آزادی جمہوریت اور انصاف

آزادی جمہوریت اور انصاف شفقت ضیاء آزادی بڑی نعمت ہے اس کی قدر وہی لوگ جانتے ہیں جو غلامی میں زندگی بسر کرتے ہیں 1947میں کشمیریوں نے اپنے زورِ بازو پر اللہ کی مدد سے آزادکشمیر کا خطہ آزاد کرایا منزل کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے لیے اسے بیس کیمپ کا درجہ دیا ابتدائی دور انتہائی مشکل تھا وسائل کی کمی اور بے شمار مسائل کے باوجود عزت و وقار کے ساتھ تمام مشکلات کا مقابلہ کیا کشمیر کی مکمل آزادی کا خواب تو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا لیکن کشمیریوں نے عزت اور وقار پر آنچ بھی نہ آنے دی۔عہدے منصب کو بے توقیر نہیں ہونے دیا۔غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، کے ایچ خوورشید، سردار عبدالقیوم خان جیسے بڑے لیڈرا ن کی موجودگی میں پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بہترین شناخت رہی لیکن بدقسمتی سے لیڈر شپ تیار کرنے کا کام نہ ہو سکا جس قوم کے پاس اچھی لیڈر شپ نہ ہو وہ ترقی اور بڑے مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتی یوں مقبوضہ کشمیر کی آزادی تو خواب ہی رہا آزاد کشمیر کی آزادی پر بھی سوالات پیدا ہونے لگے۔ یہ کیسی آزادی ہے جس میں ہماری سیاسی جماعتیں الیکشن میں اپنی مرضی سے امیدواران دے سکتی ہیں اورنہ منتخب ممبران اسمبلی اپنا قائد ایوان دے سکتے ہیں ٹکٹوں کے حصول کے لیے رائیونڈ، بنی گلہ، نوڈیرو کا طائف ہی نہیں پیسوں کے انبار اور گھنٹوں قطاروں میں ذلیل ہونا پڑتا ہے ہر 5سال بعد پھر کسی سرمایادار کو وزیرِ اعظم کا امیدوار بنا کر ٹارگٹ دے دیا جاتا ہے آخری وقت تک دیکھایا کچھ کیا کچھ جاتا ہے پارٹیاں بھی پاکستانی، فیصلے بھی وہاں سے ہوتے ہیں تو ہماری لیڈر شپ صرف ذلیل ہونے کے لیے کیوں ہے؟ کشمیریوں کی قیادت نے پاکستان بننے سے پہلے اپنی سمت کا تعین کر دیا تھا اور اپنے آپ کو پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی کہتے تھے لیکن کبھی کسی کو یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ ہمیں ذلیل کرے لیکن سیاست میں جب قیادت چھوٹے اور کمزور لوگوں کے پاس آتی ہے تو گھر اورہر جگہ ذلت آتی ہے۔پیسوں سے لوگ بڑے نہیں ہوتے کردار سے لوگ بڑے ہوتے ہیں جب پیسوں کی وجہ سے لوگوں کو بڑاسمجھا جانے لگتا ہے اور قیادت ان کے سپرد کر دی جاتی ہے تو گھاٹے کا سودا کیا جاتا ہے چونکہ جرات بے باکی اور غیرت کے لیے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ہماری قیادت وسائل کی کمی کے باوجود باوقار رہی ہے۔آزادکشمیر کے انتخابات میں جس طرح وسائل کا استعمال کیا گیا بلکہ تذلیل کے انداز میں نوٹ پھینکے گئے اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم کے انٹرویو لیے گئے آخر میں نیازی قبیلہ سمجھتے ہوئے تخلص نے کام دیکھایا یا ستاروں کے علم یا روحانی ہدایات پر عمل کیا گیا لیکن جو بھی ہوا جمہوریت کے ساتھ مذاق ضرور ہوا۔ موجودہ جمہوری نظام پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن اس کی جو تعریف کی جاتی ہے کہ عوام کی حکومت عوام کے لیے، عوام کے ذریعے اس میں لفظ عوام نکال لیا جائے تو عوام کے لیے کچھ نہیں بچتا بس یہی صورتِ حال ہے اس جمہوریت میں عوام کی۔سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹرشپ قائم ہو چکی ہے۔آمروں کے خلاف باتیں تو کی جاتی ہیں عملاََ سیاسی جماعتوں میں آمریت فاتح ہے۔انتخابات کا صاف شفاف نظام موجود نہیں سرمایا داروں کے ذریعے کاروبار کی طرح پارٹیاں چلائی جا رہی ہیں عوام کی رائے کا کوئی احترام نہیں کیا جاتا۔ جن لوگوں کو عوام چن کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں انہیں وزیرِ اعظم چننے کا اختیار حاصل نہیں۔پھر یہ کیسی آزادی اور جمہوریت ہے َ آزاد کشمیر میں جس طرح حکومت سازی کی گئی ا س کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آزادکشمیر میں برسرِ اقتدار آنے والی پی ٹی آئی قیادت سمیت کسی ایک آدمی نے کھل کر آواز تک بلند نہ کی بیرسٹر سلطان محمود پارٹی صدر اور 8سال سے جماعت کو منظم کرنے کے باوجود جس طرح مکھن سے بال نکالتے ہیں نکال باہر کیا گیا مجال ہے کسی کو اعتراض ہو کوئی ممبر سمبلی بولا ہو کہ اس کا اختیار صرف ہمارا ہے یہ کیسی قیادت اسمبلیوں میں جا پہنچی ہے کل اللہ نہ کرے ان سے کوئی اور بڑا فیصلہ کروا لیا جائے؟وزیرِ اعظم کوئی بھی بنتااختیار ممبران اسمبلی کا تھا جسے استعمال بھی انہیں کرنا چاہیے تھا ایسا نہ ہونا اور آواز بھی نہ آنا آزادی کی علامت ہے یا غلامی کی؟ پارٹی کے اندر گروپنگ تو تھی لیکن انصاف بھی کوئی چیز ہے۔ عمران خان تو کہتے تھے آزاد کشمیر کے فیصلے آزاد کشمیر میں ہوا کریں گے اُن باتوں کا کیا ہوا؟کچھ عرصہ قبل موجودہ سینئر وزیر تنویر الیاس نے کہا تھا کہ بیرسٹر سلطان محمود نا قابلِ اعتبار آدمی ہے اس نے کئی جماعتیں تبدیل ہی نہیں بلکہ خرید و فروخت بھی کی اور اب کہا کہ بیرسٹر سلطان نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا صدر بن جانا چائیے اُسے ہُوٹر کا ویسے بھی کافی شوق ہے اور صدر کے ساتھ یہ زیادہ ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر وہ اتنے ہی ناقابلِ اعتبار تھے تو پارٹی صدر کیوں بنایا گیاپارٹی کو بنانے اور مشکل وقت میں اس بات کا خیال کیوں نہ آیا؟ اب صدر کیوں بنایا جا رہا ہے، بیرسٹر سلطان محمود کو بھی آخر تجویز پسند آ گئی لیکن اس سے بہتر تو یہ تھاکہ جس خاموشی کے ساتھ وزیرِ اعظم کے فیصلے کو قبول کیا اسی پر اتفاق کرلیتے، تاکہ کم از کم چند ہمدردوں کے دلوں میں ہمدردی اور نا انصافی کا خیال تو باقی رہ سکے۔لیکن بعض اوقات مخالفین کا مشورہ بھی قبول کرنا مجبوری بن جاتی ہے،بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ بھی شاید اسیا ہی کچھ ہوا ہے یوں مخالفین کا راستہ بھی خالی کر دیا ہے ورنہ اتنے تجربہ کار آدمی کو باہر رکھنا پی ٹی آئی حکومت کے لیے مشکلات ضرور پیدا کر سکتا تھا۔اب بھی وقت ہے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت یہ فیصلہ کر ے کہ اپنے فیصلے خود کریں گے ورنہ پاکستان کی قیادت ہمیشہ کی طرح یہ کہنے کے باوجود کہ اب فیصلے آزادکشمیر میں ہوں گے باہر سے ہی آتے رہیں گے اور چاہتے نہ چاہتے قبول کرنا ہوں گے آزادی، عزت یا غلامی، ذلت میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہو گاآزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم عبدالقیوم خان نیازی کو بڑے منصب کی مبارک ہو۔واقعی اللہ جسے چاہتاہے اسے عزت دیتا ہے اور اللہ ہی بعض لوگوں کو عہدے دے کر ذلیل بھی کر لیتا ہے بڑی آزمائش ہے جس کے لیے محنت اور مسلسل اللہ کی مدد کا طلب گار رہنا چاہیے۔سردار عبدالقیوم نیازی نے سردار عبدالقیوم کے ساتھ کام کیا ہے یقینا بہت کچھ سیکھا ہو گا بڑے لیڈر سے حاصل کیے گئے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے مشکل حالات میں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ آپ اس عہدے کے اہل ہیں آپ اچھے انسان ہیں جس رب نے آپ کو اس منصب پر فائز کیا اب اُس کے حکم کے مطابق عدل و انصاف، غریب بے بس و لاچار عوام کی خدمت کے فرض کو ادا کرنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں جو وقت ملا ہے با اختیار رہ کر گزاریں پونچھ کے باسی ہونے کے ناطے اس کی محرومیوں کا خاص خیال رکھیں راولپنڈی سے راولاکوٹ تک ایکسپرس وے کو ترجیح اول میں بنوا لیں۔اس سے پونچھ ڈویژن کے عوام کو بہت فائدہ ہو گا۔سیاحت میں اضافہ ہو گا اور عوام کے مسائل کے حل میں بڑا اقدام ہو گا اللہ نے جو عزت دی ہے عوام کی خدمت سے اُس میں اضافہ کا موقع امیدہے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری