”ڈیجیٹل“ تحریک آزادی

”ڈیجیٹل“ تحریک آزادی تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان راولاکوٹ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیر، چاہے ایک آزاد ریاست کی صورت میں، چاہے ایک مقبوضہ باج گزار کے طور سہی، دنیا کے نقشہ پر صدیوں قرنوں سے موجود چلا آ رہا ہے۔ اس دوران اس کی ہیت و حیثیت بدلتی رہی۔ کبھی یہاں آزادی کا سورج چمکا، امن کی چاندنی چٹکی تو کبھی یہاں غلامی کی سیاہ بھیانک رات چھائی رہی۔ کشمیر کے مسلمہ وجود کی طرح، اس کی تحریک آزادی بھی مدت مدیر سے جاری رہی ہے۔ ماضی بعید سے رف نظر کرتے ہوئے اگر ہم نسبتاً نئے دور میں اس کی تحریک آزادی کا جائزہ لیں تو کبھی اس کا روپ ہمیں یوسف چک و یعقوب چک کی صورت میں نظر آتا ہے تو کبھی سبزعلی خان و ملی خان ایسوں کی شکل میں، پھر یہی عمل ہمیں کہیں گوہر امان کے نام سے دھمکتا ملتا ہے تو کہیں بہادر علی خان کے کارناموں و جہد کے چمتکار میں، کہیں ریشم خانہ کے مزدور اسے آگے بڑھاتے ہیں تو کہیں ریڈنگ روم پارٹی اورینگ میز ایسوسی ایشن…… کہیں اسے سردار ابراہیم و کیپٹن حسین خان شہید نے آگے بڑھایا و کسی جگہ شیخ عبداللہ اے آر ساغر، چوہدری غلام عباس وغیرہم نے، کسی مقام پر اسے ”وارکونسل“ نے ترتیب کی لڑی میں پروہا تو کہیں کرنل حسن مرزا و میجر بابر کی صورت میں صورتگر ملے، کبھی اسے کرنل منشاء نے آپریشن جبرالٹر کا انداز میں آگے بڑھایا تو کبھی کرنل خان محمد خان کے ”پلندری سازش کیس“ کو اس کی بڑھوتی سمجھا گیا۔ کہیں یہ کے ایل ایم کہلائی تو کہیں گنگا ہائی جیک کرکے اسے چمکایا مہکایا گیا۔ وقت نے کبھی اسے مقبول بٹ ایسا مقبول کردار دیا تو کہیں کے ایچ خورشید نے اس کے گیسو سنوارے۔ کبھی اسے تاشقند و شملہ میں زیربحث لایا گیا تو کہیں اسے سردار عبدالقیوم کے ہاتھ حوالے کیا گیا۔ وقت گزرا تو یہ امان اللہ خان کی وساطت سے اشفاق مجیدوانی، یاسین ملک، حمید شیخ، جاوید میر اور عبدالاحد گرو، شبیر صدیقی و بشارت رضا، ماسٹر محمد افضل تک پہنچی تو پھر سید علی گیلانی و صلاح الدین نے اس زمام سنبھالی۔ یہاں ہی شبیرشاہ اور آسیہ اندرابی بھی تھے اور اعظم انقلابی سجاد شاہد اور دوسرے بھی۔ یہاں ہی کہیں الیاس کشمیری بھی نمودار ہوئے اور دوسرے ہزارہا کردار بھی۔ کشمیر کی متذکرہ بالا تحریک آزادی کے مقاصد، قیادت اور طریق کار سے اختلاف تو ممکن ہے اور ایسا یقینا ہے بھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کشمیر کی تحریک آزادی ایک زمینی حقیقت تھی…… لیکن پھر وقت بدلا، دنیا کا ماحول بدلا۔ عالمی سیاسی صورتحال بدلی اور کشمیر کی تحریک آزادی اس تبدیلی کا ایسے شکار ہوئی کہ موجود سے مفقود کی طرف تیزی سے بڑھنے لگی اور بڑھتے بڑھتے وجود سے عدم کی کیفیت کے مزے لینے لگی۔ گزشتہ چند سال میں کشمیر یعنی ریاست جموں کشمیر کے وجود و تحریک آزادی کو جوعارضے لگے وہ وقت کے ”کورونا“ یعنی ”Covid-19“ سے زیادہ مہلک تھے۔ کرکٹ ڈپلومیسی و نووارپیکٹ جیسی باتوں کو جانے دیں کہ ان کے اثرات نسبتاً محدود تر تھے، البتہ اس صورت حال میں ”سی پیک“ کی ”بیک و پیک“ ایک ایسا وائرس تھا جس نے ریاست کی وحدت کی سوچ کو ایک خاص بالادست طبقے کے لئے غیرضروری بنا دیا۔ وقت مزید گزرا، بات 5 اگست 2019ء تک پہنچی تو بھارت نے ریاست کے وجود کے خلاف آج تک کا سب سے بھیانک و مہک قدم اٹھایا۔ محب وطن حلقے یقینا اس کی تلخی و سنجیدگی کا احساس رکھتے تھے۔ اسی لئے بساط بھر چیخے تڑپے مگر خوش فہم اذہان ”تبدیلی“ کے اس عمل کو نہ سمجھ سکے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر اور بعد میں بتائے جانے کی اکسیر کو لئے بیٹھے رہے کہ انہیں گھبرانا نہیں تھا۔ اس دوران کچھ واقعات ایسے بھی ہوئے جو بہت کچھ سمجھانے کے لئے کافی تھے کہ مظفرآباد میں اہل کشمیر سے یکجہتی کے لئے سراج الحق، پرویز الٰہی، اختر مینگل اور فاروق ستار کے بجائے مائرہ خان، جاوید شیخ، ساحرعلی بگا اور شاید آفریدی کا ”ورود“ سب بتا رہا تھا لیکن…… خیر جانے دیں۔ مجھے کہنا بس اتنا ہے کہ گئے زمانوں میں ہزار ہا کوتاہیوں و غلطیوں کے باوجود کشمیر کی تحریک آزادی ”زمینی“ تھی…… سو اس کا وجود تھا۔ لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اسے پہاڑوں، وادیوں، گھاٹیوں، میدانوں، جلسہ گاہوں، شاہراہوں، گلیوں اور پنڈالوں کے بجائے ”ڈیجیٹل“ کر دیا گیا اور محض نازک لرزیدہ ہاتھوں میں تھے۔ سیل و سمارت فون میں ڈال دیا گیا، سوشل میڈیا یقینا آج کا ایک موثر ہتھیار ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی ”ہتھیار“ ایک نشہ بھی ہے جو بے سبب بھی چڑھا رہتا ہے۔ اب ایکٹ 74 میں مجوزہ ترمیم، جس کے لئے نہ صرف ریاست کے وجود بلکہ محض نام تک کو ”حرف غلط“ کی طرح مٹایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ریاستی وسائل یعنی”بہتے سیال“ کا یوں ”ہستیایا ہڑپایا“ جانا بہت کچھ کہنے کے لئے کافی ہے، لیکن ڈیجیٹل عہد کی ڈیجیٹل سیاست، قیادت و ذہانت کے لئے زمینی تحریک کا انہدام اور اس ڈیجیٹل روپ کو سمجھنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ ویسے سچ یہ ہے کہ ریاست کی تحریک آزادی اور وجود ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلے میں فی الوقت جس خطرے و قضیے سے دوچار ہے، وہ توشتہ دیوار ہے لیکن…… ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کی وحدت پر یقین رکھنے والے تمام محب وطن لوگ، قیادتیں و جماعتیں، کشمیر کے لئے ایک زمینی تحریک کے وجود کو ممکن بنائیں اور اس ”ڈیجیٹل پنے“ کے سحر و زیر سے باہر نکلیں اور تیری سے بڑھتے خطرات اور قابضین کی تعداد اور روّیوں کی ”تبدیلیوں“ کو محسوس کریں اور ہو سکے تو اپنے مٹتے وجود کے لئے سوچیں، گھبرائیں، روئیں، کرلائیں اور پھر حوصلے مجتمع کرکے اٹھ کھڑیں ہوں کہ وہ سب فرزندان زمین ہیں اور وطن ”ماں“ کی مانند ہے اور حب الوطنی ایمان کا جزو ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری