نواز شریف کو ریلیف اور حکومت کو سُبکی

نواز شریف کو ریلیف اور حکومت کو سُبکی شفقت ضیاء اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی جان،مال،عزت کی حفاظت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام جنگ کے دوران بھی عورتوں،بچوں اور بیماروں کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ خلفائے راشدین کا یہ حال تھا کہ وہ جب دشمنوں سے مقابلے کے لیے فوجیں روانہ کرتے تو وہ فوج کو یہ ہدایت کرتے تھے کہ دشمن پر حملے کی صورت میں بچوں،عورتوں زخمیوں پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ جس دین نے حالت جنگ میں غیر مسلموں سے ایسے سلوک کا حکم دیا ہو وہ مسلمانوں کوباہم اختلافات کی صورت میں کیسے اس بات کی اجازت دے سکتا ہے؟ کہ اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔سیاسی اختلافات کو سیاست تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ بالخصو ص ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے لیے بنا تھا اور جس کی موجودہ حکومت مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کرتی ہے اس میں مخالفین سے بد ترین سلوک سوالیہ نشان ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہ ہو سکاجبکہ جمہوریت کومستحکم ہونے کے لیے وقت کم ملا 72سالوں میں 40سال مارشلوں کی نذر ہوئے باقی 32سالوں میں بھی سیاستدانوں نے سبق نہیں سیکھا پاکستا ن کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیشہ سیاست دانوں نے اقتدارکے لیے غیر جمہوری راستوں کا سہرا لیا جب اقتدار کے ساتھ اختیار کی سمجھ آئی تو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے غیر جمہوری طریقے اختیار کیے گئے۔ عوام میں مقبول سیاسی قیادت کو غلط طریقے سے راستے سے ہٹایا گیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ بینظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی آج بھی زندہ ہے اگر اسے سیاسی شکست دی جاتی تو آج اس کا وجود ہی نہ ہو تا۔ اب نواز شریف کو کبھی جیل میں ڈال کر اور کبھی اس کی بیماری کا فائدہ اٹھا کر اس سے غیر قانونی اور غیر آئینی باتیں منوانے کی کوشش کی جا تی ہے۔احتساب میں انتقام محسوس ہوتا ہے جس سے اس کی مقبولیت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے پاکستان کے عوام دو جماعتوں سے نکل کر تیسری جماعت سے توقعات وابستہ کر رہے تھے تبدیلی کی ایک خواہش تھی جو نوجوانوں میں بلخصوص پائی جاتی تھی لیکن بد قسمتی حکومت کی کارکردگی سے مایوسی پیدا ہوئی کارکردگی کو بہتر کرنے کے بجائے حکومت نے مخالفین کو نہ چھوڑنے NRO نہ دینے کے دعوؤں، سابق حکومتوں کو ملکی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانے پر زور دیا حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن والی تقرریں آج تک کی جا رہی ہیں۔لیکن یہ سب کچھ د م توڑ چکا ہے۔ اب یہ باتیں نہیں بک رہی اب عوام پوچھتے ہیں ان چوروں ڈاکوؤں کے دور میں ڈالر کی قیمت کیا تھی۔ پیٹرول،بجلی گیس اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں کیا تھیں اور آج کیا ہیں۔مہنگائی میں اتنا اضافہ کیوں ہوا؟ بے روزگاری اتنی کیوں بڑھی؟ وہ وقت بھی تھا جب ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 16گھنٹے ہوتی تھی ملک میں دہشت گردی تھی نواز شریف حکومت جب ختم ہوئی تو یہ مسائل نہیں تھے پھر کارکردگی تو بہتر ہونی چاہیے تھی حکومت کے پاس ان سوالوں کا جواب نہ بنا تو نواز شریف کی بیماری پر سیاست شروع کر دی گئی۔ جب حالات خطر ناک حد تک پہنچ گئے حکومتی ڈاکٹروں اور خود عمران خان کے بھیجے گے ڈاکٹروں نے رپورٹ دی کہ نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے پھر اسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام سہولتیں دینے کی بات کی انہی ڈاکٹروں کی رپور ٹ کے مطابق بیرون ملک بھی بھیجنے کی بات اور اپنے وزراء کو جو آئے روز بیماری کو مذاق بنا رہے تھے بیانات سے منع کیا لیکن جب چند مشیروں نے مشورہ دیا کہ اس طرح سے بیرون ملک بھیج دیا تو ہمیں نا قابل تلافی سیاسی نقصان ہو گا۔ان میں وہ لوٹے شامل تھے جو کل نوازشریف کے پاؤں پکڑتے تھے لیکن انہیں شامل نہیں کیا گیا وہ آج سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کل ان کے ساتھ بھی نہیں رہیں گے۔جس پر ہمیشہ کی طرح یو ٹرن لیتے ہوئے ایک ایسی شرط لگائی جسے تمام ماہرین قانون نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حتی کہ پی ٹی آئی کے ماہرین قانون نے بھی اس کی مخالفت کی اور ایسے غیر ضروری کہاہے حکومت کے اتحادی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی، چوہدری شجاعت اور ایم کیو ایم نے بھی اس کی مخالفت کی اور حکومت سے کہا کہ آپ اس موقع پر شرائط نہ رکھیں۔انسانی ہمدردی کے طور پر انہیں جانے دیا جائے اس سے آپ کو اخلاقی فتح حاصل ہو گی نیک نامی ہو گی لیکن شاید اس حکومت کے نصیب میں ہی نیک نامی نہیں ہے یوں معاملہ عدالت میں گیا وہاں بھی بھرپور مخالفت کی گئی لیکن کامیابی نہ ہو سکی اور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی یوں بیمار نوا زشریف کے ہاتھو ں حکومت کو شکست سے دو چار ہو ناپڑا۔ اگر عمرا ن خان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دیتے تو عوا م کی ہمدردیاں حاصل کرتے اور سبکی سے بھی بچ جاتے، مدینے کی ریاست بنانے کی باتیں کرنے والے کو سیاسی مخالفین کے ساتھ دشمن والا رویہ نہیں رکھنا چاہیے، بغض،نفرت زندگیوں سے کھیلنے پر اترآنا کوئی بھی شخص پسند نہیں کرتا۔ جمہوریت میں ایسا کلچر جس سے سیاسی مخالفین کے ساتھ دشمنوں سے بھی بد تر سلوک رکھا جائے کسی کے لیے بھی درست نہیں بلکہ ملک اور قوم کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس موقع پر یہ سوال بھی بنتا ہے کہ 72سال گزرجانے کے باوجود پاکستان میں اتنے اچھے ہسپتال نہیں بن سکے جس میں علاج کی تمام سہولتیں میسر ہوں۔ بلا شبہ اس میں وہ تمام حکومتیں ذمہ دار ہیں جو اس عرصے میں اقتدار میں رہی ہیں موجودہ حکومت بھی بری الذمہ نہیں ہے چونکہ KPIمیں 7سال سے وہ بھی اقتدار میں ہے لیکن جو جتنا زیادہ اقتدار میں رہے وہ اتنے ہی زیادہ ذمہ دار ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان تو ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہے برطانیہ جیسے ملک سے بہتر سہولتیں امریکہ میں ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برطانیہ میں اچھے ہسپتال نہیں ہیں ایسے ہی پاکستان میں گزشتہ ادوار میں کام ہوا ہے البتہ اچھے ہسپتال، یونیورسٹیاں بنانے کی ضرورت ابھی بھی ہے۔عمران خان سے یہی توقعات تھیں جس کی وجہ سے عوام نے ان کا ساتھ دیا اور آج بھی عوام چاہتے ہیں اس جانب توجہ دی جائے۔ امیر غریب کا امتیاز ختم کر کے عدل والے نظام کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے،حکومت نے سیاسی مخالفین کو شکست دینی ہے تو کارکردگی بہتر کرنی ہو گی اس کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا جائے گا اس سے کامیابی تو دور کی بات ہے مقبولیت میں کمی آئے گی جو ان پندرہ ماہ میں صاف دیکھا ئی دے رہی ہے۔وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی اور ہسپتال بنانے کا آغاز تو ہو جانا چاہیے تھا اپنے ہی غیر مسلم ممبر اسمبلی کی شراب کو حرام قرار دینے والی قرار داد منظور ہو نی چاہیے تھی، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر کروڑوں خرچ ہو سکتے ہیں تو بابری مسجد پر کوئی جاندار موقف تو آنا چاہیے تھا۔ کشمیر کا سودا نہیں کیا ہے تو مظلوم و بے بس کشمیری مسلمانوں کے حق میں تقریر سے آگے بڑھنا تو بنتا ہے۔ تکبر، غرور اور انا سے باہر نکل کر عوام کے مسائل پر توجہ دینی ہو گی،عوام کی چیخیں آسمانوں تک پہنچ گئی ہیں آپ کی مہلت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ٭٭٭٭٭

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری