”عظیم ہمالیہ کے حضور“ایک شاندار سفر نامہ

”عظیم ہمالیہ کے حضور“ایک شاندار سفر نامہ پروفیسر خالد اکبرٍ عظیم ہمالیہ کے حضور! جاویدخان کی اولین تصنیف ہے۔جاویدپیشہ کے لحاظ سے استاد ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ ہمارے اُن چنیدہ شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔جنھیں قدرت نے پڑھنے لکھنے کاذوق اور ابلاغ کافن ودیعت کیاہے۔یوں عرصہ دراز سے علم وادب کے نادرموضوعات پر اُن کے حکیمانہ کالم مختلف اَخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔جو فہمیدہ اور سنجیدہ قارئین کے لیے فروغ علم کاباعث رہے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور!سفر نامہ، پاکستان کے بڑے اشاعتی ادارے فکشن ہاؤس نے چھاپا ہے۔جس کی اشاعت کردہ کُتب ملک کے طول و عرض میں موقر و معتبر خیال کی جاتی ہیں۔یہ کتاب 224صفحات پر مشتمل ہے۔اس کاٹائیٹل پیج بہت ہی دیدہ زیب ہے۔ کتاب کاپیش لفظ معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف محترم ظفر حیات پال نے لکھا ہے۔انھوں اس سفرنامہ کومنفرد اوربہترین کاوش قرار دیاہے۔اُردو کے منجھے ہوئے استاد،کالم نگار اور وسیع المطالعہ نابغہ پروفیسر ذوالفقار احمد ساحرصاحب نے اس کی پروف ریڈنگ اور نوک پلک سنواری ہے۔یوں کتاب کسی بڑی غلطی سے پاک ہے اور قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوغات،قدرتی حسن سے مالامال گلگت بلتستان (دیوسائی) کاسفرنامہ ہے۔جو مصنف نے اپنے دوستوں کے ہم راہ باجماعت کیا۔یوں تو ہرسال پورے ملک سے بلکہ بیرونی دنیا سے سیاح اور کوہ پیما ان فلک بوس پہاڑوں اور مرغزارو ں کی طرف سفر کرتے ہی رہتے ہیں۔ان میں سے کئی لوگوں نے مختصر بعض نے تفصیلی اور جامع یاداشتیں قلم بند کی ہیں۔مگر جاوید نے اپنے مضبوط قوت مشاہدہ،تخیل آفرینی،خوب صورت منظر نگاری،زباں وبیاں کے سادہ اور صاف استعمال سے اس سفرنامہ کو شاہکار تصنیف میں ڈھال دیا ہے۔اپنے عمدہ اسلوب نگارش کے علاوہ یہ فن پارہ شمالی علاقہ جات کے بارے میں بیش بہاعلمی اور تاریخی معلومات فراہم کرتا ہے۔مصنف کے ہم سفر دوست عمران رزاق،وقاص جمیل اور شفقت عہد رفتہ میں ہمارے سکول کے طالب علم رہے ہیں۔یہ نوجوان اس وقت نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں صف اول کے طور پر پیش پیش رہتے تھے۔اس سفر میں اِن سب کااکٹھا ہونا،اَحوال و تاثرات،تنوع اَور منا ظر پر ردعمل وغیر ہ مل کر مصنف کے لیے ممیزکاکام کرتے ہیں۔اور ان کے زبان و بیان کے تاثر کو گہرا کرتے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی ادبی تخلیق کی تنقید لکھنا،تبصرہ کر نا اور جائزہ لینا ایک سنجیدہ اور مشکل کام ہے۔جو ارباب نقد و نظر کو ہی زیبا ہے۔یوں جس کاکام اسی کو ساجھے۔! راقم الحروف نے اس سفرنامہ کامطالعہ کیا اور جو تاثرات ذہن کی سکرین پر ہویدا ہوئے ان کو اس کالم میں قلم بند کیا ہے۔ اس سفرنامہ میں سب سے زیادہ personification کااستعمال ملتا ہے۔سفرنامہ نگارنے اس صفت کے استعمال سے فلک بوس پہاڑوں،بے آب و گیاہ میدانوں،جھیلوں،کھیت کھلیانوں اور نخلستانوں کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔یوں اس باب میں ان کا قلم بو قلم کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔مثلا”بالاکوٹ سے آگے اور کیوائی سے پیچھے دونوں اطراف فلک بوس پہاڑوں نے دریا کو سکڑ کر چلنے پر مجبور کر دیا ہے“ ”اسی مصنوعی آکسیجن پر لیٹی شہ رگ (سڑک) کے نیچے لکڑی کاپل اپنا ٹوٹا ہو ا انگ اگلے کنارے سے جوڑنے کی جدوجہد میں تھا۔مگر شاید اب مزید جان نہیں رہی تھی۔“اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں ”شیو سر(جھیل) ہمارے سامنے اپنا آبی حسن لیے کھڑی تھی“۔اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے معتدد مقامات پر مجرد تصورات کو اس شاندار انداز میں امیجری کے زور پر مجسم کیا ہے کہ جس سے ایک قاری حظ بھی لیتا ہے اور عش عش کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔ اس سفر نامہ کی ایک اہم خاصیت اس کا Didectic اندا ز ہے۔مصنف پیشہ معلمی سے وابسطہ ہیں اور زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔لِہٰذا یہ واعظانہ اور خطیبانہ انداز قرطاس پر گاہے گاہے پھلجڑیاں بکھیرتا نظر آتاہے۔ ایک جگہ رقم طراز ہیں: ”غرور انسانوں کاہو یا چٹانوں کاکہیں بھی اچھا نہیں ہوتا،غرور کو آخر کار تڑخنا ہی ہوتا ہے۔“ایسے ہی رستے میں ایک مقا م پر دیار کے کمزور درختوں کاجھنڈ دیکھ کر رقم طراز ہیں۔”ایک جگہ دیودار کے درخت جمگھٹے کی صورت میں کھڑے تھے۔کمزور اور لاغر،جیسے کوئی غریب الوطن اپنے دیس کے لیے ترستا ہو۔ایسی ہی غریب الوطنی ان کے وجود سے عیاں تھی۔یہ جگہ ان درختوں کی افزائش کے لیے نہ تھی۔کوئی بھی درخت ہو یاتہذیب صرف اپنی مٹی پر ہی کھڑی اچھی لگتی ہے۔ان درختوں کو یہاں جبراً اگایا گیا تھا۔جو جنگل اور تہذیبیں اجنبی زمینوں پر زبردستی اگائی جاتی ہیں،ان کے وجود سے ایساہی پردیسیانہ اور لاغر پن جھلکتا ہے۔“ غلام قوم کاباشندہ ہونے کے نا طے، ایک منقسم حصہ کی سیر کے دوران مصنف کا جذبہ آزادی انگڑائی لیتا نظر آتاہے۔جس کوو ہ لطیف انداز میں تشبیہات اور استعاروں کی لطیف زبان دیتے نظر آتے ہیں۔ایک جگہ دریاِ کنہار کی تنگ دامنی یوں بیان ہوئی ہے: ”کنہار یہاں چٹانوں کے درمیان تیز اور شوریدہ سر ہے۔شاید ہر پہاڑی دریا کی یہی نفسیات ہوتی کہ جب اسے اپنادامن کشادہ کرنے کے لیے جگہ نہیں دی جاتی،تو وہ غصیلہ اور سرکش ہو جاتا ہے۔دریا ہو یا فرد یا کوئی قوم،جب اس کی کشادگی اور آزادی صلب کرکے اسے سکڑ کر چلنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے،تو اس میں غصہ اور اینگزائٹی بھر جاتی ہے۔پھر وہ سرکشی کے راستے پر چل نکلتی ہے۔جس کا قرض صدیاں مل کر چکاتی ہیں۔“ مصنف اپنے ماضی کو رستے کے مناظر سے ہم آہنگ کرتے ہوئے خوب صورت پیراے میں بیان کرتے ہیں۔ماضی کی دیہی زندگی کو خوب صورت نثری نظم میں بیان کیا ہے۔ سفرنامہ نگار نے گا ہے گاہے صفت pun کاخوب صورت استعمال بھی کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:”لولو سر ایک منظر ہے اور اس منظر میں سارے لوگ خود منظری (سیلفی) میں مصروف تھے۔“مصنف مذہبی شعور اور فرقہ پرستی پر چوٹ کرتے ہیں۔ایک نخلستانی وادی میں اک ویران مسجد پر تبصرہ دیکھیے:”عبادت گاہیں پہلے صرف اللہ کی ہوتی تھیں۔اب بندوں اور مسلکوں کی ہیں۔ہر عبادت گاہ کااشاروں کنایوں میں اپنی مسلکی شناخت کااظہار ایک فیشن بن گیا ہے۔جب تک کوئی عبادت گاہ مسلک کاچولا نہیں پہنے گی،وہ سند یافتہ عبادت گاہ نہیں بن سکے گی۔اس عارضی بساؤ میں بھی یہ مسجد مسلکی ٹکڑے چپکائے بغیر نہ رہ سکی۔“ مصنف کی فلسفیانہ افتاد طبع بھی کبھی کبھی اپنی جولانی پر نظر آتی ہے۔”انسان اگر اپنی جبلت کو نہ مار پائے تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔کشت و خون لڑائیاں زندگی کا جزو لازم بن جاتا ہے۔انسان آدمی نما ریوڑ ہوتے ہیں۔“ گاہے گاہے قرطا سں پر بکھر ے استعارات صنفی رحجانات کے بھر پورعکاس نظر آتے ہیں۔جو کنوار ے سفرنامہ نگار کے پوشیدہ جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں:”ساری برفیلی چوٹیوں کے لب ورخسار پر لالی پھیل گئی تھی۔جیسے ہزاروں دلہنیں سرخ دوپٹوں میں بناؤ سنگھار کیے بیٹھی،شرمیلی مسکراہٹ لیے دیکھ رہی ہوں۔سرخ کرنوں میں لپٹا دُودھیا حسن ان مسکراہٹوں میں نکھرا ہوا تھا۔“یہ ہمالیہ کی چوٹیوں کی منظر کشی ہے۔اشعار کا برمحل اور موضوع استعمال مصنف کے وسیع مطالعہ کاغماز ہے۔خٖوب صورت pithy فقرات کااستعمال بہت شاندار ہے:”راگوں اور سروں کا یہ حسن ابھی انسانی صناعی میں نہیں آیا۔“،”دوست پرتکلف ناشتے پر کسی تکلف سے آزاد تھے۔“یہ کتاب معلومات اور ادب کابیش بہا خزانہ ہے۔اس سفرنامہ کے مطالعہ کے دوران میرے علم میں بہت سا اضافہ ہوا۔مصنف کاریاضیاتی علم بھی حیران کر دینے والا ہے۔منظرنگاری اور حوالوں کے طور پر جب وہ ریاضی اور جیومیٹری کااستعمال کرتے ہیں۔تو مجھ جیسا ریاضی سے نابلد آدمی بھی ریاضی شناس ہو جاتا ہے: مثلاً:”نیم سفید گول پتھر سے نکلا ۰۲ سنٹی میٹر قطر کی گولائی کاسرخ پھول جس کی سیکڑوں کلیاں سرخ رنگ لیے ہوئے تھیں۔“،”ایک لمبی قائمہ الزاویہ کی مثلث کی شکل بناتا پہاڑ،دریا کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا،سورج اس کے وتر پر شعاعیں ڈالنے لگاتھا۔“،”مساوی الزاویہ مثلث کی شکل کی ایک چوٹی دیوہیکل دروازے کے پیچھے کھڑی تھی۔اس پر کچھ برف باقی تھی۔“مصنف لطیف پیراے میں گلوبل وارمنگ اور جنگلی حیات کو لاحق خطرات کانوحہ سناتے نظر آتے ہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کی ماحولیات کے حوالے سے حساسیت کس قدر گہری ہے۔ مصنف کاعالمی کلاسیکل ادب سے بے شمار تلمیحات اور حوالہ جات کااستعمال بہت ہی شاندار ہے۔یہ استعاروں اور تشبیہات کی شکل میں واقع ہوتی ہیں۔جو مصنف کے عالمی کلاسیکل ادب سے گہرے شغف کاعکاس ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں: ”تراجم کی صحت ہمیشہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔جیسے ہومر کی اوڈیسی اور ایلیڈ میں بے شمار غلطیاں ہیں آسکروائیلڈ کے شہرہ آفاق افسانے ”سرخ گلاب“ کاحوالہ اور محل بہت ہی شاندار ہے۔ عظیم ہمالیہ کے حضور!اُردو زبان میں لکھے جانے والے سفرناموں میں اہمیت کاحامل ہے۔میری کوتاہ نگاہ میں اردو کے صف اول کے سفرناموں میں شمار ہو گا۔اپنے اسلوب نگارش میں یہ انتہائی اچھوتا اورمیعاری سفرنامہ ہے۔اس میں شاعرانہ تخیل،منظر نگاری،زبان کی سادگی اور صفائی،استعارات اور تشبیہات کااستعمال لاجواب ہے۔اس میں مرصع نگاری بھی ہے اور مرقع نگاری بھی۔خطہ کشمیر میں کئی سفرنامہ نگاروں نے سفرنامہ نگاری کے باب میں عمدہ سفرنامے تخلیق کیے ہیں۔تاہم خطہ کشمیر کے عظیم مزاح نگار سردار کبیر کے سفر نامے ”اک ذرا افغانستان تک“کے بعد اپنے متن اور اسلوب نگارش کے لحاظ سے یہ بہت ہی اعلی ٰہے۔جاوید خان کی یہ پہلی کاوش ہے۔جاوید ابھی جوان ہیں۔سیکھنے اور لکھنے کے لیے ان کے پاس ایک عمر پڑی ہے۔اگر انھوں نے ایسے ہی محنت شاقہ سے اپنا کام جاری رکھا تو بعید نہیں کہ ان کی آمدہ تخلیقات ادب عالیہ میں اپنا مقام نہ بناسکیں۔کیوں کہ ایک ادیب کے جملہ جواہر ان کی شخصیت میں موجود ہیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری