بھارت میں محصور پاکستانی خواتین کی واپسی کیلئے سماجی تنظیمیں میدان میں آگئیں

بھارت میں محصور پاکستانی خواتین کی واپسی کیلئے سماجی تنظیمیں میدان میں آگئیں سماجی رہنما انصاربرنی نے بھارت میں محصور خواتین کی وطن واپسی کے حوالے سے پاکستان اوربھارتی حکام کوخط لکھا ہے فوٹوفائل لاہور: بھارت میں محصور کشمیری خاتون کبریٰ سمیت دیگر پاکستانی خواتین کی وطن واپسی کے لیے سماجی تنظیمیں میدان میں آگئیں۔ ایکسپریس کی طرف سے بھارت میں محصورکشمیری خاتون کبریٰ سمیت دیگرپاکستانی خواتین کا معاملہ اٹھانے پرانسانی حقوق کی تنظیمیں حرکت میں آگئی ہیں۔ سماجی رہنما انصاربرنی نے ان خواتین کی وطن واپسی کے حوالے سے پاکستان اوربھارتی حکام کوخط لکھا ہے جس میں دونوں طرف کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے ان خواتین کی واپسی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ لندن سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انصاربرنی نے بتایا کہ انہوں نے بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج کوخط کے ذریعے کبریٰ سمیت دیگرپاکستانی اورکشمیری خواتین کی واپسی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا وہ جمعہ کو وطن واپس آرہے ہیں جس کے بعد وہ مظفرآبادجائیں گے اوروہاں کبریٰ سمیت دیگرخواتین کے خاندانوں سے ملیں گے۔ انصاربرنی نے یہ بھی بتایا کہ کبریٰ نے بھارت میں محصورخواتین کی جوتعدادبتائی ہے وہ بہت بڑی ہے، اس معاملے کو حکومتی سطح پراٹھانے کی ضرورت ہے، وہ انسانی ہمدردی کے تحت ان کی واپسی کے لئے اپنا کرداراداکریں گے۔ انصاربرنی کاکہنا تھا بھارت میں محصورکئی خواتین نے ان سے رابطہ کیا ہے اوراپنے حالات سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان معاملات کی تحقیقات کرے اورقوم کوبتایا جائے کہ بھار ت میں محصورپاکستانی اورکشمیری خواتین کی درست تعدادکتنی ہے۔ انہیں واپس پاکستان لانے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اوربھارتی حکومت کیوں ان خواتین کو واپس نہیں آنے دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018