قوم کا شاندار مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے

قوم کا شاندار مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے شفقت ضیاء تعلیم ایک ایسی روشنی ہے جس سے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ عرب کے اندھیروں میں اوجالا دنیا نے دیکھا جاہل اور بد بودار معاشرے سے خوشبو ایسی پھیلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے چار سو معطر ہو گئی جب تک تعلیم سے رشتہ مضبوط رہا مسلمان دنیا میں امام رہے اس نور سے ہر قوم نے فائدہ اٹھایاپھر اپنوں اور غیروں کی سازشوں نے علم سے دور کیازلت وپستی مقدر بنی قوم کے بجائے ہجوم بنتے گئے۔ 72سال گزر جانے کے باوجود جو پاکستان نظریے کی بنیاد پر بنا تھا جسے دنیا کی امامت کرنی تھی یکساں تعلیمی نظام نہ دے سکا آج امیروں کے لیے الگ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جہاں بھاری بھرکم فیسیں ہیں آکسفورڈ کا نصاب ہے ایک پلے گروپ کے طالب علم کی فیس سے کہیں گھروں کا ماہانہ نظام چلتا ہے دوسری طرف سرکاری سکولز ہیں جو غریبوں کے بچوں کے لیے ہیں جس میں کوئی معیار نہیں اور نہ ہی کسی کی دلچسپی ہے جبکہ تیسرا نظام تعلیم مدارس میں پڑھایا جاتا ہے یوں حکمران ہمیشہ دعوے کرتے ہوئے آتے ہیں اور کچھ کیے بغیر اپنا وقت پورا کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت نے بھی بڑے دعوے اور وعدے کیے تھے لیکن جس طرح دوسرے شعبے میں کچھ نہ ہو سکا اس شعبہ میں بھی سمت درست نہ ہو سکی وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں یونیورسٹیاں بنانا تو دور رہا اب یونیورسٹیوں میں نئی پالیسی سے بھاری فیسیں ادا کرنا غریب طالب علم کے بس کا رو گ نہیں رہا۔ آنے والے عرصے میں تعلیم حاصل کرنا خواب بن رہا ہے نصاب تعلیم تبدیلی تو دور کی بات اب ایسا کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے جو مغربی ہے جس میں فحاشی عریانی ہے،جس سے ملک مزید تبائی کی طرف جائے گا جس میں میڈٰیابھی خوب کردار ادا کر رہا ہے ایسے میں سنجیدہ حلقوں کو سنجیدگی سے غورکرنا ہو گا آزاد کشمیر چھوٹا سا خطہ ہے جس کا کلچر روایات اچھی ہیں۔ جس کا تعلیمی تناسب 77فیصد ہے۔جو پاکستان سے بہت اچھا ہے 6ہزار سے زیادہ تعلیمی ادارہ جات ہیں لیکن سرکاری اداروں کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ادارے تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں غریبوں کے بچوں کو بہتر تعلیم میسر نہ ہونے سے طبقاتی نظام بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے نصاب اور معیار تعلیم پر توجہ نہیں دی بلکہ میرٹ کو بری طرح پامال کیا جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تبائی آئی قومی خزانے کا زیادہ حصہ شعبہ تعلیم پر لگنے کے باوجود نتائج اچھے نہیں آرہے ہیں۔جس پر حکومتیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں دکھاتیں موجودہ حکومت کی طرف سے چند اچھے اقدامات اٹھائے گے ہیں جس میں ا ین ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ نمایاں ہے گو کہ اس میں بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے تاہم ماضی کے مقابلے میں بہتری آئی ہے لیکن گزشتہ دنوں پی ایس ای ممبران کی طرف سے مدت ختم ہونے پر جاتے جاتے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے والی خبر کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنہ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اسی طرح این ٹی ایس کے جو دس نمبرات ہیں اس کی وجہ سے آئے روز ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جس سے میرٹ میں بڑی تبدیلی لائی جاتی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہوگیا ہے جس پر حکومت کو نوٹس لیتے ہوئے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ان نمبرا ت کو تعلیمی کئیریر میں بدلینا چاہیے۔ اساتذہ تعلیم جیسے مقدس شعبہ سے وابستہ ہیں جو انبیاء کا پیشہ ہے حضورﷺ کا فرمان عالی شان ہے مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے اس لیے اس کا پاس رکھنا چاہیے کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت کو اساتذہ حاضری نہ ہونے ٹھیکہ سسٹم ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں بائیو میٹرک مشینیں لگانی پڑی ہیں تاکہ حاضری یقینی بنائی جاسکے پھر اس سے بھی بڑا ظلم یہ کہ کچھ سکولوں میں ان مشینوں کو خراب کردیا گیا تھا تاکہ حاضری سے جان چھوٹ جائے اور گھر بیٹھ کر حرام کھایا جائے انھیں محض چند ہزار کے جرمانے کرنے کا حکومتی اقدام بھی درست نہیں ہے انھیں ملازمت سے فارغ کیا جانا چاہیے جنہوں نے جان بوجھ کر ایساکیا ہے یہی محدود سے ایسا طبقہ ہے جواس مقدس شعبہ کو بدنام کررہا ہے۔یہی تعلیمی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حکومت نے ایسے تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جن میں مطلوبہ تعداد نہیں ہے اس طرح سب سے اہم اقدام جس سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری کے نمایاں امکانات ہیں وہ ملازمین کے بچوں کی سرکاری تعلیمی اداروں میں لازمی تعلیم ہے جس پر اساتذہ تنظیموں کی طرف سے احتجاج کی دھمکی بھی آئی تھی اور مذاکرات کی بات بھی سامنے آئی تھی حکومت کو اس پر کسی صورت گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہیے یہ ایسا اقدام ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے اور اس سے شعبہ تعلیم کی کامیابی کا انحصار ہے ماضی میں بھی حکومتیں احتجاجی دھمکیوں،ووٹ سے محرومی کے خوف کی وجہ سے ایسے اقدامات سے گریز کرتی رہی ہیں جس کا نتیجہ سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے اب یا کھبی نہیں کی صورتحال ہے حکومت کو اس پر ہر صورت عملدرآمد کراناچاہیے۔ بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں سرکاری اساتذہ کرام کے بچوں کی تعلیم حاصل کر نے کے اعلان پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے بلکہ اگلے مرحلے میں تمام سرکاری ملازمین کو بھی پاپند کیا جانا چاہیے جب اساتذہ کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں آجائیں گے تو پھر معیار بہتر ہوجائے گا بلکہ آنے والے وقتوں میں سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ ملنا مشکل ہوجائے گا کون پاگل ہوگا؟جو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھاری فیس دے گا اگر وہی معیاری تعلیم سرکاری اداروں میں ملے گی موجودہ وقت میں آزادکشمیر میں بعض سرکاری کالجز ایسے ہیں جن میں بچوں کو داخلہ ملنا مشکل ہوگیا ہے ان کالجز میں کیپٹن حسین شہید کالج راولاکوٹ بھی شامل ہے جس کی ماڈل کلاس میں ایک ہزار سے زائد نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو داخلہ ملتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کام کیا جائے تو بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں سٹاف کی قلت کی شکایات ہیں بعض تعلیمی اداروں کی بلڈنگ نہیں ہیں پرائمری سکول میں پچیس طلبہ تک کو ایک استاد دینا بھی درست نہیں چونکہ مختلف کلاسز کے بچے ہوتے ہیں ایک معلم حق ادا نہیں کرسکتا کم ازکم دومعلم ہونے چاہیے سرکاری تعلیمی اداروں میں لیب اور لائبریریوں پر بھی توجہ درکار ہے پرائمری سکولز میں اگر اچھی تعلیم یافتہ معلمات تعینات کی جائیں توبہتری آئے گی بعض تعلیمی اداروں کے پاس کھیل کے میدان بھی نہیں ہیں جوا ٓج کی بڑی ضرورت ہیں صحت مندسرگرمیوں کے لیے سہولتیں دی جائیں اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں جو سہولتوں کی کمی ہے اسے پورا کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی پر سختی سے عملدرآمدکرادیا گیا تو چند سال میں نقشہ بدل جائے گا اس کے ساتھ ہی حکومت کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام رکھناچاہیے چھوٹی چھوٹی دکانوں میں ادارے بن چکے ہیں معمولی تنخواہ پر کم تعلیم یافتہ ناتجربہ کار ٹیچرز بھرتی کی ہوئی ہیں لیب،لائبریوں اور کھیلوں کے میدان بہت کم پرائیویٹ اداروں کے پاس ہیں اسی طرح جس طرح کا کلچر دیا جارہا ہے اس پر سنجیدگی سے مل بیٹھ کر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا مجموعی طور پر بہت اچھا اور اہم کردار ہے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے اور جو کمیاں ہیں انھیں دور کیا جانا چاہیے۔قوم کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے ہر باشعور فرد کو اس میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی اسے لازمی قرار دیا جانا چاہیے جو قرآنی تعلیم سے واقفیت رکھتے ہوں جن حالات سے ہماری نسل نو گزررہی ہے اس میں قرآنی تعلیم انتہائی ناگزیر ہوچکی ہے حکومت آزادکشمیر ان تعلیمی پالیسیوں پر عملد رآمد کرالیتی ہے تو قوم کا مستقبل شاندار ہے اور نیک نامی دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ان سب لوگوں کو اجر ملے گا

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری