آزاد حکومت کی مایوس کن کارکر دگی

آزاد حکومت کی مایوس کن کارکر دگی شفقت ضیاء آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت سال مکمل کر چکی ہے ۔فاروق حیدر نے قوم سے جو وعدے کیے ہنوذ تشنہ طلب ہیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے مقابلے میں کابینہ کا حجم کم رکھنا قابل ستائش عمل ہے گو کہ پارٹی کارکنان ایڈ جسٹمنٹ نہ ہونے پر ناراض ہیں فاروق حیدر پر دباؤ رہا لیکن آپ نے اس پر سمجھوتا نہیں کیا جس کا کریڈیٹ ان کوضرور جاتا ہے اس کے ساتھ موجودہ حکومت نے پبلک سروس کمیشن کو فعال بنایا محکمہ تعلیم میں میرٹ کی بحالی کیلئے این ٹی اس کا نفاذ ایک ایساقدام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے تھے گزشتہ پی پی دور حکومت میں جس طرح میرٹ کو پامال کیا گیا چوکیدار سے لے کر لیکچرار تک میرٹ مال اور جیال ہوتا رہا یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج شایدبنائے ہی اپنے لوگوں کو نوکریاں دینے کیلئے ہیں اسی طرح موجودہ حکومت نے ہسپتالوں میں ایمر جنسی کی سہولت کے لیے بھی اقدام اٹھایا تا ہم ہسپتالوں کی صورت حا ل عام آدمی کیلئے آج بھی عذاب بن رہی ہے عام آدمی کیلئے تعلیم اور صحت کی سہولتیں آج بھی قابل رحم حالت میں ہیں میرٹ کے ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کیلئے ضروری ہے کہ میٹرک بلکہ انٹر میڈیٹ تک کی تعلیمی قابلیت رکھنے والے اساتذہ کو فارغ کر کے نئے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تعینات کیا جائے تا کہ سرکاری سکولوں کی حالت بدل سکے اور عام آدمی آپنے بچوں کو معیاری تعلیم دے سکے قوم کے وسائل کا بڑا حصہ خرچ ہونے کے باوجود معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے عوام پرائیویٹ ادارواں میں تعلیم دینے پر مجبور ہیں NTS اچھا اقدام اس کے ساتھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہسپتالوں میں ایمرجنسی سہولت کے ساتھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے ڈاکٹر ز کی کمی غریب آدمی کو دوائی کی سہولت نہ ہو نا پریشانی کا باعث ہے تعلیم اور صحت انسان کی بنیادی ضرورت ہیں اس پر حکومت کو مزید سٹپ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کی مشکلات کم ہو سکیں فاروق حیدر نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ آج بھی تشنہ طلب ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات چھ ماہ کے اندر کرانے کا وعدہ بھی تھا بلدیاتی انتخابات سال گزرجانے کے باوجود دور دور تک دیکھا ئی نہیں دیئے جا رہے اس پر سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے تا کہ جمہوریت کی نرسریاں بحال ہو سکیں آزاد خطہ کا حق حکمرانی واپس لانے ریاستی وسائل کی ملکیت ،ایکٹ 74 میں ترامیم بے روز گاری کا خاتمہ لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ کا کیا بنا۔۔؟ آزاد کشمیر چھوٹا سے خطہ بجلی کی ضرورت صرف400 میکاواٹ جبکہ ہزاروں میکاواٹ پیدا کی جا رہی ہے نئے پراجیکٹ بن رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر میں مفت اور لوڈ شیڈنگ سے مکمل اسٰتثنی حاصل کیا جائے اس کیلئے جرات مندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جو آزاد خطہ کے عوام کا بنیادی حق فاروق حیدر ماضی میں اور انتخابی مہم کے دوران کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ان کی جماعت کی حکومت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے آزاد کشمیر جنت نظیر ہے سیاحت کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے گزشتہ دنوں راولاکوٹ میں اس کیلئے سیاحتی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیاجس میں فحاشی عریانی پر ڈیڑھ کروڑ روپے اُڑادیئے گئے اور سیاحت کے فروغ کیلئے اس میں کچھ نہیں کیا گیا اس طرح عوامی وسائل کو برباد کرنے کی نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملے۔ وزیر اعظم انفر اسٹکچر پروگرام جس کے تحت حلقے میں چار کروڑ روپے اپنے کارکنان کے ذریعے خرچ کرنے کا پروگرام رکھا گیا وہ ماضی کی حکومت کی طرح ہوائی اور غیر معیاری سکیموں کی نظر ہوا ہے ۔ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے ماضی میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوئی موجودہ حکومت کی بھی طرف سے اسی راستے کا انتخاب نیک شگون نہیں ۔۔۔ فاروق حیدر کے بارے میں پونچھ کے لوگوں کا خیال تھا کہ ان میں تعصب نہیں پایا جاتا موجودہ دور حکومت کے بارے میں عوام کا خیال ہے کہ فاروق حیدر مظفر آباد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں سال میں ایک بار بھی پونچھ با الخصوص راولاکوٹ نہ آنا اس کی مثال ہے فاروق حیدر حکومت کو یہ تاثر بھی ختم کرنا ہو گا آزاد خطہ چھوٹا سا ہے اس کی ترقی کیلئے یکساں اقدامات کی ضرورت ہے ریاست کو حقیقی جمہوری فلاحی ریاست بنانے کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں مجموعی طور پر ایک سالہ کار کردگی مایوس کن ہے ۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری