کرونا وائرس اور حکومتِ آزاد کشمیر کا کردار

کرونا وائرس اور حکومتِ آزاد کشمیر کا کردار شفقت ضیاء کرونا وائرس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اپنی طاقت کا گھمنڈ رکھنے والی نام نہاد سپر پاور تمام تر کوششوں کے باوجود بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔لاکھوں انسان متاثر ہیں اور دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔واحد علاج لاک ڈاؤن سمجھنے والے اب بھوک کے خوف میں مبتلا ہیں تمام راستے بند نظر آتے ہیں اور جب سارے راستے بند ہو جائیں تو خدا کو نہ ماننے والے بھی َ اُسی کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کے اپنے حالات پتلے ہیں ایسے وقت میں جس طرح کی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہ مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔مسلمان ممالک میں ایسے حکمران مسلط ہیں جو اس کے اہل نہیں جس کی وجہ سے آزمائش کے اس موقع سے باہر نکلنے کے بجائے مزید ذلت و خواری ہی امت مسلمہ کے مقدر میں نظر آتی ہے دنیا میں اس وائرس کی تباہی کے مقابلے میں پاکستان تا حال کافی حد تک بچا ہوا ہے جو تباہی آئی بھی وہ بر وقت لاک ڈاؤن نہ کرنے کی وجہ سے آئی ہے۔وزیرِاعظم پاکستان پہلے دن سے کنفیوز نظر آتے ہیں اور آج تک کوئی واضح پالیسی دینے میں ناکام ہیں۔تقریریں بہت کی لیکن کوئی واضح لائحہ عمل نہ دے سکے۔لاک ڈاؤن کرتے بھی رہے اور انکار ی بھی رہے جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن بے معنی ہوا محض معاشی نقصان کا باعث بنا۔البتہ بیرونی امداد ضرور ملی صوبائی حکومتوں میں سندھ کا بہتر رول رہا لیکن وہ بھی اس صورتِ حال میں مرکز کے تعاون نہ کرنے پر شکوے کرتے دیکھائی دی تاہم ایسے میں حکومتِ آزاد کشمیر نے بروقت اور درست فیصلہ کرتے ہوئے فوری انٹری پوائنٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ یہ کافی مشکل کام تھا چونکہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں لوگوں کا آنا جا نا ایسے ہے جیسے ایک گھر سے دوسرے میں ہوتا ہے۔ لیکن وزیرِ اعظم فاروق حیدر نے یہ مشکل فیصلہ کر کے آزاد کشمیر کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار اداکیا۔اس کے باوجود جو کیسز آئے وہ بدقسمتی سے انتظامی کمزوریوں کی وجہ بنے انٹری پوائنٹ سے چور راستوں سے آنے والوں کو روکنے کا اہتمام نہیں کیا گیا اور پولیس نے بھی مٹھی گرم کر کے لوگوں کو آنے دیا لیکن مجموعی طور پر حکومت آزاد کشمیر کا کردار اس حوالے سے قابلِ ستائش ہے مگر ابھی چونکہ وائرس ختم نہیں ہو اہے،نرمی جس طرح سے کی جارہی ہے اس سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔اس لیے گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کرونا وائرس کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس سے دنیا بھر کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا پاکستان جو پہلے ہی معاشی طور پرتباہ حالی کا شکار تھا وہ زیادہ متاثر ہوا۔حکومت کی طرف سے زیادہ کمزور طبقے کو جنہیں بینظیر انکم سپورٹس پروگرام سے مدد کی جاتی تھی مزید اضافے کے ساتھ احساس پرگرام کے ذریعے 12ہزار کے حساب سے دئیے جو کسی حد تک غریب عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنا ہے لیکن حقیقت میں یہ بہت کم ہیں آزادکشمیر حکومت نے اس کے سوا سرے سے کچھ نہ کیا فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات نے جو کردار ادا کیا وہ قابلِ ستائش ہے جس نے ایک بار پھر زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔آزاد کشمیر میں بھی فلاحی تنظیموں اور دردِ دل رکھنے والے افراد نے ہر گاؤں اور شہر میں دیہاڑی دار اور کمزور طبقے تک پہنچنے میں کوئی فرق نہیں چھوڑا لیکن سفید پوش طبقہ آج سب سے زیادہ متاثر ہے اور آزاد کشمیر میں یہی طبقہ سب سے زیادہ ہے حکومتِ کا اس حوالے سے کردار انتہائی مایوس کن ہے بلکہ ایسے محسوس ہوتا ہے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے کسی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا لاک ڈاؤن کھول کر شہروں میں عوام کو عید کی شاپنگ پر لگا دیا گیا جس میں کوئی احتیاتی تدبیر نظر نہیں آرہی۔کپڑے جوتے اس عید کے موقع پر لینے پہ پابندی ہونی چائیے جو اقدامات کر کے عوام کو معاشی مشکلات سے دوچار کیا گیا وہ سب عید کی تیاریوں کی نذر کرتے ہوئے برباد کیا گیا۔اللہ نہ کر ئے لیکن یہ تباہی کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ایسے میں صرف پبلک ٹرانسپوٹ اور باربرز کوپا بند کرنے کے کیا معنی ہیں؟ان کو بھی حصہ ڈالنے دیا جاتا تو کیا قیامت آجاتی؟رہا شعبہ تعلیم تو وہ ہماری حکومتوں کی کبھی بھی ترجیح نہیں رہا شعور پھیلنے سے ان کی عیاشیاں کو بند ہو جانا ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے والا یہی حکمران طبقہ ہے جس نے میرٹ کا جنازہ نکالا۔اپنی سیاست چمکانے کے لیے بھرتیا ں کرتے رہے اور معیارِ تعلیم پر توجہ نہ دی آج تک یکساں نصاب ِ تعلیم نہ دے سکے قوم کو طبقوں میں تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے تین طرح کے نظامِ تعلیم چل رہے ہیں ایک سرکاری تعلیم،دوسری پرائیویٹ تعلیم تیسری دینی تعلیم جبکہ دعوے بڑے بڑے کیے جا رہے ہیں لیکن حقیقت میں ان 72 سالوں میں تعلیم اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔آج سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی بند پڑی ہیں غریب مریض ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر پرائیویٹ ہسپتالوں میں چیک کر رہے ہیں لیکن سرکاری میں نہیں آخر کیوں؟ سرکاری تعلیمی اداروں کے ملازمین کو بھاری تنخواہیں مل رہی ہیں جبکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جنھوں نے گرتے ہوئے معیارِ تعلیم کو سہارا دیا اس پر توجہ کیوں نہیں ہے کیا اب انہیں تباہ کرنے کی ٹھان لی گئی ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کے لیے فیسوں کی ادائیگی ان حالات میں مشکل ہو رہی ہے جو تین ماہ سے بند ہیں اور سرمائی سکول تو پانچ ماہ سے بند ہیں اور ان لوگوں کے روزگار بھی بند ہیں لیکن حکومت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو عوام کے خون پسینے سے چلتی ہے اُس کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے کہ نہیں؟اس مشکل وقت میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے کیوں غافل ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ہزاروں اساتذہ کرام تو انتہائی سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بہت ہی محدود سی تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ان کو تنخواہیں نہیں مل رہی اور اطلاعات کے مطابق بہت سارے اساتذہ اور سٹاف کو فارغ کیا گیا ہے جو ظلم ہے جس کی ذمہ دار حکومت بھی ہے۔حکومت کوکردار ادا کرناچاہیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے مل کر ایسا درمیانہ راستہ نکالا جائے کہ والدین پر بھی بوجھ کم سے کم ہو اور پرائیویٹ اداروں کے ضروری اخراجات اور تنخوائیں ادا ہو سکیں۔والدین اساتذہ کے درمیان سرد جنگ ٹھیک نہیں ہے سوشل میڈیا پر تعلیم جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد کی تذلیل مافیا کہہ کر کی جا رہی ہے۔کرونا وائرس تو ختم ہو جائے گا لیکن قوم کا مستقبل تباہ ہو گیا تو نسلیں بھکتیں گی اس لیے تعلیم کے ساتھ مذاق بند کیا جائے پہلی ترجیح میں ان تعلیمی اداروں کو بحال کرنے کی منصبوبہ بندی کی جائے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے نکالے گئے اساتذہ کو بحال کرایا جائے فیسوں کے معاملے کو مشاورت سے حل کیا جائے۔۸ کروڑ کی نئی گاٹیاں خریدنے کے بجائے اس شعبے کی مشکلات حل کرنے پر لگاے جائیں۔پرائیویٹ اداروں کی ایسوسی ایشن کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے پاکستان کی طرح کم ازکم ۰ ۲فیصد رعایت فیسوں میں کی جاے اور اس سال مارچ میں جو فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے وہ اس سال کے لیے واپس لیاجاے مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو دئیے گئے ریلیف سے اللہ برکت اوراجر دے گا حکومت غریب عوام کے بجلی بلات معاف کرے۔چھوٹے کاروباری طبقے کو بلاسود قرض دیے جائیں۔ٹیکس معاف کیے جائیں اور تمام متاثرہ درمیانی طبقے کے لیے ریلیف کا اہتمام کرے جس کے لیے اگر وسائل کی کمی ہے تو ترقیاتی بجٹ کو لگا دیا جائے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہمیں اپنے گناہوں سے معافی کے سہنری موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے ظلم و ناانصافی کے نظام کے خاتمے کا عزم کرناہو گا ورنہ اس طرح کے عذاب ا ور آزمائشیں آتی رہیں گی اور ہم مشکلات سے دوچار ہوتے رہیں گے۔چونکہ خدا کھبی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری