موقف اپنایا تھا وہ ظاہری طور پر نومبر ۸۱۰۲ میں اس دنیا سے پردہ فرما چکے۔ عدلیہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ہائی کورٹ میں تعیناتیوں کے حکومت آزاد کشمیر کے عمل کے خلاف ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم) نے دو برس قبل ۸۱۰۲ میں آزاد کشمیر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ہائی کورٹ کی تعیناتیوں میں صدر مسعود خان،و زیر اعظم فاروق حیدر خان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے خلاف آئین اقدام کیا اور تمام قبیلوں کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں کیں جس سے انصاف کا قتل ہوا ہے اور آئین میں وضع کردہ اصولوں سے منخرف ہوتے ہوئے ایک آسامی کے خلاف ایک ہی نام تجویز کر کے ججز کی تعیناتی کی جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے مزید یہ نقطہ بھی اٹھایا تھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آفتاب تبسم علوی نے ان سفارشات پر مختلف رائے دی اور ان کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں جواخلاقی و قانونی اعتبار سے درست نہ تھا۔ اس تقریر کے دوسرے دن چیف جسٹس سپریم کورٹ ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کو عدالت میں آ کر وضاخت کرنے کا نوٹس جاری کیا جس پر سردار خالد ابراہیم خان نے اصولی موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 34 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے لہذیٰ اس غیر آئینی اقدام کو نہیں مانتا اور اس چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ۰۰۰۵۱ تنخواہ لینے والے سپاہی کو گرفتاری دے سکتا ہوں لیکن ان مراعات یافتہ ججوں کی عدالت میں پیش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے جہاں ان کا اداروں پر یقین ثابت ہوتاتھا وہیں ان کا اداروں میں بیٹھے کرپٹ لوگوں سے لڑنے کا عزم بھی۔ اور ان کی اس بات کی لاج خدا بزرگ و برتر نے بھی رکھی اور ۸ نومبر ۹۱۰۲ کو اریسٹ کئے جانے یا عدلات میں پیش کئے جانے سے پہلے ہی ۴ نومبر ۹۱۰۲ ان کو اپنی عدالت میں بلا لیا۔ سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی فلور پر تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ ججز گھر جائیں گے اور کیا پتہ اس وقت ہم ہوں گے یا نہیں۔ اور آج وہ دن آ گیا جب اس سیاست کے کربلا کے اکیلے حسین کے کہے گے الفاظ پورے ہوئے۔ ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی تقرری کو سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے جج راجہ سعید اکرم و دیگر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں غیر آئنی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیاہے۔ عدلیہ کے اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء نے بد نیتی کی بنیاد پر سردار خالد ابراہیم خان کو توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا اور وزیر اعظم فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سابق چیف جسٹس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ سردار خالد ابرہیم خان جیسی شخصیت کا اس طرح کا سخت موقف چیف جسٹس اور حکومت دونوں کے لئے درد سر بن گیا تھا اور اس پورے عرصہ میں ریاست بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا رہا لیکن سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کو ریاست کی تمام برادریوں سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے سراہا اور ان کی حمایت میں بیان بھی دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس تمام وقت میں کچھ عقل سے عاری لوگ اسے برادری ازم کا بھی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ ابراہیم ضیاء کی برادری کے ۸ وزراء کرام نے چیف جسٹس کے حق میں پریس کانفرنس کر کے براردری ازم کی بدترین مثال قائم کی لیکن خالد ابراہیم خان کی شخصیت کے ہوتے ہوئے وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سردار خالد ابرہیم نے کبھی بھی کسی ایک مخصوص برادری و قبیلہ کے مفاد کا تخفظ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اصول کے ساتھ کھڑے رہے جس کی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں لیکن قارئین کے خافظہ کو تازہ کرنے کے لئے خالد ابراہیم خان کا 90 کی دہائی میں عتیق کمیشن کے خلاف اسمبلی سے احتجاجاً استعفیٰ دینا اور پھر اس کے نتیجہ میں 484 لوگوں کا ملازمتوں سے فارغ ہونا جس میں اکثریت سردار خالد ابراہیم کے اپنے قبیلہ اور پونچھ کے لوگوں کی تھی، بہترین نظیر ہے۔ اس تمام جدوجہد کو سردارخالد ابراہیم خان کی وفات کے بعد بھی جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے جاری رکھا۔ ۸۱۰۲ جون میں ہی وکلاء خضرات جن میں شاہد بہار ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز، سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ، عزت بیگ ایڈووکیٹ،شمشاد ایڈووکیٹ، فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر عدنان نواز و دیگر نے ان تقرریوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ تقریباََ دوسال کے بعد سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے (چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کے ریٹائر ہونے کے ۳ ماہ بعد) مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق چیف جسٹس انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جن جج خضرات کی تقرری کالعدم قرار دی گئی ان میں راجہ سجاد ایڈووکیٹ،سردار اعجاز خان ایڈووکیٹ، خالد یوسف ایڈووکیٹ، چودھری منیر ایڈووکیٹ اور رضا علی خان ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ اس کیس میں دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے دفتر کی جانب سے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدرآزاد کشمیر نے اس وقت کے چیف جسٹس ہائی کورٹ ایم تبسم علوی سے مشاورت کی تھی۔ اس بیان حلفی کو وکلاء نے چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس بیان حلفی کو دلائل کی بنیاد پر رد کر دیا۔ قانونی و سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل پڑی ہے اور یہ مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ صدر ریاست کو عدالت عالیہ میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرانے پر اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اسمبلی میں ان کے مواخذہ کی تحریک پیش کی جانی چاہئے۔ مزید یہ کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کی بد تینی چونکہ اب ثابت ہو چکی ہے لہذیٰ سردار خالد ابراہیم خان مرحوم توہین عدالت کیس دوبارہ کھولا جائے اور اس میں عدالتی ریکارڈ میں درستگی کرتے ہوئے ابرہیم ضیا ء سے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرنے پر اعلٰی عدلیہ جواب طلب کرے اور تحریری معافی نامہ لیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ کا حالیہ عمل یقینا عدلیہ کی تاریخ میں مثال بن چکا ہے اور اس فیصلے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ضرورت اس عمل کی ہے کہ جو عدلیہ بحران ان پانچ ججز کی تقرریاں کالعدم قرار ہونے کے بعد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس حوالے سے حکومت حکمت عملی طے کرے اور سیاسی بنیادوں سمیت ججز کی تقرریوں میں کسی بھی قسم کی کرپشن کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی کرے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال بنا کر اس کے ذریعہ تعیناتیاں کی جائیں یا جیسے ذیلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتیوں کے لئے طریقہ امتحان طے ہے ویسے ہی پی ایس سی کے ذریعہ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کاطریقہ کار طے کرنا چاہئے تاکہ میرٹ پر تعیناتیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی مراعات پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہئے کیونکہ آزادکشمیر کا خطہ اقتصادی لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے عا م آدمی کے ٹیکس سے بھاری مراعات سے اعلیٰ عدلیہ کالطف اندوز ہونا کوئی مناسب عمل نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ ہے جس میں ٹیکس کی آمدنی آزادکشمیر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جب کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی تقریباََ پینتالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر میں عدلیہ کو پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے برابر مراعات دینا عقلمندی نہیں اور بجٹ پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں عدالتی اصلاحات کے لئے مکالممہ کا آغاز کیا جائے۔ عدلیہ تحریک کے تمام ہمدردوں کو مبارک ہو!



اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت


اعلٰی عدلیہ کا تاریخی فیصلہ اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت عمیر پرویز خان قرنطینہ کے سبب حسب معمول تاخیر سے جاگا اور عادتاََ پہلا کام موبائل سکرین پر نظر دوڑائی۔ حیرت کی انتہاء نہ رہی جب مختلف دوستوں کی جانب سے انباکس میں مبارکباد کے پیغامات پڑھے کہ آزاد کشمیر کی عدلیہ میں تقریباََ دو سال قبل کی گئی تقرریاں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی و غم کے جذبات بھی سراعیت کر گے کیونکہ جس شخصیت نے ریاست آزاد کشمیر کی عوام کے لئے اصولی موقف اپنایا تھا وہ ظاہری طور پر نومبر ۸۱۰۲ میں اس دنیا سے پردہ فرما چکے۔ عدلیہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ہائی کورٹ میں تعیناتیوں کے حکومت آزاد کشمیر کے عمل کے خلاف ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم) نے دو برس قبل ۸۱۰۲ میں آزاد کشمیر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ہائی کورٹ کی تعیناتیوں میں صدر مسعود خان،و زیر اعظم فاروق حیدر خان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے خلاف آئین اقدام کیا اور تمام قبیلوں کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں کیں جس سے انصاف کا قتل ہوا ہے اور آئین میں وضع کردہ اصولوں سے منخرف ہوتے ہوئے ایک آسامی کے خلاف ایک ہی نام تجویز کر کے ججز کی تعیناتی کی جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے مزید یہ نقطہ بھی اٹھایا تھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آفتاب تبسم علوی نے ان سفارشات پر مختلف رائے دی اور ان کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں جواخلاقی و قانونی اعتبار سے درست نہ تھا۔ اس تقریر کے دوسرے دن چیف جسٹس سپریم کورٹ ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کو عدالت میں آ کر وضاخت کرنے کا نوٹس جاری کیا جس پر سردار خالد ابراہیم خان نے اصولی موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 34 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے لہذیٰ اس غیر آئینی اقدام کو نہیں مانتا اور اس چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ۰۰۰۵۱ تنخواہ لینے والے سپاہی کو گرفتاری دے سکتا ہوں لیکن ان مراعات یافتہ ججوں کی عدالت میں پیش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے جہاں ان کا اداروں پر یقین ثابت ہوتاتھا وہیں ان کا اداروں میں بیٹھے کرپٹ لوگوں سے لڑنے کا عزم بھی۔ اور ان کی اس بات کی لاج خدا بزرگ و برتر نے بھی رکھی اور ۸ نومبر ۹۱۰۲ کو اریسٹ کئے جانے یا عدلات میں پیش کئے جانے سے پہلے ہی ۴ نومبر ۹۱۰۲ ان کو اپنی عدالت میں بلا لیا۔ سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی فلور پر تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب یہ ججز گھر جائیں گے اور کیا پتہ اس وقت ہم ہوں گے یا نہیں۔ اور آج وہ دن آ گیا جب اس سیاست کے کربلا کے اکیلے حسین کے کہے گے الفاظ پورے ہوئے۔ ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی تقرری کو سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے جج راجہ سعید اکرم و دیگر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں غیر آئنی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیاہے۔ عدلیہ کے اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء نے بد نیتی کی بنیاد پر سردار خالد ابراہیم خان کو توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا اور وزیر اعظم فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سابق چیف جسٹس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ سردار خالد ابرہیم خان جیسی شخصیت کا اس طرح کا سخت موقف چیف جسٹس اور حکومت دونوں کے لئے درد سر بن گیا تھا اور اس پورے عرصہ میں ریاست بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا رہا لیکن سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کو ریاست کی تمام برادریوں سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے سراہا اور ان کی حمایت میں بیان بھی دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس تمام وقت میں کچھ عقل سے عاری لوگ اسے برادری ازم کا بھی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ ابراہیم ضیاء کی برادری کے ۸ وزراء کرام نے چیف جسٹس کے حق میں پریس کانفرنس کر کے براردری ازم کی بدترین مثال قائم کی لیکن خالد ابراہیم خان کی شخصیت کے ہوتے ہوئے وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سردار خالد ابرہیم نے کبھی بھی کسی ایک مخصوص برادری و قبیلہ کے مفاد کا تخفظ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اصول کے ساتھ کھڑے رہے جس کی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں لیکن قارئین کے خافظہ کو تازہ کرنے کے لئے خالد ابراہیم خان کا 90 کی دہائی میں عتیق کمیشن کے خلاف اسمبلی سے احتجاجاً استعفیٰ دینا اور پھر اس کے نتیجہ میں 484 لوگوں کا ملازمتوں سے فارغ ہونا جس میں اکثریت سردار خالد ابراہیم کے اپنے قبیلہ اور پونچھ کے لوگوں کی تھی، بہترین نظیر ہے۔ اس تمام جدوجہد کو سردارخالد ابراہیم خان کی وفات کے بعد بھی جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے جاری رکھا۔ ۸۱۰۲ جون میں ہی وکلاء خضرات جن میں شاہد بہار ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز، سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ، عزت بیگ ایڈووکیٹ،شمشاد ایڈووکیٹ، فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر عدنان نواز و دیگر نے ان تقرریوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ تقریباََ دوسال کے بعد سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے (چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کے ریٹائر ہونے کے ۳ ماہ بعد) مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں تعیناتیوں کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابق چیف جسٹس انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جن جج خضرات کی تقرری کالعدم قرار دی گئی ان میں راجہ سجاد ایڈووکیٹ،سردار اعجاز خان ایڈووکیٹ، خالد یوسف ایڈووکیٹ، چودھری منیر ایڈووکیٹ اور رضا علی خان ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ اس کیس میں دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے دفتر کی جانب سے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا گیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدرآزاد کشمیر نے اس وقت کے چیف جسٹس ہائی کورٹ ایم تبسم علوی سے مشاورت کی تھی۔ اس بیان حلفی کو وکلاء نے چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس بیان حلفی کو دلائل کی بنیاد پر رد کر دیا۔ قانونی و سیاسی حلقوں میں یہ بحث چل پڑی ہے اور یہ مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ صدر ریاست کو عدالت عالیہ میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرانے پر اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے از خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر اسمبلی میں ان کے مواخذہ کی تحریک پیش کی جانی چاہئے۔ مزید یہ کہ سابق چیف جسٹس ابراہیم ضیاء کی بد تینی چونکہ اب ثابت ہو چکی ہے لہذیٰ سردار خالد ابراہیم خان مرحوم توہین عدالت کیس دوبارہ کھولا جائے اور اس میں عدالتی ریکارڈ میں درستگی کرتے ہوئے ابرہیم ضیا ء سے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرنے پر اعلٰی عدلیہ جواب طلب کرے اور تحریری معافی نامہ لیا جائے۔ اعلیٰ عدلیہ کا حالیہ عمل یقینا عدلیہ کی تاریخ میں مثال بن چکا ہے اور اس فیصلے سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ ضرورت اس عمل کی ہے کہ جو عدلیہ بحران ان پانچ ججز کی تقرریاں کالعدم قرار ہونے کے بعد پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس حوالے سے حکومت حکمت عملی طے کرے اور سیاسی بنیادوں سمیت ججز کی تقرریوں میں کسی بھی قسم کی کرپشن کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی کرے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال بنا کر اس کے ذریعہ تعیناتیاں کی جائیں یا جیسے ذیلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتیوں کے لئے طریقہ امتحان طے ہے ویسے ہی پی ایس سی کے ذریعہ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کاطریقہ کار طے کرنا چاہئے تاکہ میرٹ پر تعیناتیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی مراعات پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہئے کیونکہ آزادکشمیر کا خطہ اقتصادی لحاظ سے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے عا م آدمی کے ٹیکس سے بھاری مراعات سے اعلیٰ عدلیہ کالطف اندوز ہونا کوئی مناسب عمل نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آبادی ۲۲ کروڑ ہے جس میں ٹیکس کی آمدنی آزادکشمیر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جب کہ آزاد کشمیر کی کل آبادی تقریباََ پینتالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر میں عدلیہ کو پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے برابر مراعات دینا عقلمندی نہیں اور بجٹ پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر میں عدالتی اصلاحات کے لئے مکالممہ کا آغاز کیا جائے۔ عدلیہ تحریک کے تمام ہمدردوں کو مبارک ہو!



نظریاتی ریاست کے لبرل سیاست دان


نظریاتی ریاست کے لبرل سیاست دان از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ نظریہ وہ بنیاد حیات ہے جس پر قومیں وجود میں آتی ہیں۔ قومیں مذہبی، علاقائی، لسانی، رنگ و نسل کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ مغربی نظریہ قومیت انہی بنیادوں پر ہے، جو زیادہ دیر پا نہیں ہے۔ سینکڑوں قومیں اس بناء پر وجود میں آئیں اور پھر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ اس کے برعکس دین اسلام نے قومیت کے بجائے ملت کانظریہ پیش کیا ہے، جس کی بنیاد کلمہ شہادت ہے، یعنی بنی نوع انسان میں سے جس نے بھی رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھ لیا، وہ ملت اسلامیہ میں شامل ہو گیا۔ ملت اسلامیہ وسیع المفہوم ہے، یہاں رنگ و نسل، علاقہ، زبان، اس کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے اور اولاد آدم میں سے کوئی بھی شخص جو کلمہ گو ہے، وہ ملت اسلامیہ کا حصہ ہے اور وہ اسی بنیاد پر ایک وحدت میں ضم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں شرق و غرب سے تشریف لانے والے مختلف نسل، رنگ، زبان اور علاقہ کے حامل تھے، لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے بھائی تھے۔ حضرت بلال حبشی، حضرت سلمان فارسی، حضرت صعیب رومی یہ وحدت اسلامی میں شامل ہو کر ان حجاز مقدس کے باسیوں کے بھائی بن گئے جو قریش تھے، حجازی، ہاشمی تھے۔ مہاجر تھے، انصار تھے، مہاجر اور انصار آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ نہ کوئی نسبی رشتہ اور نہ کوئی علاقائی رشتہ، اور وہ عرب اور قریش سردار ان ان سے الگ ہو کر عتاب و عذاب کا شکار ہو گئے، جیسے ابولہب، ابوجہل وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک ملت اور کفار کو دوسری قرار دیا ہے۔ گویا کھلم کھلا دو نظریات کے پیروکاروں کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کو پھر رحمن اور شیطان کی دو الگ الگ جماعتیں قرار دیا ہے۔ یہ نظریہ ہی تھا جس کے لئے نبی کریمﷺ نے کفار مکہ کی سختیاں برداشت کیں۔ شعیب ابوطالب گھاٹی میں تین سال گزارے۔ طائف میں پتھر کھائے، جنگ بدر، احد اور خندق ہوئی اس سے کوئی بھی انحراف نہیں کر سکتا۔ جنگ بدر میں اسی نظریہ کی فتح تھی۔ فتح مکہ کے دن اسی نظریہ مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، حق کے آنے اور باطل کے مٹنے کا اعلان۔ ریاست مدینہ کا قیام اسی نظریہ کی بنیاد پر تھا۔ نبی کریمﷺ کو پیشکش کی گئی تھی۔ کچھ عرصہ تم ہمارے دیوی دیوتاؤں کی پوجاپاٹ کرلو اور کچھ عرصہ ہم تمہارے خدا کی عبادت کر لیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون نازل کرکے مشرکین عرب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ اب قیامت تک یہی اُصول، یہی ضابطہ اور یہی نظریہ باقی رہے گا۔ یعنی کفر و اسلام کے نظریات جدا جدا ہیں۔ وہ کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دونوں کے ملاپ سے کوئی تیسرا نظریہ قابل قبول ہے۔ دنیا میں پہلی نظریاتی ریاست مدینہ منورہ ہے اور مدینہ منورہ کی اتباع میں دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی ریاست وجود میں آئے گی وہ اسی نظریہ پر قائم ہو گی۔ دنیا میں دوسری بڑی ریاست جو نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی وہ ریاست پاکستان ہے، جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ پاکستان کے قیام کا مقصد اسلامی نظریہ حیات کو نافذ کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ۷۴۹۱ء میں جو نعرہ بلند ہوا، یہی تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ یعنی یہ ملک کلمہ شہادت کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے۔ اسی نظریہ حیات کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے جانی و مالی قربانیاں دیں اور ہجرت پر مجبور ہوئے۔خاندانوں کے خاندان ہندو اور سکھ شدت پسند جتھوں کے ہاتھوں تہ تیغ ہوئے۔ ۷۴۹۱ء کے دلخراش واقعات سن کر اور پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور قیام کے ساتھ ہی قرارداد مقاصد نے نئی ریاست کے خدوخال واضع کر دئیے۔ قرارداد مقاصد میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے اور غیرمسلم اقلیتوں کو اپنے مذہب اور عقائد پر عمل کرنے اور اپنی اپنی ثقافتوں اور روایات کو ترقی دینے کی مکمل آزادی ہو گی۔ اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے جائز حقوق کی حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔ بعد میں بتائے جانے والے دساتیر بالخصوص ۳۷۹۱ء کے آئین میں اسے اور زیادہ موثر اور واضح کر دیا گیا اور یہ سب اتفاقِ رائے سے ہوا۔ مسلمان کی تعریف، دین اسلام کی سربلندی، حاکمیت اعلیٰ کا تصور، اسلامی تعلیمات کا فروغ، توہین مذہب کے قوانین، ممبر اسمبلی کے لئے صادق و امین وغیرہ سمیت اسلامی نظریہ حیات کو فروغ دینے میں عملی اقدامات یہ سب کچھ آئین پاکستان میں موجود ہے۔ ساتھ نظریہ پاکستان کے خلاف تحریری یا تقریری قولی یا فعلی مسلم و غیرمسلم جو بھی اس میں ملوث ہو گا وہ قابل تعزیر ہو گا۔ اس کے خلاف آئین پاکستان کی خلاف ورزی پر مقدمہ بغاوت چلایا جائے گا اور یہ کہ اس نظریہ حیات کی خلاف ورزی پر اس کی قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی جائے گی، لیکن بدقسمتی سے ان تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر اس اسلامی نظریاتی ریاست کو سیکولر اور لبرل بنانے کی کوشش جاری ہے۔ مذہبی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریباں بنا دیا گیا۔ جمعیت علماء پاکستان نے ۰۷۹۱ء میں پارلیمانی جماعت کے طور پر ۳۷۹۱ء کے آئین کو اسلامی آئین قرار دینے میں اہم کام کیا۔ ۴۷۹۱ء میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، نتیجہ اُسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اس کی جگہ ایک لبرل اور سیکولر جماعت مہاجر قومی موومنٹ کو جنم دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ سیکولرزم کی باتیں کیں۔ مذہبی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں آنے سے روکنے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں۔ کچھ مذہبی جماعتوں کو دانا دنکا دے کر مطمئن کر دیا گیا۔ پاکستان کے سیاست دان اور ا نکی سیاسی جماعتیں اگرچہ سیاست میں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار تقاریر بھی کرتے ہیں، لیکن قادیانی مسئلہ پر، توہین مذہب کے معاملہ پر، قانون توہین رسالت پر، غیرمسلموں سے محبت پر سب یکساں ہیں اور ایک دوسرے کے اتحادی بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں مندر کی تعمیر پر گرماگرم بحث ہوئی۔ اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیر پر تمام جماعتیں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، ایم کیوایم یہ تمام جماعتیں مندر کی تعمیر کے حق میں ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں۔ خواجہ آصف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ معاذاللہ ”کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت نہیں ہے“ یہ کہہ کر خواجہ آصف نے اسلام کی بنیادی تعلیم سے انکار کیا ہے۔ دو قومی نظریہ اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ان کی رکنیت باقی نہیں رہتی اور ان کے خلاف مقدمہ بنتا ہے، اگرچہ اب وہ اس سے انکاری ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ خواجہ آصف کی تائید پر ایک صفحہ پر ہیں، البتہ مسلم لیگ (ق) نے مندر کی مخالفت کی ہے، لیکن اُس نے اپنے دورِحکومت میں اس سے بھی بڑھ چڑھ کر گوردواروں اور مندروں پر کام کیا تھا۔ یہ لبرل سیاست دان چونکہ بنیادی طور پر غیرمسلموں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ اس لئے ان کی مذہبی رسومات میں بھی جاکر اس شرکیہ عمل سے گزرتے ہیں جو ہندو یا سکھ کرتے ہیں۔ انہی کی طرح ماتھے پر تلک لگاتے ہیں، زردرنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، مندروں اور گوردواروں میں جاکر دیوی دیوتاؤں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ ہولی و دیوالی میں شریک ہو کر رنگ پھینکتے ہیں۔ مشاہد حسین سیّد، بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، نوازشریف، شہبازشریف، چوہدری برادران، عمران خان، ایم کیو ایم کی قیادت مذکورہ سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار سیاست دان کی ایسی تقریبات میں شرکت ریکارڈ پر موجود ہیں، بلکہ نوازشریف بحیثیت وزیراعظم پاکستان بھارت میں کھڑے ہو کر کہہ چکے ہیں بھارت و پاکستان کے لوگ ایک ہیں، ہم سب کا کلچر ایک ہے، درمیان میں صرف سرحد کی لکیر ہے۔ اس طرح کی تقاریر و بیانات دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کو ایک مذہبی جماعتوں کا ڈر نہ ہو تو وہ اس ملک کو کب کا سیکولر ملک بنا لیتے، لیکن جب تک پاکستان میں ایک بھی کلمہ گو باقی ہے اس نظریاتی ریاست کو سیکولر ریاست بنانے کی لبرل سیاست دانوں کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ مذہبی حلقے کہہ چکے ہیں کہ آئین و قانون میں غیرمسلموں کو جو حقوق حاصل ہیں، وہ ان کو ضرور ملنا چاہیے، لیکن ایک اور دین الٰہی کی یہاں گنجائش نہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی پر قائم رہے گا۔



آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں، قابلِ عمل راہ کون سی ہے؟


آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں، قابلِ عمل راہ کون سی ہے؟ جسٹس(ر)منظور حسین گیلانی میں نے اپنے گزشتہ کالم میں سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے ایک فیصلہ کے ذریعہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے پانچ ججوں اور اس سے پہلے متعدد بار کئی ججوں کی ایک ہی جیسی وجوہات کی بناء پر برطرفی پر تبصرہ کیا تھا- چند ماہ پہلے اسی اصول کو کھینچ تان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی برطرف کیا گیا تھا ، حالانکہ سپریم کورٹ اس سے پہلے اس تقرری کو درست قرار دے چکی تھی اور وہ اس کیس سے یکسر مختلف بھی تھا- حالیہ فیصلے میں فاضل سپریم کورٹ نے ضمنی طور اس طرف اشارہ بھی کیا ہے- اس کالم میں، مَیں نے رائج الوقت آئینی طریقہ کار ناکام ہونے کی چند وجوہات بھی لکھی تھیں البتہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کرنا کیا چاہیے ، وہ کالم کی طوالت کی وجہ سے موخر کر دیا تھا- تقرری کے طریقہ کار کو آئین کے مطابق عمل میں نہ لانے کی ذمہ داری سراسر صدارتی سیکریٹریٹ اور کونسل سیکریٹریٹ پر ہے ، لیکن اس غلط کاری کا الزام اور ذمہ داری حکومت پر لگی اور نقصان برطرف ججوں کا ہوا ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے- ریاست کا اقتداراعلیٰ اور ہر ادارے کی بری کارکردگی کے لیے جواب دہ بھی حکومت ہی ہوتی ہے،جبکہ آزاد کشمیر میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے حکومت کے قانون و انصاف کے سکریٹریٹ کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی جاتی حالانکہ رُولز آف بزنس کے تحت یہ اسی کی ذمہ داری اور اختیار میں ہے- تاہم اتنے بڑے عمل کو اس طرح نظر انداز کرنا یقینآ حکومت کی گڈ گورننس کی ذمہ داری ادا کرنے سے پہلو تہی ہے- اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری ان کی درخواست ، کسی کمیشن کے ذریعہ امتحان کے نتیجے یا کار کردگی کی جانچ پڑتال پر نہیں ہوتی ، صرف متعلقہ چیف جسٹسز کے پینل کی بنیاد پر کونسل کی ایڈوائس سے مشروط ہے ، تاہم ایک حکومتی پراسس سے گزرنا پڑتا ہے- اس پراسس کے ناقص ہونے میں متعلقہ امیدواروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا- بہ ایں ہمہ کسی بھی غیرمتوقع فیصلے کی صورت میں عزت، شہرت ، وقار ، مرتبے اور روز گار سے محروم ہونے کا نقصان تو ان کا ہی ہوتا ہے- قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر متعین طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کسی کو فائدہ ملا ہے تو وہ ناجائز استفادہ کے زمرہ میں آتا ہے جس کو اس بنا پر تحفظ نہیں مل سکتا کہ اس میں متاثرہ فریق کا کوئی قصور نہیں تھا، کیونکہ مستفید تو وہی ہورہا ہے - لیکن اس عرصہ کے دوران کیے گئے اقدامات اور حاصل شدہ استفادہ کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ بظاہر ایک جائز فرمان حکومت کے تحت عمل میں آئے ہوتے ہیں اور اس کو تحفظ حاصل رہتا ہے وگرنہ اس کے مضر اثرات کا دائرہ وسیع تر ہوکر نظام کو تلپٹ کر سکتا ہے- قانونی زبان میں اس کو Transactions passed and closed ہونے کی وجہ سے Defacto Doctrine یا Fait accompli کے طور درست قبول کیا جاتا ہے - اس وقت سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مستقل چیف جسٹس کی اسامی خالی ہے جس پر سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج، بطور چیف جسٹس فرائض انجام رہے ہیں ، ان ہی کی مستقل تقرری ہونا آئینی تقاضا ہے، یہ جتنی جلدی ہوجائے اچھا ہے کیونکہ باقی ساری تقرریاں اس کے بغیر ممکن نہیں- اس پر تقرری کے بعد سپریم کورٹ میں ایک مستقل جج کی اسامی خالی ہو جائے گی- ہائی کورٹ میں بر طرف شدہ ججوں کی پانچ اسامیاں خالی ہو گئی ہیں - مستقل چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد اس اسامی پر بھی سینئیر موسٹ جج بطور ایکٹنگ چیف جسٹس ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جن کی مستقل چیف جسٹس کے طور تقرری بھی آئینی تقاضا ہے، جس کے بعد چھ مستقل خالی اسامیوں پر تقرری ہو سکتی ہے- آئینی تقاضوں کے تحت سب سے پہلے چیف جسٹس آزاد کشمیر، یعنی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی اسامی پر تقرری ناگزیر ہے ، کیونکہ سپریم کورٹ کے جج اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری مستقل چیف جسٹس کی سفارش کے بغیر نہیں ہو سکتی- چیف جسٹس آزاد کشمیر کی تقرری کسی سفارش کی محتاج نہیں جس کی خاطر معاملہ پہلے سے کونسل کے زیر کار ہے، اس لیے اس پر فوری تقرری ہونا چاہیے تاکہ باقی ججوں کی تقرری ممکن ہو سکے ، جس میں پہلے تو سپریم کورٹ میں ایک اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری ہی ہو سکتی ہے- ہائی کورٹ کے باقی ججوں کی تقرری ، ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے بعد ہی ہو سکتی ہے ، ایکٹنگ چیف جسٹس سفارش کر سکتے ہیں نہ ہی سابق چیف جسٹس صاحبان کی سفارشات کی کوئی قانونی حیثیت رہی ہے- اس لیے جب تک مستقل چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی تقرری نہیں ہوتی، معاملات التواء کا ہی شکار رہیں گے، دونوں بڑے ادارے عملی طور سوالیہ نشان بنے رہیں گے- ججوں کی تقرری کا رائج الوقت طریقہ کار ناکام بنا دیا گیا ہے، گوکہ طویل عرصے سے یہی طریقہ کار بہت اچھے طریقے سے چل رہا تھا- میں وثوق سے، لیکن بادل نخواستہ یہ بات کہتا ہوں کہ طریقہ کار غلط نہیں ہے، لیکن اس پر عمل کرنے اور کرانے والوں کے معیار کی سطح بدل گئی ہے، ترجیحات بدل گئی ہیں ، اس پر ذاتی اور گروہی مفادات حاوی ہوگئے ہیں- اس لیے بدلے ہوئے حالات اور اس پس منظر میں جو ہم کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں، اس طریقہ کار کو بدلنا پڑے گا ، تاکہ شخصی اور منصبی کمزوریوں پر ایک وسیع البنیاد کمیشن کے ذریعہ قابو پایا جا سکے، جو خالی آسامیوں پر تقرری کے لیے ایک Transparent اور Merit Oriented طریقہ کار مقرر کر کے ، اتفاق رائے یا دو تہائی اکثریت سے تقرریوں کو حتمی صورت دے - پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کرتے ہیں- سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے ممبران میں سپریم کورٹ کے چار سینئر جج، سابق چیف جسٹس یا جج ، فیڈرل وزیر قانون، اٹارنی جنرل ، پاکستان بار کونسل کے نامزد سینئیر وکیل ہیں ، جبکہ ہائی کورٹ میں تقرریوں کے لیے ممبران میں متعلقہ صوبے کا چیف جسٹس اور سینئیر موسٹ جج، متعلقہ صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کا نامزد وکیل بھی ممبر ہوں گے- اس کمیشن کی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی جاتی ہیں- پارلیمانی کمیٹی آٹھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہوتی ہے- یہ اکثریت رائے سے کمیشن کی سفارشات منظور ہونے کی صورت میں تقرری کی منظوری دیتی ہے- اختلاف کی صورت میں معاملہ وجوہات دے کر دوبارہ جوڈیشل کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے- یہ انتظام فیڈرل سسٹم کا تقاضا ہے جبکہ آزاد کشمیر صوبائی مماثلت رکھنے والا خطہ ہے لیکن حکومت پاکستان کے صوبوں کی طرح براہ راست حکومت پاکستان کے کنٹرول میں نہیں، البتہ بالواسطہ حکومت پاکستان کے مختلف ادارے یہاں ویسی ہی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں جیسا مجموعی طورپاکستان بھر میں کرتے ہیں-اس لیے یہاں کمیشن کی تشکیل میں بالواسطہ طور حکومت پاکستان بھی ایک اسٹیک ہولڈر ہے- فی الوقت کشمیر کونسل کے چئیرمین کی حیثیت سے وزیراعظم پاکستان کا ہی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں حتمی رول ہے جو بذات خود آمرانہ عمل ہے اور اس وجہ سے ہی اکثر بے ضابطگیاں ہوتی ہیں- اس لیے کمیشن کی تشکیل میں حکومت پاکستان کی نمائندگی سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ، لیکن کُلی اختیار وزیراعظم پاکستان/ چئیرمین کشمیر کونسل کو بھی نہیں دیا جا سکتا- پاکستان جوڈیشل کمیشن سے رہنمائی لیتے ہوئے اس کی روح مقامی حالات میں سموئی جا سکتی ہے جو آزاد کشمیر کے ' تیتر ، بٹیر' سیاسی نظام میں توازن برقرار رکھ کے بہتر نتائج کا ضامن ہو سکتا ہے- آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کے پس منظر میں اعلیٰ عدلیہ اور اس سے مماثلت رکھنے والے دیگر اداروں ، شریعت کورٹ، الیکشن کمیشن، احتساب کمیشن، چئیرمین پبلک سروس کمیشن ، محتسب اعلیٰ کی تقرری کے لیے مشترکہ کمیشن کی تشکیل کی ضرورت ہے جو 'جوڈیشل سلیکشن بورڈ ' کے نام سے تشکیل پائے جس کے لیے آزاد کشمیر کے آئین میں دفعہ 41-A کا اضافہ کیا جانا مطلوب ہے - اس کی ہئیت ترکیبی ARJK تھنک ٹینک نے پہلے 2012 میں‌تجویز کی جس کا اعادہ 2014 میں دوبارہ کیا گیا ہے ، اس کی تفصیل یہ ہے: 'چیف جسٹس آزاد کشمیر کمیشن کے چئیرمین ہوں گے جس کے ممبران میں، سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج، چیف جسٹس ہائی کورٹ، سینئیر موسٹ جج ہائی کورٹ، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے دو ریٹائرڈ چیف جسٹس یا جج، ( جو ڈیشل ممبران) مرکزی وزیر کشمیر اور گلگت افئیرز یا حکومت پاکستان کا نامزد کردہ کوئی دوسرا وزیر، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، آزاد کشمیر کے وزیر قانون، آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کا وائس چئیرمین، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر- کمیشن کو اپنی کارروائی کے لیے خود قواعد بنانے کا اختیار ہوگا- ہر اسامی کے لیے کمیشن دو تہائی اکثریت سے صرف ایک نام تجویز کرے گا جبکہ چیف جسٹس کے لیے صرف سینئر موسٹ جج کو ہی تجویز کیا جائے گا - سفارش کے ایک ہفتہ کے اندر صدر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے-' میں حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان ، آزاد کشمیر کے چیف جسٹس صاحبان اور ان کے ہاتھ ، کان ، آنکھوں اور زبان کا کام کرنے والوں سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے آپ ، اپنے اختیارات اور اپنی انا سے بالا تر ہوکر اداروں اور مملکت کے بہتر مفاد میں کام کریں ، تاکہ اقتدار سے باہر آنے کے بعد، ان کو اپنے غلط عمل پر افسوس نہ ہو-



"ساوتھ ایشیا فیڈریشن" ممکن ہے؟


سچ تو یہ ہے "ساوتھ ایشیا فیڈریشن" ممکن ہے؟ بشیر سدوزئی ۔ ساوتھ ایشیا میں امن و ترقی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی سول سوسائٹی ایک نئی تجویز سامنے لائی ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس میں بھارتی ریاستی ادارے، حکومت یا سیاست دان بھی شامل ہیں یا یہ محض سول سوسائٹی ہی کی اختراع ہے ۔ بھارت کی معروف صحافی اور سوشل میڈیا و سول سوسائٹی کی متحرک رکن نیوپور شرما نے اپنے گروپ کی جانب سے فیس بک پیج nurpur Sharma official پر دونوں ممالک کے عوام کو مخاطب کیا اور 36 منٹ کی گفتگو میں مس شرما نے کہا کہ دوستی اور محبت میں پاکستان ایک قدم آگئیں آئے تو بھارت دو قدم بڑھائے۔ تجویز کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی اور کہا کہ آپس کی لڑائی جھگڑے میں دونوں ممالک کو کوئی فائدہ نہیں تیسرا فائدہ اٹھا رہا ہے جو اسلحہ کا بیوپاری ہے۔ اس کشیدگی کو ختم کر کے عوام کی خوش حالی اور ترقی کے لئے خطہ کے ممالک پر مشتمل "ساوتھ ایشیا فیڈریشن " قائم کی جائے، بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نیوپور شرما کی تجویز ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کو ایک اکائی کے طور فیڈریشن کا حصہ تسلیم کریں۔ اس پر ابھی تک کسی بھی جانب سے ردعمل نہیں آیا تاہم بھارت کی سول سوسائٹی کے اضطراب سے لگتا ہے کہ امریکی عوام کی طرح بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی مودی کی پالیسیوں سے خطہ خصوصا بھارت کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں ۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی نے بھارت کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر کمزور کر دیا ۔ بی جے پی نے نہ صرف گاندھی کے سیکولر بھارت کا چہرہ بگاڑ دیا بلکہ پورے خطہ کو بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی پیدائش ہی اس نظریہ پر ہوئی کہ جب ہندوستان میں پہلے مسلمان نے پہلا قدم رکھا ہندو دھرم کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، اور اس وقت تک دھرم کو خطرہ لاحق ہو گا جب تک ہندوستان سے آخری مسلمان کا آخری قدم اٹھ نہیں جاتا۔ یہاں ہندوستان سے مراد پاکستان اور بنگلہ دیش بھی ہے۔ ایسی سوچ کے لوگوں سے کسی خیر کے توقع رکھنا عبث ہے ۔تاہم بی جے پی کی اس سے قبل قیادت، اٹہل بہاری واجپائی ہوں یا مراجی ڈسائی یا کوئی دوسرا ان میں کچھ تدبر اور سنجیدگی نظر آتی تھی ۔ مودی نہ صرف خطہ کے لیے اسکورٹی رسک ہے بلکہ اس نے خود دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ میں نفرتوں کی آگ لگا دی۔ آج کا بھارت صرف غربت اور افلاس ہی میں نہیں ، باہمی تعصب اور نفرتوں کی آگ میں بھی جل رہا ہے۔ بھارت کا میڈیا کشمیریوں اور پاکستان کے لئے جو زبان استعمال کر رہا ہے، اس سے صاف لگتا ہے کہ ہر کوئی بال ٹھاکرے بیٹھا دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔الزامات کی بوچھاڑ اور نفرت انگیز مہم شروع کی ہوئی ہے جیسا وعدہ معاف گواہ ہو۔ یہ ایک دو میڈیا ہاوسز کا مسئلہ نہیں تمام کے تمام چینل کا یہی طریقہ اور رویہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کو حکومت کی بھی آشیرواد حاصل ہے۔ بھارت جیسے غریب ملک جہاں ایک ارب سے زیادہ لوگ مفلسی اور جہالت کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کو گمراہ کرنا آسان ہے ۔ جب کہ بی جے پی کے بدمعاش میڈیا کے اس پروپیگنڈے کی آگ کو خوب ہوا دے کر پاکستان کے خلاف نفرتوں کو بھڑکاتے ہیں جس کا سارا خمیازہ، کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ ان حالات اور ایسے ماحول میں بھی اگر بھارت میں کچھ لوگ موجود ہیں جو امن اور خوش حالی بھائی چارے کی بات اور اپنی سے کوشش کر رہے ہیں کہ خطہ میں امن اور سکون ہو۔ مسئلہ کشمیر کا آبرومندانہ حل نکل آئے جو دونوں ممالک اور خود کشمیریوں کو قبول ہو، تو ان کی بات پر غور کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے مودی اور اس کے دوستوں کو بھی عقل کی کوئی بات سمجھ آ جائے ۔ بھارت سول سوسائٹی کی " ساوتھ ایشیا فیڈریشن " کی تجویز پر کم از کم دونوں ممالک کی سول سوسائٹی کی حد تک بحث مباحثہ ہو سکتا ہے ۔ ساوتھ ایشیا براعظم ایشیا کے جنوبی علاقوں کو کہا جاتا ہے جس میں 8 ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں نیوپور شرما کی تجویز کے مطابق 9ویں اکائی کشمیر کو شامل کیا جائے ۔اس خطہ کو اللہ تعالی نے وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے لیکن کبھی بھی یہاں کے عوام کو اس سے فوائد حاصل نہیں ہوئے ۔ اس کے ایک طرف دنیا کا تیسرا بڑا سمندر بحرِ ہند اور دوسری جانب بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہمالیہ جو نیپال سے وسط ایشیا تک طویل اور برصغیر و چائنہ کو الگ کرتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کی آبادی دو ارب کے لگ بھگ ہے۔پورے ساوتھ ایشیا میں ہندی اور اردو بڑی زبانیں ہیں جو دونوں بولنے اور سمجھنے میں قریب تر ہیں بنگالی، پشتوں اور دیگر علاقائی زبانیں بھی ہیں لیکن ماضی میں نوآبادیاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے انگریزی سب کی مشترکہ زبان ہے۔ خوبصورتی، زرخیزی اور پیداواری صلاحیتوں کے باعث یہ علاقہ ماضی میں ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کا مفتح رہا۔ انہوں نے اس سرزمین کو لوٹا بھی اور عظیم بھی بنایا ۔ خصوصا مغلوں نے اس خطے کی ثقافت، مذہب اور روایتوں پر بہت اثر چھوڑا جن کی حکومت کا دورانیہ طویل تھا۔زمانہ قدیم میں انڈس سولائیزیشن یا انڈس تہذیب دنیا کی ترقی یافتہ ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ مغلوں کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے قبضے میں رہا جبکہ چند چھوٹے علاقوں پر پرتگال، ہالینڈ اور فرانس کا قبضہ بھی رہا۔ 1940ء کی دہائی کے اوآخر میں یہ خطہ آزاد ہوا تو برصغیر مذہب کے نام پر تقسیم ہو چکا تھا ۔ مسلمانوں نے الگ وطن تو حاصل کیا مگر ہندوں نے ابھی تک اس ملک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا جب کہ انگریز جاتے جاتے مسئلہ کشمیر کو حل طلب چھوڑ کر دونوں ممالک کے درمیان فتنہ ڈال گئے ۔ 73 سال گزرنے کے بعد بھی تمام وسائل سے مالا مال ساوتھ ایشیا ترقی نہیں کر رہا۔ بے پناہ وسائل کے باوجود 60 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ جو برف سے ڈھکہ دیوار کی طرح کھڑا ہے ۔دریائے سندھ، گنگا اور برہم پترا ان پہاڑوں سے پگھلنے والی گلیشیر کے ٹھنڈے پانی سے میدانوں کو زرخیز اور ڈیلٹائی علاقے سبز سونے کی کانیں بنانے کے لئے کافی ہیں۔ وسط میں سطح مرتفع اور ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے سبز سونے کو دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہے۔ لیکن باہمی جھگڑوں کے باعث خطہ کے عوام اللہ تعالی کی دی ہوئی ان سہولیات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سک رہے ۔ آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش زراعت ہونے کے باوجود زرخیز زمین سے معاش حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ حتی کہ رہائش کی مطلوبہ سہولیات نہ ہونے کے باعث آبادی کی بڑی تعداد کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہر لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہوا مگر بدقسمتی سے بھارت کو صاحب بصیرت اور سیاسی تدبر کی قیادت کبھی میسر نہیں آئی جو اس ملک کو قائدانہ پوزیشن میں لے جاتی۔ آبادی اور رقبہ لے لحاظ سے بھارت بڑا ملک ہے اس کی قیادت پر ذمہ داری بھی زیادہ تھی کے آزادی کے بعد وہ خطے کے ممالک کو اپنے ساتھ جوڑتی ۔ چھوٹے ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سفارتی تعلقات اور ہمدردی کا رویہ رکھتی۔ کشمیر پر جبرا قبضے کے بجائے وہاں کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا تو کم از کم بھارت خطہ کا چوہدری ہوتا اور دیگر تمام ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم سے خوفزدہ ہو کر خطہ کے تمام ممالک نے چین کو خوش آمدید کہا، آج چین جنوبی ایشیا کا حصہ نہ ہونے کے باوجود داخل ہو چکا ۔ اب بھارت کے بس میں نہیں کہ چین کو خطہ سے باہر نکال سکے۔افغانستان میں بھارت کا کردار منفی رہا۔طالبان اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ہیں وہ بھارت کے کردار کو بالکل نہیں چاتے۔نیپال بھارتی طرز عمل سے عاجز آچکا ہے اور اس کا جھکاؤ چین کی طرف ہے۔بھوٹان جو بھارت کی ذیلی ریاست تھی اب اس سے چھٹکارا پانے کی راہ تلاش کررہاہے۔بنگلہ دیش اور چین کے تعلقات میں گرم جوشی میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔۔سری لنکا کبھی بھی چین مخالف محاذ میں شامل نہیں ہوسکتا بلکہ چینی کی سرمایاکاری سے استفادہ کررہاہے۔ مختصر یہ کہ بھارت کے علاوہ ساوتھ ایشیا کے تمام ممالک چین کے ون روڑ ون بلٹ منصوبہ کے ساتھ منسلک ہو چکے ۔ انڈین قیادت کے پاس کون سی حکمت عملی ہے کہ ان ممالک کو اس سے علیحدہ کرے ۔ اس کے باوجود نیو پور شرما کی تجویز پر دونوں ممالک کی سول سوسائٹی میں اگر ڈبیٹ ہوتی ہے تو کیا حرج ہے بہتری کی امید کی گنجائش رہنی چاہیے ۔۔۔



آزادکشمیر ہائی کورٹ کے ججوں کی بر طرفی، خرابی کی جڑ کہاں ہے؟


آزادکشمیر ہائی کورٹ کے ججوں کی بر طرفی، خرابی کی جڑ کہاں ہے؟ جسٹس (ر)منظور حسین گیلانی عرف عام میں ہائی کورٹ کے جج کو بھی ہائی کورٹ ہی کہا جاتا ہے ، اس تناظر میں دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے پانچ ہائی کورٹس کو بر طرف کردیا ہے - اس واقعے کا مجھے ذاتی طور سےمختلف وجوہات کی بنا پر افسوس ہوا- ایک تو یہ کہ اتنے بڑے منصب داروں کی تقرری کو خلاف آئین قرار دے کر ان کی برطرفی ، عوام الناس کا اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد متزلزل ہونا، ججوں کی نوکری کا ساتھی ججوں کی خوشنودی پر منحصر رہ جانا، عوام الناس میں حکومت کے اختیارات کے غلط استمعال کا تاثر عام ہو جانا- سب سے بٹ کر یہ کہ میں ذاتی طور دو لوگوں کی اہلیت بہت اچھی طرح جانتا تھا جو میسر لوگوں میں سے اس اہلیت کے حامل ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی نہیں، لیکن میں ذاتی طور ان کی اہلیت سے واقف نہیں- سپریم کورٹ نے بڑا تفصیلی اور مدلل فیصلہ لکھا ہے جس کا مرکز و محور ان ججوں کی تقرری میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت کا آئین کے مطابق نہ ہونا اور صدر آزاد کشمیر کا مسلمہ آئینی اصولوں اور عدالتی نظائر کے خلاف چئیر مین کشمیر کونسل سے ان کی تقرری کی بابت ایڈوائس لینا ہے - تفصیلی فیصلہ میں لکھا ہے کہ جن واقعات کی بنیاد پر چئیر مین کشمیر کونسل نے صدر آزاد کشمیر کی تجویز ایک بار مسترد کر کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے دوبارہ تجویز بھیجنے کی ہدایت کی تھی ، صدر نے ان ہی واقعات کی بنا پر چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت کے بغیر دوبارہ وہی تجویز تین ایسے ناموں کو شامل کرتے ہوئے بھیجی جن کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کبھی تجویز ہی نہیں کیا تھا اور چئیرمین کشمیر کونسل نے اس تجویز سے اتفاق کر کے پانچ ججوں کی تقرری کی ایڈوائس جاری کردی - ایسے حالات میں ملک بھر کی مسلمہ آئینی روایات اور نظائر کی روشنی میں سپریم کورٹ اس کے مغائر کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھی- ججوں کی بر طرفی پر افسوس سے قطع نظر ، مجھے یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ سپریم کورٹ نے سابقہ قانونی نظائر پر عمل کرکے نظائر کا تسلسل بحال رکھا جس کی اعلیٰ عدالتیں امین ہوتی ہیں - گذشتہ چند برسوں سے اعلیٰ عدالتوں نے اپنی ہی کئی مسلمہ نظائر ، جن میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف مقدمات بھی شامل ہیں، کو یکسر نظر انداز کر کے کیس ٹو کیس مقدمات کا فیصلہ کیا ، جس کی کلاسیکل مثال جسٹس علوی کا کیس ہے- اعلیٰ عدلیہ کو کورٹ آف اوریجنل جورس ڈکشن ، کورٹ آف ریکارڈ اور کورٹ آف اپیل کی حیثیت حاصل ہوتی ہے - ان کے فیصلے ان کی حدود کے اندر تمام اداروں کے لئے قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں - ان کو ان روایات اور نظائر کا امین سمجھا جاتا ہے - ان کے فیصلے ہمیشہ معروضی اصولوں (Objective principles )پر مبنی ہوتے ہیں، جو ہمہ گیر اہمیت اور اطلاق کے حامل ہوں ، غیر معروض ( Subjective) محدود نہیں ہوتے نہ ہونے چاہییں - اگر کسی سابقہ رائے کو بدلنا ہو تو معقول تحریری وجوہات کی بناء پر ہی بدلا جا سکتا ہے، اس زعم پر نہیں کہ یہ بڑی اور حتمی عدالت ہے لہٰذا جو چاہے کرتی رہے - 'مشاورت اور ایڈوائس ' کے حوالے سے یہ پہلا کیس نہیں ہے، نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی بر طرفی پہلی بار ہوئی ہے بلکہ 1994-95 سے آج تک اس آئینی اصول اور اس پر متعدد عدالتی نظائر کی خلاف ورزی کی بناء پر کئی تقرریاں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں، لیکن انتظامیہ اس سے سبق نہیں سیکھتی نہ اپنی سمت درست کرتی ہے ، یہ حیرت کی بات ہے اور کم از کم الفاظ میں نالائقی یا بد دیانتی کی انتہا ہے - 1994-95 کے دوران ہائی کورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کی تقرری کو ایڈوائس نہ ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دیا گیا، 1997-98 میں شریعت کورٹ کے ججوں سمیت شریعت کورٹ کو ہی کالعدم قرار دیا گیا ، 2010 میں ہائی کورٹ کے دو ججز کی تقرری کو غیر آئینی مشاورت طریقہ کار کی بناء پر کالعدم قرار دیا گیا- اس کے بعد شریعت کورٹ میں دوبار تقرریوں کو کالعدم قرار دیا گیا- اس بدعت کی ابتداء 1991 میں چیف جسٹسز کی مشاورت کے بغیر ایک وکیل کے ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج کے طور تقرری سے ہوئی، بدقسمتی سے ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے محض اس بناء پر اس کو درست قرار دیا کہ صدر وقت نے اس ایڈوائس کے پروانے پہ لکھا تھا 'میں نے چیف جسٹس سے مشورہ کر لیا تھا' حالانکہ یہ بالکل غلط تھا، اور ہائی کورٹ نے ریکارڈ طلب کرنا بھی گوارا نہیں کیا- سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک اور بات مترشح ہوتی ہے کہ اس کیس میں خط و کتابت صرف چیف جسٹسز، صدر یا صدارتی سیکریٹریٹ اور کونسل سیکریٹریٹ کے درمیان ہی ہوتی رہی ، آزاد حکومت کے وزیر اعظم ، وزیر قانون ، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری قانون کی سطح پر کسی بھی مرحلہ پر ساری خط و کتا بت کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوئی ، حالانکہ ساری کاروائی کو مربوط کرنے کی ذمہ داری سیکریٹری قانون کی ہوتی ہے جو کونسل میں معاملہ ریفر کرنے سے پہلے اور ایڈوائس آنے کے بعد آئین اور رولز آف بزنس کی روشنی میں اس میں کمی کوتاہی کو اتھارٹی مجاز کی روشنی میں لاتے ہیں جس کے نہ ہونے کی وجہ سے تقریبآ پندرہ سال سے اداروں اور افراد کو خفت اٹھانی پڑ رہی ہے - سپریم کورٹ نے اس اہم نکتہ کا نوٹس نہیں لیا- میرے پاس 1991 سے 2010 تک کا ایسا ریکاڈ موجود ہے جس میں سیکریٹریٹ قانوں نے کونسل میں ایڈوائس کے لیے معاملہ بھیجنے سے پہلے اور ایڈوائس آنے کے بعد آئین یا قواعد کار میں کوئی خامی پائی ہو تو اس کی نشاندہی کی ہے - دو بار تو کونسل سے جاری شدہ ایڈوائس بھی واپس ہوئی ہے- ججوں کی تقرری کا آئین میں لفظ “ پریزیڈنٹ “ لکھا ہونے کی وجہ سے، اسٹیبلشمنٹ کے زور یا مرکز میں ہم جماعت حکومت ہونے کے باعث منتخب ہونے والے ہر صدر نے ، ججوں کی تقرری ہی نہیں ، جہاں جہاں تقرری کے لئے لفظ ' پریذیڈنٹ ' لکھا ہے وہاں حکومت کے سارے اداروں کو یرغمال بنا کر یہ حکومتی اختیار غصب کر لیے ہیں- اسی لیے میں اکثر یہی لکھتا رہا ہوں کہ آزاد کشمیر میں ایک “ معلوم الاسم اور معدوم الجسم “ بالاتر حکومت کے علاوہ، تین واضع متوازی حکومتیں کام کر رہی ہیں ، ایک آزاد کشمیر کی منتخب حکومت (جس کے 1/3 حصےکو بھی غیر رہائشی لوگوں نے یرغمال بنایا ہے) دوسری صدر ریاست کی حکومت، تیسری کونسل کی حکومت - ایک المیہ یہ بھی ہے آزادکشمیر کے سیاست کار پہلے باہمی اتفاق سے کسی غیر عوامی و سیاسی اشارے یا مشورے پر اپنے اوپر صدر بنواتے ہیں . اکثر اس عہدے پر فائز ہونے والے فرد کا عوام کے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی عوام میں سیاسی جڑیں ہوتی ہیں. پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس عہدے کے لیے سہولت کار بننے والے(یعنی غیر سیاسی قوتیں) آزادکشمیر کی حکومت کے نظام و نسق کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور پھر یہی سیاست دان شکوے کرتے پھرتے ہیں. آزادکشمیر کے سیاست دانوں کو خود اپنی اداوں پر بھی غور کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسی سیاسی و انتظامی بد عملی کے دور رس بین الاقوامی اثرات مرتب ہوتے ہیں. حالانکہ یہ سارے براہ راست منتخب حکومتی اختیار ہیں ، جن سے مرتب ہونے والے ہر عمل کی جواب دہ حکومت ہے۔ ان اداروں کو حکومت ہی اسمبلی کے ذریعہ قائم کرتی ہے، ان کے لیے بجٹ فراہم کرتی ہے ، ان کے نظم ونسق کے لئے حکومت اسمبلی اور لوگوں کے پاس جواب دہ ہے، صدر اور کونسل کسی کے پاس کسی بھی جگہ جواب دہ نہیں ہیں، اسی لیے یہ ان کا اختیار بھی نہیں ، اس کا ازالہ منتخب حکومت اور اسمبلی ہی کر سکتی ہے اور کرنا چاہیے - سچی بات یہ ہے اس بے ڈھنگے نظام اور بد عملی کے دور رس بین الاقوامی اثرات مرتب ہوئے ہیں جن کا کوئی ذی شعور انسان دفاع بھی نہیں کر سکتا- اس سسٹم کو دیکھنے کے بعد ، تحریک آزادی کے دوران پاکستان آئے ہوئے وادی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے خیالات نے تبدیلی، کشمیر میں خود مختار کشمیر کی تحریک نے زور پکڑا ہے - سپریم کورٹ کے حتمی اپیلیٹ کورٹ ہونے کی حیثیت سے مجھے توقع ہے کہ یہ اپنے اور آزاد کشمیر کی حدود کے اندر کام کرنے والے اداروں کے حدود کا احترام کرنے اور کرانے کو یقینی بنائے گی، اداروں کو آئینی روح کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کی پابند بھی کرے گی اور اچھے دنوں میں معروف آئینی نظائر ، جو دنیا بھر میں رائج اور اسی عدالت نےماضی میں وضع کرنے کے علاوہ ان پر عمل کیا ہے، ( جس کا احیاء اس کیس میں کیا گیا ہے جبکہ جسٹس علوی کے کیس میں تمام روایات کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں) ) ، کو یقینی جاری رکھنے اور حالات کے مطابق زیادہ بہتر اور منصفانہ بنائے گی ، جو نظر بھی آئیں اور محسوس بھی ہوں - Reply al



ڈاکٹر خالد محمود، قابل تحسین انتخاب


ڈاکٹر خالد محمود، قابل تحسین انتخاب شفقت ضیاء جماعتِ اسلامی کا قیام پاکستان بننے سے پہلے 1941ء میں بہت ہی بڑے عالمِ دین، مفکر، مفسرِ قرآن سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے 75دیگر علماء اور علمی شخصیت کی مشاورت سے رکھا، وقت کے ساتھ اسی نام اور بعض ممالک میں دوسرے ناموں کے ساتھ دنیا کے بہت سے ممالک میں اسلامی تحریکوں کی بنیاد اسی سوچ و فکر کے ساتھ رکھی گئی کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے مکمل نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کا وجود ضروری ہے۔اگرچہ کسی بھی ملک میں یہ تحریک مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکی بعض اسلامی ممالک میں اقتدار تک پہنچنے میں کامیابی کے باوجود اسے موقع نہ دیا گیا جبکہ پاکستان میں عوام کی مقبول جماعت نہ بن سکی۔آزاد کشمیر میں 1970 ء تک کہا جاتا ہے کہ سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے کہنے پر اسلام اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے جو خدمات آپ ادا کرنا چاہتے ہیں وہی کام ہم مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کر رہے ہیں اس لیے اس کی آزاد کشمیر میں ضرورت نہیں ہے کی وجہ سے 30 سال تک اقامتِ دین کا کام اُن کے سپرد رہا اس کے بعد احساس ہوا کہ یہ وہ کام نہیں ہو رہا جس کے بعد جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا آزاد کشمیر میں پاکستان کے مقابلہ میں بہتر دینی ماحول ہونے کے باوجود 50سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود جماعت اسلامی اقتدار سے کوسوں دور بامشکل خصوصی نشست پر سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور خاتون ممبر کی صورت میں موجود ہے مگر عوام کی مقبول جماعت بننے میں تا حال کامیاب نہیں ہو سکی ایک نظریاتی جماعت،با صلاحیت کارکنان کی ٹیم اور عوامی خدمت کے کام،اچھا ماحول ہونے کے باوجودعوام میں پذیرائی حاصل نہ ہونا جماعتِ اسلامی کی قیادت کے لیے سوالیہ نشان اور لمحہ فکریہ ہے۔تاہم جماعت اسلامی نے خامیوں،کوتاہیوں کے باوجود تسلسل سے جماعتی انتخابات کرا کر ایک جمہوری جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے،بلکہ دیگر جماعتوں کے لیے باعثِ تقلید بھی ہے ایسے میں جب پاکستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کے قبضے ہیں دولت سے عہدے اور منصب خریدے جاتے ہیں، انتخابات کے بجائے سلیکشن ہوتی ہے، معیار اور کارکردگی کے بجائے دولت، تعلق اور سفارش سے کام چلتا ہے، وہاں سراج الحق جیسے سفید پوش اور آزاد کشمیر میں ڈاکٹر خالد جیسے درویش کا انتخاب ہوتا ہے،جومثبت سائن اور یقینا دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ غورہے، جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں آتی تو درست قیادت سامنے نہیں آ سکے گی،جس کا نقصان سیاسی جماعت کے ساتھ ملک و قوم کا ہوتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے انتخاب کے طریق کار میں ایک خامی یہ ہے کہ انتخاب کے لیے صرف جنرل کونسل کے ارکان کو حق دیا جاتا ہے اگر اس کے بجائے کارکنان تک کو اس میں شامل کیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں تاہم ایک ایسے دور میں جب مفادات اور مادہ پرستی اپنے عروج پر ہے جس کے اثرات سے جماعت اسلامی بھی محفوظ نہیں ہے، اگرچہ یہ حکومت میں نہیں پائی جاتی لیکن اپنے اداروں میں نوکریاں ہوں یا دیگر معاملات کہیں نہ کہیں مفاد کا عنصر ادھر بھی آیا ضرور ہے، اس کے باوجود قیادت کے چناؤ میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں ارکان کا شعور قابلِ تحسین ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود جیسا ہیرا موجود ہونے کے باوجود ان کا انتخاب نہ ہوتا تو یہی سمجھا جاتا کہ ابھی چند ہزار لوگ بھی تیار نہ ہو سکے جو درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر خالد محمود ایک با کردار انسان ہیں جن کے بارے میں ہی شاید کہا گیا ہے کہ وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب جس کا ہے بے داغ،ضرب ہے کاری خوبصورت خدوخال، ظاہر و باطن میں ایک جیسا،عاجزی و انکساری کا پیکر، گفتگو میں موتی بکھیرتا، علم کا سمندر، قرآن سے خصوصی تعلق اور باکمال مدرس ڈاکٹر خالد محمود کے انتخاب کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔درویش صفت ڈاکٹر خالد محمود سرکاری جاب کو چھوڑکر پرائیویٹ ہسپتال میں غریبوں کا مفت علاج کر کے خدمت کرتا رہا۔ جماعت کے لیے قربانی دی اور جدوجہد کی۔آج بھی کر ائے کے گھر میں رہتا اور اپنا گزر بسر اپنے محدود وسائل سے کر رہا ہے جو آج کے دور میں درخشاں ماضی کا بہترین کردارہے۔کمال کی صلاحیتیں، اپنے اور پرائے سے سلیقے کے ساتھ گفتگو کا ہنر جاننے والا،دیانت دار،امین،صادق،جرات مند،کیا جماعت اسلامی کو عوام میں مقبول کر پائے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔تاہم پہلا سیشن اچھی ابتدا ضرور رکھ چکا،چیلنج بہت صلاحیتوں کی کمی نہ علم و ویژن کی البتہ اندر کی رکاوٹوں، سازشوں سے بچ گیا تو جماعتِ اسلامی کوعوامی قوت بنا دے گا۔ورنہ قاضی حسین احمد کی طرح اچھی کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے گا۔تحریک آزادی کشمیر کے تناظرمیں آزاد کشمیر میں باکردار اور ویژن والی قیادت کی اشد ضرورت ہے،جس کے لیے طلبہ یونین کی بحالی اور بلدیاتی انتخابات انتہائی ضروری ہیں۔ڈاکٹر خالد محمود سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں کئی بہتر لوگ ہیں اور ان کونکھیرنے والی طلبہ تنظیمیں ہیں جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص ڈاکٹر خالد محمود کو کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ مستقبل روشن ہو سکے۔ڈاکٹر خالد محمود کے بارے میں ہی شاعر نے شاید کہا ہے کہ نگاہ بلند سخن و دل نواز، جاں پر سوز یہی ہے رخت ِ سفر میر کارواں کے لیے



"کورونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرعی حیثیت " (قسط نمبر 02)


بسم اللہ الرحمن الرحیم "کورونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرعی حیثیت " (قسط نمبر 02) انسان بنیادی طور پر خلاصہ کائنات اور مرکز خلائق ہے۔ دنیا کی تمام بہاریں انسان کے دم قدم سے ہیں۔ لہذا انسانی کی زندگی کی حفاظت نظام تکوین (تخلیقِ انسان اور کائنات) اور تشریعی (دین اسلام) کے اساسی مقاصد میں سے ہے۔ اس پر واضح دلیل انسانی زندگی کی کرہ زمین پر مختلف بیماریوں سے حفاظت کے لیے انسانی وجود میں ایک ایسا مدافعتی نظام (Immune System)موجود ہے جو انسانی وجود میں داخل ہو کر اس کی صحت اور زندگی کو نقصان پہنچانے والے ہر قسم کے جراثیم کے خلاف لڑتا ہے۔ یہ نظام ہمارے خون میں ہمیشہ گردش کرتا ہے اور بے شمار بیماریوں کے جراثیم کو ہمیں کوئی اطلاع دیئے بغیر ہی تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارے جسم میں کسی بیماری کی علامات دراصل اس نظام کے کمزور یا پسپاہ ہونے پر ہمیں مطلع کرتی ہیں۔ آج دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ایک کروڑ تیس لاکھ انسان کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔جبکہ حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس بیماری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہلاکتوں کا تناسب مختلف ممالک میں کم و بیش ہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ تناسب دو سے چار فیصد کے درمیان ہے۔ اس مرض سے شفایاب ہونے والے تمام مریض قوت مدافعت کے ذریعہ ہی جانبر ہوئے ہیں۔ چند لمحوں کے لیے تصور کیجئے کہ جسدِ انسانی میں اللہ رب العزت نے قوت مدافعت کا ایک فعال نظام نہ رکھا ہوتاتو اس مرض کے تمام متاثرین لقمہ اجل بن گئے ہوتے۔جب تما م تر انسانی ترقی، سائنسی ایجادات اور طبی ادویات بے بس ہو گئی ہیں تو انسانیت کی دستگیری خالق کائنات خود فرمارہا ہے،اس سے ثابت ہوا کہ نسل انسانی کی حفاظت و بقامقصود فطرت ہے۔خالق کائنات کا ارشادہے۔ "فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا "(سورۃ روم، آیت ۰۳)اللہ کا(نظام) فطرت ہے جس پراُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ نظام فطرت میں انسان کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے اہتمام کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر وجود انسانی کو کوئی بیماری لاحق ہوجائے جس کے مقابلہ میں انسان کا دفاعی نظام کمزور پڑجائے تو خالق فطرت نے روئے زمین پر ایسی بے شمار جڑی بوٹیاں پیدا کر رکھی ہیں جو ان بیماریوں کے خلاف لڑتی ہیں اور انسانی زندگی کو بچانے میں قوت مدافعت کی مدد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: "ماانزل اللہ داء َ الا انزل لہ شفاء "(صحیح بخاری، کتاب الطب)۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا ء بھی (ساتھ) نہ اتاری ہو۔ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ماانزل اللہ داء الا انزل لہ دواء " (ابن ماجہ، کتاب الطب)۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری اتاری اس کی دوا بھی اتاری ہے۔یہی نظام فطرت کا کمال ہے کہ دنیا میں لاکھوں ادویات موجود ہیں اور اس فطری اصول کو ساری دنیا ء سائنس اورطب مانتی ہے جب ہی تو کورونا کی ویکسین کے لیے انسان پرامید ہے اور دنیا میں لاکھوں سائنسدان اس کی جستجو میں شب و روز سرگرم عمل ہیں۔ انسانی صحت و حیات کی حفاظت مقصود فطرت اور مطلوب شریعت ہونے کا تیسر اہم ثبوت ثبوت یہ ہے کہ خوردنی اشیاء میں ہر چیز انسانی خوراک نہیں بن سکتی۔ لہذا اس ضمن میں انسان کو ہر دور میں الہامی راہنمائی کی ضرورت رہی ہے تاکہ انسان غلطی سے ایسی کوئی خوراک استعمال نہ کر ے جس کا اس کی جسمانی صحت، بلکہ اخلاقی رفعت اور روحانی طہارت پر کوئی منفی اثر مرتب ہو۔ قرآن حکیم نے نبی آخرالزماں کے فرائض منصبی بیان کرتے ہوئے آپ کی ایک اہم خوبی یہ بیان کی ہے کہ "یحل لھم الطیبت و یحرم علیھم الخبائث"(الاعراف، ۷۵۱)۔ اُن کے لیے (وہ بنی ﷺ) طیبٰت کو حلال اور خبائث کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن و سنت میں ایک مومن کی فہرست طعام (Menu)میں طیبٰت کو شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ خبائث کو انسان کے لیے ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے۔ "طیب"اور "خبیث" بہت جامع اور واضح اصطلاحات ہیں۔ "طیبٰت "سے مراد اچھی، سود مند (useful)خوش ذائقہ (Delicious)اشیاء ہیں جبکہ "خبیث"سے مراد خراب، نقصان دہ (Harmful)اشیاء ہیں۔ قرآن و حدیث میں کہیں اجمال اور کہیں تفصیل کے ساتھ حرام اشیاء کا تذکرہ موجود ہے۔ یہ دین اسلام کا سائنسی اعجاز ہے کہ وہ جانوراور دیگر غذاہیں جنہیں دین فطرت نے اس وقت انسان کے لیے ناقابل استعمال قرار دیا تھا جب ان کی حرمت کی کوئی سائنسی اساس انسان کے علم میں نہ تھی، آج سائنسی علوم کے ارتقاء نے ابھی اسلام کی حرام کردہ اشیاء کو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ جو دین اسلام کے بارے میں محدود علم بلکہ لاعلمی کے باعث اسے سائنسی بنیادوں پر مُسلّم دین (Scientifice Religion)ماننے میں تذبذب کا شکار ہیں ان کی چشم عبرت کھولنے کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ موجودہ کورونا وائرس دراصل اسلام کی حرام کردہ اشیاء کے استعمال سے ہی انسانی زندگی پر حملہ آور ہوا ہے۔ چینی مرکز برائے کنٹرول امراض و علاج نے تصدیق کی ہے کہ ووہان شہر میں واقع سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ سے ہی اس وائرس کی ابتدا ہوئی ہے جہاں زندہ بھیڑیے، کتے، لومڑیاں، چوہے اور چمگادڑ فروخت ہوتے تھے۔ (روزنامہ جنگ 31مارچ 2020ء کالم حنا پرویز بٹ)اس سے یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہو گئی کہ مقاصد الشریعہ میں ایک اہم مقصد ِانسانی صحت و زندگی کا تحفظ ہے۔ یہ حقیقت ایک دوسرے پہلو کو پیش نظر رکھنے سے مزید واضح ہوجاتی ہے۔شریعت اسلامیہ میں حرام اشیاء توکجامشتبھات (شبہ والی اشیاء) سے بھی بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ تاہم انسانی زندگی کے نشیب و فراز میں بعض ایسے مواقع بھی پیش آسکتے ہیں جہاں انسان حرام کھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی دنیا کے بعض ممالک ہیں قحط سالی اور غربت نے ہزاروں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا مگر آج دنیا کے گلوبل ویلج ہونے اور بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیمات اور اداروں کی موجودگی کے باوجود بھوک و افلاس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی نسل انسانی کے لیے کچھ نہ کیا جاسکا۔ افریقہ کے ملک ایتھوپیا اور پاکستان کے علاقہ تھرسمیت دنیا کے کئی ممالک میں خشک سالی اور غربت کے باعث ہونے والی ہلاکتیں اس کا بین ثبوت ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت حال میں دین اسلام کے حلت و حرمت کے ضابطوں میں حقیقی ضرورت کے مطابق عارضی طور پر لچک پیدا ہوجاتی ہے تاکہ انسانی زندگی کو بچایا جاسکے۔ سورۃ بقرہ میں چند حرام اشیاء کا یوں ذکر آیا ہے۔ "بلاشبہ (اللہ نے)تم پر مردہ جانور (بہتا) خون اور خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر وقتِ ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام قرار دیا ہے۔پس جو شخص (شدت کی بھوک سے) مجبور ہو جائے نہ شریعت کا باغی ہو اور نہ (ضرورت سے زیادہ) حد سے تجاوز کرنے والا ہو،سو اس پر کوئی گناہ نہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے "(بقرۃ آیت:۳۷۱) سورۃ مائدہ آیت نمبر ۳ اور سورۃ نحل آیت نمبر ۵۱۱ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مجتہدین کرام اور فقہاء عظام جن کی مقاصد شریعت پر گہری نظر تھی اس نوعیت کی آیات اور احادیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند قواعد فقہیہ وضع کیے ہیں۔ مثلاََ "الضرورات تبیح المحظورات "ضرورتیں ناجائز چیزوں کو (وقتی طور پر) جائز کر دیتی ہیں، "اذا ضاق الامر اتسع"جب انسان کے لیے کسی معاملہ میں (شدید) تنگی پیدا ہوجائے تو اسلام کے ضابطوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔تاہم اس میں شرط یہ ہے کہ "الضرورات تقدر بقدرھا" ضرورتیں حقیقی ضرورت تک محدود رکھی جائیں گی۔ حقیقی ضرورت کا تعین ایک طرح سے انسانی ضمیر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اصل مفتی آدمی کا اپنا دل و دماغ ہو گا۔ تاہم یہ لچک وقتی اور دو شرائط کے ساتھ مشروط ہوگی۔ اول یہ کہ آدمی ان حرام اشیاء کا استعمال دل کی چاہت سے نہ کرے۔ دوم یہ کہ آدمی صرف جان بچانے کی حد تک اس نرمی سے استفادہ کر سکتا ہے۔ ان رخصتوں کو دیکھتے ہوئے بلاتامل کہا جاسکتا ہے کہ شریعت کا اصل مدعا انسانی جان کی حفاظت ہے۔ یہ رخصت صرف کھانے پینے کی اشیاء تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر شعبہ زندگی تک وسیع ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر بیمار افراد امت کو نماز کے ارکان (جن کی تلافی سجدہ سھو سے بھی نہیں ہوتی) قیام،رکوع و سجود میں استثناء حاصل ہوتا ہے۔ اسی ضابطہ کے تحت حالت مرض و سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ اسی رعایت سے خواتین ایام حمل و رضاعت میں فرض روزہ کو مؤخر کر سکتی ہیں۔ اسی انسانی مجبوری کو سامنے رکھتے ہوئے دائمی مریض شیخ فانی (انتہائی عمر رسیدہ مرد) اور عجوز فانیہ (انتہائی عمر رسیدہ خاتون) کو فرض روزے ترک کر کے ان کے بجائے فدیہ دینے کی اجازت ہے۔ تاہم اس رعایت سے استفادہ کرنے کے لیے عام طور پر مفتیان عظام اور علماء کرام فتویٰ دینے یا شرعی مسئلہ بتانے سے پہلے ڈاکٹر حضرات کی اس بارہ میں رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس بارہ میں صرف یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر مستند، دین دار اور صالح ہو تاکہ اس کی رائے نیک نیتی اور حقیقت پر مبنی ہو۔ جب نسبتاََ کم مہلک اور ضرر رساں بیماریوں سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر یا بعض صورتوں میں چند ڈاکٹر صاحبان کی رائے کو معتبر سمجھتے ہوئے علماء کرام فرائض و واجبات کو وقتی یا دائمی طور پر ترک کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ایک مہلک وائرس جس کے پھیلاؤ کو روکنے اوراس سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ (Option)انسان کے پاس نہیں ہے۔ سو ساری دنیا کے ڈاکٹر صاحبان متفقہ طور پرجو احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں انہیں کسی شرعی دلیل کی بنیاد پر نظر انداز کیا سکتا ہے۔۔۔(جاری ہے)



چین اوربھارت لداخ میں


چین اوربھارت لداخ میں سیدحبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ 0345-5531411 چین اوربھارت آبادی کے لحاظ سے تقریباًقریب قریب ہے۔2000-01ء کے اعدادوشمارکے مطابق ان کی آبادی ایک ارب ہے انڈیاکی آبادی ایک ارب35کروڑہے اس طرح آبادی کے لحاظ سے یہ دوبڑے ملک ہیں۔البتہ رقبے کے لحاظ سے روس اورکینیڈاکے بعدچین تیسرے نمبرپرہے۔جبکہ بھارت ساتویں نمبرپرہے۔اگربھارت کے کچھ حصے یاتقسیم میں کچھ ملک اس سے الگ نہ ہوتے توبھارت چین سے بڑاملک ہوتا۔ایک زمانہ تھا1960ء میں ہندوچینی بھائی بھائی کے نعرے لگتے ہندوستان شروع سے ہی سویت یونین کے بلاک میں رہاجبکہ ایک زمانے میں امریکہ کے قریب رہا،اوریہ 1962ء کی بات ہے۔اس سے پہلے ہندی چینی بھائی بھائی تھے۔1962ء میں لداخ کے ایک علاقہ جس کونیفاکی پہاڑیاں کہاجاتاتھااس میں چین اورہندوستان کاٹکراؤہوا۔اس طرح بھائی بھائی کانعرہ ختم ہوگیا۔ہم اس وقت زیادہ زیادہ دس گیارہ سال کے تھے اورریڈیوپرراقم جوخبرسنتاتھاکہ یہ لڑائی جو1962ء میں ہوئی یہ بھیڑوں پرہوئی تھی اورچین نے ہندوستان کے کافی رقبے پرجونیفاکی پہاڑیوں پرتھاقبضہ کرلیا۔عجیب بات ہے کہ آبادی اوررقبے کے لحاظ سے ان دوملکوں کے درمیان آج بھی باضابطہ طورپرسرحدپرحدبندی نہ ہے۔اس لئے ان کے درمیان ٹکراؤ ہوتا رہتاہے۔اس وقت دونوں ملک روسی فیڈریشن کے اتحادی ہیں،گوکہ ہندوستان موجودہ وزیراعظم جوبھارتیہ جنتاپارٹی کی لیڈرہیں ان کاشروع سے کچھ کچھ جھکاؤامریکہ کی طرف رہااوران جھڑپوں تک بھی باوجوداس کے کہ ہندوستان کاسارااسلحہ مگ طیارے سے خوئی طیارے جنگی ہیلی کاپٹرسمندری میرینیں اورجدیدترین ہوائی جہازسیخوئی اورروس کے جدیدترین میزائل جن کاتوڑدنیاکے پاس نہیں ہے ایس ایس تھری ہنڈرڈہندوستان کے پاس موجودہیں جبکہ ایس ایس فورہنڈرڈکاسوداہوچکاہے یہ ایک ایسامیزائل ہے کہ جوزمین سے ایک اٹھتاہے لیکن آگے فضامیں یہ سینکڑوں طیاروں کوالگ الگ مارنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ایک اورہتھیارجسے T-90ٹینک کہتے ہیں وہ بھی روس کاہندوستان کے پاس ہے۔یہ ایک ایساٹینک ہے کہ جس پرکوئی میزائل اگراٹیک کرے تومیزائل توتباہ ہوجائے گالیکن ٹینک کوکچھ نہیں ہوتاہے۔شام میں امریکہ کے میزائلوں نے اس ٹینک کونشانہ بنایالیکن دنیاحیران ہوگئی کہ ٹینک کوخراش تک نہیں آئی۔ہندوستان کی فضائی کوعددلحاظ سے دنیاکی سب سے بڑی فضائیہ تسلیم کیاجاتاہے جبکہ افواج میں روس چین اورہندوستان کچھ آگے کچھ پیچھے دنیاکی تین بڑی افواج ہیں۔پہلے روس کی افواج دنیاکی سب سے بڑی افواج تھی اب چین کی افواج کوئی سینکڑوں میں روس سے زیادہ ہے۔اورانڈیاکی بھی تھوڑی بہت چین سے پیچھے ہے۔لیکن زیادہ نہیں سینکڑوں میں ہیں۔ہندوستانی فوج میں گورکھے اورمرہٹوں کودنیاکی اعلیٰ ترین فوج سمجھاجاتاہے۔جب مودی صاحب امریکہ کے صدرٹرمپ کے ساتھ اٹکیلیاں کررہے تھے ہاتھوں میں ہاتھ دے اورہاتھوں میں ہاتھ لے اورپھرہنس ہنس کرایک دوسرے کوتھپکیاں دے رہے تھے پھرامریکہ میں ایک بڑی کانفرنس سے جس میں امریکی ریاستوں کے گورنراورحکومت کے کرتے دھرتے موجودتھے آگے آگے مودی اورپیچھے پیچھے ٹرمپ اسٹیج پرپہنچے اورٹرمپ کی مختصرتقریرکے بعدمودی کاپہلے انگریزی میں بھاشن پھرہندی زبان میں بھاشن ہندی زبان بنیادی طورپراردواورہندی کے الفاظ کامجموعہ ہے اوراسی زبان میں مودی صاحب نے جب امریکہ میں تقریرکی توساتھ ساتھ انگریزی زبان میں اس کاترجمہ ہورہاتھااوریوں مودی نے ٹرمپ اورٹرمپ نے مودی کی تعریف میں زمین وآسمان کے کلابے ملادیئے۔اس میں ٹرمپ کی ایک چھپی ہوئی آس تھی کہ آئندہ الیکشن میں امریکہ میں مقیم ہندوستانی ٹرمپ کوووٹ دیں گے۔جب ساراکچھ امریکہ میں ہورہاتھاتوروس کاانگریزی ٹی وی چینل RT(Russia Today)یہ ساراکچھ دیکھ رہاتھا۔اورروس چاہے موجودہ روس ہویاسوویت یونین ہووہ کبھی برداشت نہیں کرتے کہ ان کاکوئی اتحادی ملک جس کوروس ہرطرح کااسلحہ دیتاہوکھائے روس سے لے روس سے اورجھپے امریکی صدرسے لگائے اورمیرے خیال میں لداخ میں ہندوستان کوچین کی طر ف سے اس جھٹکے سے یاران طریقت کابھی حصہ ہے کہ کچھ سمجھے میرے شکوے کوتورضواں سمجھا مجھ کوجنت سے نکالاہواانساں سمجھا لگتاہے کہ ہندوستان بھی سمجھااوراسی لیے اپنے ایک وزیرراجناتھ صاحب کواس جھڑپ کے بعدروس بھیج دیااوروہاں راج ناتھ روس کی دوسری جنگ آزادی کے فتح کے جشن میں شامل ہواجہاں ہندوستان سمیت پندرہ ممالک کی فوجیں بھی حصہ لے رہی تھیں۔راج ناتھ صاحب سفیدپجامے سفیدکرتااورسفیدکوٹی میں بہت بھاری برکم قدم ماسکومیں رکھ رہے تھے ماتھاشکن آلودتھاآنکھوں میں کچھ کچھ آنسواترے ہوئے تھے اورگالوں پرکچھ جھریاں نظرآرہی تھیں۔جس سے پتہ چلتاتھاکہ وہ روس کے سامنے کچھ کچھ شرمندہ ہیں۔ ہندوستان نے پہلے سنایالداخ میں چینیوں کے ہاتھوں ایک کرنل ایک ہندوستانی کمانڈواورایک ہندوستانی سپاہی شامل ہوگئے لیکن گولی چلی نہ تیروتفن کیسے مرے آج بھی ہندوستان کی تمام اپوزیشن پارٹیاں پوچھ رہی ہیں لیکن جواب نہ دارد۔پھرہندوستان کے ٹی وی کومبارک ہوکہ اس نے جھوٹ نہیں بولااورکہاکہ ہندوستان کے بیس فوجی مارے گے ایک ہلکی سی خبرساتھ میں دی کہ ان کوپہاڑسے گراکرماراگیا۔ہندوستان کی بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس آج تک پوچھ رہی ہے کہ یہ ہندوستانی فوجی چین کی سرزمین پرمارے گئے ہندوستان کی سرزمین پرمارے گئے کس چیزسے مارے گے لیکن مودی صاحب اپنے جوش خطابت سے لوگوں کے پیٹ بھرتے ہیں اوراصل جواب آج تک نہیں آیا۔ہم کسی طورپربھی چین کی کامیابی کے حامی نہیں ہیں۔وہ اس لئے کہ ہندوستان اورہم کل تک ایک تھے آج بھی ہماری زباں ہمارالباس ہماراکلچرایک جیساہے۔ہمارے گیت سنگیت ایک جیسے ہیں۔ہندوستان کے ٹی وی پرروزانہ قرآن مجیدکی دلسوزاندازمیں تلاوت ہوتی ہے،دل پہ اترنے والی نعتیں پیش ہوتی ہیں۔دنیابھرمیں سب سے زیادہ مسلمان ملک ہند میں ہی بستے ہیں اوردنیامیں سب سے زیادہ اولیاء اللہ کی مساجداورمزاراسی ہندوستان میں موجودہیں۔اسی میں مسلمانوں کے سب سے زیادہ قبرستان آبادہیں۔اورمسلمانوں کوبولنے اورلکھنے کی آزادی بھی اسی ملک میں ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کے ملک میں بھی آزادی نہیں ہے جوہندوستان کے اندرہے یہاں کبھی مارشل لاء نہیں رہااوریہاں اقلیت کاقتل وغارت اس طرح نہیں ہواجس طرح چین میں یاکچھ ہمارے مہربان ملکوں میں ہوتاہے۔چین میں پندرہ لاکھ مسلمان الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنگلوں میں قیدہیں ان کے باہرتاریں لگی ہوئی ہیں محمدنام رکھناجرم ہے مسلمانوں کی اپنی تہذیب چین سے قطعاًمختلف ہونہیں سکتی ہے پھرہم نہ کتے کھاتے نہ بلے کھاتے ہیں نہ سانپ سانڈولے کھاتے ہیں اورنہ چمگادڑکھاسکتے ہیں اورہندوستان میں کوئی مہذب کتے بلے نہیں کھاتاہے۔اس کے علاوہ لداخ کاعلاقہ برصغیریاہندوستان کاہوسکتاہے یاپاکستان کاہوسکتاہے اوراگرسچ کہوں توبرانہ منایئے کہ یہ کشمیریوں کاعلاقہ ہے وہی کشمیری جواپنے وجوداورخصوصی حیثیت کے لئے 73سال سے برسرپیکارہیں۔چین کشمیریوں کاعلاقہ کس طرح لینے کاحقدارہے چین مقبوضہ علاقے میں کس طرح بڑے بڑے پراجیکٹ بنارہاہے اورپھرچین کہیں ایسانہ ہوکہ تعمیروترقی کے لبادے میں ایسٹ انڈیاکمپنی بن جائے جس نے تعمیروترقی کے عنوان سے افریقہ اورسری لنکااورکچھ اورممالک پرقبضہ کررکھاہے۔ہمارے کوہالہ پراجیکٹ پربھی جوحال ہی میں ہوناطے ہواتیس سال تک چین کاکنٹرول رہے گا۔ہمارے کچھ ساتھی جوش جنون میں اس حقیقت سے غافل ہیں کہ جب ایسٹ انڈیاکمپنی نے ہندوستان میں تجارت کی غرض سے مالابارمیں پڑاؤڈالاتوکچھ ناداں لوگوں نے بالخصوص مغلیہ دورکے وظیفہ خوروں نے اس امیدپرکہ انگریزملک میں ریل گاڑیاں چلائے گاانگریزیہاں سائنسی ترقی کرے گااورانگریزی سکھائے گااورہم منہ ٹیڑاکرکے انگریزی بول کراردواورہندی بولنے والوں کی صلاحیت پراپنے آپ کوانگریزہی سمجھیں گے اوریوں بربادی ایک ایساسلسلہ ایسٹ انڈیاکمپنی شروع کیاکہ سراج دولہ بھی مرگیاٹیپوسلطان بھی مرگیامنگل پانڈے بھی مرگیاجھانسی کی رانی بھی مرگئی اشفاق احمدبھی ماراگیااوربھگت سنگھ بھی نہ بچااوریوں ایسٹ انڈیاکمپنی نے ”یوں دی ہمیں بربادی کہ دنیاہوئی حیران“۔بیعنہ چین توسیع پسندپالیسی اگربرصغیرپرقابض ہوگئی توپھرہم نے چینی بولنے کے ساتھ ساتھ وہ چیزیں بھی کھانی پڑیں گی جس کاذکرسطوربالامیں کیاہے۔اب روس کے کہنے پرہندوستانی وزیرخارجہ اورچینی وزیرخارجہ کوسمجھایاگیاہے کہ وہ اپنی اپنی سابقہ بارڈرپرآجائیں جنگ سے گریزکریں جس پرکچھ کچھ عمل ہورہاہے اوراس وقت تک چین کی فوج تین کلومیٹرپیچھے آگئی ہے۔اورہندوستان کی بہت زیادہ فوج بارڈرپرآن کھڑی ہے۔ہندوستان کی فضائیہ کے طیارے بالخصوص مگ29سیکھوئی ہیلی کاپٹراورباقی ہتھیارمشقوں میں مصروف ہیں۔ہندوستان نے فیصلہ کیاکہ چائینہ جوتجارت ہندوستان کے ساتھ کرتاہے دھیرے دھیرے وہ پیداواری چیزیں ہندوستان کی کمپنیاں خودبنائیں۔جس کے لئے کم ازکم تین سال کاعرصہ درکارہے ترنت یہ نہیں ہوسکتاہندوستان کے تعلقات نیپال سے بہت اچھے تھے لیکن وہاں کیمونسٹ حکومت آنے کے باوجوداورباوجودہندوحکمران کے ہندوستان کے نیپال سے تعلقات خراب ہوگئے۔جس کے پیچھے بھی چین کی پالیسی کارفرماہے۔پاکستان اورہندوستان کے تعلقات پہلے سے ہی خراب ہیں۔تاہم چین کے حالات بھی کچھ زیادہ بہترنہیں ہیں تاوان چین کے خلاف جنوبی کوریاچین کے خلاف جاپان چین کے خلاف امریکہ اورنیٹوتوچین کے خلاف ہیں ہی لیکن امریکہ کے ساتھ مغربی ممالک جواسلحہ بھی خودتیارکرتے ہیں اور29ملک جنہیں نیٹوکہاجاتاہے روس کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں ایک جنگی اتحادبنایاہواہے کہ جب کبھی بھی روس کے خلاف لڑناہواتوایک ساتھ لڑیں گے اورروس جورقبے میں دنیاسب سے بڑاملک سائنس وٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے وہ اپنے پڑوسی بڑے ملکوں چین اورہندوستان کولڑنے نہیں دے گااگریہ دوملک آپس میں لڑے توان کاحشربھی وہی ہوگاجوعراق وایران کی لڑائی میں ہواتھاعراق اورایران آپس میں نہ لڑتے تولیبیاشام افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی امریکہ اورنیٹوکی مداخلت نہ ہوتی۔ہندوستان اورپاکستان کواپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے ہوں گے اس لئے کہ جنگی ماہرین جانتے ہیں جنگ کھیڑنہیں ہوندی زنانیاں دی اورجنگ کے مقابلے میں امن بہرصورت بہت اچھی چیزہوتی ہے۔جس میں خون خرابہ نہیں ہوتاجس میں تباہی وبربادی نہیں جس میں نفرتیں اوردشمنیاں نہیں ہوتیں۔آج کامضمون بس اتنامیری بیماری مکمل ختم نہیں ہوئی میرے بہت سارے دوست اورمہرباں مرگے جن میں سردارنعیم صاحب محترم معلم سرداریعقوب خان ہمارے ماضی کے پیپلزپارٹی کے دریرینہ ساتھی۔پاک گلی کے میرے ایک مہربان راجہ دفترکیانی صاحب تراڑکھل سے یعقوب صاحب کی بیگم جوچاردن پہلے رخصت ہوئیں۔لیکن یعقوب صاحب نے اس داغ اوردکھ کواتنالیاکہ ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاکرتوپہلے کدھرچلی گئی اورچوتھے دن یعقوب صاحب بھی قبرمیں چلے گئے پھرمیری چچازادبہن جوسرچھہ میں رہتی تھی ممتازبیگم وہ بھی چلی گئیں۔اس طرح کچھ اورساتھی جویہاں سے چلے گئے میں بوجہ بیماری حاضرنہ ہوسکتاجن کے تہی اسی مضمون میں بخشش کی دعاکرتاہوں،اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے بہشت بریں میں وہ امن وسکون میں رہیں۔(واللہ اعلم)اورسوگواران کواللہ تعالیٰ صبرجمیل عطاکرے۔صحت کی بہتری پران کے ہاں حاضری دوں گا۔باقی آئندہ یارزندہ صحبت باقی۔۔۔



اسلام آباد میں مندر کی تعمیر


اسلام آباد میں مندر کی تعمیر از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ رابطہ نمبر: 03465216458 ای میل: szahidnaeemi@gmail.com پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کی بنیاد دوقومی نظریہ پر رکھی گئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں ہندومسلم دو نظریاتی قومیں آباد تھیں۔ لیکن کئی صدیاں اکٹھے رہنے کے باوجود یہ ایک قوم نہ بن سکیں۔ وجہ ظاہر تھی اور وہ یہ کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کو وحدہ و لاشریک ذات مان کر اُس کی عبادت کرتے ہیں۔ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، اس ضابطہ حیات کے مطابق ہی وہ اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ عبادت گاہ سے لے کر ریاست کے ایوانوں تک زندگی گزارنے کا اسلام کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے، جو اللہ و رسول ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق گزارنا ہے۔ یہ ایک پورا فلسفہ زندگی ہے جو اللہ و رسول ﷺ کی تعلیمات کے تابع ہے، جبکہ ہندو جو ہندوستان میں غالب اکثریت ہیں، وہ بھی اپنا ایک نظریہ رکھتے ہیں، جس کے مطابق وہ زندگی گزار رہے ہیں۔ جس میں بنیادی بات عبادت کی ہے۔ وہ پوجاپاٹ سے کام لیتے ہیں، ایک خالق کے بجائے ان کی زندگی کے تمام معاملات دیوی اور دیوتا چلاتے ہیں۔ ان کے نفع و نقصان کے مالک و مختار یہی دیوی و دیوتا ہیں، جو ہندوستان میں ہزاروں تک کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر ان کو بنایا ہے، اور پھر مندروں میں رکھ کر ان کی پوجاپاٹ کرتے ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں یہ بھی کہ کچھ عرصہ ان دیوی دیوتاؤں کی پوجاپاٹ سے جب اکتا جاتے ہیں، ان سے دل بھر جاتا ہے، تو اٹھا کر ندی نالوں میں پھینک دیتے ہیں، پھر ان کی جگہ اور نئے رکھ دیتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ سلسلہ ہزاروں سالوں سے جاری ہے۔ اسلام جب برصغیر میں آیا، صوفیاء کرام کی تعلیمات نے مقامی آبادی کو اپنے کردار، اخلاق اور اسلام کی عمدہ آفاقی تعلیمات سے متاثر کیا تو ہندو پنڈتوں کی ستائی ہوئی ہندو آبادی نے اسلام کے دامن میں پناہ لیتے میں ذرہ بھر دیر نہ کی۔ یوں ہندوؤں کے بعد دوسری بڑی آبادی مسلمانوں کی قرار پائی۔ لیکن ہندوؤں نے اُنہیں الگ ملک بنانے پر مجبور کیا، چنانچہ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تحریک پاکستان کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں لایا۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ قرار پایا، جس میں قرآن وسنت کے قانون کو بالادست قرار دیا اور قرار پایا کہ یہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی زندگیاں گزار سکیں گے۔ لیکن یہ بھی قرار پایا کہ اقلیتی برادریاں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں گے، جو آزادی اُن کو پاکستان کے آئین وقانون میں بھی حاصل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار میں آنے والے اکثر حکمران رواداری کی انتہاء کو پہنچتے رہے، وہ کبھی عیسائیوں اور کبھی ہندوؤں اور کبھی سکھوں کی عبادت گاہوں میں جاکر اظہارِ یکجہتی کرتے رہے اور یوں وہ اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرتے رہے۔ کبھی ہولی دیوالی، کبھی بیساکھی تہوار اور کبھی کرسمس تقریبات میں جاکر عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کے رنگ میں رنگ جانے لگے، جو یقینا خدا و رسولﷺ کی تعلیمات کے بالکل خلاف تھا۔ پاکستان میں جہاں کہیں غیر مسلم آبادیاں تھیں، وہاں ان کے لئے پہلے ہی سہولیات موجود تھیں۔ ان کے گردوارے، مندر اور کلیسے اور چرچ موجود تھے۔ ان کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کا حق حاصل تھا اور بلا روک ٹوک وہ ایسا کر رہے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ہندوؤں کی زیادہ آبادی سندھ اور بلوچستان میں ہے، جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے طریقے کے مطابق پوجاپاٹ کر رہے ہیں۔ سکھوں کے گردوارے پنجاب میں ہیں، وہ بھی اپنی مذہبی رسومات آزادی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ عیسائی آبادی کراچی اور پاکستان کے چند چیدہ چیدہ شہروں میں آباد ہے۔ وہاں ان کو بھی پوری پوری سہولیات موجود ہیں، لیکن اسلام آباد پاکستان کا بالکل نیا شہر ہے، اس شہر کی بنیاد پاکستان کے سابق صدر جنرل ایوب خان نے رکھی تھی، اور پاکستان کے نظریہ کے مطابق اس کا نام رکھا گیا تھا۔ اسلام آباد میں تاریخی لحاظ سے سکھ یا ہندو آبادی یا ان کے پہلے سے تعمیر شدہ مندر یا گرددواروں کے کوئی آثار نہیں ملتے، ہاں البتہ اس شہر میں پرانی مساجد اور صوفیاء کے مزرات ملتے ہیں۔ یہ علاقہ صرف گزرگاہ تھی، جہاں امام بری سرکار نے ڈیرا ڈالا تھا، یہاں سے گزرنے والے مسافروں کو لوٹنے والے ڈاکوؤں کو راہ راست پر لاکر ان کی سیرت و کردار کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا تھا۔ یہ اس علاقہ کی مختصر تاریخ ہے۔ جنرل ایوب خان نے کراچی سے دارالحکومت یہاں منتقل کیا تو اس کا نام اسلام آباد رکھا گیا، جس کے معنی ”یہاں اسلام کا آباد ہونا ہے“۔ یہ ایک جدید شہر ہے، جس کی آبادکاری کے بعد کئی دیہات ویران ہوئے اور کہیں مساجد ویران ہوئیں۔ 1947ء کے بعد پہلی بار بینظیر دورِحکومت میں یہاں پہلا عیسائیوں کے لئے گرجا گھر بنایا گیا، حالانکہ اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں تھی۔ اب اسلام آباد H9-2 میں ہندوؤں کے لئے مند رتعمیر کرنے کی عمران حکومت نے بنیاد رکھ دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے ہندوؤں اور سکھوں کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں چار سو مندروں کی شناخت کر لی ہے، جہاں مندر تعمیر ہوں گے۔ اب جب عمران خان کے اسلام آباد میں مندر تعمیر کرنے پر تنقید ہوئی تو حکومتی اہلکار کہنے لگے کہ اس کی نبیاد 2017ء میں نوازشریف نے رکھی تھی۔ یہ مقام افسوس ہے کہ قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان میں بننے والی حکومتیں اسلامی نظریہ حیات کو پس پشت ڈال کر ملک کو سیکولر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اسلام آباد اور اس کے ملحقہ موضعات میں اسلام آباد کی آبادکاری کے موقع پر مسجدیں ویران ہو گئی تھیں، جن کے نشان اب موجود ہیں۔ ضرورت تو یہ تھی کہ ان مساجد کو پھر سے تعمیر کرکے آباد کیا جاتا، لیکن اس کے برعکس اسلام آباد میں پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر بنایا گیا اور اب ہندوؤں کا مندر تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ اسلام آباد میں کوئی ہندو آبادکار نہیں ہے۔ صرف اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کبھی کرتارپور میں سرکاری زمینوں پر سکھوں کے لئے گردوارہ تعمیر کیا جاتا ہے تو کبھی اسلام آباد میں سرکاری زمین پر گرجا گھر اور مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ دو قومی نظریہ اور تحریک پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آئین اور قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اقلیتوں کے حقوق کا یہ مطلب ہے کہ جہاں وہ آباد ہیں، اور ان کی عبادت گاہیں ہیں، ان کی حفاظت کی جائے۔ لیکن مسلمان آبادی میں ان کے گرجاگھر اور مندر تعمیر کرانا جہاں ان کا وجود ہی نہیں، یہ قیامِ پاکستان کے مقاصد کے خلاف ہے۔ ایسا ہی کرنا تھا تو پھر پاکستان الگ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ پھر جمعیت علماء ہند اور ابوالکلام آزاد کے فلسفہ پر ہی عمل کرنا چاہیے تھا۔ ہندوستان میں آج بھی مسلمانوں کی عبادت گاہیں، مسجدیں جلائی جا رہی ہیں اور ساتھ مسلمانوں کو بھی جلایا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے حکمران ہندوؤں کے لئے مندر بنانے کے لئے بے تاب ہیں، خاص اسلام آباد میں مندر بناکر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں اور ایک اور فتنہ کو جنم دے رہے ہیں۔ ایک طرف مسجدوں پر پہرے ہیں اور دوسری طرف سرکاری طور پر مندر تعمیر ہو رہے ہیں۔ یہ مندر اگر تھر میں تعمیر ہوتا تو اس کی کوئی جوازیت تھی، لیکن اسلام آباد میں مندر تعمیر کرنا کسی بھی لحاظ سے قرین قیاس نہیں ہے۔ حکمرانوں کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہیے۔



ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور حکومتِ آزاد کشمیر کا رویہ


ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور حکومتِ آزاد کشمیر کا رویہ تحریر: سرمد شمریز پاکستان اور آزاد کشمیر میں سب سے قابل اور لائق ترین سمجھے جانے والے طلباوطالبات ہی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے اہل قرار پاتے ہیں۔ شعبہ طب سے منسلک ڈاکٹرز کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا اور مشکل سفر طے کرنا پڑتا ہے جس سے تمام پڑھے لکھے لوگ واقف ہیں۔ اپنی زندگی کے اہم ترین وقت کو قربان کر کے ایم-بی-بی-ایس اور بی-ڈی-ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان اور آزاد کشمیر میں ڈاکٹرز شدید مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ دن اور رات کی پرواہ کئے بغیر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اپنی آسائشوں کو پس پشت ڈال کر فرنٹ لائن فائٹرز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بالخصوص آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات اور محدود وسائل کے باوجود ایک بے حس قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ اس حقیقت سے آزاد کشمیر کا ہر شہری واقف ہے کہ ریاست کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات ناپید ہیں جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر مریضوں کو راولپنڈی، اسلام آباد اور ایبٹ آباد جیسے شہروں میں ریفر کر دیا جاتا ہے اور پھر ڈاکٹرز پر جملے کسے جاتے ہیں کہ یہ ڈاکٹرز صرف مریضوں کو ریفر کرنے کی تنخواہیں لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں انہی ناکافی سہولیات اور اپنے سروس سٹریکچر کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے ینگ ڈاکٹرز قریباً پچھلے دو ماہ سے زائد عرصہ سے احتجاج پر ہیں۔ گزشتہ دنوں آزاد کشمیر حکومت کی ایماء پر مظفرآباد میں ینگ ڈاکٹرز کے احتجاجی دھرنے پر پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج کیا گیا اور ڈاکٹرز رہنماؤں کی گرفتاریاں عمل میں لا کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پوری قوم کے لئے یہ افسوس کا مقام ہے کہ کریم آف دی نیشن قرار دئیے جانے والے ڈاکٹرز کے ساتھ اس معاشرے میں یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات ان کے اپنے فائدے سے زیادہ ایک عام شہری کی صحت کے بنیادی حقوق کی علمبرداری کرتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر میں مریضوں کے تناسب کے لحاظ سے ڈاکٹرز اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کی آسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔ آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں۔ آزاد کشمیر میں کم از کم تین ٹرشیئری کیئر ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج کے لیے ریاست کے شہریوں کو راولپنڈی، اسلام آباد کے چکر نہ لگانا پڑیں۔ آزاد کشمیر کے شہریوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی بھاری فیسوں سے بچانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم-آر-آئی کی مشینیں فراہم کی جائیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں بی-ایچ-یوز اور آر-ایچ-سیز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں ایک کارڈیک ہسپتال اور ایک نیورولوجی سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز اس وقت پاکستان کے تمام صوبوں کے ڈاکٹرز کی نسبت کم مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ ان کو وفاق کے مساوی مراعات اور حقوق دیے جائیں۔ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے پرسنل پروٹیکشن کٹس کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے جو کہ ڈیوٹیاں سرانجام دینے کے لیے ڈاکٹرز کی بنیادی ضرورت ہے۔ ینگ ڈاکٹرز اپنے تحفظ کے لیے حکومت سے سیکیورٹی ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں تاکہ وہ عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔ ایک عام شہری کی سمجھ میں بھی آ جانے والے ان بنیادی مطالبات کو لے کر گزشتہ دو ماہ سے ینگ ڈاکٹرز پر امن احتجاج پر ہیں لیکن حکومت آزاد کشمیر ان ڈاکٹرز کے خلاف تشدد پر اتر آئی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کو زیر کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق چونکہ آزاد کشمیر پاکستان کا باضابطہ طور پر حصہ نہیں ہے، لہذا پاکستان میں ڈاکٹرز کو جو مراعات حاصل ہیں وہ آزاد کشمیر کے ڈاکٹرز کو نہیں دی جا سکتی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کا رویہ بھی قابلِ مذمت ہے جو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پولیس فورس کے ذریعے ینگ ڈاکٹرز پر چڑھائی کی جا رہی ہے جو قابلِ مذمت ہے۔ قوم کے ان عظیم فرنٹ لائن فائٹرز اور پڑھے لکھے طبقے کو پولیس اہلکاروں سے مقابلہ کسی صورت زیب نہیں دیتا اور نہ یہ ڈاکٹرز کے شایانِ شان ہے۔ ڈاکٹرز نے ریاستی تشدد برداشت کرنے کے لیے تعلیم ہرگز حاصل نہیں کی۔اس وقت ینگ ڈاکٹرز مکمل قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں اور ایمرجنسی سروسز کا بھی بائیکاٹ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مریض در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان تمام حالات کی ذمہ دار آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت ہے جو اپنی شاہ خرچیوں کے لئے تو کروڑوں روپے مختص کیے ہوئے ہے لیکن ڈاکٹرز اور مریضوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے پاس بجٹ موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر صحت خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں لیکن اس کے باوجود ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ اسی طرح سے سیکرٹری صحت آزاد کشمیر کا رویہ بھی جارحانہ ہے۔ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے جب ڈاکٹرز تشویشناک مریضوں کو راولپنڈی اسلام آباد ریفر کرتے ہیں تو ان ڈاکٹرز کے خلاف محاذ کھڑا کر کے ان کے مقدس پیشہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں قابل ڈاکٹرز ایک بڑی تعداد میں ایم-بی-بی-ایس کرنے کے بعد ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں جہاں انہیں نہ صرف اچھے ہسپتالوں میں کام کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ عزت و احترام بھی دیا جاتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لیے آزاد کشمیر کی حکومت کو احکامات جاری کرے اور آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی اور ڈاکٹرز کے سروس سٹریکچر کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر حکومت سے فنڈز مختص کروائے جائیں۔ ایک ڈاکٹر کسی کی امید اور کسی کا ہیرو ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو سیلوٹ سے زیادہ ان کے حقوق کی ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ قوم کے مسیحا ہسپتالوں کا بائیکاٹ کر کے سڑکوں پر ریاستی تشدد برداشت کریں۔



مریض جس کو کرونا وائرس، ٹائیفائیڈ اور معدے کا السر ہو، بچنے کی امید دو فیصد


مریض جس کو کرونا وائرس، ٹائیفائیڈ اور معدے کا السر ہو، بچنے کی امید دو فیصد تحریر: ڈاکٹر محمد نواز خان ناظرین یہ تحریر ہر طبقہ فکر مریض،معالج اور انسانیت کے وجود کیلئے پڑھے گا اُس کا ایمان اللہ پر اُسکی قدرت پر اور اُس ذات پر خودبخومضبوط ہوگا کہ وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ہے ایمان مضبو ط ہوگا۔ بحیثیت انسان اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں، انسان کو زندگی کس نے دی اللہ نے، موت کون دے گا اللہ، موت کے وقت کا تعین کون کریگا اللہ، بیماری کون لگائے گا اللہ، شفاء کون دے گا اللہ، کس نے قرآن پاک میں فرمایا اللہ نے انسان کیلئے کوئی بیماری نہیں بھیجی جس کی دوا نہ بھیجی ہو تو پھر میں اور پوری دنیا یہ کیوں کہتی ہے کہ کرونا وائرس کا علاج نہیں ہے۔ کیا یہ بات شرک کے کھاتے میں نہیں چلی جاتی اللہ کہے کہ دوا موجود اور ہم کہہ دیں دوائی نہیں جس کے ساتھ مریض کا علاج کیا جائے۔ آپ کی آسانی کیلئے دوائی کیسے بنائی جاتی ہے مختصر تصور تاکہ بات ناظرین کے سمجھنے کیلئے آسان ہو جائے۔ دوائی کا اسٹریکچر تیار کرنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بھی جرثومہ کس طرح کی خوراک کھانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس اُس کو دو طرح سے دھوکہ دیتی ایک اُس کے انسانی خلیہ کے اندر جانے کی خوراک کا راستہ بند کرکے تاکہ اس کے کھانے کا راستہ بند ہو جائے اور وہ بھوکا پیاسا مر جائے اُس کو ہم کہیں گے Static Method، دوسرا طریقہCidialیعنی دوائی اندر گئی اور اُس کو اندر ہی مار دے گی وہ سوچے کا مجھے میری غذا مل گی جب کہ یہ اس کیلئے زہر ہوگا جو کھائے گا اور مر جائے گا۔ یہ بہت ہی عام الفاظ ہیں ہر ایک کے سمجھنے کیلئے ہیں۔ میں بہت ٹیکنیکل الفاظ کی طرف نہیں گیا تاکہ کم پڑھا لکھا آدمی بھی بات کو سمجھ جائے۔ ناظرین سورۃ الرحمن کی چار باتیں پھر کالم کا باقی حصہ،رحمن کیا ہے اللہ کا اپنے لیے پسندیدہ نام اس کے معنی رحمت، حضور پاک (ﷺ) نے فرمایا کوئی آدمی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اللہ کی رحمت اس کی دستگیری نہ کرے،کسی صحابی ؓ نے جرت کرکے پوچھ لیا کیا حضور (ﷺ) آپ بھی، فرمایا کوئی شخص داخل نہیں ہوسکتا اپنے اعمال کی بنیاد پر جب تک اللہ کی رحمت نہیں ہوگی اسی طرح میں بھی۔ رحمن نے قرآن سیکھایا جو بھی علم ہے کس نے دیا اللہ نے سائنس کا علم کس نے دیا اللہ نے باقی علم کس نے دیئے اللہ نے بس ہر طرح کا علم جو اللہ تعالیٰ دینا چاہے تمام علوم میں چوٹی کا علم قرآن، انسان کو پیدا فرمایا سوال ہے باقی چیزوں کو کس نے پیدا کیا مثلاً فرشتے زمین آسمان پودے باقی تمام جاندار سب اللہ نے لیکن تخلیق انسان اس کا عروج ہے۔ انسان کو بیان کی صلاحیت عطا کی آنکھیں دی دیکھنے کیلئے کان دیئے سننے کیلئے دل دیئے سوچنے کیلئے اسکے علاوہ جسم کے اندر اور باہرپوری پوری فیکلٹیز ہیں۔ یہ باتیں ایمان اور یقین کرنے کیلئے لکھی کوئی ڈاکٹر کچھ نہیں جانتا جب تک اللہ کی طرف سے دانائی نہ ملے یہ مرض کی تشخیص خالصتاً دانائی ہے اور یہ عظیم نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کرتا ہے حکمت عطا کرتا ہے جس کو سیدھے راستے پر چلانا چاہتا ہے اس کو ہدایت دینا۔ قرآن پاک میں مکھی کے پیدا کرنے کی مثال دی گئی ہے کہ سب مل کر ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے ہو بلکہ اگر وہ تمہارے ہاتھ سے کوئی چیز لے جائے تو تم اس سے وہ بھی واپس نہیں لے سکتے۔ اس ساری تمہید کا مطلب یہ ڈاکٹر ز فارماسسیٹ نرسنگ اسٹاف مریضوں کے ساتھ پیا ر کریں محبت کریں پیار سے بات کریں مریضوں کی دلجوئی کریں جب آپ اس کو عزت دیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو عزت دیں گے۔ مشکل ترین وقت میں مریضوں کی دعائیں آپ کو بھی اللہ تعالیٰ زندگی کے آخری لمحات سے واپس صحت مند زندگی کی طرف لے آئیں گی۔ حضرت محمد (ﷺ) کا طریقہ یہ تھا کہ مریض کو دیکھتے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، اے عر ش عظیم کے مالک تیری بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہوں کہ اگر اس مریض کی زندگی ہے تو اس کا شفاء دے اور اگر زندگی نہیں تو اس کے لیے آسانی پیدا کرے۔ ناظرین تقریباً چار ہفتے سے میں نے ڈیوٹی نہیں کی ایک ہی وقت میں اللہ پاک نے امتحان میں ڈال دیا۔ ایک ہی ساتھ تین بڑی بیماریاں کرونا وائرس کا حملہ ساتھ ہی ٹائیفائیڈ اور معدہ کا السر یہ 06,05,04جون سے شروع ہوا 07جون کو ٹمپریچر یعنی بخار 105تک پہنچ گیا رات کو جب مجھے زیادہ تکلیف ہوئی تو بے ہوشی کے عالم میں میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ حضرت محمد (ﷺ) کے وصال کی وجہ یہ بخار ہی تھا اور اب شاہد میرا بھی آخری وقت ہے۔ اللہ سے اپنے کیے گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے۔ بہرحال خود بھی کرونا وائرس پر کئی کالم لکھ چکا تھا ساتھ ہی جب سے کرونا وائرس کی وباء آئی میری بیٹی ڈاکٹر آمنہ نواز کو بھی ڈی ایچ او صاحب نے انچارج بنا دیا اس طرح وہ بھی اس وباء کے بارے میں کافی حد تک اسٹیڈی کرچکی تھی۔ میں نے بیٹی سے کہا کہ مجھے اگرہسپتال لے گئی تو واپسی پر لاش ہی واپس لے آؤ گی۔ جو کچھ ہو گیا ہے گھر پر اس کے ساتھ خود ہی علاج معالجہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے شفاء دینی ہو تو دے دیگا اور اگر مر گیا تو بالکل اسلام کے طریقہ کے مطابق کفن دفن کردینا اور اگر کسی نے مداخلت کی تو قیامت کے دن میرے ہاتھ ہونگے اور دوسرے کے گریباں چونکہ جس طریقہ سے مسلمان مرنے والے یا مرنے والی کے ساتھ ہوتا اسلام میں تو کئی اس طرح کا تصور تک نہیں ہے۔ علماء سے ایک کالم لکھ کر التجاء کی تھی کہ قرآن پاک کی سورۃ بقرہ آیت نمبر 113پڑھ کر مسلمان حکمرانوں کی راہنمائی کریں مگر عالم اسلام میں کسی کو جرت نہیں ہوئی کہ وہ حکومت کی راہنمائی کرتے۔ 07-06-2020کو میں نے ایک دوائی کا استعمال شروع کیا چونکہ کرونا وائرس پھپھڑوں کی نمونیہ ہے اس وقت میرے نزدیک Linezolidسے بہتر کوئی دوائی نہیں چونکہ یہ سالٹ نیا ہے اور کم استعمال ہے اور Panadolاور Prednisolneٹیبلٹ تین دن استعمال کی لیکن ساتھ ہی سخت سردی اور پسینہ بھی آنے لگا۔ میں نے سوچا ساتھ ہی ٹائیفائیڈ اور H-Pyloricٹیسٹ بھی کروا دیتا ہوں۔16-06-2020کو وہ دونوں ٹیسٹ بھی +veآگئے۔ لہٰذا میں نے یہ دیکھ کر بیٹی کی مشاورت سے Cefixime 400mgشروع کی پانچ دن کے بعد آفاقہ نہ ہوا تو پھر Levofin 500mgتین دن پھر جب منہ کے ذریعے دوائی لینے کے قابل نہ رہا تو Inj Claforan 2gmصبح شام ساتھ Inj Solucortifمورخہ 23-06-2020کو Covid-19ٹیسٹ کروایا تو +veتھا۔ اتنا لیٹ یہ ٹیسٹ کیوں کروایا اس پر انشاء اللہ پورا کالم لکھوں گا تاکہ لوگوں کو بھی آگاہی حاصل ہو تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کون سے ٹیسٹ کس وقت ہو تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ Covid-19ٹیسٹ کے پھر دوائی تبدیلی کی چار دن Inj Moxifloxacinپھر پانچ دن ٹیبلٹ ایک چیز نوٹ کرنے کی ہے یہ وائرس سائنس کی نالی کے اوپر بیٹھتا ہے اور جب آدمی سائنس لیتا ہے تو اس کا گلہ دباتا ہے اور کہتا ہے دوبارہ سائنس لے کر تو دیکھو،یہ جو کچھ میں نے لکھا یہ صرف ڈاکٹر فارماسسیٹ اور نرسنگ اسٹاف کیلئے اگر کوئی مریض اپنی مرضی سے سٹور سے لے کر کھائے گا تو اس سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوگا میں نے جو کچھ کیا بحیثیت ماہر ادوایات اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا۔ میں اپنے بہن بھائیوں دوستوں کا اور مریضوں کا جن کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ زندگی دی سب لوگوں نے آئیسولیشن میں میرا مشورہ مانا میں نے کہا کہ میں متاثر ہو گیا ہو خداراہ ادھر آکر اپنے آپ کو متاثر نہ کرنا، میری بیگم نے بیٹی نے بیٹے نے ڈاکٹر تنویر ان کے بھائی سجاد اور خاص کر سیاب عالم، مقبول حسین نے جو میری دیکھ بھال کی اللہ تعالیٰ ان کو اس کا اجرو ثواب دے میں اللہ کے فضل سے 90فیصد ریکور ہو گیا ہوں عام کمزوری ہے انشاء اللہ ہفتے دس دن میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ پھر اپنی خدمات پیش کروں گا۔ ابھی جب بیٹی سے کہتا ہوں کہ اب تو ڈیوٹی کروں گا تو وہ اپنی آنکھیں موٹی کرکے میرے چہرے کی طرف دیکھتی ہے اورکافی آنسوں بہاتی ہے اور مجھ سے سوال کرتی ہے کہ ابو آپ کو پتہ ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے کہاں سے واپس زندگی دی ہے آپ تو صبر سے لیٹ گئے تھے اف تک نہیں کررہے تھے ابھی اپنے ربّ کا شکر ادا کریں اور آرام کریں۔ آئندہ انشاء اللہ کرونا وائرس کی ٹیسٹوں کے شیڈول اور کیا غذائیں کھانی چاہیں اس پر سیر حاصل بحث ہوگی۔ آخر میں حکومت سے میری اپیل ہے کہ کرونا وائرس جائے گا نہیں جس طرح ہم خسرہ، Mumps، Cheken Pox، کینسر، ٹی بی اور بیماریوں کے ساتھ زندہ ہیں اس کی کبھی ویکسین نہیں آئے گی چونکہ ہر جگہ اس کی شکل مختلف ہے۔ آپ ویکسین کا کون سا اسٹریکچر تیار کریں گے جب آدمی پورے طور پر اس کے قابو میں ہوتا ہے وہ مختلف قسم کی شکلیں خواب میں آتی ہیں اور انسان جھٹکے سے اچھلتا ہے۔ اللہ تعالی اپنے آمان میں رکھے۔



اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد


اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد (ابن نیاز) کتنے فخر سے کفر کا ساتھ دے کر اس کو پھیلانے کی بنیاد رکھتے ہوئے فوٹو سیشن کروایا جا رہا ہے۔ اکڑ کر یوں کھڑے ہیں جیسے اللّٰہ کے دین کو روند کر اور کفر کی جڑ کو پانی دے کر کوئی بہت اعلٰی ترین کام کیا ہے۔ کاش قرآن کو بچپن میں پڑھ کر اسے طاق میں نہ رکھتے بلکہ اس کو دل سے لگا کر اس اس کا ترجمہ پڑھتے، کسی عالم سے اس کی تفسیر پڑھ کر اسے سمجھتے، اگر خود نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین صرف زبان سے کہنا کافی نہیں ہوتا۔۔ جب صرف اللّٰہ ہی کی عبادت کا نعرہ بلند کیا جائے تو پھر کفر کا ساتھ دینے کے کیا معنی۔ پھر تو اس کی پرچھائیں سے بھی بچنا چاہیے، چہ جائیکہ اس کو باقاعدہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ قرآن پاک میں اللہ نے سیدھا سیدھا فارمولا بتا دیا ہے۔۔"اور تمہیں اس قوم کی دشمنی جو کہ تمہیں حرمت والی مسجد سے روکتی تھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ زیادتی کرنے لگو، اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔" (سور? المائدہ۔ آیت2) واضح ہے کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کرنی جو تمھیں تمھاری عبادت گاہوں سے روکتے تھے۔ یعنی اب ان کو ان کی عبادت گاہوں سے منع نہیں کرنا۔یا ان کو اور کسی قسم کی تکلیف دینا۔ لیکن یہ بھی نہ ہو کہ ان کے گناہوں میں اور ان کے کفر میں ان کے ساتھ نہیں مل جانا اور ان کو آگے بڑھنے میں ان سے تعاون کرنے لگ جانا۔ کتنی صاف بات لکھی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ہر گز گناہ میں اور ظلم میں مدد نہیں کرنی۔ لیکن بت پرستی کو بڑھاوا دینا، ان کو مندر خود بنا کر دینا کیا ان کے شرک میں، کفر میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کے برابر نہیں ہے؟ اور جب وہ لوگ، جو اس تعاون کے بارے میں ذمیوں کے حق کی بات کریں گے، وہ بھی اسی آیت کے زمرے میں آئیں گے۔ ذمیوں کو یعنی غیر مسلموں کو پاکستان میں کون سے حقوق نہیں دیے گئے؟ سب ان کو میسر ہیں۔ وہی نہیں میسر، جن سے ہمیں ہمارا دین منع کرتا ہے۔ حقوق کی بات ہو رہی ہے نہ کہ ان کے مذہب میں ان سے تعاون کی۔ یہاں حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب موجودہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد تو پہلے دن سے ہی سامنے آگیا تھا، اب ان کے اعمال پر بھی شک کرنے کو دل کرتا ہے۔ کبھی قادیانیوں کو اپنے مشیر بناتے ہیں تو کبھی انھیں اونچی نشستیں فراہم کرتے ہیں۔ گذشتہ حکمران کہتے تھے کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں تو موجودہ حکمرانوں نے اس بات کو سچ ثابت کرکے دکھایا کہ شریف برادران نے غلط نہیں کہا تھا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ متحدہ عرب امارات میں بھی ہم کچھ ماہ پہلے دیکھ چکے ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر میں نہ صرف مدد کی گئی بلکہ پھر اس کا افتتاح بھی حکومت وقت نے کیا۔ ہمیں تو چلو عربی نہیں آتی۔ شاید ہم قرآن کی آیات کی غلط تشریح کرتے ہوں گے، غلط ترجمہ پڑھتے ہوں گے لیکن کیا وہ بھی عربی سے نابلد ہیں۔ یا قرآن کی عربی ان کی عربی سے مختلف ہے جو انھیں بھی سمجھ نہیں آتی۔ بالکل نہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس کفار کے بے بنیاد پرپیگنڈہ کی وجہ سے کہ اگر وہ غیر مسلم ممالک سے روابط نہیں رکھیں گے تو ان کی معیشت خراب ہو جائے گی۔ وہ اگر جمہوریت کا راگ اپنے ملک میں نہیں الاپیں گے تو ان کو حکمرانی کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ سعودی عرب میں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات میں جمہوریت کا راگ الاپا گیا ہے۔جب سے خلافت کا خاتمہ ہوا، تب سے وہاں بادشاہت کا سلسلہ رواں ہے۔ بات ہو رہی تھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی۔جس کی تعمیر کے لیے درخواست دینے والوں میں اسلام آباد کے ایف 6 سیکٹر کے لوگ بھی شامل تھے۔ جب کہ مندر کے لیے زمین کی تفویض سیکٹر ایچ نائن میں کی گئی ہے۔ درخواست میں لکھا گیا تھا کہ ان کے پاس دیوالی اور دیگر تہوار منانے کے لیے کوئی عبادت گاہ نہیں ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کہ تم لوگ تو اپنے گھروں میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بھگوان بنا کر پوجتے ہو، تو عبادت گاہ کی کیا ضرورت۔ کون سا وہ لوگ اجتماعی عبادت کرتے ہیں اپنے بھگوان کی۔ ہر کسی نے اپنا علیحدہ بھگوان بنایا ہوا ہے۔ کروڑوں بھگوان ہیں۔ آتے جاتے، بندر، ہاتھی، گھوڑا، سانپ، شیولنگ، ہر کسی کو پوجتے ہیں، تو عبادت گاہ کی ضرورت کیا ہے۔ اگر بفرض محال بہت ہی ضرورت ہے تو پھر راول ڈیم کے پاس جو مندر ہے، اس کو دوبارہ اپنے خرچے پر تعمیر کر دو۔ ویسے تو پاکستان میں فساد اور دہشت گردی کے لیے بے تحاشا پیسہ ہے لیکن اپنے ہی مندر کی تعمیر کے لیے ڈونیشن مانگتے ہیں۔ مندرکی تعمیر میں تعاون کی غرض سے حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے رد میں قرآن کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مختصر سا واقعہ کا حوالہ کہ جب منافقین نے مدینہ میں ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی وہ ایک نماز وہاں پڑھا کر افتتاح کر دیں تو اللہ نے ہمارے آقا کو روک دیا اور اس مسجد کو مسجد ضرار کا نام دیا کہ جس کی بنیاد ہی شر پر رکھی گئی تھی۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو گرانے کا حکم دے دیا تھا۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مسجد اگر شر کی بنیاد پر گرائی جا سکتی ہے توکوئی مندر یا کسی بھی اور مذہب کی کوئی بھی عبادت گاہ کی تعمیر حکومت وقت کس طرح کر سکتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ حکومت وقت کا یہ فیصلہ اللہ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے شدید منافی ہے۔ اللہ تو قرآن پاک میں ان لوگوں کے لیے جن کو حکوت دی جائے، فرماتے ہیں: "وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰ? دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں، اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ " (سور? الحج۔ آیت۔ 41) جب کہ یہاں نماز کی پابندی کا حکم تو درکنار، الٹا کورونا کا بہانہ بنا کر مساجد میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ بازاروں میں، شادی کی تقریبات میں تو کورونا ہر گز نہیں پھیلتا۔ بس پھیلتا ہے تو مساجد میں نمازیوں کے ذریعے، جو پانچ وقت وضو کرکے آتے ہیں، اللہ کا نام اپنی زبان سے لیتے ہیں اور اسی کا ذکر بلند کرتے ہیں۔ نیکی کے کام نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کا بندے سرعام نیکی کر ہی ڈالے، جو ریاکاری سے پاک ہو تو حکومت فوجدار (اہلکار) اس کے پیچھے ہاتھ پاؤں دھو کر پڑ جاتے ہیں کہ نیکی کرنے کے لیے یہ رقم کہاں سے آئی۔ کیا وہ سیاستدان بننا چاہتا ہے؟ کیا وہ فلاں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ہزار ہا طریقوں سے اس کو پریشان کیا جاتا ہے۔ اس کے نیک کا م میں اس سے تعاون کرنے کی بجائے اس کو اس حد تک مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نیک کام سے باز آجاتا ہے۔ کاش سب سے پہلے ہمارے عوام کو اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کا موقع ملے اور وہ درست سمت میں اپنے آپ کو چلا سکیں اور اس کے بعد ایسے حکمرانوں کا انتخاب کریں جو نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں مدد گار ہوں اور گناہوں کے کاموں سے روک سکیں۔ **********



آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی غیر معیاری سروس


آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی غیر معیاری سروس تحریر: سرمد شمریز آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیز کے خلاف شہریوں اور طلباوطالبات کی ایک بڑی تعداد نے گزشتہ کچھ دنوں سے زبردست احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہوا ہے۔ آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیز جن میں ٹیلی نار، زونگ، یوفون، موبلنک اور ایس کام شامل ہیں، کے خلاف شدید عوامی تحفظات اس وقت شدت کے ساتھ سامنے آئے جب کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تعلیمی اداروں نے آن لائن تعلیمی سسٹم کا آغاز کیا۔ گو کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل بھی ان کمپنیز کی جانب سے فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سروس انتہائی سست اور غیر معیاری تھی لیکن موجودہ حالات میں طلباوطالبات کی آن لائن کلاسز اور آن لائن امتحانات کی وجہ سے عوامی ردعمل شدت کے ساتھ سامنے آیا۔ آزاد کشمیر کے شہریوں کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کمپنیز عوام سے 4G انٹرنیٹ سروس کے نام پر پیسے وصول کرنے کے بعد بھی ایسی سروس فراہم کر رہی ہیں جس کی رفتار 2G سے بھی کم ہے۔ بلکہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس تو دور کی بات، عام موبائل کالز کی سروس بھی موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے مرکزی شہروں کی حد تک تو یہ کمپنیز 4G انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہی ہیں جس کی رفتار سست ہے لیکن مرکزی شہروں سے چند کلومیٹر دور چلے جائیں تو وہاں 2G سروس بھی موجود نہیں ہے۔ عام شہریوں اور طلباوطالبات کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ اگر یہ کمپنیز 4G انٹرنیٹ سروس کے پیسے وصول کرنے کے بعد بھی غیر معیاری اور انتہائی سست سروس فراہم کر رہی ہیں تو یہ عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر کے شہریوں کی جانب سے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کیا گیا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ ٹویٹر پر ان کمپنیز کے خلاف شہریوں کی جانب سے زبردست ٹرینڈ چلایا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں ٹویٹس کی گئیں اور یہ معاملہ کھل کر سامنے آیا - 'آزاد کشمیر میں بہتر انٹرنیٹ فراہم کرو ' کے ہیش ٹیگ سے قریباً 27 ہزار سے زائد ٹویٹس ایک دفعہ اور قریباً 29 ہزار ٹویٹس دوسری دفعہ کی گئیں۔ صرف دو گھنٹوں میں یہ ٹرینڈ ٹویٹر پر پاکستان میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ ایسا صرف آزاد کشمیر کے با شعور سوشل ورکرز اور دیگر شہریوں کی محنت کی بدولت ہوا کہ انکا یہ مطالبہ قومی سطح پر سامنے آیا۔ شہریوں کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس میں کہا گیا کہ انکا مطالبہ انتہائی واضح اور قابلِ فہم ہے کہ آزاد کشمیر کے شہریوں کو فی الفور معیاری انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ عوام نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی ناقص سروس کے خلاف احتجاج کیا لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس احکامات سامنے نہیں آئے اور نہ ہی انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیز کے ذمہ داران نے کوئی نوٹس لیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے بڑے بڑے الیکٹرانک میڈیا چینلز نے بھی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور آزاد کشمیر کے شہریوں کے اس اہم مسئلہ پر کوئی پروگرام یا خبر نشر نہ کی۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ معیاری تعلیم کا حصول بہتر انٹرنیٹ سروس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بالخصوص موجودہ حالات میں پروفیشنل تعلیمی اداروں اور کالجز کے طلباوطالبات کو انٹرنیٹ کی ناقص سروس کی وجہ سے آن لائن کلاسز لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے رویے پر بھی عوام شدید احتجاج کر رہی ہے۔ دنیا ٹیکنالوجی کی کتنی منازل عبور کر چکی ہے اور آزاد کشمیر کے شہری اس دور میں بھی موبائل فون کے سگنلز تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر اس وقت تک اپنے شہریوں کو معیاری انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہیں۔ آزاد کشمیر کے شہریوں نے معیاری انٹرنیٹ سروس کی فراہمی تک سوشل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں نے کہا ہے کہ 4G انٹرنیٹ سروس کے پیسے لے کر 2G انٹرنیٹ سروس بھی فراہم نہ کرنے کا دھوکا مزید نہیں چلنے دیں گے۔ موجودہ حالات میں حکومتِ پاکستان اور پی ٹی اے کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیز کی لوٹ مار کا نوٹس لے کر آزاد کشمیر کے تمام علاقوں میں بلا تفریق فور جی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے احکامات جاری کریں بصورتِ دیگر شہریوں کی جانب سے مرحلہ وار احتجاج جاری رہے گا۔



سوپورکا ننھامجاہد


سوپورکا ننھامجاہد سردارمحمدحلیم خان پینسٹھ سالہ کنٹریکٹر بشیر احمد اپنے نواسے تین سالہ عبید کے ساتھ سوپور کسی کام کے سلسلے میں پہنچے۔کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوج نیم فوجی دستے اور پولیس تعینات ہے یہاں بھی فوج کے جوان جمع تھے بشیر احمد نے اسے معمول کی سرگرمی سمجھا لیکن انھیں معلوم نہ تھا کہ یہ درندہ صفت فوجی ان کو قتل کر کے سکور پورا کریں گے۔یہ اپنی عمر اور چہرے مہرے سے بھی مجاہد نہیں دکھ رہے تھے لہذا بظاہر خطرے والی کوئی بات نہ تھی۔اچانک ان کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔گاڑی رکی تو انھیں معصوم عبید کے ساتھ گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔اس سے قبل کہ وہ کچھ وضاحت کر تے پورا برسٹ ان کے جسم میں اتار دیا گیا۔لاش سڑک پر پھینک دی گئی۔ننھا عبید یہی سمجھا اس کے نانا کو صرف مارا ہے اسے معلوم نہ تھا ان کی شہادت ہو چکی ہے۔تین سالہ عبید اب ان درندوں کے بیچ اکیلا تھا وہ نانا کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا نا معلوم اس لئے کہ ان درندوں سے بچنے کے لئے یا پھر اپنے خیال میں زخمی نانا کو اٹھانے کے لئے کچھ دیر تک جب نانا کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا وہ اس کے التجائیں کرنے بلبلانے کے باوجود نہ اٹھے کہ وہ تو رب کے حضور پہنچ چکے تھے عبید نے عجیب فیصلہ کیا اس نے پتھر اٹھایا اور ایک بھارتی فوج کی طرف چل پڑا۔ننھے عبید کے ہاتھ میں پتھر والی تصویر کاش کے قارئین کو دکھائی جا سکتی۔ تصور کریں ایک تین سالہ معصوم بچہ جس کے سامنے اس کے نانا کو خون میں نہلادیا گیا ہے اس کے بس میں پتھر ہی تھا وہی لیکر چل پڑا۔ یہ معصوم پھول قرآن پاک کی عملی تفسیر بن گیا۔نکلو اللہ کی راہ میں ہلکے ہو یا بوجھل۔ یہ بچہ ساڑھے بائیس کروڑ پاکستانی عوام اورحکمرانوں کو جھنجوڑ چکا کہ میرے پاس ایک پتھر تھا وہی لے کے چل پڑا۔آخر تمہیں کیا ہو گیا تمہارے پاس ایٹم بم ہے میزائل اور ٹینک ہیں جدید ترین طیارے ہیں پھر تمہاری ٹانگیں کیوں کانپ رہی ہیں؟ جذبوں کا یہ عالم کہ تین سالہ بچہ اپنے نانا کا خون میں لتھڑا لاشہ دیکھ کر بھی ہار ماننے کو تیار نہیں اور قربانیوں کی داستان اتنی طویل کہ گذشتہ مارچ سے اس وقت تک 229 نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں ریاض نائیکو جنید صحرائی اور پی ایچ ڈی سکالر ہلال احمد جیسے ہیرے شامل ہیں کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔بشیر احمد کی شہادت نے اس پروپیگنڈے کو بھی تحلیل کر دیا کہ بھارتی فوج پاکستان کے جھنڈے اٹھانے کی وجہ سے قتل عام کر رہی یے۔کیا ایسے بیہودہ دلائل دینے والے بتائیں گے کہ بشیر احمد یا ننھے عبید میں سے کس نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھا تھا جس سے یہ درندے مشتعل ہوے؟ پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے والی بچیاں ہوں یا پتھر کو ہتھیار بنانے والا ننھاعبید یہ بے مثال تاریخ رقم کر رہے ہیں۔لیکن آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشور یوروپ اور گلف کیٹھنڈے ٹھار کمروں میں بیٹھ کر ان کی جدوجہد پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ فیس بکی دانشوروں پر ہی کیا موقوف ہے حال ہی میں ایک سابقہ جرنیل جو الیکٹرانک میڈیا پر دانشوری بگہارتے رہتیہیں انھوں نے بھی یہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا کہ کشمیریوں نے آج تک اپنی جنگ اس طرح نہیں لڑی جیسے لڑنی چاہیے تھی۔پہلی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ پاکستانی عوام مذکورہ شخص کے کسی کارنامے سے واقف نہیں ہیں اپنے آپ کو عسکری ماہر سمجھنے والے اگر کسی نشست میں یہ بھی بتا دیں کہ ان کی عسکری دانش کے نتیجے میں پاکستان کو کس محاذ پہ کامیابی ملی ہے تو ہمیں ان کی بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔فی الحال تو ان کا تعارف صرف اتنا ہے کہ وہ اس مشرف ٹولے کاحصہ تھے جس نے 2003 میں بھارتی دھمکیوں اور سرحدوں پر فوج کے ارتکاذ سے خوفزدہ ہو کر کنٹرول لائن کے تقدس کا معاہدہ کر لیا تھا۔اسی پہ بس نہیں کیا کشمیر میں جہادی اور سیاسی تحریک سے دینی قوتوں کو بے دخل کرنے کے لئے حریت کانفرنس کو تقسیم کیا۔مجاہدین پر پابندیاں لگائیں اور ان میں پھوٹ ڈلوانے کی سازش کی۔ساتھ ہو کر کنٹرول لائن پر باڑ لگوائی۔آج اگر ہندوستان کشمیر میں میدان صاف دیکھ رہا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے کشمیر کے آرپار کئی غدار پیدا کر چکا ہے تو اس کا 'کریڈٹ' بھی مشرف کو جاتا ہے۔موجودہ فوجی قیادت کو اگر یہ احساس ہوا ہے کہ مجاہدین کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر غلطی کی گئی تو مشرف کے چیلوں چانٹوں کو بھی اپنی ترجمانی سے روکیں۔ اگر انصاف کے ترازو پہ تولا جائے تو پاکستان کی عسکری قوت کشمیریوں کی مقروض ہے یہ قرض اتارے بغیر آپ تاریخ میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔ہم سب کچھ بھلا کر ملت اسلامیہ پاکستان کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر ایک جرنیل تجزیہ کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔آگر فوجی قیادت 1947 میں قائداعظم کے حکم پر عمل کر کے جموں سری نگر شاہراہ کاٹ دیتی تو ہندوستان ایک سال بھی کشمیر پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اگر سری نگر ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیتی تو بھارت اپنی فوج ہی نہیں اتار سکتا تھا۔اگر فوجی قیادت بانی صدر سردار ابراہیم خان کی بار بار ایپل پر کان دھرتے ہوے محاصرے میں آئے پونچھ شہر کی ہوائی جہازوں کے ذریعے کمک کو ناکام بنا دیتی تو آج نہ صرف پونچھ شہر بلکہ اوڑی مہنڈر اور راجوری بھی آزاد کشمیر کا حصہ ہوتا۔62 میں جرنیل ایوب خان بزدلی نہ دکھاتے تو کشمیر آزاد ہو جاتا۔65 میں کمانڈوز کے ساتھ عدم تعاون کو جرنل امجد نے بطور خاص ذکر کیا۔اگر کبھی فرصت ملے تو بریگیڈئیر اے آر صدیقی کی کتاب پڑھ لیں۔آپریشن جبرالٹر کے ذریعے ہیرو اور فاتح کشمیر بننے کے چکر میں جرنیل ایوب بھٹو اور جرنیل موسی خان کے مابین مقابلہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے یہ آپریشن کوئی راز تھا ہی نہیں ایک ماہ سے تیاریاں جاری تھیں اور پشاور ائیر بیس پر اس طرح چہل پہل تھی جیسے پکنک منانے نکلے ہوں نتیجہ معلوم کہ بھارت نے مقامی آبادی پر ایک ماہ پہلے ہی کریک ڈاون کر کے اپنے مخبروں کا جال پھیلا دیا۔ جنہوں نے پل پل کی خبریں بھارت کو پہنچا دیں۔ یوں گویا کہ ناقص منصوبہ بندی اور عدم رازداری کی وجہ سے پرندوں کو جکڑے کے لئے شکاری پہلے ہی گھات میں تھے۔آپ کو یہ تو یاد ہے کہ آپریشن آپ کی اپنی بے تدبیری سے ناکام ہو گیا لیکن آپ کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس مہم کے دوران راجوری دوسری مرتبہ آزاد ہو گیا پہلی مرتبہ کرنل ہدایت خان کی قیادت میں ازاد ہوا تھالیکن آپ اس کی حفاظت نہ کر سکے اور جب بھارت نے اس پر دوبارہ قبضہ کیا تو چودہ سو خواتین کو اس جرم میں گرفتا کر کے ان کے ہاتھ گرم تووں پر رکھے گے کہ وہ روپوش مجاہدین کو کھانا پکا کے دیتی رہی ہیں۔ پھر جنرل ضیائالحق شہید نے ان کوتاہیوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی 95 میں عملا کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ایک فیصلہ کن یلغار کی ضرورت تھی وہ ہمت آپ نہ کر سکے۔الٹا اس تحریک کو لو پروفائل کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔2011 شیخ عبدالعزیز کی شہادت کے وقت اور 2016 برہان وانی کی شہادت کے وقت حالات اس سے سو گنا مداخلت کے لئے سازگار تھے جتنے بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے وقت تھے۔لیکن آپ کے ہاتھ اور ٹانگیں کانپتی ہی رہیں۔ آپ کا تجزیہ ان معنوں میں ٹھیک ہے کہ کشمیریوں کا روڈ میپ آج تک یہ رہا کہ انھوں نے بھارت کو بے بس کرنا ہے اور آپ نے آگے بڑھ فیصلہ کن ضرب لگانی یے آپ کی پے درپے شکستہ دلی کے بعد یہ حکمت عملی واقعی غلط تھی۔5 اگست کے بعد کی بے عملی کے بعد تو کشمیر کا بچہ بچہ یہ جان چکا ہے اور درجنوں مواقع کھو دینے کے بعد یہ امید دم توڑ چکی کہ آپ کبھی فیصلہ کن ضرب لگا سکتے ہیں۔ اب ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ بھارت کو خوب زخمی کر کے اسے اٹوٹ انگ کا راگ چھوڑنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں تک لانا ہے۔اس کام میں بھرپور معاونت کر کے آپ سابقہ کوتاہیوں کا کسی حد تک ازالہ کر سکتے ہیں۔ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آزادی سے نہیں روک سکتی کیونکہ ہمارے پاس ننھے عبید جیسے بچے موجود ہیں



سید علی گیلانی کشمیر ہے اور کشمیر سید علی گیلانی


سید علی گیلانی کشمیر ہے اور کشمیر سید علی گیلانی سید سلیم گردیزی 13جولائی 1931کو جب سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں غاصب ڈوگرہ مہاراجہ سے بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں گرفتار نوجوان عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر ڈوگرہ سامراج کی پولیس کی فائرنگ سے 22فر زندان اسلام نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کا افتتاح کیا تھا،سید علی گیلانی اس وقت دو سال کے تھے۔گیلانی اور تحریک آزادی دونوں ساتھ ساتھ پلے بڑھے ہیں۔سید کو تحریک آزادی سے عمر میں دو سال بڑے ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ گزشتہ صدی کے نصف اول کی بات ہے۔ 29ستمبر 1929کوزوری منس تحصیل بانڈی پورہ، نہر زینہ گیر کی کھدائی کرنے والے ایک مزدور سید پیر شاہ گیلانی کے گھاس پھوس کے جھونپڑے میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام سید علی گیلانی رکھا گیا۔خدا جانے یہ محض اتفاق تھا یا پیر شاہ گیلانی کی بصیرت مستقبل کے پردوں میں جھانک رہی تھی کہ اس بچے کا نام کشمیر میں اولین تحریک اسلامی کے داعی و قائد سید علی ہمدانی ؒکے نام پر رکھا گیا۔اس بچے نے بڑے ہو کر سید علی ہمدانی ؒکے نام کی لاج رکھی اور ان کا حقیقی جانشین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہوکر اپنی درماندہ و تباہ حال قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزادی کی منزل کی جانب رواں دواں کردے۔ سید علی گیلانی ابھی دو ہی برس کے تھے کہ1931ئمیں سری نگر سنٹرل جیل کے احاطے میں 22 فر زندان توحید نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کے پہلے باب کی رسم افتتاح ادا کی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک دور و نزدیک تک پھیل گئی۔سید علی گیلانی نے شعور کی آنکھ کھولی تو آزادی کی تحریک جوبن پر تھی۔ڈوگرہ استعمار کے خلاف بغاوت کے الا? ہر سو دھک رہے تھے تکبیر کے نعرے تھے اور آزادی کے ترانے تھے۔علی گیلانی بھی اپنا ننھا ہاتھ بلند کر کے توتلی زبان میں نعرہ ¿ تکبیر بلند کرتا تھا۔آزادی ان کو گھٹی میں پلائی گئی۔بچپن اور لڑکپن کا دور انہوں نے اس تحریک میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک ہو کر گزارا۔سید علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم پرائمری سکول بوٹنگو، سوپور سے حاصل کی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول سوپور سے کیا۔اس کے بعد آپ نے حصول تعلیم کے لیے لاہور کا سفر اختیار کیا اور اسلامیہ کالج لاہو ر سے ادیب عالم کا امتحان پاس کیا۔ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں کشمیر یونیورسٹی سری نگر سے حاصل کیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ ریاست کے محکمہ تعلیم سے بطور استاد وابستہ ہو گئے۔ 1947ئکا سال جہاں برصغیر پاک و ہند کے باشندوں کے لیے آزادی کا پیغام لایا اور ہندوستان اور پاکستا ن کے نام سے دو بڑی طاقتیں آزاد حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھریں وہاں یہ سال بد قسمت ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ایک نئی، تازہ دم اور سفاک تر غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہو ا۔آزادی کی منزل،جس کے لیے ایک عرصے سے اسلامیان وطن قربانیاں دیتے آئے تھے، اندھیروں میں گم ہو گئی تو نو عمر سید علی گیلانی پر اس سانحے کا بڑا گہرا اثر ہوا۔ہر چند شیخ عبداللہ اور اس کے قوم پرست مصاحبین قرآن اٹھا کر لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ ان کی گردن میں جو پھندا ڈالا گیا ہے وہ غلا می کا طوق نہیں بلکہ آزادی کا تمغہ ہے لیکن سید علی گیلانی، شیخ عبداللہ کی اس منطق کو قبول کرنے پر تیار نہ ہو سکے۔ وہ سوچتے رہے، کیا 1931ئکے شہیدوں نے قربانی اس لیے دی تھی کہ ڈوگر ہ استعمار کی جگہ برہنی سامراج کشمیر کو اپنی گرفت میں لے لے؟کیا یہ ساری قربانیاں بھارتی فوجوں کی سنگینیوں کے سائے میں شیخ عبداللہ کو کشمیر کا حکمران بنانے کے لیے دی گئی تھی؟وہ سوچتے رہے اور کڑھتے رہے۔بھولی بھالی قوم کے ساتھ شیخ عبداللہ اور اس کے حواریوں کا یہ دوسرا دھوکہ تھا۔پہلا دھوکہ 1938ئمیں مسلم کانفرنس کا نیشنل کانفرنس میں انضمام تھا۔جس کے نتیجہ میں آزادی کشمیر کی تحریک / منرل کھو کر بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئی۔شیخ عبدا للہ اور ہر ی سنگھ کی ملی بھگت سے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق دوسر ا عظیم فراڈ تھا، کھلی غداری تھی۔ کیا کشمیر اب دوسرا اندلس بنے گا؟کیا اب یہاں سپین کی تاریخ دہرائی جائے گی؟کیا بخارا اور سمر قند کی طرح یہاں سے بھی اسلامی تہذیب کو دیس سے نکال دیا جائے گا؟۔مستقبل کے پر دوں میں چھپے ہوئے ان مہیب خطرات کی آہٹیں سید علی گیلانی کے اندر کی دنیا کو زیرو زبر کئے ہوئے تھیں۔ان خطرات کا مقابلہ کون کرے گا؟لڑکپن اور جوانی کے سنگھم پر کھڑے سید گیلانی کے لیے یہ اضطراب انگیز سوال چیلنج بن گیا۔وطن کے جن اصحاب اخلاص پر نگاہ رکتی تھی اور اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی امید کی جا سکتی تھی، وہ ریاست سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ان میں چودھری غلام عباس اور میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ جیسی قد آور سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔مایوس کن حالا ت میں سید علی گیلانی کی رسائی مولانا سید ابو الا مودودی ؒکے لٹریچر تک ہو ئی تو انہیں اندھیرے میں روشنی کی کرن نظر آگئی۔انہیں اپنے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی اور نظام اسلامی کے احیائکے لیے سید مودودیؒنے اپنے افکار و کردار سے جہد مسلسل کا جو راستہ اختیار کیا تھا، جناب سید علی گیلانی نے اسی راستے کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔اسی دوران تحریک اسلامی جموں و کشمیر کے درویش صفت امیر جنا ب مولانا سعد الدین سے ان کی ملاقات ہوئی، تو وہ سید مودودیؒ کے لٹریچر کے بعد مولانا سعد الدین کے فیضان نظر کے قائل ہو گئے۔ یوں جنا ب سید علی گیلانی اس قافلہ عشاق میں شامل ہو گئے، جسے جماعت اسلامی کہا جاتا ہے۔جماعت اسلامی میں شمولیت کے ساتھ ہی سید علی گیلانی کو اپنے تمام سوالوں کا جواب مل گیا۔وہ جماعت اسلامی کی انقلابی دعوت اور اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے دیوانہ وار سرگرم عمل ہو گئے۔جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے ریاست پر بھارتی تسلط کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔جماعت اسلامی کے قائدین ہمیشہ اپنی گرمئی گفتار سے ریاست پر بھارتی قبضے کو توڑتے رہے۔حق گوئی و بے باقی کے جرم میں جماعت اسلامی کے قائدین اور کارکنوں کو بارہا جیلوں میں دھکیلا جاتا رہا لیکن جماعت اسلامی آزمائش کی ہر بھٹی سے کندن بن کر نکلتی رہی۔ ابتلا کی بھٹی سلگائی گئی تو سید علی گیلانی سب سے بڑھ کر تعزیر و تعذیب کے مستحق ٹھہرے کہ انہوں نے بھارتی استعمار کو زیادہ جرات اور زیادہ بلند آواز سے للکارا تھا۔انہوں نے ہر بار یہ بات دو ٹوک انداز میں کہی: ”میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو نہیں مانتا۔میں بھارتی سامراج کا باغی ہوں اور اس بغاوت کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑا تومیں اسے اپنی سعادت سمجھوں گا“۔جناب سید علی گیلانی کی یہ جرا ¿ت اور بیباکی بھارتی حکمرانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی چلی گئی۔28اگست 1962ئکو پہلی بار انہیں گرفتار کر کے پس دیوار زندان پہنچا دیا گیا۔جہاں وہ ایک سال ایک ماہ تک مقید رہے۔یہ دارو گیر کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نقطہ آغازتھا۔اس کے بعد تو جیل سید علی گیلانی کا مسکن، ہتھکڑی زیور اور زنجیر کی کھنکھناہٹ آزادی کا ترانہ بن گئی۔اور ان کی سیاسی زندگی کا ہرتیسرا دن جیل میں گزرنے لگا۔جیل میں ایک اور مرد درویش جناب حکیم مولانا غلام نبی بھی موجود تھے جو بعد میں امیر جماعت اسلامی (مقبوضہ)جموں و کشمیر بھی رہے۔ ان کی قربت نے سید علی گیلانی کی علم کی پیاس بجھائی اور انہیں عمل کے اسلحے سے لیس کیا۔یہ عرصہ گیلانی صاحب کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔مولانا حکیم غلام نبی کے علم و تقوی نے آپ کی زندگی میں گہرے نقوش ثبت کئے۔اسی اسیری کے عرصے میں آپ کے والد گرامی کی وفات ہوئی، لیکن آپ کو والد ماجد کا آخری دیدار کرنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔وہ اپنے محبوب باپ کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے۔جیل سے رہائی کے بعد آپ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل بنا دیے گئے۔جیل کی سختیوں اور قید و بند کی صعوبتوں نے آپ میں بھارتی تسلط کے خلاف بغاوت کے جذبات کو اور بھی بھڑکا دیا تھا۔اب وہ پہلے سے زیاوہ بلند آہنگ میں آزادی کی صدا بلند کرنے لگے۔و ہ پوری یکسوئی سے ہندوستانی استعمار سے رائے شماری کرانے کا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔عوام کو آپ نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے تیار،بیدار اور ہوشیار کرنا شروع کیا۔ 1965ئمیں پاکستان کے مشہور زمانہ ”آپریشن جبرالٹر“سے کچھ ہی عرصہ پہلے7مئی1965ئکو سید علی گیلانی کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔باور کیا جاتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کو اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے اس آپریشن کی بھنک پڑچکی تھی۔ان کے خیال میں پاکستانی حملے کی صورت میں سید علی گیلانی ہی پاکستانی کمانڈوز کو اندرون کشمیر ہر ممکن مدد فراہم کر سکتے تھے، ©لہٰذا”آپریشن جبرالٹر“کو ناکام بنانے کیلئے جناب گیلانی کی گرفتاری ضروری تھی۔ ©”آپریشن جبرالٹر“کی ناکامی کی وجوہ میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں رائے عامہ کو بیدار اور منظم کر کے مجاہدین کی پشت پر لا کر کھڑاکرنے والی قیادت میسر نہ تھی۔سید علی گیلانی میدان میں موجود ہوتے تو اس کمی کو احسن انداز سے پورا کر سکتے تھے۔لیکن آپریشن جبرالٹر کے ”شاہ دماغ“منصوبہ سازوں کو شاید صورت حال کے اس پہلوکی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ سید علی گیلانی کی رہائی 1967ئمیں اس وقت عمل میں آئی جب آپریشن جبرالٹر کا طوفان تھم کر حالات بظاہر پر سکون ہو گئے تھے۔رہائی کے فوراََبعد سری نگرمیں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں سید علی گیلانی نے ایک بار پھر اپنے عزم آزادی کا بیانگ دہل اظہار کر کے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں۔پریس کانفرنس میں آپ نے فرمایا: ”بھارت نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ میں تسلیم کر رکھاہے اور ہماری بھی کوشش یہی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی انداز میں ہی حل کیا جائے۔خود بھارت کا مفاد بھی اسی میں ہے لیکن اگر بھارتی حکمرانوں نے مزید ٹال مٹول سے کام لیا تو کشمیری کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔“جب شیخ عبد اللہ اور اس کے حواری بتدریج رائے شماری کے مطالبے سے پسپائی اختیار کرنے لگے۔شیخ نے 1973ئمیں اندرا گاندھی کے ساتھ گٹھ جوڑکر کے بھارئی قبضے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔یوں وزارت اعلیٰ کی کرسی کے عوض کشمیریوں کے حق آزادی کاایک بار پھر سودا کر کے ”شیر کشمیر“غدار چہرے کے ساتھ سامنے آگیا۔اب شیخ عبد اللہ اور اس کے مصاحبین کے تیورہی بدل گئے تھے۔ جو کل تک رائے شماری کے لیے لڑنے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے، اب کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو”اٹل حقیقت“اور کشمیر کو بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ ثابت کر انے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔اس موقع پر بھی سید علی گیلانی نے ہی قوم کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔



22جون تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد و آغاز


22جون تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد و آغاز سردار ممتاز حسین خان 1832ء میں مہاراجہ گلاب سنگھ والی پونچھ ضلع ہزارہ کے علاقہ میں یوسف زئی قبیلہ کے ساتھ مصروف جنگ تھا تو ریاست پونچھ میں سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کی قیادت میں ڈوگرہ فوج کو مجاہدین نے گاجر مولی کی طرح کاٹا۔ جب گلاب سنگھ کو اپنے بیٹے کی شکست کا علم ہوا تو ایک انگریز مصنف مائیکل سمتھ کے مطابق گلاب سنگھ برق رفتاری سے فوج کا ایک بھاری لشکر لے کر پونچھ پر نازل ہوا اور مجاہدین سے جنگ شروع کی۔ پندرہ ہزار مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔ فتح پانے کے بعد گلاب سنگھ نے سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیا ان کی زندہ کھالیں نکال کر ان میں بھوسہ بھر کر منگ کے مقام پر ایک درخت کے ساتھ لٹکایا۔ مگر پونچھ کے لوگوں خاص کر سدھن قبیلہ میں حریت کی چنگاری سلگتی رہی۔ جو 13جولائی 1931ء میں شعلہ جوالہ بنی۔ انگریزوں نے 1846ء میں جموں و کشمیر کو ریاست پونچھ کے حکمران گلاب سنگھ کے ہاتھوں 75لاکھ نانک شاہی کے عوض فروخت کیا۔ اس پر علامہ اقبال کی تڑپتی روح نے کہا:۔ دہقاں و کشت و جوئے، خیاباں فر وختند قوت فروختند و زچہ ارزاں فروختند گلاب سنگھ نے محکوم ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ظلم و جبر کا ہر حربہ استعمال کیا۔ گلاب سنگھ اور اس کی اولاد کے ظلم و بربریت کے خلاف وقتاً فوقتاً حریت کی چنگاری بھڑکتی رہی جو 13جولائی 1931ء سے ہوتے ہوئے 1947ء میں داخل ہوئی۔ 1947ء کا سال ڈوگروں کی حکمرانی کا آخری سال ثابت ہوا۔ برصغیر میں بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان کے نعرے گونج رہے تھے۔ جموں و کشمیر میں بھی آزادی کی تڑپ نے کروٹ لی تو کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے گونجنے لگے۔ اپریل 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ راولاکوٹ آیا۔ تیس ہزار سابق فوجیوں کو وردی میں دیکھ کر سٹپٹایا۔ واپس جا کر اس نے حکم دیا کہ مسلمانوں سے چاقو چھری تک جمع کر دیا جائے۔ مئی 1947ء میں دھمنی کے مقام پر ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں خواتین کی بے عزتی اور کچھ گرفتاریوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ سردار محمد ابراہیم خان صاحب بھی اپریل، مئی میں تحصیل سدھنوتی اور تحصیل باغ کا دورہ کر کے اور لوگوں کے اندر حریت و آزادی کی چنگاری بھڑکر واپس سرینگر چلے گئے تھے۔ ایسے میں بکھرے جوش و ولولہ کو یکجا کر نے کے لئے ریاست کے سرکردہ لوگوں کی ایک میٹنگ لازمی تھی۔ راولاکوٹ و باغ میں دفعہ 144کا نفاذ تھا۔ جلسہ اور میٹنگ انتہائی مشکل کام تھا۔ کسی گھر یا عمارت کو پیش کرنے کا مطلب آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا۔ مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر چوہدری حمید اللہ راولاکوٹ پہنچ چکے تھے۔ ان دگرگوں حالات میں ایک مرد مجاہد و مرد آہن آگے بڑھتا ہے اور اس اہم میٹنگ کے لئے اپنا قلعہ نما گھر پیش کر دیتا ہے۔ اس عظیم شخصیت کا نام نامی مولوی اقبال تھا۔ راولاکوٹ شہر کے نزدیک پوٹھی بالا ان کا مسکن تھا۔ مولوی اقبال کے ساتھی خان بہادر آف کھڑک ڈوگرہ فوج اور پولیس کو یوں غچہ دینے میں کامیاب ہوئے کہ میٹنگ کھڑک کسی مقام پر ہو گی۔اس عظیم شخصیت کے بارے میں سیّد حسن شاہ گردیزی کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں ”دنیا میں ان گنت لوگوں نے ذہنی سوچ، فکر و عمل اور جدوجہد کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ یہی لوگ ہر دور کے رہبر، رہنما و سرخیل رہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہر عید کے لئے چشم بینا کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی لوگوں کے نقوش قدیم تاریخ کے ہر موڑ پر جگمگاتے نظر آتے ہیں“۔ مولوی اقبال خان کا شمار بھی ایسے ہی پر عزم لوگوں میں ہوتا ہے۔ سمیط سدوزئی میں سردار صابر حسین صابر لکھتے ہیں۔ ”سردار محمد ابراہیم خان سیاسی و عسکری ونگ کی تشکیل کے بعد جب واپس سرینگر گئے تو انہوں نے چوہدری حمیداللہ کو دورہ راولاکوٹ سے آگاہ کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ وہ مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر کی حیثیت سے خود بھی راولاکوٹ جائیں تاکہ کارکنان کے حوصلے بلند ہو۔ اس کے بعد 22جون کو چوہدری صاحب بھی راولاکوٹ کے دورے پر آئے لیکن یہاں دفعہ 144کا نفاذ تھا جو اجلاس کے انعقاد میں مانع تھا۔ اس صورت حال کے پیش نظر چوہدری صاحب اور کارکنان مایوسی کے حصار میں سرپکڑ کر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر ایک مرد حق نے اجلاس کے انعقاد کے لئے جب اپنے قلعہ نما وسیع مکان کے در کھولے تو گویا قوم کے دراقبال کھل گئے۔ قوم کے اس محسن کا نام مولوی محمد اقبال خان ہے اور ان کا وہ قلعہ نما مکان پوٹھی مکوالاں میں تھا۔ مولوی صاحب نے اجلاس کے شرکاء کے لئے نہ صرف اشیائے خوردونوش کا اہتمام بقدر ضرورت کیا بلکہ ان کی حفاظت کے لئے عسکری ونگ کو بھی چاک و چوبند ررکھا۔ مذکورہ اجلاس میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس موقع پر چوہدری حمید اللہ نے کہا مجھے خدشہ ہے کہ سدھن 1832ء کی طرح ایک بار پھر زیر عتاب نہ آجائیں۔ جواباً سردار سلیمان خان آف ہورنہ میرہ نے کہا ”چوہدری صاحب اگر یوں ہوا تو کھالیں اب کے سدھنوں کی نہیں بلکہ ڈوگروں کی اتریں گی“۔ ”آزادی کے خواب پریشان میں“۔ سردار مختار خان ایڈووکیٹ فرماتے ہیں۔ ”دفعہ 144کے نفاذ کے باعث جلسہ عام کرنا ممکن نہ تھا اس لئے جملہ کارکنان کے مشورہ سے رات کے وقت کارکنان کا اجلاس راولاکوٹ سے باہر مولوی اقبال خان کے قلعہ نما وسیع مکان واقع پوٹھی مکوالاں میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کارکنان مختلف اطراف سے تحصیل سدھنوتی اور تحصیل باغ سے اقبال خان کے مکان میں پہنچنا شروع ہوئے۔ خوردونوش کا اہتمام مولوی صاحب نے کیا ہوا تھا۔ اس تاریخی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کے سلسلہ میں تن، من، دھن کی بازی لگانے کا عہد کیا گیا۔ چوہدری حمید اللہ خان نے کلام پاک پر سب سے حلف لیا۔ نتیجتاً یہ میٹنگ ایکسپوز ہوئی مولوی اقبال خان کے اس تاریخی مکان کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ مال و اسباب ڈوگرہ فوج نے لوٹ کر یہ مکان نذر آتش کر دیا اور مولوی اقبال خان کو گرفتار کر کے حوالہ زندان کیا گیا۔ اس مقام کو پونچھ میں اولیت اور تاریخی حیثیت حاصل ہے“۔ دین محمدؐ کا یہ غازی 14ماہ تک ہری سنگھ کی جیل میں رہا۔ یہ عزت وناموس کے رکھوالے جیالے تقدیر کے معمار ہیں اے وادی کشمیر تاریخ جموں و کشمیر میں غازی محمد امیر رقمطراز ہیں۔ ”آپ مولانا محمد اقبال خان واحد خوش قسمت شخص ہیں جن کے مکان کے اندر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس سردار محمد شریف خان ریٹائرڈ چیف جسٹس کی صدارت میں ہوا جو اس وقت میں مسلم کانفرنس کے صدر تھے۔ اور چوہدری حمید اللہ جو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قائمقام صدر تھے وہ بھی اس اجلاس میں موجود تھے اور مہمان خصوصی تھے۔ اسی اجلاس میں سردار محمد عبدالقیوم نے مسلم کانفرنس میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ جو سیّد حسن شاہ گردیزی کی کوشش سے ہوا۔ آپ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے لیڈروں نے آپ کے گھر میں آزادی کے لئے اہم نوعیت کے فیصلے کئے۔ آپ کا اعلان تھا (یعنی مولوی اقبال کا) یا تخت یا تختہ دار پر لٹک جائیں گے۔ آپ چودرہ ماہ تک مہاراجہ ہری سنگھ کی کی جیل میں رہے۔ یہ ان عینی شاہدین کے مولوی اقبال خان کے بارے میں ان کی قربانی کا اعتراف ہے۔ 1947ء کے حوالہ سے دیگر مصنفین کے بھی مولوی اقبال خان کے بارے میں بہترین الفاظ میں خراج تحسین ہے لیکن کالم کی تنگ دامنی آڑے ہے۔ 22جون کو مولوی اقبال خان کے پوتے ریاض صابر کے گھر مولوی اقبال خان کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ مقررین بالخصوص سردار طاہر انور سابق وزیر حکومت نے فرمایاکہ 22جون ہی تحریک آزادی کشمیر کا نقطہ آغاز ہے جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ اگر مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ نہ کیا تو مہاراجہ کی حکومت کے خلاف اس اجلاس کو اعلان بغاوت کے طور پر لیا جائے گا۔ سامعین کے مزید گوش گزار کیا گیا کہ 19جولائی 1947ء سری نگر میں الحاق پاکستان کی قرارداد کی منظوری ہو یا 15اگست 1947ء راولاکوٹ میں اعلان بغاوت ہو یا 23اگست نیلہ بٹ کی میٹنگ ہو یا 26اگست ہڈا باڑی کے مقام پر جلسہ اور ڈوگروں کی طرف سے فائرنگ ہو یا 29اگست دوتھان کے مقام پر ڈوگروں سے دست بدست لڑائی ہو یا 24اکتوبر کو انقلابی حکومت کا قیام ہو ان سب کی بنیاد 22جون مولوی اقبال خان کے مکان میں ہونے والے پہلے اجلاس کے فیصلوں کا اظہار ہے۔ 22جون کو ریاض صابر کے گھر منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکاء نے یہ عہد کیا کہ تحریک آزادی کشمیر کے اس عظیم ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے اور مولوی اقبال خان مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہر سال 22جون کو یہ دن منایا جائے گا۔ اس عظیم مقصد کے لئے مولوی اقبال میموریل فورم تشکیل دیا گیا جو فی الحال پوٹھی مکوالاں کی مختلف جماعتوں پر مشتمل ہو گا۔ بعد میں اسے راولاکوٹ تک وسعت دی جائے گی۔ اس فورم کے سردار طاہر انور ایڈووکیٹ چیف آرگنائزر (ن لیگ)، سردار اظہر نذر(مسلم کانفرنس)، سردار ممتاز حسین خان (جماعت اسلامی)، سردار ببرک شریف (پاکستان پیپلز پارٹی) اور سردار ماجد نعیم(جموں کشمیر پیپلز پارٹی) حصہ ہیں۔ پروگرام کے آخر میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی گئی اور ماکولات سے شرکاء کو نوازا گیا۔



کورونا وائرس قرآن وحدیث کی روشنی میں


کورونا وائرس قرآن وحدیث کی روشنی میں یاسر یوسف انسانی تخلیق کے بعداگر غور گیا جائے تو بیماریوں کا آناجانا نظام کا حصہ ہے۔تاریخ کے اوراق پر ایسی بیماریوں کا ذکر ملتا ہے جنوں نے وبائی شکل اختیار کی اور پورے معاشرے کو متاثر کیاہے اور ساتھ میں معاشرے کی جان بھی لی ہے تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی وبائی امراض پھیلی ان میں اکثر کسی ایک علاقہ یاچندممالک تک محدود رہی اور باقی علاقہ محفوظ رہے لیکن اگر غور کیا جا ئے تو کروناوائرس بھی ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کرچکا ہے اور چین کے شہرووہان سے پھیلنے والے وائرس نے پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اوردن بدن یہ وبائی مرض شدت اختیار کر رہی ہے اور لاکھوں انسانوں کی زندگیاں کا سورج اس نے غروب کر دیا ہے اور زندہ انسانوں کے زہن میں اپنا خوف راسخ کر چکا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس بھی عام وائرل انفیکشن نزلہ زکام اور بخار کی طرح ہے لیکن بہت تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے جس انسان کو منتقل ہو تا ہے اس کو خبر تک نہیں ہوتی کیونکہ اس وائرس کے اثرات کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتے ہیں اس سے قبل یہ اور بہت سے انسان کو متاثر کر چکا ہوتا ہے اس بیماری نے تمام ممالک جن میں ترقی پذیراور ترقی یافتہ ہرایک کو متاثر کر چکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی حاصل کی جائے۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخربیماریاں اور مصیبتیں کیوں آتی ہیں....؟اس چیزمیں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ نے اپنی تقدیر میں لکھ رکھ ہے صحت اور بیماری یہ رب کے حکم سے آتی ہے اور یہ بھی رب کی تقدیر کا حصہ ہے چنانچہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے ”اگر ساری دنیا مل کر تمہیں فائدہ دینا چاہے تو تمہیں فائدہ نہیں دے سکتی سوائے اس کہ جو رب نے لکھ دیا ہے اور اگر سارے مل کر تمہیں نقصان دینا چاہیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے سوائے کہ جو رب نے لکھ دیا ہے“اسی طرح رب نے قرآن کریم (سورۃ الشوری:۰۳)میں ارشاد فرمایا ”اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے“اس طرح قرآن و حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں کے اپنے اعمال بھی مصیبتیں اورپریشانیاں آنے کا سبب بنتے ہیں۔بلکہ حضورﷺ نے ان کاموں کی نشاندہی بھی فرمائی ہے جو کسی خطرناک بیماری کا سبب بنتی ہیں۔ابن ماجہ میں حضورﷺکی ایک حدیث ہے کہ ”جب کسی قوم میں کھلم کھلا بے حیائی شروع ہو جاتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کہ گزرے لوگوں میں نہیں ہوتی تھی“اس سے معلوم ہوا کہ جب بے حیائی اور گناہ عام ہوجاتا ہے تو نت نئی اور خوفناک بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہوتا ہے لیکن اسلامی معاشرے میں ہر تکلیف،بیماری اور مصیبت میں بھی ایک سبق پو شیدہ ہوتا ہے اور اس سے مومن کے گناہوں کی معافی ہوتی ہے اس بارے میں حدیث نبوی ہے کہ ”جب مومن کو کوئی بیماری اور تکلیف لاحق ہوتی ہے اور پھر اللہ اسے شفاء عطاکرتا ہے تو بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور آئندہ کہ لیے یاددہانی ہو جاتی ہے اور منافق جب بیمارہوتا ہے تو اس کو وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے مالک نے پہلے باندھا اور پھر چھوڑدیا اور اسے یہ پتہ ہی نہیں چلتااسے باندھا کیوں گیااور چھوڑا کیوں گیا“(سنن ابی داؤد)چنانچہ بیماری میں خزع اور فزع کرنے کے بجائے ان اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہے جن کی طرف اللہ اور رسول ﷺنے حکم دیا ہے یہاں پر ان اعمال کا ذکر کردیتے ہیں جن کو اگر اختیار کیا جائے تو حالات میں ضروربہتری آجائے گی رجوع الی اللہ....انسان اس دنیا میں اسقدر مصروف ہو گیا ہے کہ اسے ہر طرف دنیا کی لذت ہی نظر آتی ہیں ان لذت کے حصول میں انسان نے حلال اور حرام کی تمیز کو ختم کر دیا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر قسم کے گناہوں سے سچی توبہ کی جائے اور اللہ کی طرف رجوع کریں خصوصا کبیرہ گناہوں سے جسے بدکاری و بے حیائی،ناپ تول میں کمی،زکوۃ کی عدم ادائیگی،سودی لین دین اور رشوت جسے کاموں کو ترک کر کے اللہ اور رسولﷺکے احکام کے مطابق زندگی کو بسر کیا جائے۔ صدقہ کی عادت بنائیں......صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کر تا ہے اس سلسلے میں ترمذی میں حدیث موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ”صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے“اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صدقہ وخیرات کا اہتمام کیا جائے تاکہ یہ صدقہ اور خیرات ہماری جان ومال کی حفاظت کا زریعہ بنے۔ صبرکو زندگی کا حصہ بنائیں.....بندۂ مومن اگر کسی موقعہ پر کسی غم وپریشانی یا وبائی مرض میں مبتلاء ہو جائے تو گلے شکوے کرنے کے بجائے صبرکا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے کیونکہ قرآن میں آیاہے کہ صبرکرنے والوں کے لیا خوشخبری ہے اور حدیث میں آیاہے کہ ”جو بندہ کسی جانی یا مالی مصیبت میں مبتلاہو اور وہ کسی سے اس کا شکوہ شکائیت نہ کرے تو اللہ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اسے بخش دے“مندرجہ بالااعمال کو اختیارکرنے کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب کو اختیار کرنا بھی سنت نبوی ہے اس لیے علاج معالجے کے لیے دستیاب مستندوسائل اور احتیاطی تدابیرکو اختیار کیاجائے ظاہری اور باطنی صفائی اور پاگیزگی کا خاص خیال رکھا جائے باوضوررہے کا معمول ہو اس سے اعضاء کی صفائی ہو نے کے ساتھ بہت سی نیکیاں بھی حاصل ہوتی ہیں جس مجمع یا جس مقام پر بیماری لگنے کے خطرات واضح طور پر موجود ہوں وہاں سے باہر نہ نکلیں بلکہ صبر اور مضبوط ایمان کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہیں۔وبائی مرض میں فوت ہونے والا شہید ہے حدیث کے مطابق طاعون اللہ کا عذاب ہے لیکن اللہ نے ایمان والوں کے لیے اس کو رحمت بنا دیا ہے حدیث میں آیا ہے ”جو شخص طاعون میں مبتلاہو اور وہ اپنے شہر میں صبر کرتے ہو ثواب کی امید کے ساتھ ٹھہرارہے یہ جانتے ہوے کہ اسے وہی چیزپہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو ایسے شخص کے لیے شہید جیسا اجر ہے۔ لہذا مسلمانوں کے لیے کوروناوائرس یا کسی بھی دوسری بیماری میں گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے احتیاطی تدابیر،علاج معالجے مسنون دعاؤں اور اعمال کا اہتمام،اللہ پاک کی طرف رجوع اور ثواب کے ساتھ اپنے معمولات کو جاری رکھا جائے اور بلا تصدیق وتحقیق بے بنیاد چیزوں یا افواہوں کو پھیلانے سے گریز کیا جاے۔مختلف وبائی امراض ناگہانی مصائب وآلام سے محفوظ رہنے اورآفات سماوی وارضی سے حفاظت کے لیے یہ وہ تعلیمات ہیں جو ہمیں ہمارے دین اور پیارے نبی حضرت محمدﷺنے ہمیں دی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی جانب رجوع کریں،توبہ واستفارکواپنا معمول بنالیں،حقوق اللہ اورحقوق العبادکی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں،اللہ اور رسولﷺکی رضا اور اطاعت کو اپنا شعار بنالیں،اس میں دین ودنیاکی کامیابی اور آخرت میں نجات کا راز پوشیدہ ہے۔



کشمیر و عمران خان


کشمیر و عمران خان سردار ممتاز حسین خان ٹی وی آن کیا تو حکومتی ترجمان مراد سعید غصے بھرے لہجے میں اسمبلی بجٹ سیشن میں تقریر فرما رہے تھے۔ ماتھے پر شکن، ناک اوپر کی طرف کھینچی ہوئی۔ وہ اگر نارمل بھی بات کر رہے ہوں تو چہرے کی ساخت سے غصہ نظر آتا ہے۔ عمران خان صاحب کی کابینہ میں عجوبے بھی ہیں۔ شیریں مزاری چونکہ شیریں ہیں ان کی مٹھاس والی گفتگو قوم کو ذائقہ دے دیتی ہے۔ اس لئے وہ میٹھا عجوبہ ہیں اور مراد سعید کڑوا عجوبہ۔ مراد سعید اپوزیشن کی ہوٹنگ میں تقریر فرما رہے تھے کہ عمران خان نے کشمیر کو انٹرنیشنلائز کیا۔ ایک سال میں دو مرتبہ اقوام متحدہ میں کشمیر کو برننگ ایشو بنایا۔ 72سالوں میں پہلی مرتبہ کشمیر کی بازگشت دنیا میں سنائی دی وغیرہ وغیرہ۔ مراد سعید کی دھواں دھار تقریر اپوزیشن کے انٹرپ کے باعث رکتی رہی ورنہ آج کی تقریر میں کشمیر کا قضیہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیتے۔ اسمبلی ہال مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ بانجھ قوم کے بانجھ رہنما آج پوری دنیا کے سامنے تماشا لگائے ہوئے تھے۔خیر میں اپنے موضوع کے مطابق ہی قلم و قرطاس کا رشتہ جوڑوں گا۔ اقوام متحدہ میں عمران خان کی زور دار تقریر نے مقبوضہ کشمیر کو بہت ریلیف پہنچایا۔ امن و آشتی کی ہوائیں چلیں۔ کشمیریوں کو امن کی زندگی نصیب ہو گئی۔ ایک سال میں دو مرتبہ بقول مراد سعید اقوام متحدہ میں کشمیر کی گونج نے 5اگست 2019ء کو بھارت کو اتنا دلیر کیا کہ 72سال بعد دفعہ 370اور 35اے کا خاتمہ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو دفن کر کے اقوام متحدہ اور عمران خان کو پیغام دیا کہ آپ بھارت کا بال بھی ٹیڑا نہیں کر سکتے۔ بھارت یہ کام پاکستان میں کسی بھی لولی لنگڑی حکومت کے دور میں کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ اس پر مستزادیہ یہ کہ اس اقدام کے ایک ماہ بعد کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کی ڈیمو گرافی تبدیل کی گئی۔ اب کشمیر، کشمیر نہیں ہندوستان ہے۔ یہ بھی عمران خان کی تقریر کی برکت ہے کہ ان تمام بھارت کی جانب سے اقدامات کو اقوام عالم نے اس ظلم پر خاموشی اختیار کر کے بھارت کے اقدام کی خاموش حمایت کی۔ عمران حکومت کی قابلیت اس وقت آشکارا ہوئی جب یہ انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد بھی پیش نہ کر سکی۔ کشمیر میں غیر معمولی حالات کا عمران خان نے ادراک کب کیا۔ کشمیر میں 5اگست 2019ء کو سویرے ہر طرف کرفیو کا اعلان ہونے لگا۔ لینڈ لائن، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سب کچھ بند کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی پر تو پہلے ہی پابندی عائد ہو چکی تھی۔ اس کے ادارے بند کر دئیے گئے تھے۔ سینکڑوں کارکن گرفتار کر لئے گئے تھے۔ اثاثے منجمند کر دئیے گئے تھے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی لگ گئی تھی اور اس کے کارکن گرفتار کر دئیے گئے تھے۔ حریت کی ہر سطح کی قیادت کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔ 5اگست کو کشمیر میں اٹھارہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حتیٰ کہ دہلی نواز لوگوں کو بھی تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، اور محبوبہ مفتی، نظر بند کئے گئے وہی محبوبہ مفتی جو کچھ ہی مہینے قبل بی جے پی حکومت میں حلیف تھی۔ اب مکافات عمل سے گزر رہی تھیں۔ ہندوستان کو اب ان کی ضرورت نہ تھی۔ اب جبر کے ہتھکنڈے ہی ان کی کامیابی کی دلیل تھی۔ اس لئے کہ بھارت کو یقین ہو چکا تھا کہ ان کا بازو مروڑنے والا دنیا میں کوئی نہیں۔ اقوام متحدہ میں عمران خان کی جاندار تقریر کے زیر سایہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی قومی، نسلی اور جغرفائی شناخت کی تبدیلی اور خصوصی قوانین کے خاتمے کے آٹھ ماہ بعد اپنے اصل منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کے نام سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے ذریعے ریاستی ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی۔ جس کے تحت کشمیر میں پندرہ سال تک مقیم رہنے والے اور یہاں سات سال تک تعلیم حاصل کرنے اور دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان دینے والے ملازمت کے حق دار ہوں گے۔ ڈومیسائل قانون کی نئی تشریح کے مطابق اب بھارتی حکومت کے کشمیر میں سات سال تک تعینات رہنے والے اعلیٰ آفیسران، آل انڈیا سروس آفیسرز،بھارتی حکومت کے کشمیر میں نیم خودمختار اداروں، کارپوریشنوں کے لوگ فوراً اس قانون کے تحت درخواست دے سکتے ہیں۔ اب آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی نئی چال بھارت نے چلی ہے۔ پاکستان کے ٹیپو سلطان نے ایک رسمی سا بیان داغ کر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔بھارت کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کا کریڈٹ بھی عمران خان کو جاتا ہے۔ کشمیری 5اگست 2019ء سے بدترین کرفیو اور لاک ڈاؤن میں ہیں۔ دنیا تین ماہ کا سمارٹ لاک ڈاؤن برداشت نہ کر سکی۔ بڑے بڑے قہاروں کی چیخیں نکل گئیں۔ ”ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے“ کا نعرہ لگانے والے خدا کے چھوٹے سے عذاب کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ کشمیری تو گیارہ ماہ کے اس لاک ڈاؤن میں جی رہے ہیں۔ جس میں گرفتاریاں ہیں، ظلم و جبر ہے، شہادتیں ہیں، عصمتیں پامال ہیں، معیشت تباہ ہے۔ فون تک بند ہے، حکومتی امداد کے بجائے اذیتیں ہیں۔ ہر ایک کشمیری دکھی اور مجروح ہے۔ لیکن کشمیری جینا سیکھ چکے ہیں۔ ان کی جدوجہد طویل ہے، پیلٹ گنوں کا استعمال ان کی جدوجہد کے راستے میں حائل نہیں ہے۔ شہادتوں کے سفر میں نئے جذبے جنوں بنتے جا رہے ہیں۔ 12رمضان المبارک کو حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو اپنے ایک ساتھی عادل کے ساتھ ایک خون ریز معرکے میں شہید ہوئے۔ ریاض نائیکو برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھی تھے۔ مظفر وانی کی شہادت کے بعد منصورالاسلام چیف آپریشنل کمانڈر بنے ان کی شہادت کے بعد ریاض نائیکو چیف آپریشنل کمانڈر بنے تھے۔ ریاض نائیکو نے جان بازوں کو منظم کرنے اور ان کی مزاحمتی صلاحیت کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کسی ایک کمانڈر کی شہادت کے بعد سینکڑوں کمانڈر میدان عمل میں آجاتے ہیں۔ اس لئے کہ ”خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا“۔ آزادی کی سحر پیدا کرنے کے لئے ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد جنید صحرائی نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ جنید صحرائی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھے وہ اشرف صحرائی رہنما حریت کے بیٹے تھے۔ اشرف صحرائی سید علی گیلانی کے دست راست ہیں۔ اتنے نامور کمانڈروں کی شہادت پر پاکستان کے ٹیپو سلطان لب نہ ہلا سکے۔ انہیں اپنے بکھیڑوں سے فرصت ہی نہیں۔ البتہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے طویل المیعاد ایجنڈا فلسطین سٹائل پر عمل درآمد ہے۔ تقسیم کشمیر کی فضاء ہموار ہو رہی ہے۔ عمران خان کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر راضی کر دیا جائے گا۔ امریکہ اور کچھ دوسری طاقتیں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر حقیقت میں بھارت کو کشمیر میں ہندو نوا ایجنڈے پر عملدرآمد کرواتے ہوئے تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ ٹرمپ، مودی، عمران ٹرائیکا تقسیم کشمیر فارمولہ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے قضیہ کشمیر سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ 72سال بعد پاکستان کی طرف سے یہ خدمت عمران خان کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہو گی۔ کشمیر کو انٹرنیشنلائز عمران خان نے نہیں برہان مظفر وانی، ریاض نائیکو، منصورالاسلام، جنید صحرائی اور ان جیسے ہزاروں شہدا نے اپنے خون کے نذرانے سے کیا۔ بھارت کو چین سے پٹوانے کے لئے اللہ کی لاٹھی بھی حرکت میں ہے۔ آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا۔



راجہ امان اللہ داغ مفارقت دے گئے


راجہ امان اللہ داغ مفارقت دے گئے حافظ سردار محمد اشفاق خان غازی ملت سردار محمدا براہیم مرحوم کی دعوت پر راجہ عنایت اللہ مرحوم نے راولاکوٹ شہر میں انیس سو چونسٹھ کی دہائی میں عنایت بیکر کے نام سے بنیاد رکھی،اس وقت بیکرز کا یہ عالم تھا کہ لوگ گھروں سے انڈے لایا کرتے تھے اور بند یا باقر خوانی اس کے عوض لے جاتے تھے اس وقت بیکری میں بند یا ڈبل روٹی ہوا کرتی تھی بیکری کی دنیا میں جدت 1989 ء میں ہوئی عنایت بیکری کا کام کی ذمہ داریاں عنایت اللہ مرحوم کی وفات کے بعد راجہ عبدالحفیظ کے سرا ٓن پڑیں اور انھوں نے بیکری کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اپنا نام ہی نہیں بلکہ ایک معیار بھی دنیا کے سامنے رکھا طویل عرصہ کے باجود ایک دوبرابچیں اوپن کیں،کمیشن پر مال کسی دوسری برانچ پر نہ دیا وجہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی بیکری کسی دوسری برانچ کو مال سپلائی کرتی ہے خواہ وہ اس کی برانچ نہیں ہے تو پھر مال میں وہ معیار نہیں رہتا کیوں کہ معیار ی مال کم کمیشن پر دینا ممکن نہیں رہتا راجہ عبدالحفیظ نے طویل عرصہ تک بیکری پر کام کیا الحمد اللہ آج بھی راجہ عبدالحفیظ باحیات ہیں انھوں نے اپنے بیٹے امان اللہ کو اپنے ساتھ بیکری پر رکھا انھیں پورا بیکری کا کام سکھایا کام کے علاوہ جس چیز کی طرف ان کا زیادہ رجحان تھا کہ بیٹا اپنے تمام گاہکوں یا عام لوگوں سے اخلاق سے پیش آنا یہی وجہ تھی راجہ امان اللہ نے اپنے والد کی نصیحت پر من وعن عمل کیا اور اخلاق کے پھول ایک عرصہ سے نچھاور کیے راقم الحروف دوہزار نو میں صحافت سیکھنے ایک مقامی اخبار میں گیا اور تاحال مختلف اخبارات میں فن تحریرسے واقفیت کی کوشش میں ہے یقین جانیئے آج بھی قلم درازی کے اصولوں کی الف ب سے واقفیت نہ ہوسکی دوہزار نو میں امان اللہ خان سے ملاقات ہوئی اوروہ ملاقات ایسی کہ ملاقاتوں میں تبدیل ہوگئی ملاقاتوں کا سلسلہ رقابتوں تک جاپہنچا پھر یہ عرصہ دس سال تک چلتا رہا انتہائی بااخلاق انسان،قدر دان کسی کو نہ دیکھا شعبہ تجارت میں قارئین کرام آپ نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جن کی دکانوں پر کوئی چیز خریدنے گاہک جائے تووہ موبائل کان سے اتارتے ہی نہیں ا گر اتارہی دیں تو پھرا نکا رویہ گاہکوں سے غیر مناسب ہوتا ہے مگر راجہ امان اللہ کے بارے میں پولیس،تاجر،صحافی،وکلاء،ڈاکٹرز سمیت ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا یہی اظہار ہے کہ امان اللہ ایک نیک صفت انسان تھے انھوں نے غرباء کا ہمیشہ خیال رکھا کبھی کوئی چیز خریدتے تو وہ کم منافع رکھتے لالچی نہ تھے ہمیشہ خوبصورت انداز میں ملتے،پیار والفت سے پیش آتے لین دین کے معاملات میں کھڑے تھے اگر کسی شخص کو کوئی قرض چاہیے ہوتا تو اسے فوراً ادا کرتے ساتھ یہ ہر گز مطالبہ نہ کرتے کہ آپ کب واپس دیں گے۔ زندگی مختصر مگر خوبصورت تھی سترہ جون دوہزار بیس کی شام اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کے بعد اپنے گھر واپس آئے۔بیٹے سے کہا کہ بکر ے کا صدقہ کرنا ہے اس کے لیے چھری لے آؤ یوں ہی کرسی پر بیٹھے کہ اللہ رب العزت کی جانب سے بھیجا گیا نمائندہ پہنچ گیا اور وہ اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر عقبیٰ کو سدھار گئے نماز جنازہ اٹھارہ جون گیارہ بجے جگلڑی کے مقام پر ادا کی گئی جس میں ہزاروں ا فراد نے شرکت کی راولاکوٹ سے ہر مکتبہ فکر کے لوگ بھی باغ جگلڑی پہنچے اور نماز جنازہ ادا کی نماز جنازہ سے قبل تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے مقررین نے ان کے حسن اخلاق،کردار کی بھرپور تعریف کی قارئین کرام امان اللہ خان نام کے ہی امان اللہ نہ تھے بلکہ کام کے بھی امان تھے ان کی امان میں جو بھی آتا وہ خوش وخرم جاتا نمازی،متقی،پرہیز گار تھے،پنجگانہ نمازیں،تراویح،روز ئے رکھنا ان کا وطیرہ حیات تھا کبھی کسی کا دل نہ دکھایا،ہمیشہ نرم خوئی سے پیش آتے،اعتبار کرتے اور اعتبار کا پاس رکھتے ہر سال یتیم،غریب بچوں کی بھرپور مالی مدد کرتے۔ کردار کا سنہری عالم یہ تھا کہ جب بھی بیکرز کی تشہیر مقامی اخباروں میں کرتے تو اپنے والد کا نام پروپرائیٹر میں لکھواتے اپنا نام نہ لکھواتے ایک دفعہ جاننے پر بتایا کہ والد کی عزت میری عزت ہے یہ جو کچھ بھی ہے میرے والد کا ہی ہے اس میں میر ا کچھ بھی نہیں میں آج جو کچھ بھی ہوں یہ میرے والد ہی کی تربیت کا نیتجہ ہے مجھے امید نہیں یقین واثق ہے بیکرز پر کام کرنے والے امان اللہ مرحوم کے اخلاق کے پھول سب خریداروں پر نچھاور کرتے رہیں گے زندگی عارضی ہے آنے کی ترتیب ہے جانیکی کوئی ترتیب نہیں ہوا کرتی،انسان دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے اس کے پیچھے جو چیز باقی رہا کرتی ہے وہ ہے صرف اخلاق ہی ہوا کرتا ہے بداخلاق انسان سے لوگ دور بھاگا کرتے ہیں اخلاق والوں کی لوگ مثالیں دیا کرتے ہیں شاہ بنی آدم ﷺ کے فرمان علی شان کا مفہوم ہے کہ اخلاقی آدمی اور مجھ میں نبوت کا فرق ہے بروز قیامت سب سے اچھی چیز اچھے اخلاق ہی ہوا کرتے ہیں راجہ عبدالحفیظ،راجہ محمد مصطفی،راجہ احسان اللہ،راجہ ضیاء،راجہ مبشر اوردیگر سوگوران سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے دعا گو ہوں اللہ رب العزت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے



ہم سایہِ خد(۱)


ہم سایہِ خد(۱) کبیرخان ’’پِیرجِنّات شاہ نی قِسیں(پیر جنید شاہ کی قَسم)اَج کے بعدمیں کبھی اپنے لال کو تتّے اُچّے سنگ (گرم چمٹے سے) نئیں ماروں گی۔۔۔‘‘۔اِس مثردہِ جانفزا پر ہم رضاکارانہ جاںبحق ہونے کو تیار ہو ہی رہے تھے کہ ماں نے دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا’’ہک تاں اِس واسطے کہ خصماں کھایا مِیرا مِستری اب کھلین پر صرف پھالا،تیشہ،درانتی اور پیل(کدال) چھنڈ کر دیتا ہے۔باقی لوہے لکڑ کا کوئی کام ہو، مواالگ سے پیسے مانگتا ہے۔دوجے تیرا دوشاخہ رونا ہو یاہاسا،مجھے ماسہ چنگا نئیں لگتا۔ایسے لگتا ہے جیسے سخیے کے باجے کی پیپنی میں نسوار کی گولی پھنس گئی ہواور گھر میں بے موسمے ڈڈّو ُ اور بے خصمے بِلّے بِلّیاںخواہی مخواہی بھِڑپڑے ہوں۔ اِسّے مارے اَجّ سے میں اُچّے کی تھاں ویلے کویلے تیرے پیو کا گڑنگ (فوجی بوٹ) تیرے اُپّروارا کروں گی۔اُپّر والے کو منظور ہوا توکسی دن پھنسی ہوئی گولی ’پھڑُکّ‘سے نکل جائے گی۔‘‘ ماں کی تفتیش اور تشخص درست نکلی۔ شام کی خوراک میں ہم نے ایک ہی جوتا کھایاتھا کہ نسوار کی گولی ’’پھڑُکّ‘‘ سے نکل گئی اور بے خصمے بِلّے بِلّیاںہمیشہ کے لئے کہیںبھاگ گئے۔بے موسمے ڈڈّو البتّہ اب بھی کبھی کبھی وہیڑے میں ٹرّاتے ہیں توماں بہت یاد آتی ہیں۔ بات کہیں کی کہیں اور نکلی جاتی ہے، اسی شام ماں اور دادا کے بیچ گھمسان کا رن پڑا۔ماں کی خواہش تھی کہ اُن کا لال ’’باوو‘‘ لگے۔دادا کا موّقف تھا ’’منیا گویا ولَیتی لاٹ صابوں کی خانساماں گیری میں بندے کو بڑا مان سمّان ملتا ہے، عِجّت کی عِجّت پینسے کا پینسا۔ اُپروںمجلس تاثیر۔۔۔۔ سال کھنڈ میںبندہ خودبھرے ڈھنگ میںدُدّھ چِٹّا رومال گلے میں ڈال کر چھُری ترِنگل سنگ اُلٹی گاگرپر وٹّی دیسی سویّاں اور چالیسویں کے مِٹّھے چول کھانے لائق ہو جاتا ہے،تاں ہر پاسے بہہ جا بہہ ہو جاتی ہے۔لیکن پکّی نوکری آخر پکّی نوکری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔مار بڑے بوُٹ، دے برانڈیاں، جراباں ٹوپیاں،جرسیاں دستانے،کمبل دریاں، رسیاں ڈوریاں،ایدھر گینتیاں، اودھر بیلچے۔ کاہ کاہڑیوں،اتے گراہ لنگروں۔ جتنا جی کرے کھائو،کوئی روک رکاوٹ نئیں۔کہالی کمائی ویلے حقّی چھٹّی کے علاوہ ٹَیم بے ٹَیم نَیٹ پاس کی سہولیّت وکھری۔ پہلی کی پہلی نقد و نقد تنخواہ، اوپر سے پِلسن(پنشن)الگ۔گرتے پڑتے حوالدار جمعدار بن گیا تو گراں موہڑے میں تیری ٹوہر، میرا ٹہکہ۔ جو اَجّ سِدّھے مونہاں سلام کا جواب نئیں دیتے،وہی کل تیرے لئے رستہ،کھِیڑا، پِیڑھا، اورمیرے لئے چوکا،مونڈھا چھوڑ کے کھڑے ہو جائیں گے۔۔۔۔جی آیاں نوں، اَجّ لہنے پاسیوں چنّ کس طراں چڑھیا؟ستّ اٹھّ بسم اللہ۔۔۔‘‘ اِدھر سے دلائل،اُدھر سے ریپڈ فائر۔دونوں اک دوجے کے قائل، دونوں گھائل۔ آخر طے ہوا کہ علاقہ کی رائج الوقت رِیت کے عین مطابق ہمیں بھی ’’کرینچی‘‘بھیج دیا جائے۔ جہاں یا تو ٹائپ رائٹنگ سیکھ کر ہم بابو لگ جائیں یا کچھ سیکھے بغیر حوالدار جمعدار۔ یوں دوشاخہ آواز میں رونے اور ویسی ہی آواز میں ہنسنے کی عمر میں ہم کراچی پہنچ گئے۔ کئی ہفتوں تک ٹرام کی تھرلنگ سواری اور بندر روڈ پرمکرانی گدھا گاڑیوں کی ریس کا حِصّہ بنے رہنے کے علاوہ ایک ٹائپنگ انسٹیٹیوٹ میں The quick brown fox jumps over a lazy dog پیٹتے رہے۔ لیکن کہیں چیچی ’’کی بورڈ‘‘ میں پھنس گئی، کبھی انگوٹھا ہینڈل میں دھنس گیا۔ تین ماہ کی جان توڑ کوشش کے بعد بھی ہماری حدِ رفتار بیس الفاظ فی منٹ سے آگے نہ بڑھ پائی۔ تب ہم نے اپنے دوست نذیر حسین کے ساتھ مل کر پاکستان ائیر فورس کے بھرتی دفتر پر حملہ کیا۔ وہاں ایک بھلے مانس نے ناپ تول کے بعد ہمیں باجماعت لوٹا دیا کہ ہم رائج الوقت پیمانوں کے عین مطابق کھینچ تان کراپنا قدکم ازکم ایک بالشت مردانہ اور وزن ڈیڑھ دھڑی زنانہ بڑھا کر لائیںتو سینٹر کا عملہ ہمیں ٹسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ وہاں سے ’’صحرااست کہ دریا است، تہِ بال و پر ما است‘‘از بر کر کے یہ سوچتے ہوئے لوٹ آئے کہ آج شام سے وزن اور قد بڑھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔چنانچہ اُن پارکوں کی فہرست بنائی جن میں پول تو باقی ہیں،جھولے نہیں۔نیز نواح میں سستے اور صحت بخش کھانوں کی ریڑھیا ںکہاں کہاں واقع ہیں۔ ہم کئی ہفتوں تک پارکوں میں جھولوں کے خالی کراس باروں سے لٹکتے اور پہلوانوں کی مورتوں والی ریڑھیوں سے مرغن اور صحت بخش کھانے کھاتے رہے۔ کوئی دس ہفتوں کی محنتِ شاقہ کے باوجود قد کاٹھ اور وزن میں رتّی برابر افاقہ نہ ہوا تو نذیر حسین سے ’’نِکّی سِکّی‘‘ کی کہ بھائی ذرا سوچو!کیا پاک فضائیہ میں بدستِ خودہوائی جہازوں کوسر سے اوپر اٹھا کر ہوا میں اڑایا جاتا اور ہوا سے پکڑ کر پوٹے بھار رن وے پر لایا جاتا ہوگا جو اُنہیں انسان کے پُتر نہیں،گلیور درکار ہوتے ہیں؟۔یہ سب ہمیں بھرتی نہ کرنے کے چونچلے ہیں اور بس۔’’پھر کیا کیا جائے‘‘؟ خدا لگتی بات نذیر حسین کی سمجھ میں آگئی۔کہاائیر فورس کوگلیوروں کے لئے رہنے دیتے ہیں،ہم انسان کے پُتر ہیں، آرمی جوائن کر لیتے ہیں۔ آرمی کی نوکری بھی کچھ بُری نہیں۔لیکن نذیر حسین مان کے نہ دیئے۔ ہم نے ایک دلیل یہ بھی دی کہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن میڈم شمیم آرا کی اوپن آفر ہے کہ جو کوئی مرد جنا کشمیر آزاد کروائے گا،وہ اُسی درپن سے شادی کرلیں گی۔۔۔۔۔‘‘ ’’اوّل تو یہ کہ میں نے چھُپ چھپا کے شمیم آرا کی ہیٹھ اوپرچھ فلمیں دیکھی ہیں۔۔‘‘انہوںنے ہماری بات کاٹی۔۔۔’’وہ ہر فلم میں کسی نا کسی ہیرو سے شادی کر لیتی ہیں۔ایک میں تو ہیرو یعنی اپنے محبوب و منگیترکے قاتل(ولن)سے بھی ہنسی خوشی دوبول پڑھا چکی ہیں۔میرا خیال ہے کہ کشمیر کے آزاد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ شمیم آرا کا یہی اعلان بالجہر بھی ہے۔میری مانوتو ایسی ہرجائی سے بندہ لنڈورا ہی بھلا۔ دوسرے اس کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمیں ہی کشمیر آزاد کراونے کا مِشن اِمپاسیبل دیا جائے گا؟۔خدا نخواستہ ایسا ہواور ہم دونوں مشترکہ طور پرمہم سر کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو شمیم آرا ناحق کس کے حق میں لکھی جائیں گی؟بھائی!ذرا سوچو،کشمیر آزاد کروانے کے بعددوستی یاری اور قریبی رشتہ داری میں ایک اور مسئلہ کشمیر کھڑا نہیں ہو جائے گا؟‘‘۔ عرض کیا مفروضوں کے پیچھے چھُپنے کی بات اور ہے لیکن مردانہ کاموں اور فتوحات کا کُل کام اب بھی آرمی ہی کے دستِ وفاکیشںکے لئے مختص ہے۔ چنانچہ اِس امکان کے واضح امکانات بھی ہیں کہ بطور کشمیری ہمیںہی یہ مہم سونپ دی جائے۔ رہی بات عفیفہ شمیم آرا کے حوالہ سے ٹنٹے کی توکچّے بچھیرے کی کمر کاہے کو توڑیں۔ وقت آنے پربات چیت کے ذریعہ معاملہ کر لیں گے۔ لیکن بے حد محتاط طبع برادرم نذیر حسین مان کے نہ دیئے۔ہمیں یوں لگا جیسے وہ عفیفہ مذکوریہ کے بارے میں ہم سے رضاکارانہ دستبرداری کاپیشگی بیان حلفی لینا چاہتے ہیں۔ وہ بھی مصدّقہ۔اُنکے اسی معاندانہ رویّہ کی وجہ سے ہم ایک دن اکیلے ہی کشمیر آزاد کرانے کے لئے آرمی ریکروٹنگ سینٹر پہنچ گئے۔کافی دیر کے بعد سُرخ ٹوپی،سفید پیٹی اوربے حد کڑک وردی والے ایک فوجی نے ویسی ہی آواز میں پوچھا تو ہم نے عجز و انکسار کے ساتھ ساری رودادِ نفس سنا ڈالی۔اُس نے جواباً گیٹ سے ہی ہمیںیہ کہہ کر لوٹا دیا کہ ’’بچّہ پارٹی‘‘کی بھرتی کئی سالوں سے بند ہے ِ،کبھی کھُلی تو آجانا۔ ہم اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ وہیں سے سیدھے حیدرآباد پہنچ گئے۔جہاں چچا سردار عبدالرزاق بڑے لیبر لیڈر لگے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے ہمیں ایک بلیڈ فیکٹری میں سوا روپیہ دیہاڑی داری پر لگوا دیا۔ فیکٹری کے گرائنڈنگ اینڈ ہوُننگ (Grinding & Honing)سیکشن میں ایک ایسے تیل کی پھوار سی برستی رہتی جس میںچمڑے اورپلاسٹک کی مصنوعات دِنوں میں اِنلارج ہوکر اپنے اصل سائز سے کہیں بڑی ہو جاتیں۔ چنانچہ کارکنان کام کے دوران جوتوں کی بجائے قینچی چپل استعمال کرتے تھے۔اور ارزاں ترین جوڑی ڈیڑھ روپیہ میں دستیاب تھی۔یوں ہم ہر ہفتہ نئی جوڑی خریدتے اور پرانی فیل پا کے کسی مستحق مریض کے لئے گلی میں رکھ چھوڑتے۔جب سال بھر میں پوری باون جوڑیاں باون گزوں کو دان کرچکے اور لنڈے کے سارے کپڑے چھوٹے اور تنگ ہو گئے، تو ہم بھی تنگ آکر واپس کراچی پہنچ گئے۔ (جاری ہے)



حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی……!


حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی……! از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ رابطہ نمبر: 03465216458 ای میل: szahidnaeemi@gmail.com حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اسلام کی اہم شخصیت ہیں۔ گزشتہ دنوں شام کے شہر کے علاقہ امارات میں بشارالاسد کے لئے لڑنے والے ایرانی حمایت یافتہ مسلح شدت پسندوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ فاطمہ کی قبور کو کھود کر ان کی لاشوں کو نکال کر بے حرمتی کی اور پھر ان کو آگ لگا دی۔ اس خبر کی بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر قبور کو کھودنے کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے، جس میں دہشت گرد قبور کو کھودتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ قبیح فعل کرتے ہوئے وہ خوشی کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت بھی کی ہے۔ یہ خبر بھی ہے کہ ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا تعلق داعش سے ہے۔ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ قبر شہید کرنے کی اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے ۱۱ لاکھ ڈالر دئیے تھے۔ مزارات کو مسمار کرنے کی روایت نجدیوں نے شروع کی تھی، جب ترکی کی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو اتھا اور حجاز پر نجدیوں نے انگریزوں کی مدد سے ۳۲۹۱ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ اُنہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ جنت البقیع میں مزارات امہات المومنین، اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کے مزارات مٹا دئیے تھے۔ شہداء اُحد بالخصوص امیر حمزہؓ کے مزار کو بھی مٹا دیا تھا، بلکہ جہاں جہاں نجدی حکومت قائم ہوئی، وہاں دیگر مزارات کو بھی مٹا دیا گیا تھا، کچھ عرصہ پہلے سعودی حکمرانوں نے نبی کریمﷺ کی والدہ حضرت آمنہؓ کی مرقدمنورہ کو بھی مٹا دیا تھا، جس پر پورے عالم اسلام میں احتجاج ہوا تھا۔ دنیا بھر میں جب سے مسلمانوں میں شدت پسندی کا عنصر شامل ہوا ہے۔ نجدی فکر کی حامل بعض شدت پسند تنظیموں القاعدہ، داعش، بکوحرام، تحریک طالبان پاکستان، لشکر اسلام، جزب التحریر اور ان جیسی دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کا پہلا ایجنڈا یہی رہا ہے کہ وہ پوری دنیا میں موجود انبیاء و مرسلین، شہداء صالحین، صحابہ کرام، اہل بیت اور اولیاء کرام کے مزارات کو مٹا دیا جائے۔ چنانچہ شام، عراق، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں وہ ایسا کر چکے ہیں۔ حضرت زینبؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت انسؓ سمیت کئی ایک بزرگ ہستیوں کے مزارات کو مٹاکر ان کی بے حرمتی کر چکے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے شیعہ شدت پسند عراق میں حضرت انسؓ کے مزار کی بے حرمتی کر چکے ہیں، جو عالم اسلام کے لئے انتہائی افسوس ناک ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز بالااتفاق خلافت راشدہ کے بعد پہلے خلیفۃ المسلمین ہیں، جنہوں نے خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کیا۔ بنوامیہ کی اہل بیت دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے آئمہ اہل بیت کو شہید کرایا، لیکن جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے ان تمام زیادتیوں کے ازالہ کی بھرپور کوشش کیں جو پہلے بنوامیہ کے خلفاء نے کی تھیں۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ صالح تھے، آپ کا شمار خلفائے راشدین میں پانچویں خلیفہ کی حیثیت سے کیا جاتا ہے اور ثفیان ثوری کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کے بعد پانچویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۸۲۳) لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے بعد پانچویں خلیفہ راشدہ حضرت امام حسنؓ ہیں۔ اس طرح خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کرنے والے حضرت عمر بن عبدالعزیز چھٹے خلیفہ راشد ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا تھا کہ میری اولاد میں ایک شخص پیدا ہو گا، جس کے چہرے پر داغ ہو گا وہ روئے زمین کو عدل سے بھر دے گا…… یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اللہ نے دنیا میں بھیج دیا۔ (ایضاً،صفحہ۹۲۳) حضرت عمر بن عبدالعزیز سلیمان کے چچازاد بھائی تھے، آپ کی والدہ حضرت عمر فاروقؓ کی پوتی تھیں۔ آپ کے والد مصر کے گورنر تھے۔ شاہانہ ماحول میں پرورش پانے کے باوجود آپ کی طبیعت میں سادگی تھی۔ علم و فضل کے اعتبار سے آپ وقت کے امام تھے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۰۹۲) آپ کا پچپن تھا کہ قرآن جمع ہوا، آپ کے والد عبدالعزیز نے آپ کو مدینہ منورہ میں تحصیل علم کے لئے عبیداللہ بن عبداللہ کے پاس چھوڑ دیا، ایک عرصہ تک آپ ان سے تحصیل علم اور استفادہ کرتے رہے۔ والد کے انتقال کے بعد عبدالملک نے آپ کو دمشق بلا لیا اور اپنی بیٹی فاطمہ سے آپ کا نکاح کر دیا۔ خلیفہ بننے سے پہلے ہی آپ نہایت صالح تھے۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۹۲۳) آپ نے متعدد احادیث صحابہ کرام اور تابعین و علماء حدیث سے روایت کی ہے۔ حضرت زید بن اسلم، حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن عبدالعزیز کے پیچھے نماز پڑھنے سے رسول اللہﷺ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی، وہ سنت کے مطابق نماز پڑھاتے تھے۔ (ایضا ً، صفحہ۰۳۳،۹۲۳) خلیفہ سلیمان کی وفات کے بعد آپ خلیفۃ المسلمین بنے۔ آپ نے حضرت عمرفاروقؓ کے نقش قدم پر چل کر عدل و انصاف کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ خلافت راشدہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت آپ کے دورِ حکومت کو خلافت راشدہ کی ایک بڑی کڑی قرار دیتے تھے اور آپ کو خلفاء راشدین میں شمار کرتے تھے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۱۹۲) آپ کا دورِحکومت دو سال پانچ ماہ پر مشتمل تھا۔ اس قلیل دور میں آپ نے زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دیا تھا۔ ابونعیم ریاح بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ نماز کے لئے مکان سے باہر تشریف لے جا رہے تھے، ایک بوڑھا آپ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے چل رہا تھا، نماز کے بعد پوچھا یہ بوڑھا شخص کون تھا جو آپ کے ہاتھ کا سہارا لے کر چل رہا تھا؟ آپ نے فرمایا یہ حضرت خضرؑ تھے جو مجھے محمد مصطفےٰﷺ کی امت کے حالات دریافت کرنے اور مجھے عدل و انصاف پر گامزن ہونے کی تلقین کرنے آئے تھے۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۱۳۳۔۰۳۳) آپ کے پاس شاہی اصطبل کے گھوڑوں کا نگران آیا اور ان کے لئے گھاس اور دانے طلب کیے تو آپ نے فرمایا ان گھوڑوں کو شام کے مختلف شہروں میں بھیج دو تاکہ یہ فروخت کر دئیے جائیں اور رقم بیت المال میں جمع کر دو۔ آپ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے کہا کہ اپنے تمام زیورات بیت المال میں جمع کرا دو یا مجھ سے الگ ہو جائے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنے تمام زیورات بیت المال میں جمع کرا دئیے۔ (ایضاً، صفحہ۲۲۳۔۳۲۳) حضرت امیرمعاویہ کے دور سے بنوامیہ بڑی بڑی جاگیروں کے مالک بن گئے تھے۔ نہایت شاہانہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ نے ان سے وہ تمام جائیدادیں واپس کرکے ان کے جو اصل مالک تھے، ان کے حوالے کر دیں۔ آپ نے پش روؤں کی بہت ساری جائیدادیں واپس کیں اور ابتداء اپنے گھر سے کی۔ اس سلسلہ میں آپ کے نوجوان بیٹے عبدالملک نے آپ کا بھرپور ساتھ دیا۔ یوں آپ نے وہ جائیدادیں اصل وارثوں کو لوٹادیں۔ جب کسی نے پوچھا تمہاری اولاد کا کیا ہو گا۔ آپ نے فرمایا اُن کا اللہ وارث ہے۔ جب اپنی اور اپنے خاندان کی جائیدادیں واپس کرا چکے تو پھر گورنروں اور حکام کو کہا فوری طور پر غصب شدہ جائیدادیں اصل مالکوں کو لوٹا لو، پھر ایسا ہی ہوا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے بنوامیہ کے عطیے اور وظیفے بھی بند کر دئیے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۴۹۲۔۳۹۲) آپ نے عمال کے محاسبہ کے لئے ادارہ بنایا۔ یزید بن مہلب کو معزول کرکے خراسان کے لوگوں کا لیا ہوا دو کروڑ واپس کرنے کا حکم دیا اور پھر اُسے قید میں ڈال دیا۔ حجاج کے پورے خاندان کو جلا وطن کر دیا اور اُس کے معمور کیے ہوئے عمال کو معزول کر دیا۔ آپ نے زمیوں کے ساتھ بہترین سلوک لیا۔ ان کے حقوق ادا کیے، بیت المال کی اصلاح رفاہ عامہ کے کام کیے۔ شریعت کا احیاء کرتے ہوئے شراب نوش لہوولعب رسومات بدکو ختم کیا۔ مقبوضہ علاقوں میں مبلغ بھیجے جس سے کثیر تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۸۹۲) حضرت امیرمعاویہ کے دور میں حضرت علی المرتضیٰ پر لعن طعن کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ اُن کے لئے خطبہ میں بھی نازیبا الفاظ ادا کیے جاتے تھے۔ آپ نے اس کا خاتمہ کرکے اس کی جگہ ایک آیت کا اضافہ کر دیا۔ (ایضاً، صفحہ۹۹۲) بلکہ مورخین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی حضرت علی المرتضیٰ اور اہل بیت میں سے کسی پر تبریٰ کرتا تو آپ ایسے شخص کو کوڑے لگواتے تھے۔ آپ سچے عاشق رسولﷺ اور محب اہل بیت تھے۔ تقویٰ و طہارت سے مزین، خلیفہ وقت ہونے کے باوجود درویشوں کی طرح زندگی بسر کی۔ بنوامیہ نے اپنے جائیدادیں چھن جانے کی وجہ سے آپ کو ایک غلام کے ذریعے زہر دلایا گیا۔ آپ نے وفات پانے سے پہلے اُسے طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ کام تم نے کیوں کیا؟ اس نے بتایا مجھے اس کا ایک ہزار دینار دیا گیا ہے۔ آپ نے وہ رقم اس سے واپس کراکر بیت المال میں جمع کرا دی اور اُس سے فرمایا یہاں سے غائب ہو جائے واپس اس طرف رخ نہ کرنا۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۰۵۳) اس عظیم المرتبت خلیفہ کی وفات ۹۱۷ء میں ہوئی۔ شام میں آپ کا مزار مقدس ہے، جس کی بے حرمتی کی گئی ہے، جو افسوس اور قابل مزمت ہے۔ اگر واقعی ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو شامی حکومت ان کو قرارواقعی عبرتناک سزا دے۔ حکومت پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو بھی شامی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک کے درجات بلند فرمائے اور دشمنانِ اسلام کو خائب و خاسر کرے۔ امین بجاہ سیّدالمرسلین



"چند سوالات "


"چند سوالات " سردار کامران " جاگتی آنکھیں " جو سچ کہوں تو بُرا لگے، جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں، تعلیم اور شعور کا گہرا رشتہ ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہمارے ہاں جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صرف معلومات اور علم کی حد تک ہے یا کہ اُس کا شعور کے ساتھ بھی کوئی رشتہ ہے؟ایک طرف ہمارے ہاں سکولز،کالجز اور یونیورسٹیز میں بڑی بڑی ڈگریاں بھی دی جا رہی ہیں اور دوسری جانب ہمارے ہاں مدارس کا مربوط نظام بھی موجود ہے،المیہ یہ ہے کہ بہت سارے بچے ابتدائی تعلیم سے محروم ہیں، کچھ بچے ابتدائی تعلیم لیتے ہیں اور مزید جاری نہیں رکھ پاتے، اسی طرح کچھ بچے میٹرک تک پہنچ پاتے ہیں اور کالجز یا یونیورسٹیز تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ، ایک حقیقت اور بھی ہے، جیسے کہ ہمارے سلیبسز میں سب کچھ پڑھایا جاتاہے ماسوائے عملی تربیت کے، ہمارے معیار تعلیم پر کوئی شک نہیں ہے مگر بات پھر وہیں ٹھہرتی ہے کہ کیا ہماری اتنی عملی تربیت کی جاتی ہے کہ ہم تعلیم یافتہ لوگ سماج کے اندر جاہلانہ رسومات کے خاتمے کیلئے کوئی عملی اقدام کر سکیں؟کیا ہماری تعلیم ہمیں شعور یا تنقیدی شعور دیتاہے؟ حال ہی میں کرونا وائرس کی وبا نے ہمار ے مذہبی تعلیمی اور سماجی شعور کا امتحان لیا، کیا ہم اس امتحان میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ہم بچوں کو آئن سٹائن کی تھیوری تو پڑھا لیتے ہیں، مگر ہمیں کیا کھانا چاہیے، سماج میں کس طرح اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، خاص طور پر کسی قدرتی آفات یا بیماری میں کس طرح سے اپنے رویوں کی وجہ یا سائنسی علم کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو محفوظ بنا سکتے ہیں، کی عملی تربیت دی جاتی ہے؟ ہم جس دور میں تعلیم حاصل کرتے تھے، سول ڈیفینس، این سی سی اور اس طرح کے بہت سار ے کورسز ہمارے سلیبسز کا حصہ ہوتے تھے، آج اُن کو کیوں نظر انداز کر دیا گیاہے؟ بات سماج سے جڑی ہوئی ہے، تمام انبیائے کرام اور جتنے ریفارمرز دنیا میں آئے انہوں نے سماج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مسئلہ ہمارے سماج میں ہے یقینا اس کا تعلق سیاسیات سے بھی ہے کہ حکمران طبقہ سماج کو تبدیل کرنے کی کتنی کاوشیں کر رہاہے۔ حکمران طبقہ قانون سازی کے ذریعے اور تعلیمی اصطلاحات کے ذریعے یقینا بڑی تبدیلی لا سکتاہے مگر ہمیں بھی اپنے سماجی رویوں پر کیا غور کرنے کی ضرورت نہ ہے؟یقینا ہم سماجی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک دوسرے سے گلے ملنا، ہاتھ ملانا ہمارے رویوں کا حصہ بن چکاہے، کیا ہمیں وبا کے دوران فوراً سے غیر سماجی ہونے میں دقت نہیں ہو رہی؟کیا بغیر دقت کے ہم غیر سماجی رویے نہیں اپنا سکتے، جو کہ موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ ہماری مساجد الحمداللہ نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں، زکوٰۃ بھی ہم لوگ دیتے ہیں، صدقہ اور خیرات میں ہم لوگ باقی اقوام سے آگے ہیں، حج بھی صاحب استطاعت کرتے ہیں، رمضان کا اہتمام بھی ہم لوگ بڑے ذوق و شوق سے کرتے ہیں، یہ سب عبادات ہمارے ملک میں کی جاتی ہیں، مگر کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، جھوٹ، دوسرے کا مال ہتھیانا، زمینیں ہتھیانا، منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ، جھوٹی گواہیاں، یہ بھی ہمارے رویوں کا حصہ نہ ہیں؟آخر کار یہ لوگ بھی کون سے سماج سے آتے ہیں؟یہ بھی کیا ہم لوگ ہی ہوتے ہیں جو ایک طرف مسجد میں اللہ کو راضی کرتے ہیں اور دوسری طرف اُسی کی مخلوق کو اور ملک و قوم کو تکلیف پہنچاتے ہیں؟سوال اُٹھانے اور تنقیدی شعور رکھنے والوں کو طعنہ زنی اور مختلف القابات سے کیا ہم نہیں نوازتے؟ خلیل جبران پورے مشرق پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجھ پر منفی ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں، کیا میں قبرستان کے آگے خوشی کا اظہارکروں یاکہ رقص، مجھے تعفن کی بو آتی ہے۔ کراچی کے اندر ڈاکٹر کو گولی ما ردی جاتی ہے، اسی طرح ہندوستان میں ڈاکٹروں پر حملے کیے جا رہے ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد (وزیر صحت پنجاب) صاحبہ نے پوری قوم کو جاہل قرار دیا، غلط کیا، اتنی کھل کر بات نہیں کرنی چاہیے، حبیب جالب اگر یہی بات لکھتاہے،جو سچ کہوں تو بُرا لگے، جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں،یہ سماج جہل کی زد میں ہے،یہاں بات کرنا حرام ہے۔ کرونا وائرس نے جہاں معاشی صورتحال کو خراب کر دیا، صحت کے نظام کو متاثر کر لیا، شاید یہ اُسی کا قصور ہے کہ ہمارے رویے ایسے ہیں، ایسی باتیں حبیب جالب کو، یا ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کو زیب نہیں دیتیں۔ اصل میں بچپن میں ہمیں بلاؤں، جنوں اور ججوؤں کی کہانیاں سن سن کر، ذہنوں میں بھی یہ ساری بلائیں اور ججوگھس چکے ہیں جو تعلیم سے بھی نہیں نکل سکتے۔ جو تعلیم بھی ہمیں دی جاتی ہے اس طرح دی جاتی ہے کہ صرف اور صرف تھیوریاں پڑھائی جاتی ہیں، گھر میں آ کر پھر وہی ہر محلے کی کہانی، کہ فلاں آدمی کو جن سے فلاں پیر نے جان چھڑائی، ہمارے ذہن کنفیوژن کا شکار ہی رہتے ہیں۔ شُف شَف والے کے ہاں بہت زیادہ رَش پڑا رہتاہے جبکہ ڈاکٹرز کی طرف ہم غصہ اور آج کل تو پستول بھی لے کر جا رہے ہیں، ڈاکٹر انجکشن لگا کر مارتے ہیں، گویا پچپن ہزار جو کرونا کا مریض صحتمند ہوا، تو ساڑھے تین ہزار شہید ہو گیا، پچپن ہزار کو انجیکشن نہیں لگا صرف ساڑھے تین ہزارکو انجیکشن لگ گیا، ڈاکٹر زبھی کیا کر رہے ہیں زیادہ کا علاج ہو رہا ہے اور کم لوگوں کو انجکشن لگا رہے ہیں، ملنے سے تو پرہیز ہے مگر جب بھی کسی سے سامنا ہوتاہے تو روایتی جملہ "موت سے ڈرتے ہیں؟" ملتے نہیں ہیں " اور پھر زور دارجپھی"، اب کیا کیا جائے؟ نہ بھی ملنا چاہیں اس جپھی سے کیسے جان چھوٹے؟ شُف شَف سے ہم اس لیے ٹھیک ہوتے ہیں کہ وہ جو ججو زہن میں بیٹھا ہے وہ ہمارے علاج کیلئے کافی ہے، ہمیں کسی دوا کی ضرور ت نہیں ہے بلکہ صرف اُس ججو کو ایک شُف درکارہے باقی وہ ججو پلیبی سو ایفیکٹ کے ذریعے ٹھیک کر لے گا۔ اب حکومتیں کیا کریں؟SOPs پر عمل ہم لوگ نہیں کرتے، لاک ڈاؤن ہونا چاہیے تھا،نہیں کیا گیا، اس کا صاف مطلب ہے کہ ہمیں خود اس وبا سے بچنا ہو گا، اب حکومت کیا کرے؟ہر کسی بندے کے پیچھے ایک پولیس والا اور ایک ڈاکٹرکی ذمہ داری لگا لے؟ پولیس والا ڈنڈہ لے کر کھڑا ہو اور ڈاکٹر انجیکشن۔۔۔؟ایک دوسرے سے گلے نہ لگنے کیلئے کیا حکومت کوئی حفاظتی شیلڈ مہیا کرے، جس کے نتیجے میں کرونا خود بخود گھائل ہو جائے اور ہم محفوظ رہ سکیں؟ اصل میں ہم آسانی چاہتے ہیں، کون ان سارے معاملات کو دیکھے، کون ڈاکٹر زپہ بھروسہ کرے، گھنٹوں پیر صاحب کی لائنو ں میں کھڑے ہو کر ایک شُف ہی تو کروانی ہوتی ہے اور ہم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو نئے ماحول کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہو گا، جب تک ویکسین دریافت نہیں ہو جاتی ہمیں اپنے سماجی رویوں کو بدلنا ہو گا، اگر ججوؤں اور بلاؤں سے ہم پیچھا چھڑا پائے تو ہم کرونا کی اس جنگ میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔اب چالان بکوں، جرمانہ کی کتابوں اور جگہ جگہ روک رکاوٹ ہی ہمارے لیے کافی نہیں ہے، ہمارے شعور سے ہمیں خود اپنے آپ کو سنبھالنا ہو گا۔



میں، میں اور میں


میں، میں اور میں کبیر خان ہم تینوں ماکھائے ماجائے ہی نہیں جُڑواں تُڑواں بھی ہیں۔مجھے جنتے ہوئے ماں کو بہت تکلیف ہوئی۔وہ درد سے چیخ رہی تھی۔ اُس کی دُکھن دیکھ کر مجھے بھی درد سا ہو رہا تھا۔لیکن مرد بچّہ ہونے کی وجہ سے میں رویا نہیں۔ مجھے یقین تھا کہ ماں کو مجھ جیسے کی ماں ہونے پر فخر ہوا ہوگا۔ اور میں بھی اسی احساس تفاخرکے ساتھ دُنیا میں آنے پر بجا طورپرذرا چوڑا سا ہو گیا تھا۔ لیکن جب میری آنکھیں کھُلیں تو یہ دیکھ کر کچھ حیران پریشان، کچھ کچھ خفیف بھی ہوا کہ مجھ سے پہلے مجھ جیسے دو،چُپ اور شانت پڑے،بلونگڑوں طرح ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ بس اسی دوئی کی وجہ سے میری چیخ نکل گئی۔ اور چیخ پر ماں کے زرد اور مرجھائے ہوئے چہرے پر اک جہاں کی رونق لوٹ آئی۔اُس نے سوکھے ہونٹوں سے میری پپّی لی۔ یہ دیکھ کر دونوں بلونگڑے چِلّانے کی کوشش میں ممیاکے رہ گئے۔بس میں سمجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ جب ماں سمیت ہمیں سرمائی کھُرلی کے اندھیرے سے نسبتاً روشن بسیوے میں لایا گیا تو میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ لیکن میں سمجھ چکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔چنانچہ میں نے پھپھڑوں کا پورا زور صرف کر کے ایک چیخ ماری۔ماں کے علاوہ کئی پھپّھے کُٹنیاں بھی میں صدقے میں واری کرنے کو لپکیں۔میری دیکھا دیکھی بلونگڑے بھی پر تولنے لگے مگر میری چیخم چاخ تلے صرف منہ بگاڑ سکے۔بے ہنروں کو روہانسا ہونا بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ یہیں سے میری ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں اور آف کورس،کام بھی۔چنانچہ میری چیخوں کے مقابل بلونگڑوں کی منمنی آوازیں کانوں کے کچّوں تک بھی نہ پہنچ پاتیں۔ یوں مجھے ہی اُن کی ترجمانی کرنا پڑتی۔ ”ما صدقے...“ماں کی مائے نے پچھلی عید سے چلی آنے والی دائمی ناراضگی کی پوٹلی اور پنجیری کی دیگچی طاق میں دھری اور”ناس پِٹّی“ بیٹی سے لپٹ کر لگیں بین کرنے...”مرنے جوگیئے، نامرادے! مرتی مر جاتی،تیرے بوہے جھاتی نہ مارتی۔ لیکن کیا کروں توُ لاکھ کلمونہی سہی،میں ماجو ٹھہری۔ریشم جان نے ریگمالی آواز میں سانحے کا سندیسا دیا تو رہا نہ گیا....دوڑی چلی آئی۔اب مہینہ کھنڈ رہنا بھی پڑا تو اُوپر والے کی دی ہوئی نسوار کی چُٹکی پر رہ لوں گی۔پر تیرے گھر کا بھوراحرام۔“ اس پر میں خوشی کی چیخ نہ روک سکا۔جسے سُن کر نانی کی تانا تانی بگڑ گئی...”میں صدقے،میں واری، اتنی کراری آواج..؟شالا کسی کلمونہی کی نظر نہ لگے۔اوپر والے کے کرم سے بڑا ہو کر سرکاری ڈھنڈورچی بنے گا یاپھربہت ہی پھنیّرمولمی صاب...نی ناس پِٹیئے، نامرادے تیری ساری مرادیں سمجھوپوری ہوئی کھَلی۔ایہہ دیکھ تیری اندھیر نگری میں کیسا چنّ چڑھا ہے...؟“ماں نے اک ڈبڈبائی سی نگاہ ڈالی اور ہولے سے جواب دیا....”سلیٹی“۔”ہائے نی! خود کون سی سینف املوک کی دُدّھ چِٹّی نیل پری اور تیرا گھر والا ہنس راج ہے...“نانی تڑخیں ”دیکھنا کیسے کیسے تارے توڑے گا“۔نانی کی بات سُن کر میں زور کاقہقہہ لگانا چاہتا تھا لیکن اتنے ہی زور کی چیخ نکل گئی۔ نانی نے گھبرا کر مجھے واپس ماں کے پہلو میں دھرااورپھر یکلخت اپنی آنکھیں ملنے لگیں.....”یہاں تو دوجی اور کلبلا رہے ہیں؟،نی بے پاوتیئے! توُ نے اَجّ تنی کبھی مجھے پوری بات نئیں بتائی۔ھمیشاں وِچلی گلَ لُکا کے رکھی۔پر یہ بات لکانے چھپانے کی تھی کیا....؟؟“نانی نے سر سے دوپٹہ کھینچ گود میں ڈالا اور بولیں ”اے اُوپر والے!تیری لِیلا دھاری نیاری...جوایک جوگی بھی نہیں تھی، اُسے تین تین دے مارے؟؟؟مار وے قہاریئے۔“۔اس سے پہلے کہ نانی بے ہوش ہوتیں،ایک پھپّھے کُٹنی نے اُنہیں مکھن کے پیڑے والی لسّی کا گلاس تھما دیا۔نانی بے اختیار حرام کا گلاس چڑھا گئیں۔”چل مر...“نانی نے آستین سے منہ پونچھتے ہوئے ماں سے کہا”یہ تو بتادے،اِن میں سے بڑا کون سا ہے...؟“ ”میں ں ں ں“۔میں اتنے زور سے چیخاکہ بلونگڑوں سمیت تقریباً سب ہی حاضرینِ مجلس ہکّا بکّا رہ گئے۔ ماں نے گھگھیاتے ہوئے نانی کو جواب دیا...”خورے....، یہی“۔”میں ں ں،میں ں ں“۔میں نے ماں کے منہ سے کِرنے والا ’خورے‘لات مار کر چارپائی سے نیچے گرا دیا۔دونوں بلونگڑے ماں کا منہ تاکتے رہ گئے۔دوسرے روز سویرے سویرے کمیٹی کا مُنشی اندراج کے بہانے خرچی لینے پہنچ گیا...”اللہ ہور دیوے...“رجسٹر کاصفحہ کھول،کچّی پنسل تھام بولا: ڈیرے کا بڑا کون ہے؟ناں مع نانکڑی(نام مع عرف)لکھائیں۔”میں ں ں ں...“میں چیخا، منشی کے ہاتھ سے رجسٹر گر گیاجو اُس کے نائب نے جھاڑ کر واپس تھمادیا۔”میں ں ں ں“، میں پھر چیخا۔”ٹھیک ہے...“منشی زبان کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا”اپنا نام اور نانکڑی بتائیں...“۔”میں ں ں ں ں“میں نے پورا زور لگا کر کہا۔”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے...آپ غصّہ نہ کریں۔میں ریح کا مریض ہوں،بھاگا نہیں جاتا۔محنتانہ بھانویں نہ دیں، البتّ فیس اور نذر نیاز بے شک نال کل نائب صیب کے بدستِ مبارک بھیج دینا۔رہی چاء چُو تو فیر سہی“۔یوں نا چیز پیدائشی طور پرتیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود کاغذات میں اوّل نمبر قرار پایا۔ ”لِخ کے لے لے،یہ انّی پائے گا...“باہر نکلتے ہی مُنشی نے اپنے نائب سے کہا”اِس میں ساری خوبیاں لیڈروں والی ہیں۔شکل رونی،آوازکڑاکے دار،اطوار شڑاکے دار۔اپنے بیگانے،ہر کس و ناکس کو اُتلی میں لگا کے بیچے گا۔ جس نے اپنے اُمّ زادوں اور ہم زادوں کو معاف نہیں کیا وہ غیروں کو کیا بخشے گا.... بھانویں لِخ کے رکھ لے،یہ پیدائشی لیڈر ہے۔



آزاد کشمیر، گلگت،حریت کانفرنس پر مشتمل سفارتی کونسل کی ضرورت ۔


آزاد کشمیر، گلگت،حریت کانفرنس پر مشتمل سفارتی کونسل کی ضرورت ۔ سچ تو یہ ہے بشیر سدوزئی ۔ یہ انتہائی تشویش اور افسوس ناک امر ہے کہ ساری دنیا کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے اپنے عوام کو بچانے کے لیے نت نئی تدابیرں اور حکمت عملی میں مصروف ہے ۔ مودی سرکار مقبوضہ کشمیریوں میں نسل کشی کر رہی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 14 جون 2020 کو جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انتہائی خطرے ناک صورت حال کا انکشاف کیا اور بتایا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں زیر زمین ٹارچر سیل قائم کئے ہوئے ہیں جہاں نہ صرف نوجوانوں کو بلکہ نوجوان لڑکوں کو بھی لایا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں پہلی مرتبہ انکشاف ہوا کہ حال ہی میں فوج کے ان زیر زمین ٹارچر سیل سے 500 لڑکیوں کی لاشیں اور 200 نیم مردہ حالت میں دریافت ہوئی ہیں ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زیر زمین ان ٹارچر سیلوں میں اغواء کی گئی عورتوں پر تشددد اور مظالم کی بھارتی فوج نے انتہاء کر دی ہے۔فوج نے خفیہ ٹارچرسیل بنا رکھے ہیں جہاں لڑکیوں کولایا جاتا ہے اور ان پر انسانی سوز تشددد غیر انسانی فعل اجتماعی عصمت دری، بربریت و درندگی کی جاتی ہے۔ مظلوم لڑکیوں کے چیخنے چلانے کی آواز تک کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتی جہاں سے بڑی دردناک رپورٹس آرہی ہیںَ۔ ٹارچرسیل سے نہ صرف 500 لڑکیوں کی لاشیں بل کہ 200 ایسی زندہ لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جو بھارتی فوج کے مظالم سے زندہ لاشیں بن چکی تھی ۔ جب کہ بچوں کی ہلاکت کی واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے جاری سالانہ رپورٹ میں کہا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بچوں کی ہلاکتوں اور تشددد کی اطلاعات ہیں جس پر اقوام متحدہ کو تشویش ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سنٹرل ریزرو فورس اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران 1 سے 17 سال کی عمر تک کے 15 بچوں (13 لڑکے ، 2 لڑکیاں) پر چھرے سے چہرے زخمی کرنے اور گرفتار کر کے تشددد کرنے کی تصدیق ہوئی ہے ۔15 جون کو پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یو این سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ۔"جموں و کشمیر میں ہونے والی بچوں کی ہلاکتیں حراست کے دوران تشدد ، فائرنگ ، بشمول پیلٹ گنوں اور سرحد پار سے گولہ باری سے ہوئی ہیں۔" جس پر اقوام متحدہ کو تشویش ہے۔سیکریٹری جنرل نے بھارتی حکومت سے کہا کہ بچوں پر یہ تشددد بند کیا جائے ۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں یہ سب کچھ بطور ریاستی پالیسی کر رہی ہے جس کی ریاست بھارت نے ان کو اجازت دے رکھی ہے اور کسی بھی فورم پر فوج کے کسی اقدام کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔ ماضی قریب میں آرمی چیف نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ " کشمیر میں عورتوں کا ریپ جائز ہے اس طرح کا الزام کسی فوجی پر لگتا ہے تو اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔" گویا آرمی چیف نے فوج کو یہ کھلی چھٹی دے دی کہ جو چاہے حسن کرشمہ ساز کرے۔ ان خطرے ناک رپورٹ اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ابھی تک پاکستان، چین سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کی طرف سے سخت ردعمل سامنے نہیں آیا جس قدر ایک ماہ کے دوران مقبوضہ وادی میں مظالم کی انتہاء ہوئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق سری نگر میں 7 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومسائل کے ساتھ کشمیر کی شہریت دی جا چکی ہے، آرمی میں داخل کئے گئے شیوا سینا کے غنڈوں کو کشمیر میں ریونیو کی زمین آلائٹ کی جا رہی ہے ۔ جب کہ چند دن کے دوران نامور کمانڈروں سمیت تین درجن سے زائد نوجوانوں کو مختلف الزامات لگا کر شہید کر دیا گیا۔افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے نہ حل ہونے والے مسئلہ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی گنتی پر لگ گئےجمہوری ممالک کی حکومتیں وضاحتوں اور اپوزیشن حکومتیں گرانے کی کوشش تک محدود اور میڈیا انہی خبروں کی تشہیر پر لگا ہوا ہے ۔ پاکستان میں یہ کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے۔ کرونا کی اس گہما گہمی میں پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو بھول ہی گئی۔ اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ماضی میں ہونے والے مظالم کے سارے ریکارڈ خود ہی توڑ دے۔ حریت کانفرنس کی آواز کو ایسا دبا رکھا ہے کہ بزرگ رہنما علی گیلانی سمیت تمام رہنماء نظر بند یا ٹارچر سیلوں میں ہیں اور وادی میں ابلاغ کے تمام ذرائع نقل و حمل پر سخت پہرے بٹھا دئے گئے ہیں کوئی آواز باہر نہیں آ سکتی ۔ تازہ دم اطلاعات بہت زیادہ خطرے ناک، افسوس ناک شرم ناک اور دنیا کی توجہ طلب ہیں ۔ پاکستان اور وادی سے بائر کی کشمیری قیادت کو آج بہت زیادہ سفارت کاری اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ مگر ہر طرف خاموشی ہے حتی کہ حریت کانفرنس پاکستان چپڑ بھی متحرک نظر نہیں آتا کیا مصلحتیں ہیں وہ بہتر جانتے ہیں ۔سفارتی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے اور مظلوم کشمیریوں کی آواز بننے کی اس وقت سخت ضرورت ہے جو ہو نہیں رہی ، ورنہ بھارت تو کشمیریوں کی نسل کو ختم کرنے کے در پر ہے۔۔ بھارت میں انسانی حقوق کی کارکن اروں وھتی رائے بھی چند دن قبل بھارتی حکومت پر مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات روکنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کے محافظوں اور کارکنوں نے اس سے پہلے بھی اطلاع دی تھی کہ جموں کشمیر کے شمال میں اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں ۔ دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق ، انٹر نیشنل ہیومن راٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف کو (آئی پی ٹی کے) نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں پونچھ، راجوری، بانڈی پورہ ، بارہ مولہ اور کپواڑہ کے 55 دیہات میں کی جانے والی کھدائی کے دوران 2 ہزار 700 قبریں اور ان قبروں میں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کی نعشوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔جب کہ 8000 افراد لاپتہ ہیں۔ لیکن بھارتی فورسز یا حکومت کی جانب سے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیوں کہ مقبوضہ کشمیر میں فوج کے کسی بھی اقدام کو کسی عدالت یا ادارے میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اس لئے تازہ اطلاعات میں ٹارچر سیل سے برآمد ہونے والی لڑکیوں کی لائشوں نیم زندہ اور تشددد کا نشانہ بننے والے بچوں کا مقدمہ بھی کسی فورم پر پیش نہیں کیا جا سکے گا سوائے بین الاقوامی اداروں کے ۔ بھارتی فوج سفاکانہ ریاسی دہشت گردی سےعوام کو خوف زدہ کر کے تحریک سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔اس کی حکمت عملی ہے کہ ایسا تشددد کیا جائے جو انسانی برداشت سے باہر ہے ۔ اب یہ بات پوشیدہ نہیں رہی کہ مقبوضہ کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنابالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ روزمرہ کا معمول بن چکا۔ مگر ان مظالم کو دنیا تک کیسے پہنچایا جائے۔ پاکستان کی حکومت کو مضبوط سفارت کاری سے زیادہ 1974 ایکٹ میں چودھویں آئنی ترمیم میں دلچسپی ہے تاکہ وزارت امور کشمیر کو زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات مل سکیں اور لوٹ مار کے موقعے میسر آئیں جو تیرویں آئنی ترمیم میں کم ہو گئے ہیں ۔ کنٹینر پر گھڑے عمران خان اور وزیراعظم عمران خان کی قول و فعل میں مکمل تضاد ہے اور اب اس میں دو رائے نہیں کہ خان صاحب ملک چلانے میں ابھی تک مکمل ناکام ہو رہے ہیں ۔ ان حالات میں کشمیری قیادت کو خواہ وہ حریت کانفرنس ہو یا آزاد کشمیر کی قیادت واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہیے ۔ سفارتی کاری اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کریں ۔ کشمیر کانسل کو مکمل ختم کر کے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کی اسمبلیاں اور حریت کانفرنس برابر نمائندوں پر مشتمل ایک سپریم کونسل کو منتخب کریں ۔ اس کونسل کو کشمیر کی سفارت کاری کے مکمل اختیارات دئے جائیں کونسل کا چئیرمین کشمیر کا وزیر خارجہ ہو جو بحثیت عہدہ پاکستان وزارت خارجہ میں ڈپٹی وزیر خارجہ کے طور پر کشمیر امور میں مکمل اختیارات کے ساتھ دنیا بھر میں سفارت کاری کی ذمہ داری انجام دے۔ بصورت دیگر کوئی یہ سمجھتا ہے خواہ وہ حریت کانفرنس ہی کیوں نہ ہو کہ ڈھائی سو نوجوان کلاشنکوف یا معمولی اسلحہ سے 10 لاکھ سے زائد آرمی سے لڑ کر کشمیر آزاد کر کے دیں گے یہ خواب غفلت اور خیام خیالی ہے ۔



آزاد کشمیر حکومت کے چار سال


آزاد کشمیر حکومت کے چار سال شفقت ضیاء آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے چار سال مکمل ہو گئے ہیں اور ایک سال باقی ہے جو عموماََ الیکشن کا سال سمجھا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آخری سال کو حکومتیں الیکشن سامنے رکھتے ہوئے اپنیکارکرردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ الیکشن میں کامیابی حاصل کر سکیں۔گزشتہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیرِ اعظم چوہدری مجید اور صدر حاجی یعقوب کی قیادت میں آخری سال بھرپور محنت اور بڑے پراجیکٹس دینے کے باوجود ناکام ہوگئی تھی جس سے ثابت ہوا کہ محض آخری سال نہیں پہلے چار سال بھی اہم ہوتے ہیں۔البتہ آخری سال زیادہ محنت کے ساتھ پچھلی کمیوں کو پور ا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے جس طرح کے میگا پراجیکٹس آزاد کشمیر میں دیے جن میں میڈیکل کالجز،یونیورسٹیاں اور کچھ سڑکیں اور ہسپتال شامل ہیں موجودہ حکومت تاحال اس طرح کے میگا پراجیکٹس دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے البتہ اُن پراجیکٹس کی تکمیل میں کردار ضرور ادا کیا ہے۔ بلخصوص ضلع پونچھ میں کوئی میگا پراجیکٹ ایسا نہیں جو موجودہ حکومت کے حصّے میں آیا ہو۔پی پی حکومت کے دور میں حاجی یعقوب کی صورت میں ایسا صدرِ ریاست رہا جس سے سو اختلاف کی گنجائش کے باوجود تعمیر و ترقی کی دلچسپی اور محنت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آج اگرپونچھ میں میڈیکل کالج یا یونیورسٹی ہے تو اُس کا سارا کریڈیٹ حاجی یعقوب کو جاتا ہے۔غازی ملت شاہراہ (المعروف گوئیں نالہ)بھی آپ کے آخری عرصہ میں ایشین بنک کے منصوبے میں رکھوائی گئی۔اسی طرح چک ڈسٹرکٹ ہسپتال جس کے لیے فنڈز موجودہ حکومت نے دیے انہی کے دور میں آغاز ہوا اورمسئلہ کشمیر کے حوالے سے بیانات کا کام بھی حاجی یعقوب نے خوب کیا،اُن کی اہلیت،صلاحیت اور معیار پر سوالات کے بعد صلاحیت،قابلیت کی بلندیو ں کو چھونے والے موجودہ صدرِ ریاست کا انتخاب ہوا تو عوام کا خیال تھا کہ کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا اور آزاد کشمیر کا نقشہ بھی بدل جائے گا پاکستان اور دنیا بھر میں تعلقات رکھنے والے مسعود خان سے ایسی ہی امیدیں وابستہ کر دی گئیں جیسی پاکستان میں عمران خان سے تبدیلی کی۔جس طرح دو سال میں پاکستا ن کی عوام کو مایوسی ہوئی اسی طرح چار سال میں مسعود خان نے بھی عوام کو مایوس کیا۔مسئلہ کشمیر تو 72سالوں سے حل طلب ہے اگربیانات اور خطابات سے حل ہو سکتا تو پہلے ہی حل ہو جاتا لیکن آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے خطے کی حالت نہ بدلی جا سکی اور جو لیڈر شپ اتنا نہیں کر سکی تواُس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی امید حماقت ہی ہو سکتی ہے۔سڑکیں،پانی، تعلیم،صحت جیسی بنیادی سہولتیں میسر نہیں،بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔پونچھ میں تو ان چار سالوں میں کسی بھی پہلو پر قابل ذکر توجہ نہیں دی گئی۔صدرِ ریاست کو سڑکوں کے کھنڈروں کے بجائے گاڑی میں مسئلہ نظر آتا ہے جس کیلئے حکومت نے 6کروڑ رکھ دیا جس پر وقتی طور پر میڈیا کے شور مچانے خاموشی اختیار کر دی گئی ہے۔ہو سکتا ہے وہ بھی جلد مل جائے گی ملنا بھی چاہیے تاکہ اس کی وجہ سے عوامی مسائل اور تنازعہ کشمیر کے حل میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے آزاد کشمیر کی حکومت کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پی پی دور کی میرٹ پالیسیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کیا۔NTS کے ذریعے غریبوں کے بچوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق نوکریاں ملی ہیں جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا۔البتہ محکمہ تعلیم کے علاوہ ان کی کارکردگی گزشتہ حکومت سے مختلف نہیں بلکہ موجودہ حکومت نے پونچھ میں تو ریکارڈ توڑتے ہوئے دوسرے اضلاع کے لوگوں کو بھی تعینات کیا جس کی وجہ شایداسے لاوارث سمجھا گیاہے۔ موجودہ حکومت نے نوازشریف سے ترقیاتی بجٹ دو گنا کرایا لیکن پورا استعمال نہ کر سکی اربوں روپے لیپس ہو گئے 13ویں ترمیم بھی موجودہ حکومت کا بڑا اقدام ہے جس سے بڑی حد تک اختیارات اور وسائل حاصل ہوئے ہیں لیکن آج بھی کشمیر کونسل میں کروڑوں روپے تنخواؤں کی مدمیں جا رہے ہیں جس کا کوئی حل نہ نکالا گیا اور قومی اخراجات پر بوجھ ہنوز جاری ہے۔وزیرِ اعظم فاروق حیدر کا الیکشن سے پہلے عوام سے وعدہ تھا کہ چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے وہ چار سال میں پورا نہ ہو سکا اگر یہ وعدہ پورا کر لیتے تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی لیکن پی پی اور ن لیگ دونوں جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتی چونکہ اس سے ان کے ممبران اسمبلی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے قانون سازی تو ان لوگوں نے کرنی نہیں ہوتی اور مسائل کے مارے عوام کا ان کے در پر حاضریاں لگانا انہیں پسند ہے۔اُسی پر ان کی سیاست چلتی ہے یو ں عوام کو بلدیاتی انتخابات سے دور اور مسائل کے حل کیلئے دھکے کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت سے توقعات تھیں کہ فاروق حیدر بولڈ آدمی ہیں یہ سٹپ لے لیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اب وہ اس کی جتنی مر ضی تاویلیں کریں اسی طرح کابینہ 12 سے زیادہ نہ ہونے کی باتیں اوروعدے بھی ایفانہ ہو سکیں گے اگرچہ سابقہ پی پی کے دورِ حکومت میں جو ظلم ہوا تھا وہ نہیں کیا لیکن اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے۔ پی پی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت نے بھی اپنے چند کارکنان کے ذریعے ترقیاتی فنڈز دیے جس سے کچھ چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر کام ہوا اور کچھ ہواؤں کے دوش میں خرچ ہوئے۔ آزاد کشمیر جو 13297 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباََ 42لاکھ ہے 72 سالوں میں کوئی شک نہیں کہ تعمیر و ترقی ہوئی ہے سکول،کالجز،سڑکیں بنی ہیں لیکن بدقسمتی سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہر حکومت آتی اور اپنی ترجیحات کے مطابق اپنا وقت گزار کے چلی جاتی رہی جمہوری حکومتوں سے زیادہ عرصہ آمریت کا رہا اور جمہوریت کو نیچے تک موقع کم ملا جس کی مثال 35سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔عوام کو بنیادی حقوق جن میں تعلیم،صحت اور انصاف شامل ہیں وہ آج تک میسر نہیں۔سرکاری اداروں میں معیاری تعلیم میسر نہیں حکومتیں اعلانات کے باوجود سرکاری ملازمین تو دور اپنے اساتذہ کے بچوں کو گورنمنٹ اداروں میں داخلے کے پابند نہ کر سکے اور ایک نصاب نہ دے سکے۔صحت کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی کمی اور آٹے سے دوائی تک کوئی چیز خالص میسر نہیں۔انصاف کا یہ حال ہے عدلتوں میں نسلوں تک کیس چلتے رہتے ہیں اور انصاف نہیں ملتا اس ظلم و نا انصافی کے نظام کو بدلنے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اپوزیشن سے مل کرجو اگرچہ آزاد کشمیر میں ان چار سالوں میں کہیں نظر نہیں آئی تلاش سے مل جاے تو تعلیم،صحت اور انصاف کے نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے جس میں یکساں نصابِ تعلیم اور معیاری سرکاری تعلیمی اداروں کی بنیاد اور سرکاری ہسپتالوں کو آبادی کے تناسب کے مطابق تمام سہولیات سے مزین کرنا اور انصاف کے ایسے نظام کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے جس میں فوری اور سستا انصاف میسر آسکے۔جس کے لیے ان شعبوں کے ماہرین کے بورڈ زقائم کیے جائیں جو ہر طرح کی سفارش اور سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوں۔اُن کی سفارشات پر ہر آنے والی حکومت عملدرآمدیقینی بناے، 72سال گزرجانے کے باوجود بنیادی کام بھی شروع نہ ہو سکے، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی باتیں اور دعوے فضول کی مشق ہو گی۔جو قیادت اتنا چھوٹا سے خطہ آئیڈیل نہ بنا سکے اُس سے کسی بڑے اقدام کی امید حماقت ہے 5 سال بعد حکومت کی کارکردگی کا موازانہ اور چند بہتر اقدامات سے تبدیلی نہیں آسکتی۔اب عوام کی تقدیر کو بدلنا ہو گا چہرے نہیں اس گلے سڑے نظام کو بدلنا ہو گا۔غریب عوام کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔اُن کو بنیادی حقوق دینے ہوں گے جس کے لیے اب عوام کو بھی بیدار ہونا ہو گا۔خدا بھی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا۔72 سال گزر جانے کے باوجود اگر تعلیم،صحت اور انصاف میسر نہیں تو عوام کو اس سے کیا غرض کہ کس پارٹی کی حکومت ہے عوام کو چہرے، نعرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہیے موجودہ حکومت کے پاس ایک سال بہت اہم ہے اگر اس نے حق ادا کر دیا تو سر خرو ہو گی ورنہ داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔۔۔۔۔



کرونا وائرس اور حکومتِ آزاد کشمیر کا کردار


کرونا وائرس اور حکومتِ آزاد کشمیر کا کردار شفقت ضیاء کرونا وائرس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اپنی طاقت کا گھمنڈ رکھنے والی نام نہاد سپر پاور تمام تر کوششوں کے باوجود بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔لاکھوں انسان متاثر ہیں اور دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔واحد علاج لاک ڈاؤن سمجھنے والے اب بھوک کے خوف میں مبتلا ہیں تمام راستے بند نظر آتے ہیں اور جب سارے راستے بند ہو جائیں تو خدا کو نہ ماننے والے بھی َ اُسی کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کے اپنے حالات پتلے ہیں ایسے وقت میں جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہ مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔مسلمان ممالک میں ایسے حکمران مسلط ہیں جو اس کے اہل نہیں جس کی وجہ سے آزمائش کے اس موقع سے باہر نکلنے کے بجائے مزید ذلت و خواری ہی امت مسلمہ کے مقدر میں نظر آتی ہے دنیا میں اس وائرس کی تباہی کے مقابلے میں پاکستان تا حال کافی حد تک بچا ہوا ہے جو تباہی آئی بھی وہ بر وقت لاک ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ سے آئی ہے۔وزیرِاعظم پاکستان پہلے دن سے کنفیوز نظر آتے ہیں اور آج تک کوئی واضح پالیسی دینے میں ناکام ہیں۔تقریریں بہت کی لیکن کوئی واضح لائحہ عمل نہ دے سکے۔لاک ڈاؤن کرتے بھی رہے اور انکار ی بھی رہے جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن بے معنی ہوا محض معاشی نقصان کا باعث بنا۔البتہ بیرونی امداد ضرور ملی صوبائی حکومتوں میں سندھ کا بہتر رول رہا لیکن وہ بھی اس صورتِ حال میں مرکز کے تعاون نہ کرنے پر شکوے کرتے دیکھائی دی تاہم ایسے میں حکومتِ آزاد کشمیر نے بروقت اور درست فیصلہ کرتے ہوئے فوری انٹری پوائنٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ یہ کافی مشکل کام تھا چونکہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں لوگوں کا آنا جا نا ایسے ہے جیسے ایک گھر سے دوسرے میں ہوتا ہے۔ لیکن وزیرِ اعظم فاروق حیدر نے یہ مشکل فیصلہ کر کے آزاد کشمیر کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار اداکیا۔اس کے باوجود جو کیسز آئے وہ بدقسمتی سے انتظامی کمزوریوں کی وجہ بنے انٹری پوائنٹ سے چور راستوں سے آنے والوں کو روکنے کا اہتمام نہیں کیا گیا اور پولیس نے بھی مٹھی گرم کر کے لوگوں کو آنے دیا لیکن مجموعی طور پر حکومت آزاد کشمیر کا کردار اس حوالے سے قابلِ ستائش ہے مگر ابھی چونکہ وائرس ختم نہیں ہو اہے،نرمی جس طرح سے کی جارہی ہے اس سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔اس لیے گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کرونا وائرس کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس سے دنیا بھر کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا پاکستان جو پہلے ہی معاشی طور پرتباہ حالی کا شکار تھا وہ زیادہ متاثر ہوا۔حکومت کی طرف سے زیادہ کمزور طبقے کو جنہیں بینظیر انکم سپورٹس پروگرام سے مدد کی جاتی تھی مزید اضافے کے ساتھ احساس پرگرام کے ذریعے 12ہزار کے حساب سے دئیے جو کسی حد تک غریب عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنا ہے لیکن حقیقت میں یہ بہت کم ہیں آزادکشمیر حکومت نے اس کے سوا سرے سے کچھ نہ کیا فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات نے جو کردار ادا کیا وہ قابلِ ستائش ہے جس نے ایک بار پھر زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔آزاد کشمیر میں بھی فلاحی تنظیموں اور دردِ دل رکھنے والے افراد نے ہر گاؤں اور شہر میں دیہاڑی دار اور کمزور طبقے تک پہنچنے میں کوئی فرق نہیں چھوڑا لیکن سفید پوش طبقہ آج سب سے زیادہ متاثر ہے اور آزاد کشمیر میں یہی طبقہ سب سے زیادہ ہے حکومتِ کا اس حوالے سے کردار انتہائی مایوس کن ہے بلکہ ایسے محسوس ہوتا ہے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے کسی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا لاک ڈاؤن کھول کر شہروں میں عوام کو عید کی شاپنگ پر لگا دیا گیا جس میں کوئی احتیاتی تدبیر نظر نہیں آرہی۔کپڑے جوتے اس عید کے موقع پر لینے پہ پابندی ہونی چائیے جو اقدامات کر کے عوام کو معاشی مشکلات سے دوچار کیا گیا وہ سب عید کی تیاریوں کی نذر کرتے ہوئے برباد کیا گیا۔اللہ نہ کر ئے لیکن یہ تباہی کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ایسے میں صرف پبلک ٹرانسپوٹ اور باربرز کوپا بند کرنے کے کیا معنی ہیں؟ان کو بھی حصہ ڈالنے دیا جاتا تو کیا قیامت آجاتی؟رہا شعبہ تعلیم تو وہ ہماری حکومتوں کی کبھی بھی ترجیح نہیں رہا شعور پھیلنے سے ان کی عیاشیاں کو بند ہو جانا ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے والا یہی حکمران طبقہ ہے جس نے میرٹ کا جنازہ نکالا۔اپنی سیاست چمکانے کے لیے بھرتیا ں کرتے رہے اور معیارِ تعلیم پر توجہ نہ دی آج تک یکساں نصاب ِ تعلیم نہ دے سکے قوم کو طبقوں میں تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے تین طرح کے نظامِ تعلیم چل رہے ہیں ایک سرکاری تعلیم،دوسری پرائیویٹ تعلیم تیسری دینی تعلیم جبکہ دعوے بڑے بڑے کیے جا رہے ہیں لیکن حقیقت میں ان 72 سالوں میں تعلیم اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔آج سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی بند پڑی ہیں غریب مریض ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پرائیویٹ ہسپتالوں میں چیک کر رہے ہیں لیکن سرکاری میں نہیں آخر کیوں؟ سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین کو بھاری تنخواہیں مل رہی ہیں جبکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جنھوں نے گرتے ہوئے معیارِ تعلیم کو سہارا دیا اس پر توجہ کیوں نہیں ہے کیا اب انہیں تباہ کرنے کی ٹھان لی گئی ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کے لیے فیسوں کی ادائیگی ان حالات میں مشکل ہو رہی ہے جو تین ماہ سے بند ہیں اور سرمائی سکول تو پانچ ماہ سے بند ہیں اور ان لوگوں کے روزگار بھی بند ہیں لیکن حکومت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو عوام کے خون پسینے سے چلتی ہے اُس کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے کہ نہیں؟اس مشکل وقت میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے کیوں غافل ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ہزاروں اساتذہ کرام تو انتہائی سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بہت ہی محدود سی تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ان کو تنخواہیں نہیں مل رہی اور اطلاعات کے مطابق بہت سارے اساتذہ اور سٹاف کو فارغ کیا گیا ہے جو ظلم ہے جس کی ذمہ دار حکومت بھی ہے۔حکومت کوکردار ادا کرناچاہیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے مل کر ایسا درمیانہ راستہ نکالا جائے کہ والدین پر بھی بوجھ کم سے کم ہو اور پرائیویٹ اداروں کے ضروری اخراجات اور تنخوائیں ادا ہو سکیں۔والدین اساتذہ کے درمیان سرد جنگ ٹھیک نہیں ہے سوشل میڈیا پر تعلیم جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد کی تذلیل مافیا کہہ کر کی جا رہی ہے۔کرونا وائرس تو ختم ہو جائے گا لیکن قوم کا مستقبل تباہ ہو گیا تو نسلیں بھکتیں گی اس لیے تعلیم کے ساتھ مذاق بند کیا جائے پہلی ترجیح میں ان تعلیمی اداروں کو بحال کرنے کی منصبوبہ بندی کی جائے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے نکالے گئے اساتذہ کو بحال کرایا جائے فیسوں کے معاملے کو مشاورت سے حل کیا جائے۔۸ کروڑ کی نئی گاٹیاں خریدنے کے بجائے اس شعبے کی مشکلات حل کرنے پر لگاے جائیں۔پرائیویٹ اداروں کی ایسوسی ایشن کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے پاکستان کی طرح کم ازکم ۰ ۲فیصد رعایت فیسوں میں کی جاے اور اس سال مارچ میں جو فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے وہ اس سال کے لیے واپس لیاجاے مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو دئیے گئے ریلیف سے اللہ برکت اوراجر دے گا حکومت غریب عوام کے بجلی بلات معاف کرے۔چھوٹے کاروباری طبقے کو بلاسود قرض دیے جائیں۔ٹیکس معاف کیے جائیں اور تمام متاثرہ درمیانی طبقے کے لیے ریلیف کا اہتمام کرے جس کے لیے اگر وسائل کی کمی ہے تو ترقیاتی بجٹ کو لگا دیا جائے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہمیں اپنے گناہوں سے معافی کے سہنری موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے ظلم و ناانصافی کے نظام کے خاتمے کا عزم کرناہو گا ورنہ اس طرح کے عذاب ا ور آزمائشیں آتی رہیں گی اور ہم مشکلات سے دوچار ہوتے رہیں گے۔چونکہ خدا کھبی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔



رمضان نیکیوں کا موسم بہار


رمضان نیکیوں کا موسم بہار شفقت ضیاء اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نصیب کیا جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ جو نیکیوں کا موسم بہار ہے ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے نام نہاد سپر پاور اور اس کے چیلے چانٹے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تما م تر تدابیر کے باوجود لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ہزاروں زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جن کو اپنی معاشی طاقت پرناز تھا وہ بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ محسن انسانیت ﷺ نے 14سو سال پہلے جو ہدایات دی تھی ان کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں صفائی کو ایمان کا حصہ، پانچ وقت وضو، ہاتھ، منہ، ناک کو اچھی طرح صاف رکھنا اور اپنے آپ کو وباء سے بچانے کے لیے ایسے علاقے میں نہ جانا اور ایسے علاقے کو نہ چھوڑ نا شامل ہے ایسے میں اس آزمائش سے نکلنے کے لیے رمضان المبارک جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ نبی مہرباں ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ گویا نیکیاں کمانے کا سنہری موقع ہے جس نیکی کے دروازے سے جنت میں جانا چاہتے ہو وہ کر لو سب دروازے کھولے ہیں۔ بنی مہربان ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزرد ہوئے ہیں اور جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جواس نے پہلے کئے ہوں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہو ں گے۔ احتساب سے مراد تمام نیک اعمال میں ٖصرف اللہ کی رضا اور اسی سے اجر کا امیدوار ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ روزے کو دیگر عبادات سے بڑھ کر اجر و ثواب کا ذریعہ کہا گیا ہے جس میں دکھاوے کا امکان نہیں بلکہ روزے دار اور اللہ کو اس کا علم ہو تا ہے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی د س گنا تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس موقع سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکے جب اللہ کی رحمت پورے جوبن پر ہے ہر نیک کام کا اجر و ثواب بڑھ چکا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رب کریم اپنے بندوں کو معافی اور اجر و ثواب کے بہانے تلاش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی مہرباں ﷺنے تین با ر آمین کہا تو صحابی ؓ نے پوچھا ہمیں کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آیا آپ نے خلاف معمول آمین کہا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا جبرائیل ؑ آئے تھے اور دعا کر رہے تھے وہ شخص تباہ ہو گیا جس کی زندگی میں رمضان المبارک آیا اور وہ اپنی مغٖفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین دوسری بار کہا وہ شخص بھی تباہ ہو گیا جووالدین کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکا جس پر میں نے کہاآمین اور تیسری بار فرمایا جس کے سامنے میرا نام نامی محمد ﷺ لیا گیا اور مجھ پر درود نہ پڑھا۔جس پر میں کہا آمین بس ثابت ہوا جو دعا جبرائیل نے کی ہو اور جس پر محمد ﷺ نے آمین کہا و ہ دعا قبول ہو گی اس کی قبولیت پر شک نہیں بس ہمیں اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کیلئے رمضان المبارک کو ایسا گزارنا ہو گا کہ بخشش کا سامان حاصل کر لیا جائے۔ اللہ نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ قرار دیا ہے جس میں قرآن نازل ہو ا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کر تے ہیں روزہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے شہوت سے روکے رکھا تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہتا ہے کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما بس دونوں کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی۔ اس لیے اس مہینہ میں قرآن سے خصوصی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا اصل مقصد ہے اس ماہ میں آغاز کر لیا جائے اور اس بات کا عزم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈالنے کی کوشش کرنی ہے آج قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مسلمہ ذلت اور آزمائش سے دوچار ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن رہنمائی کرتا ہے لیکن ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں اس سے خالی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پڑھنے کا بہت اجر و ثواب ہے بلخصوص رمضان المبارک میں اس کا اجر تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جانی چاہیے لیکن اس کا اصل مقصد ہدایت لینا ہے جس کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے پھر اس کو آئینہ کی طرح سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں انسانوں کا خیال رکھنے ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا درس ملتا ہے آج کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگی روزہ کا ایک مقصد لوگوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو بھوکا پیا سا رکھنے سے کیا حاصل کرنا تھا اس کے خزانوں میں کسی کی کمی تو نہیں آنی تھی اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس لیے اس کی پلاننگ پہلے دن سے ہی کر لینی ہو گی تا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو جائے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے جہاں انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ دی جائے وہاں اللہ کو یاد کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ آنے والے گیا رہ ماہ کو بھی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کرنا ہو گا۔ اگر اس ماہ سے درست طور پر استفادہ کیا گیا تو آئندہ آنے مہینوں میں اس کے اثرات نظر آئیں گے ورنہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا اللہ نہ کر ے ہم ایسے لوگوں میں شامل ہو ں بلکہ نیکیوں کے اس موسم بہار میں اپنے دامن کو بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



رمضان نیکیوں کا موسم بہار


رمضان نیکیوں کا موسم بہار شفقت ضیاء اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نصیب کیا جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ جو نیکیوں کا موسم بہار ہے ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے نام نہاد سپر پاور اور اس کے چیلے چانٹے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تما م تر تدابیر کے باوجود لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ہزاروں زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جن کو اپنی معاشی طاقت پرناز تھا وہ بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ محسن انسانیت ﷺ نے 14سو سال پہلے جو ہدایات دی تھی ان کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں صفائی کو ایمان کا حصہ، پانچ وقت وضو، ہاتھ، منہ، ناک کو اچھی طرح صاف رکھنا اور اپنے آپ کو وباء سے بچانے کے لیے ایسے علاقے میں نہ جانا اور ایسے علاقے کو نہ چھوڑ نا شامل ہے ایسے میں اس آزمائش سے نکلنے کے لیے رمضان المبارک جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ نبی مہرباں ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ گویا نیکیاں کمانے کا سنہری موقع ہے جس نیکی کے دروازے سے جنت میں جانا چاہتے ہو وہ کر لو سب دروازے کھولے ہیں۔ بنی مہربان ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزرد ہوئے ہیں اور جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جواس نے پہلے کئے ہوں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہو ں گے۔ احتساب سے مراد تمام نیک اعمال میں ٖصرف اللہ کی رضا اور اسی سے اجر کا امیدوار ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ روزے کو دیگر عبادات سے بڑھ کر اجر و ثواب کا ذریعہ کہا گیا ہے جس میں دکھاوے کا امکان نہیں بلکہ روزے دار اور اللہ کو اس کا علم ہو تا ہے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی د س گنا تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس موقع سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکے جب اللہ کی رحمت پورے جوبن پر ہے ہر نیک کام کا اجر و ثواب بڑھ چکا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رب کریم اپنے بندوں کو معافی اور اجر و ثواب کے بہانے تلاش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی مہرباں ﷺنے تین با ر آمین کہا تو صحابی ؓ نے پوچھا ہمیں کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آیا آپ نے خلاف معمول آمین کہا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا جبرائیل ؑ آئے تھے اور دعا کر رہے تھے وہ شخص تباہ ہو گیا جس کی زندگی میں رمضان المبارک آیا اور وہ اپنی مغٖفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین دوسری بار کہا وہ شخص بھی تباہ ہو گیا جووالدین کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکا جس پر میں نے کہاآمین اور تیسری بار فرمایا جس کے سامنے میرا نام نامی محمد ﷺ لیا گیا اور مجھ پر درود نہ پڑھا۔جس پر میں کہا آمین بس ثابت ہوا جو دعا جبرائیل نے کی ہو اور جس پر محمد ﷺ نے آمین کہا و ہ دعا قبول ہو گی اس کی قبولیت پر شک نہیں بس ہمیں اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کیلئے رمضان المبارک کو ایسا گزارنا ہو گا کہ بخشش کا سامان حاصل کر لیا جائے۔ اللہ نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ قرار دیا ہے جس میں قرآن نازل ہو ا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کر تے ہیں روزہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے شہوت سے روکے رکھا تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہتا ہے کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما بس دونوں کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی۔ اس لیے اس مہینہ میں قرآن سے خصوصی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا اصل مقصد ہے اس ماہ میں آغاز کر لیا جائے اور اس بات کا عزم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈالنے کی کوشش کرنی ہے آج قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مسلمہ ذلت اور آزمائش سے دوچار ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن رہنمائی کرتا ہے لیکن ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں اس سے خالی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پڑھنے کا بہت اجر و ثواب ہے بلخصوص رمضان المبارک میں اس کا اجر تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جانی چاہیے لیکن اس کا اصل مقصد ہدایت لینا ہے جس کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے پھر اس کو آئینہ کی طرح سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں انسانوں کا خیال رکھنے ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا درس ملتا ہے آج کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگی روزہ کا ایک مقصد لوگوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو بھوکا پیا سا رکھنے سے کیا حاصل کرنا تھا اس کے خزانوں میں کسی کی کمی تو نہیں آنی تھی اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس لیے اس کی پلاننگ پہلے دن سے ہی کر لینی ہو گی تا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو جائے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے جہاں انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ دی جائے وہاں اللہ کو یاد کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ آنے والے گیا رہ ماہ کو بھی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کرنا ہو گا۔ اگر اس ماہ سے درست طور پر استفادہ کیا گیا تو آئندہ آنے مہینوں میں اس کے اثرات نظر آئیں گے ورنہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا اللہ نہ کر ے ہم ایسے لوگوں میں شامل ہو ں بلکہ نیکیوں کے اس موسم بہار میں اپنے دامن کو بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



اقتدارکا بیانیہ


اقتدارکا بیانیہ شفقت ضیاء آزادی انسان کا بنیادی حق ہے طاقت کے زور پرا س حق کو چھینے والا ظالم ہے خواہ وہ فرد ہو یا ملک یاقوم ہوظالم کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے کردارادا کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ا ن بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے ہوجو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اورفریاد کررہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی اور مدد گار پیدا کردے۔کشمیر کے مسلمان بہتر سال سے ہندو کے ظلم کا شکار ہیں دنیا کی جنت النظیر وادی خون سے لہو لہو ہے عفت مآ ب خواتین کی عصمتیں تارتار ہیں بچوں کی چیخیں ہیں ظلم کا یہ سلسلہ بند ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے مقبوضہ کشمیر جیل کا نقشہ پیش کررہا ہے ایسے میں کشمیری 71 واں یوم حق خوداراردیت منارہے ہیں دنیا میں امن کے ٹھیکداروں کے دوہرے کردا رکا ماتم کررہے ہیں جو انسانوں کے حقوق کے علمبردار ہیں جن کے نزدیک جانورکی بھی قدر ہے بس انھیں نظر نہیں آرہا تو وہ کشمیریوں کا لہو ہے وہ ظلم ہے جو مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے اکہتر سال سے ان سے کیا ہوا وعدہ جو اقوام متحدہ نے اس وقت کیا تھا جب ظالم ہندوستان خود اس مسئلے کو لے کرگیا تھا ورنہ مجاہدین کشمیر اپنی منزل کے قریب تھے بزدل ہندو جواہر لال نہرو کے بھیک مانگنے پر اسے مہلت دی گئی اور سلامتی کونسل نے قراداد پاس کی مگروہ وعدہ ایفا نہ ہوسکا جس نے ثابت کیا کہ اقوام متحدہ نہ مسلمانوں اور نہ مظلوموں کے لیے ہے بلکہ یہ صرف مسلمانوں کے خلاف اور ظالموں کا حمایتی ہے دنیا بھر میں اس کا کردار ایسا ہی ہے بالخصوص کشمیر اور فلسطین میں اس کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے پھر بھی اس سے امیدیں رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں بدقسمتی سے مسلمان ممالک میں بھی ان کے پٹھو حکمران ہیں ستاون اسلامی ممالک کا کردار بھی مایوس کن ہے ان کی تنظیم او آئی سی کے مقاصد بھی پورے نہ ہوسکے جس کی وجہ سے ان ممالک کی قیادت ہے جو امریکہ کی غلام ہے جن کے وسائل پر ان کا کنٹرول ہے مسلمان ممالک لیڈر شپ کی وجہ سے مار کھارہے ہیں ایسے میں کشمیریوں کی کھل کر حمایت کرنے والے ترقی،ملائشیاجیسے ممالک کی کانفرنس میں وعدے کے باوجود پاکستان کا ٹیپو سلطان امریکہ اور سعودی عرب کی ناراضگی کی وجہ سے شرکت نہ کرسکا۔جبکہ ایران کی جراء ت مند قیادت کو کچلنے کے لیے امریکہ سرگرم ہو گیا ہے مسلمان ممالک ایک جسم کی مانند بننے کے بجائے ایک دوسرے کو مٹانے کے درپے ہیں ایسے میں کشمیریوں کی حمایت کی توقع بیرون دنیا سے کرنا حماقت ہی ہوسکتی ہے کشمیریوں کا وکیل پاکستان جس کے حق میں کشمیریوں نے اس کے وجود میں آنے سے پہلے فیصلہ دے دیا تھا اس کے حکمرانوں کا کردار بھی ہمیشہ مایوس کن رہا ہے موجودہ حکومت نے اسی امریکہ سے توقعات وابستہ کررکھی ہیں اور اس کی ثالثی کی پیش کش کو کافی سمجھ لیا ہے اور کشمیری مجاہدین کے راستوں کو بھی بند کردیا ہے جمعہ کوآدھے گھنٹے کاا حتجاج کا اعلان تیسرے جمعہ تک نہ جاسکا۔ کشمیری اس حکومت سے کیا امید رکھ سکتے ہیں جو اپنے عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہ کرسکی مہنگائی کا ایک طوفان بپا کردیا گیا جس سے زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں نئے سال کے آغاز پر بجلی،گیس،پٹرول کے ساتھ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔جس سے مہنگائی دس سال کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے تعمیر وترقی تو دور رہی غریب عوام کوپیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور کردیا گیا ہے غریبوں کی چیخیں ہیں اور حکومت اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اسی قانون سازی کررہی ہے جو اقتدار سے پہلے اس کے بیانیہ مختلف ہے چوروں،ڈاکوؤں کو نہ چھوڑنے کے اعلانات اور وعدے بھی اب ہوا میں تحلیل ہوگئے جب ہوا کار خ اپنی ہی حکومت کی طرف آتے دیکھا تو نیب قوانین بھی تبدیل کرنا ضروری ہوگئے۔اب بزنس مین اور بیوروکریٹس کو احتساب سے نکالنا ترقی کے لیے ضروری ٹھہرا۔بیرون ممالک سے قرض کی بھیک مانگ کر اب ان کے اشاروں پر چلنالازم ٹھہرا۔آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر قرض لیکر اب عوام کی درگت نکالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا عوام دشمن پالیسیوں میں اپوزیشن بھی خاموش ہے وہ بھی اپنے بیانیہ سے دور ہوچکی ہے نوازشریف کی جگہ شہباز شریف کا بیانیہ آگیا ہے جو مصلحتوں کا شکار ہے مریم نواز نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے یا رکھوا لیا گیا ہے۔بلاول بھٹو کسی حدتک اپنا کردار ادا کررہے ہیں باقی مجموعی طور پر خاموشی ہے جو اپنے مفادات اور مصلحتوں کا شکار ہے کشمیرایشوپر جماعت اسلامی کی طرف سے احتجاجی مارچ کے علاوہ خاموشی ہے وہ بھی ماضی کے مقابلے میں اپنے بیانیہ میں مصلحت کا شکار ہے ایسے میں کشمیری مسلمانوں کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اللہ کی مدد سے 1947 ء میں جس جذبے سے جہاد کے لیے نکلے تھے اٹھ کھڑے ہوں۔انقلابی حکومت کا کردار ادا کیا جاے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے پاس تو اب کوئی اور آپشن نہیں ہے قربانیوں کی تاریخ رقم کرچکے ہیں اب آخری سانس تک لڑنے کہ سواء کوئی چارہ نہیں ہے دنیا بہری،گنگی،اندھی اور نابنیا ہوچکی ہے مسلمان ممالک کے حکمران یہودیوں کے ایجنڈ بن چکے ہیں اور پاکستان کے حکمران جنہوں نے وکیل کا کردار ادا کرنا تھا وہ بھی اپنا کردار ادا نہیں کررہے ایسے مشکل حالات میں آزادکشمیر کے عوام جھنوں نے سینتالیس میں نمایاں کردار ادا کیا تھا ان کا ظلم کے خلاف خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے اس لیے بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمرانوں کو جگانے کا اہتمام بھی ہونا چاہیے اور اس جہاد میں اپنے حصے کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے حکومت پاکستان اور اپوزیشن کا بیانیہ اقتدار ہے یہ اقتدارکے پجاری ہیں یہ صرف جماعتیں بدلتے ہیں چہرے وہی ہیں ان کا کام عوام کو بے وقوف بنانا ہے جس کے لیے یہ جھوٹے وعدے اور اعلانات کرتے ہیں اور پھر وعدوں اور اعلانات سے روگردانی کرنے کو یوٹرن سے موسوم کرتے ہیں



قوم کا شاندار مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے


قوم کا شاندار مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے شفقت ضیاء تعلیم ایک ایسی روشنی ہے جس سے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ عرب کے اندھیروں میں اوجالا دنیا نے دیکھا جاہل اور بد بودار معاشرے سے خوشبو ایسی پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے چار سو معطر ہو گئی جب تک تعلیم سے رشتہ مضبوط رہا مسلمان دنیا میں امام رہے اس نور سے ہر قوم نے فائدہ اٹھایاپھر اپنوں اور غیروں کی سازشوں نے علم سے دور کیازلت وپستی مقدر بنی قوم کے بجائے ہجوم بنتے گئے۔ 72سال گزر جانے کے باوجود جو پاکستان نظریے کی بنیاد پر بنا تھا جسے دنیا کی امامت کرنی تھی یکساں تعلیمی نظام نہ دے سکا آج امیروں کے لیے الگ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جہاں بھاری بھرکم فیسیں ہیں آکسفورڈ کا نصاب ہے ایک پلے گروپ کے طالب علم کی فیس سے کہیں گھروں کا ماہانہ نظام چلتا ہے دوسری طرف سرکاری سکولز ہیں جو غریبوں کے بچوں کے لیے ہیں جس میں کوئی معیار نہیں اور نہ ہی کسی کی دلچسپی ہے جبکہ تیسرا نظام تعلیم مدارس میں پڑھایا جاتا ہے یوں حکمران ہمیشہ دعوے کرتے ہوئے آتے ہیں اور کچھ کیے بغیر اپنا وقت پورا کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت نے بھی بڑے دعوے اور وعدے کیے تھے لیکن جس طرح دوسرے شعبے میں کچھ نہ ہو سکا اس شعبہ میں بھی سمت درست نہ ہو سکی وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں یونیورسٹیاں بنانا تو دور رہا اب یونیورسٹیوں میں نئی پالیسی سے بھاری فیسیں ادا کرنا غریب طالب علم کے بس کا رو گ نہیں رہا۔ آنے والے عرصے میں تعلیم حاصل کرنا خواب بن رہا ہے نصاب تعلیم تبدیلی تو دور کی بات اب ایسا کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے جو مغربی ہے جس میں فحاشی عریانی ہے،جس سے ملک مزید تبائی کی طرف جائے گا جس میں میڈٰیابھی خوب کردار ادا کر رہا ہے ایسے میں سنجیدہ حلقوں کو سنجیدگی سے غورکرنا ہو گا آزاد کشمیر چھوٹا سا خطہ ہے جس کا کلچر روایات اچھی ہیں۔ جس کا تعلیمی تناسب 77فیصد ہے۔جو پاکستان سے بہت اچھا ہے 6ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارہ جات ہیں لیکن سرکاری اداروں کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ادارے تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں غریبوں کے بچوں کو بہتر تعلیم میسر نہ ہونے سے طبقاتی نظام بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے نصاب اور معیار تعلیم پر توجہ نہیں دی بلکہ میرٹ کو بری طرح پامال کیا جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تبائی آئی قومی خزانے کا زیادہ حصہ شعبہ تعلیم پر لگنے کے باوجود نتائج اچھے نہیں آرہے ہیں۔جس پر حکومتیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں دکھاتیں موجودہ حکومت کی طرف سے چند اچھے اقدامات اٹھائے گے ہیں جس میں ا ین ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ نمایاں ہے گو کہ اس میں بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے تاہم ماضی کے مقابلے میں بہتری آئی ہے لیکن گزشتہ دنوں پی ایس ای ممبران کی طرف سے مدت ختم ہونے پر جاتے جاتے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے والی خبر کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنہ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اسی طرح این ٹی ایس کے جو دس نمبرات ہیں اس کی وجہ سے آئے روز ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جس سے میرٹ میں بڑی تبدیلی لائی جاتی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہوگیا ہے جس پر حکومت کو نوٹس لیتے ہوئے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ان نمبرا ت کو تعلیمی کئیریر میں بدلینا چاہیے۔ اساتذہ تعلیم جیسے مقدس شعبہ سے وابستہ ہیں جو انبیاء کا پیشہ ہے حضورﷺ کا فرمان عالی شان ہے مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے اس لیے اس کا پاس رکھنا چاہیے کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت کو اساتذہ حاضری نہ ہونے ٹھیکہ سسٹم ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک مشینیں لگانی پڑی ہیں تاکہ حاضری یقینی بنائی جاسکے پھر اس سے بھی بڑا ظلم یہ کہ کچھ سکولوں میں ان مشینوں کو خراب کردیا گیا تھا تاکہ حاضری سے جان چھوٹ جائے اور گھر بیٹھ کر حرام کھایا جائے انھیں محض چند ہزار کے جرمانے کرنے کا حکومتی اقدام بھی درست نہیں ہے انھیں ملازمت سے فارغ کیا جانا چاہیے جنہوں نے جان بوجھ کر ایساکیا ہے یہی محدود سے ایسا طبقہ ہے جواس مقدس شعبہ کو بدنام کررہا ہے۔یہی تعلیمی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حکومت نے ایسے تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جن میں مطلوبہ تعداد نہیں ہے اس طرح سب سے اہم اقدام جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کے نمایاں امکانات ہیں وہ ملازمین کے بچوں کی سرکاری تعلیمی اداروں میں لازمی تعلیم ہے جس پر اساتذہ تنظیموں کی طرف سے احتجاج کی دھمکی بھی آئی تھی اور مذاکرات کی بات بھی سامنے آئی تھی حکومت کو اس پر کسی صورت گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہیے یہ ایسا اقدام ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی کامیابی کا انحصار ہے ماضی میں بھی حکومتیں احتجاجی دھمکیوں،ووٹ سے محرومی کے خوف کی وجہ سے ایسے اقدامات سے گریز کرتی رہی ہیں جس کا نتیجہ سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے اب یا کھبی نہیں کی صورتحال ہے حکومت کو اس پر ہر صورت عملدرآمد کراناچاہیے۔ بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں سرکاری اساتذہ کرام کے بچوں کی تعلیم حاصل کر نے کے اعلان پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے بلکہ اگلے مرحلے میں تمام سرکاری ملازمین کو بھی پاپند کیا جانا چاہیے جب اساتذہ کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں آجائیں گے تو پھر معیار بہتر ہوجائے گا بلکہ آنے والے وقتوں میں سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ ملنا مشکل ہوجائے گا کون پاگل ہوگا؟جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھاری فیس دے گا اگر وہی معیاری تعلیم سرکاری اداروں میں ملے گی موجودہ وقت میں آزادکشمیر میں بعض سرکاری کالجز ایسے ہیں جن میں بچوں کو داخلہ ملنا مشکل ہوگیا ہے ان کالجز میں کیپٹن حسین شہید کالج راولاکوٹ بھی شامل ہے جس کی ماڈل کلاس میں ایک ہزار سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو داخلہ ملتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کام کیا جائے تو بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں سٹاف کی قلت کی شکایات ہیں بعض تعلیمی اداروں کی بلڈنگ نہیں ہیں پرائمری سکول میں پچیس طلبہ تک کو ایک استاد دینا بھی درست نہیں چونکہ مختلف کلاسز کے بچے ہوتے ہیں ایک معلم حق ادا نہیں کرسکتا کم ازکم دومعلم ہونے چاہیے سرکاری تعلیمی اداروں میں لیب اور لائبریریوں پر بھی توجہ درکار ہے پرائمری سکولز میں اگر اچھی تعلیم یافتہ معلمات تعینات کی جائیں توبہتری آئے گی بعض تعلیمی اداروں کے پاس کھیل کے میدان بھی نہیں ہیں جوا ٓج کی بڑی ضرورت ہیں صحت مندسرگرمیوں کے لیے سہولتیں دی جائیں اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں جو سہولتوں کی کمی ہے اسے پورا کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی پر سختی سے عملدرآمدکرادیا گیا تو چند سال میں نقشہ بدل جائے گا اس کے ساتھ ہی حکومت کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام رکھناچاہیے چھوٹی چھوٹی دکانوں میں ادارے بن چکے ہیں معمولی تنخواہ پر کم تعلیم یافتہ ناتجربہ کار ٹیچرز بھرتی کی ہوئی ہیں لیب،لائبریوں اور کھیلوں کے میدان بہت کم پرائیویٹ اداروں کے پاس ہیں اسی طرح جس طرح کا کلچر دیا جارہا ہے اس پر سنجیدگی سے مل بیٹھ کر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا مجموعی طور پر بہت اچھا اور اہم کردار ہے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے اور جو کمیاں ہیں انھیں دور کیا جانا چاہیے۔قوم کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے ہر باشعور فرد کو اس میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی اسے لازمی قرار دیا جانا چاہیے جو قرآنی تعلیم سے واقفیت رکھتے ہوں جن حالات سے ہماری نسل نو گزررہی ہے اس میں قرآنی تعلیم انتہائی ناگزیر ہوچکی ہے حکومت آزادکشمیر ان تعلیمی پالیسیوں پر عملد رآمد کرالیتی ہے تو قوم کا مستقبل شاندار ہے اور نیک نامی دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ان سب لوگوں کو اجر ملے گا



طاقتور بچاؤ


طاقتور بچاؤ شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے کے لیے انبیاء علیہ الصلوۃ واسلام بھیجے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت لے کر آتے رہے آخر میں حضرت محمد ﷺ قرآن کی صورت میں اپنی کتاب ہدایت لے کر آئے جو رہتی دنیا تک راہ نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر، فاسق اور ظالم ہیں گویا اللہ کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کراپنے یا دوسرے انسانوں کے بتائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرنے والے دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کا اطلاق گھر سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک ہر صاحب حیثیت کے فیصلوں پر ہوتا ہے ملک پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا اس کا قانون قرآن و سنت کو سپریم کہتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس عدل ا نصاف والے نظام کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا جا سکا۔ جس کی وجہ طاقتور اور امیرکی طرف سے رکاوٹیں ہیں چونکہ اسلام سب کو مساوی حقوق دیتا ہے اسلامی نظام ہو تو طاقتور کو بھی جرم پر وہی سزا ملے گی جو کمزور کو ملے گی تاکہ کوئی امیر مال کے زور پر انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ اس عدل والے نظام کو نافذ کرنے کے بجائے اس کے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا ہے اگر کبھی کسی طاقتور کے خلاف فیصلہ آبھی جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے اور سارے جرائم پیشہ اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں جب غریب انصاف کے لیے ساری زندگی دھکے کھانے پر مجبور ہوتا ہے اپنی خون پسینے کی کمائی اور وقت سب کچھ لگا دینے کے باوجود اس زندگی میں انصاف حاصل نہیں کرپاتا یہ ظلم کا نظام ہے جس میں غریب اور مظلوم لوگوں کی آہیں اور سسکیاں آسمانوں تک جاتی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ظالم پکڑ میں آجاتے ہیں اور ان کی چیخیں دیدنی ہوتی ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی ہے اصل حصہ آخرت میں ہوتا ہے جہاں کوئی بھی ظالم بچ نہ پائے گا پاکستا ن اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے جو کلمے کی بنیاد پر وجود میں آیا آج ہندوستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر یہ وجود میں آیا تھا وہ اس وقت کی قیادت کی دور اندیشی کا ثبوت ہے لیکن اگر پاکستان حقیقی اسلامی جمہوری پاکستان بن جاتا تو ساری دنیا کے مظلوم و محکوم عوام کو طاقت حاصل ہوتی،کشمیر میں ہونے والے مظالم پر یوں خاموشی نہ ہوتی جس کے باشندے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں سے نجات دلائی جائے لیکن دنیا خاموش ہے اور پاکستان کے حکمران بھی ان کے لیے کچھ کرنے کے بجائے اپنے اقتدار میں مگن ہیں ان مظلوموں کی بد دعائیں اور شہداء کے مقدس خون سے غداری کرنے والے اپنے انجام کوکچھ پہنچ چکے ہیں اور باقی بھی پہنچیں گے جنرل مشرف کو آئین توڑنے کے سنگین غداری کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے جس میں ایک طاقتور شخص کو سزاد ی گئی ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان جب اپوزیشن میں ہوتے تھے کہتے تھے دو نہیں ایک پاکستان بنائیں گے جس میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو گا۔جنرل مشرف نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے ان پر سیدھا آرٹیکل 6 لگتا ہے جس کی سزا پھانسی ہے آج جب عدالت نے فیصلہ دے دیا تو تحریک انصاف کی حکومت طاقتور کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے یہ ایسی حکومت ہے جس کے وزراء کی بڑی تعداد انہی لوگوں پر مشتمل ہے جو ماضی میں مشرف حکومت کا بھی حصہ رہے اس لیے وہ سارے لوٹے بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں قانون کو ان کے خلاف بھی حرکت میں آئے گا؟ کیا ان کی طرف سے توہین عدالت نہیں ہو رہی؟ یہ تو ایک چیف جسٹس کے دماغ پر سوالات اٹھا رہے ہیں اس لیے کہ شاید اتنا بڑا فیصلہ یا تو کوئی بڑے دل والا دے سکتا ہے یا دماغ میں کوئی مسئلہ ہو۔ جو بھی ہو حکومت کی طرف سے کھل کر سامنے آنے کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان نے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے کل تک چیف جسٹس پاکستان کو یہ کہنے والے کہ طاقتور کو قانون کچھ نہیں کہتا آج کہتے ہیں منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا جائے تو درست فیصلہ ہے اس لیے مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں جشن مناتے ہیں اور ڈکٹیٹر کے خلاف فیصلہ سے حکومت تکلیف محسوس کرتی ہے ایسا کیوں ہے؟ ماضی میں منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی قتل کر دیا گیا اس وقت بھی سیاستدان یا تو خاموش رہے یا جشن مناتے رہے لیکن ایک ایسے شخص کو سزا ملنے پر جس نے آئین وقانون ہی نہیں توڑا کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچایا مسجدوں کو تالے لگائے قوم کی ان بیٹیوں کو طاقت کے بل بوتے پر جلا کر رکھ دیا جو دین کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ ملک کو سیکولر بنانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے جو اتاترک کو اپناآئیڈیل سمجھتا تھا جس کے بارے میں جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ اس نے ملک او ر قوم کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا۔ملک میں دو بار مارشل لاء۔ جامعہ حفصہ میں ظلم کیا، عافیہ صدیقی کو دشمن کے حوالے کیا، اکبر بکٹی کو قتل کیا، 12مئی کو درجنوں افراد قتل ہوئے اور کئی جرائم ہیں جوناقابل معافی ہیں تا ہم یہ بات بھی درست ہے کہ اس کے ساتھ شریک دیگر لوگوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارا عدالتی نظام اور فیصلوں پر بھی کئی سوالات ہیں۔ ڈکٹیٹر کو تحفظ دینے والے اور ان کو قانونی جواز فراہم کرنے والے بھی بری الذمہ نہیں ہیں۔ یوں ماضی میں ہر ایک پر چپٹے نظر آتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضٰی میں سبق سے سیکھا جائے، تمام ادارے اپنا اپنا احتساب کریں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ ان سے دور رہنے کا عزم کریں اور ہر ایک اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو اس طرح کے مسائل نہیں ہو ں گے۔ سب سے بڑھ کر ملک کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ نظام نافذ کیا جائے جب تک اسلام کا عادلانہ نظام نفاذ نہیں ہو گا افراتفری رہی ہے ملک اور قومیں انصاف سے چلتی ہیں۔ محسن انسانیت نے فرما یا ہے۔" تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں اور کمزور کو پکڑ دیتی تھیں۔ آپ ﷺ نے عملاً ایسا نظام لا کر بھی دنیا کو دیکھایا۔ صحابہ کرام ؓ کے دور میں غیر مسلم کو بھی انصاف ملتا تھا اور کہی فیصلے مسلم کے خلاف بھی ہوئے اس لیے مدینے کی ریاست کی باتیں کرنا تو آسان ہے لیکن عملاً وقت آنے پر ثبوت بھی دینا پڑتا ہے۔ طاقتور کے خلاف فیصلہ آنے پر سبق سیکھنا چاہیے،۔ ظلم نا انصافی کے اس نظام کے خاتمہ اور مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دے کر ہی نجات مل سکتی ہے ورنہ جنرل مشرف بھی بہت طاقتور ہوتا تھا تکبر اور غرور آخر مٹ جاتا ہے۔



ریاستی جماعتوں کا مستقبل


ریاستی جماعتوں کا مستقبل شفقت ضیاء ملک کی سیاست ہی نہیں تمام شعبہ زندگی زوال پذیرہیں جس کی وجہ سمت کا درست نہ ہو نا ہے ملک بنا تھا کہ اس کا نظام اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گا آئین بھی اسی کی بات کرتا ہے مگر عملاًکوئی بھی شعبہ اس کے مطابق نہیں ہے نظام تعلیم 72سال گزر جانے کے باوجود نہ یکساں ہو سکا اور نہ سمت کا تعین ہو سکا کہ ہم کیسی قوم تیارکرنا چاہتے ہیں امیرروز بروز امیر اور غریب، غریب تر ہو رہا ہے طاقتور اپنی طاقت اور سرمائے سے سب کچھ حاصل کرلیتا ہے اور غریب انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہے گزشتہ دنوں ڈبل گریجویٹس نے جس طرح ہسپتال پر حملہ کر کے اپنی تعلیم اور قانون کا مذاق بنایا اس سے ہر سنجیدہ اور پڑھے لکھے انسان کا سر شرم سے جھک گیا لیکن ان ماہرین قانون کی دیددلیری کا یہ حال کہ انہوں نے ان کالے کوٹوں والوں کے کالے کرتوتوں کی مزمت کرنے کے بجائے ان کے حق میں ہڑتال کا اعلان کر دیا جس سے ثابت ہوا کہ کس قدر پستی میں گر چکے ہیں۔ سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے لیے لال لال مظاہروں کے ساتھ ہی اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادکو ایک نوجوان کے خون سے لال لال کر دیا گیا جس نے ثابت کیا کہ سٹوڈنٹ یونین بحالی نہیں مقاصد کچھ اور ہیں ورنہ ایسی صورت میں کیسے یونین بحالی کا رسک لیا جا سکتا ہے۔سیاسی جماعتیں بہتر قانون سازی اور اچھی جمہوری روایت دینے میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں سرمایا دار طبقہ سیاسی جماعتوں پر قابض ہو تا جا رہا ہے پاکستان میں اقتدار میں آنے والی بڑی سیاسی جماعتوں نے آزادکشمیر میں بھی اپنے پنجے مضبوط کرنے کے لیے نہ صرف جماعتیں بنائی بلکہ ان کو سپورٹ کرتے ہوئے اقتدار میں لاتے رہے۔ پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی حکومت رہی آزادکشمیر کے انتخابات میں وہی کامیاب کرائی جاتی رہی جس کی وجہ سے ریاستی جماعتیں مضبوط نہ ہو سکی۔ اس میں زیادہ قصور آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کا بھی رہا ہے۔جو اقتدار کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار پائی گئی ہیں۔ مسلم کانفرنس مضبوط تاریخی سیاسی جماعت تھی جسے پاکستان سے مسلم لیگ کی حمایت حاصل رہی سردار عبدالقیو م مرحوم نے تو ایک عرصے تک جماعت اسلامی کو بھی آزادکشمیر میں نہیں بننے دیا کہ ہم یہی کام کررہے ہیں اور مسلم لیگ ن تو مسلم کانفرنس کو ہی اپنی جماعت سمجھتی رہی لیکن سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے بعد جماعت میں اختلافات بڑھتے گئے۔ سردار عتیق جو اپنے والد کے دور سے ہی سیاست میں پوری طرح اترے ہوئے تھے بلکہ اقتدار کے دور میں خوب قبضہ جمائے رکھا والد کی صحبت اور سیاسی تربیت کی وجہ سے سیاسی باریکیوں کو سمجھنے کے باوجودانا اور اقتدار کی لالچ کے باعث جماعت کو بچا نہ پائے۔ نواز شریف کے مشکل وقت میں ڈکٹیٹر مشرف سے قربت اور ملٹی ڈیموکریسی جیسے فلسفے پیش کیے جاتے رہے تا ہم اپنی تمام تر چالاکیوں اور سیاسی چالوں کے با وجود مسلم کانفرنس کو نہ بچا سکے اور آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن بن گئی جو آج بر سر اقتدار ہے اور ریاستی جماعت مسلم کانفرنس دو سیٹو ں پر آکر ٹھہری ہے اس کی وجہ جماعت میں انتخابات نہ کرانا اقتدار اور پارٹی قیادت اپنے ہی پاس رکھنا ہے سردار عتیق سے جتنا اختلاف بھی کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ آزادکشمیر کی لیڈر شپ میں بہترسیاسی بصیرت، سمجھ بوجھ، معاملہ فہم اور پاکستان میں اچھے تعلقات رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال کامیاب نہیں ہو سکے اور مستقبل میں بھی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آرہی ایسے میں دیگر ریاستی جماعتوں کے مستقبل کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جماعت اسلامی آزادکشمیر کبھی بھی پارلیمانی سیاسی میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی حالانکہ اس کے اندر جمہوریت پائی جاتی ہے اس کی قیادت تبدیل ہوتی رہی ہے قابل با صلاحیت قیادت اور منظم جماعت کے ساتھ عوام کی خدمت کے کاموں کے باجود مقبول نہ ہو سکی۔ جس کی وجہ اس کی سیاسی حکمت عملی اور سیاست میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے اختلاف کے بعد سردار خالد ابراہیم خان نے 1990میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی بنائی بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں یہ خطہ آزاد ہوا ان کے فرزند جو خود انتہائی با کردار انسان تھے جن کی جمہوریت اور میرٹ کے لیے بڑی قربانیاں تھیں جو اپنے آپ کو پہلے پاکستانی اور پھر کشمیری کہتے تھے پاکستان میں اچھے تعلقات بھی تھے تحریک آزادی کشمیر میں قربانیاں دینے والے خاندان کے اس بیٹے کی ریاستی جماعت دو حلقوں تک محدود رہی۔بلکہ اب عملاً ایک حلقے تک محدود ہو چکی ہے سردار خالد ابراہیم کا سیاست میں منفرد مقام تھا ان کی صاف ستھری سیاست کے ان کے مخالفین بھی متراف تھے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بھی جمہوریت رکھی اور تسلسل سے انتخابات ہوتے رہے آپ خود کئی بار امیدوار نہ بنے جس کی وجہ سے دیگر لوگو ں کو بھی موقع ملتا رہا انتخابات کے نتیجہ میں آپ کی جماعت کو نقصان بھی ہوتا رہا کئی لوگ جماعت سے نکل گئے لیکن آپ نے اس جمہوری تسلسل کو بند نہیں ہو نے دیا۔ خالد ابراہیم موروثی سیاست کے حق میں نہیں تھے تا ہم اپنے شوق اور جدوجہد سے آگے بڑھنے کے مخالف بھی نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے زندگی میں کبھی اپنی اولاد کو آگے نہیں لایا بلکہ آپ کی وفات تک اکثر لوگ تو ان کی اولاد کے ناموں تک سے واقف نہ تھے خالد ابراہیم کی وفات کے بعد ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ان کے بیٹوں کے نام سامنے آئے اور ایک بیٹے کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کا فیصلہ شاید ان کی اہلیہ نے کیا ہے۔جو وقت اور حالات کے مطابق درست تھا جس کے نتیجے میں خالد ابراہیم کی ہمدردی اور دیگر سیاسی جماعتو ں کی حمائت سے حسن ابراہیم کا میاب ہو گئے اور حاجی یعقوب جیسا مضبوط امیدوار شکست سے دوچار ہوا۔ خالد ابراہیم کی وفات کے بعد دوسرا مرحلہ پارٹی انتخاب کا آیا تو پارٹی نے مرکزی رہنما نبیلہ ارشاد جو خالد ابراہیم کے ساتھ جنرل سیکرٹری بھی رہ چکی تھیں جیسی متحرک کارکن کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کے نام پر پارٹی رکنیت سے فارغ کر دیا جس کے نتیجے میں حسن ابراہیم تو بلا مقابلہ پارٹی صدر بن گئے لیکن نبیلہ ارشاد نے اپنی الگ پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا جو اُن کی غلط فہمی ہے یا کسی کا مشورہ لیکن پارٹی بنانا تو آسان کا م ہے چلانا خالہ جی کا گھر نہیں تاہم پارٹی کو ایک بڑا نقصان ضرورہوگا۔ بدقسمتی سے ایک اور ریاستی جماعت جو خالد ابراہیم کی وفات سے مشکل میں تھی ایک اور جھٹکے سے دوچار ہو گئی ہے اس موقع پر پارٹی کی سینئر قیادت کو ذمہ دار ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کو بچانا چاہیے تھا اور حلقے کی قیادت کے ساتھ پارٹی قیادت کا بوجھ حسن ابراہیم پر نہ ڈالا جاتا تو پارٹی کے لیے زیادہ بہتر ہو تا۔ اس کے اثرات کیا ہوں گئے آنے والا وقت ہی بتائے گا تا ہم لگتا نہیں کہ یہ جماعت اب اپنے آپ کو سنھبال سکے گئی



طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات


طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات تحریرشفقت ضیاء اسلامی جمہوریہ پاکستان بدقسمتی سے 72 سالوں میں نہ اسلامی بن سکا اور نہ ہی جمہوری،ملک میں سب سے زیادہ عرصہ ڈکٹیٹروں کی حکومت رہی جس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر بھی پڑے،کسی بھی بڑی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے موروثیت اور سرمایہ داری کا راج ہے چند خاندانوں اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں میں سیاست آگئی ہے اسلامی نظام اور حقیقی جموریت کے خلاف ان سب کا اتحاد ہے نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے ملک کا باصلاحیت پڑھا لکھا طبقہ اب سیاست سے دور ہوتاجارہا ہے سرمائے کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس کے لیے ناجائز طریقہ سے دولت جمع کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کھبی ڈکٹیٹر کے ساتھ ہوتے ہیں اور کبھی جمہوری حکومتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ان کی قابلیت خاندان،برادری اور سرمایہ ہے جس کے زور میں یہ لوٹے کامیاب ہوجاتے ہیں۔جب نظریاتی،سیاست ختم ہوجاتی ہے اور پارٹیوں کے اندر بھی جموریت نہیں رہتی تو نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔ جمہوریت کی نرسری طلبہ یونین پر ڈکٹیٹر کے دور میں پاپندیاں لگائی گئی ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف تحریک میں طلبہ کا اہم کردار تھا جس نے دوسال کے اندر استعفیٰ دینے مجبور کردیا تھا یہی وجہ تھی کہ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے خوف محسوس کرتے ہوئے طلبہ یونین پر پاپندی لگا دی کہ کوئی منظم تحریک نہ چل سکے اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی قیادت پیراشوٹ کے ذریعے آنا شروع ہوگئی جو لوگ نرسری سے تیار ہوکر آتے تھے ان کی جگہ سرمائے نے لے لی جس کی وجہ سے کرپشن نے راستے بنا دیے طلبہ یونین کی یہ پاپندی ڈکٹیٹرکے دور میں تو سمجھ آتی ہے لیکن ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے دور میں کیوں رہی؟ اعلانات کے باوجود پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں اسے بحال کیوں نہیں کیا؟مسلم لیگ ن تو کبھی اس کی حامی نظر نہیں آئی بلکہ غیر محسوس انداز میں اس کے خلاف رہی ہے جبکہ تحریک انصاف کو ابھی پندرہ ماہ ہوئے ہیں اس کا تو کوئی قصور نہیں ہے تقریباً 35 سال سے اس پر پاپندی کے باوجود جمہوری حکومتوں کے دور میں بھی طلبہ یونین کی پاپندی کے خلاف کوئی بھر پورآواز نہ بلند ہوسکی،جوآواز بلند بھی ہوئی اس کو میڈیا نے کوئی لفٹ نہ کرائی،شاید وہ رنگ پسند نہیں تھایا رنگین نہیں تھی اچانک یہ سرخ سرخ سڑکوں پر کہاں سے آئے اور کون لایا؟طلبہ یکجہتی مارچ جو طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر تھا اس میں اداروں کے خلاف نعرے کیسے جمہوری تھے؟طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر غیر جمہوری اور غیر مناسب زبان استعمال کرنے پر حکومت حرکت میں آئی تو بلاول بھٹو اور احسن اقبال کو کیوں تکلیف ہوئی ہے؟نظریات کا پرچار کرنا ہرا یک کا حق ہے کوئی سرخ انقلاب کی بات کرے یا سبز کی۔یہ الگ بات ہے سرخ انقلاب ماسکو میں د فن ہوچکا ہے لیکن جس انداز میں یہ احتجاج کیا گیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ یونین بحالی کے بجائے پاپندی کو طول دینے کاکوئی اور ہی منصوبہ ہے ورنہ یونین کی بحالی تک ہی محدود رہنا چاہیے تھا،سیاسی جماعتوں کو اس طرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرنی چاہیے،بلخصوص وہ سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں رہی ہیں ان کو تو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ یونین کی بحالی کی بات کریں انھیں پہلے معافی مانگنی چاہیے کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں طلبہ یونین کو بحال نہیں کیا اب نظریاتی اور جمہوری بننے کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے کندھے سے فائر کیا جائے،اس کے باوجود تحریک انصاف حکومت جس کو نوجوانوں کی زیادہ حمایت بھی حاصل ہے اسے یونین بحال کردینی چاہیے لیکن اس کے لیے سخت ضابطہ اخلاق بھی بناناچاہیے ماضی میں طلبہ یونین کی بحالی سے نقصانات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی جماعتیں انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں کالجوں،یونیورسٹیوں میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے جس سے تشدد جنم لیتا ہے اچھے جمہوری اور پرامن ماحول سے ہی مثبت نتائج آسکتے ہیں،ماضی میں طلبہ یونین سے بہترین قیادت تیار ہوئی جو آج بھی پاکستان اور آزادکشمیر میں نمایاں نظر آتی ہے لیکن منفی پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں ہے، طلبہ کو جمہوری حق دینے کے ساتھ منفی سرگرمیوں کی روک تھام بھی ضروری ہے، آزادکشمیر حکومت کی طرف سے یونین بحالی کااعلان احسن اقدام ہے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے یہاں کا سیاسی ماحول بھی بہتر ہے اور رواداری باہم عزت واحترام بھی پایہ جاتا ہے تاہم سیاسی جماعتوں کی مداخلت تعلیمی اداروں میں نہیں ہونی چاہیے۔ہر طرح کی مداخلت کا دروازہ بند رہنا چاہیے اور ایسا ضابطہ اخلاق بننا ضروری ہے جس سے تعلیمی حرج بھی نہ ہے اور تعلیمی اداروں میں تشدد بھی نہ آئے ماضی میں جو خامیاں تھیں ان کو دور کرتے ہوئے یونینز کی بحالی سے اچھی قیادت سامنے آنے کا موقع ملے گا جو اس وقت کی بڑی ضرورت ہے بدقسمتی سے طلبہ یونین پر پاپندی سے سیاسی جماعتوں میں پڑھی لکھی باصلاحیت قیادت سامنے نہیں آرہی ہے اس کے لیے طلبہ تنظیموں کو بھی بہت محنت کرنی پڑے گی ایک طویل عرصے سے پاپندی کی وجہ سے اچھا صحت مند ماحول پیدا کرنا آسان کام نہیں ہے جس طرح سیاسی کلچر بن چکا ہے اسے خٹم کرکے محنت اور صلاحیت کی حوصلہ افزائی اور چوردروازوں کو بند کرنا ہوگا۔ وزیراعظم فاروق حیدر نے الیکشن سے قبل کامیابی کے بعد چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوسکا بارہا اعلانات کے باوجود بلدیاتی انتخابات اورسٹوڈنٹس یونین کی بحالی نہ ہوسکی تو اس کا نقصان مسلم لیگ ن کو بہت ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے بلکہ اچھا وقت ہے کہ آپ بلدیاتی انتخابات کراکرآئندہ کے لیے اپنے لیے سیاسی میدان ہموار کریں بلدیاتی انتخابات اور سٹوڈنٹس یونین ہی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی نرسریاں ہیں اگر یہ مضبوط ہوں گی تو جمہوریت مستحکم ہوگی ڈکٹیٹروں کو اس کا خوف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جمہوری حکومتوں کو اس سے کیا خوف ہے سمجھ سے بالا ہے کیا سیاسی جماعتوں کے اندر ڈکٹیٹر شپ موروثیت اور سب سے بڑھ کر سرمایہ داروں نے قبضہ کرلیا ہے اگر ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تو سٹوڈنٹس یونین بحال اور بلدیاتی انتخابات جلد ہونے چاہیے۔



مسخرہ حکومت سے مایوسی


مسخرہ حکومت سے مایوسی شفقت ضیاء محسن انسانیتﷺ نے فرمایا:منافق کی تین نشانیاں ہیں جب وہ بات کرتا ہے جھوٹ بولتاہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اسے کوئی امانت دی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹے پر لعنت فرمائی ہے جس پر اللہ لعنت فرما دے اس سے خیر کیسے نکل سکتی ہے۔ بد قسمتی سے منافقت تیزی سے پھیل رہی ہے سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے جو تباہی کی علامت ہے۔ اس کی بڑی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے دنیا کے سب سے بڑ ے رہنما حضرت محمد ﷺ کے دشمن بھی یہ مانتے تھے کہ آپ ﷺ سچے ہیں یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ نے ایسے لوگ تیار کیے جو سچے، کھرے اور صاف ستھرے کردار کے مالک تھے دشمن بھی ان کے معترف تھے لیکن جب قیادت منافقین کے ہاتھوں میں آئی تو ذلت خواری مقدر بنی۔ جمہوریت میں عوام کے ووٹوں سے حکومت منتخب ہوتی ہے، سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے اپنا پروگرام رکھتی ہیں جس کو دیکھتے ہوئے عوام اپنا ووٹ استعما ل کر تے ہیں بد قسمتی سے سیاسی جماعتوں کی قیادت عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے جھوٹے وعدے، اعلانات اور دعوے کرتی ہیں جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ عوام کا سیاسی رہنماؤں پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے جو نیک شگون نہیں ہے اس لیے سیاسی قیادت کو عوام میں معتبر ہونے کے لیے سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ بقول شاعر: جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو فراز آدمی کو صاحب کردارہونا چاہیے گزشتہ دنوں نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر عمران خان سمیت قیادت نے اپنی باتوں سے یو ٹرن لیا ایسے میں پی ٹی آئی حکومت کے غیر مسلم ممبر اسمبلی رمیش کما ر اور وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اپنی با ت پر ڈٹے رہے جس سے ثابت ہوا کہ صاحب کردار بھی موجود ہیں۔ ابھی نواز شریف کی بیماری کا موضوع ختم نہیں ہوا تھا کہ حکومت نے سابق ڈکٹیٹرمشرف کے خلاف اپنے بیانیے سے یوٹرن لے لیا۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو کہتے تھے کہ مشرف نے آئین توڑا ہے یہ ملک کا سب سے بڑا مجرم ہے، حکومت ایسے مجرم کو عبرت کا نشان بنائے تا کہ آئندہ کسی کو قانون توڑنے کی جرأت نہ ہو چند روز پہلے سپریم کورٹ کے معزز ججز کو کہتے تھے کہ طاقتور کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے آج ایک طاقتور کے لیے خود میدان میں آگئے اور خصوصی عدالت نے جو فیصلہ محفوظ کیا ہو ا تھا اسے ہائی کورٹ کے ذریعے رکوا دیا،جس سے ثابت ہو ا کہ آپ جو دو نہیں ایک پاکستان کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ عوام کو بے وقوف بنانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ اقتدار کے لیے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتے تھے۔ آپ اقتدار میں ہیں تو وہ سارے لوگ جو کل ڈکٹیٹر مشرف کے ساتھ تھے وہ آپ کی کابینہ میں شامل ہیں جس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، الطاف حسین کو سب سے بڑا لیڈر کہنے ولا وکیل آج آپ کا وزیر قانون ہے، اسی طرح وہ لوگ جنہیں چور ڈاکو کہتے آپ تھکتے نہیں تھے آج وہ سب آپ کے ساتھ ہیں جو چور کل آپ کو قبول نہیں تھے آج اقتدار کے لیے سب قبول ہیں۔کل تک جو سب سے بڑ اڈاکو تھا نا اہل نا لائق تھا آج وہ آپ کی آنکھوں کا تارا ہے۔ اقتدار سب کی طرح آپ کو بھی عزیز ہے اور اس کی خاطر آپ بھی سارے اصولوں دعوؤں سے یوٹرن لینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ کردارنئے آتے جا رہے ہیں ناٹک وہی پرانے چل رہے ہیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع جیسے احساس معاملے میں آپ کی ٹیم نے جس نااہلی اور ناانصافی کا ثبوت دیا اس کے بعد باقی کیا رہتاہے۔ آپ کو 4دفعہ نوٹیفکیشن کرنا پڑا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے یہ تک کہا کہ ان کی ڈگریاں چک کی جائیں جنہوں نے آرمی چیف کو شٹل کاک بنایا ہوا ہے۔ اس سب کے باوجود آپ نے اپنی ٹیم کو تبدیل کرنے اور کارروائی کے بجائے اپوزیشن پر تنقید کی جس کا اس موقع پر مثالی کردار رہا اور ملک دشمن الطاف حسین کو آئیڈیل سمجھنے والے کو دوبارہ وزیر قانون بنا لیا۔ یہ ہے وہ دوہرا معیار جس سے ثابت ہوا کہ کچھ نہیں بدلہ صرف چند چہرے بدلے ہیں۔ آرمی چیف جس نے اتنی نالائق اور نااہل حکومت کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا ورنہ نہ ہی بیرون ملک انہیں کوئی گھاس ڈالتا تھا اور نہ ہی اس صورتحال میں ملک چل سکتا تھا، اس کی مدت ملازمت میں توسیع پرایسا رویہ نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک کی معیشت کا جو حال ہے غریب ہی نہیں متوسط طبقے کی بھی چیخیں نکل گئی ہیں، اوپر سے حکومتی وزراء کے بیانات زخموں پرنمک کا کام کر رہے ہیں۔ ٹماٹر 300روپے ہوتا ہے اور مشیر خزانہ 17روپے بتا تے ہیں اور مشیر محترمہ مٹر 5روپے بتاتی ہیں شہد والے وزیر نے تو یہ تک کہہ دیاقیمتیں بڑھتی ہیں تو ہمارے ہی بھائیوں کو فائدہ ہوتا ہے جبکہ وزیر اطلاعات کے پی کے نے ٹماٹر کی جگہ دہی کے استعمال کا مشورہ دے دیا۔ایک اور با کمال وزیر محترمہ زرتاج گل نے ارشاد فرمایا کہ سموگ دھرنے کی وجہ سے پھیلی ہے ایسی حکومت سے پھر بھی کسی کو یہ امید ہے کہ ملک میں بہتری آئے گی، ایک کروڈ لوگوں کو روزگار ملے گا، مہنگائی کم ہو گی تو یہ حماقت ہی ہو سکتی ہے بقو ل حکومت کے اتحادی شجاعت حسین اگر مزید 6ماہ یہ حکومت رہی تو حکومت لینے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہو گا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان اور ان کی ٹیم دعوے کرتی تھی کہ کرپشن کی وجہ سے لوگ ملک میں سرمایا نہیں بھیج رہے جب ہماری حکومت آئے گی تو ڈالروں کی بارش ہو گی۔کرپشن کے 200 ارب واپس لائیں گے، 100ارب جن کو دینا ہے ان کے منہ پر ماریں گے اور باقی قوم پر خرچ کریں گے۔ وہ روزانہ 10بلین ڈالر کی کرپشن چوروں کے جانے کے بعد ختم ہو گئی تو پھر ملک کی یہ صورتحال کیوں ہے؟ وہ قرضے آئی ایم ایف کے جن کو لینے کے بجائے خود کشی کی باتیں کرتے تھے وہ لینے کے باجود ملک میں تبدیلی کیوں نہیں آئی؟ کل جو غریب 2روٹیاں کھا کر گزار ا کر تا تھا اسے آج ایک روٹی بھی میسر نہیں۔ ا ب تو درمیانے طبقے کو بھی سبزی دال مشکل ہو رہی ہے، کیا اسی تبدیلی کا وعدہ تھا؟ یہی وجہ ہے کہ اب عوام زرداری کے دور سے بھی برے حالات محسوس کر رہے ہیں،اب تو کرکٹ کا بھی برا حال ہو گیا ہے، اس کا تو تجربہ تھا اس میں ہی بہتری آجاتی تو قوم کو چھوٹی سی خوشی مل جاتی۔ حکومت اور کرکٹ کی ٹیم آپ نے مسخرہ بنا دی ہے جس سے عوام کو ہی نہیں لانے والوں کو بھی یقینا مایوسی ہوئی ہو گی۔



ہوا کا رخ بدل رہا ہے


ہوا کا رخ بدل رہا ہے شفقت ضیاء سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بیرون ملک طبی معائنے کیلئے جانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان غصے میں نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ اپوزیشن کے کنٹینر پر دوبارہ آگئے ہیں انہوں نے ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے جبکہ جواب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت آپ نے دی ہائی کورٹ نے تو صرف جزویات طے کیں ہیں اس لیے ذرہ احتیاط سے بات کی جائے۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے سے پہلے حکومت کے میڈیکل بورڈ نے یہ رپورٹ دی تھی کہ ان کی صحت خراب ہے علاج نہ ہو ا تو جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اسی طرح وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے بھی کہا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے ان کو بیرون ملک بھیجناچاہیے خود عمرا ن خان نے کہا کہ میں نے شوکت خانم کے ڈاکٹر کو بھیج کر چک کرایا ہے واقعی ان کی صحت خراب ہے اس لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہیں پھرجب دیکھا کہ اس سے سیاسی نقصان ہو گا تو بونڈ کی شرط لگا دی تا کہ ووٹرز کو مطمئن کر سکیں ہم نے اتنی رقم لے کر انہیں باہر جانے کی اجازت دی ہے جب یہ پتا بھی نہیں چلا اور ہائی کورٹ کے ذریعے انہیں اجازت مل گئی تو پھر آپ نے ان کی صحت پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر حکومتی بورڈ وزیر صحت جو ان ہی کی پارٹی کی ہیں اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سمیت سب نے جھوٹی رپورٹس دی ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔اور اگر اصل بات یہ نہیں ہے کہ بلکہ عوام کے سامنے کیے گے وہ وعدے، دعوے ہیں جن میں سب سے زیادہ زور چوروں کو نہ چھوڑنے کا تھاجب کارکردگی سے عوام مایوس ہیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد مطمئن کرنا اور بھی مشکل سمجھ کر یوٹرن لینا پڑ رہا ہے تو کیا اس سے عوام ایک بار پھر بے وقوف بن سکیں گے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت دے گا تا ہم ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ہاتھ سے جانے کے بعد عمران خان کنفیوذ ہو گے جس کی وجہ سے وہ اس طرح کی تقریریں کر رہے ہیں لیکن ہوا کا رخ بدلہ بدلہ سا لگ رہاہے حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی بدلی سی ہیں۔ نواز شریف کی بیماری پر ان کا موقف کھل کر حکومت کے خلاف آیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا لہجہ بھی بدل گیا ہے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے اب اپوزیشن کے حساب سے نکل کر حکومت کے 15ماہ کے حساب کی طرف جا رہے ہیں جس سے یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ یک طرفہ احتساب ہو رہا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ اب باری عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈرو ں کی آنے والی ہے۔ چیئرمین احتساب اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم حکومت کے لوگوں کا اس لیے احتساب نہیں کررہے کہ اس سے حکومت چند دن بھی نہیں رہ سکے گی اب یہ تبدیلی کیسے آگئی ہے؟ یہ ہوا کا رخ تبدیل کیسے ہو رہا ہے اس کے پیچھے کون ہے؟ یقینا اس کے پیچھے وہی ہوں گے جنہوں نے پہلے ہوا چلائی تھی۔ پانچ سال پہلے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس بھی اب روزانہ کی بنیاد پر چلنا شروع ہو گیا ہے جس میں بانی رکن اصغر بابر نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور دیگر ممالک سے غیر قانونی طور پر بڑی فنڈنگ ہو ئی ہے جس میں کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے۔یہ اہم نوعیت کا کیس ہے جس کو مختلف بہانوں سے حکومت طول دیتی رہی ہے جس سے محسوس ہو تا ہے کہ اس میں کچھ ایسا ہے جس کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ ہے ورنہ دوسروں کو تلاشی دینے پر زور دینے والے بھاگ کیوں رہے ہیں۔ گو کہ یہ کیس اتنا جلدی فیصلے کی پوزیشن میں نہیں آسکے گا تا ہم یہ تلوار بھی موجود ہے یوں عمران خان حکومت چاروں طرف سے گھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری کی وجہ سے عوام میں مقبولیت پہلے ہی کم ہو چکی ہے ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کی اپوزیشن والی تقریرسمجھنا اتنا مشکل نہیں ہے، تبدیلی کے نعرے اور دعوے 90دن سے 06ماہ پھر سال سے 15ماہ تک پورے تو دور کی بات ہے چند قدم بھی نہ بڑھ سکے۔ مہنگائی کا طوفان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ تعمیر و ترقی کہیں نظر نہیں آرہی ہے ایسے میں کرپشن کے کیسز بنا کر اپوزیشن کو جیلوں میں بند کرنے کے بعد اب وہ بھی باہر جا رہے ہیں اور کرپشن کا ایک پیسہ ملک کو حاصل نہ ہو سکا۔ ایسے میں ووٹرز اور سپورٹرز مطمئن کرنے کے لیے عمران خان کے پاس اس کے علاوہ کونسا راستہ ہے لیکن اگر واقعی ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا تو تحریک انصاف میں موجود لوگ جن پر کیس موجود ہیں، ان کی گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں تو حکومت کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں حکومت کو سابقہ حکومتوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ تقریروں، دعوؤں سے بڑھ کر اب اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے پہلے ہی حکومت کی اہم وزارتوں میں دوسری جماعتوں کے لوگ موجود ہیں اب مزید ان کی بلیک میلنگ میں آنے کی بجائے نئے انتخابات ہی بہتر ہوں گئے تاہم ہوا بتارہی ہے سب کچھ سمیٹا جانے کو ہے لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے حکومت دھاندلی سے آئی یا اداروں کی طاقت سے آئی ہے جمہوری طریقے سے ہی جانی چاہیے عوام کی چیخیں پہلے ہی بہت نکل چکی ہیں اور نکلیں گی لیکن بہت ساروں کو آرام آچکا ہے جن کو ابھی بھی کچھ امید ہے انہیں آنے والے عرصے میں آجائے گا۔ حکومت کی تلاشی سے سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔



نواز شریف کو ریلیف اور حکومت کو سُبکی


نواز شریف کو ریلیف اور حکومت کو سُبکی شفقت ضیاء اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی جان،مال،عزت کی حفاظت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام جنگ کے دوران بھی عورتوں،بچوں اور بیماروں کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ خلفائے راشدین کا یہ حال تھا کہ وہ جب دشمنوں سے مقابلے کے لیے فوجیں روانہ کرتے تو وہ فوج کو یہ ہدایت کرتے تھے کہ دشمن پر حملے کی صورت میں بچوں،عورتوں زخمیوں پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ جس دین نے حالت جنگ میں غیر مسلموں سے ایسے سلوک کا حکم دیا ہو وہ مسلمانوں کوباہم اختلافات کی صورت میں کیسے اس بات کی اجازت دے سکتا ہے؟ کہ اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔سیاسی اختلافات کو سیاست تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ بالخصو ص ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے لیے بنا تھا اور جس کی موجودہ حکومت مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کرتی ہے اس میں مخالفین سے بد ترین سلوک سوالیہ نشان ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہ ہو سکاجبکہ جمہوریت کومستحکم ہونے کے لیے وقت کم ملا 72سالوں میں 40سال مارشلوں کی نذر ہوئے باقی 32سالوں میں بھی سیاستدانوں نے سبق نہیں سیکھا پاکستا ن کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیشہ سیاست دانوں نے اقتدارکے لیے غیر جمہوری راستوں کا سہرا لیا جب اقتدار کے ساتھ اختیار کی سمجھ آئی تو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے غیر جمہوری طریقے اختیار کیے گئے۔ عوام میں مقبول سیاسی قیادت کو غلط طریقے سے راستے سے ہٹایا گیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بینظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی آج بھی زندہ ہے اگر اسے سیاسی شکست دی جاتی تو آج اس کا وجود ہی نہ ہو تا۔ اب نواز شریف کو کبھی جیل میں ڈال کر اور کبھی اس کی بیماری کا فائدہ اٹھا کر اس سے غیر قانونی اور غیر آئینی باتیں منوانے کی کوشش کی جا تی ہے۔احتساب میں انتقام محسوس ہوتا ہے جس سے اس کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے پاکستان کے عوام دو جماعتوں سے نکل کر تیسری جماعت سے توقعات وابستہ کر رہے تھے تبدیلی کی ایک خواہش تھی جو نوجوانوں میں بلخصوص پائی جاتی تھی لیکن بد قسمتی حکومت کی کارکردگی سے مایوسی پیدا ہوئی کارکردگی کو بہتر کرنے کے بجائے حکومت نے مخالفین کو نہ چھوڑنے NRO نہ دینے کے دعوؤں، سابق حکومتوں کو ملکی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانے پر زور دیا حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن والی تقرریں آج تک کی جا رہی ہیں۔لیکن یہ سب کچھ د م توڑ چکا ہے۔ اب یہ باتیں نہیں بک رہی اب عوام پوچھتے ہیں ان چوروں ڈاکوؤں کے دور میں ڈالر کی قیمت کیا تھی۔ پیٹرول،بجلی گیس اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں کیا تھیں اور آج کیا ہیں۔مہنگائی میں اتنا اضافہ کیوں ہوا؟ بے روزگاری اتنی کیوں بڑھی؟ وہ وقت بھی تھا جب ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 16گھنٹے ہوتی تھی ملک میں دہشت گردی تھی نواز شریف حکومت جب ختم ہوئی تو یہ مسائل نہیں تھے پھر کارکردگی تو بہتر ہونی چاہیے تھی حکومت کے پاس ان سوالوں کا جواب نہ بنا تو نواز شریف کی بیماری پر سیاست شروع کر دی گئی۔ جب حالات خطر ناک حد تک پہنچ گئے حکومتی ڈاکٹروں اور خود عمران خان کے بھیجے گے ڈاکٹروں نے رپورٹ دی کہ نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے پھر اسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام سہولتیں دینے کی بات کی انہی ڈاکٹروں کی رپور ٹ کے مطابق بیرون ملک بھی بھیجنے کی بات اور اپنے وزراء کو جو آئے روز بیماری کو مذاق بنا رہے تھے بیانات سے منع کیا لیکن جب چند مشیروں نے مشورہ دیا کہ اس طرح سے بیرون ملک بھیج دیا تو ہمیں نا قابل تلافی سیاسی نقصان ہو گا۔ان میں وہ لوٹے شامل تھے جو کل نوازشریف کے پاؤں پکڑتے تھے لیکن انہیں شامل نہیں کیا گیا وہ آج سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کل ان کے ساتھ بھی نہیں رہیں گے۔جس پر ہمیشہ کی طرح یو ٹرن لیتے ہوئے ایک ایسی شرط لگائی جسے تمام ماہرین قانون نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حتی کہ پی ٹی آئی کے ماہرین قانون نے بھی اس کی مخالفت کی اور ایسے غیر ضروری کہاہے حکومت کے اتحادی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی، چوہدری شجاعت اور ایم کیو ایم نے بھی اس کی مخالفت کی اور حکومت سے کہا کہ آپ اس موقع پر شرائط نہ رکھیں۔انسانی ہمدردی کے طور پر انہیں جانے دیا جائے اس سے آپ کو اخلاقی فتح حاصل ہو گی نیک نامی ہو گی لیکن شاید اس حکومت کے نصیب میں ہی نیک نامی نہیں ہے یوں معاملہ عدالت میں گیا وہاں بھی بھرپور مخالفت کی گئی لیکن کامیابی نہ ہو سکی اور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی یوں بیمار نوا زشریف کے ہاتھو ں حکومت کو شکست سے دو چار ہو ناپڑا۔ اگر عمرا ن خان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دیتے تو عوا م کی ہمدردیاں حاصل کرتے اور سبکی سے بھی بچ جاتے، مدینے کی ریاست بنانے کی باتیں کرنے والے کو سیاسی مخالفین کے ساتھ دشمن والا رویہ نہیں رکھنا چاہیے، بغض،نفرت زندگیوں سے کھیلنے پر اترآنا کوئی بھی شخص پسند نہیں کرتا۔ جمہوریت میں ایسا کلچر جس سے سیاسی مخالفین کے ساتھ دشمنوں سے بھی بد تر سلوک رکھا جائے کسی کے لیے بھی درست نہیں بلکہ ملک اور قوم کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس موقع پر یہ سوال بھی بنتا ہے کہ 72سال گزرجانے کے باوجود پاکستان میں اتنے اچھے ہسپتال نہیں بن سکے جس میں علاج کی تمام سہولتیں میسر ہوں۔ بلا شبہ اس میں وہ تمام حکومتیں ذمہ دار ہیں جو اس عرصے میں اقتدار میں رہی ہیں موجودہ حکومت بھی بری الذمہ نہیں ہے چونکہ KPIمیں 7سال سے وہ بھی اقتدار میں ہے لیکن جو جتنا زیادہ اقتدار میں رہے وہ اتنے ہی زیادہ ذمہ دار ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان تو ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہے برطانیہ جیسے ملک سے بہتر سہولتیں امریکہ میں ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برطانیہ میں اچھے ہسپتال نہیں ہیں ایسے ہی پاکستان میں گزشتہ ادوار میں کام ہوا ہے البتہ اچھے ہسپتال، یونیورسٹیاں بنانے کی ضرورت ابھی بھی ہے۔عمران خان سے یہی توقعات تھیں جس کی وجہ سے عوام نے ان کا ساتھ دیا اور آج بھی عوام چاہتے ہیں اس جانب توجہ دی جائے۔ امیر غریب کا امتیاز ختم کر کے عدل والے نظام کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے،حکومت نے سیاسی مخالفین کو شکست دینی ہے تو کارکردگی بہتر کرنی ہو گی اس کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا جائے گا اس سے کامیابی تو دور کی بات ہے مقبولیت میں کمی آئے گی جو ان پندرہ ماہ میں صاف دیکھا ئی دے رہی ہے۔وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی اور ہسپتال بنانے کا آغاز تو ہو جانا چاہیے تھا اپنے ہی غیر مسلم ممبر اسمبلی کی شراب کو حرام قرار دینے والی قرار داد منظور ہو نی چاہیے تھی، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر کروڑوں خرچ ہو سکتے ہیں تو بابری مسجد پر کوئی جاندار موقف تو آنا چاہیے تھا۔ کشمیر کا سودا نہیں کیا ہے تو مظلوم و بے بس کشمیری مسلمانوں کے حق میں تقریر سے آگے بڑھنا تو بنتا ہے۔ تکبر، غرور اور انا سے باہر نکل کر عوام کے مسائل پر توجہ دینی ہو گی،عوام کی چیخیں آسمانوں تک پہنچ گئی ہیں آپ کی مہلت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ٭٭٭٭٭



کی محمد ؐسے وفا تو نے ہم تیرے ہیں


کی محمد ؐسے وفا تو نے ہم تیرے ہیں شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کی اور انسان کو تمام مخلوق میں اشرف المخلوقات بنایا۔انسانوں کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ہر دور میں انبیاء کرام تشریف لائے جو اپنے فرائض نبوت ادا کر تے رہے۔عرب میں تاریکی ہی تاریکی تھی شراب نوشی، قمار باز ی، حرام کاری، ظلم و جبر کا دور دورہ تھا۔ امیر امیرسے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہو تا جا رہا تھا۔ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ غلام اور آقا کا ایسا نظام تھا جس میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا اس زمانے میں قیصر و کسریٰ، ایرن، روم، یونان جو اعلیٰ تہدیب یا فتہ قومیں سمجھی جاتی تھیں وہ بھی ان برائیوں میں پیچھے نہ تھیں بلکہ ایک دوسرے سے سبقت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔ ایسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک عظیم ہستی حضر ت محمد مصطفی ﷺ کی تشریف لائی جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں دے دیا۔ آپ ؐ کا بچپن ہو یا جوانی نبوت سے پہلے کے چالیس سال اس معاشرے میں سب سے منفرد اور صاف ستھرے تھے یہی وجہ تھی کہ جب آپ ؐ نے دعوت کا آغاز کیا لوگوں کو جمع کر کے اپنے بارے میں پوچھاتو سب یک زبان ہو کر بولے آپ ؐ صاد ق وامین ہیں آپ جیسا اچھا انسان کوئی نہیں ہے لیکن ہم آپ کی دعوت کو قبول نہیں کر سکتے اس لیے کہ اس صورت میں ہمیں اپنے خاندان اپنی برادری اپنے رسم و رواج اور اپنے نظام کو چھوڑ نا پڑے گا۔ آپ اس نظام کی تبدیلی کی بات نہ کریں تو آپ کو حکومت دے سکتے ہیں اچھے خاندان سے شادی کر ا سکتے ہیں مال و دولت کی ضرورت ہے وہ آپ کے قدموں میں ڈھیر کر سکتے ہیں آپ اپنی عبادات بھی کر سکتے ہیں،لیکن آپ ہمارے اس نظام کو برا بھلا نہ کہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے نبی مہربان ؐ نے فرمایا تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دو میں اس دعوت سے بازنہیں آسکتا۔ دنیا سے اندھیروں کو مٹا کر دم لوں گا۔ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا ہے ظلم و جبر کے نظام کو ختم کرنا ہے اللہ کے بتائے ہوئے نظام کو لانا ہے خواہ اس کے لیے کتنی ہی قربانی دینی پڑے پھر دنیا نے دیکھا کونسی قربانی تھی جو اس عظیم مقصدکے لیے آپ ؐ نے نہیں دی یہاں تک کہ لہولہان ہوئے گھر وطن، سب کچھ قربان کیا اور 23سال کے مختصر عرصے میں عرب کا نقشہ بدل دیا۔ چنانچہ وہ خطہ جہاں جنگ و جدل تھا امن کا گہوارہ بن گیا۔ ظلم و نا انصافی کی جگہ عد ل و انصاف کا ایسا دور دورہ آیا کہ حقدار کو حق ملنے لگا کسی میں جرات نہ تھی کہ وہ کسی حقدارکے حق پر ڈاکہ ڈال سکے۔ وہ عورت جسے زندہ درگور کیا جاتا تھا اسے عزت و تکریم ملی، ماں بہن بیٹی کا درجہ دے کر وراثت کا حقدار ٹھہرایا اور اس کی پرورش پر جنت کی خوشخبری سنائی گئی یوں ذلت و رسوائی جس کا مقدر بنتی رہی اس کی قسمت بدل گئی آج پھر آپ ؐ کی کی تعلیمات سے دور ہونے کے سبب اشتہارات کی زینت بنا کر اسے عزت و احترام سے دور کیاجارہا ہے۔ محسن انسانیت ؐ نے انسانوں کو غلامی سے آزادی دی آقا وغلام کی تقسیم کو مٹایا۔ وہ جنہیں غریب کمزور سمجھ کر دبا دیا جاتا تھا ان غلاموں کوامام بنایا دنیا نے دیکھاعدل و انصاف کا ایسا معاشرہ قائم ہوا جو اپنی مثال آپ ہے۔ اسلامی حکومت کے ثمرات نے عرب سے نکل کر دنیا بھر میں اسلام کی شمع روشن کیں، دنیا میں ایک عرصے تک اسلامی نظام نافذ رہا لیکن بد قسمتی سے اپنوں کی نالائقیوں اور دشمنوں کی سازشوں سے آج دنیا میں مکمل اسلامی نظام نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے آپ ؐ کی ناموس پر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں ایک عرب سے زیادہ مسلمان ہیں لیکن مسلمان ملکوں کے حکمران امریکہ اور برطانیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں مسلمانوں کو لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو بنیا ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے،بابری مسجد کو شہید کیا جا رہا ہے،جبکہ دوسری طرف ہندوستان سے تعلقات بڑھانے کے لیے کرتار پور راہداری کو کھولا گیا ہے،عوام نہتے مظلو م مسلمانوں کے لیے جہاد کے لیے تیار ہیں جو نبی ﷺ کی ایک سنت ہے لیکن حکمران مصلحتوں کا شکار ہیں۔اسلام امن کا دین ہے دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے لیکن ظلم کے مقابلے میں جہاد کا درس دیتا ہے آج انسانیت اسی طرح کے مسائل کا شکار ہے عدل و انصاف کا نظام کہیں موجود نہیں ہے۔مسلمان ممالک وسائل رکھنے کے باوجود باہم اختلافات کا شکار ہیں۔ اپنے وسائل ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں ایسے میں محمد ﷺ سے محبت کرنے والوں کو اتحاد و اتفاق کے راستے کو اختیار کر تے ہوئے اس نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدو جہد کو تیز کرنا ہو گا جس کے لیے نبی مہربان ﷺ نے بے انتہا تکالیف اور مسائل کا سامنا کیا آج اس دین کو جو مکمل ضابطہ حیات ہے اسے عبادات تک محدود کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں دین اور سیاست کو الگ کیاجارہا ہے قوموں، برادریوں، علاقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے ایسے میں مسلمانوں نے اپنے حصے کا چراغ روشن نہ کیا تو کل آقا ﷺ کو کیا منہ دیکھائیں گے؟ ولادت مصطفیؐ کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نظام مصطفی ﷺہی میں انسانیت کی بھلائی ہے۔محمد ﷺ دنیا کے سب سے بڑے لیڈ ہیں ان کا لایا ہو ا نظام قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے بس ان کی اطاعت کی ضرورت ہے اسی صورت میں دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ سلام اس پر جس نے بے کسوں کی دستگیری کی سلام اس پر جس نے بادشاہی میں فقیری کی سلام اس پر جس کے گھر نہ چاندی تھی نہ سونا تھا سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا سلام اس پر اسرار محبت جس نے سمجھائے سلام اس پرجس نے زخم کھا کر پھول برسائے سلام اس پر جس نے زندگی کا راز سمجھایا سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا سلام اس پر فضا جس نے زمانے کی بدل ڈالی سلام اس پر کہ جس نے کفر کی قوت کچل ڈالی سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت تاج دارائی سلام اس ذات پر جس کے پریشان حال دیوانے سنا سکتے ہیں اب بھی خالد ؓ و حیدرؓ کے افسانے درود اس پر کہ جس کا نام تسکین دل و جان ہے درود اس پر کہ جس کے حلق کی تفسیر قرآن ہے



مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں فرق رہنا چاہیے


مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں فرق رہنا چاہیے شفقت ضیاء مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہو ا اور ساڑھے چودہ سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد پہنچا۔راستے میں کوئی گملا نہیں توڑا۔ لاہور میں میٹرو بھی چلتی رہی اور ایمبولنس کو بھی راستہ ملتا رہا۔ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارچ ہے جس میں کسی سرکاری یا پرائیویٹ پرا پرٹی پر حملہ ہوا اور نہ ہی کوئی سڑک بلاک ہو ئی۔ موسم کی تبدیلی ہو یا دیگر مسائل پر امن مارچ 13دن تک جاری رہا۔ تاہم حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں کنٹینر لگانے اور میٹرو بند کرنے سے عوام کو ضرور تکلیف ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 2014میں عمران خان کا بھی دھرنا تھا جس میں پی ٹی آئی نے لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کی تھی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا پولیس کو لہو لہان کیا گیااورپارلیمنٹ پر لعنت بھیجی جاتی رہی۔ سپریم کورٹ کی عمارت پر گندے کپڑے لہرائے گئے۔ بجلی کے بل جلائے اور سول نافرمانی کی تقریریں کو ن بھول سکتا ہے۔ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے اور اس وقت کا آزاد میڈیا پل پل کی خبریں دے رہا تھا جبکہ آج کا میڈیا اس طرح خبریں نہیں دے سکا۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں ناموس رسالت ؐ،ختم نبوتؐ کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ آپ آج کوئی نئی بات نہیں کر رہے مذہبی جماعت کے سربراہ میں اور اسلامی نظام آپ کے منشور میں شامل ہے۔ جبکہ عمران خان جو نئے پاکستان کی بات کرتے تھے ایک کروڑ نوکریوں 50لاکھ گھر بنانے کی بات کرتے تھے۔چوروں ڈاکوؤں سے لوٹی ہوئی رقم واپسی کی بات کرتے تھے اور کہتے تھے جب حکمران چور ہوتا ہے تو ٹیکس لگاتا ہے۔ پٹرول گیس مہنگی ہوتی ہے آج مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا ہے۔ گیس پٹرول بجلی ہر چیز آئے روز مہنگی ہو رہی ہے تو عوام پوچھتے ہیں کل چور حکمران تھے تو یہ چیزیں سستی تھیں آج یہ ہماری پہنچ سے دور کیوں ہو گئی ہیں ہمیں اس نئے پاکستان سے پرانا ہی لوٹا دیا جائے جب کارکردگی کچھ نہ بن پائی تو عمران خان نے بھی مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے مدینے کی ریاست بنانے کی بات شروع کر دی خداراہ! ایسی باتوں سے پہلے ایسا کردار تو لاؤ۔ چند قدم تو اس طرف اٹھا ؤ پھر بات کرو تو آپ کی بات میں وزن بھی ہو گا سیاست اور حکومت بچانے کے لیے ایسا کارڈ کیوں استعمال کرتے ہو جو دوسروں پر اعتراض کرتے ہو۔ اس طرح کے دعوے تو ضیاء الحق نے بھی کیے تھے اسلام کے مقدس نام پر لوگوں کو گیارہ سال تک بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ پاکستان میں کل نا انصافی، اقربا پروری، خاندان میں عہدے بانٹے جاتے اور کرپشن تھی تو آج بھی کچھ نہیں بدلا صرف طریقہ کار بدلہ ہے عمران خان جن کو چو ر، ڈاکوکہتے تھے وہ ان جماعتوں سے پی ٹی آئی میں آچکے ہیں۔ وہی کابینہ کے وزراء ہیں جن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کے رخصت ہوتے ہی ان کی کرپشن کھل کر سامنے آئے گی جس کا اظہار چیئرمین نیب بھی کر چکے ہیں کہ اگر حکومت کے لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے تو حکومت دو دن بھی نہیں چل سکے گی۔ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا اسے مدینہ کی ریاست ہی بننا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں یہ کبھی نظر نہیں آیا البتہ جب ہر طرف سے ناکامی ہو جاتی ہے تو عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا جاتا ہے یہ کھیل اب بند ہو نا چاہیے۔محلات میں رہنے والے عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کرنے والے کبھی ایسا نظام نہیں لا سکتے۔ کشمیر کے مسلمانوں پر ہندوستا ن ظلم کر رہا ہے جبکہ حکمران ایک اچھی تقریر پر اتفاق کر کے بیٹھ گیا ہے۔ کشمیریوں کی مدد کے لیے جانے والوں کو ظالم جبکہ کرتار پور راہداری کھول کر تعلقات کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں جو کھلا تضاد اور ترجیحات کا اظہار ہے۔ کل حکمران مودی کے یار تھے تو آج کیا ہو رہا ہے؟ کشمیرکاز کو مولانا فضل الرحمن نہیں موجود حکمرا ن نقصان پہنچا رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کو اینٹ کا جواب پتھروں سے دینے کے دعوے دارجواب میں اینٹ بھی نہیں مارسکے۔ آخروہ وقت کب آئے گا جب حکمران جہادکا اعلان کرینگے جس کی طرف ساری قوم دیکھ رہی ہے۔ شوق شہادت سے سرشار عوام حکمرانوں کے اعلان کے منتظر ہیں جب دنیا کی بہترین اور قابل فخر پاک فوج کے ساتھ مل کر ہندوستان کے مظالم سے نہتے بے سہارامسلمانوں کو نجات دلائی جائے گی۔ اس کے راستے میں کو ن رکاوٹ ہے؟ حکمران ہی اگر اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں تو ان کے خلاف عوا م کو نکلناہو گا۔ عمران خان عوام کو بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دھرنے اور احتجاج اس لیے ہو رہے ہیں کہ یہ مجھ سے NROچاہتے ہیں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔حالانکہ کیس عدالت میں ہونے کے باعث ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے اور اب یہ بات تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہہ دی ہے کہ اس کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے پہلے ہی یہ اختیار ختم کیا ہوا ہے کاش یہ بات وہ وزیر اعظم کو بھی بتا دیتے کہ جو آپ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہو اس کا آپ کے پاس اختیار ہی نہیں اس لیے ہمیں کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ پلان اے اسلام آباد دھرنا ختم ہو گیا جو پر امن تھا جس سے وہ وزیراعظم کا استعفیٰ تو نہ لے سکے تاہم وہ ایک بڑے لیڈ رکے طور پر سامنے آئے ہیں اور یہ تاثربھی ختم کرانے میں کامیاب ہو ئے ہیں کہ یہ انتہا ء پسند اور غیر منظم لوگ ہیں بلکہ یہ ثابت کیا ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے والے مغربی تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ سنجیدہ با سلیقہ منظم اور پر امن لوگ ہیں انہیں آئندہ نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا تا ہم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی آزادی مارچ میں شرکت سوالیہ نشان رہی ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن کا پلان بی شروع ہو گیا ہے جو زیادہ خطرناک ہے اگرچہ انہوں نے اسے پر امن رکھنے کا ہی اعلان کیا ہے تا ہم ایسا ممکن نہیں لگتا چونکہ جب سڑکوں کو بلاک کیا جائے گا تو حکومت حرکت میں آئے گی جس سے تحریک پر تشدد بن سکتی ہے جس کو قیادت بھی اس طرح کنٹرول نہیں کر پائے گی۔ اس لیے مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ احتجاج ضرور کریں لیکن آپ عمران خان کے راستے پر نہ چلیں آپ عالم دین ہیں اور عمران خان مغرب کا تعلیم یافتہ ہے۔ دونوں میں فرق رہنا چاہیے جو اسلام آباد دھرنے میں دیکھنے میں آیا ہے۔



مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں


مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں شفقت ضیاء پاکستان میں ہر شخص مذہب اور سیاست پر فتویٰ دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ جو شخص یا جماعت سیاست، حکومت اور ریاستی معاملات میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کی بات کرے تو اس پرمذہب کارڈکا لیبل لگایا جاتا ہے گو یا عبادات کریں تو کسی کو اعتراض نہیں لیکن اسلام کے سیاسی نظام کی بات کرنا جرم سمجھا جاتاہے حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے پاکستا ن کی تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اسی طرح جمہوریت بھی ان 72سالوں میں رکاوٹوں کا شکار رہی ہے، اس نظام کے خلاف تنقید کرنے والے اقتدار میں آ کر اسے بھول جاتے ہیں تنقید جمہوریت کا حسن ہے لیکن تنقید انا یا تعصب کی بھینٹ چڑھ جائے تو نفرت میں بدل جاتی ہے جو نہ شخصیت کے لیے اچھی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے لیے مفید ہوتی ہے اس کی بڑی وجہ دین سے دوری اورعدم برداشت ہے، انفرادی زندگی ہویا اجتماعی زندگی دین کی رہنمائی موجود ہے بس عمل کی نیت سے اس کو سمجھنے اور اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔ ایک انسان جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی دوسرے کیلئے پسند کرنی چاہیے اور جیسے اپنا حق سمجھتا ہے اس کا دوسرے کو بھی حق دینا چاہیے۔ پاکستان میں جو بھی حکمران آئے انتخابات میں دھاندلی کا رونا روتے رہے۔اور حکومت میں آتے ہی سابق حکومت کی طرف سے خزانہ خالی چھوڑ کر جانے کا ڈرامہ بھی جاری رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں ہمیشہ دھاندلی ہوتی رہی اور اس کی بار تو تمام ریکارڈتوڑ دیئے گئے لیکن سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی جو منتخب ہو جاتی ہیں ان کے لیے سب اچھا اور جو ہار جاتی ہیں یا ہارائی جاتی ہیں ان کا رونا جاری رہتا ہے۔ بد قسمتی سے اس نظام کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کو ششیں نہیں کی جاتی جس سے دھاندلی کا راستہ روکا جا سکے۔ انتخابات کے صاف شفاف ہونے کے نقطے پر جب تک تمام سیاسی جماعتیں متفق ہو کر قانون سازی اور پہرہ نہیں دیتی سلسلہ ختم نہیں ہو سکے گا۔ اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک میں کرپشن کل بھی تھی اور آج بھی ہے اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے احتساب سلیکٹڈ اور انتقامی ہوتا ہے جب تک احتساب سب کے لیے بلا تفریق نہیں ہوتا اس کے نظام کو بھی تبدیل نہیں کر دیا جاتا یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا ہر آنے والا دوسرے پر نتقید کرتے ہوئے خودلوٹ مار کا حصہ بنتا جائے گا چونکہ کرپٹ ٹولے کی کوئی جماعت نہیں ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی میں اکثریت انہی لوگوں کی نطر آتی ہے جو ایک عرصے سے اقتدار والی پارٹیوں کے ساتھ چلے آرہے ہیں بلکہ زیادہ کرپٹ وہی لوگ ہوتے ہیں جو لوٹے ہوتے ہیں ان کی پارٹی کرپشن ہوتی ہے اس لیے احتساب کے نظام کو ایسا بنانے کی ضرورت ہے جو حکومتوں کے بدلنے سے نہ بدلے بلکہ ہمیشہ انصاف کے اصولوں پر چلتا رہے۔ جب انتخاب اور احتساب کا نظام بہتر ہو جائے گا تو آزادی مارچ اور دھرنوں کی بھی ضرورت نہیں رہے گا۔ احتجاج کرنا جمہوریت میں ہر ایک کا حق ہے لیکن یہ پر امن اور دوسروں کی تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہیے تاکہ اپنے حق کے لیے دوسرے کا حق نہ مارا جائے۔ ماضی میں جماعت اسلامی، طاہر القادری کا دھرنا ہو یا عمران خان کا طویل ترین دھرنا ہو اس سے حکومتیں تو نہیں گئی ہیں لیکن ملک کو ضرور نقصان پہنچا ہے۔ طاہر القادری نے سیاست سے اور جماعت اسلامی نے دھرنا سیاست سے تو بہ کر دی ہے البتہ پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا جس کی 30سیٹیں تھیں آج حکومت ہے تاہم تاریخ آپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے مولانا فضل الرحمن دھرنا دینے اسلام آباد آرہے ہیں۔ لیکن وہ جو کل دھرنے کے حق میں تھے اور سول نا فرمانی کی باتیں کر تے تھے آج اس کے خلاف برسر پیکار نظرآتے ہیں اپنے دھرنے کو حلال اور فضل الرحمن کے دھرنے کو حرام قرا ردے رہے ہیں آج جو ڈنڈے نظر آتے ہیں وہ اپنے ہاتھو ں میں اٹھائے ہوئے کیوں بھول گئے ہیں بلکہ طاہر القادری کے ساتھ آنے والی خواتین کے ہاتھوں میں بھی ڈنڈے تھے۔ یہ اتنی پرانی بات تو نہیں ہے جسے بھولا جاے،جیسا کرو گے ویسا بھگتنا پڑتا ہے۔ اب تو غلطی مان لینی چاہیے کہ ماضی میں ہم سے غلطی ہوئی ہے اس سے ملک اور قوم کا نقصان ہوتا ہے طویل دھرنوں سے دوسروں کا حق متاثر ہوتا ہے یہ کل بھی درست نہیں تھا اور آج بھی درست نہیں ہے بجائے غلطی کے اعتراف کے تاویلیں کرنا کسی بھی طو ر پر عقل مندی نہیں ہے اس لیے ماضی میں انتخابات میں دھاندلی پر آپ چند نشستوں کی بات کرتے تھے تو آج ساری سیاسی جماعتیں دھاندلی پر متفق ہیں۔آج دھاندلی سے بڑھ کر کشمیر، مہنگائی بے روزگاری جیسے اہم ایشو بھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی حکومتوں اور کشمیر کمیٹی نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت کی طرف سے بھی ایک تقریر کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ماضی میں مقبوضہ کشمیر پر مودی نے قبضے کا اقدام بھی نہیں اٹھایا تھا اس لیے اس وقت کشمیرپر زیادہ جاندار پالیسی اور عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک عالم دین کو گالیاں دینا شروع کر دیں یا کردار کشی کی جائے اور جو کام ماضی میں خود کیا ہو آج اسی کام پرحب الوطنی پر شک اور غداری تک کے فتوے جاری کیے جائیں۔ تمام علماء اور سیاسی لیڈر شپ کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کی حب الوطنی پر فتوے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن ایک عالم دین،پاکستان کے منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ مفاہمتی سیاست اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کے نبض شناس ہیں۔ اسی لیے درست وقت پر کشمیر،غربت،بے روزگاری سمیت دیگر ایشو لے کر نکل رہے ہیں۔ حکومت کو گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے بجائے انہیں پر امن احتجاج کا حق دینا چاہیے عمران خان کے کہنے کے مطابق کنٹینر اور دیگر سہولتیں بھی دینی چاہیے۔ بلکہ وعدے کے مطابق اگر وہ اتنے لوگ اگھٹے کر لیتے ہیں تو اقتدار چھوڑ بھی دنیا چاہیے۔ مولانا کو اگر اجازت دے دی گئی تو عوام کا سمندر امڈ آسکتا ہے۔چونکہ عوام حکومت کی کاکردگی سے تنگ ہیں دھرنے کے کچھ فواہد مولانا کو ابھی ہی حاصل ہو چکے ہیں اور کچھ احتجاج سے ہو جائیں گے اگر زبردستی روکا گیا تو اس سے بھی زیادہ فوائد ہوں گے۔ رہا اقتدار تو اس کے حصول کے لیے عمران خان کی طرح دھرنے کے علاوہ اداروں کی حمایت بھی ضروری ہو گی اگر ملک کی تیسری قوت اقتدار میں آسکتی ہے تو چوتھی قوت فضل الرحمن بھی آسکتے ہیں لیکن اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے حکومتوں کو پورا وقت اور عوام کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے یہی جمہوریت کا تقاضا ہے تا ہم آزاد ی مارچ سے بچنے کے لیے عمران خان حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ کشمیر کے لیے جہاد کا اعلان کردیں۔ قوم اپنے نہتے کشمیری بھائیوں کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہے اور دنیا کی بہترین پاک فوج کے شانہ بشانہ آزادی کی جنگ لڑے گی اس سے عمران خان حکومت بھی بچ جائے اور تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ آپ کا نام بھی لکھا جائے گا اس لیے اس موقع کو غنیمت سمجھو ورنہ مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔



محکمہ تعلیم میں اصلاحات فاروق حیدر حکومت کا اہم کارنامہ


محکمہ تعلیم میں اصلاحات فاروق حیدر حکومت کا اہم کارنامہ شفقت ضیاء تعلیم کسی ملک وقوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کودی جاتی ہے سستی اور معیاری تعلیم حکومتوں کی اولین ترجیح میں شامل ہے ایک طویل عرصہ تک مسلمان تعلیم کی وجہ سے دنیا بھر میں امامت کرتے رہے آج بھی یورپ جیسے ممالک اس سے روشنی لینے پر مجبور ہیں اسلامی تعلیمات میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے قرآن پاک کی پہلی وحی اقراء سے شروع ہوئی اور نبی مہربانؐ نے عرب کے اندھیروں کوعلم سے روشن کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جاہل قوم دنیا کی امام بن گئی بدقسمتی سے آج تعلیم طبقات میں تقسیم ہے کئی طرح کے نصاب تعلیم ہیں ہمارے ملک میں سرکاری تعلیمی ادارے،پرائیویٹ تعلیمی ادارے اوردینی تعلیم جیسے تین حصوں میں بٹی ہوئی قوم ہے۔ 72 سالوں میں یکساں نصاب تعلیم نہ بن سکا جس کی وجہ سے ہم قوم بننے کی بجائے ہجوم بننے جا رہے ہیں۔ امیروں کے بچے پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرکے اہم ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں جبکہ غریبوں کے بچوں کیلئے دروازے بند ہیں۔ کہیں کسی غریب کا بچہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے زور پر نکل بھی جائے تو سفارش اور رشوت اس کے راستے میں حائل ہو جاتی ہے۔ تعلیم کے میدان میں اصلاحات کی جب بھی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہے۔ یہی محدود سا طبقہ ہمیشہ رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ آزادکشمیر ایک چھوٹا سا خطہ ہے جس میں تعلیم کا ریشو اگرچہ بہت اچھا ہے لیکن بدقسمتی سے اس میں سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سفارش، رشوت، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں گزشتہ حکومتوں نے ایسی تباہی مچائی کہ ادارے ویران ہو گئے۔ اب ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ بعض اداروں میں اساتذہ زیادہ ہیں اور بچے کم ہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ تعلیم پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ ہونے کے باوجود کارکردگی صفر ہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود عوام اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کی خاطر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ حکومتیں اپنے ووٹ بینک کی خاطر ایسی پالیسیاں بناتی ہیں جس سے ملازم طبقہ ناراض نہ ہو، رہے غریب عوام تو انکا کیا ہے؟ یہ ملازم طبقہ سیاست کرتے ہوئے ان سے ووٹ ڈلوانے کیلئے جو موجود ہے۔ ایسے میں آزادکشمیر میں موجودہ فاروق حیدر حکومت کے اہم اقدامات سامنے آئے جن کی تحسین کی بجائے وہی محدود طبقہ اپنے مفادات کیلئے سرگرم نظر آتا ہے۔ گزشتہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں آزادکشمیر کو میگا پراجیکٹس دیئے گئے لیکن میرٹ کو بری طرح پامال کیا گیا۔ سفارش،رشوت کے بغیر نوکری خواب بن گیا تھا، موجودہ حکومت نے این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ کی بحالی کی طرف اچھا قدم اٹھایا جس سے غریب پڑھے لکھے، باصلاحیت نوجوانوں کو ایک بار پھر امید ملی۔ وہ جو مایوس ہو چکے تھے وہ اپنا حق ملنے پر خوش ہوئے۔ اس سسٹم میں انٹرویو کے نام پر 10 نمبرات جو رکھے گئے ہیں وہ اگرچہ میرٹ کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ہیں جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ سحرش سلطان جیسی بچیاں احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں لیکن اتنے بڑے اقدام پر حکومت کی تحسین کرنے کے بجاے صرف 10 نمبر پر ہی تنقید کرنا انصاف نہیں ہے تاہم حکومت سے توقع ہے کہ وہ 10 نمبرات والی گنجائش کو بھی ختم کروائے گی تاکہ میرٹ پر مکمل عملدرآمد کے راستے میں حائل یہ رکاوٹ بھی ختم ہو جائے۔موجودہ حکومت نے پی ایس سی کو بحال کیا۔ سب سے بڑھ کر سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پابند کیا ہے کہ اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخل کروائیں،قابل تحسین ہے۔ سرکاری ملازمین جن کی تنخواہیں لاکھوں روپے ہیں اپنے بچوں کو پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں یہ کسی بھی طرح انصاف نہیں، یقینا جب وہ اپنے بچوں کو انہی تعلیمی اداروں میں پڑھائیں گے تو احساس بھی ہو گا اور تعلیمی معیار بھی بہتر ہو گا۔ اگر حکومت اس نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کروا لیتی ہے تو کوئی بھی میگا پراجیکٹ نہ دینے کے باوجود اس کا یہ اقدام جہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت کو یکساں بدل دے گا، وہاں عوام میں زبردست پذیرائی کا سبب بھی بنے گا۔ گو کہ ایک محدود طبقہ ان اقدامات سے پریشان ہے، اسکی تنقید کا سامنا ضرور رہے گا لیکن یہ قومی خدمت بھی ہے اور سب سے بڑا ذریعہ سرکاری تعلیمی اداروں کو دوبارہ اٹھانے کا ہے، جس پر عملدرآمد کے ساتھ ہی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ حکومت کو ایسے تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی جن کی تعداد کم ہے کیونکہ اس اقدام سے داخلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین کے بچوں کے آنے کے ساتھ عام عوام اپنے بچوں کو واپس سرکاری تعلیمی اداروں میں لائیں گے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانا عوام کیلئے مشکل ہو چکا ہے، انھیں امید دلانے کی ضرورت ہے کہ سرکاری ادارے بہتری کی طرف جا رہے ہیں جو اس اقدام سے دلائی جا سکتی ہے۔ اس لیے قوی امیدہے کہ اس اقدام سے تعلیمی اداروں میں تعداد کا مسئلہ نہیں رہے گا تاہم اگر اس کے باوجود کچھ تعلیمی ادارے اتنی کم تعداد پر آ جاتے ہیں تو انھیں ختم کرنا ہی قومی مفاد میں ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت کا کم تعداد کے حامل تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کا یہ اقدام بھی قابل تحسین ہے۔ حکومت کو بیورو کریسی میں موجود علم دوستوں کی طرف سے دی گئی تجاویز پر پورے اعتماد کیساتھ عملی اقدامات اٹھانے چاہیے۔گزشتہ عرصہ میں تعلیم کے شعبہ کی بہتری کیلئے جو اقدامات سامنے آئے ہیں یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیکرٹری تعلیم اور دیگر عملہ تعلیم سے دلچسپی لے رہا ہے اور عوام دوست پالیسیاں بھی بنا رہا ہے۔اسی طرح حکومت کی طرف سے بائیومیٹرک سسٹم احسن قدم ہے تاہم سسٹم کی خرابی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، ناقص خرید پر احتساب بھی ہونا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق بھاری قیمتوں میں خریدی گئی ناقص بائیو میٹرک مشینیں اکثر خراب ہو گئی ہیں جس سے حکومتی ساکھ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور ایسے لوگوں کا سخت احتساب ہونا چاہیے جو اس عمل میں شریک ہیں۔ حکومت آزادکشمیر کو اپنے تعلیم دوست اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہیے اس کے برعکس محدود طبقے کے احتجاج کو قطعاََ اہمیت نہیں دینی چاہیے بلکہ اس نظام کو مزید بہتر بنانے کیلئے مزید دلیرانہ اقدامات جن میں مڈل اور پرائمری سکولوں میں بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب کرنی چاہیے تاکہ بچوں کی ابتدائی تعلیم بھی بہتر ہو سکے میٹرک پاس اساتذہ کو فارغ کرکے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو موقع دیا جاے، اس طرح کے مزید اقدامات سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کے ساتھ حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا تاہم محکمہ تعلیم میں موجودہ اصلاحات فاروق حیدر حکومت کا اہم کارنامہ ہے جس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔



مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ مکافا ت عمل


مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ مکافا ت عمل شفقت ضیاء 1947میں طویل جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا جس کا مقصد اسلامی ریاست بنانا بتایا گیالیکن 72سال گزرنے کے باوجود وہ کلمے والا پاکستان نہ بن سکا جس کے دعوے ماضی کے حکمران بھی کرتے تھے، آج بھی مدینہ کی ریاست بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن عملاً کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ اب ملک کے اندر تبدیلی کچھ اس طرح کی آگئی ہے کہ مذہب کا نام استعمال کرنا درست نہیں ہے اور سیاست اور مذہب الگ الگ چیزیں ہیں۔اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو گی جو ملک بنا ہی اسلام کے نام پر ہے اور مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام مکمل نظام حیات ہے نبی کریم ﷺ آخری رسول ہیں اور شریعت مکمل ہو چکی ہے لیکن اب دنیا کی بڑی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے سیکولر بننے کی کوشش ہو رہی ہے، اسلامی شعار کا مذاق بنایا جا رہا ہے،معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے بلکہ منافقت کی جارہی ہے۔تقریریں کچھ ہو رہی ہیں اور عمل کچھ اور ہے۔اسلام کے ساتھ ہی نہیں جمہوریت کے ساتھ بھی پاکستان میں مذاق کیا جارہا ہے۔ 72سالوں میں 40سال آمریت رہی جبکہ 32سالوں میں بھی حکومتیں بنانے کا اختیار مکمل طور پر عوام کو نہ مل سکا انتخابات سے ایسے نتائج لینے کی کوشش کی جاتی ہے جو مقتدر حلقو ں کو پسند ہوں۔سیاستدانوں کا رویہ بھی جمہوری نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ اکثریت کے باوجودمجیب الرحمن کو حکومت بنانے نہیں دی گئی اور نتیجتاًملک دو لخت ہو گیا پھر عوام کے مقبول ترین لیڈ ر جس کی سیاست اور نظریے سے تو اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی عوامی مقبولیت سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا، جس سے اس کی پارٹی کو ختم نہ کیا جا سکا لیکن اس کی قابلیت صلاحیت نہ ہونے کا نقصان ضرور ہوا پھر اس کی بیٹی کی مقبولیت بڑھی اور وہ ایک سنجیدہ سیاست دن کے طور پر سامنے آئی تو اسے راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کر دیا گیا۔اگر وہ زندہ ہوتی تو شاید اس وقت حکومت نہ بنا سکتی لیکن منصوبہ بندی کے تحت اسے راستے سے ہٹا کر عوامی ہمدردی میں اضافہ کر کے زرداری جیسے شخص کو اقتدار تک پہنچا دیا گیا۔ بینظیر بھٹو کے قتل سے پاکستان اور جمہوریت کو بڑا نقصان ہو ا۔ پاکستان میں پیسے کی سیاست بڑھی اور سیاست میں سنجیدگی کی کمی ہو ئی، ایسے میں پاکستان میں واحد سنجیدہ تجربہ کار سیاست دان نواز شریف اقتدار میں آئے پھر انہیں احتساب کے نام پر راستے سے ہٹایا گیا۔ جج کی جو وڈیو سامنے آئی ہے اگر وہ سچ ثابت ہو جاتی ہے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ پاکستان میں کسی بھی ایسے لیڈر کو جو عوام میں مقبول ہے اسے غیر جمہوری طریقے سے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام سیاستدان جو عوام میں مقبول ہوئے ہیں وہ آمریت کی پیداوار رہے اور جب وہ عوام میں مقبول ہونے کے ساتھ جمہوریت میں سنجیدہ ہوئے اقتدار کے ساتھ اختیار کے خواہش مند ہوئے،ووٹ کو عزت دو کی بات کرنے لگے تو انہیں راستے سے ہٹا دیا گیاجسکا نتیجہ یہ نکلا کہ جمہوریت آج تک مستحکم نہ ہو سکی۔ نواز شریف کی حکومت کے خلاف عمران خان کی طرف سے چند حلقوں میں دھاندلی کی وجہ سے احتجاج شروع ہو اجو بعد میں اسلام آباد میں طویل ترین دھرنے کی شکل اختیا ر کیا گیا جس میں ان کے سیاسی کزن طاہر القادری بھی اپنے مدرسوں کے بچوں سمیت آئے اور دھرنے کو طولت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔اس دھرنے میں عمران خان کی تقریریں آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکس نہ دو،بجلی فون کے بل جمع نہ کراؤ،جلا دو، بیرون ملک سے رقم ہنڈی کے ذریعے بھیجو،ملک اور حکومت کے خلاف یہ درس عمران خان 125دن سے زیادہ تک دیتے رہے۔ اس دھرنے میں طاہر القادری کے مدرسوں کے بچوں کے علاوہ سکولوں،کالجوں کے طلبہ کے ساتھ طالبات بھی تھیں، ناچ گانا بھی تھا، ڈانس بھی تھا، وہ سب کچھ تھا جو اسلامی ملک میں نہیں ہو نا چاہیے تھا۔اس دھرنے میں عمران خان رو ز کہتے رہے کہ امپائر کی انگلی کھڑی ہونے والی ہے بس حکومت گئی اس کے نتیجے میں حکومت تو نہ جا سکی ملکی معیشت کو بڑا نقصان ہوا، چائنہ کا صدر پاکستان نہ آسکا اور سب سے بڑھ کر ایک غلط جمہور ی روایت پڑگئی۔ پاکستان میں 2018کے انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت فاتح ہوئی جس کے بارے میں پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ دھاندلی ہوئی اور وزیراعظم سلیکٹڈ (Selected) ہے۔ 14ماہ کی حکومت سے ملک میں غربت بے روزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے،ملک معاشی طور پر تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے اور ایسے میں اس حکومت کے رہنے کا جواز ختم ہو چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جا سکتا، یہ نا جائز حکومت ہے عوام کی چیخیں نکل چکی ہیں، مہنگائی بے روزگاری نے زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں جبکہ ماضی کے دھرنے والی حکومت کہتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدرسے کے بچوں کو لانا چاہتے ہیں، مذہب کا استعمال کر رہے ہیں،انہیں نہیں آنے دینگے۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ماضی میں سکولوں کالجوں کے بچے اور بچیاں جب آئے تو کیسے درست تھا اور آج مولانا فضل الرحمن مدرسے کے بچوں کو لائیں گے تو کیسے غلط ہو گا؟ کیا یہ اس لیے غلط ہے کہ دینی علم حاصل کرنے والوں کو یہ حق نہیں؟ دین کو نظام زندگی کے طو ر سمجھنا جرم ہے؟ دین کی تعلیم تو روشنی ہے ان سے خوف کیوں ہے؟کیا احتجاج کے لیے سیکولر ہونا ضروری ہے؟ کیا مولانا کو بھی رنگین دھرنا دیناچاہیے؟ اگر اسیا نہیں ہے، دھرنا سیاست سے ملک اور جمہوریت کا نقصان ہوتا ہے تو پھر ماضی کے دھرنے کی غلطی تسلیم کرنی ہو گی اور اگر ماضی کا دھرنا جمہوری حق تھا تو اسے بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ اگر عوام حکومت سے مطمئن ہوئے تو وہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ نہیں آئیں گے اور اگر واقعی غربت،بے روزگاری سے تنگ ہیں اور دھاندلی سے حکومت بنی ہے تو عوام کا سیلاب آئے گا۔ حکومت کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ عوام کا فیصلہ دیکھ لے لیکن حکومت کے بیانات اور رویے سے لگتا ہے کہ حکومت خوف زدہ ہے اس نے روکنے اور گھرو ں میں بند کرنے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ کیا حکومت بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے؟ اگر مطمئن ہے تو بوکھلاہٹ کیوں؟ پی ٹی آئی حکومت کو مان جانا چاہیے کہ ماضی میں ان سے غلطی ہوئی ہے اور یہ اسی کا مقافات عمل ہے۔



عمران خان کی تقریر اور آخری کشمیری


عمران خان کی تقریر اور آخری کشمیری شفقت ضیاء وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی خطاب کیا ہے جس میں انہوں نے عالم اسلام کی بہترین نمائندگی کی ہے اور کشمیرایشو کو بھر پور انداز میں پیش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں ہی نے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے خوب سراہا ہے۔جس پر عمران خان خراج تحسین کے حقدار ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سے پہلے بھی پاکستان کے حکمران کشمیر ایشو پر بات کرتے آئے ہیں لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان کا خطاب تاریخی سمجھا جا رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کشمیر کے جو حالات ہیں ایسے پہلے نہیں تھے۔مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے تین ماہ سے کر فیو لگا رکھا ہے۔موبائل فون،انٹرنیٹ سروس بند ہے۔کھانے پینے کی اشیاء ادویات تک دستیاب نہیں ہیں۔حریت قیادت گرفتار اور نظر بند ہے۔کنٹرول لائن پر نہتے کشمیری شہید ہورہے ہیں۔یوں کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔آزادکشمیر کے عوام ایسے حالات میں سیز فائر لائن عبور کرنا چاہتے ہیں جس کا اظہار وزیر اعظم پاکستان نے اداکاروں کے جھرمٹ میں مظفرآباد کے اپنے خطاب میں بھی کیا اور مطالبہ کیا تھا کہ جب تک میں اقوام متحدہ میں خطاب کر کے نہیں آجاتا آپ نے سیز فائر لائن کی طرف مارچ نہیں کرنا۔اب چونکہ وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ میں خطاب کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں شایدآنکھوں میں پٹی باندھی ہوئی کانوں سے بہری دنیا کو کوئی اثر نہیں ہو گا چونکہ دنیا مفاد پرست بھی ہے اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم سے اسے کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ مسلمان حکمران بھی ان ہی کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں۔ترکی،ملائشیا،ایران کے علاوہ باقی لیڈر شپ غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان لیڈر شپ تقریروں سے آگے کچھ نہیں کر سکی اسلام کی حقیقی تصویرتقریروں میں تو موجود ہے لیکن عملاً کسی ملک میں دیکھا نہیں جا سکتا وزیر اعظم پاکستان آپ نے اچھی تقریر کی ہے اب ایسے پاکستان میں عملاً نفاذ بھی کر دیں اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے آپ کی تقریریں بھی محض سیاسی بیانات نہیں ہیں تو پھر مدینہ کی جس ریاست کی آپ تعریفیں کرتے ہیں جسے آپ آئیڈیل سمجھتے ہیں اس کے لیے اس سے بہتر موقع آپ کو کب ملے گا؟ آپ نے حکومت سے پہلے اپنی انتخابی مہم اور اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران بھی بہت اچھی تقریریں کی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام بلخصوص نوجوانوں نے آپ کو سپورٹ کیا لیکن ایک سال کی کارکردگی سے عوام بالخصوص نوجوان مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔اگر یہ مایوسی بڑھ گئی تو آئندہ کسی پر اعتماد نہیں رہے گا۔آپ کی پارٹی کے غیر مسلم ممبر اسمبلی شراب کے خلاف بل لاتے ہیں تو آپ ہی کے ممبران مسترد کر دیتے ہیں۔آپ کے صوبے کے پی کے میں پردے کا نوٹیفکیشن کو شام سے پہلے واپس کر دیا جاتا ہے۔سودی نظام اسی طرح ہے،مدینہ کی ریاست کی طرف کوئی ایک قدم تو 13ماہ میں نظر آنا چاہیے تھا تب دنیا بالخصوص پاکستان کے عوام مانتے کہ آپ جس اسلام کی بات کرتے ہیں پاکستان اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں بے روزگاری، غربت بڑھ رہی ہے حکمران طبقہ کل بھی شایان زندگی بسر کر رہا تھا آج بھی بسر کر رہا ہے۔کل بھی غریب رل رہا تھا آج بھی غریب رل رہا ہے۔ایسے میں آپ کی تقریروں کی کوئی وقعت نہیں رہے گی جب تک عملاً قدم نہیں اٹھا یا جاتا اب بھی وقت ہے کہ اگر آپ عوام کے جذبات سے نہیں کھیل رہے تو کچھ کر کے دیکھا لیں ورنہ عوام یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ آپ سے بہتر حالات تو ان کے دور میں تھے جن کو چور، ڈاکو جیسے بڑے بڑے القابات دیتے آپ نہیں تھکے۔ مقبوضہ کشمیر پر آپ کی تقریر اچھی تھی مگر آپ مانیں کہ آپ کی خارجہ پالیسی ناکام ہے آپ چند ممالک کی حمایت بھی حاصل نہیں کر سکے۔آپ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں 58ممالک کی حمایت حاصل ہو چکی ہے جبکہ یونائیٹڈنیشن ہیومن رائٹس میں صرف 16ووٹ ضرورت تھے لیکن آپ وہ بھی حاصل نہ کر سکے۔آپ پھر بھی کہیں کہ ہم نے کامیابی حاصل کی ہے تو اسے حماقت ہی کہا جا سکتا ہے۔ کشمیریوں کا قاتل مودی دنیا بھر میں جا رہا ہے اور اپنی حمایت حاصل کر رہا ہے اسلامی ممالک سے ایوارڈ لے رہا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ ایک تقریر سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا یہ ناممکن ہے گزشتہ 72سالوں سے کشمیری پر امن جدوجہد کے سارے راستے اختیار کر کے دیکھ چکے ہیں،دو ماہ سے کرفیو اور ہندوستانی جنگ کے باوجود وہ ڈٹے ہوئے ہیں لیکن آپ کی یہ منطق سمجھ نہیں آرہی کہ آزادکشمیر پر حملہ ہوا تو آپ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔کیا مقبوضہ کشمیر میں کیا گیا حملہ آپ کو نظر نہیں آتا یا ان بے بس مظلوموں کی مدد کرنا آپ پر ابھی فرض نہیں ہوا؟کیا آپ محض ان تقریروں کے ذریعے کل محشر کے دن للہ تعالیٰ کو مطمین کرلیں گے؟جب اللہ پوچھے گا کہ کشمیر کے مظلوم مسلمان پکار رہے تھے کہ مدد کرو ہمیں کمزور سمجھ کر دبایا جا رہا ہے ہماری عزتیں جان مال کچھ بھی محفوظ نہیں ہے ایسے میں آپ ایٹمی ملک پاکستان کے حکمران ہونے کے باوجود ان کی مدد نہ کر کے اسے کیا منہ دیکھاؤ گے؟ کیا آپ آخری کشمیری کی شہادت کا انتظار کرہے ہیں؟ آپ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ٹرمپ سے امیدیں لگا بیٹھے ہیں اور اللہ سے نا امیدی؟ اب یا کبھی نہیں کا وقت آن پہنچا ہے تاخیر بہت ہو چکی ہے عملی اقدام کی ضرورت ہے۔پاکستان کے عوام اور فوج بہادر ہے ان کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔شیروں کی قیادت کر رہے ہو تو شیر بنو ورنہ گیدڑ کی زندگی بھی کوئی زندگی ہے اور کچھ بھی نہیں کر سکتے تو مجاہدین کے جو راستے بند کیے ہوئے ہیں وہ کھولو۔آزادکشمیر اور پاکستان کے عوام اس جہاد میں شریک ہونا چاہتے ہیں وہ اس ذلت کی زندگی سے شہادت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔آزادکشمیر کے عوام نے یہ خطہ بھی جہا دسے حاصل کیا تھا وہ بھی اللہ کی تائید اور جہاد کے جذبہ سے آزادکریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان آپ امر ہونا چاہتے ہو تو اب عملاً قدم بڑھاؤ قوم آپ کے ساتھ ہے۔ورنہ آپ کی داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔کشمیریوں سے جس نے بھی غداری کی اس کا انجام عبرت ناک ہی ہو اہے۔



ظلم کے خلاف جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی


ظلم کے خلاف جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی شفقت ضیاء کشمیرکی تاریخ جتنی پرانی ہے اتنی ہی تحریک آزادی کشمیر بھی پرانی ہے کشمیریوں نے اس طویل جدوجہد میں قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے شاید ہی کوئی قربانی ہو جو نہ دی ہو،زندہ کھالیں بھی کھینچوائیں اور اپنے معصوم بچوں کوبھی قربان کیا۔عفت مآب خواتین کی عزتیں بھی تار تار ہوئیں ہندوستان کی طرف سے ظلم و جبر بربریت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے لیکن کشمیری اپنی جدوجہد سے باز نہ آئے۔کشمیر میں شایدہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں شہادت نہ ہوئی ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے باوجود دنیا میں انسانیت کے علمبردار اور دعوے دار خاموش بھی ہیں اور آنکھوں کے آگے پٹی بھی باندھ رکھی ہے۔اس لیے کہ کشمیری مسلمان ہیں ان کا یہ جرم انتا بڑا ہے جس کی ہر قیمت انہیں ہی چکانی پڑ رہی ہے حالانکہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں دردہوتا ہے تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر تک تقسیم برصغیر کے وقت کشمیریوں کواپنے فیصلے کا حق نہیں دیا گیا اور آج تک انہیں حق خود ارادیت نہیں دیا جا رہا۔1947میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں بے سروسامانی کے عالم (کیفیت) میں جذبہ شوق شہادت سے جوجددجہد کی گئی اس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا موجودہ خطہ آزاد ہوا،انقلابی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور اسے بیس کیمپ کی حیثیت دی گئی جو بعد میں اقتدار کے ریس کیمپ میں تبدیل ہوگئی اور 72سال گزرنے کے باوجود نہ یہ حقیقی بیس کیمپ بن سکا اور نہ چند قدم آگے بڑھ سکے۔ا س وقت دارالحکومت مظفرآباد اس لیے منتقل کیا گیا تھا کہ سرینگر قریب ہے اور اس کی طرف بڑھنا ہے لیکن اقتدار کے نشے نے منزل قریب ہونے کے باوجود دور کر دی جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کا جو وکیل تھا جو ایک نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا وہ دو قومی نظریہ، کلمے والا پاکستان بھی حقیقی پاکستان نہ بن سکا۔پہلے وزیر خارجہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا یاد رہے وہ وزیر خارجہ بھی قادیانی تھا اورا س سارے سفر میں اسلام کے نام اور اعلانات کے سوا کچھ نہ ہو سکا۔آج 72سال بعد بھی مدینہ کی ریاست بنانے کے اعلانات اور دعویٰ کے سوا چند قدم بھی اٹھتے نظر نہیں آتے ایسے میں توقع کی جاتی ہے کہ امت مسلمہ کشمیریوں کی حمایت کرے وہ پاکستان جس کا نام مقبوضہ کشمیر میں گولیوں کے بوچھاڑ میں کشمیری لیتے ہیں بلکہ شہادت کے بعد اسی پرچم میں دفن کیے جاتے ہیں اس پاکستان کے حکمرانوں نے ہمیشہ اس انداز میں وکالت کا حق ادا نہیں کیا جس انداز میں کردار ادا کیا جانا تھا اور آج پاکستان تقریروں،اعلانات،دعووں کے سوا کچھ نہیں کررہا بلکہ سودے بازی کی خبریں آ رہی ہیں ہاں ایسے میں پاکستان کے عوام کل بھی کشمیریوں کے ساتھ تھے آج بھی ساتھ ہیں۔کل بھی ان کا خون اس تحریک میں شامل تھا اب بھی وہ خون دینے کے لیے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے قیادت گیدڑوں کے پاس ہے۔قوم شیروں کی ہے 5اگست کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے قانون کو مودی کی طرف سے تبدیل کرنے کے بعد تحریک آزادی کشمیر ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔کشمیریوں نے ہندوستان کے قانون کو کل مانا تھا نہ آج مانتے ہیں اور نہ اس سازش کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا ہندوستانی خواب پورا ہونے دیں گے۔تا ہم ایسے میں حکومت پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے محض سیاسی،اخلاقی حمایت سے کام نہیں چلے گا۔کشمیریوں نے آزادی کے لیے پر امن جدوجہد کے تمام راستے اختیار کر کے دیکھ لیا ہے دنیا اپنے مفادات کی وجہ سے ہندوستان کے خلاف بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور پاکستان سے بات چیت کے لیے ہندوستان تیار نہیں اور نہ ہی بات چیت اب مسئلے کا حل ہے اقوام متحدہ بھی اپنی قراردادوں پر عملدر آمد کرانے سے قاصر ہے چونکہ وہ مسلمانوں کے لئے نہیں یہودیوں کیلئے ہے طاقت ور وں کے لیے ہے مظلوموں کیلئے نہیں،دنیا وسائل پر نظر رکھتی ہے۔ان کی سرمایہ کاری ہندوستان میں ہے جبکہ پاکستان معاشی طور پر کمزور تر ہو چکا ہے اسلامی ممالک کی بھی بڑی سرمایہ کاری ہندوستان کے ساتھ ہے ان کے حکمران بھی نام نہاد مسلمان ہیں،ایران ترکی جہاں قدرے بہتر حکومتیں قائم ہیں وہ حمایت کررہی ہیں جبکہ UAEبحرین جیسے عیاش حکمران مودی کو ایوارڈ سے نواز رہے ہیں حتیٰ کہ سعودی عرب بھی کھل کر حمایت نہیں کر رہا چونکہ ان ملکوں کے حکمران مفاد پرست اور غیروں کی سازشوں کا شکار ہو چکے ہیں یہ امریکہ کے ٹاؤٹ ہیں یہ امت مسلمہ کی اصل تصویر پیش نہیں کررہے اور نہ عوام کی ترجمانی کر رہے ہیں دوسری طرف ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور غلط سمت کا نتیجہ ہے کہ تنہائی کا شکار ہیں۔ حکمران امریکہ کے ٹرمپ سے توقعات رکھ بیٹھے ہیں جومسلمانوں اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے وہ کبھی بھی ہمارا حمایتی نہیں ہو سکتا۔یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے“لیکن اسی ٹرمپ کی ثالثی پر عمران خان ورلڈ کپ جیتنے جیسی خوشی کا اعلان کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ حکمرن سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ثالثی کرے گا اور کشمیر ہمیں لے کر دے گا یہ سوچ بڑی حماقت سے زیادہ کچھ نہیں۔ہندوستان تو ابھی انکار ی ہے اوریہ اس کی سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے کل اگر وہ مان جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر کسی صورت نہیں ملے گا خواہ وہ ہندوستان کو دیا گیا یا امریکہ نے اپنا اڈہ بنایا لیکن ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا کیاحکمران کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔؟؟ اگر ایسا نہیں تو ٹرمپ کی ثالثی نہیں ہمیں اپنی جدوجہد کو تیز کرنا ہو گا سفارتی محاذ ہو یا اندرونی محاذ قوم کو اعتماد میں لے کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا پاکستان کے عوام کشمیر ایشو پر ایک ہیں آخری حد تک جانے کو تیار ہیں لیکن حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے پر لگی ہوئی ہے جس سے کشمیر کاز کو نقصان ہو رہا ہے پاکستان کو حقیقی پاکستان بنانا ہو گا مدینہ کی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے اور اللہ کے بھروسہ پر جہاد کرنا ہو گا اس کے سوا اب راستہ نہیں ہے مقبوضہ کشمیر میں جنگ جاری ہے کشمیری کٹ رہے ہیں مر رہے ہیں اور ہمارے مجاہدین کی قیادت کو پابند کیا جا رہا ہے اس سے امریکہ تو شاید خوش ہو جائے لیکن ہماری جدو جہد کامیاب نہیں ہو سکے گی جنگ اچھی چیز نہیں لیکن ظلم کے خلاف اگر جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی کے مصداق آگے بڑھنا ہو گا۔اور اگر اندرون خانہ کوئی بندر بانٹ کر دی گئی ہے یا سوچا جا رہا ہے تو یہ لاکھوں شہداء کے خو ن سے غداری ہو گی اور اس کا انجام عبرت ناک ہو گا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ماضی کے حکمران خواہش کے باوجود وہ اس کی ہمت نہیں کر سکے وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ پاکستانی عوام ایسی قیادت کو ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بنا دیں گے چونکہ اس پر عوام متفق ہیں ماضی کے حکمرانوں نے اپنی سیاست کے بعد اپنی اولادوں کا بھی سیاست میں زندہ رکھنا تھا شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔عمران خان کو شاید ایسی ضرورت نہیں لیکن ان کی پارٹی کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی ایسے اقدام سے دور رہنا ہو گا ورنہ داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔کشمیری اتنی بڑی قربانیاں دینے کے بعد اپنے حصے بخرے نہیں کرنے دیں گیاشہدا کا مقدس خون رنگ لاے گا کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے البتہ منصوبہ سازوں کو اپنے انجام سے ڈرنا چاہیے حالات،واقعات اس طرف کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں مزید حالات خراب کر کے لاکھوں لوگوں کو بلخصوص وہاں کی قیادت کو راستے سے ہٹا کر ایسے حالا ت پیدا کیے جائیں کہ امریکہ بہادر کو کودنے کا موقع ملے اور ٹرمپ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوے کشمیر کے حصے بخرے کر دے اگر ایسا کیا گیا تو شہداء کے خون سے غداری کرنے والے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔اس انجام سے بچنے کے لیے حکومت پاکستان کو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جرات مندانہ فیصلے کرنا چاہیے شملہ معاہدے کو ہندوستان کے منہ پر مارنے کی ضرورت ہے سفارتی تعلقات ختم کیے جائے فضائی حدود بند کی جائیں جس سے گزشتہ عرصے میں چند دن بند رہنے سے اُسے اربوں کا نقصان ہوا تھا کشمیر پر سیاست اب بند ہونی چاہیے ایک آواز ہو کر ہر محاذ پر جدوجہد کو تیز کرنی چاہیے آزادی کشمیر کی منزل دور نہیں لیکن اس کے لیے اب جہاد کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے پر امن جدوجہد کو72سال کا طویل عرصہ بہت ہے۔اب آج نہیں تو کبھی نہیں کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے عمران خان کہتے ہیں ہنددستان نے حملہ کیا تو اینٹ کا جوا ب پتھر سے دیں گے۔ہندستان کو آزادکشمیر پر حملے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مقبوصہ کشمیر پراپنا قبضہ جمانے کی کوششیں کر رہا ہے ایک ماہ سے کرفیو لگا ہے اس سے بڑا جرم کیا ہے لائن آف کنٹرول پر بھی بسنے والے حالت جنگ میں ہیں آے روز شہادتیں ہو رہی ہیں پھرکون سی جنگ کا انتظار ہے؟مقبوضٰہ کشمیر میں ہندوستانی جنگ کا جواب دینا ہو گا ورنہ شہ رگ کاراگ الاپنے کا کوئی فائدہ نہیں قوم شوق شہادت سے سرشار ہے اور دنیا کی کو مضبوط ترین پاک فوج موجودہے بس قیادت کی جرات اور لیڈر شپ کی ضرورت ہے اللہ کرے ہم اپنی زندگیوں میں کشمیرکو آزاد ہوتے دیکھ لیں یاشہادت پا جائیں۔



آزاد کشمیر حکومت کے 3سال (شفقت ضیاء)


آزاد کشمیر حکومت کے 3سال شفقت ضیاء آزادکشمیر میں راجہ فاروق حیدر کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے تین سال کا عرصہ مکمل ہو گیا جس میں انہوں نے جہاں کچھ نمایاں کامیابیاں حاصل کیں وہاں کچھ اعلانات محض اعلانات ہی رہے۔مسلم لیگ کی حکومت سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی جس میں چند نمایاں میگا پراجیکٹس کا آغاز ہوا جن میں 3میڈیکل کالج،جامعات نمایاں ہیں۔بالخصوص پونچھ میں میگا پراجیکٹس کا کریڈٹ پیپلزپارٹی کو جاتا ہے جس کی بڑی وجہ اس وقت کے صدر ریاست حاجی یعقوب خان کی محنت اور کوششوں کا عمل دخل ہے۔گو کہ اس وقت کہا جاتا تھا کہ انہوں نے یہ عہدہ زرداری کو پیسے دے کر حاصل کیا ہے یہ اس منصب کے اہل نہیں ہیں۔صدر جامعات کا چانسلر بھی ہوتا ہے اس لیے بڑا پڑھا لکھا آدمی ہونا چاہیے۔ماضی کی بھی مثالیں دی جاتی رہیں کہ اس منصب پر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان جیسے لوگ رہے یہ سب درست مان لینے کے با وجود حاجی یعقوب کی تعمیر و ترقی سے دلچسپی اور عملی کام اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔پونچھ کے حصے میں اس بار بھی صدارت آئی مگر پی پی دورسے یک دم متضاد،موجود صدر ریاست بہت ہی پڑھے لکھے قابل آدمی ہیں جن کا تعارف پاکستان میں ہی نہیں بیرون ملک بھی ہے آپ کو جب اس منصب پر فائر کیا جارہا تھا اس وقت بہت سارے لوگوں کاخیال تھا کہ یہ اس منصب سے بڑے آدمی ہیں ان کے عہدہ صدارت کے بعد بالخصوص تحریک آزاد ی کشمیر اور بالعموم آزادکشمیر کے دیگر معاملات میں نمایاں تبدیلی آئے گی آزادکشمیر کی جامعات کامعیار بڑھے گا اور پاکستان سے اچھے تعلقات کے باعث میگا پراجیکٹس آئیں گے۔ایسے میں صدر ریاست سردار مسعود خان کے قریبی اور آزادکشمیر کے با اصول اور با کردار سیاستدان سردار خالد ابراہیم خان مرحوم واحد آدمی تھے جنہوں نے ان کے اس عہدے پر لیے جانے کی مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر سیاسی آدمی ہیں اس کا فائدہ نہیں ہو گا ان کی بات کو وقت نے درست ثابت کیا نہ ہی تحریک آزادکشمیر کو کوئی فائدہ ہو ااور نہ ہی آزادکشمیر بالخصوص پونچھ کے عوام کو کوئی فائدہ ہوسکا۔تا ہم فاروق حیدر حکومت نے آزادکشمیر میں چند اہم کام کیے جس میں این ٹی ایس کے ذریعے محکمہ تعلیم میں تعیناتیاں ایسا اقدام ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو امید کی کرن ملی ہے ورنہ پی پی حکومت کے دور میں میرٹ کا جنازہ نکال دیاگیا تھا۔نوجوان مایوسی کا شکار ہو گئے سفارش،رشوت کے بغیر نوکری ایک خواب بن گیاتھا۔موجود ہ حکومت کے دور میں غریب پڑھے لکھے با صلاحیت نوجوانوں کو بھی موقع ملا ہے اس میں شک نہیں کہ اس نظام میں مزید بہتری کی گنجائش ہے بالخصوص جو 10نمبر رکھے گئے اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ موجود ہ حکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین پر بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر پابندی کا اقدام بھی قابل تعریف ہے عمل در آمدگی کی ضرورت ہے۔اسی طرح آزادکشمیر کی موجود حکومت نے بارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک دینی فریضہ ادا کیا جو قابل تعریف اقدام ہے اسی طرح تیرہویں ترمیم کے ذریعے کشمیر کونسل سے مالیاتی وانتظامی اختیارات کو منتخب اسمبلی اور حکومت کو واپسی،این ایف سی سے ریاستی حصہ 40فیصد سے بڑھا۔ترقیاتی بجٹ کو 11ارب سے بڑھا کر 25ارب روپے تک لے جانے پبلک سروس کمیشن میں بہتری جیسے اقدامات نمایاں ہیں۔وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام کے ذریعے بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات پر بھی کام ہو ا تاہم اس کے صاف و شفاف نہ ہونے پر ماضی کی حکومت کی طرح سوالات ضرور موجود ہیں جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ آزادکشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے سڑکوں کی تعمیر اور دیگر اقدامات کے لیے جو کام ہو ا وہ نا کافی ہے ابھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کے زریعے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادار کیا ہے تاہم ہسپتالوں میں اضافہ ڈاکٹر ز اور دیگر سٹاف کی کمی جیسے مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے موجودہ حکومت کے ان تین سالوں میں فاروق حید ر کی دلیری بے باکی کی وجہ سے جہاں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہا ں بلدیاتی انتخاباب کا وعدہ پورا نہ ہو سکنا بڑی ناکامی ہے۔ 6ماہ میں انتخابات کا وعدہ تین سالوں میں بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا جس کی وجہ سے احتیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہو سکے۔عوام کے بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں جس کے لیے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں موجودہ حکومت اگر اس میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس کا بڑا اقدام ہو گا۔جس سے جہا ں عوام کو فائدہ ہو گا وہاں موجودہ حکومت کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہو گا۔آزاد کشمیر میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں حصہ ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے بجٹ میں دگنا اضافہ کے بعد تعمیر وترقی میں بھی نمایاں اضافہ نظر آناچاہئے۔موجودہ حکومت کے دور میں پونچھ میں تعمیر و ترقی کا پہیہ جام ہے ایسامحسوس ہوتا ہے وزیراعظم ناراض ہیں جس کی وجہ سے عوام میں غم وغصہ پایا جاتا ہے جبکہ صدر صاحب بھی لاتعلق ہیں شاید وہ تعمیر وترقی سے بڑھ کر بین الاقوامی شخصیت ہیں موجودہ حکومت کو اپنی کاکردگی کو بہتر بنانا ہو گا ورنہ مستقبل میں عوام کے پاس جاتے ہوے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ٭٭٭٭٭



سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت (شفقت ضیاء)


سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کشمیر جنت نظیر کو جہاں قدرتی حسن سے نوازا ہے وہاں اس مٹی میں ایسی خصوصیت رکھی ہے کہ اس کی غلام فضاؤں میں ایسی قد آور شخصیات نے جنم لیا جن کی خداداد صلاحیتوں، بصیرت،معاملہ فہمی کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت سردار محمد ابراہیم خان کی ہے جنہوں نے ظالم و جابر حکمرانوں اور غاصب قوتوں کے خلااف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے زمانہ کو جینے کا نیا انداز سکھایا اور تاریخ کے اوراق پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔سردار محمد ابراہیم خان اپریل ۵۱۹۱ء پونچھ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ہورنہ میرہ راولاکوٹ سے حاصل کی۔میٹرک کا امتحان سٹیٹ جوبلی ہائی سکول پونچھ سے پاس کیا۔آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد قانون میں اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔اور صرف ۲۲ سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر ریاست جموں و کشمیر کا پہلا نو عمر ترین بیرسٹر کا اعزاز حاصل کیا اور ۸۲ سال کی عمر میں ریاست جموں و کشمیر کے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کو اس نوجوان سے کوئی اور ہی کام لینا تھا۔آپ نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور 1946ء میں عملی سیاست میں کود پڑے اور مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون اسمبلی منتخب ہوئے۔۷۴۹۱ء میں آپ ہی کی دلولہ انگیز قیادت میں کشمیری عوام نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف مسلح جدو جہد کا آغاز کیا یہ وہ وقت تھا جب کشمیر میں ظلم و جبر ناانصافی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی ایسے حالات میں غازی ملت نے تحریک کو منظم کرنے کے لیئے سری نگر میں اپنی حاملہ بیوی اور ڈیڑھ سالہ بچے کو چھوڑ کر پاکستان کو کوچ کیا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔اس وقت کا تصور کیا جائے جب یہ مرد مجاہد اپنی رفیقہ حیات اور بیٹے کو چھوڑ کر ایک عظیم مہم کا آغاز کر رہا تھا بہادر اور بڑا انسان عظیم مقصد کی خاطر اتنی بڑی قربانی دے رہا تھا۔اتنی ہی بڑی اور عظیم وہ خاتون تھی جو راضی خوشی اس مقصد کے لیے رخصت کر رہی تھی۔ایسی ہی وہ قربانیاں تھیں جس کی وجہ سے نہتے مجاہد ین نے مہاراجہ کی فوجوں کو مار بھگایا۔مجاہدین سرینگر پہنچنے ہی والے تھے کہ مہاراجہ نے بھاگ کر بھارت سے فوج منگوائی اور بھارت اقوام متحدہ پہنچ کر جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی شخصیت ہی تھی جنھوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی کشمیری قوم کے لیے مستقبل کی راہ متعین کرتے ہوئے سرینگر میں اپنے گھر پر الحاق پاکستا ن کی قرارداد منظور کرائی جو قابل فخر کارنامہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔غاز ی ملت کے بے شمار کارناموں میں معاہدہ کراچی آپ کی دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے ۹۴۹۱ء میں حکومت پاکستان سے معاہدہ کر کے گلگت بلتستان کو انتظامی بنیادوں پر پاکستان کے سپر دکیا،جب ت پوری ریاست کا فیصلہ بشمول گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہیں ہو جاتا تب تک یہ معاہدہ کار آمد ہے۔۴۲ اکتوبر ۷۴۹۱ء کو مشکل ترین حالات میں آپ انقلابی حکومت کے بانی صدر بنے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۳ سال تھی یوں آپ کو اقوام عالم کا پہلا نو عمر صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔اور ایک ایسے وقت میں جب اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کی مالا تھی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کو۸۴۹۱ء میں کشمیر کا مسئلہ سیکورٹی کونسل میں اٹھانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آپ نے بھرپور انداز میں کشمیریوں کی نمائندگی کی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کا آزادی کشمیر میں وہی مقام و حیثیت ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں حاصل ہے۔آپ بانی آزاد کشمیر ہیں آپ کی خدمات کا اعتراف آپ کے سیاسی مخالفین نے بھی کیا ہے۔سیاسی اختلافات کے باوجود سردار محمد عبدلقیوم جو خودایک بڑے آدمی تھے اور تحریک آزادی کشمیر میں ان کا بھی اہم کردار ہے آپ نے غازی ملت کے جنازہ کے موقع پر ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان بڑے انسان تھے۔میں ان کا پہرے دار رہا ہوں۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ غازی ملت ہی اس تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔سردار محمد ابرہیم خان نے ساری عمر جرات اور بہادری سے سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا۔لیکن اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیا۔آپ کا شمار آزاد کشمیر کے ان عمائدین میں ہوتا ہے کہ جن کی اولاد کے دلوں میں بھی اپنے آباؤ اجداد کی خاطر قوم کا درد،بصیرت،جرات،بے باکی بد درجہ اتم موجود ہے۔آپ کے بیٹوں نے اپنے والد کے دور حکومت میں کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی اقتدار کی آڑ میں اپنے کاروبا یا اثر و رسوخ کو کسی ناپسندیدہ عمل کے لیے استعمال کیا۔ورنہ عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اقتدار والوں کے خاندان نسل در نسل کی کمائی کر لیتے۔قومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لوٹتے ہیں۔لیکن آپ نے اولاد کی جو تربیت کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔سردار محمد ابرہیم خان کے بیٹے خالد ابراہیم خان درویش صفت آدمی تھے۔ان کی سیاست اور نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن با اصول اور با کردار ہونے سے دشمن بھی اختلاف نہیں کر سکتا۔بانی صدر کا بیٹا ہونے پر اور بارہا ممبر اسمبلی منتخب ہونے کے با وجود ان پر کوئی داغ نہیں لگا۔دلیر،نڈر اور صاف و شفاف کردار کا مالک شخص ا ٓخری سانس تک کشمیریوں کے قومی تشخص اور حقوق کی بحالی کی جد و جہد میں مصروفِ عمل رہا۔غازی ملت ابرہیم خان اس دنیا فانی سے ۱۳ جولائی ۳۰۰۲ ء کو پورے کشمیر کو آزاد دیکھنے کا خواب اپنی آْنکھوں میں سمیٹے اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لیے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے باوجود اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا۔قربانیوں کی طویل جدو جہد کے بعد بھی وہ اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔آزاد کشمیر اور پاکستان کی عوام کو ان کی بھرپور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔عالمی دنیا جس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ان کو بیدار کرانے سیاسی اخلاقی سے بڑھ کر ان کے کندھوں سے کندھا ملا کر آگے بڑھنا ہو گا۔جب تک کشمیر مکمل آزاد نہیں ہو جاتا غازی ملت محمد ابرہیم خان کا مشن نا مکمل رہے گا۔اللہ تعالیٰ غازی ملت کے درجات بلند کرے جیسا ان کو توکل اور بھروسہ اپنے رب پر تھا اس کے مطابق انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کرے۔آمین ؁؁؁؁؁ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ٭٭٭٭٭٭



تباہ حال ادارے اور گڈ گورننس کے دعوے(شفقت ضیاء)


آزاد کشمیر چھوٹا سا خطہ ہے جس کو چلانے کے لیے ایک ڈپٹی کمشنر کافی ہے۔لیکن بے شمار ادارو ں کے با وجود عوامی مسائل کے انبار ہیں حکومتوں نے ادارے بری طرح تباہ کر دیے میرٹ پا مال ہوا حکومتی ذمہ داران نے ما ل بنانے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کیے جس سے لوٹ مار ہوسکے جس کی وجہ سے چند خاندان تو خوشحال ہوئے لیکن خطہ کی تعمیر و ترقی ہو سکی اور نہ ہی عوام کی خوشحالی؟؟آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا دعویٰ ہے کہ گڈ گورننس ہے حالانکہ تباہ حال اداروں میں کوئی تبدیلی نہ آسکی کرپشن اور لوٹ ما ر کے عادی آفیسران نے اپنی روش تبدیل نہیں کی جب تک ادارے اپنا کام درست طور پر نہ کر رہے ہوں اور عوام کو انصاف نہ مل رہا ہوتو پھر اچھی حکومت کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے این ٹی ایس کو لازمی قراردے کر اچھا اقدام کیا ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوان جو مایو س ہو رہے تھے ان میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اسی طرح سابق حکومت نے وزیروں مشیروں کی جو فوج ظفر موج رکھی تھی اس کے بجائے محدود کابینہ سے کام چلانا موجود ہ حکومت کا کارنامہ ہے جس پر اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے لیکن موجودہ حکومت اداروں میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی جس کی وجہ سے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں اور انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبو ر ہیں سابق وزیر اعظم سردار عتیق خان کے دور میں شہروں کی تعمیر وترقی اور خوبصورتی کے لیے ڈسٹرکٹ کی بنیاد پر ادارے بنائے گئے جو ایک اچھا اقدام تھا گو کہ ان کی حکومت بھی کرپشن کی وجہ سے مشہور رہی لیکن بد قسمتی سے پہلے دن سے ہی ان اداروں میں سیاسی اور پسند نا پسند کی بنیاد پر تعیناتیاں کی گئیں عوامی مفاد کے بجائے حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ان اداروں کو استعمال کیا ہر حکومت نے اپنے کارکنا ن کو نوازا جس سے اس ادار ے کا عوام کو فائدہ کم اور نقصا ن زیادہ ہوا ’’وادی پرل‘‘ میں بھی پی ڈی اے کے نام سے ادارہ بنایا گیا جس نے اس شہر کو بنانے کے بجائے لوٹ مار کا کام کیا جس کی وجہ سے آج تک کوئی بھی منصوبہ ڈھنگ سے مکمل نہ ہو سکا شہر کی تعمیر و ترقی میں نا کام ادارے نے ٹیکسوں کے ذریعے مال اگٹھا کرنے کے لیے اس کادائرہ کار ہجیر ہ تک پہنچا دیا حالانکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد صرف شہر کی تعمیر و ترقی تھا وہ مقصد تو پورا نہ ہو سکا البتہ لوٹ مار کے لیے ہجیرہ تک اس کی حدود پہنچ گئی ادارے کا قیام اپریل 1994 ء ؁ میں عمل میں لایا گیا جس کے بعد جزوی تکمیل شدہ پبلک ہاؤسنگ ا سکیم راولاکوٹ اور چھوٹا گلہ ا سکیم کو محکمہ تعمیرات عامہ سے منتقل ہوئی جس کے مطابق کنال کے 108 پلاٹ اور دس مرلے کے 249 پلاٹ جبکہ شاپنگ سنٹر کے لیے 8 کنال کمیونٹی سنٹر کے لیے 4 کنال چلڈرن پارک 13 کنال اور پوسٹ آفس 6 کنال رکھے گئے ادارہ نے جملہ پلاننگ موقع پر تبدیل کر دی اور پلاٹ بڑھا کر الائٹیوں سے رقم لے کر خرچ کی پلاٹ ہاء کی الاٹمنٹ پسند نا پسند کی بنیاد پر کی اور بعد میں ہاؤسنگ سکیم کے بڑے حصوں کو کمرشل بنادیا جس سب کا مقصد مال بٹورنا تھا اسی طرح چھوٹا گلہ ہاؤسنگ سکیم پر ادارے نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا اور کچھ حصے پر سابق مالکان قابض ہو گئے ادارے نے 1994 ء ؁ میں گلشن شہداء کے نام پرگردوارہ کے پاس اسکیم شروع کی اور الاٹمنٹ کے سلسلہ میں درخواستیں طلب کیں جس پر ایک کنا ل کے 190اور دس مرلے کے 230 پلاٹ الاٹمنٹ کیے جس پر ایک کنال کی قیمت 148500 جبکہ دس مرلہ کی 92000 تعین کی جس کی رقم وصول کر کے ادارہ نے گاڑیاں اور دیگر عیاشیوں پر خرچ کیے جبکہ زمین کے معاملات ابھی تک تہہ نہیں پا سکے اب اس سکیم کو کبھی کسی فرم کو دیا جاتا ہے کبھی کسی کو نتائج صفر ہی ہیں ۔جبکہ ادار ہ یہ سوچ رکھتا ہے کہ الائٹیوں سے مزید رقم بڑھا کر وصول کی جائے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ الائٹیوں کو پلاٹ کے ساتھ جرمانہ بھی دیا جائے الٹا ان کو جرمانہ دینے کا سوچنا نا انصافی کی انتہا ہے تا ہم اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے بھی ادارے کی نا اہل انتظامیہ کے بس کا رول نہیں ہے اس ادارے نے اس عرصہ میں رہائشی کمپلکس اور دکانیں تو ضرور بنائیں وہ بھی ایک طویل عرصے کے بعد مزید رقم لے کر انتہائی ناقص تعمیر کی گئی پلاٹ فلیٹ مافیہ کا گرواس سارے عرصے میں سرگرم رہا اور جعلی الاٹمنٹ بھی ہوتی رہی جس سے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا گیا اس گرو نے ہر آنے والے چیئر مین سیاسی اور بیورو کریٹس کے ساتھ مل کر لوٹ مار کا بازار گرم رکھا ادارے کی کرپشن اور تباہی کے ذمہ داران کا تا حال کوئی احتساب نہ ہو سکا ادارے کو تباہ کرنے والے اور عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے والوں کا سخت احتساب کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے اوراداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اسی صورت میں گڈ گورننس کے دعوے کو درست تصور کیا جا سکتا ہے ۔



آزاد حکومت کی مایوس کن کارکر دگی


آزاد حکومت کی مایوس کن کارکر دگی شفقت ضیاء آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت سال مکمل کر چکی ہے ۔فاروق حیدر نے قوم سے جو وعدے کیے ہنوذ تشنہ طلب ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے مقابلے میں کابینہ کا حجم کم رکھنا قابل ستائش عمل ہے گو کہ پارٹی کارکنان ایڈ جسٹمنٹ نہ ہونے پر ناراض ہیں فاروق حیدر پر دباؤ رہا لیکن آپ نے اس پر سمجھوتا نہیں کیا جس کا کریڈیٹ ان کوضرور جاتا ہے اس کے ساتھ موجودہ حکومت نے پبلک سروس کمیشن کو فعال بنایا محکمہ تعلیم میں میرٹ کی بحالی کیلئے این ٹی اس کا نفاذ ایک ایساقدام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے تھے گزشتہ پی پی دور حکومت میں جس طرح میرٹ کو پامال کیا گیا چوکیدار سے لے کر لیکچرار تک میرٹ مال اور جیال ہوتا رہا یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج شایدبنائے ہی اپنے لوگوں کو نوکریاں دینے کیلئے ہیں اسی طرح موجودہ حکومت نے ہسپتالوں میں ایمر جنسی کی سہولت کے لیے بھی اقدام اٹھایا تا ہم ہسپتالوں کی صورت حا ل عام آدمی کیلئے آج بھی عذاب بن رہی ہے عام آدمی کیلئے تعلیم اور صحت کی سہولتیں آج بھی قابل رحم حالت میں ہیں میرٹ کے ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کیلئے ضروری ہے کہ میٹرک بلکہ انٹر میڈیٹ تک کی تعلیمی قابلیت رکھنے والے اساتذہ کو فارغ کر کے نئے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تعینات کیا جائے تا کہ سرکاری سکولوں کی حالت بدل سکے اور عام آدمی آپنے بچوں کو معیاری تعلیم دے سکے قوم کے وسائل کا بڑا حصہ خرچ ہونے کے باوجود معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے عوام پرائیویٹ ادارواں میں تعلیم دینے پر مجبور ہیں NTS اچھا اقدام اس کے ساتھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہسپتالوں میں ایمرجنسی سہولت کے ساتھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے ڈاکٹر ز کی کمی غریب آدمی کو دوائی کی سہولت نہ ہو نا پریشانی کا باعث ہے تعلیم اور صحت انسان کی بنیادی ضرورت ہیں اس پر حکومت کو مزید سٹپ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کی مشکلات کم ہو سکیں فاروق حیدر نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ آج بھی تشنہ طلب ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات چھ ماہ کے اندر کرانے کا وعدہ بھی تھا بلدیاتی انتخابات سال گزرجانے کے باوجود دور دور تک دیکھا ئی نہیں دیئے جا رہے اس پر سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے تا کہ جمہوریت کی نرسریاں بحال ہو سکیں آزاد خطہ کا حق حکمرانی واپس لانے ریاستی وسائل کی ملکیت ،ایکٹ 74 میں ترامیم بے روز گاری کا خاتمہ لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ کا کیا بنا۔۔؟ آزاد کشمیر چھوٹا سے خطہ بجلی کی ضرورت صرف400 میکاواٹ جبکہ ہزاروں میکاواٹ پیدا کی جا رہی ہے نئے پراجیکٹ بن رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر میں مفت اور لوڈ شیڈنگ سے مکمل اسٰتثنی حاصل کیا جائے اس کیلئے جرات مندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جو آزاد خطہ کے عوام کا بنیادی حق فاروق حیدر ماضی میں اور انتخابی مہم کے دوران کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ان کی جماعت کی حکومت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے آزاد کشمیر جنت نظیر ہے سیاحت کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے گزشتہ دنوں راولاکوٹ میں اس کیلئے سیاحتی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیاجس میں فحاشی عریانی پر ڈیڑھ کروڑ روپے اُڑادیئے گئے اور سیاحت کے فروغ کیلئے اس میں کچھ نہیں کیا گیا اس طرح عوامی وسائل کو برباد کرنے کی نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملے۔ وزیر اعظم انفر اسٹکچر پروگرام جس کے تحت حلقے میں چار کروڑ روپے اپنے کارکنان کے ذریعے خرچ کرنے کا پروگرام رکھا گیا وہ ماضی کی حکومت کی طرح ہوائی اور غیر معیاری سکیموں کی نظر ہوا ہے ۔ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے ماضی میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوئی موجودہ حکومت کی بھی طرف سے اسی راستے کا انتخاب نیک شگون نہیں ۔۔۔ فاروق حیدر کے بارے میں پونچھ کے لوگوں کا خیال تھا کہ ان میں تعصب نہیں پایا جاتا موجودہ دور حکومت کے بارے میں عوام کا خیال ہے کہ فاروق حیدر مظفر آباد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں سال میں ایک بار بھی پونچھ با الخصوص راولاکوٹ نہ آنا اس کی مثال ہے فاروق حیدر حکومت کو یہ تاثر بھی ختم کرنا ہو گا آزاد خطہ چھوٹا سا ہے اس کی ترقی کیلئے یکساں اقدامات کی ضرورت ہے ریاست کو حقیقی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں مجموعی طور پر ایک سالہ کار کردگی مایوس کن ہے ۔