"کورونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرعی حیثیت " (قسط نمبر 02)

بسم اللہ الرحمن الرحیم "کورونا وائرس کے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرعی حیثیت " (قسط نمبر 02) انسان بنیادی طور پر خلاصہ کائنات اور مرکز خلائق ہے۔ دنیا کی تمام بہاریں انسان کے دم قدم سے ہیں۔ لہذا انسانی کی زندگی کی حفاظت نظام تکوین (تخلیقِ انسان اور کائنات) اور تشریعی (دین اسلام) کے اساسی مقاصد میں سے ہے۔ اس پر واضح دلیل انسانی زندگی کی کرہ زمین پر مختلف بیماریوں سے حفاظت کے لیے انسانی وجود میں ایک ایسا مدافعتی نظام (Immune System)موجود ہے جو انسانی وجود میں داخل ہو کر اس کی صحت اور زندگی کو نقصان پہنچانے والے ہر قسم کے جراثیم کے خلاف لڑتا ہے۔ یہ نظام ہمارے خون میں ہمیشہ گردش کرتا ہے اور بے شمار بیماریوں کے جراثیم کو ہمیں کوئی اطلاع دیئے بغیر ہی تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارے جسم میں کسی بیماری کی علامات دراصل اس نظام کے کمزور یا پسپاہ ہونے پر ہمیں مطلع کرتی ہیں۔ آج دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ایک کروڑ تیس لاکھ انسان کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔جبکہ حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس بیماری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ لاکھ دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہلاکتوں کا تناسب مختلف ممالک میں کم و بیش ہے۔ تاہم مجموعی طور پر یہ تناسب دو سے چار فیصد کے درمیان ہے۔ اس مرض سے شفایاب ہونے والے تمام مریض قوت مدافعت کے ذریعہ ہی جانبر ہوئے ہیں۔ چند لمحوں کے لیے تصور کیجئے کہ جسدِ انسانی میں اللہ رب العزت نے قوت مدافعت کا ایک فعال نظام نہ رکھا ہوتاتو اس مرض کے تمام متاثرین لقمہ اجل بن گئے ہوتے۔جب تما م تر انسانی ترقی، سائنسی ایجادات اور طبی ادویات بے بس ہو گئی ہیں تو انسانیت کی دستگیری خالق کائنات خود فرمارہا ہے،اس سے ثابت ہوا کہ نسل انسانی کی حفاظت و بقامقصود فطرت ہے۔خالق کائنات کا ارشادہے۔ "فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا "(سورۃ روم، آیت ۰۳)اللہ کا(نظام) فطرت ہے جس پراُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ نظام فطرت میں انسان کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے اہتمام کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر وجود انسانی کو کوئی بیماری لاحق ہوجائے جس کے مقابلہ میں انسان کا دفاعی نظام کمزور پڑجائے تو خالق فطرت نے روئے زمین پر ایسی بے شمار جڑی بوٹیاں پیدا کر رکھی ہیں جو ان بیماریوں کے خلاف لڑتی ہیں اور انسانی زندگی کو بچانے میں قوت مدافعت کی مدد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: "ماانزل اللہ داء َ الا انزل لہ شفاء "(صحیح بخاری، کتاب الطب)۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا ء بھی (ساتھ) نہ اتاری ہو۔ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ماانزل اللہ داء الا انزل لہ دواء " (ابن ماجہ، کتاب الطب)۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری اتاری اس کی دوا بھی اتاری ہے۔یہی نظام فطرت کا کمال ہے کہ دنیا میں لاکھوں ادویات موجود ہیں اور اس فطری اصول کو ساری دنیا ء سائنس اورطب مانتی ہے جب ہی تو کورونا کی ویکسین کے لیے انسان پرامید ہے اور دنیا میں لاکھوں سائنسدان اس کی جستجو میں شب و روز سرگرم عمل ہیں۔ انسانی صحت و حیات کی حفاظت مقصود فطرت اور مطلوب شریعت ہونے کا تیسر اہم ثبوت ثبوت یہ ہے کہ خوردنی اشیاء میں ہر چیز انسانی خوراک نہیں بن سکتی۔ لہذا اس ضمن میں انسان کو ہر دور میں الہامی راہنمائی کی ضرورت رہی ہے تاکہ انسان غلطی سے ایسی کوئی خوراک استعمال نہ کر ے جس کا اس کی جسمانی صحت، بلکہ اخلاقی رفعت اور روحانی طہارت پر کوئی منفی اثر مرتب ہو۔ قرآن حکیم نے نبی آخرالزماں کے فرائض منصبی بیان کرتے ہوئے آپ کی ایک اہم خوبی یہ بیان کی ہے کہ "یحل لھم الطیبت و یحرم علیھم الخبائث"(الاعراف، ۷۵۱)۔ اُن کے لیے (وہ بنی ﷺ) طیبٰت کو حلال اور خبائث کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن و سنت میں ایک مومن کی فہرست طعام (Menu)میں طیبٰت کو شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ خبائث کو انسان کے لیے ناقابل استعمال قرار دیا گیا ہے۔ "طیب"اور "خبیث" بہت جامع اور واضح اصطلاحات ہیں۔ "طیبٰت "سے مراد اچھی، سود مند (useful)خوش ذائقہ (Delicious)اشیاء ہیں جبکہ "خبیث"سے مراد خراب، نقصان دہ (Harmful)اشیاء ہیں۔ قرآن و حدیث میں کہیں اجمال اور کہیں تفصیل کے ساتھ حرام اشیاء کا تذکرہ موجود ہے۔ یہ دین اسلام کا سائنسی اعجاز ہے کہ وہ جانوراور دیگر غذاہیں جنہیں دین فطرت نے اس وقت انسان کے لیے ناقابل استعمال قرار دیا تھا جب ان کی حرمت کی کوئی سائنسی اساس انسان کے علم میں نہ تھی، آج سائنسی علوم کے ارتقاء نے ابھی اسلام کی حرام کردہ اشیاء کو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ جو دین اسلام کے بارے میں محدود علم بلکہ لاعلمی کے باعث اسے سائنسی بنیادوں پر مُسلّم دین (Scientifice Religion)ماننے میں تذبذب کا شکار ہیں ان کی چشم عبرت کھولنے کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ موجودہ کورونا وائرس دراصل اسلام کی حرام کردہ اشیاء کے استعمال سے ہی انسانی زندگی پر حملہ آور ہوا ہے۔ چینی مرکز برائے کنٹرول امراض و علاج نے تصدیق کی ہے کہ ووہان شہر میں واقع سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ سے ہی اس وائرس کی ابتدا ہوئی ہے جہاں زندہ بھیڑیے، کتے، لومڑیاں، چوہے اور چمگادڑ فروخت ہوتے تھے۔ (روزنامہ جنگ 31مارچ 2020ء کالم حنا پرویز بٹ)اس سے یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہو گئی کہ مقاصد الشریعہ میں ایک اہم مقصد ِانسانی صحت و زندگی کا تحفظ ہے۔ یہ حقیقت ایک دوسرے پہلو کو پیش نظر رکھنے سے مزید واضح ہوجاتی ہے۔شریعت اسلامیہ میں حرام اشیاء توکجامشتبھات (شبہ والی اشیاء) سے بھی بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ تاہم انسانی زندگی کے نشیب و فراز میں بعض ایسے مواقع بھی پیش آسکتے ہیں جہاں انسان حرام کھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی دنیا کے بعض ممالک ہیں قحط سالی اور غربت نے ہزاروں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا مگر آج دنیا کے گلوبل ویلج ہونے اور بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیمات اور اداروں کی موجودگی کے باوجود بھوک و افلاس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی نسل انسانی کے لیے کچھ نہ کیا جاسکا۔ افریقہ کے ملک ایتھوپیا اور پاکستان کے علاقہ تھرسمیت دنیا کے کئی ممالک میں خشک سالی اور غربت کے باعث ہونے والی ہلاکتیں اس کا بین ثبوت ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت حال میں دین اسلام کے حلت و حرمت کے ضابطوں میں حقیقی ضرورت کے مطابق عارضی طور پر لچک پیدا ہوجاتی ہے تاکہ انسانی زندگی کو بچایا جاسکے۔ سورۃ بقرہ میں چند حرام اشیاء کا یوں ذکر آیا ہے۔ "بلاشبہ (اللہ نے)تم پر مردہ جانور (بہتا) خون اور خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر وقتِ ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام قرار دیا ہے۔پس جو شخص (شدت کی بھوک سے) مجبور ہو جائے نہ شریعت کا باغی ہو اور نہ (ضرورت سے زیادہ) حد سے تجاوز کرنے والا ہو،سو اس پر کوئی گناہ نہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے "(بقرۃ آیت:۳۷۱) سورۃ مائدہ آیت نمبر ۳ اور سورۃ نحل آیت نمبر ۵۱۱ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ مجتہدین کرام اور فقہاء عظام جن کی مقاصد شریعت پر گہری نظر تھی اس نوعیت کی آیات اور احادیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند قواعد فقہیہ وضع کیے ہیں۔ مثلاََ "الضرورات تبیح المحظورات "ضرورتیں ناجائز چیزوں کو (وقتی طور پر) جائز کر دیتی ہیں، "اذا ضاق الامر اتسع"جب انسان کے لیے کسی معاملہ میں (شدید) تنگی پیدا ہوجائے تو اسلام کے ضابطوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔تاہم اس میں شرط یہ ہے کہ "الضرورات تقدر بقدرھا" ضرورتیں حقیقی ضرورت تک محدود رکھی جائیں گی۔ حقیقی ضرورت کا تعین ایک طرح سے انسانی ضمیر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اصل مفتی آدمی کا اپنا دل و دماغ ہو گا۔ تاہم یہ لچک وقتی اور دو شرائط کے ساتھ مشروط ہوگی۔ اول یہ کہ آدمی ان حرام اشیاء کا استعمال دل کی چاہت سے نہ کرے۔ دوم یہ کہ آدمی صرف جان بچانے کی حد تک اس نرمی سے استفادہ کر سکتا ہے۔ ان رخصتوں کو دیکھتے ہوئے بلاتامل کہا جاسکتا ہے کہ شریعت کا اصل مدعا انسانی جان کی حفاظت ہے۔ یہ رخصت صرف کھانے پینے کی اشیاء تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر شعبہ زندگی تک وسیع ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر بیمار افراد امت کو نماز کے ارکان (جن کی تلافی سجدہ سھو سے بھی نہیں ہوتی) قیام،رکوع و سجود میں استثناء حاصل ہوتا ہے۔ اسی ضابطہ کے تحت حالت مرض و سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ اسی رعایت سے خواتین ایام حمل و رضاعت میں فرض روزہ کو مؤخر کر سکتی ہیں۔ اسی انسانی مجبوری کو سامنے رکھتے ہوئے دائمی مریض شیخ فانی (انتہائی عمر رسیدہ مرد) اور عجوز فانیہ (انتہائی عمر رسیدہ خاتون) کو فرض روزے ترک کر کے ان کے بجائے فدیہ دینے کی اجازت ہے۔ تاہم اس رعایت سے استفادہ کرنے کے لیے عام طور پر مفتیان عظام اور علماء کرام فتویٰ دینے یا شرعی مسئلہ بتانے سے پہلے ڈاکٹر حضرات کی اس بارہ میں رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس بارہ میں صرف یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر مستند، دین دار اور صالح ہو تاکہ اس کی رائے نیک نیتی اور حقیقت پر مبنی ہو۔ جب نسبتاََ کم مہلک اور ضرر رساں بیماریوں سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر یا بعض صورتوں میں چند ڈاکٹر صاحبان کی رائے کو معتبر سمجھتے ہوئے علماء کرام فرائض و واجبات کو وقتی یا دائمی طور پر ترک کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ایک مہلک وائرس جس کے پھیلاؤ کو روکنے اوراس سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ (Option)انسان کے پاس نہیں ہے۔ سو ساری دنیا کے ڈاکٹر صاحبان متفقہ طور پرجو احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں انہیں کسی شرعی دلیل کی بنیاد پر نظر انداز کیا سکتا ہے۔۔۔(جاری ہے)

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری