نظریاتی ریاست کے لبرل سیاست دان

نظریاتی ریاست کے لبرل سیاست دان از سیّد زاہد حسین نعیمیؔ نظریہ وہ بنیاد حیات ہے جس پر قومیں وجود میں آتی ہیں۔ قومیں مذہبی، علاقائی، لسانی، رنگ و نسل کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ مغربی نظریہ قومیت انہی بنیادوں پر ہے، جو زیادہ دیر پا نہیں ہے۔ سینکڑوں قومیں اس بناء پر وجود میں آئیں اور پھر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ اس کے برعکس دین اسلام نے قومیت کے بجائے ملت کانظریہ پیش کیا ہے، جس کی بنیاد کلمہ شہادت ہے، یعنی بنی نوع انسان میں سے جس نے بھی رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھ لیا، وہ ملت اسلامیہ میں شامل ہو گیا۔ ملت اسلامیہ وسیع المفہوم ہے، یہاں رنگ و نسل، علاقہ، زبان، اس کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے اور اولاد آدم میں سے کوئی بھی شخص جو کلمہ گو ہے، وہ ملت اسلامیہ کا حصہ ہے اور وہ اسی بنیاد پر ایک وحدت میں ضم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں شرق و غرب سے تشریف لانے والے مختلف نسل، رنگ، زبان اور علاقہ کے حامل تھے، لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے بھائی تھے۔ حضرت بلال حبشی، حضرت سلمان فارسی، حضرت صعیب رومی یہ وحدت اسلامی میں شامل ہو کر ان حجاز مقدس کے باسیوں کے بھائی بن گئے جو قریش تھے، حجازی، ہاشمی تھے۔ مہاجر تھے، انصار تھے، مہاجر اور انصار آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ نہ کوئی نسبی رشتہ اور نہ کوئی علاقائی رشتہ، اور وہ عرب اور قریش سردار ان ان سے الگ ہو کر عتاب و عذاب کا شکار ہو گئے، جیسے ابولہب، ابوجہل وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک ملت اور کفار کو دوسری قرار دیا ہے۔ گویا کھلم کھلا دو نظریات کے پیروکاروں کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کو پھر رحمن اور شیطان کی دو الگ الگ جماعتیں قرار دیا ہے۔ یہ نظریہ ہی تھا جس کے لئے نبی کریمﷺ نے کفار مکہ کی سختیاں برداشت کیں۔ شعیب ابوطالب گھاٹی میں تین سال گزارے۔ طائف میں پتھر کھائے، جنگ بدر، احد اور خندق ہوئی اس سے کوئی بھی انحراف نہیں کر سکتا۔ جنگ بدر میں اسی نظریہ کی فتح تھی۔ فتح مکہ کے دن اسی نظریہ مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، حق کے آنے اور باطل کے مٹنے کا اعلان۔ ریاست مدینہ کا قیام اسی نظریہ کی بنیاد پر تھا۔ نبی کریمﷺ کو پیشکش کی گئی تھی۔ کچھ عرصہ تم ہمارے دیوی دیوتاؤں کی پوجاپاٹ کرلو اور کچھ عرصہ ہم تمہارے خدا کی عبادت کر لیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون نازل کرکے مشرکین عرب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ اب قیامت تک یہی اُصول، یہی ضابطہ اور یہی نظریہ باقی رہے گا۔ یعنی کفر و اسلام کے نظریات جدا جدا ہیں۔ وہ کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دونوں کے ملاپ سے کوئی تیسرا نظریہ قابل قبول ہے۔ دنیا میں پہلی نظریاتی ریاست مدینہ منورہ ہے اور مدینہ منورہ کی اتباع میں دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی ریاست وجود میں آئے گی وہ اسی نظریہ پر قائم ہو گی۔ دنیا میں دوسری بڑی ریاست جو نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی وہ ریاست پاکستان ہے، جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ پاکستان کے قیام کا مقصد اسلامی نظریہ حیات کو نافذ کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ۷۴۹۱ء میں جو نعرہ بلند ہوا، یہی تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ یعنی یہ ملک کلمہ شہادت کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے۔ اسی نظریہ حیات کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے جانی و مالی قربانیاں دیں اور ہجرت پر مجبور ہوئے۔خاندانوں کے خاندان ہندو اور سکھ شدت پسند جتھوں کے ہاتھوں تہ تیغ ہوئے۔ ۷۴۹۱ء کے دلخراش واقعات سن کر اور پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور قیام کے ساتھ ہی قرارداد مقاصد نے نئی ریاست کے خدوخال واضع کر دئیے۔ قرارداد مقاصد میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے اور غیرمسلم اقلیتوں کو اپنے مذہب اور عقائد پر عمل کرنے اور اپنی اپنی ثقافتوں اور روایات کو ترقی دینے کی مکمل آزادی ہو گی۔ اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے جائز حقوق کی حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔ بعد میں بتائے جانے والے دساتیر بالخصوص ۳۷۹۱ء کے آئین میں اسے اور زیادہ موثر اور واضح کر دیا گیا اور یہ سب اتفاقِ رائے سے ہوا۔ مسلمان کی تعریف، دین اسلام کی سربلندی، حاکمیت اعلیٰ کا تصور، اسلامی تعلیمات کا فروغ، توہین مذہب کے قوانین، ممبر اسمبلی کے لئے صادق و امین وغیرہ سمیت اسلامی نظریہ حیات کو فروغ دینے میں عملی اقدامات یہ سب کچھ آئین پاکستان میں موجود ہے۔ ساتھ نظریہ پاکستان کے خلاف تحریری یا تقریری قولی یا فعلی مسلم و غیرمسلم جو بھی اس میں ملوث ہو گا وہ قابل تعزیر ہو گا۔ اس کے خلاف آئین پاکستان کی خلاف ورزی پر مقدمہ بغاوت چلایا جائے گا اور یہ کہ اس نظریہ حیات کی خلاف ورزی پر اس کی قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی جائے گی، لیکن بدقسمتی سے ان تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر اس اسلامی نظریاتی ریاست کو سیکولر اور لبرل بنانے کی کوشش جاری ہے۔ مذہبی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریباں بنا دیا گیا۔ جمعیت علماء پاکستان نے ۰۷۹۱ء میں پارلیمانی جماعت کے طور پر ۳۷۹۱ء کے آئین کو اسلامی آئین قرار دینے میں اہم کام کیا۔ ۴۷۹۱ء میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، نتیجہ اُسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اس کی جگہ ایک لبرل اور سیکولر جماعت مہاجر قومی موومنٹ کو جنم دیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ سیکولرزم کی باتیں کیں۔ مذہبی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں آنے سے روکنے کے لئے تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں۔ کچھ مذہبی جماعتوں کو دانا دنکا دے کر مطمئن کر دیا گیا۔ پاکستان کے سیاست دان اور ا نکی سیاسی جماعتیں اگرچہ سیاست میں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار تقاریر بھی کرتے ہیں، لیکن قادیانی مسئلہ پر، توہین مذہب کے معاملہ پر، قانون توہین رسالت پر، غیرمسلموں سے محبت پر سب یکساں ہیں اور ایک دوسرے کے اتحادی بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں مندر کی تعمیر پر گرماگرم بحث ہوئی۔ اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیر پر تمام جماعتیں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، ایم کیوایم یہ تمام جماعتیں مندر کی تعمیر کے حق میں ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں۔ خواجہ آصف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ معاذاللہ ”کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت نہیں ہے“ یہ کہہ کر خواجہ آصف نے اسلام کی بنیادی تعلیم سے انکار کیا ہے۔ دو قومی نظریہ اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ان کی رکنیت باقی نہیں رہتی اور ان کے خلاف مقدمہ بنتا ہے، اگرچہ اب وہ اس سے انکاری ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ خواجہ آصف کی تائید پر ایک صفحہ پر ہیں، البتہ مسلم لیگ (ق) نے مندر کی مخالفت کی ہے، لیکن اُس نے اپنے دورِحکومت میں اس سے بھی بڑھ چڑھ کر گوردواروں اور مندروں پر کام کیا تھا۔ یہ لبرل سیاست دان چونکہ بنیادی طور پر غیرمسلموں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ اس لئے ان کی مذہبی رسومات میں بھی جاکر اس شرکیہ عمل سے گزرتے ہیں جو ہندو یا سکھ کرتے ہیں۔ انہی کی طرح ماتھے پر تلک لگاتے ہیں، زردرنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، مندروں اور گوردواروں میں جاکر دیوی دیوتاؤں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ ہولی و دیوالی میں شریک ہو کر رنگ پھینکتے ہیں۔ مشاہد حسین سیّد، بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، نوازشریف، شہبازشریف، چوہدری برادران، عمران خان، ایم کیو ایم کی قیادت مذکورہ سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار سیاست دان کی ایسی تقریبات میں شرکت ریکارڈ پر موجود ہیں، بلکہ نوازشریف بحیثیت وزیراعظم پاکستان بھارت میں کھڑے ہو کر کہہ چکے ہیں بھارت و پاکستان کے لوگ ایک ہیں، ہم سب کا کلچر ایک ہے، درمیان میں صرف سرحد کی لکیر ہے۔ اس طرح کی تقاریر و بیانات دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کو ایک مذہبی جماعتوں کا ڈر نہ ہو تو وہ اس ملک کو کب کا سیکولر ملک بنا لیتے، لیکن جب تک پاکستان میں ایک بھی کلمہ گو باقی ہے اس نظریاتی ریاست کو سیکولر ریاست بنانے کی لبرل سیاست دانوں کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ مذہبی حلقے کہہ چکے ہیں کہ آئین و قانون میں غیرمسلموں کو جو حقوق حاصل ہیں، وہ ان کو ضرور ملنا چاہیے، لیکن ایک اور دین الٰہی کی یہاں گنجائش نہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسی پر قائم رہے گا۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری