چین اوربھارت لداخ میں

چین اوربھارت لداخ میں سیدحبیب حسین شاہ ایڈووکیٹ 0345-5531411 چین اوربھارت آبادی کے لحاظ سے تقریباًقریب قریب ہے۔2000-01ء کے اعدادوشمارکے مطابق ان کی آبادی ایک ارب ہے انڈیاکی آبادی ایک ارب35کروڑہے اس طرح آبادی کے لحاظ سے یہ دوبڑے ملک ہیں۔البتہ رقبے کے لحاظ سے روس اورکینیڈاکے بعدچین تیسرے نمبرپرہے۔جبکہ بھارت ساتویں نمبرپرہے۔اگربھارت کے کچھ حصے یاتقسیم میں کچھ ملک اس سے الگ نہ ہوتے توبھارت چین سے بڑاملک ہوتا۔ایک زمانہ تھا1960ء میں ہندوچینی بھائی بھائی کے نعرے لگتے ہندوستان شروع سے ہی سویت یونین کے بلاک میں رہاجبکہ ایک زمانے میں امریکہ کے قریب رہا،اوریہ 1962ء کی بات ہے۔اس سے پہلے ہندی چینی بھائی بھائی تھے۔1962ء میں لداخ کے ایک علاقہ جس کونیفاکی پہاڑیاں کہاجاتاتھااس میں چین اورہندوستان کاٹکراؤہوا۔اس طرح بھائی بھائی کانعرہ ختم ہوگیا۔ہم اس وقت زیادہ زیادہ دس گیارہ سال کے تھے اورریڈیوپرراقم جوخبرسنتاتھاکہ یہ لڑائی جو1962ء میں ہوئی یہ بھیڑوں پرہوئی تھی اورچین نے ہندوستان کے کافی رقبے پرجونیفاکی پہاڑیوں پرتھاقبضہ کرلیا۔عجیب بات ہے کہ آبادی اوررقبے کے لحاظ سے ان دوملکوں کے درمیان آج بھی باضابطہ طورپرسرحدپرحدبندی نہ ہے۔اس لئے ان کے درمیان ٹکراؤ ہوتا رہتاہے۔اس وقت دونوں ملک روسی فیڈریشن کے اتحادی ہیں،گوکہ ہندوستان موجودہ وزیراعظم جوبھارتیہ جنتاپارٹی کی لیڈرہیں ان کاشروع سے کچھ کچھ جھکاؤامریکہ کی طرف رہااوران جھڑپوں تک بھی باوجوداس کے کہ ہندوستان کاسارااسلحہ مگ طیارے سے خوئی طیارے جنگی ہیلی کاپٹرسمندری میرینیں اورجدیدترین ہوائی جہازسیخوئی اورروس کے جدیدترین میزائل جن کاتوڑدنیاکے پاس نہیں ہے ایس ایس تھری ہنڈرڈہندوستان کے پاس موجودہیں جبکہ ایس ایس فورہنڈرڈکاسوداہوچکاہے یہ ایک ایسامیزائل ہے کہ جوزمین سے ایک اٹھتاہے لیکن آگے فضامیں یہ سینکڑوں طیاروں کوالگ الگ مارنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ایک اورہتھیارجسے T-90ٹینک کہتے ہیں وہ بھی روس کاہندوستان کے پاس ہے۔یہ ایک ایساٹینک ہے کہ جس پرکوئی میزائل اگراٹیک کرے تومیزائل توتباہ ہوجائے گالیکن ٹینک کوکچھ نہیں ہوتاہے۔شام میں امریکہ کے میزائلوں نے اس ٹینک کونشانہ بنایالیکن دنیاحیران ہوگئی کہ ٹینک کوخراش تک نہیں آئی۔ہندوستان کی فضائی کوعددلحاظ سے دنیاکی سب سے بڑی فضائیہ تسلیم کیاجاتاہے جبکہ افواج میں روس چین اورہندوستان کچھ آگے کچھ پیچھے دنیاکی تین بڑی افواج ہیں۔پہلے روس کی افواج دنیاکی سب سے بڑی افواج تھی اب چین کی افواج کوئی سینکڑوں میں روس سے زیادہ ہے۔اورانڈیاکی بھی تھوڑی بہت چین سے پیچھے ہے۔لیکن زیادہ نہیں سینکڑوں میں ہیں۔ہندوستانی فوج میں گورکھے اورمرہٹوں کودنیاکی اعلیٰ ترین فوج سمجھاجاتاہے۔جب مودی صاحب امریکہ کے صدرٹرمپ کے ساتھ اٹکیلیاں کررہے تھے ہاتھوں میں ہاتھ دے اورہاتھوں میں ہاتھ لے اورپھرہنس ہنس کرایک دوسرے کوتھپکیاں دے رہے تھے پھرامریکہ میں ایک بڑی کانفرنس سے جس میں امریکی ریاستوں کے گورنراورحکومت کے کرتے دھرتے موجودتھے آگے آگے مودی اورپیچھے پیچھے ٹرمپ اسٹیج پرپہنچے اورٹرمپ کی مختصرتقریرکے بعدمودی کاپہلے انگریزی میں بھاشن پھرہندی زبان میں بھاشن ہندی زبان بنیادی طورپراردواورہندی کے الفاظ کامجموعہ ہے اوراسی زبان میں مودی صاحب نے جب امریکہ میں تقریرکی توساتھ ساتھ انگریزی زبان میں اس کاترجمہ ہورہاتھااوریوں مودی نے ٹرمپ اورٹرمپ نے مودی کی تعریف میں زمین وآسمان کے کلابے ملادیئے۔اس میں ٹرمپ کی ایک چھپی ہوئی آس تھی کہ آئندہ الیکشن میں امریکہ میں مقیم ہندوستانی ٹرمپ کوووٹ دیں گے۔جب ساراکچھ امریکہ میں ہورہاتھاتوروس کاانگریزی ٹی وی چینل RT(Russia Today)یہ ساراکچھ دیکھ رہاتھا۔اورروس چاہے موجودہ روس ہویاسوویت یونین ہووہ کبھی برداشت نہیں کرتے کہ ان کاکوئی اتحادی ملک جس کوروس ہرطرح کااسلحہ دیتاہوکھائے روس سے لے روس سے اورجھپے امریکی صدرسے لگائے اورمیرے خیال میں لداخ میں ہندوستان کوچین کی طر ف سے اس جھٹکے سے یاران طریقت کابھی حصہ ہے کہ کچھ سمجھے میرے شکوے کوتورضواں سمجھا مجھ کوجنت سے نکالاہواانساں سمجھا لگتاہے کہ ہندوستان بھی سمجھااوراسی لیے اپنے ایک وزیرراجناتھ صاحب کواس جھڑپ کے بعدروس بھیج دیااوروہاں راج ناتھ روس کی دوسری جنگ آزادی کے فتح کے جشن میں شامل ہواجہاں ہندوستان سمیت پندرہ ممالک کی فوجیں بھی حصہ لے رہی تھیں۔راج ناتھ صاحب سفیدپجامے سفیدکرتااورسفیدکوٹی میں بہت بھاری برکم قدم ماسکومیں رکھ رہے تھے ماتھاشکن آلودتھاآنکھوں میں کچھ کچھ آنسواترے ہوئے تھے اورگالوں پرکچھ جھریاں نظرآرہی تھیں۔جس سے پتہ چلتاتھاکہ وہ روس کے سامنے کچھ کچھ شرمندہ ہیں۔ ہندوستان نے پہلے سنایالداخ میں چینیوں کے ہاتھوں ایک کرنل ایک ہندوستانی کمانڈواورایک ہندوستانی سپاہی شامل ہوگئے لیکن گولی چلی نہ تیروتفن کیسے مرے آج بھی ہندوستان کی تمام اپوزیشن پارٹیاں پوچھ رہی ہیں لیکن جواب نہ دارد۔پھرہندوستان کے ٹی وی کومبارک ہوکہ اس نے جھوٹ نہیں بولااورکہاکہ ہندوستان کے بیس فوجی مارے گے ایک ہلکی سی خبرساتھ میں دی کہ ان کوپہاڑسے گراکرماراگیا۔ہندوستان کی بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس آج تک پوچھ رہی ہے کہ یہ ہندوستانی فوجی چین کی سرزمین پرمارے گئے ہندوستان کی سرزمین پرمارے گئے کس چیزسے مارے گے لیکن مودی صاحب اپنے جوش خطابت سے لوگوں کے پیٹ بھرتے ہیں اوراصل جواب آج تک نہیں آیا۔ہم کسی طورپربھی چین کی کامیابی کے حامی نہیں ہیں۔وہ اس لئے کہ ہندوستان اورہم کل تک ایک تھے آج بھی ہماری زباں ہمارالباس ہماراکلچرایک جیساہے۔ہمارے گیت سنگیت ایک جیسے ہیں۔ہندوستان کے ٹی وی پرروزانہ قرآن مجیدکی دلسوزاندازمیں تلاوت ہوتی ہے،دل پہ اترنے والی نعتیں پیش ہوتی ہیں۔دنیابھرمیں سب سے زیادہ مسلمان ملک ہند میں ہی بستے ہیں اوردنیامیں سب سے زیادہ اولیاء اللہ کی مساجداورمزاراسی ہندوستان میں موجودہیں۔اسی میں مسلمانوں کے سب سے زیادہ قبرستان آبادہیں۔اورمسلمانوں کوبولنے اورلکھنے کی آزادی بھی اسی ملک میں ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کے ملک میں بھی آزادی نہیں ہے جوہندوستان کے اندرہے یہاں کبھی مارشل لاء نہیں رہااوریہاں اقلیت کاقتل وغارت اس طرح نہیں ہواجس طرح چین میں یاکچھ ہمارے مہربان ملکوں میں ہوتاہے۔چین میں پندرہ لاکھ مسلمان الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنگلوں میں قیدہیں ان کے باہرتاریں لگی ہوئی ہیں محمدنام رکھناجرم ہے مسلمانوں کی اپنی تہذیب چین سے قطعاًمختلف ہونہیں سکتی ہے پھرہم نہ کتے کھاتے نہ بلے کھاتے ہیں نہ سانپ سانڈولے کھاتے ہیں اورنہ چمگادڑکھاسکتے ہیں اورہندوستان میں کوئی مہذب کتے بلے نہیں کھاتاہے۔اس کے علاوہ لداخ کاعلاقہ برصغیریاہندوستان کاہوسکتاہے یاپاکستان کاہوسکتاہے اوراگرسچ کہوں توبرانہ منایئے کہ یہ کشمیریوں کاعلاقہ ہے وہی کشمیری جواپنے وجوداورخصوصی حیثیت کے لئے 73سال سے برسرپیکارہیں۔چین کشمیریوں کاعلاقہ کس طرح لینے کاحقدارہے چین مقبوضہ علاقے میں کس طرح بڑے بڑے پراجیکٹ بنارہاہے اورپھرچین کہیں ایسانہ ہوکہ تعمیروترقی کے لبادے میں ایسٹ انڈیاکمپنی بن جائے جس نے تعمیروترقی کے عنوان سے افریقہ اورسری لنکااورکچھ اورممالک پرقبضہ کررکھاہے۔ہمارے کوہالہ پراجیکٹ پربھی جوحال ہی میں ہوناطے ہواتیس سال تک چین کاکنٹرول رہے گا۔ہمارے کچھ ساتھی جوش جنون میں اس حقیقت سے غافل ہیں کہ جب ایسٹ انڈیاکمپنی نے ہندوستان میں تجارت کی غرض سے مالابارمیں پڑاؤڈالاتوکچھ ناداں لوگوں نے بالخصوص مغلیہ دورکے وظیفہ خوروں نے اس امیدپرکہ انگریزملک میں ریل گاڑیاں چلائے گاانگریزیہاں سائنسی ترقی کرے گااورانگریزی سکھائے گااورہم منہ ٹیڑاکرکے انگریزی بول کراردواورہندی بولنے والوں کی صلاحیت پراپنے آپ کوانگریزہی سمجھیں گے اوریوں بربادی ایک ایساسلسلہ ایسٹ انڈیاکمپنی شروع کیاکہ سراج دولہ بھی مرگیاٹیپوسلطان بھی مرگیامنگل پانڈے بھی مرگیاجھانسی کی رانی بھی مرگئی اشفاق احمدبھی ماراگیااوربھگت سنگھ بھی نہ بچااوریوں ایسٹ انڈیاکمپنی نے ”یوں دی ہمیں بربادی کہ دنیاہوئی حیران“۔بیعنہ چین توسیع پسندپالیسی اگربرصغیرپرقابض ہوگئی توپھرہم نے چینی بولنے کے ساتھ ساتھ وہ چیزیں بھی کھانی پڑیں گی جس کاذکرسطوربالامیں کیاہے۔اب روس کے کہنے پرہندوستانی وزیرخارجہ اورچینی وزیرخارجہ کوسمجھایاگیاہے کہ وہ اپنی اپنی سابقہ بارڈرپرآجائیں جنگ سے گریزکریں جس پرکچھ کچھ عمل ہورہاہے اوراس وقت تک چین کی فوج تین کلومیٹرپیچھے آگئی ہے۔اورہندوستان کی بہت زیادہ فوج بارڈرپرآن کھڑی ہے۔ہندوستان کی فضائیہ کے طیارے بالخصوص مگ29سیکھوئی ہیلی کاپٹراورباقی ہتھیارمشقوں میں مصروف ہیں۔ہندوستان نے فیصلہ کیاکہ چائینہ جوتجارت ہندوستان کے ساتھ کرتاہے دھیرے دھیرے وہ پیداواری چیزیں ہندوستان کی کمپنیاں خودبنائیں۔جس کے لئے کم ازکم تین سال کاعرصہ درکارہے ترنت یہ نہیں ہوسکتاہندوستان کے تعلقات نیپال سے بہت اچھے تھے لیکن وہاں کیمونسٹ حکومت آنے کے باوجوداورباوجودہندوحکمران کے ہندوستان کے نیپال سے تعلقات خراب ہوگئے۔جس کے پیچھے بھی چین کی پالیسی کارفرماہے۔پاکستان اورہندوستان کے تعلقات پہلے سے ہی خراب ہیں۔تاہم چین کے حالات بھی کچھ زیادہ بہترنہیں ہیں تاوان چین کے خلاف جنوبی کوریاچین کے خلاف جاپان چین کے خلاف امریکہ اورنیٹوتوچین کے خلاف ہیں ہی لیکن امریکہ کے ساتھ مغربی ممالک جواسلحہ بھی خودتیارکرتے ہیں اور29ملک جنہیں نیٹوکہاجاتاہے روس کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں ایک جنگی اتحادبنایاہواہے کہ جب کبھی بھی روس کے خلاف لڑناہواتوایک ساتھ لڑیں گے اورروس جورقبے میں دنیاسب سے بڑاملک سائنس وٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے وہ اپنے پڑوسی بڑے ملکوں چین اورہندوستان کولڑنے نہیں دے گااگریہ دوملک آپس میں لڑے توان کاحشربھی وہی ہوگاجوعراق وایران کی لڑائی میں ہواتھاعراق اورایران آپس میں نہ لڑتے تولیبیاشام افغانستان بلکہ پاکستان میں بھی امریکہ اورنیٹوکی مداخلت نہ ہوتی۔ہندوستان اورپاکستان کواپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے ہوں گے اس لئے کہ جنگی ماہرین جانتے ہیں جنگ کھیڑنہیں ہوندی زنانیاں دی اورجنگ کے مقابلے میں امن بہرصورت بہت اچھی چیزہوتی ہے۔جس میں خون خرابہ نہیں ہوتاجس میں تباہی وبربادی نہیں جس میں نفرتیں اوردشمنیاں نہیں ہوتیں۔آج کامضمون بس اتنامیری بیماری مکمل ختم نہیں ہوئی میرے بہت سارے دوست اورمہرباں مرگے جن میں سردارنعیم صاحب محترم معلم سرداریعقوب خان ہمارے ماضی کے پیپلزپارٹی کے دریرینہ ساتھی۔پاک گلی کے میرے ایک مہربان راجہ دفترکیانی صاحب تراڑکھل سے یعقوب صاحب کی بیگم جوچاردن پہلے رخصت ہوئیں۔لیکن یعقوب صاحب نے اس داغ اوردکھ کواتنالیاکہ ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاکرتوپہلے کدھرچلی گئی اورچوتھے دن یعقوب صاحب بھی قبرمیں چلے گئے پھرمیری چچازادبہن جوسرچھہ میں رہتی تھی ممتازبیگم وہ بھی چلی گئیں۔اس طرح کچھ اورساتھی جویہاں سے چلے گئے میں بوجہ بیماری حاضرنہ ہوسکتاجن کے تہی اسی مضمون میں بخشش کی دعاکرتاہوں،اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے بہشت بریں میں وہ امن وسکون میں رہیں۔(واللہ اعلم)اورسوگواران کواللہ تعالیٰ صبرجمیل عطاکرے۔صحت کی بہتری پران کے ہاں حاضری دوں گا۔باقی آئندہ یارزندہ صحبت باقی۔۔۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری