ریاستی جماعتوں کا مستقبل

ریاستی جماعتوں کا مستقبل شفقت ضیاء ملک کی سیاست ہی نہیں تمام شعبہ زندگی زوال پذیرہیں جس کی وجہ سمت کا درست نہ ہو نا ہے ملک بنا تھا کہ اس کا نظام اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گا آئین بھی اسی کی بات کرتا ہے مگر عملاًکوئی بھی شعبہ اس کے مطابق نہیں ہے نظام تعلیم 72سال گزر جانے کے باوجود نہ یکساں ہو سکا اور نہ سمت کا تعین ہو سکا کہ ہم کیسی قوم تیارکرنا چاہتے ہیں امیرروز بروز امیر اور غریب، غریب تر ہو رہا ہے طاقتور اپنی طاقت اور سرمائے سے سب کچھ حاصل کرلیتا ہے اور غریب انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہے گزشتہ دنوں ڈبل گریجویٹس نے جس طرح ہسپتال پر حملہ کر کے اپنی تعلیم اور قانون کا مذاق بنایا اس سے ہر سنجیدہ اور پڑھے لکھے انسان کا سر شرم سے جھک گیا لیکن ان ماہرین قانون کی دیددلیری کا یہ حال کہ انہوں نے ان کالے کوٹوں والوں کے کالے کرتوتوں کی مزمت کرنے کے بجائے ان کے حق میں ہڑتال کا اعلان کر دیا جس سے ثابت ہوا کہ کس قدر پستی میں گر چکے ہیں۔ سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے لیے لال لال مظاہروں کے ساتھ ہی اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادکو ایک نوجوان کے خون سے لال لال کر دیا گیا جس نے ثابت کیا کہ سٹوڈنٹ یونین بحالی نہیں مقاصد کچھ اور ہیں ورنہ ایسی صورت میں کیسے یونین بحالی کا رسک لیا جا سکتا ہے۔سیاسی جماعتیں بہتر قانون سازی اور اچھی جمہوری روایت دینے میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں سرمایا دار طبقہ سیاسی جماعتوں پر قابض ہو تا جا رہا ہے پاکستان میں اقتدار میں آنے والی بڑی سیاسی جماعتوں نے آزادکشمیر میں بھی اپنے پنجے مضبوط کرنے کے لیے نہ صرف جماعتیں بنائی بلکہ ان کو سپورٹ کرتے ہوئے اقتدار میں لاتے رہے۔ پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی حکومت رہی آزادکشمیر کے انتخابات میں وہی کامیاب کرائی جاتی رہی جس کی وجہ سے ریاستی جماعتیں مضبوط نہ ہو سکی۔ اس میں زیادہ قصور آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کا بھی رہا ہے۔جو اقتدار کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار پائی گئی ہیں۔ مسلم کانفرنس مضبوط تاریخی سیاسی جماعت تھی جسے پاکستان سے مسلم لیگ کی حمایت حاصل رہی سردار عبدالقیو م مرحوم نے تو ایک عرصے تک جماعت اسلامی کو بھی آزادکشمیر میں نہیں بننے دیا کہ ہم یہی کام کررہے ہیں اور مسلم لیگ ن تو مسلم کانفرنس کو ہی اپنی جماعت سمجھتی رہی لیکن سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے بعد جماعت میں اختلافات بڑھتے گئے۔ سردار عتیق جو اپنے والد کے دور سے ہی سیاست میں پوری طرح اترے ہوئے تھے بلکہ اقتدار کے دور میں خوب قبضہ جمائے رکھا والد کی صحبت اور سیاسی تربیت کی وجہ سے سیاسی باریکیوں کو سمجھنے کے باوجودانا اور اقتدار کی لالچ کے باعث جماعت کو بچا نہ پائے۔ نواز شریف کے مشکل وقت میں ڈکٹیٹر مشرف سے قربت اور ملٹی ڈیموکریسی جیسے فلسفے پیش کیے جاتے رہے تا ہم اپنی تمام تر چالاکیوں اور سیاسی چالوں کے با وجود مسلم کانفرنس کو نہ بچا سکے اور آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن بن گئی جو آج بر سر اقتدار ہے اور ریاستی جماعت مسلم کانفرنس دو سیٹو ں پر آکر ٹھہری ہے اس کی وجہ جماعت میں انتخابات نہ کرانا اقتدار اور پارٹی قیادت اپنے ہی پاس رکھنا ہے سردار عتیق سے جتنا اختلاف بھی کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ آزادکشمیر کی لیڈر شپ میں بہترسیاسی بصیرت، سمجھ بوجھ، معاملہ فہم اور پاکستان میں اچھے تعلقات رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال کامیاب نہیں ہو سکے اور مستقبل میں بھی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آرہی ایسے میں دیگر ریاستی جماعتوں کے مستقبل کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جماعت اسلامی آزادکشمیر کبھی بھی پارلیمانی سیاسی میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی حالانکہ اس کے اندر جمہوریت پائی جاتی ہے اس کی قیادت تبدیل ہوتی رہی ہے قابل با صلاحیت قیادت اور منظم جماعت کے ساتھ عوام کی خدمت کے کاموں کے باجود مقبول نہ ہو سکی۔ جس کی وجہ اس کی سیاسی حکمت عملی اور سیاست میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے اختلاف کے بعد سردار خالد ابراہیم خان نے 1990میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی بنائی بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں یہ خطہ آزاد ہوا ان کے فرزند جو خود انتہائی با کردار انسان تھے جن کی جمہوریت اور میرٹ کے لیے بڑی قربانیاں تھیں جو اپنے آپ کو پہلے پاکستانی اور پھر کشمیری کہتے تھے پاکستان میں اچھے تعلقات بھی تھے تحریک آزادی کشمیر میں قربانیاں دینے والے خاندان کے اس بیٹے کی ریاستی جماعت دو حلقوں تک محدود رہی۔بلکہ اب عملاً ایک حلقے تک محدود ہو چکی ہے سردار خالد ابراہیم کا سیاست میں منفرد مقام تھا ان کی صاف ستھری سیاست کے ان کے مخالفین بھی متراف تھے۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اندر بھی جمہوریت رکھی اور تسلسل سے انتخابات ہوتے رہے آپ خود کئی بار امیدوار نہ بنے جس کی وجہ سے دیگر لوگو ں کو بھی موقع ملتا رہا انتخابات کے نتیجہ میں آپ کی جماعت کو نقصان بھی ہوتا رہا کئی لوگ جماعت سے نکل گئے لیکن آپ نے اس جمہوری تسلسل کو بند نہیں ہو نے دیا۔ خالد ابراہیم موروثی سیاست کے حق میں نہیں تھے تا ہم اپنے شوق اور جدوجہد سے آگے بڑھنے کے مخالف بھی نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے زندگی میں کبھی اپنی اولاد کو آگے نہیں لایا بلکہ آپ کی وفات تک اکثر لوگ تو ان کی اولاد کے ناموں تک سے واقف نہ تھے خالد ابراہیم کی وفات کے بعد ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ان کے بیٹوں کے نام سامنے آئے اور ایک بیٹے کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کا فیصلہ شاید ان کی اہلیہ نے کیا ہے۔جو وقت اور حالات کے مطابق درست تھا جس کے نتیجے میں خالد ابراہیم کی ہمدردی اور دیگر سیاسی جماعتو ں کی حمائت سے حسن ابراہیم کا میاب ہو گئے اور حاجی یعقوب جیسا مضبوط امیدوار شکست سے دوچار ہوا۔ خالد ابراہیم کی وفات کے بعد دوسرا مرحلہ پارٹی انتخاب کا آیا تو پارٹی نے مرکزی رہنما نبیلہ ارشاد جو خالد ابراہیم کے ساتھ جنرل سیکرٹری بھی رہ چکی تھیں جیسی متحرک کارکن کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کے نام پر پارٹی رکنیت سے فارغ کر دیا جس کے نتیجے میں حسن ابراہیم تو بلا مقابلہ پارٹی صدر بن گئے لیکن نبیلہ ارشاد نے اپنی الگ پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا جو اُن کی غلط فہمی ہے یا کسی کا مشورہ لیکن پارٹی بنانا تو آسان کا م ہے چلانا خالہ جی کا گھر نہیں تاہم پارٹی کو ایک بڑا نقصان ضرورہوگا۔ بدقسمتی سے ایک اور ریاستی جماعت جو خالد ابراہیم کی وفات سے مشکل میں تھی ایک اور جھٹکے سے دوچار ہو گئی ہے اس موقع پر پارٹی کی سینئر قیادت کو ذمہ دار ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی کو بچانا چاہیے تھا اور حلقے کی قیادت کے ساتھ پارٹی قیادت کا بوجھ حسن ابراہیم پر نہ ڈالا جاتا تو پارٹی کے لیے زیادہ بہتر ہو تا۔ اس کے اثرات کیا ہوں گئے آنے والا وقت ہی بتائے گا تا ہم لگتا نہیں کہ یہ جماعت اب اپنے آپ کو سنھبال سکے گئی

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری