پی ڈی اے کی غضب کہانی

پی ڈی اے کی غضب کہانی شفقت ضیاء دنیا بھر میں ادارے جن مقاصد کے لیے بنائے جاتے ہیں وہ حکومتوں اور شخصیات کی تبدیلی کے باوجود اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تعمیراتی ادارے اور بلدیاتی ادارے عوام کے ٹیکسز کا استعمال اتنی خوبصورتی کے ساتھ کرتے ہیں کہ اُن ممالک میں مہینوں جوتی کو پالش کی ضرورت تک نہیں پڑھتی صفائی کا بہترین نظام اور تعمیر و ترقی کے سلیقے سے کیے گئے کاموں کو دیکھ کر کون کافر ہو سکتا ہے جو ٹیکس کی ادائیگی خوشی سے نہ کرے ا ن اداروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ کس پارٹی یا شخصیت کی حکومت ہے انہوں نے اپنے کام کو ہر طرح کی سیاست سے بالاتر ہو کر کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام کو اچھی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور یہ احساس رہتا ہے کہ ہمارے ٹیکسزسے یہ سارے کام ہو رہے ہیں ہمارے ملکوں میں ادارے شخصیات اور حکومتوں کے رحم پر ہوتے ہیں حکومتیں تبدیل ہوتے ہی ان اداروں کے ذمہ داران کو بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے اور من پسند لوگوں کو محض پارٹی وابستگی کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے۔اُس کی اہلیت،قابلیت اور صلاحیت کو نہیں دیکھا جاتا جس کی وجہ سے بعض اوقات ایسے لوگ ذمہ دار بن جاتے ہیں جنہوں نے کبھی اپنا گھر نہیں چلایا ہوتا جن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ تباہ ہو جاتا ہے چونکہ ایسے شخص نے گزشتہ حکومت کے دور میں بے روزگاری کا ٹی ہوتی ہے اور صرف پارٹی کے نعرے لگانے کی وجہ سے مالی حالات خاصے خراب ہو چکے ہوتے ہیں اس لیے پرانے قرض چکنے کے ساتھ آئیندہ پھر کب موقع ملتا ہے کی سوچ کے مطابق دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ لوگ جو کگلے ہوتے ہیں وہ کروڑوں کے مالک بن جاتے ہیں اور ادارے کئی سال پیچھے چلے جاتے ہیں بدقسمتی سے احتساب کے ادارے بھی موئثر نہیں وہ بھی حکومتوں کے ماتحت ہی ہوتے ہیں چونکہ اُن کو بھی نوکری پکی رکھنا ہوتی ہے باقی جائے سب کچھ جہنم میں یوں آج تک کوئی ایسا نظام نہیں بن سکا جس میں حقیقی احتساب ہو سکے۔سیاسی جماعتیں ہوں یا آمروں کے دورِ حکومت ہوں سارے ہی اس حمام میں ننگے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جمہوریت کی بات کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی نہ بلدیاتی انتخابات کراتی ہیں اور نہ ان اداروں کو مظبوط بنانے کے اقدامات کرتی ہیں عوام کی ہمدردی اور خیر خواہی کی باتیں تو خوب گلے پھاڑ پھاڑ کر کرتی ہیں لیکن عوام کے وسائل کو بے دردی سے لوٹتی اور لوٹاتی ہیں اداروں کو مظبوط بنانے کے لیے نہ سوچتی ہیں اور نہ عملی اقدامات کرتی ہیں جبکہ عوام کو ایسے مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے کہ ان کو ہوش ہی نہیں رہتا مہنگائی،بے روزگاری کے مارے عوام پیٹ سے زیادہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے جس کا نتیجہ ملک کی تباہی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ آزادکشمیر کا چھوٹا سے خطہ جو ضلع راولپنڈی جتنا ہے جس کے دس اضلاح ہیں ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور تمام محکمہ جس کی لمبی فہرست ہے اور پھر تین کمشنر بھی ہیں اور ان کے ساتھ دیگر افسران جبکہ ہر ادارے کا سربراہ اور پوری ٹیم موجود ہونے کے باوجود جس پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ ہو رہا ہے عوام کی حالت ہے کہ بدلنے کو نہیں۔ حکومتوں کی موج ظفر موج بھی ہمیشہ رہتی ہے لیکن سڑکوں کی خستہ حالی ہو یا گندگی کے ڈھیر اور بدبو سے پھیلنے والی بیماریاں،ختم ہونے کو نہیں آتی آخر کیوں؟اس لیے کہ عوام بیدار نہیں ادارے چند لوگوں کے روزگار اور لوٹ مار کے سوا کوئی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔وسائل کی کمی نہیں مگر وسائل غلط لوگوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باعث برباد ہوتے ہیں عوام کو شعور نہیں کہ ان کے وسائل پر عیاشیاں ہو رہی ہیں اور ذمہ دار ان شیر مادر سمجھ کر لوٹتے ہیں ایسے میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے جب تک اپنے حقوق کے لیے اُٹھتے نہیں ہیں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔حقیقی تبدیلی کے لیے قیادت درست ہاتھوں میں ہونا ضروری ہے خواہ وہ ملکی سطح پر ہو یا اداروں کے سربراہان ہوں وہ دیندار، باصلاحیت اور کام کو سمجھنے والے نہیں ہوں گے تو کام صحیح نہیں ہو سکے گا ایک وقت میں جب آزاد کشمیر کے 3اضلاع تھے کام اس سے بہتر ہوتا تھا جو آج دس اضلاع پر تقسیم ہونے کے باوجود نہیں ہو رہا۔اداروں کو سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے لیے بنانے سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھے ہیں آزادکشمیر کے بڑے شہروں میں میونسپل کارپورشن یا بلدیہ کے اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کے بجائے 1994 میں مسلم کانفرنس کے دور میں مزید ادارے کا اضافہ کر کے اُسی شہر کے نام ادارہ بنا کر اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ کیا گیا۔وادی پرل رولاکوٹ میں پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی جس نے پہلے سے بنی ہوئی پبلک ہاؤسنگ سکیم کو بھی اپنے انڈر لیا اور مزید بھی کچھ منصوبے شروع کیے لیکن ان 26سالوں میں تعمیر سے زیادہ بربادی کی گئی ہر حکومت نے اپنا چیئر مین لگایا اُس نے ایک طرف تو اپنے رشتہ داروں اور پارٹی ورکروں کو پلاٹوں کی صورت میں نوزا دوسری طرف نئی نئی نوکریاں تخلیق کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو ایڈجسٹ کیا جس سے ادارے پر بوجھ بڑھتا گیا اور ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بجائے تباہ ہو کر رہ گیا۔عوام کو فائدے کے بجائے نقصان ہوا اُن کے وسائل چند لوگوں کو نوازنے کا باعث بنے۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پرانی محکمہ شاہرات سے لی جانے والی ہاؤسنگ اسکیم کے باسیوں کے بنیادی مسائل بھی حل نہ ہو سکے۔پیسے بٹورنے کے لیے بڑے ایریا کو کمرشل بنا دیا گیا بڑے بڑے پلازے جن کے پاس اپنی پارکنگ ہے نہ کوئی جگہ خالی رکھی ہے سڑک پر پارکنگ ہوتی ہے کسی پلاننگ سے تعمیر ہو سکی نہ کسی خالی جگہ اور عوام کے مفادات کے مقامات کو چھوڑا گیا پی ڈی اے کے افسران مل کرسیاسی چیئر مینوں نے انت مچائے رکھی۔گزشتہ 12سال میں متعدد بار اقتدار کے ایوانوں تک تبائی کا نوٹس لینے ک،اور ذمہ داروں کا احتساب کا مطالبہ کیا لیکن کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی کیونکہ مال اوپر تک جاتا رہا ایسے میں اب امید ختم ہو چکی تھی ادارہ اب تنخواہوں کے لیے بھی مجبورتھا چونکہ وسائل کا درست استعمال نہ ہونے اور لوٹ مار کی وجہ سے ادارہ تباہ ہو گیا ہے ایک ماہ قبل لکھا تھا کہ آخری امید موجودہ حکومت سے ہے اب یا کبھی نہیں کی صورتحال پی ڈی اے کی ہو چکی ہے کوئی ایسا آدمی چیئر مین بنایا جائے جو بولڈ فیصلے کر سکے اور تباہ حل ادارے کو اُٹھا سکے جو بہت مشکل کام ہے ایسے میں چند دن قبل پی ڈی اے کا چیئر مین ارشد نیازی کو بنایا گیا جو ایک تجربہ کار اور دبنگ آدمی ہیں لیکن مجھے کوئی زیادہ امید نہیں تھی کہ کوئی بڑا اسٹیپ اُٹھائیں گے لیکن انہوں نے آتے ساتھ 30کے قریب غیر قانونی پلاٹ منسوخی کا اعلان کر کے ایک امید کی کرن روشن کر دی کہ اس ادارے کو تباہ کرنے والوں کا احتساب ہو سکے گا۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کروڑوں روپے کے پلاٹ لاکھوں میں غیر قانونی طور پر بانٹے گئے ہیں جس کا کیس احتساب بیورو کے حوالے کر رہے ہیں جو خوش آئند ہے لیکن یہ کام ادھورا ہے آغاز سے آج تک جس نے جو کچھ کیا سب کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔سپیشل آڈٹ کروایا جائے اور احتساب بیورو جس کا چیئر مین بھی راولاکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور دیندار آدمی ہیں ان کی موجودگی میں اس خطہ کے عوام کے وسائل کو لوٹنے والے بچ نہیں پانے چائیے البتہ کسی کے ساتھ نا انصافی بھی نہیں ہونی چاہیے۔اس میں اصل امتحان حکومت کا ہے بلخصوص وزیراعظم عبدالقیوم نیازی اور سنیر وزیر تنویر الیاس جن کا اسی ضلع سے تعلق ہے کہ احتساب حقیقی اور مستقل چیرمین لگایا جاے تاکہ ہمیشہ کے لیے یہ مسلہ حل ہو جاے یہ عہدے، عزت مقام اللہ کی دین ہوتی ہے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن سے اللہ بڑا کام لیتا ہے احتساب کے ساتھ گلشن شہدا ہاؤسنگ اسکیم جس پر عوام کے کروڑوں روپے طویل عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں وہ حکومت خصوصی وسائل دے کر تعمیر کرا کر اُن کے حوالے کرے تاکہ وہ اپنا گھر بناسکیں۔امید ہے اس غضب کہانی کے کردار بچ نہیں پائیں گے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری