حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی……!

حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی……! از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ رابطہ نمبر: 03465216458 ای میل: szahidnaeemi@gmail.com حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اسلام کی اہم شخصیت ہیں۔ گزشتہ دنوں شام کے شہر کے علاقہ امارات میں بشارالاسد کے لئے لڑنے والے ایرانی حمایت یافتہ مسلح شدت پسندوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ فاطمہ کی قبور کو کھود کر ان کی لاشوں کو نکال کر بے حرمتی کی اور پھر ان کو آگ لگا دی۔ اس خبر کی بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر قبور کو کھودنے کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے، جس میں دہشت گرد قبور کو کھودتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ قبیح فعل کرتے ہوئے وہ خوشی کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت بھی کی ہے۔ یہ خبر بھی ہے کہ ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا تعلق داعش سے ہے۔ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ قبر شہید کرنے کی اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے ۱۱ لاکھ ڈالر دئیے تھے۔ مزارات کو مسمار کرنے کی روایت نجدیوں نے شروع کی تھی، جب ترکی کی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو اتھا اور حجاز پر نجدیوں نے انگریزوں کی مدد سے ۳۲۹۱ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ اُنہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ جنت البقیع میں مزارات امہات المومنین، اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کے مزارات مٹا دئیے تھے۔ شہداء اُحد بالخصوص امیر حمزہؓ کے مزار کو بھی مٹا دیا تھا، بلکہ جہاں جہاں نجدی حکومت قائم ہوئی، وہاں دیگر مزارات کو بھی مٹا دیا گیا تھا، کچھ عرصہ پہلے سعودی حکمرانوں نے نبی کریمﷺ کی والدہ حضرت آمنہؓ کی مرقدمنورہ کو بھی مٹا دیا تھا، جس پر پورے عالم اسلام میں احتجاج ہوا تھا۔ دنیا بھر میں جب سے مسلمانوں میں شدت پسندی کا عنصر شامل ہوا ہے۔ نجدی فکر کی حامل بعض شدت پسند تنظیموں القاعدہ، داعش، بکوحرام، تحریک طالبان پاکستان، لشکر اسلام، جزب التحریر اور ان جیسی دیگر کئی شدت پسند تنظیموں کا پہلا ایجنڈا یہی رہا ہے کہ وہ پوری دنیا میں موجود انبیاء و مرسلین، شہداء صالحین، صحابہ کرام، اہل بیت اور اولیاء کرام کے مزارات کو مٹا دیا جائے۔ چنانچہ شام، عراق، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں وہ ایسا کر چکے ہیں۔ حضرت زینبؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ، حضرت انسؓ سمیت کئی ایک بزرگ ہستیوں کے مزارات کو مٹاکر ان کی بے حرمتی کر چکے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے شیعہ شدت پسند عراق میں حضرت انسؓ کے مزار کی بے حرمتی کر چکے ہیں، جو عالم اسلام کے لئے انتہائی افسوس ناک ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز بالااتفاق خلافت راشدہ کے بعد پہلے خلیفۃ المسلمین ہیں، جنہوں نے خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کیا۔ بنوامیہ کی اہل بیت دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے آئمہ اہل بیت کو شہید کرایا، لیکن جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے ان تمام زیادتیوں کے ازالہ کی بھرپور کوشش کیں جو پہلے بنوامیہ کے خلفاء نے کی تھیں۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ صالح تھے، آپ کا شمار خلفائے راشدین میں پانچویں خلیفہ کی حیثیت سے کیا جاتا ہے اور ثفیان ثوری کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کے بعد پانچویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۸۲۳) لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے بعد پانچویں خلیفہ راشدہ حضرت امام حسنؓ ہیں۔ اس طرح خلافت راشدہ کو پھر سے زندہ کرنے والے حضرت عمر بن عبدالعزیز چھٹے خلیفہ راشد ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا تھا کہ میری اولاد میں ایک شخص پیدا ہو گا، جس کے چہرے پر داغ ہو گا وہ روئے زمین کو عدل سے بھر دے گا…… یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اللہ نے دنیا میں بھیج دیا۔ (ایضاً،صفحہ۹۲۳) حضرت عمر بن عبدالعزیز سلیمان کے چچازاد بھائی تھے، آپ کی والدہ حضرت عمر فاروقؓ کی پوتی تھیں۔ آپ کے والد مصر کے گورنر تھے۔ شاہانہ ماحول میں پرورش پانے کے باوجود آپ کی طبیعت میں سادگی تھی۔ علم و فضل کے اعتبار سے آپ وقت کے امام تھے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۰۹۲) آپ کا پچپن تھا کہ قرآن جمع ہوا، آپ کے والد عبدالعزیز نے آپ کو مدینہ منورہ میں تحصیل علم کے لئے عبیداللہ بن عبداللہ کے پاس چھوڑ دیا، ایک عرصہ تک آپ ان سے تحصیل علم اور استفادہ کرتے رہے۔ والد کے انتقال کے بعد عبدالملک نے آپ کو دمشق بلا لیا اور اپنی بیٹی فاطمہ سے آپ کا نکاح کر دیا۔ خلیفہ بننے سے پہلے ہی آپ نہایت صالح تھے۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۹۲۳) آپ نے متعدد احادیث صحابہ کرام اور تابعین و علماء حدیث سے روایت کی ہے۔ حضرت زید بن اسلم، حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن عبدالعزیز کے پیچھے نماز پڑھنے سے رسول اللہﷺ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی، وہ سنت کے مطابق نماز پڑھاتے تھے۔ (ایضا ً، صفحہ۰۳۳،۹۲۳) خلیفہ سلیمان کی وفات کے بعد آپ خلیفۃ المسلمین بنے۔ آپ نے حضرت عمرفاروقؓ کے نقش قدم پر چل کر عدل و انصاف کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ خلافت راشدہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت آپ کے دورِ حکومت کو خلافت راشدہ کی ایک بڑی کڑی قرار دیتے تھے اور آپ کو خلفاء راشدین میں شمار کرتے تھے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۱۹۲) آپ کا دورِحکومت دو سال پانچ ماہ پر مشتمل تھا۔ اس قلیل دور میں آپ نے زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دیا تھا۔ ابونعیم ریاح بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ نماز کے لئے مکان سے باہر تشریف لے جا رہے تھے، ایک بوڑھا آپ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے چل رہا تھا، نماز کے بعد پوچھا یہ بوڑھا شخص کون تھا جو آپ کے ہاتھ کا سہارا لے کر چل رہا تھا؟ آپ نے فرمایا یہ حضرت خضرؑ تھے جو مجھے محمد مصطفےٰﷺ کی امت کے حالات دریافت کرنے اور مجھے عدل و انصاف پر گامزن ہونے کی تلقین کرنے آئے تھے۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۱۳۳۔۰۳۳) آپ کے پاس شاہی اصطبل کے گھوڑوں کا نگران آیا اور ان کے لئے گھاس اور دانے طلب کیے تو آپ نے فرمایا ان گھوڑوں کو شام کے مختلف شہروں میں بھیج دو تاکہ یہ فروخت کر دئیے جائیں اور رقم بیت المال میں جمع کر دو۔ آپ نے اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے کہا کہ اپنے تمام زیورات بیت المال میں جمع کرا دو یا مجھ سے الگ ہو جائے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنے تمام زیورات بیت المال میں جمع کرا دئیے۔ (ایضاً، صفحہ۲۲۳۔۳۲۳) حضرت امیرمعاویہ کے دور سے بنوامیہ بڑی بڑی جاگیروں کے مالک بن گئے تھے۔ نہایت شاہانہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ نے ان سے وہ تمام جائیدادیں واپس کرکے ان کے جو اصل مالک تھے، ان کے حوالے کر دیں۔ آپ نے پش روؤں کی بہت ساری جائیدادیں واپس کیں اور ابتداء اپنے گھر سے کی۔ اس سلسلہ میں آپ کے نوجوان بیٹے عبدالملک نے آپ کا بھرپور ساتھ دیا۔ یوں آپ نے وہ جائیدادیں اصل وارثوں کو لوٹادیں۔ جب کسی نے پوچھا تمہاری اولاد کا کیا ہو گا۔ آپ نے فرمایا اُن کا اللہ وارث ہے۔ جب اپنی اور اپنے خاندان کی جائیدادیں واپس کرا چکے تو پھر گورنروں اور حکام کو کہا فوری طور پر غصب شدہ جائیدادیں اصل مالکوں کو لوٹا لو، پھر ایسا ہی ہوا۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے بنوامیہ کے عطیے اور وظیفے بھی بند کر دئیے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۴۹۲۔۳۹۲) آپ نے عمال کے محاسبہ کے لئے ادارہ بنایا۔ یزید بن مہلب کو معزول کرکے خراسان کے لوگوں کا لیا ہوا دو کروڑ واپس کرنے کا حکم دیا اور پھر اُسے قید میں ڈال دیا۔ حجاج کے پورے خاندان کو جلا وطن کر دیا اور اُس کے معمور کیے ہوئے عمال کو معزول کر دیا۔ آپ نے زمیوں کے ساتھ بہترین سلوک لیا۔ ان کے حقوق ادا کیے، بیت المال کی اصلاح رفاہ عامہ کے کام کیے۔ شریعت کا احیاء کرتے ہوئے شراب نوش لہوولعب رسومات بدکو ختم کیا۔ مقبوضہ علاقوں میں مبلغ بھیجے جس سے کثیر تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے۔ (تاریخ اسلام، صفحہ۸۹۲) حضرت امیرمعاویہ کے دور میں حضرت علی المرتضیٰ پر لعن طعن کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ اُن کے لئے خطبہ میں بھی نازیبا الفاظ ادا کیے جاتے تھے۔ آپ نے اس کا خاتمہ کرکے اس کی جگہ ایک آیت کا اضافہ کر دیا۔ (ایضاً، صفحہ۹۹۲) بلکہ مورخین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی حضرت علی المرتضیٰ اور اہل بیت میں سے کسی پر تبریٰ کرتا تو آپ ایسے شخص کو کوڑے لگواتے تھے۔ آپ سچے عاشق رسولﷺ اور محب اہل بیت تھے۔ تقویٰ و طہارت سے مزین، خلیفہ وقت ہونے کے باوجود درویشوں کی طرح زندگی بسر کی۔ بنوامیہ نے اپنے جائیدادیں چھن جانے کی وجہ سے آپ کو ایک غلام کے ذریعے زہر دلایا گیا۔ آپ نے وفات پانے سے پہلے اُسے طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ کام تم نے کیوں کیا؟ اس نے بتایا مجھے اس کا ایک ہزار دینار دیا گیا ہے۔ آپ نے وہ رقم اس سے واپس کراکر بیت المال میں جمع کرا دی اور اُس سے فرمایا یہاں سے غائب ہو جائے واپس اس طرف رخ نہ کرنا۔ (تاریخ الخلفاء، صفحہ۰۵۳) اس عظیم المرتبت خلیفہ کی وفات ۹۱۷ء میں ہوئی۔ شام میں آپ کا مزار مقدس ہے، جس کی بے حرمتی کی گئی ہے، جو افسوس اور قابل مزمت ہے۔ اگر واقعی ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو شامی حکومت ان کو قرارواقعی عبرتناک سزا دے۔ حکومت پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو بھی شامی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک کے درجات بلند فرمائے اور دشمنانِ اسلام کو خائب و خاسر کرے۔ امین بجاہ سیّدالمرسلین

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری