تباہ حال ادارے اور گڈ گورننس کے دعوے(شفقت ضیاء)

آزاد کشمیر چھوٹا سا خطہ ہے جس کو چلانے کے لیے ایک ڈپٹی کمشنر کافی ہے۔لیکن بے شمار ادارو ں کے با وجود عوامی مسائل کے انبار ہیں حکومتوں نے ادارے بری طرح تباہ کر دیے میرٹ پا مال ہوا حکومتی ذمہ داران نے ما ل بنانے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کیے جس سے لوٹ مار ہوسکے جس کی وجہ سے چند خاندان تو خوشحال ہوئے لیکن خطہ کی تعمیر و ترقی ہو سکی اور نہ ہی عوام کی خوشحالی؟؟آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا دعویٰ ہے کہ گڈ گورننس ہے حالانکہ تباہ حال اداروں میں کوئی تبدیلی نہ آسکی کرپشن اور لوٹ ما ر کے عادی آفیسران نے اپنی روش تبدیل نہیں کی جب تک ادارے اپنا کام درست طور پر نہ کر رہے ہوں اور عوام کو انصاف نہ مل رہا ہوتو پھر اچھی حکومت کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے این ٹی ایس کو لازمی قراردے کر اچھا اقدام کیا ہے جس سے پڑھے لکھے نوجوان جو مایو س ہو رہے تھے ان میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اسی طرح سابق حکومت نے وزیروں مشیروں کی جو فوج ظفر موج رکھی تھی اس کے بجائے محدود کابینہ سے کام چلانا موجود ہ حکومت کا کارنامہ ہے جس پر اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے لیکن موجودہ حکومت اداروں میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی جس کی وجہ سے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں اور انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبو ر ہیں سابق وزیر اعظم سردار عتیق خان کے دور میں شہروں کی تعمیر وترقی اور خوبصورتی کے لیے ڈسٹرکٹ کی بنیاد پر ادارے بنائے گئے جو ایک اچھا اقدام تھا گو کہ ان کی حکومت بھی کرپشن کی وجہ سے مشہور رہی لیکن بد قسمتی سے پہلے دن سے ہی ان اداروں میں سیاسی اور پسند نا پسند کی بنیاد پر تعیناتیاں کی گئیں عوامی مفاد کے بجائے حکمرانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ان اداروں کو استعمال کیا ہر حکومت نے اپنے کارکنا ن کو نوازا جس سے اس ادار ے کا عوام کو فائدہ کم اور نقصا ن زیادہ ہوا ’’وادی پرل‘‘ میں بھی پی ڈی اے کے نام سے ادارہ بنایا گیا جس نے اس شہر کو بنانے کے بجائے لوٹ مار کا کام کیا جس کی وجہ سے آج تک کوئی بھی منصوبہ ڈھنگ سے مکمل نہ ہو سکا شہر کی تعمیر و ترقی میں نا کام ادارے نے ٹیکسوں کے ذریعے مال اگٹھا کرنے کے لیے اس کادائرہ کار ہجیر ہ تک پہنچا دیا حالانکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد صرف شہر کی تعمیر و ترقی تھا وہ مقصد تو پورا نہ ہو سکا البتہ لوٹ مار کے لیے ہجیرہ تک اس کی حدود پہنچ گئی ادارے کا قیام اپریل 1994 ء ؁ میں عمل میں لایا گیا جس کے بعد جزوی تکمیل شدہ پبلک ہاؤسنگ ا سکیم راولاکوٹ اور چھوٹا گلہ ا سکیم کو محکمہ تعمیرات عامہ سے منتقل ہوئی جس کے مطابق کنال کے 108 پلاٹ اور دس مرلے کے 249 پلاٹ جبکہ شاپنگ سنٹر کے لیے 8 کنال کمیونٹی سنٹر کے لیے 4 کنال چلڈرن پارک 13 کنال اور پوسٹ آفس 6 کنال رکھے گئے ادارہ نے جملہ پلاننگ موقع پر تبدیل کر دی اور پلاٹ بڑھا کر الائٹیوں سے رقم لے کر خرچ کی پلاٹ ہاء کی الاٹمنٹ پسند نا پسند کی بنیاد پر کی اور بعد میں ہاؤسنگ سکیم کے بڑے حصوں کو کمرشل بنادیا جس سب کا مقصد مال بٹورنا تھا اسی طرح چھوٹا گلہ ہاؤسنگ سکیم پر ادارے نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا اور کچھ حصے پر سابق مالکان قابض ہو گئے ادارے نے 1994 ء ؁ میں گلشن شہداء کے نام پرگردوارہ کے پاس اسکیم شروع کی اور الاٹمنٹ کے سلسلہ میں درخواستیں طلب کیں جس پر ایک کنا ل کے 190اور دس مرلے کے 230 پلاٹ الاٹمنٹ کیے جس پر ایک کنال کی قیمت 148500 جبکہ دس مرلہ کی 92000 تعین کی جس کی رقم وصول کر کے ادارہ نے گاڑیاں اور دیگر عیاشیوں پر خرچ کیے جبکہ زمین کے معاملات ابھی تک تہہ نہیں پا سکے اب اس سکیم کو کبھی کسی فرم کو دیا جاتا ہے کبھی کسی کو نتائج صفر ہی ہیں ۔جبکہ ادار ہ یہ سوچ رکھتا ہے کہ الائٹیوں سے مزید رقم بڑھا کر وصول کی جائے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ الائٹیوں کو پلاٹ کے ساتھ جرمانہ بھی دیا جائے الٹا ان کو جرمانہ دینے کا سوچنا نا انصافی کی انتہا ہے تا ہم اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے بھی ادارے کی نا اہل انتظامیہ کے بس کا رول نہیں ہے اس ادارے نے اس عرصہ میں رہائشی کمپلکس اور دکانیں تو ضرور بنائیں وہ بھی ایک طویل عرصے کے بعد مزید رقم لے کر انتہائی ناقص تعمیر کی گئی پلاٹ فلیٹ مافیہ کا گرواس سارے عرصے میں سرگرم رہا اور جعلی الاٹمنٹ بھی ہوتی رہی جس سے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچایا گیا اس گرو نے ہر آنے والے چیئر مین سیاسی اور بیورو کریٹس کے ساتھ مل کر لوٹ مار کا بازار گرم رکھا ادارے کی کرپشن اور تباہی کے ذمہ داران کا تا حال کوئی احتساب نہ ہو سکا ادارے کو تباہ کرنے والے اور عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے والوں کا سخت احتساب کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے اوراداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اسی صورت میں گڈ گورننس کے دعوے کو درست تصور کیا جا سکتا ہے ۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری