ولایتی حکومت کے دیسی ٹوٹکے

ولایتی حکومت کے دیسی ٹوٹکے حکومت کے ان فیصلوں کی طویل فہرست ہے جن میں ولایتی معاشروں کے برعکس خالص دیسی ٹوٹکے آزمائے گئے ہیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور صاحب نے الیکشن سے پہلے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 2018 تبدیلی کا سال ہے۔ ان کی بات درست ثابت ہوئی اور حسب منصوبہ تبدیلی کے نام پر ’’تبدیلی‘‘ مسلط کر دی گئی۔ عوام الناس میں بڑھتی ہوئی مایوسی کم کرنے کے لیے کوئی امید کا چورن بھی بیچنا تھا اور موجودہ کرپٹ نظام کو بچانے کے لیے زیادہ پرانے چہروں کی جگہ چند نئے چہرے لانا بھی نا گزیر ہو گیا تھا۔ اسی لیے ’’تبدیلی‘‘ کا جھانسا دے کر اسی کرپٹ نظام کو اگلے پانچ سال کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ شومئی قسمت کہ اس بار منصوبہ ساز کچھ زیادہ نا تجربہ کار لوگوں کا تجربہ کر بیٹھے اور ابھی چند ماہ ہی گزرے ہیں کہ عوام اس ’’تبدیلی‘‘ سے بے زار ہونے لگ گئے ہیں۔ خیر یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ’’تبدیلی‘‘ کامیاب ہوتی ہے یا ناکام، بہر حال دونوں صورتوں میں یہ ظالم نظام ضرور قائم رہے گا۔ جہاں تک بات ہے حکومت کی تو وہ الیکشن سے پہلے جن ولایتی معاشروں کے نظام حکومت کی مثالیں دے کر عوام کو ووٹ کے لیے قائل کر رہی تھی، ان میں سے ایک بھی مثال اپنے اوپر نافذ نہیں کر سکی۔ اگر تفصیل میں جائیں تو ایک طویل فہرست ہے اس حکومت کے ان فیصلوں کی جن میں ولایتی معاشروں کے برعکس خالص دیسی ٹوٹکے آزمائے گئے ہیں۔ شاید اسی لیے یہ حکومت ابھی تک ڈیلیور نہیں کر پائی؛ اور اگر یہی صورتحال رہی تو شاید آئندہ بھی کوئی خاص نتائج نہ نکلیں۔ سب سے پہلی مثال آپ کابینہ کی تشکیل کی ہی لے لیجیے۔ عمومی تاثر یہی تھا کہ عمران خان وفاقی اور صوبائی کابینہ روایتی سیاستدانوں کی بجائے ہر شعبے کے ماہر افراد پر بنائیں گے، مگر جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ چند ایک وزارتوں کے علاوہ تمام وزارتیں یا تو روایتی سیاستدانوں کو نوازی گئیں یا اپنے پارٹی عہدیداروں کو۔ سابقہ حکمرانوں نے اقتدار کی باریاں باندھنے کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی کیا، اور اس حکومت نے حلال ’’یوٹرن‘‘ متعارف کرایا۔ سابقہ حکمرانوں نے احتساب سے بچنے کے لیے مُک مکا چیئرمین نیب قمر زمان کی تعیناتی کی، اور اِنہوں نے اپنی حکومت بچانے کے لیے نیب زدہ شخص نام نہاد خادم اعلیٰ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنادیا۔ ن لیگ نے اگر رانا ثناءاللہ اور طلال چوہدری جیسے چرب زبان لوگوں کو وزارتوں سے نوازا، تو انہوں نے فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری کو وزارت اطلاعات سونپ دی۔ ن لیگ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اہم کردار توقیر شاہ کو سویٹزرلینڈ میں سفیر تعینات کیا تو انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث میجر ریٹائرڈ سلمان اعظم کو سیکرٹری داخلہ لگا دیا۔ موجودہ حکومت ابھی تک صرف بیان بازی سے کام لے رہی ہے، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پولیس ، ایف آئی اے اور دیگر ادارے اپنی من مانیاں کر رہے ہیں، ابھی تک کسی بھی محکمے کے اصلاحات کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، اور نہ ہی کوئی واضح روڈمیپ دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خان صاحب بھی پارلیمنٹ کو کبھی کبھار ہی عزت بخشتے ہیں، وزراء اور گورنر صاحبان کے پروٹوکولز بھی سابقہ حکمرانوں سے مختلف نہیں ہیں۔ اتحادیوں کو بھی ہر طرح سے نوازنے کی روش جوں کی توں برقرار ہے، بیورو کریسی بھی اپنی من مانی کر رہی ہے جس کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ ہونے والا تضحیک آمیز سلوک ہے۔ ہمارے حکمران باقی سارے معاملات میں مغرب کی پیروی کرتے ہیں مگر ان کا نظام حکومت اپنانے کو تیار نہیں۔ کیونکہ اُس نظام حکومت سے ان کا کاروبار بند ہو سکتا ہے اور عوام خوشحال ہو سکتی ہے، جو یہ اشرافیہ اور بدمعاشیہ ہرگز نہیں چاہے گی۔ اسی وجہ سے موجودہ حکمران جو اپنے ہر جلسے میں مغرب کی مثالیں دیا کرتے تھے، اب وہی پرانے سیاسی دیسی ٹوٹکوں سے نظام حکومت چلا رہے ہیں۔ یہ کبھی بھی اس دیسی ظالم نظام کو نہیں بدلیں گے، ورنہ ان کی اپنی دکانداری بند ہو جائے گی۔ آخر میں میر تقی میر کا ایک شعر خان صاحب کی نذر: میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں نوٹ:پرل ویو نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018