پرل ویو 6سال کا ہو گیا

پرل ویو 6سال کا ہو گیا سردار شفقت ضیاء صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جسے ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس کی محتاج ہیں۔ دنیا بھر میں اس کی اہمیت کو مانا جاتا ہے، ہر بڑی تحریک میں اس کا نمایاں مقام رہا ہے۔تحریک پاکستان میں اس کا بڑ ا کردار ہے۔ جرات مندانہ صحافت نے مسلمانوں کو ایک تازہ ولولہ دیا اور مسلمان انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن قیام پاکستان کے بعدحالات واقعات سے جہاں دوسرے ادارے زوال کا شکار ہوئے وہاں صحافت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا۔ حکومتوں نے ہمیشہ اسے قبضہ میں رکھنے کی کوشش کی جبکہ مالکان پیسہ بنانے کے چکر میں پڑ گے۔ اس صورتحال میں زرد صحافت نے جنم لیا، نظریہ پاکستان کا خیال نہ رکھا گیا، ادارے بے لگام ہو گئے،صحافت مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے خود بے راہ روی کا شکار ہوئی، کشمیر جیسے اہم ایشو کو نظرانداز کیا گیا۔ بد قسمتی سے ایک طویل عرصے تک آزادکشمیر میں ریاستی اخبارات کا وجود ہی ممکن نہ بنایا جاسکا جسکی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے میں وہ کردار ادا نہ ہو سکا۔اسی طرح عوامی مسائل پر بھی اس طرح دلچسپی نہ لی گئی لیکن کچھ عرصہ قبل ریاستی اخبارات کا آغاز ہوا بے شمار مسائل اور کمزوریوں کے باوجود مثبت تبدیلی آئی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود اخبارات کی اہمیت کم نہ ہو سکی بالخصوص ریاستی اخبارات کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی اور ریاستی اخبارات میں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ریاستی اخبار ہونا چاہیے۔جس کے لیے اخبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ غازیوں شہیدوں کی سر زمین راولا کوٹ جو اپنی درخشاں تاریخ کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد، طلسمی اور قدرت کا شاہکار خطہ ہے،یہ خطہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے،پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ وادی دیکھ کر کسی انگریز نے اس کوپرل کا نام دیا تھا، پرل سے مراد چمکتا ہوا موتی ہے اور وادی پرل سے مراد چمکتے ہوئے موتیوں کی سرزمین ہے۔ یہ وادی جہاں حسنِ فطرت کا حسین شاہکارہے، وہاں اس وادی کے گونا گوں مسائل بھی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ گوئیں نالہ روڈ سے پہلے وادی پرل اسی طرح گوشہ ہائے گمنامی میں رہی جیسے کولمبس کے امریکہ پہنچنے سے پہلے امریکہ کے وجود سے دنیا آگاہ نہیں تھی، میرے دل میں برسوں سے یہ خواہش انگڑائی لے رہی تھی کہ یہ وادی جس قدر حسین اور پر کشش ہے اس کو ادبی، صحافتی اور ثقافتی دنیا میں میں بھی ایک منفرد مقام ملنا چاہیے، اسی سوچ کے پیش نظر 18 فروری 2015 سے ”روز نامہ پرل ویو“کی اشاعت شروع کی۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ”پرل ویو“ نہ صرف وادی پرل کی طرح خوبصورت اخبار ہو بلکہ یہ اخبار جموں کشمیر کی تمام حسین وادیوں کانمائندہ اخبار بھی ہو، ہم نے پرل ویو کی اشاعت کے 6سال مکمل کیے ہیں اس دوران ہم نے کوشش کی ہے کہ پرل ویو کو مکمل طور پر غیر جانبدار بنایا جائے اس کوشش میں ہم کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس پر اخبار پڑھنے والے زیادہ بہتر انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں اخبارات کے مالکان کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ انہیں اخبار کے اخراجات پورے کرنے کے لئے سرکاری اشتہارات کی ضرورت پڑتی ہے اورسرکاری اشتہارات کے لیے اکثر اخبارات کو حکومتی اداروں کے غلط کاموں کو بھی درست اور قابل تعریف بنا کر لکھنا پڑتا ہے لیکن پرل ویو کا وہی انداز اور مزاج ہے جو وادی پرل کے رہنے والوں کا ہے یعنی ہم وہی لکھتے ہیں جو سچ ہوتا ہے،جس کا ہمیں بڑا نقصان بھی ہوا ہے لیکن ہم استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں آزادکشمیر بھر میں سرکولیشن اور پونچھ میں سرکولیشن کے اعتبار سے سب سے بڑا اخبار جس کے قریب ترین بھی کوئی دوسرا اخبارنہ ہونے کے باوجود ماضی اور موجودہ حکومتیں ناانصافی کا مظاہرہ کر تی رہی ہیں اس کے باوجود ہم نے پرل ویو کو حکومت اور عوام کے درمیان پل بنا رکھا ہے، اس پل کے ایک طرف عوام ہیں اور پل کی دوسری طرف حکومت ہے ہم حکومت کی ساری خرابیاں اور اچھے کام عوام کو بتاتے ہیں اور عوام کے تمام مسائل پل کی دوسری طرف موجود حکمرا نوں تک پہنچاتے ہیں، ”پرل ویو“ریاست جموں کشمیر کی تمام وادیوں اور کوہستانوں کا بلا تخصیص ترجمان ہے اسی وجہ سے ”پرل ویو“ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ راولاکوٹ کا پہلا اخبار ہے جسے وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کی طرف سے باقاعدہ تصدیق شدہ اشاعت کا اعزاز حاصل ہے یعنی اے بی سی سرٹیفائیڈ(ABC Certified) ہے۔ اس اعتبار سے ”پرل ویو“ہر قسم کے سرکاری اشتہارات کے حصول کے لیے مجاز اور اتھارٹی اخبار ہے لیکن”پرل ویو“سرکاری اشتہا ر ات لینے کے لئے سرکار کی بے جا تعریف پر یقین نہیں رکھتا،یہی وجہ ہے کہ حکومتوں نے ہمیشہ اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ سابق حکومت کے دور میں اسے عدالتوں میں گھسیٹا گیا موجودہ حکومت بھی انصاف نہ کر سکی تا ہم حکومتو ں کے تمام حربوں کے با وجود اللہ کے فضل وکر م سے نہ بکے ہیں اورنہ جھکے ہیں۔”پرل ویو“ کو اپنی غیر جانبداری اور حق گوئی کی وجہ سے جو پذیرائی6 سالوں میں ملی ہے،وہ عام طور پر اخبارات کو بارہ سال کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی، الحمدللہ!6 سال میں آزادکشمیرمیڈیالسٹ پر ہی نہیں بلکہ سنٹرل میڈیا لسٹ (اسلا م آباد) میں بھی شامل ہو کر آزادکشمیر بھر کے چنداخباروں میں شامل ہے۔اورعوام کا مقبول ترین اخباربن چکا ہے ”پرل ویو“ کو جتنی شاندار کامیابیاں ملی ہیں ان کامیابیوں میں سٹاف،رپورٹرز،کالم نگاروں،اخبار فروشوں سمیت تمام قارئین کی محنت،دعا اور تعاون شامل ہے جنہوں نے ایک زبردست ٹیم ورک بن کر ”پرل ویو“کو شاندار کامیابیوں سے ہمکنار کر دیا ہے، ”پرل ویو“ نہ تو کسی کی پگڑی اچھال کر خبر بنانے پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی زرد صحافت اور بلیک میلنگ کے ذریعے خبریں روک کر کسی قسم کا کوئی مفاد حاصل کرنے پر یقین رکھتا ہے، ہماری ٹیم حقائق کی کھوج لگاتی ہے اورپوری طرح تحقیق کرتی ہے جو خبر سچائی کے معیار پر اترتی ہے وہی شائع کی جاتی ہے۔الحمداللہ اس حوالے سے کو ئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ ”پرل ویو“معاشرے کے تمام طبقات کا نمائندہ ہے اور سب سے بڑھ کر مظلوم اورستم زدہ افراد کی طاقت ور آواز اورتحریک آزادی کشمیر کا ترجمان ہے مقبو ضہ کشمیر،آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے درمیان بھی ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے ریاست جموں کشمیر کے تمام منقسم علاقوں کے حقیقی مسائل اجاگر کرتا ہے۔ہماری کوشش رہی ہے اور ہے کہ ہم وادی کشمیر کے ان مسائل کو زیر بحث لائیں جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پرتا ہے۔ ”پرل ویو“کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ساری ٹیم کی تربیت ٹریننگ ادارے نے کی ہے، کوئی بھی شخص کسی دوسرے ادارے سے نہیں لیابلکہ ہمارے تربیت یافتہ لوگ دوسرے اداروں میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ادارہ اپنے نمائندگان اور سٹاف کی تربیت کے لئے تربیتی ورکشاپس کا بھی خصوصی اہتمام کر تا ہے۔اسی طرح سکولوں، کالجوں کے باصلاحیت، ہونہار طلباء کے اعزاز میں تقاریب کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ’’پرل ویو“نے ابھی بہت سے مراحل طے کرنے ہیں، سب سے بڑا ٹارگٹ اس کو8 صفحات پر مشتمل مکمل اخبار بنانا تشنہ تکمیل ہے۔جوقارئین کے تعاون سے انشاء اللہ جلد یہ ہدف حاصل کر لیں گے۔آزادکشمیر بھر کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں سے بھی اشاعت کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ کاغذ کی بڑھتی ہو ئی قیمتیں اور مہنگائی کے باوجود ہم نے قیمت کا بوجھ قارئین پر نہیں ڈالا جس کی وجہ سے آج بھی ہمارے اخبار کی قیمت 10 روپے ہے چونکہ ہمارا مقصد کمائی نہیں ہے بلکہ مشن ہے۔ بلیک میلنگ، زرد صحافت کے بجائے حق و سچ کو عام آدمی تک پہنچانا ہے یہی وجہ ہے صاف ستھری، بے باک صحافت ہماری پہچان بن چکی ہے، امید ہے ماضی کی طرح قارئین کا آئندہ بھی تعاون رہے گا۔ اس حق اور سچ کے علم کومل کر بلند رکھنا ہو گا انشاء اللہ کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر بنے گی۔ اپنی خصوصی دعاؤں میں ضرور یا د رکھیے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری