"ساوتھ ایشیا فیڈریشن" ممکن ہے؟

سچ تو یہ ہے "ساوتھ ایشیا فیڈریشن" ممکن ہے؟ بشیر سدوزئی ۔ ساوتھ ایشیا میں امن و ترقی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارتی سول سوسائٹی ایک نئی تجویز سامنے لائی ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس میں بھارتی ریاستی ادارے، حکومت یا سیاست دان بھی شامل ہیں یا یہ محض سول سوسائٹی ہی کی اختراع ہے ۔ بھارت کی معروف صحافی اور سوشل میڈیا و سول سوسائٹی کی متحرک رکن نیوپور شرما نے اپنے گروپ کی جانب سے فیس بک پیج nurpur Sharma official پر دونوں ممالک کے عوام کو مخاطب کیا اور 36 منٹ کی گفتگو میں مس شرما نے کہا کہ دوستی اور محبت میں پاکستان ایک قدم آگئیں آئے تو بھارت دو قدم بڑھائے۔ تجویز کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی اور کہا کہ آپس کی لڑائی جھگڑے میں دونوں ممالک کو کوئی فائدہ نہیں تیسرا فائدہ اٹھا رہا ہے جو اسلحہ کا بیوپاری ہے۔ اس کشیدگی کو ختم کر کے عوام کی خوش حالی اور ترقی کے لئے خطہ کے ممالک پر مشتمل "ساوتھ ایشیا فیڈریشن " قائم کی جائے، بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نیوپور شرما کی تجویز ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کو ایک اکائی کے طور فیڈریشن کا حصہ تسلیم کریں۔ اس پر ابھی تک کسی بھی جانب سے ردعمل نہیں آیا تاہم بھارت کی سول سوسائٹی کے اضطراب سے لگتا ہے کہ امریکی عوام کی طرح بھارت کے سنجیدہ حلقے بھی مودی کی پالیسیوں سے خطہ خصوصا بھارت کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں ۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی نے بھارت کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر کمزور کر دیا ۔ بی جے پی نے نہ صرف گاندھی کے سیکولر بھارت کا چہرہ بگاڑ دیا بلکہ پورے خطہ کو بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی پیدائش ہی اس نظریہ پر ہوئی کہ جب ہندوستان میں پہلے مسلمان نے پہلا قدم رکھا ہندو دھرم کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، اور اس وقت تک دھرم کو خطرہ لاحق ہو گا جب تک ہندوستان سے آخری مسلمان کا آخری قدم اٹھ نہیں جاتا۔ یہاں ہندوستان سے مراد پاکستان اور بنگلہ دیش بھی ہے۔ ایسی سوچ کے لوگوں سے کسی خیر کے توقع رکھنا عبث ہے ۔تاہم بی جے پی کی اس سے قبل قیادت، اٹہل بہاری واجپائی ہوں یا مراجی ڈسائی یا کوئی دوسرا ان میں کچھ تدبر اور سنجیدگی نظر آتی تھی ۔ مودی نہ صرف خطہ کے لیے اسکورٹی رسک ہے بلکہ اس نے خود دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ میں نفرتوں کی آگ لگا دی۔ آج کا بھارت صرف غربت اور افلاس ہی میں نہیں ، باہمی تعصب اور نفرتوں کی آگ میں بھی جل رہا ہے۔ بھارت کا میڈیا کشمیریوں اور پاکستان کے لئے جو زبان استعمال کر رہا ہے، اس سے صاف لگتا ہے کہ ہر کوئی بال ٹھاکرے بیٹھا دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔الزامات کی بوچھاڑ اور نفرت انگیز مہم شروع کی ہوئی ہے جیسا وعدہ معاف گواہ ہو۔ یہ ایک دو میڈیا ہاوسز کا مسئلہ نہیں تمام کے تمام چینل کا یہی طریقہ اور رویہ ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کو حکومت کی بھی آشیرواد حاصل ہے۔ بھارت جیسے غریب ملک جہاں ایک ارب سے زیادہ لوگ مفلسی اور جہالت کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کو گمراہ کرنا آسان ہے ۔ جب کہ بی جے پی کے بدمعاش میڈیا کے اس پروپیگنڈے کی آگ کو خوب ہوا دے کر پاکستان کے خلاف نفرتوں کو بھڑکاتے ہیں جس کا سارا خمیازہ، کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ ان حالات اور ایسے ماحول میں بھی اگر بھارت میں کچھ لوگ موجود ہیں جو امن اور خوش حالی بھائی چارے کی بات اور اپنی سے کوشش کر رہے ہیں کہ خطہ میں امن اور سکون ہو۔ مسئلہ کشمیر کا آبرومندانہ حل نکل آئے جو دونوں ممالک اور خود کشمیریوں کو قبول ہو، تو ان کی بات پر غور کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے مودی اور اس کے دوستوں کو بھی عقل کی کوئی بات سمجھ آ جائے ۔ بھارت سول سوسائٹی کی " ساوتھ ایشیا فیڈریشن " کی تجویز پر کم از کم دونوں ممالک کی سول سوسائٹی کی حد تک بحث مباحثہ ہو سکتا ہے ۔ ساوتھ ایشیا براعظم ایشیا کے جنوبی علاقوں کو کہا جاتا ہے جس میں 8 ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں نیوپور شرما کی تجویز کے مطابق 9ویں اکائی کشمیر کو شامل کیا جائے ۔اس خطہ کو اللہ تعالی نے وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے لیکن کبھی بھی یہاں کے عوام کو اس سے فوائد حاصل نہیں ہوئے ۔ اس کے ایک طرف دنیا کا تیسرا بڑا سمندر بحرِ ہند اور دوسری جانب بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہمالیہ جو نیپال سے وسط ایشیا تک طویل اور برصغیر و چائنہ کو الگ کرتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کی آبادی دو ارب کے لگ بھگ ہے۔پورے ساوتھ ایشیا میں ہندی اور اردو بڑی زبانیں ہیں جو دونوں بولنے اور سمجھنے میں قریب تر ہیں بنگالی، پشتوں اور دیگر علاقائی زبانیں بھی ہیں لیکن ماضی میں نوآبادیاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے انگریزی سب کی مشترکہ زبان ہے۔ خوبصورتی، زرخیزی اور پیداواری صلاحیتوں کے باعث یہ علاقہ ماضی میں ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کا مفتح رہا۔ انہوں نے اس سرزمین کو لوٹا بھی اور عظیم بھی بنایا ۔ خصوصا مغلوں نے اس خطے کی ثقافت، مذہب اور روایتوں پر بہت اثر چھوڑا جن کی حکومت کا دورانیہ طویل تھا۔زمانہ قدیم میں انڈس سولائیزیشن یا انڈس تہذیب دنیا کی ترقی یافتہ ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی۔ مغلوں کے بعد یہ علاقہ برطانیہ کے قبضے میں رہا جبکہ چند چھوٹے علاقوں پر پرتگال، ہالینڈ اور فرانس کا قبضہ بھی رہا۔ 1940ء کی دہائی کے اوآخر میں یہ خطہ آزاد ہوا تو برصغیر مذہب کے نام پر تقسیم ہو چکا تھا ۔ مسلمانوں نے الگ وطن تو حاصل کیا مگر ہندوں نے ابھی تک اس ملک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا جب کہ انگریز جاتے جاتے مسئلہ کشمیر کو حل طلب چھوڑ کر دونوں ممالک کے درمیان فتنہ ڈال گئے ۔ 73 سال گزرنے کے بعد بھی تمام وسائل سے مالا مال ساوتھ ایشیا ترقی نہیں کر رہا۔ بے پناہ وسائل کے باوجود 60 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ جو برف سے ڈھکہ دیوار کی طرح کھڑا ہے ۔دریائے سندھ، گنگا اور برہم پترا ان پہاڑوں سے پگھلنے والی گلیشیر کے ٹھنڈے پانی سے میدانوں کو زرخیز اور ڈیلٹائی علاقے سبز سونے کی کانیں بنانے کے لئے کافی ہیں۔ وسط میں سطح مرتفع اور ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے سبز سونے کو دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہے۔ لیکن باہمی جھگڑوں کے باعث خطہ کے عوام اللہ تعالی کی دی ہوئی ان سہولیات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سک رہے ۔ آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش زراعت ہونے کے باوجود زرخیز زمین سے معاش حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ حتی کہ رہائش کی مطلوبہ سہولیات نہ ہونے کے باعث آبادی کی بڑی تعداد کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہر لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہوا مگر بدقسمتی سے بھارت کو صاحب بصیرت اور سیاسی تدبر کی قیادت کبھی میسر نہیں آئی جو اس ملک کو قائدانہ پوزیشن میں لے جاتی۔ آبادی اور رقبہ لے لحاظ سے بھارت بڑا ملک ہے اس کی قیادت پر ذمہ داری بھی زیادہ تھی کے آزادی کے بعد وہ خطے کے ممالک کو اپنے ساتھ جوڑتی ۔ چھوٹے ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سفارتی تعلقات اور ہمدردی کا رویہ رکھتی۔ کشمیر پر جبرا قبضے کے بجائے وہاں کے عوام کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا تو کم از کم بھارت خطہ کا چوہدری ہوتا اور دیگر تمام ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم سے خوفزدہ ہو کر خطہ کے تمام ممالک نے چین کو خوش آمدید کہا، آج چین جنوبی ایشیا کا حصہ نہ ہونے کے باوجود داخل ہو چکا ۔ اب بھارت کے بس میں نہیں کہ چین کو خطہ سے باہر نکال سکے۔افغانستان میں بھارت کا کردار منفی رہا۔طالبان اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ہیں وہ بھارت کے کردار کو بالکل نہیں چاتے۔نیپال بھارتی طرز عمل سے عاجز آچکا ہے اور اس کا جھکاؤ چین کی طرف ہے۔بھوٹان جو بھارت کی ذیلی ریاست تھی اب اس سے چھٹکارا پانے کی راہ تلاش کررہاہے۔بنگلہ دیش اور چین کے تعلقات میں گرم جوشی میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔۔سری لنکا کبھی بھی چین مخالف محاذ میں شامل نہیں ہوسکتا بلکہ چینی کی سرمایاکاری سے استفادہ کررہاہے۔ مختصر یہ کہ بھارت کے علاوہ ساوتھ ایشیا کے تمام ممالک چین کے ون روڑ ون بلٹ منصوبہ کے ساتھ منسلک ہو چکے ۔ انڈین قیادت کے پاس کون سی حکمت عملی ہے کہ ان ممالک کو اس سے علیحدہ کرے ۔ اس کے باوجود نیو پور شرما کی تجویز پر دونوں ممالک کی سول سوسائٹی میں اگر ڈبیٹ ہوتی ہے تو کیا حرج ہے بہتری کی امید کی گنجائش رہنی چاہیے ۔۔۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری