پی ڈی اے ملازمین کا احتجاج اور حکومت ٓٓٓٓ

پی ڈی اے ملازمین کا احتجاج اور حکومت ٓٓٓٓ آزادکشمیر حکومت نے 1994 میں راولاکوٹ کی تعمیرو ترقی اورخوبصورتی میں اضافے کے لیے پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا، 28 سال پہلے جس ادارے کو قائم کیا گیا،اس کے ملازمین 28 دن سے اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی جاب پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہو کرپنشن کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہ جوان بھی ہیں جن کی تعلیمی قابلیت، صلاحیت قابل فخر ہے جن سے کام لیا جاتا تو آج یہ ادارہ دیکھنے کے قابل ہوتا۔ اس ادارے نے راولاکوٹ کی تعمیر ترقی کے لیے کیا کیا اور کیا نہ کر سکا۔ یہ اس وقت موضوع نہیں ہے گزشتہ 12سال سے اس پر سب سے زیادہ لکھنے کا اعزاز خاکسار کو حاصل ہے درجنوں کالم اور سٹوریز ثبوت کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس ادارے نے وہ کارگرد گی نہیں دکھائی جو اسے دیکھانا چاہئے تھی۔ قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے باوجودیہ ادارہ اپنے پاوؑں پر کھڑا نہ ہو سکا۔ جزوی تکمیل شدہ ہاؤسنگ سکیم راولاکوٹ ہو یا ادارے کے قیام کے ساتھ اعلان کی گئی گلشن شہدا ہاؤسنگ سکیم، جس پر عوام کے کروڑوں روپے لگے ہوئے ہیں اس کی ناقص کارگردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہاؤسنگ سکیم کے پلاٹوں کی بندر بانٹ،پلازوں میں خرد برد،قیمتی پلاٹس میں تعمیر نہ ہوناجن سے ادارہ نہ صرف اپنے پاوٗں پر کھڑا ہو جاتابلکہ دینے کے قابل ہو جاتا اس کی ذمہ دار حکومتیں ہیں جو سیاسی چیئر مین لگاتی آئی ہیں جو اپنے دورانیے کو کمائی کا ذریعہ بناتے اور اپنے لوگوں کو ادارے میں بھرتی کراتے رہے، جس پر ادارے پر مالی بوجھ بڑھتاگیا۔ایک بھی کمرشل پلازہ بنایا جاتا تو آج ان حالات سے نہ گزرنا پڑتا۔ احتساب کا مطالبہ ہمیشہ ہوتا رہاہر آنے والا چیئرمین آتے ہی شور مچاتا رہا اور پھر اس کھیل کا حصہ بنتا رہا۔اس لیے کسی بھی حکومت نے سنجیدہ احتساب نہیں ہونے دیاکیوں کہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس میں چند ملازمیں بھی شامل ہوں گے جن کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب کا احتساب اور کام نہ ہونے کے اصل ذمہ دار کون ہیں یقینا سابقہ حکومتیں ہیں اور اب موجودہ حکومت بھی شامل ہو گئی ہے۔ ادارے کی ناقص کارکردگی کا جائزہ ضرور لیا جائے لیکن اس وقت جو ملازمیں احتجاج پر ہیں ان کے مطالبات کو پہلے پورا کیا جائے، کیا حکومت نام کی کوئی چیز ہے؟ ایک ماہ ہونے کو ہے پڑھے لکھے باعزت ملازمین سٹرکوں پر ہیں اور حکومت کو ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ کیا کسی معزز دنیا میں ایسا ہوتا ہے؟ پر امن احتجاج سے اس طرح صرف نظر کرناتباہ کن ہو سکتا ہے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے۔ ایک دن یا چند گھنٹوں کا احتجاج حکومت کے لیے کافی ہونا چائیے۔ مطالبات جائز اور قابل قبول ہوں تو منظور ورنہ احتجاج ختم کرواناحکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ ادارے کے ملازمین کے احتجاج کے باعث عوام کو کتنے مسائل سے دو چارہونا پڑھ رہاہے اس کا احساس بھی کسی کو ہے؟ اس ادارے میں قوم کے اربوں روپے لگے ہوئے ہیں اب مختلف بہانے بنا کر ادارے کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والے پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں۔ اس ادارے کو تباہ کرنے کی ذمہ دار تمام حکومتیں اور ان کے وہ چیئرمین ہیں جنہوں نے ادارے کو بنانے کے بجائے تباہ کیا، ملازمین جو حصہ رہے ان کو بھی ضرور رگڑا لگنا چاہئے، لیکن ملازمین کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اس ادارے کو اپنے پاوؑں پر کھڑا کرنے اور عوامی منصوبوں جن میں گلشن شہداہاؤسنگ سکیم سرفہرست ہے۔ فوری طور پر خصوصی گرانٹ کے ذریعے تعمیر کی جائے۔وزیر اعظم آزادکشمیر جن کا تعلق اسی ضلع سے ہے خود اس کا نوٹس لیتے ہوئے عملی اقدامات کرتے ہوئے ماضی کی حکومتوں کے برعکس آپنی نیک نامی کما سکتے ہیں۔ادارے قوم کے خون پسینے سے بنتے ہیں انھیں ختم کرنے کا نہیں سوچا جاتاانھیں مضبوط بنانے کا سوچنا چاہئے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔پی ڈی اے کے ملازمین بھی ہمارے بھائی ہیں ہندوستان سے نہیں آئے ہوئے ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جانا چاہئے۔ ان کے مطالبات میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پنشن جیسے بنیادی مسائل ہیں جو ان کا حق ہے جن کو اب ہمیشہ کے لیے حل کر لیناچاہئے۔ تاخیر کا مطلب عوامی مسائل میں اضافہ کے ساتھ اس ادارے کو مزید تبائی کی طرف دھکیلناہے،پہلے ہی بہت ظلم ہو چکا ہے اب مزید گنجائش نہیں بنتی ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو حل کرے۔ سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ کے ذمہ داران اور سول سوسائٹی کو بھی آپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔ محض احتجاجی کیمپ میں جا کر اظہار یکجہتی کی تصویر بنا دیناکافی نہیں ہے۔ یہ سب کا ادارہ ہے اس کا نقصان سب کا نقصان ہے، اس لئے ایک ماہ گزرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہواتوسب کو یک زبان ہوناہو گا۔ راولاکوٹ کے حلقوں سے منتخب ممبران اسمبلی کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔ سابق صدر و وزیراعظم حاجی یعقوب خان، حسن ابراہیم اور محترم شاہدہ صغیر کہاں ہیں؟ وہ نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے مسئلے کو حل کروانے میں اپنا کردار اداکریں، منتخب لوگ اگر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے تو30 سال گزرنے کے باوجود گلشن شہداء ہاؤنگ سکیم کیسے تعمیرنہ ہوتی یہ کیسی عوامی نمائندگی ہے کہ سیاسی لوگ چیئر مین تو لگ رہے ہیں لیکن عوامی مسائل حل نہیں کر رہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں کو ایڈجسٹ تو کراتی ہیں لیکن ان عوام کے مسائل کو حل نہیں کراتی جن کے ووٹ سے منتخب ہوتی ہیں راولاکوٹ شہر میں تعمیرات رولز کے مطابق نہیں ہو رہی ادارے فحال نہیں شہر کے بے شمارمسائل ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ نمائندگی جن لوگوں کے پاس ہے وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں ادا کر رہے۔حکومتیں اپنے لوگوں کو سیاسی ایڈجسٹمنٹ تو کرا تی ہیں عوام کے مسائل اور ادااروں کو بنانے کے بجائے برباد کرانے میں حصہ دار ہیں۔ بہت ہو چکا یہ سلسلہ بند کیا جائے گا۔ راولاکوٹ کے مسائل حل کیے جائیں ادروں کو فعال بنایایا جائے پانی کی بوند بوند پر لوگ ترس رہے ہیں شہر میں پلاننگ سے تعمیرات نہ ہونے کی وجہ سے مچھلی منڈی کا منظر بنا ہو ا ہے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر کوئی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔حکومت جس کو وزیراعظم کے کمرے تک پنچنے والے فرد کا پتہ نہیں چل رہا جہاں سکیورٹی کا سخت ترین انتظام ہوتا ہے چیونٹی تک بھی کیمروں اور گارڈز کی نظروں سے نہیں بچ سکتی، وہاں اس طرح کا واقعہ ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے عام آدمی کا کیا بنے گا۔ادارے تباہ ہو رہے ہیں ملازمیں احتجاج پر ہیں اگر اس خطہ میں کوئی حکومت نام کی چیز ہے تو فوری توجہ دے۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری