"بیڈ نمبر18 "

"بیڈ نمبر18 " سردار کامران " جاگتی آنکھیں " زندگی جب رواں دواں رہتی ہے تو زندگی کے اندر میسر آنے والی نعمتوں کا بھی اندازہ لگانا مشکل رہتاہے۔ جسم صحت مند ہو تو زندگی کی چاشنی ہوتے ہوئے بھی انسان شکوے شکایات لبوں پر لاتا رہتاہے۔ ایک سانس جو انسان اندر کی طرف لے آتاہے، اُس کی زندگی کو چلانے کیلئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے مگر اردگرد کی خوشیوں میں گم اِس ایک سانس کا شکر بھی بجا لانا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ کسی انسان کو درپیش بہت سارے چیلنجز ایک طرف رکھ دیے جائیں، انسان ان سب سے نبرد آزما ہو سکتاہے مگر صحت کی خرابی وہ مسئلہ ہے جس کو انسانی کاوشیں اپنے بس کے مطابق حل کرنے کی کوشش تو کر سکتاہے مگر شفاء اُسے میسر آتی ہے یا نہیں،یہ اُس کی قسمت اور رب تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کے جسم کے اندر دوڑنے والا خون،کون کون سے مراحل طے کر کے،زندگی بن کر اُس کی رگوں میں دوڑتاہے، اس کا احساس بھی ہمیں شاید نہیں ہوتا، اپنی مستی میں مگن باقی چیلنجز کو نبٹانے میں لگے رہتے ہیں۔ خوشحال دنوں میں زندگی اپنے تکیے پر سر رکھ کر خوب لمبی تان کر سوتے ہیں اور جس تکیے پر سر رکھ کر سوتے ہیں، نیند کے وہ عالم، سکون کی وہ راحتیں جو ہمیں میسر رہتی ہیں، اُن کی طرف بھی شکرانے کی ایک نظررب تعالیٰ کی طرف شاید ہی اُٹھتی ہو؟ زندگی کی تمام راحتیں، نعمتیں اور رحمتیں اللہ پاک نے انسان کو میسر کی ہیں، شکرانے کے بھی مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ ناانصافی کے خلا ف زبان کا استعمال، جابر حکمران کے خلاف قلم کا استعمال، احتجاج کی صورت میں حقوق کی بات، کسی غریب کو کھانا کھلانا، راستے سیدھے کرنا، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا، مریض کی تیمارداری کرنا، یہاں تک کہ کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا، یہ سبھی تو شکرانے کی صورتیں ہیں۔ یہ تمام شکرانے بھی انسان کو تب ہی میسر آسکتے ہیں جب انسان کے اندر احساس پایا جاتاہو۔ شاعروں اور ادیبوں نے دیوانوں کے دیوان لکھ ڈالے، یہ احساس ہی تو تھاجو اُنھیں مجبور کرتا تھا کہ جو بس میں نہیں اس پر لکھا ہی جائے، با اثر طریقے سے لکھا جائے جس سے احساس کی تحریک پیدا ہو اور لوگ ایک دوسرے کا احساس کرتے ہوئے شکرانہِ نعمت کر سکیں۔ بقول میرے دوست شاعر "طارق بٹ صاحب " میرے کمرے میں اک عجیب سی حساسیت ہے میں سانس لیتا ہوں تو آئینے ٹوٹ جاتے ہیں اب جو ہمارے جسم میں خون دوڑتاہے اس کا شکرانہ کیسے کیا جائے؟اس کا احساس مجھے اُس وقت ہوا جب راولاکوٹ سی ایم ایچ میں ایک کینسر کے مریض سے ملاقات ہوئی، 50سال کی عمر کا یہ شخص کینسر میں مبتلا تھا، دل کا بائی پاس بھی ہو چکا تھا اور اُس کی رگوں میں خون صرف 2.8بچ گیا تھا۔ کھانے پینے کی کوئی صورت نہ تھی، انشور دودھ اُس کو زندہ رکھے ہوئے تھا، ڈاکٹرز کے مطابق خون اگر کچھ زیادہ ہو تو کھانے پینے کی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی تھی۔ خون کہاں سے آئے، COVID-19کی وجہ سے کالجز اور مدرسے بند پڑے ہیں، ایک عجیب بے چینی اُس مریض کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔ بے قراری میں کبھی وہ اِدھر لوٹتا تھا کبھی اُدھر، اتنی بے چینی بے قرار ی تو تھی مگر حسین کوٹ کے اس شخص کے اندر اتنا صبر تھا کہ "اللہ کا شکر ہے "کے الفاظ منہ سے جاری تھے۔آخر کار اُس کے بھائیوں نے ایک بوتل خون کی کہیں سے مہیا کی، جب خون کی بوتل لگانے میں ڈاکٹرز دیر کرنے لگے، کیونکہ بوتل ابھی ٹھنڈی تھی، بے چینی میں اُس کی اضافہ ہوتا گیا، چار پانچ دفعہ اُس نے یہی کہا کہ خون جلدی جلدی لگائیں۔ جب خون کی بوتل لگا دی گئی، اُس کی آنکھیں خون کی بوندوں کو بوتل سے اترتے ہوئے دیکھ کر چمکنے لگیں جس سے میرے دل پر بھی جیسے کسی نے ایک زور دار وار کیا، تھوڑی دیر کے بعد اُس کی آنکھوں سے جیسے موتی گرنے لگے۔ وہ چمکتے ہوئے آنسو میری آنکھوں کو بھی نم کر گئے۔ کہنے لگا، یہ خون کتنا ضروری ہے، مجھے بدقسمتی سے یہ میسر نہیں رہتا، میرا جسم اسے بنانے سے انکار کر چکاہے۔ خون لگتے ہی اُس نے ایک چباتی کھائی اور وہ جس طرح خوش تھا جیسے دنیا کے تمام خزانے اُس کے قدموں میں رکھ دیے گئے ہیں۔ یقین مانیے دنیا کے تمام خزانے ایک طرف، آپ کے جسم کے نارمل فنکشن ایک طرف، خون، انسان کے اندر اللہ کا دیا ہوا باقی نعمتوں کی طرح ایسا خزانہ ہے جو کہ انسان کی زندگی کو بحال رکھے ہوئے اور تمام خوشیاں اسی کی وجہ سے ہیں۔ ہمارے ہاں کتنے ہی ایسے مریض موجود ہیں جن کو خون کی ہمیشہ سے ضرورت رہتی ہے۔ تھیلیسیمیا کے مریض ہوں یا کینسر کے، خون ان کی زندگی بچانے کیلئے ہمیشہ ضرورت پڑتاہے۔ یہ ضرورت اُن کی ایسے پوری ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے اندر بہنے والے خون کو ان تمام مریضوں کو عطیہ کرتے رہیں۔ خون کے شکرانے کا میرے نزدیک یہ واحد طریقہ ہے۔ جتنے صحت مند لوگ ہیں اگر وہ سال میں ایک دفعہ اپنا خون عطیہ کرتے ہیں تو اللہ کی اس نعمت کا صحیح معنوں میں شکر ادا ہو سکتاہے۔ آج ہم سارے اپنے بیڈز پر تکیہ رکھے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، بیڈ نمبر18پر اُس مریض کی طرح کتنے ہی پیارے دوست اور رشتہ دار جا سکتے ہیں۔ لہذا اگر ہمیں نعمتیں میسر ہیں توہمیں چاہیے کہ اپنے خون کو ایسے مریضوں کیلئے عطیہ کرتے رہیں تاکہ جب بھی انہیں ضرورت پڑے تو خون اتنی وافر مقدار میں موجود ہو کہ خون کیلئے انہیں دائیں بائیں دوڑنا نہ پڑے۔ احساس اگر زندہ رہے تو 22کروڑ کے اس ملک میں اگر ایک کروڑ صحت مند لوگ خون عطیہ کرنا شروع کر دیں تو ہمارے ملک کے خون کے ضرورت مند لو گ ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری