ڈاکٹر خالد محمود، قابل تحسین انتخاب

ڈاکٹر خالد محمود، قابل تحسین انتخاب شفقت ضیاء جماعتِ اسلامی کا قیام پاکستان بننے سے پہلے 1941ء میں بہت ہی بڑے عالمِ دین، مفکر، مفسرِ قرآن سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے 75دیگر علماء اور علمی شخصیت کی مشاورت سے رکھا، وقت کے ساتھ اسی نام اور بعض ممالک میں دوسرے ناموں کے ساتھ دنیا کے بہت سے ممالک میں اسلامی تحریکوں کی بنیاد اسی سوچ و فکر کے ساتھ رکھی گئی کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے مکمل نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کا وجود ضروری ہے۔اگرچہ کسی بھی ملک میں یہ تحریک مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکی بعض اسلامی ممالک میں اقتدار تک پہنچنے میں کامیابی کے باوجود اسے موقع نہ دیا گیا جبکہ پاکستان میں عوام کی مقبول جماعت نہ بن سکی۔آزاد کشمیر میں 1970 ء تک کہا جاتا ہے کہ سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے کہنے پر اسلام اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے جو خدمات آپ ادا کرنا چاہتے ہیں وہی کام ہم مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کر رہے ہیں اس لیے اس کی آزاد کشمیر میں ضرورت نہیں ہے کی وجہ سے 30 سال تک اقامتِ دین کا کام اُن کے سپرد رہا اس کے بعد احساس ہوا کہ یہ وہ کام نہیں ہو رہا جس کے بعد جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا آزاد کشمیر میں پاکستان کے مقابلہ میں بہتر دینی ماحول ہونے کے باوجود 50سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود جماعت اسلامی اقتدار سے کوسوں دور بامشکل خصوصی نشست پر سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور خاتون ممبر کی صورت میں موجود ہے مگر عوام کی مقبول جماعت بننے میں تا حال کامیاب نہیں ہو سکی ایک نظریاتی جماعت،با صلاحیت کارکنان کی ٹیم اور عوامی خدمت کے کام،اچھا ماحول ہونے کے باوجودعوام میں پذیرائی حاصل نہ ہونا جماعتِ اسلامی کی قیادت کے لیے سوالیہ نشان اور لمحہ فکریہ ہے۔تاہم جماعت اسلامی نے خامیوں،کوتاہیوں کے باوجود تسلسل سے جماعتی انتخابات کرا کر ایک جمہوری جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے،بلکہ دیگر جماعتوں کے لیے باعثِ تقلید بھی ہے ایسے میں جب پاکستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کے قبضے ہیں دولت سے عہدے اور منصب خریدے جاتے ہیں، انتخابات کے بجائے سلیکشن ہوتی ہے، معیار اور کارکردگی کے بجائے دولت، تعلق اور سفارش سے کام چلتا ہے، وہاں سراج الحق جیسے سفید پوش اور آزاد کشمیر میں ڈاکٹر خالد جیسے درویش کا انتخاب ہوتا ہے،جومثبت سائن اور یقینا دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ غورہے، جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں آتی تو درست قیادت سامنے نہیں آ سکے گی،جس کا نقصان سیاسی جماعت کے ساتھ ملک و قوم کا ہوتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے انتخاب کے طریق کار میں ایک خامی یہ ہے کہ انتخاب کے لیے صرف جنرل کونسل کے ارکان کو حق دیا جاتا ہے اگر اس کے بجائے کارکنان تک کو اس میں شامل کیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں تاہم ایک ایسے دور میں جب مفادات اور مادہ پرستی اپنے عروج پر ہے جس کے اثرات سے جماعت اسلامی بھی محفوظ نہیں ہے، اگرچہ یہ حکومت میں نہیں پائی جاتی لیکن اپنے اداروں میں نوکریاں ہوں یا دیگر معاملات کہیں نہ کہیں مفاد کا عنصر ادھر بھی آیا ضرور ہے، اس کے باوجود قیادت کے چناؤ میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں ارکان کا شعور قابلِ تحسین ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود جیسا ہیرا موجود ہونے کے باوجود ان کا انتخاب نہ ہوتا تو یہی سمجھا جاتا کہ ابھی چند ہزار لوگ بھی تیار نہ ہو سکے جو درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر خالد محمود ایک با کردار انسان ہیں جن کے بارے میں ہی شاید کہا گیا ہے کہ وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب جس کا ہے بے داغ،ضرب ہے کاری خوبصورت خدوخال، ظاہر و باطن میں ایک جیسا،عاجزی و انکساری کا پیکر، گفتگو میں موتی بکھیرتا، علم کا سمندر، قرآن سے خصوصی تعلق اور باکمال مدرس ڈاکٹر خالد محمود کے انتخاب کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔درویش صفت ڈاکٹر خالد محمود سرکاری جاب کو چھوڑکر پرائیویٹ ہسپتال میں غریبوں کا مفت علاج کر کے خدمت کرتا رہا۔ جماعت کے لیے قربانی دی اور جدوجہد کی۔آج بھی کر ائے کے گھر میں رہتا اور اپنا گزر بسر اپنے محدود وسائل سے کر رہا ہے جو آج کے دور میں درخشاں ماضی کا بہترین کردارہے۔کمال کی صلاحیتیں، اپنے اور پرائے سے سلیقے کے ساتھ گفتگو کا ہنر جاننے والا،دیانت دار،امین،صادق،جرات مند،کیا جماعت اسلامی کو عوام میں مقبول کر پائے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔تاہم پہلا سیشن اچھی ابتدا ضرور رکھ چکا،چیلنج بہت صلاحیتوں کی کمی نہ علم و ویژن کی البتہ اندر کی رکاوٹوں، سازشوں سے بچ گیا تو جماعتِ اسلامی کوعوامی قوت بنا دے گا۔ورنہ قاضی حسین احمد کی طرح اچھی کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے گا۔تحریک آزادی کشمیر کے تناظرمیں آزاد کشمیر میں باکردار اور ویژن والی قیادت کی اشد ضرورت ہے،جس کے لیے طلبہ یونین کی بحالی اور بلدیاتی انتخابات انتہائی ضروری ہیں۔ڈاکٹر خالد محمود سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں کئی بہتر لوگ ہیں اور ان کونکھیرنے والی طلبہ تنظیمیں ہیں جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص ڈاکٹر خالد محمود کو کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ مستقبل روشن ہو سکے۔ڈاکٹر خالد محمود کے بارے میں ہی شاعر نے شاید کہا ہے کہ نگاہ بلند سخن و دل نواز، جاں پر سوز یہی ہے رخت ِ سفر میر کارواں کے لیے

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری