حضور کے پسندیدہ، قسطنطنیہ کی آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا ۔

حضور کے پسندیدہ، قسطنطنیہ کی آیا صوفیہ میں اللہ اکبر کی صدا ۔ بشیر سدوزئی ۔ قسطنطنیہ کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ میں 24 جولائی 2020ء کو 86 سال بعد ایک مرتبہ پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس منظر کو اس طرح شوق سے دیکھا جیسے حج کا خطبہ سنا جا رہا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے خطبہ اور نماز کی ادائیگی کا منظر الیکٹرانک میڈیا، فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ ترکی کے صدر طعیب اردگان نے اپنی کابینہ کے ہمراہ نماز جمعہ ادا کی جب کہ وزیر مذہبی امور نے امامت کے فرائض سرانجام دے ۔ اس سے قبل کئی گھنٹے تک تلاوت قرآن مجید سے مسجد کے مینار بکاء نور بنے رہے۔ صدر طعیب اردگان نے بھی اپنے مخصوص انداز میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت حاصل کی۔ بعض لوگ تو ترکی میں طیب اردگان کی اصلاحات کو خلافت کی نشاط ثانیہ قرار دیتے ہیں ۔ امریکا ، یورپ ،روس سمیت کئی ممالک کی مخالفت کے باوجود آیا صوفیہ میں ایک مرتبہ پھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا اسی طرف پیش قدمی سوچا جا سکتا ہے۔ ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں جشن کا سماء تھا جیسے قسطنطنیہ آج فتح ہو رہا ہو ۔ بلا شبہ قسطنطنیہ تو نہیں مگر استنبول کی فتوحات کا مرحلہ جاری ہے ۔ اس مرتبہ مسلمانوں کے تاریخی شہر استنبول میں ہتھیاروں کی نہیں نظریات کی جنگ ہو رہی ہے یہ جنگ اس دن سے جاری ہے جب یورپ کے ایجنڈے کی تکمیل پر کمال اتا ترک نے مسلمانوں کی وحدت کی نشانی آخری خلیفہ عبدالمجید کو یہ حکم دیا تھا کہ کل صبح سورج کی پہلی کرن سے پہلے خلیفہ ملک چھوڑ دے ۔ ایک گروپ شعوری یا لا شعوری طور پر جدید ترکی کے نام پر یہود اور نصارہ کے ایجنڈے پر کاربند ہے تو دوسرا گروب سلطان محمد دوئم کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے جو دراصل دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچار نفاذ اور عمل پہرا کا ایجنڈا ہے۔ آج کے سلطان محمد دوئم طعیب اردگان کی قیادت میں فرزندان توحید نظریاتی سرحدوں کی توسیع اور فتوحات میں کامیابی پر کامیابی حاصل کر رہے ہیں ۔آنا صوفیہ میں 86 سال بعد اللہ اکبر کی صدا بلند ہونا بے شک محرکہ فتح قسطنطنیہ ثانی کہا جا سکتا ہے ۔ قسطنطنیہ کی شکست یورپ آج تک نہیں بھولا۔بدلہ لینے کے لیے یہود اور نصارہ مسلمانوں کے مقابلے میں جمع ہیں اور امت محمدی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہیں۔ اسلام دشمن سمجھتے ہیں کہ سلطان محمد دوئم جیسی قیادت اور قوت مسلمانوں کو پھر حاصل ہو گئی تو یورپ پر دوبارہ قبضہ ہو سکتا ہے ۔آیا صوفیہ میں پہلی مرتبہ اللہ اکبر کی صدا 29 مئی 1453 کو بلند ہوئی تھی اس روز جمعرات تھی اور دوسری دن 21 سالہ سلطان محمد ثانی کی قیادت میں فرزندان توحید نے اس عمارت میں نماز جمعہ ادا کی تھی ۔ یونان والے آج بھی جمعرات کو منحوس دن سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل کے لیے اس شہر کو فتح کرنے کے لیے سات سو سال تک کوشش جاری رکھی ۔ حضور کا فرمان ہے کہ " تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی"۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ابتداء سے ہی فتح قسطنطنیہ کے خواب دیکھتے رہے اور ہر دور میں کوشش ہوتی رہی کہ با کمال کا اعزاز ہمیں ملے ۔ مگر اللہ تعالی نے با کمال لوگوں کے اعزاز کے لئے اناطولیا کے ایک چھوٹے سے جاگیر دار ارطغرل کی نسل سے 21 سالہ نوجوان محمد ثانی کو منتخب کر رکھا تھا۔ 674ء میں مسلمانوں کے بحری بیڑے نے قسطنطنیہ کاچار سال تک محاصرہ کئیے رکھا، اور متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں جاری رہی۔ لیکن عربوں کے پاس آتش یونانی کا کوئی توڑ نہ تھا جو ان پر برسائی گئی۔ 678 میں بازنطینیوں نے عربوں پر جوابی حملہ کیا۔ اس وقت ان کے پاس ایسا ہتھیار تھا، جسے ’آتشِ یونانی‘ یا گریک فائر کہا جاتا۔ اس کو تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا، کشتیوں اور جہازوں سے چپکنے کے علاوہ پانی کی سطح پر بھی اس کی آگ جلتی۔ بازنطینیوں نے جب ان ہتھیاروں سے حملہ کیا تو عربوں کا بحری بیڑہ آتش زار بن گیا، سپائیوں نے پانی میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی مگر پانی بھی آگ پکڑ چکا تھا ۔ عرب سیکڑوں کشتیوں میں سے چند ہی بچا سکے۔ مشہور صحابی ابو ایوب انصاری اسی جنگ میں شہید ہوئے تھے ۔717 میں بنو امیہ کے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پھر حملہ کیا لیکن دو ہزار جنگی کشتیوں میں سے پانچ واپس پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے بعد عثمانیہ دور تک مسلمانوں نے قسطنطنیہ کی طرف پلٹ کر دیکھا بھی نہیں ۔ سلطان محمد فاتح نے 39 مئی 1453 جمعرات کو شہر پر اپنا جھنڈا لہرا کر سارے پرانے بدلے چکا دیے۔اور اگلے دن جمعتہ المبارک کو ہاجیہ صوفیہ کی انتظامیہ سے ذاتی رقم ادا کر کے عظیم الشان کلیسا کو خرید کر آنا صوفیہ مسجد میں تبدیل کرنے کا سرکاری علان جاری کیا۔عثمانیوں نے 10 سال پہلے 1443ء میں بھی قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا جب سلطان محمد فاتح کے والد مراد دوئم سلطان تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بارے میں بننے والی فلم ’اوٹومن‘ کے اہم مناظر میں سلطان محمد یاد کرتے ہیں کہ 1443 میں سلطان مراد دوئم اس تاریخی شہر اور اس کی مضبوط دیواروں کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں کہہ رہا تھا کہ قسطنطنیہ کائنات کا دل ہے، وہ سرزمین جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا دنیا اور آخرت اُسی کی ہو گی۔ یہ دیواریں رکاوٹ ہیں ہر اس کے لئے جو اس کو فتح کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔سلطان محمد دوئم نے اپنے والد سے پوچھا کہ (قسطنطنیہ کی دیواروں کو) گِرا کیوں نہیں دیتے؟ والد نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا تھا، ابھی اتنا طاقتور ہتھیار نہیں بنا۔ اس وقت 11 سالہ شہزداے محمد دوئم نے پورے اعتماد کہ ساتھ والد سے کہا تھا کہ میں اِن دیواروں کو گراؤں گا۔ اس وقت سلطان مراد دوئم کے ساتھ فوج اور گھڑ سوار تھے جو قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو تلواروں اور تیروں سے گرا نہیں سکتے تھے اور مسلمان فوج ابھی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوئی تھی ۔ 1453 میں جب سلطان محمد دوئم قسطنطنیہ فتح کرنے آئے تو ان کے پاس جدید ہتھیار تھے۔ ایک مؤرخ بتاتے ہیں کہ ’دنیا نے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں توپیں ایک جگہ نہیں دیکھی ہوں گی ۔جن کے ساتھ سلطان محمد دوئم نے قسطنطنیہ کو گھیر رکھا تھا۔ ان توپوں کے گولوں کی ایسی گھن گرج کہ شاید دنیا میں کسی دشمن نے پہلے نہیں سنی ہو گی۔مؤرخ گیبور اگوستون لکھتا ہے کہ 1450 تک توپیں محاصروں پر مبنی جنگوں کے لیے فیصلہ کُن ہتھیار بن چکی تھیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے پاس جدید ہتھیار خریدنے اور بنانے کے لیے وسائل اور سہولیات بھی موجود تھیں،اسی زمانے میں اوربان نامی ایک کاریگر نے سلطان محمد دوئم کو ایک توپ کا ڈیزائن پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے گولے قسطنطنیہ کی تاریخی دیواروں کو گرا دیں گے۔ توپ آٹھ میٹر لمبی قیمت 10 ہزار دکت ہو گی۔ سلطان محمد دوئم نے کہا کہ اگر اس توپ نے قسطنطنیہ کی دیواریں گرا دیں تو چار گنا زیادہ قیمت ادا کی جائے گی۔ ہنگری کا اوربان انتہائی ماہر مستری تھا۔ وہ پہلے بازنطینی بادشاہ کو اس توپ کی پیشکش کر چکا تھا لیکن وہ اس کی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ سلطان محمد دوم نے اروبان کی پیشکش قبول کر لی۔ کیوں کہ عثمانی سلطنت کے پاس کافی وسائل تھے۔ 70 نئی اور جدید توپیں خریدی گئیں۔ یہ دیو ہیکل توپیں قسطنطنیہ کی دیوار تک پہنچانے کے لیے 30 ویگنیں جوڑی گئیں ان کو کھینچنے کے لیے 60 طاقتور بیلوں کا بندوبست کیا گیا اور ویگنوں کے اطراف 200 اہلکار تعینات کیے گئے جو راستہ ہموار کر رہے تھے۔ سلطان محمد دوم نے جدید ہتھیاروں سے لیس بہادر فوج کے ساتھ ہزار سال پرانی بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ اور دیوار توڑنے کے لیے بھاری توپوں کے ذریعے گولہ باری شروع کر دی ۔عثمانی توپوں کو گولے برساتے 47 دن گزر چکے۔ تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان اور شگاف پڑ چکے تو عثمانی دستوں نے فصیل کے کمزور حصوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک طرف خشکی سے اور دوسری طرف سمندر میں بحری جہازوں پر نصب توپوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔ بازنطینی سپاہی اس حملے کے لیے فصیلوں پر تیار کھڑے تھے۔ شہری بھی مدد کے لیے فصیلوں پر آ پہنچے اور پتھرحملہ آوروں پر برسانا شروع کر دیے۔ تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے عیسائی صدیوں پرانے اختلاف بھلا کر ایک ہو گئے اور بڑی تعداد سب سے بڑے کلیسا ہاجیہ صوفیہ میں اکٹھی ہو گئی۔ اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو اس دن شہر میں موجود تھا، لکھتا ہے کہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے حملہ آور بےجگر شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے نہ ہو۔روشنی پھیلنے تک ترک سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر دفاعی فوجی مارے جا چکے تھے۔ سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی زخمی حالت میں میدانِ جنگ سے باہر ہو چکا تھا۔ 29 مئی 1453ء بروز جمعرات سورج کی پہلی کرن نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی دروازے پر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اسلامی جھنڈا لگا رہا ہے۔سلطان محمد دوئم سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائدین کے ہمراہ ہاجیہ صوفیہ پہنچے۔ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری تھے۔آج مسلمان سات سو سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہ کے اقتدار کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ بلکہ مسلمانوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل ہو رہی تھی ۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب بند اور دوسرا کھل رہا تھا۔۔ قبلِ مسیح میں قائم ہونے والی سلطنت روم 1480 برس تک قائم رہنے کے بعد انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب عثمانی سلطنت اوج کمال کو چھو رہی تھی اور عباسیہ کے بعد خلافت کے چوتھے دور خلافت عثمانیہ کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ جواگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔ سلطان نے دارالحکومت ادرنہ سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا اور یہ مسلمانوں کا مدینہ، دمشق، بغداد، کے بعد چوتھا درالخلافہ قرار پایا۔ یورپ پر سقوطِ قسطنطنیہ کا بڑا گہرا اثر ہوا اور یہ واقعہ ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا۔اسی وجہ سے یورپ کبھی اسے بھول نہیں سکا۔ نیٹو کا اہم حصہ ہونے کے باوجود یورپی یونین ترکی کو یونین میں شامل نہیں کرتی وجوہات یہی ہیں کہ ترکوں نے وہ کام کیا جو اس سے پہلے کے مسلمان نہ کر سکے بازنطینی بادشاہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قسطنطنیہ سے وہ باہر نکالے جا سکتے ہیں ۔ قسطنطنیہ تو فتح ہوا مگر یہود اور نصارہ ہوشیار ہو گئے اور مسلمانوں کی مرکزیت اور قوت توڑنے کے لئے تمام تر اقدامات شروع کر دئیے۔ صلیبی جنگیں ہوں ۔ آتا ترک ہو یا لارنس آف عریبیہ سارے حربے، ایجنٹ اور کریکٹر وہی تھے کہ مسلمانوں کی مرکزیت کو ختم کر دیا جائے ۔ ایک برٹش فوجی آفیسر نے خلافت کے خاتمے کی وجہ یہ بتائی کہ یورپ کو خوف ہے کہ خلیفہ نے اگر دوبارہ جان پکڑ لی تو امریکہ اور یورپ خطرے میں رہیں گے ۔ ایک کمزور خلافت استنبول میں بیٹھ کر جہاد کا علان کرتی ہے تو جکارتہ اور برصغیر میں نوجوان رضاکار بھرتی ہونا شروع ہو جائے ہیں ۔ جب تک خلافت رہے گی یورپ خطرے میں رہے گا۔ چنانچہ یورپ نے عربوں اور ترکوں کو علیحدہ علیحدہ ہم نوا بنایا ۔اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تقریباً 642 سال 1282ء تا 1924ء 37 خلیفہ رہنے کے بعد آتا ترک نے 3، 4 مارچ 1924ء کی رات کوآخری خلیفہ عبدالمجید دوم کو پیغام بیجھا کہ صبح سورج طلوع ہونے سے قبل ترکی کی سر زمین پر کوئی خلیفہ نہیں ہو گا۔ اسی رات خلیفہ پہلے سوئٹزرلینڈ پھر فرانس جلاوطنی کے لیے روانہ ہونے کے ساتھ ہی اسلام کی آخری خلافتِ عثمانیہ ختم ہو گئی۔ آتا ترک نے ترکی کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے مساجد پر تالے اور عربی زبان پر پابندی لگا دی ۔ ترکیت، کفریٹ، لادینیت، اور وطنیت جیسے نعروں کا سرکاری اعلان ہوا ۔ جس کو جدید ترکی کا نام دے کر آتا ترک بانی قرار پائے۔ 1931میں مسجد آنا صوفیہ کو بند اور 1935 میں آتا ترک کی صدارت میں کابینہ نے میوزم بنانے کی منظوری دی ۔ 86 سال بعد 24 جولائی 2020ء کو ترقی کے صدر طعیب اردگان نے اپنی کابینہ کے ہمراہ مسجد آیا صوفیہ میں ہزاروں مسلمانوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کر کے ایک مرتبہ پھر فتح قسطنطنیہ کی یاد تازہ کر دی جب سلطان محمد دوئم نے بھی اسی طرح اپنی کابینہ کے ہمراہ پہلی نماز جمعہ ادا کی تھی۔ طعیب اردگان نے بعد ازاں فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد دوئم کے مزار پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی ۔ نماز جمعہ کے لیے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ کورونا کے باعث درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے 17 چیک پوائنٹس بنائ گئ تھیں۔ نمازیوں کے لیے ماسک کو ضروری اور میونسپلٹی کی جانب سے نمازیوں کو مسجد لے جانے کے لیے فری شٹل سروس بھی مہیا کی گئی۔ جب کہ پانی کی بوتلوں، ماسک، سینیٹائزر اور قالین کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ یورپ، امریکہ اور روس کی مخالفت کے باوجود 60 فیصد ترک شہریوں نے آیا صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کے فیصلے کی حمایت کی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترک عوام کی اکثریت زمانہ خلافت کے اقتدار کی بحالی کی حمایت اور آتا ترک کے نظریات کو مسترد کرتے ہیں ۔ طعیب اردگان خلافت عثمانیہ کا عکس ہے ۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری