آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں، قابلِ عمل راہ کون سی ہے؟

آزادکشمیر کی اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں، قابلِ عمل راہ کون سی ہے؟ جسٹس(ر)منظور حسین گیلانی میں نے اپنے گزشتہ کالم میں سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے ایک فیصلہ کے ذریعہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے پانچ ججوں اور اس سے پہلے متعدد بار کئی ججوں کی ایک ہی جیسی وجوہات کی بناء پر برطرفی پر تبصرہ کیا تھا- چند ماہ پہلے اسی اصول کو کھینچ تان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی برطرف کیا گیا تھا ، حالانکہ سپریم کورٹ اس سے پہلے اس تقرری کو درست قرار دے چکی تھی اور وہ اس کیس سے یکسر مختلف بھی تھا- حالیہ فیصلے میں فاضل سپریم کورٹ نے ضمنی طور اس طرف اشارہ بھی کیا ہے- اس کالم میں، مَیں نے رائج الوقت آئینی طریقہ کار ناکام ہونے کی چند وجوہات بھی لکھی تھیں البتہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کرنا کیا چاہیے ، وہ کالم کی طوالت کی وجہ سے موخر کر دیا تھا- تقرری کے طریقہ کار کو آئین کے مطابق عمل میں نہ لانے کی ذمہ داری سراسر صدارتی سیکریٹریٹ اور کونسل سیکریٹریٹ پر ہے ، لیکن اس غلط کاری کا الزام اور ذمہ داری حکومت پر لگی اور نقصان برطرف ججوں کا ہوا ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے- ریاست کا اقتداراعلیٰ اور ہر ادارے کی بری کارکردگی کے لیے جواب دہ بھی حکومت ہی ہوتی ہے،جبکہ آزاد کشمیر میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے حکومت کے قانون و انصاف کے سکریٹریٹ کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی جاتی حالانکہ رُولز آف بزنس کے تحت یہ اسی کی ذمہ داری اور اختیار میں ہے- تاہم اتنے بڑے عمل کو اس طرح نظر انداز کرنا یقینآ حکومت کی گڈ گورننس کی ذمہ داری ادا کرنے سے پہلو تہی ہے- اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری ان کی درخواست ، کسی کمیشن کے ذریعہ امتحان کے نتیجے یا کار کردگی کی جانچ پڑتال پر نہیں ہوتی ، صرف متعلقہ چیف جسٹسز کے پینل کی بنیاد پر کونسل کی ایڈوائس سے مشروط ہے ، تاہم ایک حکومتی پراسس سے گزرنا پڑتا ہے- اس پراسس کے ناقص ہونے میں متعلقہ امیدواروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا- بہ ایں ہمہ کسی بھی غیرمتوقع فیصلے کی صورت میں عزت، شہرت ، وقار ، مرتبے اور روز گار سے محروم ہونے کا نقصان تو ان کا ہی ہوتا ہے- قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر متعین طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کسی کو فائدہ ملا ہے تو وہ ناجائز استفادہ کے زمرہ میں آتا ہے جس کو اس بنا پر تحفظ نہیں مل سکتا کہ اس میں متاثرہ فریق کا کوئی قصور نہیں تھا، کیونکہ مستفید تو وہی ہورہا ہے - لیکن اس عرصہ کے دوران کیے گئے اقدامات اور حاصل شدہ استفادہ کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ وہ بظاہر ایک جائز فرمان حکومت کے تحت عمل میں آئے ہوتے ہیں اور اس کو تحفظ حاصل رہتا ہے وگرنہ اس کے مضر اثرات کا دائرہ وسیع تر ہوکر نظام کو تلپٹ کر سکتا ہے- قانونی زبان میں اس کو Transactions passed and closed ہونے کی وجہ سے Defacto Doctrine یا Fait accompli کے طور درست قبول کیا جاتا ہے - اس وقت سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں مستقل چیف جسٹس کی اسامی خالی ہے جس پر سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج، بطور چیف جسٹس فرائض انجام رہے ہیں ، ان ہی کی مستقل تقرری ہونا آئینی تقاضا ہے، یہ جتنی جلدی ہوجائے اچھا ہے کیونکہ باقی ساری تقرریاں اس کے بغیر ممکن نہیں- اس پر تقرری کے بعد سپریم کورٹ میں ایک مستقل جج کی اسامی خالی ہو جائے گی- ہائی کورٹ میں بر طرف شدہ ججوں کی پانچ اسامیاں خالی ہو گئی ہیں - مستقل چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد اس اسامی پر بھی سینئیر موسٹ جج بطور ایکٹنگ چیف جسٹس ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جن کی مستقل چیف جسٹس کے طور تقرری بھی آئینی تقاضا ہے، جس کے بعد چھ مستقل خالی اسامیوں پر تقرری ہو سکتی ہے- آئینی تقاضوں کے تحت سب سے پہلے چیف جسٹس آزاد کشمیر، یعنی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی اسامی پر تقرری ناگزیر ہے ، کیونکہ سپریم کورٹ کے جج اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججوں کی تقرری مستقل چیف جسٹس کی سفارش کے بغیر نہیں ہو سکتی- چیف جسٹس آزاد کشمیر کی تقرری کسی سفارش کی محتاج نہیں جس کی خاطر معاملہ پہلے سے کونسل کے زیر کار ہے، اس لیے اس پر فوری تقرری ہونا چاہیے تاکہ باقی ججوں کی تقرری ممکن ہو سکے ، جس میں پہلے تو سپریم کورٹ میں ایک اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری ہی ہو سکتی ہے- ہائی کورٹ کے باقی ججوں کی تقرری ، ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے بعد ہی ہو سکتی ہے ، ایکٹنگ چیف جسٹس سفارش کر سکتے ہیں نہ ہی سابق چیف جسٹس صاحبان کی سفارشات کی کوئی قانونی حیثیت رہی ہے- اس لیے جب تک مستقل چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی تقرری نہیں ہوتی، معاملات التواء کا ہی شکار رہیں گے، دونوں بڑے ادارے عملی طور سوالیہ نشان بنے رہیں گے- ججوں کی تقرری کا رائج الوقت طریقہ کار ناکام بنا دیا گیا ہے، گوکہ طویل عرصے سے یہی طریقہ کار بہت اچھے طریقے سے چل رہا تھا- میں وثوق سے، لیکن بادل نخواستہ یہ بات کہتا ہوں کہ طریقہ کار غلط نہیں ہے، لیکن اس پر عمل کرنے اور کرانے والوں کے معیار کی سطح بدل گئی ہے، ترجیحات بدل گئی ہیں ، اس پر ذاتی اور گروہی مفادات حاوی ہوگئے ہیں- اس لیے بدلے ہوئے حالات اور اس پس منظر میں جو ہم کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں، اس طریقہ کار کو بدلنا پڑے گا ، تاکہ شخصی اور منصبی کمزوریوں پر ایک وسیع البنیاد کمیشن کے ذریعہ قابو پایا جا سکے، جو خالی آسامیوں پر تقرری کے لیے ایک Transparent اور Merit Oriented طریقہ کار مقرر کر کے ، اتفاق رائے یا دو تہائی اکثریت سے تقرریوں کو حتمی صورت دے - پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں تقرری کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کرتے ہیں- سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے ممبران میں سپریم کورٹ کے چار سینئر جج، سابق چیف جسٹس یا جج ، فیڈرل وزیر قانون، اٹارنی جنرل ، پاکستان بار کونسل کے نامزد سینئیر وکیل ہیں ، جبکہ ہائی کورٹ میں تقرریوں کے لیے ممبران میں متعلقہ صوبے کا چیف جسٹس اور سینئیر موسٹ جج، متعلقہ صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کا نامزد وکیل بھی ممبر ہوں گے- اس کمیشن کی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی جاتی ہیں- پارلیمانی کمیٹی آٹھ ممبران پر مشتمل ہوتی ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہوتی ہے- یہ اکثریت رائے سے کمیشن کی سفارشات منظور ہونے کی صورت میں تقرری کی منظوری دیتی ہے- اختلاف کی صورت میں معاملہ وجوہات دے کر دوبارہ جوڈیشل کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے- یہ انتظام فیڈرل سسٹم کا تقاضا ہے جبکہ آزاد کشمیر صوبائی مماثلت رکھنے والا خطہ ہے لیکن حکومت پاکستان کے صوبوں کی طرح براہ راست حکومت پاکستان کے کنٹرول میں نہیں، البتہ بالواسطہ حکومت پاکستان کے مختلف ادارے یہاں ویسی ہی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں جیسا مجموعی طورپاکستان بھر میں کرتے ہیں-اس لیے یہاں کمیشن کی تشکیل میں بالواسطہ طور حکومت پاکستان بھی ایک اسٹیک ہولڈر ہے- فی الوقت کشمیر کونسل کے چئیرمین کی حیثیت سے وزیراعظم پاکستان کا ہی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں حتمی رول ہے جو بذات خود آمرانہ عمل ہے اور اس وجہ سے ہی اکثر بے ضابطگیاں ہوتی ہیں- اس لیے کمیشن کی تشکیل میں حکومت پاکستان کی نمائندگی سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ، لیکن کُلی اختیار وزیراعظم پاکستان/ چئیرمین کشمیر کونسل کو بھی نہیں دیا جا سکتا- پاکستان جوڈیشل کمیشن سے رہنمائی لیتے ہوئے اس کی روح مقامی حالات میں سموئی جا سکتی ہے جو آزاد کشمیر کے ' تیتر ، بٹیر' سیاسی نظام میں توازن برقرار رکھ کے بہتر نتائج کا ضامن ہو سکتا ہے- آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کے پس منظر میں اعلیٰ عدلیہ اور اس سے مماثلت رکھنے والے دیگر اداروں ، شریعت کورٹ، الیکشن کمیشن، احتساب کمیشن، چئیرمین پبلک سروس کمیشن ، محتسب اعلیٰ کی تقرری کے لیے مشترکہ کمیشن کی تشکیل کی ضرورت ہے جو 'جوڈیشل سلیکشن بورڈ ' کے نام سے تشکیل پائے جس کے لیے آزاد کشمیر کے آئین میں دفعہ 41-A کا اضافہ کیا جانا مطلوب ہے - اس کی ہئیت ترکیبی ARJK تھنک ٹینک نے پہلے 2012 میں‌تجویز کی جس کا اعادہ 2014 میں دوبارہ کیا گیا ہے ، اس کی تفصیل یہ ہے: 'چیف جسٹس آزاد کشمیر کمیشن کے چئیرمین ہوں گے جس کے ممبران میں، سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج، چیف جسٹس ہائی کورٹ، سینئیر موسٹ جج ہائی کورٹ، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے دو ریٹائرڈ چیف جسٹس یا جج، ( جو ڈیشل ممبران) مرکزی وزیر کشمیر اور گلگت افئیرز یا حکومت پاکستان کا نامزد کردہ کوئی دوسرا وزیر، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، آزاد کشمیر کے وزیر قانون، آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کا وائس چئیرمین، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر- کمیشن کو اپنی کارروائی کے لیے خود قواعد بنانے کا اختیار ہوگا- ہر اسامی کے لیے کمیشن دو تہائی اکثریت سے صرف ایک نام تجویز کرے گا جبکہ چیف جسٹس کے لیے صرف سینئر موسٹ جج کو ہی تجویز کیا جائے گا - سفارش کے ایک ہفتہ کے اندر صدر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے-' میں حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان ، آزاد کشمیر کے چیف جسٹس صاحبان اور ان کے ہاتھ ، کان ، آنکھوں اور زبان کا کام کرنے والوں سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے آپ ، اپنے اختیارات اور اپنی انا سے بالا تر ہوکر اداروں اور مملکت کے بہتر مفاد میں کام کریں ، تاکہ اقتدار سے باہر آنے کے بعد، ان کو اپنے غلط عمل پر افسوس نہ ہو-

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری