یہ ظلم کی انتہا ہے

یہ ظلم کی انتہا ہے کرن عزیزکشمیری مقبوضہ وادی میں بھارتی درندگی کا سلسلہ جاری ہے ایک سلگتا ہوا خطہ جہاں طویل محاصرہ ظلم و بربریت کی المناک داستان پیش کررہا ہے مودی سرکار کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے طویل عرصے کی اسیری جوش آزادی اور جذبہ حریت کو نہ دبا سکی بھارتی فوجیں کشمیریوں کا بے دریغ قتل عام کر رہی ہیں چشم فلک نے بھی ایسا منظر 72 سالوں میں نہیں دیکھا ہوگا طویل قید کی وجہ سے اس وقت محصور کشمیریوں کو جو صورتحال ہے لاکھوں افراد کا حق خود ارادیت سے محرومی اکسو ویں صدی کا المیہ ہے انسانیت سوز مظالم سے دنیا بھارتی جارحیت سے آگاہ ہوچکی ہے تاہم خاموشی افسوسناک ہے عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے بجائے تماشائی بن چکی ہے اعتدال پسند دنیا میں موجود تنظیموں نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو پہچان لیا ہے اپنی فوجی طاقت پر بھروسہ رکھنے والا بھارت چین سے فوجی محاذ پر مار کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اوندھے بل گرنے کے بعد چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اس ضمن میں اہم امر یہ ہے کہ چین کے خلاف امریکہ اور بھارت کی مشترکہ بحری مشقیں بھی جاری ہیں بھارت کشمیریوں سے عملی طور پر شکست کھا کر مکمل بدحواس ہو چکا ہے ہو سکتا ہے بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو شروع میں مذاق سمجھا ہو تاہم ظلم و بربریت کے باوجود آزادی کا جذبہ ان کے لیے ممیز کا کام کر رہا ہے اہم امر یہ ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن رپورٹ میں انسانیت کے خلاف جنگی مجرم ثابت ہوا اس ضمن میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا امریکہ سمیت عالمی مقتدر طاقتوں کو اس سنگین مسئلے پر اپنا جائز کردار ادا کرنا چاہئیے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں سے خطے کے امن و استحکام کو شریک خطرات لاحق ہیں پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آزاد ملکوں پر کیسے قبضہ کروائے گئے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف بولنے والے بھی جہاد کا کردار ادا کر رہے ہیں اور خاموش رہنے سے اس کو تقویت ملتی ہے کہ آپ بھی ان کے جرائم میں شامل ہیں اور جارحیتوں کے ذمہ دار بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کی المناک صورتحال کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتی ہیں مسئلے کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں آواز بلند کریں دباؤ بڑھا ئیں سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ پابندیوں کے باعث کشمیری عوام مشکلات کا شکار ہیں ستم ظریفی یہ کہ لاک ڈاؤن پر لاک ڈاؤن کا شکار ہیں بھارتی حکومت نے کرونا کی آڑ میں پابندیوں کو مزید سخت کردیا تھا اس وقت پوری وادی وحشت و بربریت کی تصویر پیش کر رہی ہے ہسپتال و کاروبار بند کرو نا کی آڑ میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئی نیز سکول کالج نقل و حرکت پر پابندی درندگی کی انتہا ہیں کشمیری قائدین کو پابند سلاسل رکھنے سے محصور کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے جذبہ حریت کو مزید تقویت ملی بھارت اندرونی خلفشار کا شکار ہے کشمیر میں مظالم پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی خاموشی بھارت کے لیے طمانیت کا امر ہوگا البتہ انسانیت کی بقا ء کے لیے ندامت کا باعث ہے بھارت نے کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائی ہے کشمیری عوام بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں بھارتی فوج جس طرح مقبوضہ وادی کے نوجوانوں کو شہید کرتی جارہی ہے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتی ہے یہ ظلم کی انتہا ہے اہم امر یہ ہے کہ مقبوضہ وادی کے عوام کو ظلم و جبر آزماکر آزادی کے جذبے کو کچلنے کے گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں فون اور انٹرنیٹ پر پابندی کے ذریعے مقبوضہ وادی کے عوام کی آواز کو ظالمانہ طریقے سے دبانے کی جارحانہ کوششیں کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکتی بھارت کے پاس اب آزمانے کے لیے کچھ نہیں بچا بھارتی ہتھیار کشمیریوں کے جسموں کو چھلنی کرتے رہے اور حوصلوں کو بلند کرتے رہے بھارت سرکار کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہوچکا ہے اہم امر یہ ہے کہ کشمیری حریت پسند رہنما برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی میں نئی روح پھونک دی مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے شہداء کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی شمع کو فیروزہ کرتا رہا بھارت مقبوضہ وادی میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے گزشتہ دنوں سوپور میں معصوم بچے کے سامنے اس کے نانا کا قتل انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لیے کھلا چیلنج ہے بھارتی قابض فوج نے غیر انسانی اقدامات کی انتہا کر دی ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری