طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات

طلبہ یونین اور بلدیاتی انتخابات تحریرشفقت ضیاء اسلامی جمہوریہ پاکستان بدقسمتی سے 72 سالوں میں نہ اسلامی بن سکا اور نہ ہی جمہوری،ملک میں سب سے زیادہ عرصہ ڈکٹیٹروں کی حکومت رہی جس کے اثرات سیاسی جماعتوں پر بھی پڑے،کسی بھی بڑی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے موروثیت اور سرمایہ داری کا راج ہے چند خاندانوں اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں میں سیاست آگئی ہے اسلامی نظام اور حقیقی جموریت کے خلاف ان سب کا اتحاد ہے نظریاتی سیاست ختم ہوچکی ہے ملک کا باصلاحیت پڑھا لکھا طبقہ اب سیاست سے دور ہوتاجارہا ہے سرمائے کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس کے لیے ناجائز طریقہ سے دولت جمع کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی تینوں بڑی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کھبی ڈکٹیٹر کے ساتھ ہوتے ہیں اور کبھی جمہوری حکومتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ان کی قابلیت خاندان،برادری اور سرمایہ ہے جس کے زور میں یہ لوٹے کامیاب ہوجاتے ہیں۔جب نظریاتی،سیاست ختم ہوجاتی ہے اور پارٹیوں کے اندر بھی جموریت نہیں رہتی تو نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔ جمہوریت کی نرسری طلبہ یونین پر ڈکٹیٹر کے دور میں پاپندیاں لگائی گئی ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف تحریک میں طلبہ کا اہم کردار تھا جس نے دوسال کے اندر استعفیٰ دینے مجبور کردیا تھا یہی وجہ تھی کہ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے خوف محسوس کرتے ہوئے طلبہ یونین پر پاپندی لگا دی کہ کوئی منظم تحریک نہ چل سکے اس کا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی قیادت پیراشوٹ کے ذریعے آنا شروع ہوگئی جو لوگ نرسری سے تیار ہوکر آتے تھے ان کی جگہ سرمائے نے لے لی جس کی وجہ سے کرپشن نے راستے بنا دیے طلبہ یونین کی یہ پاپندی ڈکٹیٹرکے دور میں تو سمجھ آتی ہے لیکن ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے دور میں کیوں رہی؟ اعلانات کے باوجود پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں اسے بحال کیوں نہیں کیا؟مسلم لیگ ن تو کبھی اس کی حامی نظر نہیں آئی بلکہ غیر محسوس انداز میں اس کے خلاف رہی ہے جبکہ تحریک انصاف کو ابھی پندرہ ماہ ہوئے ہیں اس کا تو کوئی قصور نہیں ہے تقریباً 35 سال سے اس پر پاپندی کے باوجود جمہوری حکومتوں کے دور میں بھی طلبہ یونین کی پاپندی کے خلاف کوئی بھر پورآواز نہ بلند ہوسکی،جوآواز بلند بھی ہوئی اس کو میڈیا نے کوئی لفٹ نہ کرائی،شاید وہ رنگ پسند نہیں تھایا رنگین نہیں تھی اچانک یہ سرخ سرخ سڑکوں پر کہاں سے آئے اور کون لایا؟طلبہ یکجہتی مارچ جو طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر تھا اس میں اداروں کے خلاف نعرے کیسے جمہوری تھے؟طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر غیر جمہوری اور غیر مناسب زبان استعمال کرنے پر حکومت حرکت میں آئی تو بلاول بھٹو اور احسن اقبال کو کیوں تکلیف ہوئی ہے؟نظریات کا پرچار کرنا ہرا یک کا حق ہے کوئی سرخ انقلاب کی بات کرے یا سبز کی۔یہ الگ بات ہے سرخ انقلاب ماسکو میں د فن ہوچکا ہے لیکن جس انداز میں یہ احتجاج کیا گیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ یونین بحالی کے بجائے پاپندی کو طول دینے کاکوئی اور ہی منصوبہ ہے ورنہ یونین کی بحالی تک ہی محدود رہنا چاہیے تھا،سیاسی جماعتوں کو اس طرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرنی چاہیے،بلخصوص وہ سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں رہی ہیں ان کو تو یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ یونین کی بحالی کی بات کریں انھیں پہلے معافی مانگنی چاہیے کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں طلبہ یونین کو بحال نہیں کیا اب نظریاتی اور جمہوری بننے کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے کندھے سے فائر کیا جائے،اس کے باوجود تحریک انصاف حکومت جس کو نوجوانوں کی زیادہ حمایت بھی حاصل ہے اسے یونین بحال کردینی چاہیے لیکن اس کے لیے سخت ضابطہ اخلاق بھی بناناچاہیے ماضی میں طلبہ یونین کی بحالی سے نقصانات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی جماعتیں انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں کالجوں،یونیورسٹیوں میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے جس سے تشدد جنم لیتا ہے اچھے جمہوری اور پرامن ماحول سے ہی مثبت نتائج آسکتے ہیں،ماضی میں طلبہ یونین سے بہترین قیادت تیار ہوئی جو آج بھی پاکستان اور آزادکشمیر میں نمایاں نظر آتی ہے لیکن منفی پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں ہے، طلبہ کو جمہوری حق دینے کے ساتھ منفی سرگرمیوں کی روک تھام بھی ضروری ہے، آزادکشمیر حکومت کی طرف سے یونین بحالی کااعلان احسن اقدام ہے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے یہاں کا سیاسی ماحول بھی بہتر ہے اور رواداری باہم عزت واحترام بھی پایہ جاتا ہے تاہم سیاسی جماعتوں کی مداخلت تعلیمی اداروں میں نہیں ہونی چاہیے۔ہر طرح کی مداخلت کا دروازہ بند رہنا چاہیے اور ایسا ضابطہ اخلاق بننا ضروری ہے جس سے تعلیمی حرج بھی نہ ہے اور تعلیمی اداروں میں تشدد بھی نہ آئے ماضی میں جو خامیاں تھیں ان کو دور کرتے ہوئے یونینز کی بحالی سے اچھی قیادت سامنے آنے کا موقع ملے گا جو اس وقت کی بڑی ضرورت ہے بدقسمتی سے طلبہ یونین پر پاپندی سے سیاسی جماعتوں میں پڑھی لکھی باصلاحیت قیادت سامنے نہیں آرہی ہے اس کے لیے طلبہ تنظیموں کو بھی بہت محنت کرنی پڑے گی ایک طویل عرصے سے پاپندی کی وجہ سے اچھا صحت مند ماحول پیدا کرنا آسان کام نہیں ہے جس طرح سیاسی کلچر بن چکا ہے اسے خٹم کرکے محنت اور صلاحیت کی حوصلہ افزائی اور چوردروازوں کو بند کرنا ہوگا۔ وزیراعظم فاروق حیدر نے الیکشن سے قبل کامیابی کے بعد چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کا وعدہ بھی کیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوسکا بارہا اعلانات کے باوجود بلدیاتی انتخابات اورسٹوڈنٹس یونین کی بحالی نہ ہوسکی تو اس کا نقصان مسلم لیگ ن کو بہت ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے بلکہ اچھا وقت ہے کہ آپ بلدیاتی انتخابات کراکرآئندہ کے لیے اپنے لیے سیاسی میدان ہموار کریں بلدیاتی انتخابات اور سٹوڈنٹس یونین ہی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی نرسریاں ہیں اگر یہ مضبوط ہوں گی تو جمہوریت مستحکم ہوگی ڈکٹیٹروں کو اس کا خوف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جمہوری حکومتوں کو اس سے کیا خوف ہے سمجھ سے بالا ہے کیا سیاسی جماعتوں کے اندر ڈکٹیٹر شپ موروثیت اور سب سے بڑھ کر سرمایہ داروں نے قبضہ کرلیا ہے اگر ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تو سٹوڈنٹس یونین بحال اور بلدیاتی انتخابات جلد ہونے چاہیے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری