گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر

گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر شفقت ضیاء ریاست جموں و کشمیر 84,471مربع میل کے وسیع علاقے کی حامل ہے۔گلگت بلتستان اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا علاقہ بھی اس کا حصہ ہے۔ طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو آزادی ملی منزل ابھی حاصل نہیں ہوئی تھی جدوجہد آزادی جاری تھی 1948ء کو بھارت نے اقوامِ متحدہ کے دروازے پر دستک دی پاکستان اور بھارت دونوں نے اقوامِ متحدہ کے سامنے اپنا اپنا موقف رکھا جس پر اقواِم عالم نے طویل بحث و تمحیص کے بعد جو قراردادیں پاس کیں وہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کے لیے ریاستی عوام کو رائے شماری کی بنیاد فراہم کرتی ہیں اور گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کرتی ہیں جس کو بھارت اور پاکستان دونوں نے بین الاقوامی طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی عمل میں آئی تو مارچ 1949 کو آزاد کشمیر کی حکومت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان، صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس چوہدری غلام عباس اورمرکزی وزیربے محکمہ مشتاق احمد گورمانی کے درمیان سہ فریقی معاہدہ عمل میں آیا جس کے مطابق گلگت بلتستان کا تمام تر انتظام عبوری طور پر حکومتِ پاکستان کے پاس رکھا گیا جبکہ آزاد کشمیر کا دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی اور ڈاک و تار کا نظام حکومت پاکستان کے زیرِ انتظام رکھا گیا ہے۔ اسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں۔مواصلاتی اور انتظامی دشواریاں اور گلگت بلتستان کے علاقے کی حساس نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اُس وقت کی دور اندیش لیڈر شپ کے اس فیصلے کو داد دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔یہ ایسی دستاویز ہے جو گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ثابت کرتی ہے۔ پاکستان کے دساتیر 1956ء،1962ء،اور 1973ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرحدوں اور علاقے کے ذکر میں شمالی علاقے شامل نہیں ہیں اسی طرح1977ء میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا قانونی حصہ نہیں ہے اور اس کی حیثیت آزاد کشمیر سے مختلف نہیں ہے پاکستان نے آئینی اور قانونی اعتبار سے اور بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم اور خود دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدا ت میں ہمیشہ ان علاقوں کو جو ایک معاہدہ کے تحت براہِ راست پاکستان کے زیرِ انتظام ہیں جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی میں پاکستان کی بعض حکومتوں کی خواہش کے باوجود اسے پاکستان کا صوبہ نہیں بنایا جا سکا لیکن بدقسمتی سے ان علاقوں کو ہر سطح پر ریاست جموں کشمیر کا حصہ تسلیم کرنے کے باوجود آج تک آئینی اور جمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ان کو حقوق دینے کے لیے صوبہ بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو بھی آزاد کشمیر کے طرز پر اختیارات ملنے چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام 72سال سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کے انتظار میں آج بھی گومگو کی کیفیت میں ہیں ان کے صبر کو داد دینا پڑتی ہے اور ارباب اقتدار کے لیے باعث افسوس ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور لیڈر شپ کا کردار بھی مایوس کن اور افسوس ناک ہے جنہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی شدید مشکلات اور مسائل کا احساس نہیں کیا اور بیس کیمپ کو اقتدار کا ریس کیمپ بنائے رکھا وہاں کی قیادت سے رابطے اور ان کے دکھ و تکلیف کو محسوس نہ کیا یہی وجہ ہے کہ آج وہاں کے عوام کی خواہش مزید انتظار کے بجائے پاکستان کا صوبہ بنانے کے حق میں ہے جبکہ پاکستان کی قیادت بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکی اور تھکی تھکی محسوس ہوتی ہے لیکن اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گااور خود پاکستان کی طرف سے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گی۔ ہندو ستان پہلے ہی بہت سی خلاف ورزیاں کر چکا ہے اس کو معقول جواز بھی مل جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو سی پیک اور چائینہ کے تحفظات اور دیگر مشکلات بھی ہو سکتی ہیں لیکن گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا فیصلہ تحریک آزادی کشمیر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا۔ اس کے بعد تحریک آزادی کشمیر ہر محاذ پر کمزور ہو گی۔ تحریک آزادی کشمیر کا اس وقت مرکز وادی ہے جس کے چپے چپے پر خون کی سرخی ہے ہر گھر میں شہادت ہے اسلام اورپاکسان کی محبت ہے ہندوستان ہر حربہ استعمال کر چکاہے لیکن ان کے عزم کو کمزور نہیں کرسکا ان کے حوصلے بلند ہیں ان میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے جموں میں ہندو اکثریت ہے جس کی رائے ہندوستان کے حق میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ ہندستان اس کا فائدہ اٹھاتے ہوے اسے صوبہ بھی بنا سکتا ہے جس سے کشمیر عملاتقسیم ہو جاے گاگلگت بلتستان کی سو فیصد آبادی مسلمان بھی ہے اور پاکستان کے حق میں بھی ہے رائے شماری کی صورت میں پاکستان کے حق میں بڑی قوت ثابت ہو گی اس لیے کشمیر کی تقسیم کا کوئی بھی فیصلہ نہ پاکستان کے حق میں اچھا ہو گا اور نہ ہی کشمیریوں کے حق میں اس لیے اس سے اجتناب کیا جاے اور یاد رکھا جائے یہ قائد اعظم کی پالیسی سے انحراف ہو گا ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔ عسکری قیادت نے جس طرح کہا ہے کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے جو سیاسی قیادت نے کرنا ہے تو پھر سیاسی قیادت کا بڑا امتحان ہے۔قوم کی توقعات اور امیدوں کا پاس رکھا جاے اور تاریخ سے سبق لیا جائے کہ جب ملک پاکستان بنگلہ دیش جیسے بڑے سقوط سے دوچار ہوا تھا اقتدار کے لالچ اور بزدلی نے ہی ملک کو دو ٹکڑے کیا تھا۔ تقسیم کشمیر اس سے بھی بڑا سقوط ہو گا جس کی قیمت بھی بڑی ہو گی۔پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح جیسی قیادت تو دور کی بات ہے ان کے ویژن والی بھی نہیں ہے قائد اعظم کی زندگی میں موقع آیا تھا جب وہ چاہتے تو گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیتے لیکن انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی اور اس کا پاکستان سے الحاق ہی ہمارے مفاد میں ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان اور اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی خاموشی سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چائیے کہ پاکستانی قوم قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے خلاف ہے ایسے ہر اقدام کو مسترد کرے گی جس سے پاکستان کے مفاد اور برسوں پر مشتمل پاکستان کے قومی موقف کو نقصان پہنچے اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیاتو سمجھا جائے گا کہ کشمیر کے فیصلے کی خاطر ہی ایسی حکومت کو لایا گیا عمران خان کشمیریوں کے سفیر ہونے کا دعوی کرتے ہیں محض اچھی تقریوں سے نہیں ان کے اقدمات سے بھی یہ محسوس ہونا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کی مرضی، منشا اورقومی مفاد کا خیال رکھنے والے ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا۔ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کی خاموشی بھی تشویش ناک ہے فاروق حیدر جو ڈٹ جانے اور کھل کر بات کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں اس خبر کی بھی ترجمان کے ذریعے تردید کراتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا شہدا سے غداری ہو گی تقسیم کشمیر کسی صورت قبول نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے اُن کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے ورنہ اس میں تردید کی کیا بات تھی۔اقتدار کا نشہ اور شوق ایسا ہے کہ سیاستدان سب کچھ بھول بھی جاتے ہیں اور قومی موقف سے پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں اور بعض اوقات مصلحت کا شکار ہو کر خاموش بھی ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ہمارے لائق، قابل، باصلاحیت،تاریخ پر گہری نظر رکھنے اور قابلِ رشک خاندانی پس منظر، مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے والے صدرِ ریاست سردار مسعود خان بھی اس حوالے سے خاموش ہیں۔انکی خاموشی کو کیا سمجھا جائے۔کیا یہ بھی راضی ہو چکے ہیں؟ غازی ملت سردار محمد ابرہیم خان کی قربانی اور ویژن کو بھول چکے ہیں یا مصلحت کا شکار ہو گئے ہیں؟ بیرسٹر سلطان محمود جو کشمیر پر بیانات اور دنیا بھر میں اجتماعات کے حوالے سے مشہور ہیں وہ بھی کوئی موقف نہیں دے رہے آخر کیوں البتہ سردار عتیق، لطیف اکبر، ڈاکٹر خالد محمود،مولانا سعید یوسف اور حسن ابرہیم کھل کر اپنا موقف دے چکے ہیں اور یقینا یہی قومی موقف ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا کوئی بھی فیصلہ ریاستی وحدت، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی عمل ہو گا۔بہترین حل یہی ہے کہ اس خطے کے عوام کو آزاد کشمیر کے طرزکاحکومتی نظام دیا جائے تاکہ وہاں کے عوام کا احساسِ مرحومی دور ہو سکے اور ریاستی وحدت پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں شہدا کا خون اور سید علی گیلانی اور دیگر حریت قیادت جس نے اپنا سب کچھ لٹا دیا ہے ان سے غداری کرنے کا جو بھی سوچے گا ناکام بھی ہو گا، ذلیل بھی ہو گا یہی تاریخ کا سبق ہے اس لیے گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بنے گا مگر کشمیر کی مکمل آزادی کے بعد اس لیے سازشیں کرنے والے باز آجائیں ورنہ عوامی سیلاب میں بہہ جائیں گے اور مصلحت کے شکاربھی نہیں بچ پائیں گئے.

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری