ہوا کا رخ بدل رہا ہے

ہوا کا رخ بدل رہا ہے شفقت ضیاء سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بیرون ملک طبی معائنے کیلئے جانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان غصے میں نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ اپوزیشن کے کنٹینر پر دوبارہ آگئے ہیں انہوں نے ججز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے جبکہ جواب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت آپ نے دی ہائی کورٹ نے تو صرف جزویات طے کیں ہیں اس لیے ذرہ احتیاط سے بات کی جائے۔ نواز شریف کو بیرون ملک جانے سے پہلے حکومت کے میڈیکل بورڈ نے یہ رپورٹ دی تھی کہ ان کی صحت خراب ہے علاج نہ ہو ا تو جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اسی طرح وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے بھی کہا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے ان کو بیرون ملک بھیجناچاہیے خود عمرا ن خان نے کہا کہ میں نے شوکت خانم کے ڈاکٹر کو بھیج کر چک کرایا ہے واقعی ان کی صحت خراب ہے اس لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہیں پھرجب دیکھا کہ اس سے سیاسی نقصان ہو گا تو بونڈ کی شرط لگا دی تا کہ ووٹرز کو مطمئن کر سکیں ہم نے اتنی رقم لے کر انہیں باہر جانے کی اجازت دی ہے جب یہ پتا بھی نہیں چلا اور ہائی کورٹ کے ذریعے انہیں اجازت مل گئی تو پھر آپ نے ان کی صحت پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر حکومتی بورڈ وزیر صحت جو ان ہی کی پارٹی کی ہیں اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سمیت سب نے جھوٹی رپورٹس دی ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔اور اگر اصل بات یہ نہیں ہے کہ بلکہ عوام کے سامنے کیے گے وہ وعدے، دعوے ہیں جن میں سب سے زیادہ زور چوروں کو نہ چھوڑنے کا تھاجب کارکردگی سے عوام مایوس ہیں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد مطمئن کرنا اور بھی مشکل سمجھ کر یوٹرن لینا پڑ رہا ہے تو کیا اس سے عوام ایک بار پھر بے وقوف بن سکیں گے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت دے گا تا ہم ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ہاتھ سے جانے کے بعد عمران خان کنفیوذ ہو گے جس کی وجہ سے وہ اس طرح کی تقریریں کر رہے ہیں لیکن ہوا کا رخ بدلہ بدلہ سا لگ رہاہے حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی بدلی سی ہیں۔ نواز شریف کی بیماری پر ان کا موقف کھل کر حکومت کے خلاف آیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا لہجہ بھی بدل گیا ہے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے اب اپوزیشن کے حساب سے نکل کر حکومت کے 15ماہ کے حساب کی طرف جا رہے ہیں جس سے یہ تاثر ختم ہو جائے گا کہ یک طرفہ احتساب ہو رہا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ اب باری عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈرو ں کی آنے والی ہے۔ چیئرمین احتساب اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم حکومت کے لوگوں کا اس لیے احتساب نہیں کررہے کہ اس سے حکومت چند دن بھی نہیں رہ سکے گی اب یہ تبدیلی کیسے آگئی ہے؟ یہ ہوا کا رخ تبدیل کیسے ہو رہا ہے اس کے پیچھے کون ہے؟ یقینا اس کے پیچھے وہی ہوں گے جنہوں نے پہلے ہوا چلائی تھی۔ پانچ سال پہلے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس بھی اب روزانہ کی بنیاد پر چلنا شروع ہو گیا ہے جس میں بانی رکن اصغر بابر نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور دیگر ممالک سے غیر قانونی طور پر بڑی فنڈنگ ہو ئی ہے جس میں کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے۔یہ اہم نوعیت کا کیس ہے جس کو مختلف بہانوں سے حکومت طول دیتی رہی ہے جس سے محسوس ہو تا ہے کہ اس میں کچھ ایسا ہے جس کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ ہے ورنہ دوسروں کو تلاشی دینے پر زور دینے والے بھاگ کیوں رہے ہیں۔ گو کہ یہ کیس اتنا جلدی فیصلے کی پوزیشن میں نہیں آسکے گا تا ہم یہ تلوار بھی موجود ہے یوں عمران خان حکومت چاروں طرف سے گھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری کی وجہ سے عوام میں مقبولیت پہلے ہی کم ہو چکی ہے ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کی اپوزیشن والی تقریرسمجھنا اتنا مشکل نہیں ہے، تبدیلی کے نعرے اور دعوے 90دن سے 06ماہ پھر سال سے 15ماہ تک پورے تو دور کی بات ہے چند قدم بھی نہ بڑھ سکے۔ مہنگائی کا طوفان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ تعمیر و ترقی کہیں نظر نہیں آرہی ہے ایسے میں کرپشن کے کیسز بنا کر اپوزیشن کو جیلوں میں بند کرنے کے بعد اب وہ بھی باہر جا رہے ہیں اور کرپشن کا ایک پیسہ ملک کو حاصل نہ ہو سکا۔ ایسے میں ووٹرز اور سپورٹرز مطمئن کرنے کے لیے عمران خان کے پاس اس کے علاوہ کونسا راستہ ہے لیکن اگر واقعی ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا تو تحریک انصاف میں موجود لوگ جن پر کیس موجود ہیں، ان کی گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں تو حکومت کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں حکومت کو سابقہ حکومتوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ تقریروں، دعوؤں سے بڑھ کر اب اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے پہلے ہی حکومت کی اہم وزارتوں میں دوسری جماعتوں کے لوگ موجود ہیں اب مزید ان کی بلیک میلنگ میں آنے کی بجائے نئے انتخابات ہی بہتر ہوں گئے تاہم ہوا بتارہی ہے سب کچھ سمیٹا جانے کو ہے لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے حکومت دھاندلی سے آئی یا اداروں کی طاقت سے آئی ہے جمہوری طریقے سے ہی جانی چاہیے عوام کی چیخیں پہلے ہی بہت نکل چکی ہیں اور نکلیں گی لیکن بہت ساروں کو آرام آچکا ہے جن کو ابھی بھی کچھ امید ہے انہیں آنے والے عرصے میں آجائے گا۔ حکومت کی تلاشی سے سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری