سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد، عالمی عدالت سے رجوع کا فیصلہ ، اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

مظفرآباد (پرل نیوز) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان سول سروسز کا حصہ بننے والے نوجوان عہد کر لیں کہ انہوں نے بیورو کریٹ بننے کے بعد ملک و قوم کی بے لوث خدمت کرنی ہے۔ کرپشن اور بددیانتی سے دامن بچائیں گے۔ لفظ سروس کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ ریاست اور اس کے عوام سے عہد کرتے ہیں کہ آپ کے ہر اقدام کا مقصد ملک و قوم کی بہتری ، ترقی اور خوشحالی ہو گا۔ کسی بھی ریاست کے سول سرونٹس کا فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو پینے کا صاف پانی، بجلی، صحت، تعلیم اور مواصلات کی سہولیات فراہم کریں اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں۔ فارن سروس کے لوگ جب بیرون ملک خدمات انجام دیتے ہیں تو وہ ان ملکوں کیلئے پاکستان کا عکس ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی پاکستان نہیں آئے وہ آپ کو پاکستان کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ آپ اچھے ہوں گے تو وہ پاکستان کو اچھا ملک سمجھیں گے۔ اس وقت پاکستان ترقی و خوشحالی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان ابھرتی مارکیٹ بن رہا ہے۔ سی پیک اس تبدیلی کا بڑا محرک ثابت ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بدامنی کی وجہ سے ترقی کے بہت مواقع ضائع ہوئے ہیں۔ لیکن آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد پاکستان سرمایہ کاری کیلئے موزوں ملک بن گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں صدارتی سیکرٹریٹ میں پاکستان سول سروسز اکیڈمی لاہور میں زیر تربیت افسران کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل معروف افضل، چیف انسٹرکٹر محمد عاصم اور سول سروس کے 12 گروپوں کے افسران موجود تھے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان میں مڈل کلاس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روشن مستقبل آپ کا منتظر ہے۔ آپ جہاں بھی ہوں پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ آج کل یہ رِیت عام ہے کہ آپ ملک و قوم کے ہر پہلو کو منفی انداز میں دیکھیں اور تنقید کریں۔ اس میں لوگ وقتی طور پر واہ واہ ضرور کرتے ہیں لیکن آپ کی شخصیت منفی سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کشمیر اور پاکستان کے لازوال تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کا جزولانیفک ہے۔ جموں و کشمیر جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ زمینی حقائق اور معروضی حالات نے اس قول کی حقانیت پر آج مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اہل پاکستان کسی صورت اپنے اس حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان نے پاکستان کو دشمن سے 14 سو کلومیٹر مضبوط حصار فراہم کر رکھا ہے۔ پاکستان کو سیراب کرنے والے تمام دریاؤں کا پانی کشمیر سے آتا ہے۔ اب سی پیک کی صورت میں پاکستان کی اقتصادی شہہ رگ بھی گلگت بلتستان سے گزرے گی۔ اس لیے یہ دشمن کے شکنجے میں کیسے رہ سکتی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا بھارت عالمی سطح پر حقائق مسخ کر کے بیان کرتا ہے۔ کشمیر ہر گز دو طرفہ مسلۂ نہیں یہ سہہ فریقی مسلۂ ہے جس میں کلیدی فریق کشمیری عوام ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی پرُامن اور سیاسی ہے۔ ہندوستان کشمیر پر پاکستان کو تنہا کرنے کا بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر ایک بااثر اور مضبوط ملک ہے۔ چین ہمارا ہمسائیہ اور قابل بھروسہ دوست ہے۔ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ 56 اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی میں پاکستان کا کردار قائدانہ ہے۔ ای سی او کی حالیہ سربراہی کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے مذموم عزائم یں کامیاب نہیں ہو سکا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کو مقامی لوگوں نے جنگ لڑ کر آزاد کروایا۔ یہاں شرح خواندگی پاکستان سے زیادہ اور امن و امان مثالی ہے۔ آزاد کشمیر کی نئی حکومت نے اپنی تین ترجیحات کا تعین کر لیا ہے۔ جن میں تحریک آزادی کشمیر کو تیز کرنا، گڈ گورننس اور تعمیر و ترقی، گڈگورننس کے سلسلے میں کرپشن کے خاتمے اور قانون کی بالادستی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تعمیر و ترقی میں ہمارے 8 اہداف ہیں۔ توانائی میں خودکفالت، اس سلسلے میں ہم 1500 میگاواٹ سے زیادہ بجلی اس وقت پیدا کر رہے ہیں۔ تقریباً 8 ہزار میگا واٹ کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ہماری ضرورت صرف 400 میگا واٹ ہے۔ باقی بجلی ہم پاکستان کے قومی گرڈ کو فراہم کریں گے۔ تعلیم کے میدان میں ہمارے ہاں یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجز اور دیگر ادارے موجود ہیں۔ تاہم ہماری تمام تر توجہ میعار کی بہتری پر مرکوز ہے۔ صحت کی سہولیات کی فراہمی، سیر و سیاحت کے شعبے کی ترقی، صنعتکاری، ٹیلی کمیونیکیشن، شاہرات اور معدنیات و کان کنی کی ترقی کیلئے بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آزاد کشمیر کو سی پیک کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ توانائی، شاہرات اور صنعتی زون کا منصوبہ سی پیک میں شامل ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018