آزاد کشمیر حکومت کے چار سال

آزاد کشمیر حکومت کے چار سال شفقت ضیاء آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے چار سال مکمل ہو گئے ہیں اور ایک سال باقی ہے جو عموماََ الیکشن کا سال سمجھا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آخری سال کو حکومتیں الیکشن سامنے رکھتے ہوئے اپنیکارکرردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ الیکشن میں کامیابی حاصل کر سکیں۔گزشتہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیرِ اعظم چوہدری مجید اور صدر حاجی یعقوب کی قیادت میں آخری سال بھرپور محنت اور بڑے پراجیکٹس دینے کے باوجود ناکام ہوگئی تھی جس سے ثابت ہوا کہ محض آخری سال نہیں پہلے چار سال بھی اہم ہوتے ہیں۔البتہ آخری سال زیادہ محنت کے ساتھ پچھلی کمیوں کو پور ا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے جس طرح کے میگا پراجیکٹس آزاد کشمیر میں دیے جن میں میڈیکل کالجز،یونیورسٹیاں اور کچھ سڑکیں اور ہسپتال شامل ہیں موجودہ حکومت تاحال اس طرح کے میگا پراجیکٹس دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے البتہ اُن پراجیکٹس کی تکمیل میں کردار ضرور ادا کیا ہے۔ بلخصوص ضلع پونچھ میں کوئی میگا پراجیکٹ ایسا نہیں جو موجودہ حکومت کے حصّے میں آیا ہو۔پی پی حکومت کے دور میں حاجی یعقوب کی صورت میں ایسا صدرِ ریاست رہا جس سے سو اختلاف کی گنجائش کے باوجود تعمیر و ترقی کی دلچسپی اور محنت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آج اگرپونچھ میں میڈیکل کالج یا یونیورسٹی ہے تو اُس کا سارا کریڈیٹ حاجی یعقوب کو جاتا ہے۔غازی ملت شاہراہ (المعروف گوئیں نالہ)بھی آپ کے آخری عرصہ میں ایشین بنک کے منصوبے میں رکھوائی گئی۔اسی طرح چک ڈسٹرکٹ ہسپتال جس کے لیے فنڈز موجودہ حکومت نے دیے انہی کے دور میں آغاز ہوا اورمسئلہ کشمیر کے حوالے سے بیانات کا کام بھی حاجی یعقوب نے خوب کیا،اُن کی اہلیت،صلاحیت اور معیار پر سوالات کے بعد صلاحیت،قابلیت کی بلندیو ں کو چھونے والے موجودہ صدرِ ریاست کا انتخاب ہوا تو عوام کا خیال تھا کہ کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا اور آزاد کشمیر کا نقشہ بھی بدل جائے گا پاکستان اور دنیا بھر میں تعلقات رکھنے والے مسعود خان سے ایسی ہی امیدیں وابستہ کر دی گئیں جیسی پاکستان میں عمران خان سے تبدیلی کی۔جس طرح دو سال میں پاکستا ن کی عوام کو مایوسی ہوئی اسی طرح چار سال میں مسعود خان نے بھی عوام کو مایوس کیا۔مسئلہ کشمیر تو 72سالوں سے حل طلب ہے اگربیانات اور خطابات سے حل ہو سکتا تو پہلے ہی حل ہو جاتا لیکن آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے خطے کی حالت نہ بدلی جا سکی اور جو لیڈر شپ اتنا نہیں کر سکی تواُس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی امید حماقت ہی ہو سکتی ہے۔سڑکیں،پانی، تعلیم،صحت جیسی بنیادی سہولتیں میسر نہیں،بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔پونچھ میں تو ان چار سالوں میں کسی بھی پہلو پر قابل ذکر توجہ نہیں دی گئی۔صدرِ ریاست کو سڑکوں کے کھنڈروں کے بجائے گاڑی میں مسئلہ نظر آتا ہے جس کیلئے حکومت نے 6کروڑ رکھ دیا جس پر وقتی طور پر میڈیا کے شور مچانے خاموشی اختیار کر دی گئی ہے۔ہو سکتا ہے وہ بھی جلد مل جائے گی ملنا بھی چاہیے تاکہ اس کی وجہ سے عوامی مسائل اور تنازعہ کشمیر کے حل میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آئے آزاد کشمیر کی حکومت کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پی پی دور کی میرٹ پالیسیوں کا بڑی حد تک خاتمہ کیا۔NTS کے ذریعے غریبوں کے بچوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق نوکریاں ملی ہیں جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا۔البتہ محکمہ تعلیم کے علاوہ ان کی کارکردگی گزشتہ حکومت سے مختلف نہیں بلکہ موجودہ حکومت نے پونچھ میں تو ریکارڈ توڑتے ہوئے دوسرے اضلاع کے لوگوں کو بھی تعینات کیا جس کی وجہ شایداسے لاوارث سمجھا گیاہے۔ موجودہ حکومت نے نوازشریف سے ترقیاتی بجٹ دو گنا کرایا لیکن پورا استعمال نہ کر سکی اربوں روپے لیپس ہو گئے 13ویں ترمیم بھی موجودہ حکومت کا بڑا اقدام ہے جس سے بڑی حد تک اختیارات اور وسائل حاصل ہوئے ہیں لیکن آج بھی کشمیر کونسل میں کروڑوں روپے تنخواؤں کی مدمیں جا رہے ہیں جس کا کوئی حل نہ نکالا گیا اور قومی اخراجات پر بوجھ ہنوز جاری ہے۔وزیرِ اعظم فاروق حیدر کا الیکشن سے پہلے عوام سے وعدہ تھا کہ چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے وہ چار سال میں پورا نہ ہو سکا اگر یہ وعدہ پورا کر لیتے تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی لیکن پی پی اور ن لیگ دونوں جماعتیں بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتی چونکہ اس سے ان کے ممبران اسمبلی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے قانون سازی تو ان لوگوں نے کرنی نہیں ہوتی اور مسائل کے مارے عوام کا ان کے در پر حاضریاں لگانا انہیں پسند ہے۔اُسی پر ان کی سیاست چلتی ہے یو ں عوام کو بلدیاتی انتخابات سے دور اور مسائل کے حل کیلئے دھکے کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت سے توقعات تھیں کہ فاروق حیدر بولڈ آدمی ہیں یہ سٹپ لے لیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اب وہ اس کی جتنی مر ضی تاویلیں کریں اسی طرح کابینہ 12 سے زیادہ نہ ہونے کی باتیں اوروعدے بھی ایفانہ ہو سکیں گے اگرچہ سابقہ پی پی کے دورِ حکومت میں جو ظلم ہوا تھا وہ نہیں کیا لیکن اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے۔ پی پی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت نے بھی اپنے چند کارکنان کے ذریعے ترقیاتی فنڈز دیے جس سے کچھ چھوٹے چھوٹے منصوبوں پر کام ہوا اور کچھ ہواؤں کے دوش میں خرچ ہوئے۔ آزاد کشمیر جو 13297 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباََ 42لاکھ ہے 72 سالوں میں کوئی شک نہیں کہ تعمیر و ترقی ہوئی ہے سکول،کالجز،سڑکیں بنی ہیں لیکن بدقسمتی سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہر حکومت آتی اور اپنی ترجیحات کے مطابق اپنا وقت گزار کے چلی جاتی رہی جمہوری حکومتوں سے زیادہ عرصہ آمریت کا رہا اور جمہوریت کو نیچے تک موقع کم ملا جس کی مثال 35سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔عوام کو بنیادی حقوق جن میں تعلیم،صحت اور انصاف شامل ہیں وہ آج تک میسر نہیں۔سرکاری اداروں میں معیاری تعلیم میسر نہیں حکومتیں اعلانات کے باوجود سرکاری ملازمین تو دور اپنے اساتذہ کے بچوں کو گورنمنٹ اداروں میں داخلے کے پابند نہ کر سکے اور ایک نصاب نہ دے سکے۔صحت کے لیے سرکاری ہسپتالوں کی کمی اور آٹے سے دوائی تک کوئی چیز خالص میسر نہیں۔انصاف کا یہ حال ہے عدلتوں میں نسلوں تک کیس چلتے رہتے ہیں اور انصاف نہیں ملتا اس ظلم و نا انصافی کے نظام کو بدلنے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اپوزیشن سے مل کرجو اگرچہ آزاد کشمیر میں ان چار سالوں میں کہیں نظر نہیں آئی تلاش سے مل جاے تو تعلیم،صحت اور انصاف کے نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے جس میں یکساں نصابِ تعلیم اور معیاری سرکاری تعلیمی اداروں کی بنیاد اور سرکاری ہسپتالوں کو آبادی کے تناسب کے مطابق تمام سہولیات سے مزین کرنا اور انصاف کے ایسے نظام کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے جس میں فوری اور سستا انصاف میسر آسکے۔جس کے لیے ان شعبوں کے ماہرین کے بورڈ زقائم کیے جائیں جو ہر طرح کی سفارش اور سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوں۔اُن کی سفارشات پر ہر آنے والی حکومت عملدرآمدیقینی بناے، 72سال گزرجانے کے باوجود بنیادی کام بھی شروع نہ ہو سکے، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی باتیں اور دعوے فضول کی مشق ہو گی۔جو قیادت اتنا چھوٹا سے خطہ آئیڈیل نہ بنا سکے اُس سے کسی بڑے اقدام کی امید حماقت ہے 5 سال بعد حکومت کی کارکردگی کا موازانہ اور چند بہتر اقدامات سے تبدیلی نہیں آسکتی۔اب عوام کی تقدیر کو بدلنا ہو گا چہرے نہیں اس گلے سڑے نظام کو بدلنا ہو گا۔غریب عوام کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔اُن کو بنیادی حقوق دینے ہوں گے جس کے لیے اب عوام کو بھی بیدار ہونا ہو گا۔خدا بھی ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا۔72 سال گزر جانے کے باوجود اگر تعلیم،صحت اور انصاف میسر نہیں تو عوام کو اس سے کیا غرض کہ کس پارٹی کی حکومت ہے عوام کو چہرے، نعرے نہیں نظام کی تبدیلی چاہیے موجودہ حکومت کے پاس ایک سال بہت اہم ہے اگر اس نے حق ادا کر دیا تو سر خرو ہو گی ورنہ داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔۔۔۔۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری