راولاکوٹ میں سپورٹس کی بہار

راولاکوٹ میں سپورٹس کی بہار شفقت ضیاء راولاکوٹ کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہوا ہے۔اپریل سے اکتوبر تک سر سبز و شاداب وادی پرل میں آنے والا ایسے جنت نظیر کہنے پر مجبور ہوتے ہیں پہاڑوں میں گھیری ہوئی وادی حکومتوں کی عدم ترجہی کا ماتم کرنے کے باوجود سیاحوں کو باغ باغ کر دیتی ہے جو ایک بار آ تا ہے ہمیشہ کے لیے مناظر کو نقش کر دیتا ہے اور بار بار آنے کی خواہش سہولیات کے فقدان کے باوجودلے کر جاتا ہے۔ عید اور گرمیوں کی چھٹیوں میں تو سیاحوں کا سمندر آمڈ آتا ہے اور خوب لطف انداز ہو کر جاتے ہیں ایسے موسم میں جب گرمی آپنے جوبن پرہوتی ہے دن کے اوقات میں باہر نکلنا عذاب سے کم نہیں وادی پرل کا دن کا موسم نارمل اور رات ٹھنڈی کمبل کے بغیر گزارا نہ ہوتا،باہر سے آنے والے عیش عیش کر کے رہ جاتے ہیں۔ ایسے خوبصورت موسم میں کھیلوں کے مقابلے کھلا ڑیوں اور تماشائیوں کے لطف کو دو بالا کر دیتے ہیں۔ ایسے دور میں جب نوجوان نسل کمپیوٹر اورموبائل کی ہوکر رہ گئی ہے کھلی فضاء اور صحت مند سرگرمیوں سے دورہونے کی وجہ سے جسمانی و ذہنی امراض کا شکاری ہو رہی ہے صحت مند سرگرمیوں کا انعقاد کرنے والے قابل تحسین ہیں۔ گزشتہ دنوں میں سپورٹس کی سرگرمیاں راولاکوٹ کی موسمی بہار کے ساتھ سپورٹس بہار کا منظر پیش کرتی رہی ہیں۔ ہورنہ میرہ میں سردار زرین خان والی بال ٹورمنٹ کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان بھر کی ٹیموں نے حصہ لیا اور موسم سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ تماشائیوں کی بڑی تعداد نے بہترین موسم اور کھیلوں کے دلچسپ مقابلوں سے خوب لطف اُٹھایا۔اس کا انعقا د گلف ایمپائرکے ایم ڈی سردار شبیر خان اور اُن کے فرزند نوجوان ابھرتے ہوئے رہنما شازیب شبیر اور مقامی ٹیم نے کرایا۔گلف والوں نے راولاکوٹ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر کے اس شہر کی اُٹھان میں بہت بڑا اور نمایا ں کردار ادا کیاہے۔ ابھی تک ان کے مقابلے میں کوئی دوسرا رول ادا نہ کر پایا۔چونکہ لوگ زیادہ منافع کی خاطرراولپنڈی، اسلام آباد او بیرون ممالک وسائل لگا کر زیادہ منافع کمانا اہم سمجھتے ہیں لیکن انھوں نے مقامی جگہ پر وسائل لگا کر کم منافع کو ترجیحی دی جس پر مبارکباد کے مستحق ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی ہر کوئی قدر اور تعریف کرتا ہے۔ایسے میں انھوں نے والی بال کا اتنا بڑا پاکستان سطح کا ٹورنامنٹ کرا کر علاقے کو ترقی دینے میں مزید ایک قدم بڑھایا ہے جو قابل تحسین ہے۔سردار شبیر خان کے بڑے بھائی سردار زرین خان خود سپورٹس مین تھے، بھرپور زندگی گزار کر اس دنیا فانی سے ہمیشہ والی زندگی کی طرف کوچ کر گے۔گلف ایمپائر گروپ سے میرے ذاتی تعلقات سب سے زیادہ اسی شخصیت کے ساتھ تھے، بلکہ شازیب شبیر سے پہلی ملاقات بھی انھوں نے کرائی تھی اُن کے ساتھ تعلقات کی ایک وجہ میرے خالو نذیر حسین سے اُن کی دوستی بھی تھی اور راولاکوٹ اُن کی موجودگی کی وجہ سے ملاقاتیں بھی تھی، بھائیوں اور خاندان کو جوڑنے والے سمجھدار اور سلجھے اور اُجلے شخص کا اس دنیا سے چلا جانا ایک خلا ہے لیکن سردار شبیر خان کے فرزند شازیب شبیر اپنے اخلاق اچھی تعلیم و تربیت سلیقے اور سمجھداری سے درست سمیت میں آگے بڑھ رہے ہیں امید ہے یہ گروپ راولاکوٹ کی تعمیر و ترقی میں مزید کردار ادا کرے گا۔ کھیلوں کے مقابلے کرانے پر مبارکباد کے ساتھ اس تسلسل کو جاری رکھنے اور اتنے بڑے مقابلوں کے لیے راولاکوٹ شہر کا انتخاب کیا جائے تو زیادہ اچھا ہو گا۔ راولاکوٹ میں کھیلوں کا دوسرا بڑا میلہ پولیس کی طرف سے سپورٹس فسٹیول کا چک ائیرپورٹ کے مقام پر انعقاد ہے جس میں افتتاحی تقریب برگیڈئیر نصیر احمد عباسی، کمانڈنٹ سی ایم ایچ اور ڈی آئی جی پونچھ ڈویژن سردار راشد نعیم ایس ایس پی وحید گیلانی نے کی۔ جس میں مقامی خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی چیک ائیر پورٹ کے وسیع علاقے میں پھیلے میدان میں کھیلوں کے مقابلوں رسہ کشی،کرکٹ،والی بال اور مختلف سٹالز جس میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ عسکری ہتھیار وں کا سٹال توجہ کا مرکز رہا۔ ایک بھر پور پروگرام جس نے عوام کو خوب محظوظ کیا اور ایک عرصے کے بعد صحت مند سرگرمیوں دیکھنے کو ملی، پولیس کے حوالے سے ایک خاص رائے کو تبدیل کر کے دوستانہ ماحول پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس پر پولیس کے ذمہ داران اور فوج کا تعاون شامل رہا مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے دوریا ں ختم کرنے اور محبتوں کو بڑھانے کا کردار اداکیا ہے ایسے ایونٹ صحت مند ماحول اور باہمی تعلقات میں اضافہ کے ساتھ عوام کو تفریحی کے بہترین موقع فراہم کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے خواتین، بچے،جوان، بوڑھے ہر عمر اور طبقہ فکر کے لوگ کثیر تعداد میں پائے گے خواتین کی اکثریت با پردہ تھی۔خواتین پولیس بھی باوقار انداز میں شریک تھی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبریں درست نہیں تھی چند ویڈیوز جن میں ڈانس دیکھایا گیا ہے وہ انفرادی حیثیت رکھتا ہے اتنے بڑے پروگرام میں کوئی بڑا ایشو نہیں رہا،البتہ توجہ کی ضرورت ہے بالخصوص وردی میں چند لوگوں کا ڈانس کرنا پسندیدہ عمل نہیں کہا جاسکتا لیکن جس طرح اوچھالا گیا یہ بھی درست نہیں،ان لوگوں کی نیت پر شک تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بے جا سختیاں کرنے سے شاید وہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کر سکیں گے اور خود زیادہ تنقید کا باعث بنیں گے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمیں اس طرح کے پروگرامات میں اپنے مذہب اور روایات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں ہمارے دین نے تفریں کھیل کود کی اجازت دی ہوئی ہے،اسے سمھجنے کی ضرورت ہے، کھیل کود کو دیکھنے کی اجازت پردے کی حدود میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے اماۃالمومنین کو دی ہے، باقی کوئی کیا حیثیت رکھتا ہے بہرحال یہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے، جہاں خرابیاں آتی ہیں دو ر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن ہر ایک کو اپنی حد میں رہنا چاہیے بے جا تنقید سے بچنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کے دانشوروں کی باتوں کے بجائے خود بھی دیکھ لینا چاہیے اسی طرح آرمی اور پولیس کے میچ میں تھوڑی بہت تلخی کو جورنگ دیا گیاوہ بھی خدمت نہیں بد نیتی کا اظہار دیکھائی دیا۔کھیلوں کے مقابلوں میں ادارے نہیں ٹیموں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے الحمدواللہ معمولی تلخی کو بڑے حادثے سے بچانے کا بروقت اہتمام کیا گیا لیکن اُس کو برے طریقے سے پھیلایا گیا، جس کو بد قسمتی کہا جا سکتا ہے مجموعی طور پر پولیس سپورٹس فیسٹول بہت اچھا ایونٹ رہا ہے، جس میں رشہ کشی، کرکٹ، فٹ بال، والی بال،پیرا گلائیڈنگ، بیڈمنٹن کے دلچسپ مقابلے ہوئے، ان مقابلوں میں پاک آرمی، پولیس، پی ڈی ڈبلیوڈی، غازی ملت پریس کلب، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، انتظامیہ، تاجران، ایس سی او، پروفیسر صاحبان، وکلاء نے بھر پور شرکت کی۔ فائنل میں پولیس نے آرمی کو ہرا کر کرکٹ اپنے نام کیا، فٹ بال میں پی ڈبلیو ڈی نے پروفیسرز کو شکست دی، رسہ کشی میں آرمی نے پولیس کو شکست دی، بیڈ منٹں میں تاجران نے پروفیسرز کو ہرایا، والی بال ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے نام کیا۔ان دلچسپ مقابلوں نے اور ہر طرف سپورٹس کی گونج سے راولاکوٹ میں کھیلوں کی بہار کا سماء رہا، امید کی جا سکتی ہے ایسے سپورٹس ایونٹ آئندہ بھی جاری رہیں گے، ایسے وقت میں جب لوگ بالخصوص نوجوان موبائل اور بند کمروں کے ہو کر رہ گئے ہیں، صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت ہے، اسی صورت میں اچھے مستقبل کی امید کی جا سکتی ہے۔ صحت مند نسل کی تیاری کے لیے صحت مند سرگرمیاں جاری رہنی چاہیے۔ پولیس سپورٹس فیسٹول کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈنگ آفیسر شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ برگیڈئیر نصیر احمد عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نفسا نفسی کے اس دور میں محکمہ پولیس کی طر ف سے اس طرح کے فیسٹول کا انعقاد خوش آئند ہے، یہ ایک صحت مند سرگرمی ہے جس کے اچھے نتائج بر آمد ہوں گے، جب میدان آباد ہوتے ہیں تو ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں، اور اسی میں ہماری بہتری ہے کہ میدان زیادہ سے زیادہ آباد ہوں، انھوں نے کہا کہ پاکستان آرمی اس طرح کی سرگرمیوں کی ہمیشہ سپورٹس کرتی ہے جبکہ ڈی آئی جی پونچھ سردار راشد نعیم جن کا تعلق اسی وادی پرل سے ہے، خوبصورت با وقار، باکردار، لائق، ذہن اور ہر دل عزیزپولیس آفیسر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادکشمیر پولیس جاں فشانی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی، عوام کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہے گی، یہ فیسٹول پہلا ضرور ہے لیکن انشاء اللہ آخری نہیں ہو گااور آئندہ بھی ایسی سرگرمیوں کوجاری رکھا جائے گاجو کہ خوش آئند ہے، ایسی سرگرمیاں جاری رہنی چاہیے اس لیے جہاں صحت مند افراد ہوں گے وہاں کاروبار بھی بڑھے گا اور خوبصورت وادی پرل کے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے سیاحوں کی آمد مزید بڑھے گی امید ہے کہ عوام اور مختلف شعبہ جات کا تعاون بھی اسی طرح کی سرگرمیوں میں جاری رہے گا۔ پولیس سپورٹس فیسٹول کے فائنل میچز کے مہمانان خصوصی میں کشمیر پونچھ ڈویژن انصر یعقوب، ڈئی آئی جی پونچھ راشد نعیم معروف سرمایہ کار گلف ایمپائر کے ایم ڈی سردار شبیر خان، سردار شازیب شبیر اور عوام علاقہ نے بھر پور شرکت کی، یوں تین دن تک چک ائیر پورٹ کے علاقے میں پھیلی ہوئی رونقیں ختم ہو گئیں۔ راولاکوٹ میں پولیس سپورٹس فیسٹول کے ساتھ کھیلوں کا ایک اور بہت بڑ ایونٹ بین الصوبائی ہاکی ٹورنامنٹ بھی شروع ہوا، جو قدرے انتظامی نا اہلی کی وجہ سے ایک ہی دن میں شروع ہو ا، جس میں پنجاب، سندھ، خبیر پختونخوا، اسلام آباد، بلوچستان، اور آزادکشمیر کی دو ٹیموں نے حصہ لیا، آزادکشمیر کے واحد سپورٹس اسٹیڈیم راولاکوٹ میں ملک بھر سے آنے والے کھلاڑیوں کے مقابلوں سے شائقین ہاکی خوب اندوز ہوئے۔ وادیِ پرل کے سر سبز و شادات علاقے اور ٹھنڈے موسم کھیلوں کے شائقین کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔ کھیلوں سے دلچسپی لینے والے سندھ کے گر م ترین علاقوں سمیت پاکستان سے آنے والوں نے راولاکوٹ کو جنت قرار دیتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ حکومت اس علاقے کی تعمیر و ترقی بلخصوص سڑکوں پرتوجع دے تو قومی ہی نہیں بین الاقوامی مقابلے بھی اس علاقے میں ہو سکتے ہیں۔ اتنا آئیڈیل موسم اور علاقہ کے لوگوں کی کھیلوں سے دلچسپی دیدنی ہے، اس ایونٹ کے ابتدائی میچ کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر پونچھ سید ممتاز کاظمی تھے، جنھوں نے کھیلوں کے ان مقابلوں میں انتظامات میں بھر پور تعاون اور کردار ادا کیا۔ ہاکی جو پاکستان کا قومی کھیل ہے آزادکشمیر بالخصوص پونچھ کی ٹیم ہمیشہ اس کھیل کی بادشاہ رہی ہے، بہترین سٹیڈیم ہونے کے باوجود ایک عرصے سے کھیلوں کے مقابلے نہ ہو نا باعث افسوس ہے جس کی وجہ سے نئی نسل اس بہترین کھیل سے ناواقف ہوتی جا رہی ہے۔موجودہ نسل بند کمروں اور موبائل کی ہو کر رہ گئی ہے جس کو اگر صحت مند سرگرمیاں نہ دی گئی تو کمزور نسلیں تیار ہوں گی جو ملک اور قوم کے لیے کسی طور پرسود مند نہیں ہوں گی۔ کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں سے ہی ہسپتالوں کو ویران کیا جا سکتا ہے، آج ہمارے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور کھیلوں کے میدان کم بھی ہیں اور خالی بھی ہیں، حکومتوں، سپورٹس بورڈ،کھیلوں کی ایسوسی ایشنز سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ راولاکوٹ میں ہاکی کے ان مقابلوں نے ایک با ر پھر میدانوں کی طر ف رُخ کرنے کا راستہ کھولا ہے، امید ہے آئندہ مزید ایسے مقابلے ہوں گے، بین الصوبائی ان مقابلوں کے فائینل میں پنجاب نے اسلام آباد کو 3-2 کے مقابلے سے شکست دے کر فتح اپنے نام کی ہے، خیبر پختونخواہ کی ٹیم نے سندھ کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی، آزادکشمیر کی دو ٹیمیں تھی جن کی کارکردگی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ایک عرصے سے ہاکی کے مقابلے نہ ہونے بھی ہیں، راولاکوٹ میں ہونے والے ان مقابلوں کے فائنل میچ کے مہمان خصوصی سیکرٹری سپورٹس منصورقادر ڈار اور ان کے ساتھ ڈپٹی کمشنر پونچھ سید ممتاز کاظمی تھے، جنھوں نے ٹیموں کے کھلاڑیوں کو انعامات دیے اور ٹیموں میں ٹرافیاں تقسیم کیں۔اس موقع پر مہمان خصوصی منصور قادر ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ کا موسم اور بہترین سٹیڈیم پاکستان بھر کی ٹیموں کے لیے حاضر ہے، وہ اپنے کیمپ یہاں لگا سکتے ہیں اور ہم ان کی بھر پور معاونت کریں گے، انھوں نے کہا کہ ہاکی کے ساتھ راولاکوٹ میں فٹ بال کا بھی بہترین سٹیڈیم موجود ہے، راولاکوٹ کی خوبصورت وادیِ پرل اور اس کا موسم دنیا بھر میں نمایاں اور خوبصورت ہے اس لیے ٹیموں کو یہاں مقابلے کرانے چاہیے ہم بھی کھیلوں کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے اور سہولتیں دیں گے تا کہ میدان آباد ہوں اور ہسپتال ویران ہوں، محبتیں بھڑیں اور ملک بھر سے آنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکیں۔ راولاکوٹ میں ملک بھر سے آئی ہوئی ٹیموں کی رونق اس میچ کے اختتام کے ساتھ ختم ہو گئی لیکن کھیلوں کی اس بہار نے ایک اچھا ماحول بنا لیا ہے جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ ان کھیلوں کے مقابلوں کے دوران حکومتی توجہ کی ضرورت بھی محسوس ہوئی بلخصوص پانی کے مسائل، سٹیڈیم کے ارد گرد صفائی، نالیوں میں کھڑا پانی اور صفائی اور گھاس وغیر ہ کے لیے مزید توجہ درکا رہے۔؎ جس سے علاقہ کا تاثر مزید بہتر ہو گا اور باہر سے آنے والے مزید خوش ہو سکیں گے۔باہر سے آنے والوں کا زیادہ خیال یہی ہے کہ قدرتی حسن سے مالا مال اس علاقے کی تعمیرو ترقی پرتوجع دی جائے تو دنیا کی خوبصورت وادی ہے جو کھیل اور سیر دونوں کے لیے مثالی ہے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری