سوپورکا ننھامجاہد

سوپورکا ننھامجاہد سردارمحمدحلیم خان پینسٹھ سالہ کنٹریکٹر بشیر احمد اپنے نواسے تین سالہ عبید کے ساتھ سوپور کسی کام کے سلسلے میں پہنچے۔کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی فوج نیم فوجی دستے اور پولیس تعینات ہے یہاں بھی فوج کے جوان جمع تھے بشیر احمد نے اسے معمول کی سرگرمی سمجھا لیکن انھیں معلوم نہ تھا کہ یہ درندہ صفت فوجی ان کو قتل کر کے سکور پورا کریں گے۔یہ اپنی عمر اور چہرے مہرے سے بھی مجاہد نہیں دکھ رہے تھے لہذا بظاہر خطرے والی کوئی بات نہ تھی۔اچانک ان کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔گاڑی رکی تو انھیں معصوم عبید کے ساتھ گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔اس سے قبل کہ وہ کچھ وضاحت کر تے پورا برسٹ ان کے جسم میں اتار دیا گیا۔لاش سڑک پر پھینک دی گئی۔ننھا عبید یہی سمجھا اس کے نانا کو صرف مارا ہے اسے معلوم نہ تھا ان کی شہادت ہو چکی ہے۔تین سالہ عبید اب ان درندوں کے بیچ اکیلا تھا وہ نانا کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا نا معلوم اس لئے کہ ان درندوں سے بچنے کے لئے یا پھر اپنے خیال میں زخمی نانا کو اٹھانے کے لئے کچھ دیر تک جب نانا کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا وہ اس کے التجائیں کرنے بلبلانے کے باوجود نہ اٹھے کہ وہ تو رب کے حضور پہنچ چکے تھے عبید نے عجیب فیصلہ کیا اس نے پتھر اٹھایا اور ایک بھارتی فوج کی طرف چل پڑا۔ننھے عبید کے ہاتھ میں پتھر والی تصویر کاش کے قارئین کو دکھائی جا سکتی۔ تصور کریں ایک تین سالہ معصوم بچہ جس کے سامنے اس کے نانا کو خون میں نہلادیا گیا ہے اس کے بس میں پتھر ہی تھا وہی لیکر چل پڑا۔ یہ معصوم پھول قرآن پاک کی عملی تفسیر بن گیا۔نکلو اللہ کی راہ میں ہلکے ہو یا بوجھل۔ یہ بچہ ساڑھے بائیس کروڑ پاکستانی عوام اورحکمرانوں کو جھنجوڑ چکا کہ میرے پاس ایک پتھر تھا وہی لے کے چل پڑا۔آخر تمہیں کیا ہو گیا تمہارے پاس ایٹم بم ہے میزائل اور ٹینک ہیں جدید ترین طیارے ہیں پھر تمہاری ٹانگیں کیوں کانپ رہی ہیں؟ جذبوں کا یہ عالم کہ تین سالہ بچہ اپنے نانا کا خون میں لتھڑا لاشہ دیکھ کر بھی ہار ماننے کو تیار نہیں اور قربانیوں کی داستان اتنی طویل کہ گذشتہ مارچ سے اس وقت تک 229 نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں ریاض نائیکو جنید صحرائی اور پی ایچ ڈی سکالر ہلال احمد جیسے ہیرے شامل ہیں کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔بشیر احمد کی شہادت نے اس پروپیگنڈے کو بھی تحلیل کر دیا کہ بھارتی فوج پاکستان کے جھنڈے اٹھانے کی وجہ سے قتل عام کر رہی یے۔کیا ایسے بیہودہ دلائل دینے والے بتائیں گے کہ بشیر احمد یا ننھے عبید میں سے کس نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھا تھا جس سے یہ درندے مشتعل ہوے؟ پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرنے والی بچیاں ہوں یا پتھر کو ہتھیار بنانے والا ننھاعبید یہ بے مثال تاریخ رقم کر رہے ہیں۔لیکن آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے دانشور یوروپ اور گلف کیٹھنڈے ٹھار کمروں میں بیٹھ کر ان کی جدوجہد پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ فیس بکی دانشوروں پر ہی کیا موقوف ہے حال ہی میں ایک سابقہ جرنیل جو الیکٹرانک میڈیا پر دانشوری بگہارتے رہتیہیں انھوں نے بھی یہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا کہ کشمیریوں نے آج تک اپنی جنگ اس طرح نہیں لڑی جیسے لڑنی چاہیے تھی۔پہلی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ پاکستانی عوام مذکورہ شخص کے کسی کارنامے سے واقف نہیں ہیں اپنے آپ کو عسکری ماہر سمجھنے والے اگر کسی نشست میں یہ بھی بتا دیں کہ ان کی عسکری دانش کے نتیجے میں پاکستان کو کس محاذ پہ کامیابی ملی ہے تو ہمیں ان کی بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔فی الحال تو ان کا تعارف صرف اتنا ہے کہ وہ اس مشرف ٹولے کاحصہ تھے جس نے 2003 میں بھارتی دھمکیوں اور سرحدوں پر فوج کے ارتکاذ سے خوفزدہ ہو کر کنٹرول لائن کے تقدس کا معاہدہ کر لیا تھا۔اسی پہ بس نہیں کیا کشمیر میں جہادی اور سیاسی تحریک سے دینی قوتوں کو بے دخل کرنے کے لئے حریت کانفرنس کو تقسیم کیا۔مجاہدین پر پابندیاں لگائیں اور ان میں پھوٹ ڈلوانے کی سازش کی۔ساتھ ہو کر کنٹرول لائن پر باڑ لگوائی۔آج اگر ہندوستان کشمیر میں میدان صاف دیکھ رہا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے کشمیر کے آرپار کئی غدار پیدا کر چکا ہے تو اس کا 'کریڈٹ' بھی مشرف کو جاتا ہے۔موجودہ فوجی قیادت کو اگر یہ احساس ہوا ہے کہ مجاہدین کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر غلطی کی گئی تو مشرف کے چیلوں چانٹوں کو بھی اپنی ترجمانی سے روکیں۔ اگر انصاف کے ترازو پہ تولا جائے تو پاکستان کی عسکری قوت کشمیریوں کی مقروض ہے یہ قرض اتارے بغیر آپ تاریخ میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔ہم سب کچھ بھلا کر ملت اسلامیہ پاکستان کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر ایک جرنیل تجزیہ کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔آگر فوجی قیادت 1947 میں قائداعظم کے حکم پر عمل کر کے جموں سری نگر شاہراہ کاٹ دیتی تو ہندوستان ایک سال بھی کشمیر پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اگر سری نگر ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیتی تو بھارت اپنی فوج ہی نہیں اتار سکتا تھا۔اگر فوجی قیادت بانی صدر سردار ابراہیم خان کی بار بار ایپل پر کان دھرتے ہوے محاصرے میں آئے پونچھ شہر کی ہوائی جہازوں کے ذریعے کمک کو ناکام بنا دیتی تو آج نہ صرف پونچھ شہر بلکہ اوڑی مہنڈر اور راجوری بھی آزاد کشمیر کا حصہ ہوتا۔62 میں جرنیل ایوب خان بزدلی نہ دکھاتے تو کشمیر آزاد ہو جاتا۔65 میں کمانڈوز کے ساتھ عدم تعاون کو جرنل امجد نے بطور خاص ذکر کیا۔اگر کبھی فرصت ملے تو بریگیڈئیر اے آر صدیقی کی کتاب پڑھ لیں۔آپریشن جبرالٹر کے ذریعے ہیرو اور فاتح کشمیر بننے کے چکر میں جرنیل ایوب بھٹو اور جرنیل موسی خان کے مابین مقابلہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے یہ آپریشن کوئی راز تھا ہی نہیں ایک ماہ سے تیاریاں جاری تھیں اور پشاور ائیر بیس پر اس طرح چہل پہل تھی جیسے پکنک منانے نکلے ہوں نتیجہ معلوم کہ بھارت نے مقامی آبادی پر ایک ماہ پہلے ہی کریک ڈاون کر کے اپنے مخبروں کا جال پھیلا دیا۔ جنہوں نے پل پل کی خبریں بھارت کو پہنچا دیں۔ یوں گویا کہ ناقص منصوبہ بندی اور عدم رازداری کی وجہ سے پرندوں کو جکڑے کے لئے شکاری پہلے ہی گھات میں تھے۔آپ کو یہ تو یاد ہے کہ آپریشن آپ کی اپنی بے تدبیری سے ناکام ہو گیا لیکن آپ کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس مہم کے دوران راجوری دوسری مرتبہ آزاد ہو گیا پہلی مرتبہ کرنل ہدایت خان کی قیادت میں ازاد ہوا تھالیکن آپ اس کی حفاظت نہ کر سکے اور جب بھارت نے اس پر دوبارہ قبضہ کیا تو چودہ سو خواتین کو اس جرم میں گرفتا کر کے ان کے ہاتھ گرم تووں پر رکھے گے کہ وہ روپوش مجاہدین کو کھانا پکا کے دیتی رہی ہیں۔ پھر جنرل ضیائالحق شہید نے ان کوتاہیوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی 95 میں عملا کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ایک فیصلہ کن یلغار کی ضرورت تھی وہ ہمت آپ نہ کر سکے۔الٹا اس تحریک کو لو پروفائل کرنے کے اقدامات شروع کر دیے۔2011 شیخ عبدالعزیز کی شہادت کے وقت اور 2016 برہان وانی کی شہادت کے وقت حالات اس سے سو گنا مداخلت کے لئے سازگار تھے جتنے بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے وقت تھے۔لیکن آپ کے ہاتھ اور ٹانگیں کانپتی ہی رہیں۔ آپ کا تجزیہ ان معنوں میں ٹھیک ہے کہ کشمیریوں کا روڈ میپ آج تک یہ رہا کہ انھوں نے بھارت کو بے بس کرنا ہے اور آپ نے آگے بڑھ فیصلہ کن ضرب لگانی یے آپ کی پے درپے شکستہ دلی کے بعد یہ حکمت عملی واقعی غلط تھی۔5 اگست کے بعد کی بے عملی کے بعد تو کشمیر کا بچہ بچہ یہ جان چکا ہے اور درجنوں مواقع کھو دینے کے بعد یہ امید دم توڑ چکی کہ آپ کبھی فیصلہ کن ضرب لگا سکتے ہیں۔ اب ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ بھارت کو خوب زخمی کر کے اسے اٹوٹ انگ کا راگ چھوڑنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں تک لانا ہے۔اس کام میں بھرپور معاونت کر کے آپ سابقہ کوتاہیوں کا کسی حد تک ازالہ کر سکتے ہیں۔ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آزادی سے نہیں روک سکتی کیونکہ ہمارے پاس ننھے عبید جیسے بچے موجود ہیں

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری