ہم سایہِ خد(۱)

ہم سایہِ خد(۱) کبیرخان ’’پِیرجِنّات شاہ نی قِسیں(پیر جنید شاہ کی قَسم)اَج کے بعدمیں کبھی اپنے لال کو تتّے اُچّے سنگ (گرم چمٹے سے) نئیں ماروں گی۔۔۔‘‘۔اِس مثردہِ جانفزا پر ہم رضاکارانہ جاںبحق ہونے کو تیار ہو ہی رہے تھے کہ ماں نے دلاسہ دیتے ہوئے فرمایا’’ہک تاں اِس واسطے کہ خصماں کھایا مِیرا مِستری اب کھلین پر صرف پھالا،تیشہ،درانتی اور پیل(کدال) چھنڈ کر دیتا ہے۔باقی لوہے لکڑ کا کوئی کام ہو، مواالگ سے پیسے مانگتا ہے۔دوجے تیرا دوشاخہ رونا ہو یاہاسا،مجھے ماسہ چنگا نئیں لگتا۔ایسے لگتا ہے جیسے سخیے کے باجے کی پیپنی میں نسوار کی گولی پھنس گئی ہواور گھر میں بے موسمے ڈڈّو ُ اور بے خصمے بِلّے بِلّیاںخواہی مخواہی بھِڑپڑے ہوں۔ اِسّے مارے اَجّ سے میں اُچّے کی تھاں ویلے کویلے تیرے پیو کا گڑنگ (فوجی بوٹ) تیرے اُپّروارا کروں گی۔اُپّر والے کو منظور ہوا توکسی دن پھنسی ہوئی گولی ’پھڑُکّ‘سے نکل جائے گی۔‘‘ ماں کی تفتیش اور تشخص درست نکلی۔ شام کی خوراک میں ہم نے ایک ہی جوتا کھایاتھا کہ نسوار کی گولی ’’پھڑُکّ‘‘ سے نکل گئی اور بے خصمے بِلّے بِلّیاںہمیشہ کے لئے کہیںبھاگ گئے۔بے موسمے ڈڈّو البتّہ اب بھی کبھی کبھی وہیڑے میں ٹرّاتے ہیں توماں بہت یاد آتی ہیں۔ بات کہیں کی کہیں اور نکلی جاتی ہے، اسی شام ماں اور دادا کے بیچ گھمسان کا رن پڑا۔ماں کی خواہش تھی کہ اُن کا لال ’’باوو‘‘ لگے۔دادا کا موّقف تھا ’’منیا گویا ولَیتی لاٹ صابوں کی خانساماں گیری میں بندے کو بڑا مان سمّان ملتا ہے، عِجّت کی عِجّت پینسے کا پینسا۔ اُپروںمجلس تاثیر۔۔۔۔ سال کھنڈ میںبندہ خودبھرے ڈھنگ میںدُدّھ چِٹّا رومال گلے میں ڈال کر چھُری ترِنگل سنگ اُلٹی گاگرپر وٹّی دیسی سویّاں اور چالیسویں کے مِٹّھے چول کھانے لائق ہو جاتا ہے،تاں ہر پاسے بہہ جا بہہ ہو جاتی ہے۔لیکن پکّی نوکری آخر پکّی نوکری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔مار بڑے بوُٹ، دے برانڈیاں، جراباں ٹوپیاں،جرسیاں دستانے،کمبل دریاں، رسیاں ڈوریاں،ایدھر گینتیاں، اودھر بیلچے۔ کاہ کاہڑیوں،اتے گراہ لنگروں۔ جتنا جی کرے کھائو،کوئی روک رکاوٹ نئیں۔کہالی کمائی ویلے حقّی چھٹّی کے علاوہ ٹَیم بے ٹَیم نَیٹ پاس کی سہولیّت وکھری۔ پہلی کی پہلی نقد و نقد تنخواہ، اوپر سے پِلسن(پنشن)الگ۔گرتے پڑتے حوالدار جمعدار بن گیا تو گراں موہڑے میں تیری ٹوہر، میرا ٹہکہ۔ جو اَجّ سِدّھے مونہاں سلام کا جواب نئیں دیتے،وہی کل تیرے لئے رستہ،کھِیڑا، پِیڑھا، اورمیرے لئے چوکا،مونڈھا چھوڑ کے کھڑے ہو جائیں گے۔۔۔۔جی آیاں نوں، اَجّ لہنے پاسیوں چنّ کس طراں چڑھیا؟ستّ اٹھّ بسم اللہ۔۔۔‘‘ اِدھر سے دلائل،اُدھر سے ریپڈ فائر۔دونوں اک دوجے کے قائل، دونوں گھائل۔ آخر طے ہوا کہ علاقہ کی رائج الوقت رِیت کے عین مطابق ہمیں بھی ’’کرینچی‘‘بھیج دیا جائے۔ جہاں یا تو ٹائپ رائٹنگ سیکھ کر ہم بابو لگ جائیں یا کچھ سیکھے بغیر حوالدار جمعدار۔ یوں دوشاخہ آواز میں رونے اور ویسی ہی آواز میں ہنسنے کی عمر میں ہم کراچی پہنچ گئے۔ کئی ہفتوں تک ٹرام کی تھرلنگ سواری اور بندر روڈ پرمکرانی گدھا گاڑیوں کی ریس کا حِصّہ بنے رہنے کے علاوہ ایک ٹائپنگ انسٹیٹیوٹ میں The quick brown fox jumps over a lazy dog پیٹتے رہے۔ لیکن کہیں چیچی ’’کی بورڈ‘‘ میں پھنس گئی، کبھی انگوٹھا ہینڈل میں دھنس گیا۔ تین ماہ کی جان توڑ کوشش کے بعد بھی ہماری حدِ رفتار بیس الفاظ فی منٹ سے آگے نہ بڑھ پائی۔ تب ہم نے اپنے دوست نذیر حسین کے ساتھ مل کر پاکستان ائیر فورس کے بھرتی دفتر پر حملہ کیا۔ وہاں ایک بھلے مانس نے ناپ تول کے بعد ہمیں باجماعت لوٹا دیا کہ ہم رائج الوقت پیمانوں کے عین مطابق کھینچ تان کراپنا قدکم ازکم ایک بالشت مردانہ اور وزن ڈیڑھ دھڑی زنانہ بڑھا کر لائیںتو سینٹر کا عملہ ہمیں ٹسٹ میں بیٹھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ وہاں سے ’’صحرااست کہ دریا است، تہِ بال و پر ما است‘‘از بر کر کے یہ سوچتے ہوئے لوٹ آئے کہ آج شام سے وزن اور قد بڑھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔چنانچہ اُن پارکوں کی فہرست بنائی جن میں پول تو باقی ہیں،جھولے نہیں۔نیز نواح میں سستے اور صحت بخش کھانوں کی ریڑھیا ںکہاں کہاں واقع ہیں۔ ہم کئی ہفتوں تک پارکوں میں جھولوں کے خالی کراس باروں سے لٹکتے اور پہلوانوں کی مورتوں والی ریڑھیوں سے مرغن اور صحت بخش کھانے کھاتے رہے۔ کوئی دس ہفتوں کی محنتِ شاقہ کے باوجود قد کاٹھ اور وزن میں رتّی برابر افاقہ نہ ہوا تو نذیر حسین سے ’’نِکّی سِکّی‘‘ کی کہ بھائی ذرا سوچو!کیا پاک فضائیہ میں بدستِ خودہوائی جہازوں کوسر سے اوپر اٹھا کر ہوا میں اڑایا جاتا اور ہوا سے پکڑ کر پوٹے بھار رن وے پر لایا جاتا ہوگا جو اُنہیں انسان کے پُتر نہیں،گلیور درکار ہوتے ہیں؟۔یہ سب ہمیں بھرتی نہ کرنے کے چونچلے ہیں اور بس۔’’پھر کیا کیا جائے‘‘؟ خدا لگتی بات نذیر حسین کی سمجھ میں آگئی۔کہاائیر فورس کوگلیوروں کے لئے رہنے دیتے ہیں،ہم انسان کے پُتر ہیں، آرمی جوائن کر لیتے ہیں۔ آرمی کی نوکری بھی کچھ بُری نہیں۔لیکن نذیر حسین مان کے نہ دیئے۔ ہم نے ایک دلیل یہ بھی دی کہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن میڈم شمیم آرا کی اوپن آفر ہے کہ جو کوئی مرد جنا کشمیر آزاد کروائے گا،وہ اُسی درپن سے شادی کرلیں گی۔۔۔۔۔‘‘ ’’اوّل تو یہ کہ میں نے چھُپ چھپا کے شمیم آرا کی ہیٹھ اوپرچھ فلمیں دیکھی ہیں۔۔‘‘انہوںنے ہماری بات کاٹی۔۔۔’’وہ ہر فلم میں کسی نا کسی ہیرو سے شادی کر لیتی ہیں۔ایک میں تو ہیرو یعنی اپنے محبوب و منگیترکے قاتل(ولن)سے بھی ہنسی خوشی دوبول پڑھا چکی ہیں۔میرا خیال ہے کہ کشمیر کے آزاد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ شمیم آرا کا یہی اعلان بالجہر بھی ہے۔میری مانوتو ایسی ہرجائی سے بندہ لنڈورا ہی بھلا۔ دوسرے اس کی کیا گارنٹی ہے کہ ہمیں ہی کشمیر آزاد کراونے کا مِشن اِمپاسیبل دیا جائے گا؟۔خدا نخواستہ ایسا ہواور ہم دونوں مشترکہ طور پرمہم سر کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو شمیم آرا ناحق کس کے حق میں لکھی جائیں گی؟بھائی!ذرا سوچو،کشمیر آزاد کروانے کے بعددوستی یاری اور قریبی رشتہ داری میں ایک اور مسئلہ کشمیر کھڑا نہیں ہو جائے گا؟‘‘۔ عرض کیا مفروضوں کے پیچھے چھُپنے کی بات اور ہے لیکن مردانہ کاموں اور فتوحات کا کُل کام اب بھی آرمی ہی کے دستِ وفاکیشںکے لئے مختص ہے۔ چنانچہ اِس امکان کے واضح امکانات بھی ہیں کہ بطور کشمیری ہمیںہی یہ مہم سونپ دی جائے۔ رہی بات عفیفہ شمیم آرا کے حوالہ سے ٹنٹے کی توکچّے بچھیرے کی کمر کاہے کو توڑیں۔ وقت آنے پربات چیت کے ذریعہ معاملہ کر لیں گے۔ لیکن بے حد محتاط طبع برادرم نذیر حسین مان کے نہ دیئے۔ہمیں یوں لگا جیسے وہ عفیفہ مذکوریہ کے بارے میں ہم سے رضاکارانہ دستبرداری کاپیشگی بیان حلفی لینا چاہتے ہیں۔ وہ بھی مصدّقہ۔اُنکے اسی معاندانہ رویّہ کی وجہ سے ہم ایک دن اکیلے ہی کشمیر آزاد کرانے کے لئے آرمی ریکروٹنگ سینٹر پہنچ گئے۔کافی دیر کے بعد سُرخ ٹوپی،سفید پیٹی اوربے حد کڑک وردی والے ایک فوجی نے ویسی ہی آواز میں پوچھا تو ہم نے عجز و انکسار کے ساتھ ساری رودادِ نفس سنا ڈالی۔اُس نے جواباً گیٹ سے ہی ہمیںیہ کہہ کر لوٹا دیا کہ ’’بچّہ پارٹی‘‘کی بھرتی کئی سالوں سے بند ہے ِ،کبھی کھُلی تو آجانا۔ ہم اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ وہیں سے سیدھے حیدرآباد پہنچ گئے۔جہاں چچا سردار عبدالرزاق بڑے لیبر لیڈر لگے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے ہمیں ایک بلیڈ فیکٹری میں سوا روپیہ دیہاڑی داری پر لگوا دیا۔ فیکٹری کے گرائنڈنگ اینڈ ہوُننگ (Grinding & Honing)سیکشن میں ایک ایسے تیل کی پھوار سی برستی رہتی جس میںچمڑے اورپلاسٹک کی مصنوعات دِنوں میں اِنلارج ہوکر اپنے اصل سائز سے کہیں بڑی ہو جاتیں۔ چنانچہ کارکنان کام کے دوران جوتوں کی بجائے قینچی چپل استعمال کرتے تھے۔اور ارزاں ترین جوڑی ڈیڑھ روپیہ میں دستیاب تھی۔یوں ہم ہر ہفتہ نئی جوڑی خریدتے اور پرانی فیل پا کے کسی مستحق مریض کے لئے گلی میں رکھ چھوڑتے۔جب سال بھر میں پوری باون جوڑیاں باون گزوں کو دان کرچکے اور لنڈے کے سارے کپڑے چھوٹے اور تنگ ہو گئے، تو ہم بھی تنگ آکر واپس کراچی پہنچ گئے۔ (جاری ہے)

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری