کشمیر کی آزادی: صرف دن منانا ہی کافی نہیں

کشمیر کی آزادی: صرف دن منانا ہی کافی نہیں ہم یوم یکجہتی کشمیر تو مناتے ہیں مگر پاکستانی حکومتوں کی جانب سے عالمی فورم پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ ہر سال 5 فروی کو کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کےلیے دنیا بھر سمیت پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور قریہ قریہ گلی گلی مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں جن میں مقررین مقبوضہ کشمیر کے ان مظلوموں کی داستانیں سنا کر محفل لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن کے ساتھ بھارتی مظالم کا سلسلہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہوچکا ہے؛ اور آج تک یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اسی طرح نعرے لگانے والے بھی ان تقریبات میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان، کشمیر ہمارا ٹوٹ انگ ہے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے‘‘ کے نعرے بلند کر تے نظر آتے ہیں مگر شاید کسی کو اس بات کا علم نہیں کہ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے اس دن کا آغاز کب، کیسے اور کیوں ہوا؟ اس دن کا آغاز 1990 میں 5 فروری کے روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد (مرحوم) کی کاوشوں سے شروع ہوا اور حکومت نے بھی ان کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے عام تعطیل کا اعلان کردیا۔ اس طرح 1990 سے ہی یوم یکجہتی کشمیر کو جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے کشمیری سیاسی، سماجی، مذہبی تنظیمیں جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کرتی ہیں۔ اب جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کا تعلق ہے، تو یہ برصغیر کی ایک اہم ریاست تھی۔ اس ریاست کو انگریزوں نے 1846 میں معاہدہ امرتسر کی رو سے 75 لاکھ روپے میں گلاب سنگھ ڈوگرہ کے کے ہاتھ فروخت کردیا۔ اس کا رقبہ 84741 مربع میل تھا۔ یہ ہندوستان کی اہم ترین ریاست تھی جس کی سرحدیں ہندوستان کے علاوہ چین، روس اور افغانستان سے ملتی تھیں۔ اس طرح اسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوئی۔ 1941 کی مردم شماری کے مطابق اس کی کل آبادی 40 لاکھ تھی۔ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی 96 فیصد تھی۔ کشمیر کی پاکستان میں شمولیت کی بہت زیادہ وجوہ تھیں۔ سب سے بڑھ کر مذہب؛ دونوں علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، دونوں علاقوں کے رسم و رواج ایک جیسے تھے اور کشمیر کی طویل سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔ کشمیر اور پاکستان میں معاشی و اقتصادی تعلقات بھی تھے اور ہیں۔ دریاؤں کا بہاؤ بھی اس کی واضح دلیل ہے۔ پاکستان میں بہنے والے دریا جو پنجاب کو سیراب کرتے ہیں، سب کشمیر سے نکلتے ہیں۔ اہم راستوں کی بنا پر بھی کشمیر پاکستان کے قریب تر ہے۔ کشمیر پاکستان کےلیے دفاعی حیثیت کا بھی حامل ہے۔ چوہدری رحمت علی نے حرف ’’ک‘‘ سے کشمیر کی پاکستان میں نمائندگی ظاہر کی اور پاکستان بننے پر کشمیریوں نے بھی یوم پاکستان بھرپور طریقے سے منایا جو کشمیری عوام کا ریفرنڈم ہے۔ انگریزوں اور ہندوؤں کو پاکستان ہر گز نہ بھاتا۔ وہ پاکستان کو ترقی کرتا نہ دیکھ سکتے اور وہ کشمیر کو پاکستان سے الگ رکھ کر پاکستان اور کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اسی لیے ہندوؤں نے کوئی بھی موقع ضائع کیے بغیر اپنی سازشیں جاری رکھیں اور انگریز ان کا ساتھ دیتے رہے۔ بالآخر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف سے مل کر پاکستان کے کچھ علاقے کاٹ کر ہندوستان کو تحفے کے طور پر دے دیئے جن میں گورداسپور بھی شامل تھا (جو جموں تک جانے کا راستہ فراہم کرتا ہے)۔ کشمیری عوام نے ہمیشہ سے ہندوؤں اور انگریزوں کی مخالفت کی اور ان کے خلاف سرعام بغاوت کرتے رہے۔ ہندوؤں نے سکھوں کو استعمال کرکے پٹیالہ کپور تھلہ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے غنڈوں کی مدد سے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا اور پانچ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ اسی طرح کے متعدد ظلم و ستم کشمیر پر ڈھائے جاتے رہے جو آج تک جاری ہیں۔ ہندوستان نے کشمیر کا جعلی الحاق کرکے اپنی فوجیں بھی باقاعدہ طور پر کشمیر میں اتار دیں، قتل و غارت شروع کردی اور کشمیریوں کی آوازوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ جب مجاہدین نے اپنی کارروائیاں شروع کیں اور کشمیر میں آزادی کو ممکن بنادیا تب بھارت روتا ہوا اقوام متحدہ کے پاس جا پہنچا اور اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا حکم دے دیا اور کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے زیرنگرانی استصواب رائے کا انتظام کیا جائے گا؛ اور جنگ بندی کی لائن کھینچ دی گئی۔ تب تک 37 فیصد کشمیر کو پاکستان واپس حاصل کرچکا تھا، جسے ’’آزاد کشمیر‘‘ کا نام دیا گیا۔ 1950 سے 1953 تک اقوام متحدہ نے کوششیں جاری رکھیں مگر بھارت کی مکاری اور چالاکیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ استصواب رائے نہ کروا سکا۔ بھارت نے متعدد بار نام نہاد الیکشن کروا کر نام نہاد حکومتیں بنائیں مگر کشمیری عوام نے کبھی انہیں تسلیم نہیں کیا۔ تب سے لے کر اب تک بھارت ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، یا پھر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے۔ آج تک بھارت کی مکاری نمایاں ہے اور بے چارے کشمیری دربدر اپنے حق کی خاطر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اپنا حق مانگنا اچھی بات ہے اور کشمیریوں میں اپنا حق حاصل کرنے کا ولولہ ہے۔ بھارت چاہے اپنی ساری فوجیں بھی کشمیر میں اتار دے تو بھی وہ کشمیریوں کی آواز کو کچل نہیں سکتا۔ تقسیم ہند کے بعد ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کی اکثریتی آبادی یعنی مسلمانوں کی مرضی کے خلاف 26 اکتوبر 1947 کو بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کا اعلان کردیا جس کے نتیجے میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ ہوئی؛ اور 1949 میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر جنگ بندی تو ہوگئی تھی مگر مقبوضہ کشمیر میں اس وقت سے لے کر آج تک بھارتی افواج کی جانب سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس ریاستی جبر و دہشت گردی کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں ماؤں کی گودیں، بہنوں کے سہاگ اجڑ چکے ہیں جبکہ کشمیر کی اس جنگ میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ہم ہر سال پابندی سے 5 فروری کو مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے یوم یکجہتی کشمیر تو مناتے ہیں مگر پاکستان میں بننے والی حکومتوں کی جانب سے عالمی فورم پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جاتی، جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری آج بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اور حکومت مل جل کر عالمی فورم پر کچھ اس طرح آواز بلند کریں کہ مسئلہ کشمیر حل ہوسکے، ورنہ بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا اور نہتے کشمیری اپنے شہیدوں کو قومی پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہوئے پاکستان سے محبت کا ثبوت دیتے رہیں گے۔ پاکستان کی حکومت کو پاکستان کی محبت کا قرض دینے والے مظلوم کشمیریوں کےلیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ اس کا حل صرف یوم یکجہتی کشمیر منانا یا ہر سال اس موقع پر ہونے والی تقریبات میں دھواں دار تقریریں اور نعرے ہر گز نہیں۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018