آزاد کشمیر کا 1 کھرب 39 ارب 50 کروڑ روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش

مظفرآباد (پی آئی ڈی)18جون2020 پاکستان مسلم لیگ ن آزادجموں وکشمیر کی حکومت نے مالی سال2020-21کےلئے 1کھرب39ارب50کروڑروپے حجم کا عوام دوست تاریخی ٹیکس فری بجٹ اور نظر ثانی میزانیہ 2019-20ایک کھرب،18ارب 70کروڑ روپے جمعرات کے روز آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں منظوری کےلئے پیش کر دیا ۔ بجٹ میں ایک کھرب 15ارب غیر ترقیاتی میزانیہ جبکہ24ارب50کروڑ ترقیاتی اخراجات کےلئے تجویز کیے گئے ہیں ۔سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر خزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے ایوان میں تخمینہ میزانیہ2020-21پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم کی ہدایت پر آئندہ مالی سال کےلئے کفایت شعاری کے ساتھ مالیاتی ڈسپلن اور آزاد خطہ کی تعمیر وترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بہترین بجٹ تیار کیا ہے ۔ کرونا کےلئے70کروڑ مختص کرنے کے علاوہ محکمہ صحت کے فرنٹ لائن ورکرز کی حوصلہ افزائی کےلئے ایک ماہ کی تنخواہ بطور اعزازئیہ منظوری شامل ہیں جبکہ بہت سے شعبہ جات جن میں ہائیڈرووصحت سے متعلقہ ضروری سامان کےلئے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سماجی منصوبہ جات کےلئے9فیصد، پیداواری منصوبہ جات کےلئے19فیصد اور انفراسٹرکچر کےلئے72فیصد مالی وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے آئندہ مالی سال کےلئے بھی ترقیاتی اخراجات کےلئے ساڑھے چوبیس ارب روپے فراہم کیے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کےلئے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 1کھرب15ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ آمدن کا تخمینہ 1کھرب13ارب 50کروڑ روپے لگایا گیا ہے جس میں کیپیٹلexpenditureکےلئے ڈیڑھ ارب روپے کا تخمینہ بھی شامل ہے ۔ آئندہ مالی سال کےلئے وصولیوں کے تخمینہ کے متعلق وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس ریونیو سے 28ارب50کروڑ،لاءاینڈ آرڈر سے9کروڑ،لینڈ ریکارڈ اور بندوبست سے 7کروڑ60لاکھ، سٹیمپس32کروڑ،اے جے کے ٹرانسپورٹ اتھارٹی5کروڑ80لاکھ،برقیات16ارب 90کروڑ،متفرق60کروڑ، انڈسٹریز4کروڑ،داخلہ( پولیس) 23کروڑ،جیل خانہ جات5لاکھ،کمیونیکیشن اینڈ ورکس38کروڑ60لاکھ،تعلیم17کروڑ50لاکھ، صحت عامہ 15کروڑ،مذہبی امور4کروڑ60لاکھ،سماجی بہبود15لاکھ، خوراک25کروڑ50لاکھ، زراعت1کروڑ،جنگلی حیات و فشریز3کروڑ،امور حیوانات3کروڑ50لاکھ،جنگلات40کروڑ، لیبر70لاکھ، ابریشم 40لاکھ،سرکاری پرنٹنگ پریس4کروڑ 10لاکھ،آرمڈ سروسز بورڈ1کروڑ50لاکھ، گرانٹس70ارب، واٹریوزچارجز67کروڑ، معدنیات1کروڑ، سیاحت2کروڑ،قرضہ جات و پیشگی54کروڑ،ایڈجسٹمنٹ آف اوورڈرافٹ4ارب61کروڑلگایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں متوقع اخراجات کا تخمینہ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن( انتظامیہ)5ارب7کروڑ30لاکھ،بورڈ آف ریونیو1ارب2کروڑ40لاکھ،سٹیمپس2کروڑ23لاکھ،لینڈریکارڈاینڈ بندوبست3کروڑ37لاکھ، ریلیف و بحالی1ارب5کروڑ31لاکھ ، پنشن22ارب، محکمہ تعلقات عامہ 17کروڑ، عدلیہ1ارب78کروڑ، داخلہ6ارب56کروڑ، جیل خانہ جات20کروڑ73لاکھ، شہری دفاع22کروڑ90لاکھ ، آرمڈ سروسز بورڈ8کروڑ12لاکھ ، کمیونیکیشن اینڈ ورکس3ارب86کروڑ90لاکھ ، تعلیم28ارب88کروڑ، صحت عامہ 10ارب27کروڑ20لاکھ،کھیل امور نوجواناں، ثقافت وٹرانسپورٹ9کروڑ66لاکھ، مذہبی امور13کروڑ18لاکھ، سماجی بہبود و امور خواتین53کروڑ28لاکھ ، زراعت80کروڑ50لاکھ، امور حیوانات73کروڑ43لاکھ، خوراک26کروڑ78لاکھ ، ریاستی تجارت2ارب2کروڑ70لاکھ، جنگلات1ارب18کروڑ48لاکھ، کوآپریٹیو2کروڑ82لاکھ، برقیات8ارب76کروڑ25لاکھ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی 62کروڑ70لاکھ، انڈسٹریزلیبر اینڈ معدنیات15کروڑ68لاکھ، پرنٹنگ پریس7کروڑ50لاکھ، ابریشم10کروڑ19لاکھ،سیاحت جنگلی حیات و فشریز18کروڑ94لاکھ ،متفرق( گرانٹس)16ارب52کروڑ45لاکھ،کیپیٹل ایکسپنیچرcapital expenditureایک ارب50کروڑ شامل ہیں ۔ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ مالی سال2020-21میں24ارب 50کروڑترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہونگے جن میں محکمہ زراعت و لائیو سٹاک38کروڑ20لاکھ ، شہری دفاع9کروڑ50لاکھ، ترقیاتی ادارے24کروڑ50لاکھ، تعلیم 2ارب57کروڑ85لاکھ10ہزار،ماحولیات7کروڑ،بیرونی امداد ی منصوبہ جات1ارب12کروڑ14لاکھ 90ہزار، جنگلات فشریز و جنگلی حیات40کروڑ،صحت عامہ1ارب،صنعت و معدنیات52کروڑ80لاکھ، ٹرانسپورٹ2کروڑ، انفارمیشن اینڈ میڈیا ڈویلپمنٹ3کروڑ70لاکھ، انفارمیشن ٹیکنالوجی23کروڑ50لاکھ، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی2ارب79کروڑ50لاکھ، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاﺅسنگ2ارب15کروڑ50لاکھ،پن بجلی ایک ارب70کروڑ، تحقیق و ترقی26کروڑ80لاکھ، بحالی آبادکاری10کروڑ،سماجی بہبودوترقی نسواں15کروڑ، سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر22کروڑ،سیاحت 20کروڑ، شعبہ مواصلات کےلئے10ارب20کروڑروپے کیے گئے ہیں ۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018