مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں

مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں شفقت ضیاء پاکستان میں ہر شخص مذہب اور سیاست پر فتویٰ دینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ جو شخص یا جماعت سیاست، حکومت اور ریاستی معاملات میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کی بات کرے تو اس پرمذہب کارڈکا لیبل لگایا جاتا ہے گو یا عبادات کریں تو کسی کو اعتراض نہیں لیکن اسلام کے سیاسی نظام کی بات کرنا جرم سمجھا جاتاہے حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے پاکستا ن کی تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اسی طرح جمہوریت بھی ان 72سالوں میں رکاوٹوں کا شکار رہی ہے، اس نظام کے خلاف تنقید کرنے والے اقتدار میں آ کر اسے بھول جاتے ہیں تنقید جمہوریت کا حسن ہے لیکن تنقید انا یا تعصب کی بھینٹ چڑھ جائے تو نفرت میں بدل جاتی ہے جو نہ شخصیت کے لیے اچھی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے لیے مفید ہوتی ہے اس کی بڑی وجہ دین سے دوری اورعدم برداشت ہے، انفرادی زندگی ہویا اجتماعی زندگی دین کی رہنمائی موجود ہے بس عمل کی نیت سے اس کو سمجھنے اور اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔ ایک انسان جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی دوسرے کیلئے پسند کرنی چاہیے اور جیسے اپنا حق سمجھتا ہے اس کا دوسرے کو بھی حق دینا چاہیے۔ پاکستان میں جو بھی حکمران آئے انتخابات میں دھاندلی کا رونا روتے رہے۔اور حکومت میں آتے ہی سابق حکومت کی طرف سے خزانہ خالی چھوڑ کر جانے کا ڈرامہ بھی جاری رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں ہمیشہ دھاندلی ہوتی رہی اور اس کی بار تو تمام ریکارڈتوڑ دیئے گئے لیکن سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی جو منتخب ہو جاتی ہیں ان کے لیے سب اچھا اور جو ہار جاتی ہیں یا ہارائی جاتی ہیں ان کا رونا جاری رہتا ہے۔ بد قسمتی سے اس نظام کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ کو ششیں نہیں کی جاتی جس سے دھاندلی کا راستہ روکا جا سکے۔ انتخابات کے صاف شفاف ہونے کے نقطے پر جب تک تمام سیاسی جماعتیں متفق ہو کر قانون سازی اور پہرہ نہیں دیتی سلسلہ ختم نہیں ہو سکے گا۔ اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک میں کرپشن کل بھی تھی اور آج بھی ہے اس میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے احتساب سلیکٹڈ اور انتقامی ہوتا ہے جب تک احتساب سب کے لیے بلا تفریق نہیں ہوتا اس کے نظام کو بھی تبدیل نہیں کر دیا جاتا یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا ہر آنے والا دوسرے پر نتقید کرتے ہوئے خودلوٹ مار کا حصہ بنتا جائے گا چونکہ کرپٹ ٹولے کی کوئی جماعت نہیں ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی میں اکثریت انہی لوگوں کی نطر آتی ہے جو ایک عرصے سے اقتدار والی پارٹیوں کے ساتھ چلے آرہے ہیں بلکہ زیادہ کرپٹ وہی لوگ ہوتے ہیں جو لوٹے ہوتے ہیں ان کی پارٹی کرپشن ہوتی ہے اس لیے احتساب کے نظام کو ایسا بنانے کی ضرورت ہے جو حکومتوں کے بدلنے سے نہ بدلے بلکہ ہمیشہ انصاف کے اصولوں پر چلتا رہے۔ جب انتخاب اور احتساب کا نظام بہتر ہو جائے گا تو آزادی مارچ اور دھرنوں کی بھی ضرورت نہیں رہے گا۔ احتجاج کرنا جمہوریت میں ہر ایک کا حق ہے لیکن یہ پر امن اور دوسروں کی تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہیے تاکہ اپنے حق کے لیے دوسرے کا حق نہ مارا جائے۔ ماضی میں جماعت اسلامی، طاہر القادری کا دھرنا ہو یا عمران خان کا طویل ترین دھرنا ہو اس سے حکومتیں تو نہیں گئی ہیں لیکن ملک کو ضرور نقصان پہنچا ہے۔ طاہر القادری نے سیاست سے اور جماعت اسلامی نے دھرنا سیاست سے تو بہ کر دی ہے البتہ پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا جس کی 30سیٹیں تھیں آج حکومت ہے تاہم تاریخ آپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے مولانا فضل الرحمن دھرنا دینے اسلام آباد آرہے ہیں۔ لیکن وہ جو کل دھرنے کے حق میں تھے اور سول نا فرمانی کی باتیں کر تے تھے آج اس کے خلاف برسر پیکار نظرآتے ہیں اپنے دھرنے کو حلال اور فضل الرحمن کے دھرنے کو حرام قرا ردے رہے ہیں آج جو ڈنڈے نظر آتے ہیں وہ اپنے ہاتھو ں میں اٹھائے ہوئے کیوں بھول گئے ہیں بلکہ طاہر القادری کے ساتھ آنے والی خواتین کے ہاتھوں میں بھی ڈنڈے تھے۔ یہ اتنی پرانی بات تو نہیں ہے جسے بھولا جاے،جیسا کرو گے ویسا بھگتنا پڑتا ہے۔ اب تو غلطی مان لینی چاہیے کہ ماضی میں ہم سے غلطی ہوئی ہے اس سے ملک اور قوم کا نقصان ہوتا ہے طویل دھرنوں سے دوسروں کا حق متاثر ہوتا ہے یہ کل بھی درست نہیں تھا اور آج بھی درست نہیں ہے بجائے غلطی کے اعتراف کے تاویلیں کرنا کسی بھی طو ر پر عقل مندی نہیں ہے اس لیے ماضی میں انتخابات میں دھاندلی پر آپ چند نشستوں کی بات کرتے تھے تو آج ساری سیاسی جماعتیں دھاندلی پر متفق ہیں۔آج دھاندلی سے بڑھ کر کشمیر، مہنگائی بے روزگاری جیسے اہم ایشو بھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کی حکومتوں اور کشمیر کمیٹی نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت کی طرف سے بھی ایک تقریر کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ماضی میں مقبوضہ کشمیر پر مودی نے قبضے کا اقدام بھی نہیں اٹھایا تھا اس لیے اس وقت کشمیرپر زیادہ جاندار پالیسی اور عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک عالم دین کو گالیاں دینا شروع کر دیں یا کردار کشی کی جائے اور جو کام ماضی میں خود کیا ہو آج اسی کام پرحب الوطنی پر شک اور غداری تک کے فتوے جاری کیے جائیں۔ تمام علماء اور سیاسی لیڈر شپ کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کی حب الوطنی پر فتوے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن ایک عالم دین،پاکستان کے منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ مفاہمتی سیاست اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کے نبض شناس ہیں۔ اسی لیے درست وقت پر کشمیر،غربت،بے روزگاری سمیت دیگر ایشو لے کر نکل رہے ہیں۔ حکومت کو گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے بجائے انہیں پر امن احتجاج کا حق دینا چاہیے عمران خان کے کہنے کے مطابق کنٹینر اور دیگر سہولتیں بھی دینی چاہیے۔ بلکہ وعدے کے مطابق اگر وہ اتنے لوگ اگھٹے کر لیتے ہیں تو اقتدار چھوڑ بھی دنیا چاہیے۔ مولانا کو اگر اجازت دے دی گئی تو عوام کا سمندر امڈ آسکتا ہے۔چونکہ عوام حکومت کی کاکردگی سے تنگ ہیں دھرنے کے کچھ فواہد مولانا کو ابھی ہی حاصل ہو چکے ہیں اور کچھ احتجاج سے ہو جائیں گے اگر زبردستی روکا گیا تو اس سے بھی زیادہ فوائد ہوں گے۔ رہا اقتدار تو اس کے حصول کے لیے عمران خان کی طرح دھرنے کے علاوہ اداروں کی حمایت بھی ضروری ہو گی اگر ملک کی تیسری قوت اقتدار میں آسکتی ہے تو چوتھی قوت فضل الرحمن بھی آسکتے ہیں لیکن اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے حکومتوں کو پورا وقت اور عوام کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے یہی جمہوریت کا تقاضا ہے تا ہم آزاد ی مارچ سے بچنے کے لیے عمران خان حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ کشمیر کے لیے جہاد کا اعلان کردیں۔ قوم اپنے نہتے کشمیری بھائیوں کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہے اور دنیا کی بہترین پاک فوج کے شانہ بشانہ آزادی کی جنگ لڑے گی اس سے عمران خان حکومت بھی بچ جائے اور تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ آپ کا نام بھی لکھا جائے گا اس لیے اس موقع کو غنیمت سمجھو ورنہ مولانا فضل الرحمن بھی وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔

متعلقہ کالم ، مضامین اور اداری