مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں فرق رہنا چاہیے

مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں فرق رہنا چاہیے شفقت ضیاء مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہو ا اور ساڑھے چودہ سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد پہنچا۔راستے میں کوئی گملا نہیں توڑا۔ لاہور میں میٹرو بھی چلتی رہی اور ایمبولنس کو بھی راستہ ملتا رہا۔ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارچ ہے جس میں کسی سرکاری یا پرائیویٹ پرا پرٹی پر حملہ ہوا اور نہ ہی کوئی سڑک بلاک ہو ئی۔ موسم کی تبدیلی ہو یا دیگر مسائل پر امن مارچ 13دن تک جاری رہا۔ تاہم حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں کنٹینر لگانے اور میٹرو بند کرنے سے عوام کو ضرور تکلیف ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 2014میں عمران خان کا بھی دھرنا تھا جس میں پی ٹی آئی نے لشکر کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کی تھی۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا پولیس کو لہو لہان کیا گیااورپارلیمنٹ پر لعنت بھیجی جاتی رہی۔ سپریم کورٹ کی عمارت پر گندے کپڑے لہرائے گئے۔ بجلی کے بل جلائے اور سول نافرمانی کی تقریریں کو ن بھول سکتا ہے۔ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے اور اس وقت کا آزاد میڈیا پل پل کی خبریں دے رہا تھا جبکہ آج کا میڈیا اس طرح خبریں نہیں دے سکا۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مولانا مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں ناموس رسالت ؐ،ختم نبوتؐ کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ آپ آج کوئی نئی بات نہیں کر رہے مذہبی جماعت کے سربراہ میں اور اسلامی نظام آپ کے منشور میں شامل ہے۔ جبکہ عمران خان جو نئے پاکستان کی بات کرتے تھے ایک کروڑ نوکریوں 50لاکھ گھر بنانے کی بات کرتے تھے۔چوروں ڈاکوؤں سے لوٹی ہوئی رقم واپسی کی بات کرتے تھے اور کہتے تھے جب حکمران چور ہوتا ہے تو ٹیکس لگاتا ہے۔ پٹرول گیس مہنگی ہوتی ہے آج مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا ہے۔ گیس پٹرول بجلی ہر چیز آئے روز مہنگی ہو رہی ہے تو عوام پوچھتے ہیں کل چور حکمران تھے تو یہ چیزیں سستی تھیں آج یہ ہماری پہنچ سے دور کیوں ہو گئی ہیں ہمیں اس نئے پاکستان سے پرانا ہی لوٹا دیا جائے جب کارکردگی کچھ نہ بن پائی تو عمران خان نے بھی مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے مدینے کی ریاست بنانے کی بات شروع کر دی خداراہ! ایسی باتوں سے پہلے ایسا کردار تو لاؤ۔ چند قدم تو اس طرف اٹھا ؤ پھر بات کرو تو آپ کی بات میں وزن بھی ہو گا سیاست اور حکومت بچانے کے لیے ایسا کارڈ کیوں استعمال کرتے ہو جو دوسروں پر اعتراض کرتے ہو۔ اس طرح کے دعوے تو ضیاء الحق نے بھی کیے تھے اسلام کے مقدس نام پر لوگوں کو گیارہ سال تک بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ پاکستان میں کل نا انصافی، اقربا پروری، خاندان میں عہدے بانٹے جاتے اور کرپشن تھی تو آج بھی کچھ نہیں بدلا صرف طریقہ کار بدلہ ہے عمران خان جن کو چو ر، ڈاکوکہتے تھے وہ ان جماعتوں سے پی ٹی آئی میں آچکے ہیں۔ وہی کابینہ کے وزراء ہیں جن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کے رخصت ہوتے ہی ان کی کرپشن کھل کر سامنے آئے گی جس کا اظہار چیئرمین نیب بھی کر چکے ہیں کہ اگر حکومت کے لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے تو حکومت دو دن بھی نہیں چل سکے گی۔ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا اسے مدینہ کی ریاست ہی بننا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں کی انفرادی یا اجتماعی زندگی میں یہ کبھی نظر نہیں آیا البتہ جب ہر طرف سے ناکامی ہو جاتی ہے تو عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا جاتا ہے یہ کھیل اب بند ہو نا چاہیے۔محلات میں رہنے والے عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کرنے والے کبھی ایسا نظام نہیں لا سکتے۔ کشمیر کے مسلمانوں پر ہندوستا ن ظلم کر رہا ہے جبکہ حکمران ایک اچھی تقریر پر اتفاق کر کے بیٹھ گیا ہے۔ کشمیریوں کی مدد کے لیے جانے والوں کو ظالم جبکہ کرتار پور راہداری کھول کر تعلقات کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں جو کھلا تضاد اور ترجیحات کا اظہار ہے۔ کل حکمران مودی کے یار تھے تو آج کیا ہو رہا ہے؟ کشمیرکاز کو مولانا فضل الرحمن نہیں موجود حکمرا ن نقصان پہنچا رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کو اینٹ کا جواب پتھروں سے دینے کے دعوے دارجواب میں اینٹ بھی نہیں مارسکے۔ آخروہ وقت کب آئے گا جب حکمران جہادکا اعلان کرینگے جس کی طرف ساری قوم دیکھ رہی ہے۔ شوق شہادت سے سرشار عوام حکمرانوں کے اعلان کے منتظر ہیں جب دنیا کی بہترین اور قابل فخر پاک فوج کے ساتھ مل کر ہندوستان کے مظالم سے نہتے بے سہارامسلمانوں کو نجات دلائی جائے گی۔ اس کے راستے میں کو ن رکاوٹ ہے؟ حکمران ہی اگر اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں تو ان کے خلاف عوا م کو نکلناہو گا۔ عمران خان عوام کو بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دھرنے اور احتجاج اس لیے ہو رہے ہیں کہ یہ مجھ سے NROچاہتے ہیں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔حالانکہ کیس عدالت میں ہونے کے باعث ان کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے اور اب یہ بات تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہہ دی ہے کہ اس کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے پہلے ہی یہ اختیار ختم کیا ہوا ہے کاش یہ بات وہ وزیر اعظم کو بھی بتا دیتے کہ جو آپ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہو اس کا آپ کے پاس اختیار ہی نہیں اس لیے ہمیں کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ پلان اے اسلام آباد دھرنا ختم ہو گیا جو پر امن تھا جس سے وہ وزیراعظم کا استعفیٰ تو نہ لے سکے تاہم وہ ایک بڑے لیڈ رکے طور پر سامنے آئے ہیں اور یہ تاثربھی ختم کرانے میں کامیاب ہو ئے ہیں کہ یہ انتہا ء پسند اور غیر منظم لوگ ہیں بلکہ یہ ثابت کیا ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے والے مغربی تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ سنجیدہ با سلیقہ منظم اور پر امن لوگ ہیں انہیں آئندہ نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا تا ہم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی آزادی مارچ میں شرکت سوالیہ نشان رہی ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن کا پلان بی شروع ہو گیا ہے جو زیادہ خطرناک ہے اگرچہ انہوں نے اسے پر امن رکھنے کا ہی اعلان کیا ہے تا ہم ایسا ممکن نہیں لگتا چونکہ جب سڑکوں کو بلاک کیا جائے گا تو حکومت حرکت میں آئے گی جس سے تحریک پر تشدد بن سکتی ہے جس کو قیادت بھی اس طرح کنٹرول نہیں کر پائے گی۔ اس لیے مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ احتجاج ضرور کریں لیکن آپ عمران خان کے راستے پر نہ چلیں آپ عالم دین ہیں اور عمران خان مغرب کا تعلیم یافتہ ہے۔ دونوں میں فرق رہنا چاہیے جو اسلام آباد دھرنے میں دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری