یکساں قومی نصاب تعلیم

یکساں قومی نصاب تعلیم صدا بصحرہ سردار ممتاز حسین خان وطن عزیز میں یکساں قومی نصاب تعلیم ایک ایسا ادھورا خواب ہے جس کی تعبیر 73سال گزر جانے کے باوجود بھی نظر نہیں آتی۔ نظریہ اسلام پر قائم ریاست میں قوم کی تشکیل، یکج جہتی کے لئے ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں یکساں اور متفقہ نصاب تعلیم کا نفاذ اشد ضروری ہے۔ ایسے مطلوبہ قومی نصاب تعلیم کو ہر صورت میں قومی نظریاتی امنگوں کا آئینہ دار اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے پورے ملک میں یکساں قومی نصاب کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ جسے حکومت سنگل نیشنل کریکولم کے نام سے موسوم کر رہی ہے۔ اس مناسبت سے جو نصابی رپورٹیں شائع کی گئی ہیں ان کے سر ورق پر یہ دل کش نعرہ لکھا ہے۔ ایک نصاب، ایک قوم۔ لیکن افسوس صد افسوس اس قومی نوعیت کے کام کو کن لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے۔ حکومت یکساں قومی نصاب تعلیم کے نام پر بیرونی قوتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کا ایجنڈا اس ملک کی آئندہ نسلوں پر نافذ کرنا چاہتی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم کی ترتیب و تدوین ان بنیادوں پر ہے جو بظاہر جاذب نظر ہیں لیکن یہ سارے دعوے ہوائی قلعے ہیں۔ ۱۔دستوری رہنمائی، ۲۔قومی معیارات کی قومی پالیسیاں،۳۔ ظہور پذیر عالمی رحجانات،۴۔ نتیجہ خیز تعلیمی بنیاد،۵۔اقدار اور مہارتوں کی فراہمی پر مبنی تعلیم پر توجہ، ۶۔بچوں کی فکری، جذباتی، روحانی جمالیاتی، سماجی اور جسمانی نشوونما،۷۔رٹا لگانے کے بجائے عملی بنیادوں پر حصول تعلیم کا رواج، ۸۔علم کا عملی زندگی پر انطباق، ۹۔انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا استعمال،۰۱۔تدریسی طریقوں کی شمولیت،۱۱۔ریاضی اور سائنس کے عالمی رحجانات سے مطابقت۔ یہ پیش کردہ سنگل نیشنل کریکولم بنیادی طور پر 2006کا کریکولم ہے، جو جنرل پرویز مشرف کے دور استبداد میں جرمنی کی ایجنسی جی آئی زیڈ کے مالی، فکری اور عملی تعاون سے تیار کیا گیا تھا جس کی سربراہ ایک پاکستانی خاتون تھیں۔ اب بھی وہی محترمہ اس این جی او کے پلیٹ فارم سے سنگل نیشنل کریکولم کی تشکیلی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ 2006ء کے نصاب تعلیم پر سخت نقد و جرح کی تھی۔ اب نئی انقلابی حکومت اور مشرف کی باقیات نے 2006کے کریکولم کو ویلیوز ایجوکیشن (اقداری تعلیم) کے نام سے ایک سیکولر، لبرل نظریاتی اساس فراہم کر دی ہے۔ اگرچہ نصاب تو پہلے ہی سے سیکولر لبرل تھا، لیکن بین الاقوامی سطح پر سیکولر لبرل قوتیں جن اقدار کو پھیلا رہی ہیں، خصوصاً مسلم دنیا میں جن نظریات کو راسخ کر رہی ہیں، انہی کو سرائیت کردہ موضوعات کی شکل میں آگے بڑھایا گیا ہے، سنگل نیشنل کریکولم بنانے والی ٹیم نے نظر ثانی مسودے میں ’ہیومنزم‘ کی اصطلاح اڑا دی ہے جبکہ اس کی تمام ذیلی اقدار میں ہیو منزم کی روح جوں کی توں موجود ہے۔ بیان کردہ گیارہ دعوؤں میں سب سے پہلا دعویٰ ’دستوری رہنما خطوط‘ کے متعلق ہے سب سے زیادہ انحراف اس نصاب میں اسی چیز کا گیا ہے۔ دیگر شقوں کے علاوہ دستور 1973ء میں شامل قرار داد مقاصد اور دفعہ 31تعلیم اور نصاب تعلیم کے لئے رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق 5سال سے 16سال کی عمر کے طلبہ (جو کہ لازمی تعلیم کا دورانیہ ہے) کے لئے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کی وہ تمام تعلیمات مہیا کی جانی چاہئیں کہ وہ طالب علم جب عملی زندگی میں قدم رکھے تو اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارے۔اس کے برعکس مجوزہ نصاب میں اسلامیات کے نصاب میں پہلی سے بارہویں جماعت تک بیان کردہ مقاصد کسی طرح بھی مذکورہ بالا ضرورت کو پورا کرتے نظر نہیں آتے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ قرآن و حدیث اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ایمانیات، عبادات، اخلاقیات اور معاملات کے تحت ان تمام امور کی فہرست بنائی جاتی جن پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے فرض عین ہے اور پھر ان امور کو پہلی سے دسویں جماعت تک کے نصاب میں عمر اور بلوغت کے تقاضوں کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ نصاب سازی ایک سائنس ہے اور اس کا ایک طریق کار ہے جب تک وہ طریق کار اختیار نہ کیا جائے تب تک عملی بنیادوں پر مطلوبہ نصاب ترتیب نہیں دیاجا سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دستوری رہنما خطوط پورے نصاب کے لئے ہوتے ہیں۔ اسلامیات کا نصاب جیسا، تیسا ہے اس میں بہتری کی گنجائش ہے لیکن اسلامیات کے نصاب کے ساتھ جنرل نالج اور معاشرتی علوم کا جو نصاب دیا گیا ہے وہ مکمل طور پر سیکولر ہے ان دونوں مضامین کے نصاب میں لفظ اسلام کے استعمال سے مکمل پرہیز کیا گیا ہے۔ وژن، مشن اور مقاصد نصاب پوری طرح سکولر، لبرل اور بیو منسٹ نظریہ حیات کے آئینہ دار ہیں۔ معاشرتی علوم تو کسی معاشرے کے نظریات، اور اس کی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہوتے ہیں مگر یہاں پر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے اس نصاب کو منسوب کرنے کی زحمت نہ کی گئی۔ سنگل نیشنل کریکولم میں انگلش، ریاضی اور سائنس کے نصاب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اور ملک یا ملکوں کا نصاب ہے۔ زیر غور نصاب تعلیم کی نظریاتی اور پاکستانی جہت درست خطوط پر استوار ہونا ضروری ہے۔ مگر نصاب کی کوئی مقامی تحقیق نہ ہونے کے باعث یہ این جی اوز زدہ ہے۔ 73سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اس بدقسمت ریاست میں ایسے ماہرین تعلیم پیدا یا تیار نہ کئے جا سکے جو نصاب تعلیم کو وطن عزیز کی نظریاتی اساس پر تدوین کر سکتے۔ قومی اہمیت کا یہ کام بدقسمتی سے انتہائی خفیہ طریقے سے اور چھپ چھپا کر کیا گیا۔ اس نصاب کا جو پہلا مسودہ سامنے آیا وہ بھی پبلک نہیں کیا گیا۔ محدود سطح پر بعض پسندیدہ افراد سے رائے لی گئی۔ بعد ازاں فروری 2020ء میں تین روزہ ورکشاپ کی گئی، جس میں صوبوں کے نصاب و درسی کتب کے اداروں کے بعض پسندیدہ اہلکار بلائے گئے۔ اس تعلیمی میلے میں بھی کسی کو پورا نصاب نہیں دکھایا گیا۔ مذکورہ تین روزہ ورکشاپ کے بعد عجلت میں وزیراعظم عمران خان سے منظوری بھی لے لی گئی اور پھر قومی نصاب کے طور پر اپریل 2021ء سے اسے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ وزیراعظم سے منظوری مارچ 2020ء میں لی گئی اور اب جولائی ہے لیکن حتمی مسودہ قوم کے علم میں نہیں لایا گیا۔ نصاب تعلیم پر نظر رکھنے والے کچھ ماہرین تعلیم نے اصل مسودہ اپنے ذرائع سے حاصل کیا جس کی بنیاد پر مجوزہ نیشنل کریکولم پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن واضح ہوتی ہے۔ سنگل نیشنل کریکولم فی الحقیقت یہ جنرل پرویز مشرف کی این جی اوز زدہ آمرانہ حکومت میں تیار کیا گیا 2006ء کا متنازعہ نصاب ہے۔ اس نصاب کی نظرثانی، تدوین اور اسے حتمی شکل دینے کا کام آغا خان یونیورسٹی، برطانیہ کی واٹر ریڈ، امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مقامی ایجنٹوں، بیکن ہاؤس، اور کیمبرج کے ماہرین اور بعض دیگر سیکولر این جی اوز کی شمولیت سے سر انجام دیا گیا۔ حدیہ ہے کہ قومی اداروں یعنی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، بلوچستان یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، اور کراچی یونیورسٹی کے ادارہ ہائے تعلیم و تحقیق و شعبہ ہائے ایجوکیشن کے اعلیٰ درجے کے ماہرین میں سے کسی کو شامل نہیں کیا گیا۔ صوبوں کے نصابات اور درسی کتب کے اداروں کے تجربہ کار ماہرین کو نظر انداز کیا گیا۔ محض سیکولر لبرل قسم کی آرگنائزیشن کو ہی اس کام کے لئے منتخب کرنے کا مطلب واضح ہے کہ وطن عزیز کے تعلیمی عمل سے نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کو کھرچ کر باہر کرنا ہے۔ عمران خان حکومت کے دیگر کارناموں کی طرح یہ بھی ایک کارنامہ ان کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہو گا۔ اگر قومی نصاب تعلیم پر پوری قوم کا اتفاق رائے حاصل نہ کیا گیا تو محض چند لوگوں کی سیکولر اور لبرل انا پرستی اور ان کے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی آرزو سے قومی تعلیم کے حوالے سے موجودہ حکومت کے کھاتے میں ایک اور ناکامی سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری