ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور حکومتِ آزاد کشمیر کا رویہ

ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور حکومتِ آزاد کشمیر کا رویہ تحریر: سرمد شمریز پاکستان اور آزاد کشمیر میں سب سے قابل اور لائق ترین سمجھے جانے والے طلباوطالبات ہی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے اہل قرار پاتے ہیں۔ شعبہ طب سے منسلک ڈاکٹرز کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا اور مشکل سفر طے کرنا پڑتا ہے جس سے تمام پڑھے لکھے لوگ واقف ہیں۔ اپنی زندگی کے اہم ترین وقت کو قربان کر کے ایم-بی-بی-ایس اور بی-ڈی-ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی پاکستان اور آزاد کشمیر میں ڈاکٹرز شدید مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں۔ دن اور رات کی پرواہ کئے بغیر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے ڈاکٹرز اپنی آسائشوں کو پس پشت ڈال کر فرنٹ لائن فائٹرز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بالخصوص آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات اور محدود وسائل کے باوجود ایک بے حس قوم کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ اس حقیقت سے آزاد کشمیر کا ہر شہری واقف ہے کہ ریاست کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں سہولیات ناپید ہیں جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر مریضوں کو راولپنڈی، اسلام آباد اور ایبٹ آباد جیسے شہروں میں ریفر کر دیا جاتا ہے اور پھر ڈاکٹرز پر جملے کسے جاتے ہیں کہ یہ ڈاکٹرز صرف مریضوں کو ریفر کرنے کی تنخواہیں لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں انہی ناکافی سہولیات اور اپنے سروس سٹریکچر کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے ینگ ڈاکٹرز قریباً پچھلے دو ماہ سے زائد عرصہ سے احتجاج پر ہیں۔ گزشتہ دنوں آزاد کشمیر حکومت کی ایماء پر مظفرآباد میں ینگ ڈاکٹرز کے احتجاجی دھرنے پر پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج کیا گیا اور ڈاکٹرز رہنماؤں کی گرفتاریاں عمل میں لا کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پوری قوم کے لئے یہ افسوس کا مقام ہے کہ کریم آف دی نیشن قرار دئیے جانے والے ڈاکٹرز کے ساتھ اس معاشرے میں یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات ان کے اپنے فائدے سے زیادہ ایک عام شہری کی صحت کے بنیادی حقوق کی علمبرداری کرتے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر میں مریضوں کے تناسب کے لحاظ سے ڈاکٹرز اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کی آسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔ آزاد کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کی جائیں۔ آزاد کشمیر میں کم از کم تین ٹرشیئری کیئر ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج کے لیے ریاست کے شہریوں کو راولپنڈی، اسلام آباد کے چکر نہ لگانا پڑیں۔ آزاد کشمیر کے شہریوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی بھاری فیسوں سے بچانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم-آر-آئی کی مشینیں فراہم کی جائیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں بی-ایچ-یوز اور آر-ایچ-سیز کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں ایک کارڈیک ہسپتال اور ایک نیورولوجی سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز اس وقت پاکستان کے تمام صوبوں کے ڈاکٹرز کی نسبت کم مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ ان کو وفاق کے مساوی مراعات اور حقوق دیے جائیں۔ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے پرسنل پروٹیکشن کٹس کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے جو کہ ڈیوٹیاں سرانجام دینے کے لیے ڈاکٹرز کی بنیادی ضرورت ہے۔ ینگ ڈاکٹرز اپنے تحفظ کے لیے حکومت سے سیکیورٹی ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں تاکہ وہ عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔ ایک عام شہری کی سمجھ میں بھی آ جانے والے ان بنیادی مطالبات کو لے کر گزشتہ دو ماہ سے ینگ ڈاکٹرز پر امن احتجاج پر ہیں لیکن حکومت آزاد کشمیر ان ڈاکٹرز کے خلاف تشدد پر اتر آئی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کو زیر کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق چونکہ آزاد کشمیر پاکستان کا باضابطہ طور پر حصہ نہیں ہے، لہذا پاکستان میں ڈاکٹرز کو جو مراعات حاصل ہیں وہ آزاد کشمیر کے ڈاکٹرز کو نہیں دی جا سکتی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کا رویہ بھی قابلِ مذمت ہے جو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پولیس فورس کے ذریعے ینگ ڈاکٹرز پر چڑھائی کی جا رہی ہے جو قابلِ مذمت ہے۔ قوم کے ان عظیم فرنٹ لائن فائٹرز اور پڑھے لکھے طبقے کو پولیس اہلکاروں سے مقابلہ کسی صورت زیب نہیں دیتا اور نہ یہ ڈاکٹرز کے شایانِ شان ہے۔ ڈاکٹرز نے ریاستی تشدد برداشت کرنے کے لیے تعلیم ہرگز حاصل نہیں کی۔اس وقت ینگ ڈاکٹرز مکمل قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں اور ایمرجنسی سروسز کا بھی بائیکاٹ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مریض در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان تمام حالات کی ذمہ دار آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت ہے جو اپنی شاہ خرچیوں کے لئے تو کروڑوں روپے مختص کیے ہوئے ہے لیکن ڈاکٹرز اور مریضوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے پاس بجٹ موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر صحت خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں لیکن اس کے باوجود ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔ اسی طرح سے سیکرٹری صحت آزاد کشمیر کا رویہ بھی جارحانہ ہے۔ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے جب ڈاکٹرز تشویشناک مریضوں کو راولپنڈی اسلام آباد ریفر کرتے ہیں تو ان ڈاکٹرز کے خلاف محاذ کھڑا کر کے ان کے مقدس پیشہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں قابل ڈاکٹرز ایک بڑی تعداد میں ایم-بی-بی-ایس کرنے کے بعد ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں جہاں انہیں نہ صرف اچھے ہسپتالوں میں کام کرنے کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ عزت و احترام بھی دیا جاتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز کے مسائل کے حل کے لیے آزاد کشمیر کی حکومت کو احکامات جاری کرے اور آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی اور ڈاکٹرز کے سروس سٹریکچر کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر حکومت سے فنڈز مختص کروائے جائیں۔ ایک ڈاکٹر کسی کی امید اور کسی کا ہیرو ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو سیلوٹ سے زیادہ ان کے حقوق کی ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ قوم کے مسیحا ہسپتالوں کا بائیکاٹ کر کے سڑکوں پر ریاستی تشدد برداشت کریں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری