رمضان نیکیوں کا موسم بہار

رمضان نیکیوں کا موسم بہار شفقت ضیاء اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنی زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نصیب کیا جس کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ جو نیکیوں کا موسم بہار ہے ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے نام نہاد سپر پاور اور اس کے چیلے چانٹے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں تما م تر تدابیر کے باوجود لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور ہزاروں زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ جن کو اپنی معاشی طاقت پرناز تھا وہ بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ محسن انسانیت ﷺ نے 14سو سال پہلے جو ہدایات دی تھی ان کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں صفائی کو ایمان کا حصہ، پانچ وقت وضو، ہاتھ، منہ، ناک کو اچھی طرح صاف رکھنا اور اپنے آپ کو وباء سے بچانے کے لیے ایسے علاقے میں نہ جانا اور ایسے علاقے کو نہ چھوڑ نا شامل ہے ایسے میں اس آزمائش سے نکلنے کے لیے رمضان المبارک جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ نبی مہرباں ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ گویا نیکیاں کمانے کا سنہری موقع ہے جس نیکی کے دروازے سے جنت میں جانا چاہتے ہو وہ کر لو سب دروازے کھولے ہیں۔ بنی مہربان ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزرد ہوئے ہیں اور جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جواس نے پہلے کئے ہوں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ سب گناہ جو اس نے پہلے کیے ہو ں گے۔ احتساب سے مراد تمام نیک اعمال میں ٖصرف اللہ کی رضا اور اسی سے اجر کا امیدوار ہو نا ہے یہی وجہ ہے کہ روزے کو دیگر عبادات سے بڑھ کر اجر و ثواب کا ذریعہ کہا گیا ہے جس میں دکھاوے کا امکان نہیں بلکہ روزے دار اور اللہ کو اس کا علم ہو تا ہے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی د س گنا تک اور دس گنی سے سات سو گنی تک بڑھائی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جدا ہے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، بدقسمت ہو گا وہ شخص جو اس موقع سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکے جب اللہ کی رحمت پورے جوبن پر ہے ہر نیک کام کا اجر و ثواب بڑھ چکا ہے ایسا محسوس ہو تا ہے کہ رب کریم اپنے بندوں کو معافی اور اجر و ثواب کے بہانے تلاش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بنی مہرباں ﷺنے تین با ر آمین کہا تو صحابی ؓ نے پوچھا ہمیں کوئی دعا کرنے والا نظر نہیں آیا آپ نے خلاف معمول آمین کہا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا جبرائیل ؑ آئے تھے اور دعا کر رہے تھے وہ شخص تباہ ہو گیا جس کی زندگی میں رمضان المبارک آیا اور وہ اپنی مغٖفرت حاصل نہ کر سکا میں نے کہا آمین دوسری بار کہا وہ شخص بھی تباہ ہو گیا جووالدین کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکا جس پر میں نے کہاآمین اور تیسری بار فرمایا جس کے سامنے میرا نام نامی محمد ﷺ لیا گیا اور مجھ پر درود نہ پڑھا۔جس پر میں کہا آمین بس ثابت ہوا جو دعا جبرائیل نے کی ہو اور جس پر محمد ﷺ نے آمین کہا و ہ دعا قبول ہو گی اس کی قبولیت پر شک نہیں بس ہمیں اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کیلئے رمضان المبارک کو ایسا گزارنا ہو گا کہ بخشش کا سامان حاصل کر لیا جائے۔ اللہ نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ قرار دیا ہے جس میں قرآن نازل ہو ا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کر تے ہیں روزہ کہتا ہے کہ اے رب میں نے اس کو دن بھر کھانے پینے سے شہوت سے روکے رکھا تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما اور قرآن کہتا ہے کہ میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما بس دونوں کی شفاعت قبول فرمائی جائے گی۔ اس لیے اس مہینہ میں قرآن سے خصوصی تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا اصل مقصد ہے اس ماہ میں آغاز کر لیا جائے اور اس بات کا عزم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو سمجھتے ہوئے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈالنے کی کوشش کرنی ہے آج قرآن سے دوری کی وجہ سے امت مسلمہ ذلت اور آزمائش سے دوچار ہے اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن رہنمائی کرتا ہے لیکن ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں اس سے خالی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پڑھنے کا بہت اجر و ثواب ہے بلخصوص رمضان المبارک میں اس کا اجر تو اور بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جانی چاہیے لیکن اس کا اصل مقصد ہدایت لینا ہے جس کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے پھر اس کو آئینہ کی طرح سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ڈالنا ہوگا قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں انسانوں کا خیال رکھنے ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا درس ملتا ہے آج کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگی روزہ کا ایک مقصد لوگوں کا احساس پیدا کرنا بھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو بھوکا پیا سا رکھنے سے کیا حاصل کرنا تھا اس کے خزانوں میں کسی کی کمی تو نہیں آنی تھی اس لیے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے اس ماہ کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس لیے اس کی پلاننگ پہلے دن سے ہی کر لینی ہو گی تا کہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو جائے۔دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے جہاں انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ دی جائے وہاں اللہ کو یاد کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ آنے والے گیا رہ ماہ کو بھی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا عزم کرنا ہو گا۔ اگر اس ماہ سے درست طور پر استفادہ کیا گیا تو آئندہ آنے مہینوں میں اس کے اثرات نظر آئیں گے ورنہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سارے روزے دار ایسے ہیں جنہیں بھوک پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا اللہ نہ کر ے ہم ایسے لوگوں میں شامل ہو ں بلکہ نیکیوں کے اس موسم بہار میں اپنے دامن کو بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری