ظلم کے خلاف جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی

ظلم کے خلاف جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی شفقت ضیاء کشمیرکی تاریخ جتنی پرانی ہے اتنی ہی تحریک آزادی کشمیر بھی پرانی ہے کشمیریوں نے اس طویل جدوجہد میں قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ہے شاید ہی کوئی قربانی ہو جو نہ دی ہو،زندہ کھالیں بھی کھینچوائیں اور اپنے معصوم بچوں کوبھی قربان کیا۔عفت مآب خواتین کی عزتیں بھی تار تار ہوئیں ہندوستان کی طرف سے ظلم و جبر بربریت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے لیکن کشمیری اپنی جدوجہد سے باز نہ آئے۔کشمیر میں شایدہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں شہادت نہ ہوئی ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے باوجود دنیا میں انسانیت کے علمبردار اور دعوے دار خاموش بھی ہیں اور آنکھوں کے آگے پٹی بھی باندھ رکھی ہے۔اس لیے کہ کشمیری مسلمان ہیں ان کا یہ جرم انتا بڑا ہے جس کی ہر قیمت انہیں ہی چکانی پڑ رہی ہے حالانکہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں دردہوتا ہے تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر تک تقسیم برصغیر کے وقت کشمیریوں کواپنے فیصلے کا حق نہیں دیا گیا اور آج تک انہیں حق خود ارادیت نہیں دیا جا رہا۔1947میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں بے سروسامانی کے عالم (کیفیت) میں جذبہ شوق شہادت سے جوجددجہد کی گئی اس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا موجودہ خطہ آزاد ہوا،انقلابی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور اسے بیس کیمپ کی حیثیت دی گئی جو بعد میں اقتدار کے ریس کیمپ میں تبدیل ہوگئی اور 72سال گزرنے کے باوجود نہ یہ حقیقی بیس کیمپ بن سکا اور نہ چند قدم آگے بڑھ سکے۔ا س وقت دارالحکومت مظفرآباد اس لیے منتقل کیا گیا تھا کہ سرینگر قریب ہے اور اس کی طرف بڑھنا ہے لیکن اقتدار کے نشے نے منزل قریب ہونے کے باوجود دور کر دی جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کا جو وکیل تھا جو ایک نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا وہ دو قومی نظریہ، کلمے والا پاکستان بھی حقیقی پاکستان نہ بن سکا۔پہلے وزیر خارجہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا یاد رہے وہ وزیر خارجہ بھی قادیانی تھا اورا س سارے سفر میں اسلام کے نام اور اعلانات کے سوا کچھ نہ ہو سکا۔آج 72سال بعد بھی مدینہ کی ریاست بنانے کے اعلانات اور دعویٰ کے سوا چند قدم بھی اٹھتے نظر نہیں آتے ایسے میں توقع کی جاتی ہے کہ امت مسلمہ کشمیریوں کی حمایت کرے وہ پاکستان جس کا نام مقبوضہ کشمیر میں گولیوں کے بوچھاڑ میں کشمیری لیتے ہیں بلکہ شہادت کے بعد اسی پرچم میں دفن کیے جاتے ہیں اس پاکستان کے حکمرانوں نے ہمیشہ اس انداز میں وکالت کا حق ادا نہیں کیا جس انداز میں کردار ادا کیا جانا تھا اور آج پاکستان تقریروں،اعلانات،دعووں کے سوا کچھ نہیں کررہا بلکہ سودے بازی کی خبریں آ رہی ہیں ہاں ایسے میں پاکستان کے عوام کل بھی کشمیریوں کے ساتھ تھے آج بھی ساتھ ہیں۔کل بھی ان کا خون اس تحریک میں شامل تھا اب بھی وہ خون دینے کے لیے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے قیادت گیدڑوں کے پاس ہے۔قوم شیروں کی ہے 5اگست کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے قانون کو مودی کی طرف سے تبدیل کرنے کے بعد تحریک آزادی کشمیر ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔کشمیریوں نے ہندوستان کے قانون کو کل مانا تھا نہ آج مانتے ہیں اور نہ اس سازش کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا ہندوستانی خواب پورا ہونے دیں گے۔تا ہم ایسے میں حکومت پاکستان کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے محض سیاسی،اخلاقی حمایت سے کام نہیں چلے گا۔کشمیریوں نے آزادی کے لیے پر امن جدوجہد کے تمام راستے اختیار کر کے دیکھ لیا ہے دنیا اپنے مفادات کی وجہ سے ہندوستان کے خلاف بات کرنے کے لیے تیار نہیں اور پاکستان سے بات چیت کے لیے ہندوستان تیار نہیں اور نہ ہی بات چیت اب مسئلے کا حل ہے اقوام متحدہ بھی اپنی قراردادوں پر عملدر آمد کرانے سے قاصر ہے چونکہ وہ مسلمانوں کے لئے نہیں یہودیوں کیلئے ہے طاقت ور وں کے لیے ہے مظلوموں کیلئے نہیں،دنیا وسائل پر نظر رکھتی ہے۔ان کی سرمایہ کاری ہندوستان میں ہے جبکہ پاکستان معاشی طور پر کمزور تر ہو چکا ہے اسلامی ممالک کی بھی بڑی سرمایہ کاری ہندوستان کے ساتھ ہے ان کے حکمران بھی نام نہاد مسلمان ہیں،ایران ترکی جہاں قدرے بہتر حکومتیں قائم ہیں وہ حمایت کررہی ہیں جبکہ UAEبحرین جیسے عیاش حکمران مودی کو ایوارڈ سے نواز رہے ہیں حتیٰ کہ سعودی عرب بھی کھل کر حمایت نہیں کر رہا چونکہ ان ملکوں کے حکمران مفاد پرست اور غیروں کی سازشوں کا شکار ہو چکے ہیں یہ امریکہ کے ٹاؤٹ ہیں یہ امت مسلمہ کی اصل تصویر پیش نہیں کررہے اور نہ عوام کی ترجمانی کر رہے ہیں دوسری طرف ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور غلط سمت کا نتیجہ ہے کہ تنہائی کا شکار ہیں۔ حکمران امریکہ کے ٹرمپ سے توقعات رکھ بیٹھے ہیں جومسلمانوں اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے وہ کبھی بھی ہمارا حمایتی نہیں ہو سکتا۔یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے“لیکن اسی ٹرمپ کی ثالثی پر عمران خان ورلڈ کپ جیتنے جیسی خوشی کا اعلان کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ حکمرن سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ ثالثی کرے گا اور کشمیر ہمیں لے کر دے گا یہ سوچ بڑی حماقت سے زیادہ کچھ نہیں۔ہندوستان تو ابھی انکار ی ہے اوریہ اس کی سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے کل اگر وہ مان جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر کسی صورت نہیں ملے گا خواہ وہ ہندوستان کو دیا گیا یا امریکہ نے اپنا اڈہ بنایا لیکن ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا کیاحکمران کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔؟؟ اگر ایسا نہیں تو ٹرمپ کی ثالثی نہیں ہمیں اپنی جدوجہد کو تیز کرنا ہو گا سفارتی محاذ ہو یا اندرونی محاذ قوم کو اعتماد میں لے کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا پاکستان کے عوام کشمیر ایشو پر ایک ہیں آخری حد تک جانے کو تیار ہیں لیکن حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے پر لگی ہوئی ہے جس سے کشمیر کاز کو نقصان ہو رہا ہے پاکستان کو حقیقی پاکستان بنانا ہو گا مدینہ کی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے اور اللہ کے بھروسہ پر جہاد کرنا ہو گا اس کے سوا اب راستہ نہیں ہے مقبوضہ کشمیر میں جنگ جاری ہے کشمیری کٹ رہے ہیں مر رہے ہیں اور ہمارے مجاہدین کی قیادت کو پابند کیا جا رہا ہے اس سے امریکہ تو شاید خوش ہو جائے لیکن ہماری جدو جہد کامیاب نہیں ہو سکے گی جنگ اچھی چیز نہیں لیکن ظلم کے خلاف اگر جنگ لازم ہے تو جنگ ہی سہی کے مصداق آگے بڑھنا ہو گا۔اور اگر اندرون خانہ کوئی بندر بانٹ کر دی گئی ہے یا سوچا جا رہا ہے تو یہ لاکھوں شہداء کے خو ن سے غداری ہو گی اور اس کا انجام عبرت ناک ہو گا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ماضی کے حکمران خواہش کے باوجود وہ اس کی ہمت نہیں کر سکے وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ پاکستانی عوام ایسی قیادت کو ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بنا دیں گے چونکہ اس پر عوام متفق ہیں ماضی کے حکمرانوں نے اپنی سیاست کے بعد اپنی اولادوں کا بھی سیاست میں زندہ رکھنا تھا شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔عمران خان کو شاید ایسی ضرورت نہیں لیکن ان کی پارٹی کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی ایسے اقدام سے دور رہنا ہو گا ورنہ داستان بھی نہیں رہے گی داستانوں میں۔کشمیری اتنی بڑی قربانیاں دینے کے بعد اپنے حصے بخرے نہیں کرنے دیں گیاشہدا کا مقدس خون رنگ لاے گا کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے البتہ منصوبہ سازوں کو اپنے انجام سے ڈرنا چاہیے حالات،واقعات اس طرف کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں مزید حالات خراب کر کے لاکھوں لوگوں کو بلخصوص وہاں کی قیادت کو راستے سے ہٹا کر ایسے حالا ت پیدا کیے جائیں کہ امریکہ بہادر کو کودنے کا موقع ملے اور ٹرمپ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوے کشمیر کے حصے بخرے کر دے اگر ایسا کیا گیا تو شہداء کے خون سے غداری کرنے والے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔اس انجام سے بچنے کے لیے حکومت پاکستان کو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جرات مندانہ فیصلے کرنا چاہیے شملہ معاہدے کو ہندوستان کے منہ پر مارنے کی ضرورت ہے سفارتی تعلقات ختم کیے جائے فضائی حدود بند کی جائیں جس سے گزشتہ عرصے میں چند دن بند رہنے سے اُسے اربوں کا نقصان ہوا تھا کشمیر پر سیاست اب بند ہونی چاہیے ایک آواز ہو کر ہر محاذ پر جدوجہد کو تیز کرنی چاہیے آزادی کشمیر کی منزل دور نہیں لیکن اس کے لیے اب جہاد کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے پر امن جدوجہد کو72سال کا طویل عرصہ بہت ہے۔اب آج نہیں تو کبھی نہیں کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے عمران خان کہتے ہیں ہنددستان نے حملہ کیا تو اینٹ کا جوا ب پتھر سے دیں گے۔ہندستان کو آزادکشمیر پر حملے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ مقبوصہ کشمیر پراپنا قبضہ جمانے کی کوششیں کر رہا ہے ایک ماہ سے کرفیو لگا ہے اس سے بڑا جرم کیا ہے لائن آف کنٹرول پر بھی بسنے والے حالت جنگ میں ہیں آے روز شہادتیں ہو رہی ہیں پھرکون سی جنگ کا انتظار ہے؟مقبوضٰہ کشمیر میں ہندوستانی جنگ کا جواب دینا ہو گا ورنہ شہ رگ کاراگ الاپنے کا کوئی فائدہ نہیں قوم شوق شہادت سے سرشار ہے اور دنیا کی کو مضبوط ترین پاک فوج موجودہے بس قیادت کی جرات اور لیڈر شپ کی ضرورت ہے اللہ کرے ہم اپنی زندگیوں میں کشمیرکو آزاد ہوتے دیکھ لیں یاشہادت پا جائیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری