(۱)دوہری شہریت دوہرا معیار۔(۲) نیب پر سوالیہ نشان(۳) نوٹس کا الٹا اثر

(۱)دوہری شہریت دوہرا معیار۔(۲) نیب پر سوالیہ نشان(۳) نوٹس کا الٹا اثر محمد حیات خان ایڈووکیٹ اس میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت سے پاکستان کے عوام کو جو توقعات تھیں وہ پوری ہونا تو در کنار حالات پہلے سے بھی بد تر اور اس میں دور دور تک بہتری کے کوئی آثار نہیں۔عمران خان جو دعوے،وعدے اور امیدیں دلا کر اقتدار میں آئے۔یہی سوچا جارہا تھا کہ شاہد ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ اپنے پروگرامز کو عملی جامہ پہنانے میں وقتی ناکام ہیں۔اور جلد ہی رموز حکومت سمجھ جائیں گے اورحسب وعدہ ڈیلیور کر لیں گے۔مگر دوسال گذرنے کے بعد دیکھا گیا کہ ان کا ہر قدم پہلے سے خراب،نکما اورحوصلہ افزاء چھوڑ کر امید افزاء بھی نہیں۔سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہ ہے۔ کہ روز اول سے انہوں نے ہر اس بات پر یو ٹرن لیا جس کا قوم اور عوام سے وعدہ کر کے اقتدار میں آئے تھے۔ اور دوسری بات کہ وہ ملک میں اپوزیشن کو شجرے ممنوعہ سمجھتے ہیں۔یہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ حکمرانی کے لیے جو ماحول،سپورٹ(ہر طرف سے) ان کو ملی۔دوسری جماعتیں اس کی صرف حسرت ہی کر سکتی تھیں۔پہلی بات کہ انہوں نے اپنا وعدہ توڑ کر دوسری جماعتوں سے ان ابن الاوقتوں کو ساتھ ملایا جو ہمیشہ ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔اور وہ صرف مال و دولت بنانے کے لیے ”اپنے ضمیر کی آواز“ پر جماعتیں بدلتے اور بعض اوقات ووٹ کی خرید و فروخت بھی کر دیتے ہیں جیسے سینٹ کے الیکشن میں ہو ئی تھی۔خیر آپ نے اقتدار میں آنا تھا۔تو یہ سب کر کے آ گئے۔مگر اقتدار سمھبالنے کے بعد تو اپنے کہے یا قول و اقرار کا پاس رکھتے۔جو ہر گز اور ذرا برابر نا رکھا گیا۔آپ نے عوام کو بتایا کہ باہیس سالہ جد وجہد کے بعد حکومتی امور چلانے کے لیے میرے پاس ایک تجربہ کار ٹیم موجود ہے۔جو چند ہی مہینوں میں دیئے گئے منشور پر عمل کر کے ملک کی کایا پلٹ دے گی۔مگر ہوا اس کے بالکل الٹ۔آپ کے پاس پی پی پی سے لائے گئے چند ایک لوگ تو تھے ہی مگر آپ نے آئی ایم ایف کی ٹیم اور دوہری شہریت کے چند نوجوان جو اچھی خاصی دولت کے مالک ہیں۔کو اپنے ساتھ ملا کر حکومتی امور چلانے کی کوشش کی۔جو اونچی آواز میں بات تو کر سکتے ہیں مگر تجربے سے عاری اورمعاملات بنانے کی بجائے بگاڑنے میں ماہر ہیں۔اصل بات سمجھنے کی ہے کہ کسی ملک کا اقامہ ہونا اور شہریت ہونا اور رکھنا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔وہ یہ کہ جس کسی شخص کے پاس کسی دوسرے ملک کا اقامہ ہو گا وہ وہا ں ایک خاص مدت تک نوکری کر سکتا ہے(یہ الگ بحث ہے کہ کون نوکری کر سکتا ہے اور کون نہیں)۔مگر جو شخص کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے تو اللہ پاک اور کتاب مقدس پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں اس ملک کا وفادار رہوں گا اور اگر اس ملک جس کی میں شہریت لے رہا ہوں کے خلاف کو ئی دوسرا ملک(یعنی ایک پاکستانی جب امریکہ۔کینیڈا۔برطانیہ۔یا کسی دوسرے ملک میں شہریت لیتا ہے تو حلفاً وعدہ کرتا ہے کہ اگر میرے سابقہ ملک کے خلاف یہ ملک جنگ کرے گا تو میں اس ملک کے ساتھ سابقہ ملک کے خلاف جنگ کروں گا۔گویا نئے ملک کے حق میں کلبھوشن کی طر ح کام کروں گا)لیکن ایک آدمی کو صرف اقامہ رکھنے کے جرم میں تا حیات سیاست سے آؤٹ اور نااہل کر دیا جاتا ہے اور ایک دوہری شہریت والے کو تما م امور حکومت(جن میں بہت ہی حساس نوعیت کے معاملات بھی ہوتے ہیں) میں شامل کیا جاتا ہے۔تو یہ حکومت پانچ دوہری شہریت والے مشیروں کے ساتھ سب راز و نیاز شیئر کرتی ہے۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک ممبر اسمبلی فیصل واوڈا جو دوہری شہریت کا حامل ہے۔اس کا کیس ہی نہیں سنا جاتا۔کیا یہ دوہرا معیار نہیں۔؟ملک میں دو قانون ہو ں گے تو وقتی چل چلاؤ تو ہو گا مگر یہ دیر پا نہیں۔جو ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔وزیراعظم پاکستان سے کچھ کہنا بیکا رکی مشق ہو گی۔اس لیے کہ انہوں نے قسم کھا لی ہے کہ جو قوم سے وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کرنا۔ورنہ وہ تو کہا کرتے تھے۔کہ جن لوگوں کے اثاثے باہر پڑے ہوں یا باہر کی شہریت ہو انہیں کوئی حق نہیں کہ ملک میں حکمرانی کریں کیوں کہ ان کا مفاد دوسرے ملک سے وابستہ ہوتاہے۔ اب جبکہ ان معاونین اور مشیروں کے بیرون ملک بھاری اثاثے میڈیا میں بھی آ چکے ہیں۔تو وزیراعظم پاکستان عمران خان کا وہ سب کہنا،قوم کو یقین دلانا اور اب بالکل عمل نا کرنا کیا ایک ذمہ دار شخص کے لیے مناسب ہے۔؟مگر نہیں وہ تو سب کچھ بھول گئے ہیں۔ بے شک دوستوں سے دوستیاں نبھاہیں۔مگر ملک و قوم کی قیمت پر نہیں۔یہ جو مشیر رکھے گئے ہیں یہ سب شوکت عزیز ثابت ہوں گے۔کیا پی ٹی آئی کے پونے دو کروڑ ووٹروں میں پانچ دس آدمی بھی نہیں کہ جنہیں یہ امانت دی جا سکے۔؟ اور اگر اس تیسری بڑی (اور بوجوہ اس وقت بڑی)جماعت کے پاس اتنے اہل لوگ بھی نہیں تو خود سوچئے کہ کیا یہ ملک و قوم پر حکمرانی کے اہل ہیں۔؟ نہیں بالکل نہیں۔اور اس کا نوٹس لیا جانا چاہیئے۔اور اپوزیشن بھی اس پر احتجاج کرے۔مگر اپوزیشن اس انتظار میں ہے کہ عوام تنگ ہو کر سڑکوں پر آہیں۔جو کہ لوگوں کے سڑکوں پر آنے میں کوئی کسر بھی ان حکمرانوں نے نہیں چھوڑی۔تو یہ اپنی باری لیں۔اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے تو اس چینی۔آٹے۔دواہیوں۔پیٹرول کے بھاری اور بہت بڑے سکینڈلز پر احتجاج کیوں نہیں کرتے۔؟ اور پی ٹی آئی کے صاہب الرائے لوگ بھی اس کو ان مساہل اور معاملات کو سنجیدہ لیں۔یا د رکھیں۔یہ ملک سب کا ہے۔۔۔۔ (۲)نیب۔۔۔آج خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے کیس کا فیصلہ آیا اور معزز سپریم کورٹ نے اس میں چند اہم آبزرویشنز دی۔ جبکہ اعلیٰ عدلیہ کئی مرتبہ نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا چکی ہے۔لیکن ایک بات نا سمجھ آنیوالی ہے کہ اگر کوئی ٹیکنوکریٹ یا کوئی اور شخصیت نیب کی چیئر مین ہوتی تو یہ سوچا جا سکتا تھا کہ کیس بنتے ہیں اور سقم رہ جاتا ہے۔مگر تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسی شخصیت جو جج۔جسٹس۔پھر چیف جسٹس رہے ہوں اور اچھی شہرت بھی رہی ہو۔ان کے ہوتے ہوئے۔جتنے کیسسز بنائے اور ریفرینسسز بنا کر بیجھے جاتے ہیں وہ سب ملزمان عدالت سے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔یا تو وہ کیس ہی بوگس ہوتے ہیں یا پھر چیئر مین نیب وہ کیس خود کبھی دیکھتے ہی نہیں۔ایک نہیں اپوزیشن کے خلاف جتنے بھی کیس بنتے ہیں ان کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج خواجہ برادران کے کیس میں نکلا ہے۔تو کیا اپوزیشن جماعتوں کا شور اور واویلا درست نہیں کہ ہمارے خلاف تما م کیسسز جعلی اور من گھڑت ہوتے ہیں۔؟اور تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر جب سالوں سال کسی کو جیل میں رکھ کر ریفرینس ہی دائر نا کیا جائے۔جیسے حمزہ شہباز کے کیس میں ہے۔کہ سال سے اوپر ہو گیا اور نیب سوچ رہا ہے کہ کیا کریں۔اور جب کیس عدالت میں جائے گا تو نتیجہ۔۔۔باعزت بری۔۔تو کیا کہا اور سوچا جائے۔؟یہ انصاف نہیں۔۔۔اور پھریہ کتنی عجیب بات ہے کہ حکمران جماعت کے کسی بھی آدمی کے خلاف کو ئی کیس نہیں بنتا نا سنا جاتا ہے۔جس میں وزیراعظم،ان کے ساتھی ہیں مگر فہرست میں نام شاہد پانچ سالوں کے بعد آئے۔یہ تو کسی بنانا ریپبلک میں بھی نہیں ہوتا۔ مگر پاکستان میں ہوتا ہے۔۔۔نیب ایک آہینی ادارہ ہے۔اس کے قوانین میں کئی نہیں لکھا کہ نیب صرف اپوزیشن کی غلط کاریوں اور کرپشن پر نظر رکھے گا۔ گرفت میں لائے گا۔بلکہ ملک میں کوئی بھی کرپشن کرے۔ یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ بددیانتی اور کرپشن کو پکڑے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن کے تیس سالہ پرانے چھوٹے موٹے کیس کو انتہائی پھرتی سے دیکھا،اورمبینہ ملزم کو پکڑکر جیل میں ڈال دیاجاتا ہے۔اور مہینوں اور سالوں اس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔جبکہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ملک میں چوریوں اور سکنڈلز کا ایک سیلاب آیا اور اب بھی موجود ہے مگر نیب نے کوئی نوٹس نہیں لیا جیسے یہ چھٹی پر ہوں اور سالوں کے بعد جب واپس آہیں گے تو شاہد سوچیں۔مثلاً یہ دواہیوں کا سکینڈل ہوا۔پھر چینی۔آٹا۔پیٹرول بحران اور خوب دولت کمائی گئی۔کل پھر دواہیوں کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔تو نیب کہاں سویا ہے۔؟یہ کسی دوسرے ملک میں نہیں یہ پاکستان کی بات ہے۔اور ان سے اس لیے پوچھ گچھ نہیں ہوتی کہ یہ حکومت میں بیٹھے وزیراعظم کے ساتھی کر رہے ہیں۔اور ان کو کھلی چھوٹ ہے۔ورنہ ان سب چیزوں پر نوٹس اور ایکشن نا لینا۔کیا جائزواحسن ہے اورکیا یہ اپنے فرائض سے غفلت اور کوتائی نہیں۔؟ (۳) نوٹسسز کا الٹا اثر۔۔۔۔۔ایک بات اب واضح ہو چکی ہے۔کہ جیسے آسمان ابر آلودہو، بادل چھائیں تو بارش ہوتی ہے۔ایسے ہی جس دن اور جس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان (ایسے ہی زبانی عوام کو خوش کرنے اور امید دلانے کے لیے)کسی چیز کا نوٹس لیتے ہیں تو وہ شےء دوسرے دن دوگنی مہنگی،اور وہ سکینڈل دوسرے دن اس سے بڑا سکینڈل بن کر سامنے آتا رہا ہے۔اس لیے عوام اب وزیراعظم سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی مہنگی کی گئی چیز یا چینی۔آٹے۔دواؤں۔اشیاء خورد و نوش پر بالکل نوٹس نا لیں۔جس پر عوام ان کے شکر گذار ہوں گے۔وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔اگر ہاتھ میں ہوتا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ماہ کے آخری دن اوگرہ کی مشاورت سے بڑھائی جاتی ہیں مگر اس دفعہ اپنوں کو فاہدہ پہنچانے کے لیے چھبیس تاریخ کو ہی اوگرہ کو بتائے بغیر قیمتیں بڑھائی گئی۔ پھر بیرون ملک سے منگوائے گے مشیر دن اور رات ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ ملک میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی لیڈر نے اپنے وقت میں یہ چینی۔آٹے۔دواؤں۔پیٹرول۔اور پی آئی اے کے پاہلٹس کے سکینڈلز سامنے لائے۔۔۔یہ تو ایسے ہی ہے کہ ایک تھانے کا ایس ایچ او کسی چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھے۔چور سامان لے کر سامنے خراماں خراماں جا رہا ہو اور ایس ایچ او کہے کہ دیکھا میرا کمال کہ میں نے کیسے چور کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔تو جناب چینی چوری میں چور مال پانی بھی بنا گئے۔چینی ساٹھ روپے سے پچاسی روپے بھی ہو گئی اور متواتر یہی قیمت وصول کی جارہی ہے۔آٹا تازہ گندم مارکیٹ میں آنے کے باوجود مہنگا بک رہا ہے۔اور کچھ تو ذخیرہ ہو رہا ہے۔تین سو فیصد دواؤں کی قیمتیں بڑھی۔اس آدمی کو جماعتی بڑا عہدہ دیا۔آپ نے نوٹس لیا تو اب دس فیصد اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔پی ٹی وی کی فیس پنتیس روپے تھی چالیس یا پچاس کر لیتے ایک دم سو روپے کر دی۔کیا یہ عوام کے ساتھ ظلم نہیں۔اور ان چوریوں میں ملوث سب لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔وزیراعظم صاحب آپ تو کہا کرتے تھے کہ جب ایسے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو یہ حکمرانوں کی جیب میں جاتی ہیں،مگر یاد رکھیں کہ جو قیمتیں آپ نے دوسالوں میں بڑھائی ہیں وہ سابقہ ”چوروں“ نے پندرہ سالوں میں نہیں بڑھائی تھیں۔ملک کا غریب پس کے رہ گیا ہے۔آپ کو تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔آپ کو ہر طرف سے سپورٹ ہے۔مگر یاد رکھیں کہ ظلم کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ملک کے طول و عرض میں عوام چیخ رہے ہیں رو رہے ہیں پیٹ رہے ہیں۔اور وہ دن دور نہیں کہ جب اللہ پاک ان بے کس اور بے بس لوگوں کی فریاد سنے گا۔پھر آپ کو بھی گذرا ہوا وقت یاد آئے گا۔اللہ پاک ہی ملک وقوم پر رحم فرمائے۔آمین۔ثم آمین

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری