ہمارا گاؤں ستر سال سے انڈین آرمی کی فائرنگ کی زد میں ہے

راولاکوٹ (پرل نیوز)کنٹرول لائن کے گاؤں درہ شیر خان رقبہ ٹحنون تحصیل ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے بھارتی فائرنگ سے متاثرہ افراد محمد اسلم خان ولد غلام محمد خان، محمد ابراہیم خان ، یونس بی ، عالم بی ، برکت حسین ولد محمد عالم، محمد اعظم خان، ظفر اقبال ، محمد منیر ، عبدالقیوم ، صغیر ہ بی بی ، چوہدری میر باز نے کہا ہے کہ ہمارا گاؤں ستر سال سے انڈین آرمی کی فائرنگ کی زد میں ہے ۔انڈین گولہ باری سے ہم ہمیشہ متاثر رہتے ہیں ۔سال 2015میں ہمارے گھروں پر انڈین آرمی نے شدید فائرنگ کی ہمارے گھروں ، انسانی جانوں ، مال مویشیوں کو شدید نقصان پہنچایا ۔ہمارے لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ۔حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان نے جن معاوضوں کا اعلان کیا لیکن متاثرین کو نہ ہی گھرو ں کا معاوضہ دیاگیا نہ ہی زخمیوں کا اور نہ ہی مال مویشیوں کا معاوضہ دیاگیا ۔ اکتوبر ، نومبر، دسمبر 2016کو انڈین آرمی نے ہمارے گھروں پر مارٹر گولو ں سے شدید فائرنگ کی جس سے ہمارے گھرنیست و نابود ہو گئے ۔کچھ لوگ زخمی ہوئے مال مویشیوں کا بھی نشانہ بنایاگیا ۔حکومت پاکستان اور حکومت آزادکشمیر نے اعلان کیا کہ متاثرین بارڈر لائن کے مکانات کے نقصانات کا دس لاکھ فی گھر معاوضہ دیاجائے گا جو کہ فی الفور اداکیاجائے گا ۔لیکن حکومت کی جانب سے بنائی گئی سروے ٹیم جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ایک ہی طبقہ کے لوگوں کو معاوضہ دیا ۔ اس سروے ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں انہی لوگو ں کو معاوضہ ملا جو سروے ٹیم کے پسندید ہ تھے ، سروے ٹیم نے دوران سروے ہمیں بھی یقین دلایا کہ معاوضہ ہوجائے گا ۔لیکن جب چک تقسیم کیے گئے تو ہمارا ان میں نام ونشان تک نہ تھا ۔ہم اس زیادتی و ناانصافی کے ازالے کیلئے بائیس مارچ 2017کو ہجیرہ آئے اور اسٹنٹ کمشنر ہجیرہ نے کہا کہ آ پ کے نام لسٹ میں موجود نہیں آپ ڈپٹی کمشنر پونچھ کے پاس درخواست دیں ۔ ہم نے ڈ پٹی کمشنر پونچھ سے ملاقات کر کے اپنے تحفظا ت سے آگاہ کیا ہے ڈپٹی کمشنر پونچھ نے دوبارہ سروے کی یقین دہانی کروائی ہے ان متاثرین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ستر سال سے انڈین آرمی کے سامنے سیسہ پلائی ہو ئی دیوار بن کر کھڑے ہیں لیکن ہمیں اپنے حقوق سے محروم رکھاگیا ۔چند لوگوں کو نوازنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جاتی رہیں جو صرف من پسند افراد کو نوازتی رہیں ۔ان متاثرین کا کہنا تھا کہ ہمارا نہ ہی کوئی نمائندہ ہے اور نہ ہی کوئی نمبردار ، جو ان کمیٹیوں کے ساتھ مل کر ہمیں ہمارے حقوق دلائے ۔ہم وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں برائے راست سماعت کر کے ہمارے حقو ق دلائے جائیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب وزیراعظم آزادکشمیر متاثرین کنٹرول لائن کیلئے اظہار یکجہتی کیلئے عباسپور تشریف لائے تو اس وقت بھی انہیں اپنے مطالبات وزیر اعظم تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن ہم کو ان سے ملنے نہیں دیاگیا ۔ان متاثرین نے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے ہر مشکل کی گھڑی میں ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے ۔جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔

متعلقہ خبریں

13-03-2018

13-03-2018