استعفوں پر اختلاف، لانگ مارچ ملتوی : پی ڈی ایم اجلاس بے نتیجہ ختم، پیپلز پارٹی استعفے دینے پر تیار نہ ہوئی، مولانا فضل الرحمٰن انتہائی مختصر پریس کانفرنس کرکے رخصت، مریم نواز روکتی رہ گئیں

استعفوں پر اختلاف، لانگ مارچ ملتوی : پی ڈی ایم اجلاس بے نتیجہ ختم، پیپلز پارٹی استعفے دینے پر تیار نہ ہوئی، مولانا فضل الرحمٰن انتہائی مختصر پریس کانفرنس کرکے رخصت، مریم نواز روکتی رہ گئیں نواز شریف واپس آئیں اور استعفے لے لیں : زرداری ، والد کو قاتلوں کے حوالے نہیں کرسکتے : مریم ، لڑنا ہے تو سب کو جیل جانا پڑے گا،ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جس سے راہیں جدا ہوجائیں:سابق صدر ،پیپلز پارٹی نے مشاورت کا وقت مانگا ، انتظار کرینگے :نائب صدر ن لیگ تلخ باتوں پر زرداری کی مریم سے معذرت ، غفور حیدری کو 7ووٹ کم ملے ، تحقیقات ضروری ، پیپلزپارٹی کا رویہ غیر جمہور ی ، پریس کانفرنس نہیں کر نا چاہتا تھا :فضل الرحمن ، اسلام آباد(سیاسی رپورٹر، سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں، پرل ویو مانیٹرنگ)استعفوں پر اختلاف کے باعث اپوزیشن اتحادکا 26 مارچ کو ہونیوالا لانگ مارچ ملتوی کردیا گیا اور اس حوالے سے گزشتہ روز بلایا گیا پی ڈی ایم کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا کیونکہ اجلاس میں پیپلز پارٹی استعفے دینے پر تیار نہ ہوئی، یہی صورتحال پریس کانفرنس کے دوران بھی نظر آئی جب مولانا فضل الرحمن اجلاس کے بعد میڈیا سے انتہائی مختصر گفتگو کر کے رخصت ہوگئے ، مریم نواز بھی انہیں روکتی رہیں لیکن پی ڈی ایم سربراہ کو روک نہ پائیں۔ گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا اجلاس کا ایجنڈا 26 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے تھا کہ یہ لانگ مارچ جب ہو تو اسمبلیوں سے استعفے بھی دئیے جائیں،9 جماعتیں لانگ مارچ کو استعفوں سے وابستہ کرنے کے حق میں ہیں لیکن پیپلز پارٹی کو اس سوچ پر تحفظات تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کرنے کیلئے وقت مانگا ہے اور سی ای سی کے اجلاس کے بعد ہی پیپلز پارٹی اپنے فیصلے سے پی ڈی ایم کو آگاہ کرے گی جس پر ہم نے پیپلز پارٹی کو موقع دیدیا ہے اورپیپلز پارٹی کی طرف سے حتمی فیصلہ آنے تک لانگ مارچ ملتوی تصورکیا جائے گا۔اس گفتگو کے بعد فضل الرحمن ڈائس چھوڑ کر چلے گئے ، مریم نواز پکارتی رہیں کہ مولانا سوالات لے لیں مگر انہوں نے کسی کی نہ سنی اور چلے گئے ۔ پریس کانفرنس سے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہا پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلزپارٹی کا رویہ غیرجمہوری تھا۔ 9 جماعتیں استعفوں کے حق میں اورپیپلزپارٹی مخالف تھی، پیپلزپارٹی جمہوریت جمہوریت کہتے تھکتی نہیں۔ پیپلزپارٹی نے وقت مانگا ہے ، پی ڈی ایم جواب کا انتظار کرے گی۔انہوں نے کہا میں پریس کانفرنس میں نہیں آنا چاہتا تھا، سب کے اصرار پر آیا اور اعلان کیا، مزید کیا بات کرتا۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اتحاد ابھی قائم ہے ۔تاہم ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنمائوں نے پریس کانفرنس جاری رکھی ۔مریم نواز نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں بتایا اجلاس کے دوران آصف زرداری نے کہا نوازشریف آپ بھی واپس آئیں مل کر جدوجہد کریں،جس پر میں نے آصف زرداری سے کہا کہ میاں نوازشریف کی جدوجہداورقربانیاں ڈھکی چھپی نہیں،ہمیں زندہ لیڈرز چاہئیں،لاشیں نہیں چاہئیں،نواز شریف کو واپس بلا کر قاتلوں کے حوالے نہیں کرسکتے ، ہمیں لیڈرز کا قتل نہیں چاہئے ۔ ن لیگ کے رہنما ، عہدیداران اور ووٹرزنوازشریف کی واپسی نہیں چاہتے اور نہ ہی پاکستان کے عوام چاہتے ہیں ۔چھوٹی ہوں اس لئے ادب سے آصف زرداری سے عرض کیا کہ سب سے سخت اورلمبی جیل میاں نوازشریف نے کاٹی ہے ، ،نوازشریف بستر مرگ پر اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر پاکستان آئے ،نوازشریف جانتے تھے یہ انتقام ہے اور پھر بھی پاکستان واپس آئے ، جیل بہادری سے کاٹی ، اس حکومت کے ہاتھ پھولے تو وہ باہر گئے ،نوازشریف ابھی مکمل صحت یاب نہیں ہوئے ،کسی کوواپس بلانے کاحق نہیں،میں نہیں سمجھتی کہ اللہ نے ان کو جو زندگی دی ہے ،اس کو قاتلوں کے ہاتھ میں سونپ دیا جائے ۔ عوام کو نواز شریف کی زندگی کی ضرورت ہے ۔لانگ مارچ کے حوالے سے مریم نواز نے کہا پیپلزپارٹی نے مشاورت کا وقت مانگا ہے ،ہم انتظار کرینگے ،پیپلز پارٹی کے جواب آنے تک کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا،جب پیپلز پارٹی جواب دے گی تب سوچیں گے کیا کرنا ہے ،پیپلزپارٹی کے جواب پرہم بھی مشاورت کریں گے ،پی ڈی ایم نہیں حکومت ختم ہوگی ان شا اللہ ۔ میں مسلم لیگ ن اورنوازشریف کی نما ئندہ ہوں،جس کونوازشریف سے بات کرنی ہے وہ پہلے مجھ سے بات کرے ،ملک کومیاں نوازشریف کی صلاحیتوں اور بصیرت کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا پہلا سیشن استعفوں کے حق میں نہیں تھا ، پی ڈی ایم نے دوبارہ سی ای سی میں جانے کا کہا ہے ۔پی ڈی ایم کی قیادت سے گزارش کی کہ ہمیں وقت دیں ۔ہم جلد جواب دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں پریذائیڈنگ افسر نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد کررہا ہوں ہم عدالت میں جائیں گے اور ہمیں ریلیف ملے گا ۔چیئر مین ہم ہی ہونگے اور فتح پی ڈی ایم کی ہوگی ۔ اس سے قبل اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا پیپلزپارٹی کسی بھی صورت میں اسمبلیوں کو نہیں چھوڑیگی، اسمبلیوں کو چھوڑنا عمران خان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے ۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا، میں نے اپنی زندگی کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں، اس موقع پر انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پلیز پاکستان تشریف لائیں، لڑنا ہے توسب کوجیل جاناپڑیگا۔ لانگ مارچ کی منصوبہ بندی 86اور 2007جیسی کرنی ہوگی، 1986اور 2007میں بی بی وطن آئیں تو ہم نے ملک بھر کو متحرک کیا تھا۔ پیپلزپارٹی جمہوری پارٹی ہے ، پہاڑوں پر نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں، میں جنگ کے لیے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے ، انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر نواز شریف جنگ کیلئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ، انہیں واپس وطن آنا ہوگا۔ جب نوازشریف وطن واپس آئیں گے تو ہم ان کے پاس استعفے جمع کروائیں گے ۔مجھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں، تاہم جدوجہد ذاتی عناد کے بجائے جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے ہونی چاہیے ۔ ہم اپنی آخری سانس تک جدوجہد کے لیے تیار ہیں،ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جس سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں، ہمارے انتشار کافائدہ جمہوریت کے دشمنوں کوہو گا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے پارلیمان کواختیارات دیئے ، 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ منظور کیا جس کی مجھے اور پارٹی کو سزادی گئی، میاں صاحب، آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے ؟ آپ نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جبکہ میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ ہم نے سینیٹ انتخابات لڑے اور سینیٹر اسحاق ڈار ووٹ ڈالنے نہیں آئے ۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر مریم نواز نے آصف علی زر داری سے سوال کیاکہ میرے والد کی جان کو خطرہ ہے ، وہ وطن واپس کیسے آئیں؟آصف زرداری گارنٹی دیں کہ میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ نہیں ہوگا۔ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں، جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں ،نیب کی تحویل میں نوازشریف کی زندگی کو خطرہ ہے ، میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں۔ میرے والد نے میرے سا منے نیب کی 150 پیشیاں پاکستان میں بھگتی ہیں،مجھے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا ۔ نوازشریف میری والدہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان آئے ،جو کیسز کی حقیقت ہے وہ سب کے سامنے ہے ،میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں،آپ نے جو باتیں کیں مجھے دکھ ہوا ہے ،میں آپ کی بیٹی جیسی ہوں، گلہ کرنا میرا حق ہے ۔ ا نہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن نے سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود پی ڈی ایم کا ساتھ دیا ،پی ڈی ایم کے فیصلوں پر عمل کیا اور کرایا،پوری مسلم لیگ ن نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیئے ،پیپلز پارٹی استعفوں کے خلاف تھی، مسلم لیگ ن نے اتفاق رائے کے لئے آپ کی حمایت کی، اب استعفوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے ۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ اسحاق ڈار کے نہ آنے سے ایک ووٹ ضائع ہوگیا ،ہماری پارٹی نے قومی اسمبلی میں 83 اور سینیٹ میں 17 ووٹ دیئے ، شکریہ ادا کرنے کے بجائے آپ ایک ووٹ کا ذکر کررہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے اس جذبے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُس کا کوئی موقف نہیں۔دنیا نیوز کے مطابق بعدازاں آصف زرداری نے شکوے شکایات اور تلخ باتوں پر مریم نوازسے معذرت کرلی، جس پر مریم نواز نے کہا کہ میرا مقصد آپ سے معذرت کرانا نہیں تھا، میں نے آصفہ اور بختاور کی طرح آپ سے شکوہ کیا، اس بات کو اب یہیں ختم کردیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بھی اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری کو 7 ووٹ کم پڑنے کا معاملہ اٹھایا اور کہا اپوزیشن جماعتوں نے ہم سے ووٹ لیا اور ہمیں ووٹ کیوں نہیں دیا؟ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں 7 ووٹ جو حکومتی امیدوار کو پڑے اسکا ذمہ دار کون ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے جواب دیا کہ تمام پارٹیاں اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں استعفوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس کی تاریخ کا اعلان جلد ہوگا۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018