سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت (شفقت ضیاء)

سردار ابرہیم خان ایک عہد ساز شخصیت شفقت ضیاء اللہ تعالیٰ نے کشمیر جنت نظیر کو جہاں قدرتی حسن سے نوازا ہے وہاں اس مٹی میں ایسی خصوصیت رکھی ہے کہ اس کی غلام فضاؤں میں ایسی قد آور شخصیات نے جنم لیا جن کی خداداد صلاحیتوں، بصیرت،معاملہ فہمی کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت سردار محمد ابراہیم خان کی ہے جنہوں نے ظالم و جابر حکمرانوں اور غاصب قوتوں کے خلااف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے زمانہ کو جینے کا نیا انداز سکھایا اور تاریخ کے اوراق پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔سردار محمد ابراہیم خان اپریل ۵۱۹۱ء پونچھ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ہورنہ میرہ راولاکوٹ سے حاصل کی۔میٹرک کا امتحان سٹیٹ جوبلی ہائی سکول پونچھ سے پاس کیا۔آپ نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد قانون میں اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔اور صرف ۲۲ سال کی عمر میں بیرسٹر بن کر ریاست جموں و کشمیر کا پہلا نو عمر ترین بیرسٹر کا اعزاز حاصل کیا اور ۸۲ سال کی عمر میں ریاست جموں و کشمیر کے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کو اس نوجوان سے کوئی اور ہی کام لینا تھا۔آپ نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور 1946ء میں عملی سیاست میں کود پڑے اور مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون اسمبلی منتخب ہوئے۔۷۴۹۱ء میں آپ ہی کی دلولہ انگیز قیادت میں کشمیری عوام نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف مسلح جدو جہد کا آغاز کیا یہ وہ وقت تھا جب کشمیر میں ظلم و جبر ناانصافی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی ایسے حالات میں غازی ملت نے تحریک کو منظم کرنے کے لیئے سری نگر میں اپنی حاملہ بیوی اور ڈیڑھ سالہ بچے کو چھوڑ کر پاکستان کو کوچ کیا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔اس وقت کا تصور کیا جائے جب یہ مرد مجاہد اپنی رفیقہ حیات اور بیٹے کو چھوڑ کر ایک عظیم مہم کا آغاز کر رہا تھا بہادر اور بڑا انسان عظیم مقصد کی خاطر اتنی بڑی قربانی دے رہا تھا۔اتنی ہی بڑی اور عظیم وہ خاتون تھی جو راضی خوشی اس مقصد کے لیے رخصت کر رہی تھی۔ایسی ہی وہ قربانیاں تھیں جس کی وجہ سے نہتے مجاہد ین نے مہاراجہ کی فوجوں کو مار بھگایا۔مجاہدین سرینگر پہنچنے ہی والے تھے کہ مہاراجہ نے بھاگ کر بھارت سے فوج منگوائی اور بھارت اقوام متحدہ پہنچ کر جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی شخصیت ہی تھی جنھوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی کشمیری قوم کے لیے مستقبل کی راہ متعین کرتے ہوئے سرینگر میں اپنے گھر پر الحاق پاکستا ن کی قرارداد منظور کرائی جو قابل فخر کارنامہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔غاز ی ملت کے بے شمار کارناموں میں معاہدہ کراچی آپ کی دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے ۹۴۹۱ء میں حکومت پاکستان سے معاہدہ کر کے گلگت بلتستان کو انتظامی بنیادوں پر پاکستان کے سپر دکیا،جب ت پوری ریاست کا فیصلہ بشمول گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہیں ہو جاتا تب تک یہ معاہدہ کار آمد ہے۔۴۲ اکتوبر ۷۴۹۱ء کو مشکل ترین حالات میں آپ انقلابی حکومت کے بانی صدر بنے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۳ سال تھی یوں آپ کو اقوام عالم کا پہلا نو عمر صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔اور ایک ایسے وقت میں جب اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کی مالا تھی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کو۸۴۹۱ء میں کشمیر کا مسئلہ سیکورٹی کونسل میں اٹھانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آپ نے بھرپور انداز میں کشمیریوں کی نمائندگی کی۔غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کا آزادی کشمیر میں وہی مقام و حیثیت ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں حاصل ہے۔آپ بانی آزاد کشمیر ہیں آپ کی خدمات کا اعتراف آپ کے سیاسی مخالفین نے بھی کیا ہے۔سیاسی اختلافات کے باوجود سردار محمد عبدلقیوم جو خودایک بڑے آدمی تھے اور تحریک آزادی کشمیر میں ان کا بھی اہم کردار ہے آپ نے غازی ملت کے جنازہ کے موقع پر ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان بڑے انسان تھے۔میں ان کا پہرے دار رہا ہوں۔یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ غازی ملت ہی اس تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔سردار محمد ابرہیم خان نے ساری عمر جرات اور بہادری سے سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کیا۔لیکن اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیا۔آپ کا شمار آزاد کشمیر کے ان عمائدین میں ہوتا ہے کہ جن کی اولاد کے دلوں میں بھی اپنے آباؤ اجداد کی خاطر قوم کا درد،بصیرت،جرات،بے باکی بد درجہ اتم موجود ہے۔آپ کے بیٹوں نے اپنے والد کے دور حکومت میں کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہ کی اور نہ ہی اقتدار کی آڑ میں اپنے کاروبا یا اثر و رسوخ کو کسی ناپسندیدہ عمل کے لیے استعمال کیا۔ورنہ عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اقتدار والوں کے خاندان نسل در نسل کی کمائی کر لیتے۔قومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لوٹتے ہیں۔لیکن آپ نے اولاد کی جو تربیت کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔سردار محمد ابرہیم خان کے بیٹے خالد ابراہیم خان درویش صفت آدمی تھے۔ان کی سیاست اور نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن با اصول اور با کردار ہونے سے دشمن بھی اختلاف نہیں کر سکتا۔بانی صدر کا بیٹا ہونے پر اور بارہا ممبر اسمبلی منتخب ہونے کے با وجود ان پر کوئی داغ نہیں لگا۔دلیر،نڈر اور صاف و شفاف کردار کا مالک شخص ا ٓخری سانس تک کشمیریوں کے قومی تشخص اور حقوق کی بحالی کی جد و جہد میں مصروفِ عمل رہا۔غازی ملت ابرہیم خان اس دنیا فانی سے ۱۳ جولائی ۳۰۰۲ ء کو پورے کشمیر کو آزاد دیکھنے کا خواب اپنی آْنکھوں میں سمیٹے اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کے لیے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے کے باوجود اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا۔قربانیوں کی طویل جدو جہد کے بعد بھی وہ اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔آزاد کشمیر اور پاکستان کی عوام کو ان کی بھرپور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔عالمی دنیا جس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ان کو بیدار کرانے سیاسی اخلاقی سے بڑھ کر ان کے کندھوں سے کندھا ملا کر آگے بڑھنا ہو گا۔جب تک کشمیر مکمل آزاد نہیں ہو جاتا غازی ملت محمد ابرہیم خان کا مشن نا مکمل رہے گا۔اللہ تعالیٰ غازی ملت کے درجات بلند کرے جیسا ان کو توکل اور بھروسہ اپنے رب پر تھا اس کے مطابق انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے ادھورے مشن کی تکمیل کرے۔آمین ؁؁؁؁؁ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ٭٭٭٭٭٭

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری