کی محمد ؐسے وفا تو نے ہم تیرے ہیں

کی محمد ؐسے وفا تو نے ہم تیرے ہیں شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کی اور انسان کو تمام مخلوق میں اشرف المخلوقات بنایا۔انسانوں کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ہر دور میں انبیاء کرام تشریف لائے جو اپنے فرائض نبوت ادا کر تے رہے۔عرب میں تاریکی ہی تاریکی تھی شراب نوشی، قمار باز ی، حرام کاری، ظلم و جبر کا دور دورہ تھا۔ امیر امیرسے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہو تا جا رہا تھا۔ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ غلام اور آقا کا ایسا نظام تھا جس میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا اس زمانے میں قیصر و کسریٰ، ایرن، روم، یونان جو اعلیٰ تہدیب یا فتہ قومیں سمجھی جاتی تھیں وہ بھی ان برائیوں میں پیچھے نہ تھیں بلکہ ایک دوسرے سے سبقت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔ ایسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک عظیم ہستی حضر ت محمد مصطفی ﷺ کی تشریف لائی جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں دے دیا۔ آپ ؐ کا بچپن ہو یا جوانی نبوت سے پہلے کے چالیس سال اس معاشرے میں سب سے منفرد اور صاف ستھرے تھے یہی وجہ تھی کہ جب آپ ؐ نے دعوت کا آغاز کیا لوگوں کو جمع کر کے اپنے بارے میں پوچھاتو سب یک زبان ہو کر بولے آپ ؐ صاد ق وامین ہیں آپ جیسا اچھا انسان کوئی نہیں ہے لیکن ہم آپ کی دعوت کو قبول نہیں کر سکتے اس لیے کہ اس صورت میں ہمیں اپنے خاندان اپنی برادری اپنے رسم و رواج اور اپنے نظام کو چھوڑ نا پڑے گا۔ آپ اس نظام کی تبدیلی کی بات نہ کریں تو آپ کو حکومت دے سکتے ہیں اچھے خاندان سے شادی کر ا سکتے ہیں مال و دولت کی ضرورت ہے وہ آپ کے قدموں میں ڈھیر کر سکتے ہیں آپ اپنی عبادات بھی کر سکتے ہیں،لیکن آپ ہمارے اس نظام کو برا بھلا نہ کہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے نبی مہربان ؐ نے فرمایا تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دو میں اس دعوت سے بازنہیں آسکتا۔ دنیا سے اندھیروں کو مٹا کر دم لوں گا۔ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا ہے ظلم و جبر کے نظام کو ختم کرنا ہے اللہ کے بتائے ہوئے نظام کو لانا ہے خواہ اس کے لیے کتنی ہی قربانی دینی پڑے پھر دنیا نے دیکھا کونسی قربانی تھی جو اس عظیم مقصدکے لیے آپ ؐ نے نہیں دی یہاں تک کہ لہولہان ہوئے گھر وطن، سب کچھ قربان کیا اور 23سال کے مختصر عرصے میں عرب کا نقشہ بدل دیا۔ چنانچہ وہ خطہ جہاں جنگ و جدل تھا امن کا گہوارہ بن گیا۔ ظلم و نا انصافی کی جگہ عد ل و انصاف کا ایسا دور دورہ آیا کہ حقدار کو حق ملنے لگا کسی میں جرات نہ تھی کہ وہ کسی حقدارکے حق پر ڈاکہ ڈال سکے۔ وہ عورت جسے زندہ درگور کیا جاتا تھا اسے عزت و تکریم ملی، ماں بہن بیٹی کا درجہ دے کر وراثت کا حقدار ٹھہرایا اور اس کی پرورش پر جنت کی خوشخبری سنائی گئی یوں ذلت و رسوائی جس کا مقدر بنتی رہی اس کی قسمت بدل گئی آج پھر آپ ؐ کی کی تعلیمات سے دور ہونے کے سبب اشتہارات کی زینت بنا کر اسے عزت و احترام سے دور کیاجارہا ہے۔ محسن انسانیت ؐ نے انسانوں کو غلامی سے آزادی دی آقا وغلام کی تقسیم کو مٹایا۔ وہ جنہیں غریب کمزور سمجھ کر دبا دیا جاتا تھا ان غلاموں کوامام بنایا دنیا نے دیکھاعدل و انصاف کا ایسا معاشرہ قائم ہوا جو اپنی مثال آپ ہے۔ اسلامی حکومت کے ثمرات نے عرب سے نکل کر دنیا بھر میں اسلام کی شمع روشن کیں، دنیا میں ایک عرصے تک اسلامی نظام نافذ رہا لیکن بد قسمتی سے اپنوں کی نالائقیوں اور دشمنوں کی سازشوں سے آج دنیا میں مکمل اسلامی نظام نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے آپ ؐ کی ناموس پر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں ایک عرب سے زیادہ مسلمان ہیں لیکن مسلمان ملکوں کے حکمران امریکہ اور برطانیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں مسلمانوں کو لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو بنیا ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے،بابری مسجد کو شہید کیا جا رہا ہے،جبکہ دوسری طرف ہندوستان سے تعلقات بڑھانے کے لیے کرتار پور راہداری کو کھولا گیا ہے،عوام نہتے مظلو م مسلمانوں کے لیے جہاد کے لیے تیار ہیں جو نبی ﷺ کی ایک سنت ہے لیکن حکمران مصلحتوں کا شکار ہیں۔اسلام امن کا دین ہے دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے لیکن ظلم کے مقابلے میں جہاد کا درس دیتا ہے آج انسانیت اسی طرح کے مسائل کا شکار ہے عدل و انصاف کا نظام کہیں موجود نہیں ہے۔مسلمان ممالک وسائل رکھنے کے باوجود باہم اختلافات کا شکار ہیں۔ اپنے وسائل ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں ایسے میں محمد ﷺ سے محبت کرنے والوں کو اتحاد و اتفاق کے راستے کو اختیار کر تے ہوئے اس نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدو جہد کو تیز کرنا ہو گا جس کے لیے نبی مہربان ﷺ نے بے انتہا تکالیف اور مسائل کا سامنا کیا آج اس دین کو جو مکمل ضابطہ حیات ہے اسے عبادات تک محدود کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں دین اور سیاست کو الگ کیاجارہا ہے قوموں، برادریوں، علاقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے ایسے میں مسلمانوں نے اپنے حصے کا چراغ روشن نہ کیا تو کل آقا ﷺ کو کیا منہ دیکھائیں گے؟ ولادت مصطفیؐ کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نظام مصطفی ﷺہی میں انسانیت کی بھلائی ہے۔محمد ﷺ دنیا کے سب سے بڑے لیڈ ہیں ان کا لایا ہو ا نظام قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے بس ان کی اطاعت کی ضرورت ہے اسی صورت میں دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ سلام اس پر جس نے بے کسوں کی دستگیری کی سلام اس پر جس نے بادشاہی میں فقیری کی سلام اس پر جس کے گھر نہ چاندی تھی نہ سونا تھا سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا سلام اس پر اسرار محبت جس نے سمجھائے سلام اس پرجس نے زخم کھا کر پھول برسائے سلام اس پر جس نے زندگی کا راز سمجھایا سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا سلام اس پر فضا جس نے زمانے کی بدل ڈالی سلام اس پر کہ جس نے کفر کی قوت کچل ڈالی سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی الٹ دیتے ہیں تخت قیصریت تاج دارائی سلام اس ذات پر جس کے پریشان حال دیوانے سنا سکتے ہیں اب بھی خالد ؓ و حیدرؓ کے افسانے درود اس پر کہ جس کا نام تسکین دل و جان ہے درود اس پر کہ جس کے حلق کی تفسیر قرآن ہے

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری