کو رکمانڈرز کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

کو رکمانڈرز کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، امن کے ثمرات اب عوام تک پہنچنے چاہئیں، ملک دشمنوں کی سازشیں ناکام بنادیں گے، آرمی چیف راولپنڈی(نمائندہ پرل ویو) کور کمانڈرز نے ملک کی اندرونی سیکیورٹی صورتحال اور خطے میں امن کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بشمول افغان مصالحتی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت پیر کو 218ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں ہوئی جس میں داخلی سکیورٹی اور علاقائی امن سمیت اہم معاملات زیر غور آئے۔آئی ایس پی آرکے مطابق کانفرنس میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال اور داخلی سکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں علاقائی امن بالخصوص افغانستان میں مفاہمتی عمل پر پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا گیا۔اجلاس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر غور کیا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے معصوم کشمیریوں پر مظالم بھی زیر بحث آئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں سرحد پار سے کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں ورکنگ باؤنڈری اور مشرقی سرحدوں پر پاک فوج کی جوابی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لیے برسر پیکار کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اپنی سرحدوں کے تحفظ سمیت مربوط قومی ردعمل پر بھرپور توجہ ہے، ملک دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کے لیے حاصل کردہ کامیابیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ امن کی بہتر صورتحال کے ثمرات لوگوں تک پہنچیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ داخلی سکیورٹی کے ثمرات عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی کی شکل میں آنے چاہئیں ۔نجی ٹی وی کے مطابقآرمی چیف کا کہنا تھا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے آپریشن ردالفساد کے تحت آپریشنز جاری ہیں، ا اجلاس کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی اور معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی بات چیت ہوئی۔اجلاس کے شرکاء نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔۔ کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سیکیورٹی فورسز کا کام ہے۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018