لاہور، کراچی اور مِنی لاڑکانہ

لاہور، کراچی اور مِنی لاڑکانہ کبیرخان حضرت پطرس شاہ بخاری ؒ نے لاہور کا جغرافیہ تحریر فرماتے ہوئے اس کا محلِ وقوع کچھ یوں بیان کیا تھا: ’’ ایک دو غلط فہمیاں البتّہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں ۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاوں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں ۔ اور جو نصف دریا ہے ، وہ تواب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راویِ ضعیف کہتے ہیں ۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پُل بنے ہیں ۔ان کے نیچے ریت پر دریا لیٹا رہتا ہے ۔ بہنے کا شغل عرصہ سے بند ہے۔ اس لئے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں ۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں ۔ ایک پشاور سے آتا ہے دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آورپشاور کے راستے اور یو. پی والے دہلی کے راستے وارد ہوتے ہیں ۔ اوّل الذکر اہلِ سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی اور غوری تخلّص کرتے ہیں ۔ موخرّ الذکر اہلِ زبان کہلاتے ہیں ۔ یہ بھی تخلّص کرتے ہیں ، اور اس میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں‘‘َ اس کے بعد حضرت پطرس شاہ ؒنے محض ثواب دارین کے لئےلاہور کا حدود اربعہ بھی صاف صاف بیان فرما دیا: ’’ حدود اربعہ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبا کی سہولت کے لئے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہو رہاہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ دس بیس سال کے بعد لاہور ایک صوبے کانام ہو گا جس کا دارالخلافہ پنجاب ہو گا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ لاہور ایک جسم ہے جس کے ہر حصّہ پر ورم نمودار ہو رہا ہے۔ لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے ، جو اس کے جسم کو لاحق ہے‘‘َ۔ صاحبو! پطرس بخاری نے تو محض راوی کے ضعف کو اور لاہور کی بڑھتی ہوئی تنومندی کے پیشِ نظراز رہ التفات لاہورکو پنجاب کے منصب پر اور پنجاب کولاہورکی گدی پرجما دیا ہے۔ اور اللہ اللہ خیرسلّا۔ لیکن یاروں نے تو کراچی کو مِنی (بلکہ اصلی تے وڈّا)پاکستان قرار دے ڈالا۔ پھر اس شہر کی فصیلیں اسلام آباد تک کھینچا کئے۔اس کھینچا تانی کی وجہ سےپاکستان اور اصلی پاکستان کو از سرِ نو وہ بھگتنا پڑا جو 1947میں بھگتنا پڑا تھا۔ روشنیوں کا شہر، امن کا گہوارہ،اورغربا کاپالن ہارایک عقوبت خانہ بن گیا۔ جس میں دن رات وحشت اور دہشت رقصاں تھی۔ ربّ جانے کتنے ہی کمزور،نہتّے اور بے بس چیختی چنگھاڑتی دہشت کے شکار ہوئے۔ سرمایہ دار بھتّے دے دے کر تنگ آئے تو کاروبار اور سرمایہ لپیٹ کر بنگلہ دیش ،ملائشیا اور نجانے کہاں کہاں جا پہنچے۔ مِنی اور اصلی پاکستان کوامن کی طرف لوٹنے کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔اتنی کہ اب مِنی پاکستان کے نام سے عام آدمی بدکنے لگا ہے۔ یادش بخیر! ایوب خانی لیگ کے بعد اورقائد عوام کے دور میں جب آزاد کشمیرمیں یکلخت پی۔ پی۔ پی کا طوطی بولنے لگا تو قائد عوام کو شہید وں اور غازیوں کی سرزمین راولاکوٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ جواُنہوں نے قبول کرلی۔ راولاکوٹ میں ایک (شاید) تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی جلسہ منعقد کیا گیا۔ قائد عوام سے پہلے مقرّر نے اسکرپٹ کے عین مطابق قائد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ’’میرے مائی باپ آپ پر قربان، فخرِ ایشیا عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس امر کا ثبوت ہے کہ شہیدوں ،غازیوں اور مجاہدوں کی یہ سر زمین ، یہ راولاکوٹ مِنی لاڑکانہ ہے۔‘‘ اور پھر عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے راولاکوٹ کے لئے منی لاڑکانہ کا اعزازنہایت پُر جوش انداز میں قبول کر لیا۔ پھر منِی لاڑکانہ کا حال بھی وہی ہوا جو آج کل سُپر لاڑکانہ کا ہے۔ یہی نہیں ، چند سال بعد اسی منی لاڑکانہ یعنی راولاکوٹ کو منی سرینگر کا اعزاز بخشا گیا۔ تب بھی جمِّ غفیر نے اس اعزاز کو نہایت ولولہ انگیز طریقہ سے قبول کیا ۔ آج کل پھر منی سرینگر کو منی لاڑکانہ بنا کر چھوڑنے کے عزائم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسی دھرتی کا ایک ادنیٰ باشندہ ہونے کے ناتے عرض ہے کہ عوام نے بڑی بھاری قربانیاں دے کرراولاکوٹ کو راولاکوٹ بنایا ہے،خدا را اسے راولاکوٹ ہی رہنے دیں ،ہمیں مِنیاں اور مِنمِنیاں ہونا راس نہیں آتا۔ کم از کم منی لاڑکانہ اور منی پاکستان (یعنی کراچی)ہونے کے اعزازات ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ عنایات کسی اورمستحق کو بخشی جائیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری