میں، میں اور میں

میں، میں اور میں کبیر خان ہم تینوں ماکھائے ماجائے ہی نہیں جُڑواں تُڑواں بھی ہیں۔مجھے جنتے ہوئے ماں کو بہت تکلیف ہوئی۔وہ درد سے چیخ رہی تھی۔ اُس کی دُکھن دیکھ کر مجھے بھی درد سا ہو رہا تھا۔لیکن مرد بچّہ ہونے کی وجہ سے میں رویا نہیں۔ مجھے یقین تھا کہ ماں کو مجھ جیسے کی ماں ہونے پر فخر ہوا ہوگا۔ اور میں بھی اسی احساس تفاخرکے ساتھ دُنیا میں آنے پر بجا طورپرذرا چوڑا سا ہو گیا تھا۔ لیکن جب میری آنکھیں کھُلیں تو یہ دیکھ کر کچھ حیران پریشان، کچھ کچھ خفیف بھی ہوا کہ مجھ سے پہلے مجھ جیسے دو،چُپ اور شانت پڑے،بلونگڑوں طرح ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ بس اسی دوئی کی وجہ سے میری چیخ نکل گئی۔ اور چیخ پر ماں کے زرد اور مرجھائے ہوئے چہرے پر اک جہاں کی رونق لوٹ آئی۔اُس نے سوکھے ہونٹوں سے میری پپّی لی۔ یہ دیکھ کر دونوں بلونگڑے چِلّانے کی کوشش میں ممیاکے رہ گئے۔بس میں سمجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ جب ماں سمیت ہمیں سرمائی کھُرلی کے اندھیرے سے نسبتاً روشن بسیوے میں لایا گیا تو میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ لیکن میں سمجھ چکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔چنانچہ میں نے پھپھڑوں کا پورا زور صرف کر کے ایک چیخ ماری۔ماں کے علاوہ کئی پھپّھے کُٹنیاں بھی میں صدقے میں واری کرنے کو لپکیں۔میری دیکھا دیکھی بلونگڑے بھی پر تولنے لگے مگر میری چیخم چاخ تلے صرف منہ بگاڑ سکے۔بے ہنروں کو روہانسا ہونا بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ یہیں سے میری ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں اور آف کورس،کام بھی۔چنانچہ میری چیخوں کے مقابل بلونگڑوں کی منمنی آوازیں کانوں کے کچّوں تک بھی نہ پہنچ پاتیں۔ یوں مجھے ہی اُن کی ترجمانی کرنا پڑتی۔ ”ما صدقے...“ماں کی مائے نے پچھلی عید سے چلی آنے والی دائمی ناراضگی کی پوٹلی اور پنجیری کی دیگچی طاق میں دھری اور”ناس پِٹّی“ بیٹی سے لپٹ کر لگیں بین کرنے...”مرنے جوگیئے، نامرادے! مرتی مر جاتی،تیرے بوہے جھاتی نہ مارتی۔ لیکن کیا کروں توُ لاکھ کلمونہی سہی،میں ماجو ٹھہری۔ریشم جان نے ریگمالی آواز میں سانحے کا سندیسا دیا تو رہا نہ گیا....دوڑی چلی آئی۔اب مہینہ کھنڈ رہنا بھی پڑا تو اُوپر والے کی دی ہوئی نسوار کی چُٹکی پر رہ لوں گی۔پر تیرے گھر کا بھوراحرام۔“ اس پر میں خوشی کی چیخ نہ روک سکا۔جسے سُن کر نانی کی تانا تانی بگڑ گئی...”میں صدقے،میں واری، اتنی کراری آواج..؟شالا کسی کلمونہی کی نظر نہ لگے۔اوپر والے کے کرم سے بڑا ہو کر سرکاری ڈھنڈورچی بنے گا یاپھربہت ہی پھنیّرمولمی صاب...نی ناس پِٹیئے، نامرادے تیری ساری مرادیں سمجھوپوری ہوئی کھَلی۔ایہہ دیکھ تیری اندھیر نگری میں کیسا چنّ چڑھا ہے...؟“ماں نے اک ڈبڈبائی سی نگاہ ڈالی اور ہولے سے جواب دیا....”سلیٹی“۔”ہائے نی! خود کون سی سینف املوک کی دُدّھ چِٹّی نیل پری اور تیرا گھر والا ہنس راج ہے...“نانی تڑخیں ”دیکھنا کیسے کیسے تارے توڑے گا“۔نانی کی بات سُن کر میں زور کاقہقہہ لگانا چاہتا تھا لیکن اتنے ہی زور کی چیخ نکل گئی۔ نانی نے گھبرا کر مجھے واپس ماں کے پہلو میں دھرااورپھر یکلخت اپنی آنکھیں ملنے لگیں.....”یہاں تو دوجی اور کلبلا رہے ہیں؟،نی بے پاوتیئے! توُ نے اَجّ تنی کبھی مجھے پوری بات نئیں بتائی۔ھمیشاں وِچلی گلَ لُکا کے رکھی۔پر یہ بات لکانے چھپانے کی تھی کیا....؟؟“نانی نے سر سے دوپٹہ کھینچ گود میں ڈالا اور بولیں ”اے اُوپر والے!تیری لِیلا دھاری نیاری...جوایک جوگی بھی نہیں تھی، اُسے تین تین دے مارے؟؟؟مار وے قہاریئے۔“۔اس سے پہلے کہ نانی بے ہوش ہوتیں،ایک پھپّھے کُٹنی نے اُنہیں مکھن کے پیڑے والی لسّی کا گلاس تھما دیا۔نانی بے اختیار حرام کا گلاس چڑھا گئیں۔”چل مر...“نانی نے آستین سے منہ پونچھتے ہوئے ماں سے کہا”یہ تو بتادے،اِن میں سے بڑا کون سا ہے...؟“ ”میں ں ں ں“۔میں اتنے زور سے چیخاکہ بلونگڑوں سمیت تقریباً سب ہی حاضرینِ مجلس ہکّا بکّا رہ گئے۔ ماں نے گھگھیاتے ہوئے نانی کو جواب دیا...”خورے....، یہی“۔”میں ں ں،میں ں ں“۔میں نے ماں کے منہ سے کِرنے والا ’خورے‘لات مار کر چارپائی سے نیچے گرا دیا۔دونوں بلونگڑے ماں کا منہ تاکتے رہ گئے۔دوسرے روز سویرے سویرے کمیٹی کا مُنشی اندراج کے بہانے خرچی لینے پہنچ گیا...”اللہ ہور دیوے...“رجسٹر کاصفحہ کھول،کچّی پنسل تھام بولا: ڈیرے کا بڑا کون ہے؟ناں مع نانکڑی(نام مع عرف)لکھائیں۔”میں ں ں ں...“میں چیخا، منشی کے ہاتھ سے رجسٹر گر گیاجو اُس کے نائب نے جھاڑ کر واپس تھمادیا۔”میں ں ں ں“، میں پھر چیخا۔”ٹھیک ہے...“منشی زبان کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا”اپنا نام اور نانکڑی بتائیں...“۔”میں ں ں ں ں“میں نے پورا زور لگا کر کہا۔”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے...آپ غصّہ نہ کریں۔میں ریح کا مریض ہوں،بھاگا نہیں جاتا۔محنتانہ بھانویں نہ دیں، البتّ فیس اور نذر نیاز بے شک نال کل نائب صیب کے بدستِ مبارک بھیج دینا۔رہی چاء چُو تو فیر سہی“۔یوں نا چیز پیدائشی طور پرتیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود کاغذات میں اوّل نمبر قرار پایا۔ ”لِخ کے لے لے،یہ انّی پائے گا...“باہر نکلتے ہی مُنشی نے اپنے نائب سے کہا”اِس میں ساری خوبیاں لیڈروں والی ہیں۔شکل رونی،آوازکڑاکے دار،اطوار شڑاکے دار۔اپنے بیگانے،ہر کس و ناکس کو اُتلی میں لگا کے بیچے گا۔ جس نے اپنے اُمّ زادوں اور ہم زادوں کو معاف نہیں کیا وہ غیروں کو کیا بخشے گا.... بھانویں لِخ کے رکھ لے،یہ پیدائشی لیڈر ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری