طاقتور بچاؤ

طاقتور بچاؤ شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے کے لیے انبیاء علیہ الصلوۃ واسلام بھیجے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت لے کر آتے رہے آخر میں حضرت محمد ﷺ قرآن کی صورت میں اپنی کتاب ہدایت لے کر آئے جو رہتی دنیا تک راہ نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر، فاسق اور ظالم ہیں گویا اللہ کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کراپنے یا دوسرے انسانوں کے بتائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرنے والے دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کا اطلاق گھر سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک ہر صاحب حیثیت کے فیصلوں پر ہوتا ہے ملک پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا اس کا قانون قرآن و سنت کو سپریم کہتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس عدل ا نصاف والے نظام کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا جا سکا۔ جس کی وجہ طاقتور اور امیرکی طرف سے رکاوٹیں ہیں چونکہ اسلام سب کو مساوی حقوق دیتا ہے اسلامی نظام ہو تو طاقتور کو بھی جرم پر وہی سزا ملے گی جو کمزور کو ملے گی تاکہ کوئی امیر مال کے زور پر انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقہ اس عدل والے نظام کو نافذ کرنے کے بجائے اس کے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا ہے اگر کبھی کسی طاقتور کے خلاف فیصلہ آبھی جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے اور سارے جرائم پیشہ اٹھ کھڑے ہو جاتے ہیں جب غریب انصاف کے لیے ساری زندگی دھکے کھانے پر مجبور ہوتا ہے اپنی خون پسینے کی کمائی اور وقت سب کچھ لگا دینے کے باوجود اس زندگی میں انصاف حاصل نہیں کرپاتا یہ ظلم کا نظام ہے جس میں غریب اور مظلوم لوگوں کی آہیں اور سسکیاں آسمانوں تک جاتی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ظالم پکڑ میں آجاتے ہیں اور ان کی چیخیں دیدنی ہوتی ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی ہے اصل حصہ آخرت میں ہوتا ہے جہاں کوئی بھی ظالم بچ نہ پائے گا پاکستا ن اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے جو کلمے کی بنیاد پر وجود میں آیا آج ہندوستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر یہ وجود میں آیا تھا وہ اس وقت کی قیادت کی دور اندیشی کا ثبوت ہے لیکن اگر پاکستان حقیقی اسلامی جمہوری پاکستان بن جاتا تو ساری دنیا کے مظلوم و محکوم عوام کو طاقت حاصل ہوتی،کشمیر میں ہونے والے مظالم پر یوں خاموشی نہ ہوتی جس کے باشندے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں سے نجات دلائی جائے لیکن دنیا خاموش ہے اور پاکستان کے حکمران بھی ان کے لیے کچھ کرنے کے بجائے اپنے اقتدار میں مگن ہیں ان مظلوموں کی بد دعائیں اور شہداء کے مقدس خون سے غداری کرنے والے اپنے انجام کوکچھ پہنچ چکے ہیں اور باقی بھی پہنچیں گے جنرل مشرف کو آئین توڑنے کے سنگین غداری کیس میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے جس میں ایک طاقتور شخص کو سزاد ی گئی ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان جب اپوزیشن میں ہوتے تھے کہتے تھے دو نہیں ایک پاکستان بنائیں گے جس میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو گا۔جنرل مشرف نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے ان پر سیدھا آرٹیکل 6 لگتا ہے جس کی سزا پھانسی ہے آج جب عدالت نے فیصلہ دے دیا تو تحریک انصاف کی حکومت طاقتور کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے یہ ایسی حکومت ہے جس کے وزراء کی بڑی تعداد انہی لوگوں پر مشتمل ہے جو ماضی میں مشرف حکومت کا بھی حصہ رہے اس لیے وہ سارے لوٹے بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں قانون کو ان کے خلاف بھی حرکت میں آئے گا؟ کیا ان کی طرف سے توہین عدالت نہیں ہو رہی؟ یہ تو ایک چیف جسٹس کے دماغ پر سوالات اٹھا رہے ہیں اس لیے کہ شاید اتنا بڑا فیصلہ یا تو کوئی بڑے دل والا دے سکتا ہے یا دماغ میں کوئی مسئلہ ہو۔ جو بھی ہو حکومت کی طرف سے کھل کر سامنے آنے کا مطلب یہی ہے کہ عمران خان نے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے کل تک چیف جسٹس پاکستان کو یہ کہنے والے کہ طاقتور کو قانون کچھ نہیں کہتا آج کہتے ہیں منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا جائے تو درست فیصلہ ہے اس لیے مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں جشن مناتے ہیں اور ڈکٹیٹر کے خلاف فیصلہ سے حکومت تکلیف محسوس کرتی ہے ایسا کیوں ہے؟ ماضی میں منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی قتل کر دیا گیا اس وقت بھی سیاستدان یا تو خاموش رہے یا جشن مناتے رہے لیکن ایک ایسے شخص کو سزا ملنے پر جس نے آئین وقانون ہی نہیں توڑا کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچایا مسجدوں کو تالے لگائے قوم کی ان بیٹیوں کو طاقت کے بل بوتے پر جلا کر رکھ دیا جو دین کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ ملک کو سیکولر بنانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے جو اتاترک کو اپناآئیڈیل سمجھتا تھا جس کے بارے میں جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ اس نے ملک او ر قوم کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا۔ملک میں دو بار مارشل لاء۔ جامعہ حفصہ میں ظلم کیا، عافیہ صدیقی کو دشمن کے حوالے کیا، اکبر بکٹی کو قتل کیا، 12مئی کو درجنوں افراد قتل ہوئے اور کئی جرائم ہیں جوناقابل معافی ہیں تا ہم یہ بات بھی درست ہے کہ اس کے ساتھ شریک دیگر لوگوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارا عدالتی نظام اور فیصلوں پر بھی کئی سوالات ہیں۔ ڈکٹیٹر کو تحفظ دینے والے اور ان کو قانونی جواز فراہم کرنے والے بھی بری الذمہ نہیں ہیں۔ یوں ماضی میں ہر ایک پر چپٹے نظر آتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضٰی میں سبق سے سیکھا جائے، تمام ادارے اپنا اپنا احتساب کریں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ ان سے دور رہنے کا عزم کریں اور ہر ایک اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو اس طرح کے مسائل نہیں ہو ں گے۔ سب سے بڑھ کر ملک کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ نظام نافذ کیا جائے جب تک اسلام کا عادلانہ نظام نفاذ نہیں ہو گا افراتفری رہی ہے ملک اور قومیں انصاف سے چلتی ہیں۔ محسن انسانیت نے فرما یا ہے۔" تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک ہوگئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں اور کمزور کو پکڑ دیتی تھیں۔ آپ ﷺ نے عملاً ایسا نظام لا کر بھی دنیا کو دیکھایا۔ صحابہ کرام ؓ کے دور میں غیر مسلم کو بھی انصاف ملتا تھا اور کہی فیصلے مسلم کے خلاف بھی ہوئے اس لیے مدینے کی ریاست کی باتیں کرنا تو آسان ہے لیکن عملاً وقت آنے پر ثبوت بھی دینا پڑتا ہے۔ طاقتور کے خلاف فیصلہ آنے پر سبق سیکھنا چاہیے،۔ ظلم نا انصافی کے اس نظام کے خاتمہ اور مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دے کر ہی نجات مل سکتی ہے ورنہ جنرل مشرف بھی بہت طاقتور ہوتا تھا تکبر اور غرور آخر مٹ جاتا ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری